Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 15)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

گھر آتے ہی اسکی ملاقات نانی سے ہوگئی

وہ جو پہلے سے ہی ڈسٹرب تھی نکے طنز سے اور بھی ہوگئی تھی

وہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی

جب رات میں اقصٰی اسکےروم میں آئی

مریم تم نےٹھیک نہی کیا

اسکےکانوں میں صباکی آوازگونج رہی تھی

مینےٹھیک کیاہےاسنےاپنےآپ سےکہا

مریم کیاہواتم خاموش کیوں ہوجبسےآئی ہو؟اقاجو دوپہرسےاسےنوٹ کررہی تھی بول ہی پڑی

کچھ نہی اقابس تھک گئی تھی تم بتاؤکیساگزراتمہارادن

مریم نےنارمل اندازسےکہا

یہ بات تومجھےتمسےپوچھنی چاہیےتھی

کیساگزرادن

بہت اچھا

مریم نےمسکراکرکہا

مگرشانی مجھےایساکیوں لگتاہےکےتم مجھسےکچھ چپھارہی ہو؟اقانےسوالیہ نگاہوں سےپوچھا

نی اقا

تمہیں جھوٹ بولنانہی آتااسلیےکوشش بھی مت کرنا اوکےاسکےبولنےسےپہلےہی اسےٹوک دیا

اب بتاؤکیاہواہےجوتم غصےمیں تھی؟

پھرمریم کوچارونچاراسےسب بتاناپڑا

OH MY GODمریم کیافلمی سین ہوگیاہےسچ میں

وہ خوش ہوئی

اقامجھےپہلےہی دن ایک بدتمیزانسان ملگیااورتم خوش ہورہی ہو

مریم نےاسےگھورکرکہا

نی مریم میں تصورکررہی ہوں کےکیسےتمنےاسکی آنکھوں میں مٹی ڈالی ہوگی

ویسےمریم زیادتی کردی تمنےاسنےتوصرف مذاق ہی توکیاتھا

وہ بات کرہی رہیں تھیں کےاتنےمیں آصف آگیا

شانی اکی

آجاوکھاناکھالو

اچھا بھائی

مریم نے کہااقا تم جاؤ میرا دل نہی کررہا

مگر کیوں

آصف نے کہا

کہیں تم نانو کی بات

نہی بھائی بس ویسے ہی وزن بڑھ گیا ہے ناں

اسنے مذاق میں بات ٹالی

تم بھی ناں

آصف نے اسکی کنپٹی پر چپت گائی

جانتی ہوناجانتی ہونا تم دنیا کی سب سے پیاری بہن ہو..

اس نے ہاں میں سر ہلایا… چلو اب اٹھو اب منہ ٹھیک کرو شاباش وہ اس کے سر پے ہاتھ پھرتا نیچے آگیا تھا اس کے مسکرانے سے وہ تینوں پرسکون ہو گئے تھے. پر اس کے اندر اٹھنے والے طوفان سے بےخبر تھے الله جانے یہ طوفان کس طرف جانا تھا… اوراس میں کس کس نے بہنا تھا.

@@

جب وہ ڈیپارٹمنٹ میں پہنچی تو 9:15 ہو رہے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ کلاا شروع ہو چکا ہے۔ وه جلد از جلد کلاس میں جانا چاہتی تھی اس لیے بھاگنے والے انداز میں سیڑیاں چڑہنے لگی۔

تبھی سامنے سے آتے کسی نے خوفناک چیخ ماری۔۔۔

جس کی وجہ سے اس کا توازن بگاڑ گیا۔

گرنے کے خوف سے اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ سیڑیوں سے منہ کے بل گرتی کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ وہ گرنے سے بچ گئی تھی پر ابھی بھی خود کو ہوا میں لہرات ہوا محسوس کر سکتی تھی۔

اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولی۔۔۔

تم

اسنے حیرانی سے کہا

سامنے کھڑا شحص کوئی اور نہں فیض ہی تھا۔ اور یہی بات اس کا موڈ خراب کرنے کے لیے کافی تھی۔ تمہاری ہمت کیسے ہوی میرا ہاتھ پکڑنے کی۔۔۔

ریلکس مس۔

میں بھی مرا نہیں جارہا تمہارا ہاتھ پکڑنے کے لیے.

بھولو مت مدد کی ہے تمہاری۔۔۔ تمھیں گرنے سے بچایا ہے میں نے ورنہ

اسنے سیڑیوں کی طرف اشارہ کیا

ناؤ سے تھینک یو.

تھینک یو

وہ کہکر جان لگی مگر جا نا پائی کیونکہ آگے وہ چٹان ک طرح کھڑا تھا

ایسے نہی مسکراکر شرما کر

تمہاری مدد کی ہے

ورنہ تم

موٹی بچ نا پاتی گرنے سے

سو بولو اب

اسنے مسکرا کر کہا

مائ فٹ.

کیا ہوتا زیادہ سے زیادہ میں گر جاتی نہ.

تمہارے ہاتھ پکڑنے سے تو یہی بہتر تھا..

اس کا غصہ آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔ وہ یہ بھی بھول گئی تھی کے ابھی تک وہ اس کے رحم و کرم پے ہے…

اچھا

ایک بارسوچ لو. اسنے جیسے وارن کیا تھا…

مگر اسکی نظر ایک چیز پر پڑگئی تھی

جسے دیکھکر وہ مسکرایا

ہاں سوچ لیا.

اسنے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا….

ہم آئی ایم ایمپریسڈ… اور ساتھ ہی اس نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا…

ایک زور دار چیخ اس کے منہ سے نکلی

وہ گرنے والی تھی

…. ابھی اس کا پاوں تیسری سیڑھی پے ہی تھا کہ اس نے اس سے سمبھالا… تو کیسا لگا میرا سٹائل..

اس کا انداز چیڑانے والا تھا…

ہاں تمہاری طرح ہی گھٹیا تھا اور

تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے… سمجھتے کیا ہو خود کو…

اسنے اسے گھورا

وہ بھی بتاؤں گا لیکن کسی دن فرصت سے میرا خیال ہے ابھی میری ڈیٹیل سے زیادہ انٹرسٹ تمہیں اپنے کلاس میں ہو گا…

اسنے اس کی قلائی پے بندھی گھڑی اس کے سامنے کی. جو ٩:٣٠ بجا رہی تھی..

تمہیں تو میں بعد میں دیکھوں گی… وہ کہتی کلاس کی طرف بھاگی…

شوق سے… میں انتیظار کروں گا جلدی آنا…پکچرابھی باقی ہے میری دوشمن

پیچھے سے اس کی آواز آئی.

@@@

وہ کلاس سے نکل رہی تھی جب مس کلثوم نے اسے آواز دی…

مریم آپ کا اسائنمنٹ کہاں ہے.آپ شاید بھول رہی ہیں آج لاسٹ ڈیٹ ہے..

سوری میم

میں بھول گئی.. میرے بیگ میں ہے ابھی آپ کو دے دیتی ہوں…

اس نے بیگ میں دیکھنا شروع کیا پر اسائنمنٹ نہیں تھا…

کیا ہوا

ویر از یور اسائنمنٹ

مس کلثوم جو بہت دیرسے مریم کو بیگ کے ساتھ جنگ کرتا دیکھ رہی تھیں تنگ آکر پوچھنے لگیں.

مس وہ… وہ… میرا اسائنمنٹ مل نہیں رہا..

اسنے پریشانی سے بیگ دیکھتے ہوے کہا

حد ہے لاپرواہی کی میں آپ کو کتنا زمیندار سمجھتی تھی لیکن افسوس آپ کو تو مطلب بھی نہیں پتا..

پہلے کلاس میں لیٹ اور اب… وہ کہتی ہوئی کلاس روم سے بھر نکل گیں..

میم پلیز میری بات سنیں مجھے ایک موقع تو دیں میں سچ میں اسائنمنٹ لائی تھی.

روندھی آواز میں کہا

اچھا تو پھر کہاں گیا ؟ اب وہ رک کے اس سے مخاطب ہوئی تھیں.

میم شاید یہیں کہیں مس ہوا ہے میں ابھی ڈھونڈ کے آپ کو دے دوں گی پلیز میم مجھ ایک موقع دے دیں پلیز…

ٹھیک ہے آپ کو میں آخری موقع دے رہی ہوں اگر آپ ١ دن تک اسائنمنٹ جمع کرا دیتی ہیں تو نمبر آپ کو مل جائیں گئے ورنہ میں مجبور ہوں اپنے اصول میں کسی کے لیے نہیں بدلتی

شکریہ میم اسنے خوشی سے کہا اور وہ اسے ایک نظر دیکھکر چلی گئیں

تبھی صبا وہاں آئ مریم

کیا ہوا تم اتنا لیٹ کیسے ہو گئیں

اور تمہارا اسائنمنٹ کہاں گیا

بس یار مت پوچھو…آج کا دن تو مجھے ہمیشہ یاد رہے گا… پھر اس نے پوری بات صبا کو بتائی… تبھی اس کے دماغ مے دھماکہ سا ہوا

.. جبکہ صبا کی سوئی فیض پے اٹک چکی تھی.

یار اس نے تمہیں بچایا ؟ سچ میں ؟

اسنے خوشی سے پوچھا

مریم ے اثبات میں سر ہلادیا وہ کچھ سوچرہی تھی

دیکھو تم نے اس کے ساتھ جو سلوق کیا اس سب کے بعد بھی

اس سے پہلے کے صبا کافیض نامہ شروع ہوتا وہ اپنا بیگ اٹھا کے چل پڑی

.. کہاں چلی صبا نے آواز دی… تمہارے فیض صاحب کا شکریہ ادا کرنے.

اسنے تلخی اسے کہا

. روکو میں بھی آتی ہوں صبا نے اپنی چیزیں سمیٹے ہوے کہا.

نی تم رکو میں ابھی آئی

وہ کہہ کر چلی گئی

@@

عادت کے مطابق فیض اینڈ گینگ کیفے میں ہی دستیاب تھے. اور زورو شور سے خوش گپیوں میں مصروف تھے.

میں ترے شوخ سراپا پہ غزل کہتا ہوں

جان دشمن تیرے موٹاپا پہ غزل کہتا ہوں

اس نے جھک کر سلام پیش کیا تھا..

او- تو یہ تمہارا پلان تھا مجھے تو تمھیں دیکھتے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا کے یہ سب تمہارا کیا دہرا ہے.. ویسے بھی یہاں میرا اور کون دشمن ہو سکتا ہے.

ہا ہا ہا

سمارٹ… ہاں… اس نے قہقہ لگتے ہوے کہا..

چپ چاپ میرا اسائنمنٹ دو.. اس نے غصے سے گھورتے ہوے بولا

اسائنمنٹ کون سا اسائنمنٹ ؟ میڈم میں اپنا اسائنمنٹ جمع کرا چکا ہوں

اس نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا تھا..

بکواس بند کرو اور میرا اسائنمنٹ مجھے واپس کرو..

دیکھو لڑکی میری بات سنو

بکو اسنے نخوت سے کہا

ﻏﺮﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﭨﺎﭘﺎ ﺟﺐ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ

‏ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭼﺎﮦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﺎ

سب کھی کھی کھی کرنے لگے

اور تمہارے پاس تو دونوں چیزیں ہی بھری پڑی ہیں

اسنیں اسکی طرف اشارہ کرتے کہا

دیکھو میں کہہ رہی ہوں کے مجھے واپس کردو

اسکی بات دھوری ہی رہ گئی کیونکے وہ جا چکا تھا

@@@

وہ اپنی اسائنمنٹ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پریشان ہوگئی تھی مگر وہ اسے ملکے ہی نہی دے رہی تھی

ساری رات اور باقی کئی دنوں سے وہ محنت کررہی تھی مگر پھر بھی نہی ملی تھی اسےافسوس تھا

اب اسکی آخری جگہ کینٹین تھی وہ سوچرہی تھی کےشایداسنےنا لی ہو

وہ اپنی سوچوں میں گم تھی

جب اسےکاغذکاجہازآکرکمرپرلگا

اسنےپلٹ کردیکھاتوفیض سامنےکھڑااسے دیکھکےمسکرارہاتھا

جب اسکی نظرکاغذپرپڑی تووہ چونک گئی

کیونکےوہ اسکی آسائنمنٹ کاہی پیپرتھا

اسےغصّہ توبہت آیا مگراب وہ کربھی کیاسکتی تھی

اسکی ساری محنت توبربادہوگئی تھی

وہ مڑکرکینٹین سےپین لینےلگگئی مگروہ بھی کہاں باز آنے والا تھااسیلیےاسےجہازماری گیا

وہ اچانک

مڑی ہی تھی کےایک جہازاسکےماتھےپرلگا

سارےطلباہنسنےلگے

مریم کوشرمندگی ہوئ

وہ آگےبڑھی

اوراسکےٹیبل پرپہنچی ہی تھی کےوہ اسکےتیوردیکھ کےڈرساگیااورکھڑاہوگیا

جب مریم نےاسکےٹیبل سےکولڈڈرنک کی بوتل اٹھائی اوراسپرانڈیلنےلگی تھی کےاسنے روکدیااورہنس پڑا

مگرمریم نےفرتی سےمیزپرپڑی چٹنی کی باؤل کواسکےسرپرگرادیا

وہ اس اچانک حملےپربوکھلاگیا

اسکےمخالف پارتی ہنسنےلگی اورجوپہلےہنس رہےتھےچپسےہوگئے

وہ وہاں سےجاچکی تھی

مگروہ جل کررہ گیاتجھےتودیکھ

لوں گا موٹی

وہ غصے سے پھنکارہ

@@

مریم کہاں تھیں تم

. صبا نے اس کے برابر میں بیٹھتے ہوے کہا.

کہیں نہیں بس ذرا لائبریری تک گئی تھی..

. اسنے اس کا جواب دیتے ہی بک کھولی

میں ابھی کی بات نہیں کر رہی تھی پچلے کچھ دنوں کی بات کر رہی تھی. کوئی آتا پتہ ہی نہیں تمہارا

سب ٹھیک تو ہے نا

صبا نے اس کو غور سے دیکھتے ہوے پوچھا..

ہاں سب ٹھیک ہے.

کیوں کیا ہوا

تم آج کیا کر کر آئی و تمہیں کچھ خبر ہے؟

اسنے تاسف سے پوچھا

اور مینے تمسے کہا بھی تھا کے اسسے پنگا مت لینا وہ تمہیں چھوڑے گا نہی

پتا ہے نا وہ کتنے بڑے باپ کی اولاد ہے پھر بھی

اگر اسے کچھ ہوگیا تو کیا کرو گی تم؟

صبا نے اسسے کہا

جسکے چہرے پر اب غصے کے آثار تھے

تو میں کیا کروں.

بہت ڈھیٹ ہے مرے گا نہیں ڈونٹ واری.

اسنے غصے سے کہا

حد ہے

… غصہ اپنی جگہ لیکن تم غصے کی انتہا پی جا پہنچی ہو. بلکے تم غصے میں پاگل ہو گئی ہو

. صبا نے تاسف سے اس کو دیکھا. لیکن کوئی جواب نہ ملا.

تم نے اس کو سبق بھی سیکھا دیا

…تو اب کیوں پریشان ہو

اگر اسکے باپ نے کچھ ایکشن لیا تو

وہ کہتی رہی مگر مریم کے سکون میں کوئی فرق نہیں آیا تھا.

مینے بس

وہی کیا جس کا وہ حقدار تھا

مریم نے اطمینان سے کہا

تمہیں احساس ہے تم نے کیا کیا ہے..

صبا نے حیران ہوتے پوچھا…

ہاں !! جو اس نے کیا میرے ساتھ اس کا تیسرا حصہ بھی نہیں تھا… میرا مذاق بنا دیا جانتی ہو کتنے لوگوں کے سامنے اسنے میری ہی پرزنٹیشن کو پھاڑ کر مستی کررہا تھا

مینے اسے صرف جواب دیا ہے اور میں غلط نہی ہوں لوگوں کے سامنے تو سزا مجھے ہی ملی نا

اس کے چہرے پے دکھ کے اثرات صاف دکھائی دے رہے تھے..

لیکن پھر بھی تمھیں اس طرح اس کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے تھا..ور اگر گیں ہی تھیں تو بات کر سکتیں تھیں.

مینے ٹھیک کیا ہے

اسنے کتاب میں دیکھتے ہوے بولا.

اس سب سے کیا فائدہ ہوگا مریم

.. بات بڑھتی جا رہی ہے.. پہلے مذاق تھی پھر نوک جھوک ہوئی… پھر لڑائی بنی… اور اب.. اب تو یہ دشمنی بنتی جا رہی ہے… پلیز سب کو یہیں روک دو ایسا نا ہو تمہیں کوئی نقصان اٹھانا پڑے صبا نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی…

دیکھو میری بات سنو ہو سکتا ہے تمہیں بری لگے پر یہ بات جتنی لمبی جائے گی.. اتنی ہی باتیں بنتی جائیں گی ہم یہاں

پڑھنے آیئں ہیں… کسی کو ہرانے یا لڑنے نہیں… یہ کس ریس کا حصہ بن رہی ہوتم؟ یہ تمہارے خواب نہیں تھے،

کیا ہوا میری بات بری لگی کیا ؟ صبا نے خاموش بیٹھی مریم کو پوچھا.

اسنے اپنا سر جھکا لیا تھا

جسکا صاف مطلب تھا اسے اس بارے میں اب کوئ بات نہی کرنی

چلو کینٹین چلتے ہیں

مجھے بہت بھوک لگی ہے اور اکیلے تو میں جانے سے رہی

صبا نے مسکرا کے کہا اور وہ دونوں کینٹین کی طرف چل دیں

______

مریم جب گھر پہنچی تووہاں سب ہی موجودتھے

اسنےسب کوسلام کیااوراپنےروم میں آگئی

کیونکہ اسےاپنی اسائنمنٹ بنانی تھی

اسنےابھی بک کھولی ہی تھی کےاقاآئ

کیاہوامریم

آتےہی پڑھنےبیٹھ گئی

کچھ کھاتولیتی اورپھرتمہاری دوائی کابھی وقت ہورہاہے

اسنےگھڑی کی طرف دیکھاجہاں دوبج رہےتھے

ہاں بس لکھلوں پھرکھاتی ہوں اسنےکہکرلکھناشروع کردیاتھا

جیسےتمہاری مرضی

اقاکہکرناول پکڑکرپیٹھ گئی

مریم نےایک نظراسےدیکھاجواب ناول پڑھنےمیں مشغول تھی

یہ نہی سدھرےگی

اسنےتاسف سےکہا

اسےاپنےباپ اوراقاکی یہی عادت بری لگتی تھی وہ ناول شوق سےپڑھتےتھےاورپھر پورےگھرمیں انکی ڈسکشن چلرہی ہوتی تھی

یہی بات مریم کوپسندناتھی

خیروہ انہیں کیاکہسکتی تھی اسیلیےاپناکام کرنےلگی

بھلاایک ہفتےکاکام ایک دن میں کیسےپوراہوسکتاھےمریم جی

وہ اسائنمنٹ بنارہی تھی جب عمران نےآکراسےبلایا

جی بھائی

اسنےاسےدیکھتےہوئےکہا

یارکتنی بارکہوں بھائی مت کہاکرو

آپ نےجوکہناہےجلدی کہیں مجھےاوربھی کام ہیں

اسنےلٹھماراندازسےکہا

مریم مجھےلگی لپٹی باتیں نہیں کرنی آتیں

جی بلکل اورمجھےایسی باتیں سننےکےعادت نہی اسنےکہااسیلیےآپ مدعےکی بات کریں

مریم میں آپسےبہت پیارکرتاہوں

آپسےشادی کرناچاہتاہوں

اب آپ بتائیں اسنےاسکاہاتھ پکڑا

مریم جواسکی بات سنکرسن ہوگئی تھی اسکےہاتھ پکڑنےپرکرنٹ کھاکرپیچھےہوئی

چٹاخ ایک تھپڑاسکےمنہ پردےمارا

وہ بےیقینی کےعالم میں اسےدیکھتارہ گیا

مجھےآپ میں کوئی انٹرسٹ نہی ہےاورناہی میں ایساچاہتی ہوں

میں اب کسی پربھروسہ نہی کرسکتی

کلتک تومیں آپکوآنٹی لگتی تھی اب اچانک جھوٹی محبت کیسےہوگئی آپکو

مریم یہ جھوٹی نہی ہے

وہ دکھ سے چلایا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *