Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 09)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

مبارک ہو آپکی بچی کو ہوش آگیا ہے

ڈاکٹر نے رضیہ بیگم اور عاشق صاحب سے کہا

یااللّٰہ تیرا شکر ہے

وہاں موجود ر ایک کی زبان سے شکر کے الفاظ ادا ہوے

سب اسسے ملنے کیلیے چلے گئے اور عتیق بھی

مریم سے سب ملے اقصٰی نے آگے بڑھ کر اس بھینچ کے کہا کے مریم اتنا بھی کوئی سوتا ہے کیا

اسکی بات پر وہ پھیکا سا مسکرادی

تبھی اسکی نظر عتیق پر پڑی جو اسی کو دیکھنے میں مصروف تھا

وہ اسکی حالت دیکھ رہا تھا کے وہ چہرہ جہاں رونق رہتی تھی آج ویران ہوا وا ہے

مریم کو وہ حادثہ یاد آنے لگا

اسنے آنکھیں زور سے میچ لیں پر پھر بھی اسے ایک ہی چہرہ دکھائی دے رہا تھاوہ چہرہ جسسے اب اسے نفرت تھی

مااامما یہہہ یہ یہاااں کیاااا کررررہاااا ہے نے مری سی آواز میں کہا

بس بس بچے وہ چلا جاے گا عاشق علی نے کہا

مریم یری بات سنو پلیز عتیق کہتا رہ گیا جبکہ اقا نے درعازہ بند کردیا تھا

اب دوبارہ عوہ اپنی بہن سے بڑھکر دوست اور کزن کو تکلیف میں نی دیکھ سکتی تھی

_____

مریم کو گھر آے اب ایک ہفتہ ہونے کو تھا اس بیچ عتیق نے کافی مرتبہ اسسے بات کرنے کی کوشش کی مگر اسنے ایک نا سنی اسنے کہا کے

جو ہوگیا ہے ے بھول جاو

اور مریم نے اسسے کہا کے بھول جاوں گی میں پر تم سے اب میرا کوئی رشتہ نی ہے تم جب جب بھی میرے سامنے آؤ گے مجھے بار بار وہ بات یاد آے گی اسلیے بہتر ہے کے تم یہاں سے چلے جاو

نی جاوں گا

اوکے فائن اگر نی جانا تو مت جاو پر کبھی میرے سامنے مت آنا اسنے کہہ ر کھٹاک سے دروازہ بند کردیا

۔ ۔

مریم بیٹا کیا ہوا نیند نی آرہی میں دیکھ رہیں ہوں کے تم جبسے گھر آئی ہو ٹھیک سے سو نہیں رہی انہوں نے فکرمندی سے پوچھا

جی مما بس ویسے ہی اسنے افسردہ سا کہا

انہیں اسکی آواز عجیب لگی اسلیے انہؤں نے جلدی سے بلب جلایا

مریم نے جلدی سے منہ چھپایا

اسے اب روشنی اچھی نی لگتی تھی

لیکن وہ بھی ماں تھیں انسے کہاں چھپا رہنا تھا اسلیے پوچھ بیٹھیں رو کیوں رہی ہو میری بچی انہونے اسے سینے سے لگا کت کہا

تو کیا مما خوش ہوں کے میری آخری دوست بھی مجھسے جدا ہو گئی ہے😭😭

کیا میں اتنی ہی بری ہوں کے مجھے چھوڑ کر چلی گئی

اسنے روتے ہوے انسے لپٹ کر کہا

انسے اسکا درد برداشت نا ہوتا تھا

بس میرے بچے وہ اس نیا میں اللّٰہ کی امانت تھی سو اسنے لےلی

میں بھی تو اسی کی امانت ہوں مجھے کیوں نی لیا

بسکرو مریم یوں مجھے دکھ دے رہی ہو نہوں نے روتے ہوے کہا

مما پلیز روے ناں نی کہتی دوبارہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا اسیلیے کہا

چلپھر میرا بچہ سوجا انہوں نے اسے لیٹاتے کہا اور اسے تھپکنے لگیں

تھوڑی دیر بعد وہ چلیں گئیں تو مریم نے آنکھیں کھول لیں اور پھر رونے میں مصروف ہوگئی

چارہ گرِ دلِ بے تاب کہاں آتے ہیں

مجھ کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں

میں تو یک مُشت اُسے سونپ دوں سب کچھ لیکن

ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں

میری بے درد نگاہوں میں اگر بھولے سے نیند آئی بھی

تو اب خواب کہاں آتے ہیں

۔ ۔ ۔

اب کیسی طبیعت ہے تمہاری اقا نے صبح آکے پوچھا

زندہ ہوں اسنے بے دلی سے جواب دیا

مریم یار ایسی باتیں مت کرو نا یار

اسنے روہانسی ہوکر کہا

اقا پلیز تم مجھے اکیلا چھوڑ دوگی

اسنے منت بھرے لہجے میں کہا

پر

پلیز اقا اسنے کہا

اوکے وہ کہہ کہہکر چلی گئی

اور وہ اپنی سوچوں کی دنیا میں مگن ہوگئی

۔ ۔۔

مقروض کے بگڑے ہوئے حالات کی مانند

مجبور کے ہونٹوں پہ سوالات کی مانند

دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے

سیلاب سے برباد مکانات کی مانند

میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں

اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند

دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے

غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند

اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا

جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند

کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش

معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند

اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں ہے

میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند

عتیق ار بار مریم کی کہی ہوی باتیں سوچے جارہا تھا

اسکی اتیں اسے تکلیف دے رہی تھیں مگر کیا کرتا اسنے خود ہی اپنے لیے یہ حالات بنائے تھے تو کوئی دوسرا کیا کرسکتا ہے

کہا اس نے یہ لوگوں سے

محبت اک دعا بھی ہے

جو لگ جائے کسی کو تو

بہت اچھی گزرتی ہے

مگر جس دن وہ بدلا تو

کہا دھیرے سے یہ اس نے

اگر یہ راس نہ آئے۔۔۔۔۔

تو پھر سمجھو سزا بھی ہے

محبت بددعا بھی ہے۔

اتنے میں مریم باہر نکلی ت اسکی جیسے ہی اسپر نظر پڑی اسے پکار بیٹھا

مریم

مریم جو اندر آنے لگی تھا اسکی آواز سنکے وہیں سے مڑ گئی

دھر وہ ہیں کہ جانے کو کھڑے ہیں

میرا دل ہے کہ بیٹھا جا رہا ہے۔

۔ ۔ ۔ مزاج برہم خفا سا لہجا

اداس چہرہ ناراض آنکھیں

وجہ جو پوچھی میں نے اس سے

جان میری اداس کیوں ہو

کیوں ہو برہم ناراض کیوں ہو

بھر کے اچھلی آنکھیں اسکی

لڑکھڑا کے گلے سے لگ کر

مجھ سے بولی

کہاں گئے تھے کیوں گئے تھے

مجھے بتاؤ

تمہارے بن جو بے بسی تھی

علاج اسکا بتا کے جاتے

تم جو بچھڑوکہاں میں ڈھونڈوں

سراغ اپنا بتا کے جاتے

تمہیں پتا تھا تمہارے بن میں

ایک پل بھی رہ نہ پاؤں

چاہے بچھڑے دنیا ساری

تیری جدائی سہہ نہ پاؤں

تمہیں قسم ہے اب نہ جانا

تمہیں قسم ہے اب نہ جانا

اسنے سکا ہاتھ پکڑ کر کہا

عتیق چھوڑو مجھے وہ چلائی اور اسسے اپنا ہاتھ چھوڑوانے لگی

مریم میری ات سنو میں تم سے پیار رتا ہوں

چٹاخ ایک زور دار تھپڑ اسے مارا بکواس بند کرو گر تمہاری سو کالڈ بکواس سچ ہوتی تو اسدن تم میری بات مانتے سمجھے

اور اب مجھے تمسے کوئی تعلق رکھنا سمجھے

تعارف روگ بن جائے تو ا س کا بھولنا بہتر​

تعلق بوجھ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا​

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا ناممکن ہو

اسے ایک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا​

۔ ۔ ۔

دن تیزی سے بیتتے جارہے تھے مریم بھی اداس سی بس اپنے کمرے کی ہوکر رہ گئی تھی

جسے کبھی اکیلا رہنا پسند پسندنا تھا

اقا نے کئی بار اسسے بات کرنے کی کوشش کی مگر اسنے کہا کے ابھی نہیں

پھول پر آ کے بیٹھی تَو، خود پر اِترانا بُھول گئی

ایسی مست ہُوئی وہ تتلی’ پَر پھیلانا بُھول گئی

کلیوں نے ہر بھنورے تتلی سے پوچھا ہے اُس کا نام

بادِ صبا جس پھول کے گھر سے لَوٹ کے آنا بُھول گئی

ایسا کِھلا وہ پُھول سا چہرہ، پھیلی سارے گھر میں خوش بُو

خط کو چُھپا کر پڑھنے والی، راز چُھپانا بُھول گئی

اپنے پرانے خط لینے وہ آئی تھی میرے کمرے میں

میز پہ دو تصویریں دیکِھیں، خط لے جانا بُھول گئی

برسوں بعد مِلے تو ایسی پیاس بھری تھی آنکھوں میں

بُھول گیا مَیں بات بنانا، وہ شرمانا بُھول گئی

ساجن کی یادیں بھی، کِن لمحوں آ جاتی ہیں

گوری آٹا گُوندھ رہی تھی، نمک مِلانا بُھول گئی

اسنے اشق صاحب کو بتایا تھا ے اب وہ دوبارہ مریم کو اسکول بھیج دیں ر انہیں اقا کی بات بھا گئی اب انہوں نے مریم سے بات کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا

______

بابا آپنے بلایا

مریم نے آج اتنے دنوں بعد انکے کمرے میں قدم رکھا تھا

جی بچے

مینے بلایا ہے انہوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوے کہا

جی بولیں

بیٹا مینے سوچا ہے کے اب آپکو دوبارہ اسکول جانا شروع کردینا چاہیے آپکے امتحانات شروع ہونے والے ہیں بس دو ماہ ہی رہ گئے ہیں

امتحان ابھی اور آنے ہیں کیا

اسنے سوچا کہ زندگی بھیکڑا امتحان ہیں صاحب

جی بابا میں چلی جاوں گی کلسے مگر آپکو جھوٹ بولنے کی ضرورت نی ہے پیپر میں چار ماہ ہیں کم از کم

وہ کہہ کر چلی گئی

عاشق صاحب اتنے میں ہی خوش تھے کے وہ مان تو گئی ہے

، ، ،

مریم مسلسل اسے بھولنے کی کوشش کررہی تھی اور وہ اسمیں کامیاب بھی ہوگئی تھی

اسنے اسکول جانا شروع کردیا تھا وہ کلاس میں سب سے الگ تھلگ بیٹھتی تھی اسنے بہت کوشش کی تھی کے وہ اپنا سارا دھیان تعلیم حاصل کرنے میں لگادے

اسے اسکی کلاس لڑکیاں چڑاتی تھیں کیونکے اسنے کہا تھا کے اب وہ بھی اپنی دوست کے ساتھ آیا کرے گی گر اب وہ تنہا تھی اسے ان سب کی باتوں سے دکھ ہوتا تھا پر وہ سچ ہی تو کہتیں تھیں کے اسکا کوئی دوست ہے ہی نی

اگر اسکے دوست ہوتے تو آج وہ یوں اکیلی نا ہوتی

کہتے ہیں ناکے جب انسان پر مشکل آتی ہے تو ہ یا تو چٹان بن جاتا ہے یا برف

مریم لوگوں کیلیے چٹان ہی بن گئی تھی وہ سب کو دھوکہ دے رہی تھی کے وہ اپنی زندگی اچھے سے گزار رہی ہے

اسنے اقا سے بات کرنا بھی کم کردیا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کے وہ کسی کے بھی سامنے کمزور پڑے

اسلیے کم ہی بولتی تھی

دھیرے دھیرے ت بھی گزرتا گیا مریم نے ناویں کے امتحانات دے دیے

تھے اب اسے نتیجہ اور نئی کلاس شروع ہونے ا

کا انتظار تھا

وہ بس اپنے آپکو مصروف رکھنا چاہتی تھی ۔اس بیچ عتیق ے کئی بار کوشش کی کے وہ مان جاے پر وہ تو اسسے بات کرنے کو بھی تیار تیارنا تھی

محبتیں بھی کڑا امتحان ہیں صاحب

ہمارے حوصلے لیکن چٹان ہیں صاحب

جسے بھی چاہو اسی پل شکار کر ڈالو

تمھارے ھاتھ میں تیر و کمان ہیں صاحب

تھکن سے ہار نہ جائیں کہیں یہ پنچھی بھی

جو آج شوق سے محوِ اُڑان ہیں صاحب

یہ مت سمجھنا ہمیں بولنا نہیں آتا

تمھارے سامنے پر بے زبان ہیں صاحب

بدل نہ ڈالیں تمہارے تمام وعدوں کو

جو لمحہ لمحہ بدلتے بیان ہیں صاحب

فسانہ جان کے یوں سرسری نہ دیکھ ادھر

ھم اپنے آپ میں اک داستان ہیں صاحب

وہ مسلسل اسے نظر انداز کررہی تھی

کے ایک دن اسکی پھپھو/خالہ یعنی اسکے بابا اور ما ما کی کزن آگئیں تھیں اپنے بچوں کو لے کر

انکے تین بیٹے اور تین ہی بیٹیاں تھیں وہ ترکی یں رہتے تھے پر یہاں اپنے بڑے بیٹے عرفان کی شادی شادی کے سلسلے میں آئے تھے

انکے سب بچے ہی عاشق صاحب اور رضیہ بیگم بیگم کے بچوں سے بڑے تھے

مریم جو کمرے سے باہرنکلنے گی تھی اس اچانک افتاد بر بوکھلا کر رہ گئی

ارے مامی آپ تو ڈر گئیں مریم جو بلکل اپنی ماں کی جوانی کی طرح اور بیماری کی وجہ سے تھوڑی موٹی ہوگئی تھی کو دیکھ دیکھکر عمران جو اسکی پھپھو کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا بولا

پاگل وہ مریم ہے تمہاری کزن

پھپھو نے کہا

اچھا پر یہ تو مامی لگ رہیں ہیں

مریم تب تک ان سب سے مل کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی

@ @ @ @ @

میں تم سے ہی پیار کرتا ہوں ثناء

مریم کو تو پاپا نے چوز کیا تھا میں تو صرف تمہارا ہوں

اقصٰی جو چھت پر سے آرہی تھی اسنے عتیق کو ثناء سے کہتے سنا

وہ اور بھی کچھ کہہ رہا تھا پر اقا کو اور کچھ نا سنا اسکے کانوں میں بس ایک ہی آواز گونج رہی تھی کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں مریم سے نی

مجھے تو اسسے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی بہانہ چاہیے تھا جو مل گیا

اسے اپنے کانوں پر یقین نی آرہا تھا کے اسکا سگا بھائی ایسا کرے گاجب آنسو نکلتے ہیں نہ تو ان میں صرف نمک اور پانی نہیں ہوتا۔ ان میں ماضی کی تکلیفیں، حال کا دکھ درد، اپنوں کے ستم، چاہنے والوں کی بے اعتباری، کبھی نہ لوٹ کر آنے والوں کا غم، وعدوں کی پامالی اور نہ جانے کیا کیا احساسات اور جذبات چھپے ہوتے ہیں۔

یہی کیفیت اقصٰی کی تھی

_______

کھینچتا پھرتا ہُوں دُشمن پر خلا میں تیر کو

جب کہ وجہِ خوف، مارِ آستیں کا شور ہے

گھُومتی ہے سر پہ چرخی چرخِ نیلی فام کی

اور نیچے سانس میں اٹکا زمیں کا شور ہے

دسترس میں جن کی محمل تھا ہُوا محمل نصیب

کھو گیا صحرا میں ہر صحرا نشیں کا شور ہے

اقصٰی نے سچے دل سے دعا کی کے جو وہ سن رہی ہے سب غلط ہو مگر اندر سے آنے والی آواز کسی اور کی نہیں اسکے خودکے بھائی کی تھی

وہ نم آنکھوں سے پلٹ آئی پر اسے مریم نے دیکھ لیا تھا

مریم نے تب سے اسسے بات نی کی تھی جب سے اسنے نومی کو اپنی پیکچرز مریم کے منع کرنے کے باوجود بھی بھیجھی تھیں

مریم نے اسے منع کیا مگر اسنے اسکی ایک نا سنی اور اسے دےدیں

جسسے مریم نے ابتک اسسے بات نا کی تھی

پر آج اسے روتا دیکھ کر اسسے رہا نا گیا تو اسسے پوچھ بیٹھی

کیا ہوا اقا کیوں رورہی ہو؟

اقا نے اسکی طرف دیکھا جو بیماری سے نڈھال ہورہی تھی اور اسکے گلے لگکے روتے ہوے سب بتادیا

اقا تمہیں کوئی غلط فہمی ہوی ہوگی وہ ایسا نی ہے

مریم نے پتہ نی خود کو یا اسے تسلی دینی چاہی

مریم میں اپنے کانوں سے

اقا چھوڑو اسے ویسے بھی اب مجھے اسکی کوی ضرورت نی ہے تو اسے مو آن کرنے دو

مریم نے اسکی بات کاٹتے ہوے کہا اور کانوں سنی بات کبھی غلط بھی ہوسکتی ہے

اسے آج بھی عتیق پر اتنا تو اعتماد تھا

اچھا چھوڑو اب تم مجھے گرما گرم کافی پلادو مریم نے اسسے کہا تاکے وہ دوبارہ نا اسبارے میں سوچ سکے

پر وہ خود سوچوں میں ڈوب گئی تھی

ہم ناداں تھے جو اس کو اپنا ہمسفر سمجھ بیٹھے

وہ چلتا تھا میرے ساتھ مگر کسی اور کی تلاش میں

####

یہ کیا بکواس ہے ثناء مینے تمہے یہ لیٹر نی دیا ہے اور ناہیمیں یہ سب سوچ بھی سکتا ہوں سمجھی تم

میں صرف اور صرف مریم کا ہوں سو تم مجھسے دور ہی رہو

وہ کہ کر چلا گیا

اسکے جانے کے بعد ثناء کے چہرے پر فاتحانہ مسکرہٹ تھی

جب عتیق کمرے میں آیا تو اسنے اسے لیٹر دیا کے یہ تمنے مجھے کیا لکھکر بھیجھا ہے

اسنے اسسے لیٹر لےلیا اور پڑھنے ہی لگا تھا کے اسنے کہا اونچی آواز میں پڑھو

اور عتیق نے پڑھنا شروع کردیا اور اسی وقت اقا آگئی تھی اسکو پہلے ہی پتہ تھا کے وہ کپڑے لینے گئی ہے

اسلیے اسکی چال کامیاب ہوگی اور اقا نے سب کچھ مریم کو بتادیا تھا

عتیق نے اسے نی دیکھا تھا پر ثناء کو معلوم تھا کے وہ یہی پر کھڑی سب سنرہی ہے

جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی

ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی

یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے

جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی

وہ میرے پاؤں کو چھُونے جھُکا تھا جس لمحے

جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی

شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں

مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی

کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر

تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی

پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم

جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی

بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا

اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی

ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا

تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی

کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا

نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *