Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 31)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

وہ فٹافٹ ساڑھی پہن کرباہرنکلنےہی والی تھی جب بی جان کمرےمیں داخل ہوئیں

بی جان آپ اسنےسرپر پلودرست کیا

اسکی ہمیشہ سےسر ڈھانپنے کی عادت تھی

اسکارف ہویا کیپ وہ بالوں اورسرکوکبھی کھلا نہیں چھوڑتی تھی

آج بھی اسنےساڑھی کےپلوسےسرڈھانپہ تھا

کچھ کام تھاتومجھےآوازدیدیتےآپ

ہاں میرےبچےمیں اورکیاماں اپنی بیٹی سےکسی کام کےبغیر نہیں مل سکتی

انہوں نےپیار سے اسکے گال سہلا کر کہا

کیونہیں بی جان آپ آسکتی ہیں اسنے مسکرا کرکہا مگر آنکھوں میں نمی سی آگئی

اسےہمیشہ انمیں رضیہ بیگم ہی دکھتی تھیں اس گھرمیں وہی تھیں جواس سے پیار سے بات کرتی تھیں

آج پھر ولی نےتمپر ہاتھ اٹھایا

انہوں نے اسکا پھٹا ہونٹ اورگالوں پرنشان دیکھکےکہا

اسنے اپنا سرجکھا لیا

ناچاہتےہوئےبھی اسکےآنسوں بہہ نکلے

پتانہیں کب سدھرےگایہ لڑکاکب بھولےگایہ سبکچھ

پرانی باتوں کوبھلاکیوں نہی دیتاانہوں نےافسوس سےکہامگرمیراولی دل کابرانہی ہےوہ بہت اچھاہےبس کبھی کبھی تم فکرناکرومیں سمجھاوں گی اب اسےمیری بات ماننی ہوگی انہوں نےاسسےزیادہ خودکوتسلی دی

جی بی جان انشاءاللّٰہ

یہ کپڑاتمہیں ولی نےدلایاہےسارہ بیگم نےاسسےپوچھا

جی اسنےمسکراکرکہا

توتمہیں اسنےمہمانوں سےملنےکونہی بلایاانہوں نےکہا

انہوں نےکہاتھاکےجلدی آنامجھےبلکلبھول ہی گیااسنےاٹھتےہوئےکہا

ارےارےایسےجاوگی مہمانوں کےسامنےانہوں نےاسکی طرف اشارہ کرتےکہاتھا

اسنےقدآورآئینےمیں اپناعکس دیکھااسےتووہ بلکل بھی پہلےوالی مریم نالگی

آنکھوں کےگردسیاہ ہلکےپیلی رنگت

چہرےپرجگہ جگہ نیل

سوجھےہونٹ

اورناک پرزخم کانشان

چلومیں تمہیں تیارکرتی ہوں

انہوں نےاسےشنگھارمیزکی جانب لیجاتےہوئےکہا

نی بی جان مجھےدیرہورہی ہے

میں کچھبی نہی سنوں گی چپکرکےبیٹھوانہوں نےمصنوئی غصےسےکہا

تمہاری شادی کودنہی کتنےہوئےہیں علی کےدعاکےاورفیض کےدوست بھی توآئیں گےناتقریب میں

انسےتمہاری بھی توجان پہچان ہوگی ناوہ کیاکہیں گےکےنئی نویلی دلہن سادہ سی ہےوہ اسےسمجھارہی تھیں اورساتھ ساتھ اسےتیاربھی کررہی تھیں

@@

وہ جب نیچےآئی توسب ہی موجودتھےمنگنی کی رسم بھی بس شروع ہی ہونےوالی تھی

بوااورولی اسکےساتھ نارمل رویہ ہی رکھےہوئےتھےجبکےدعانےابھی تک اسسےبات تک نہی کی تھی

بواکےکہنےپروہ دعااورفیض کےٹیبل پرانکےساتھ بیٹھ گئی تھی

فیض کی نظریں اسسےاٹھنےکانام ہی نہیں لےرہی تھیں اوریہی حال علی کابھی تھا

وہ بہت پیاری لگرہی تھی بلاشعبہ

اسنےسبکی نظروں کاحصارخودپرمحسوس کیاتواٹھنےلگی جب صباآکردعاسےملی

اسکی اسطرف پیٹھ تھی

اسیلیےصبااسےدیکھ ناسکی

مگرمریم نےاسکی آوازپہچان لی تھی

اسنےپیچھےمڑکردیکھاجوابھی تک دعاسےملرہی تھی

ارےاندونوں کی کبسےبننےلگی

اسنےسوچااورجاکرصباسےملی

صباکواسےدیکھ کرجھٹکاسالگاتھامریم تم

اسنےاسےملتےہوئےجوش سےکہا

مریم نےسرہلادیاتھا

تم یہاں کیسےمطلب تمہاری بھی دعاسےدوستی ہوگئی ہے

نہیں اسکی مجھسےدوستی نہی ہوئی

دعااس بیچ پہلی باربولی تھی

مریم کوشرمندگی سی ہوئی تھی

توپھراسنےناسمجھی سےکہا

توپھریہ کےیہ محترمہ میری بھابھی بن گئی ہیں

دعانےمسکراکرمریم کےگردبازوحمائل کرکےکہا

مریم کوشدیدجھٹکاسالگااسنےدعاکودیکھاجواسےہی دیکھکےمسکرارہی تھی

مریم بھی مسکرادی اوراللّٰہ کاشکراداکیاکےسب ٹھیک ہوگیاہےدعااسسےبدظن نہی ہے

مطلب اب جھٹکےکی باری صباکی تھی

دعاکورسم کیلیےبلایاگیاتوبوانےاسےرنگ دینےکوکہاوہ رنگ دیکرصباکےساتھ کھڑی ہوگئی

مطلب کےتم مسزعلی بنگئی ہواسنےکہا

کیامطلب تمہارامریم نےحیرانی سےکہا

یاراب اتنی بھی بھولی نابنوں جب وہ تمسےپیارکرتاہےتوشادی بھی توکرےگاناں

صبانےاسکی عقل پرافسوس کرتےکہا

نہیں صباتم غلط

اسکی بات ابھی ادھوری ہی تھی کےایک جھٹکالگااسےاوروہ پیچھےمڑگئی

چٹاخ

ایک زناٹےدارتھپڑاسکےگال پرپڑاسب لوگ اس آوازکیطرف متوجہ ہوئےمریم نےحیرت سےولی کودیکھاجسکےچہرےسےصاف ظاہرتھاکےوہ انکی باتیں سن چکاہےایک خوف کی لہرمریم کےاندرسےگزری

نن نی ول ولی آآپ غلط

چٹاخ ایک اورتھپڑنےاسکی آوازبندکردی

چپ بدزات عورت ایک لفظ نہی بولناتوں

اتنی بےغیرت ہےتوں

آج تومیرےبھائی سےتیرےگلچھڑےکاپتاچلااورپتانی کتنےیارہونگےاسنےاسےتھپڑجڑتےہوئےکہامریم کواتنی تکلیف اسکےتھپڑمارنےسےناہوئی تھی جتنی اسکےالفاظ سےہوئی تھی

بےحیابتااورکتنےیارہیں تیرےوہ لوگوں کی پرواہ کیےبناہی بولےجارہاتھا

ولی پلیزآپ مجھپرالزام

الزام کی بچی یہ الزام ہےمیرامعصوم بھائی جسنےکبھی عورت ذات کوآنکھ اٹھاکرنہیں دیکھ تیری اداوں سےتجھپرمرمٹااورتوکہرہی ہےالزام

اسنےاسےدکھادیااوروہ سیدھی جاکربوااورفیض کےقدموں کےدرمیان میں گری

بوانےاسےبالوں سےپکڑاارےکمینی توں اتنی بےعزت ہےمینےسوچاناتھابوانےاسےجنجھوڑالےولی یہ تیری مجرم ہےاسکےساتج جوجی آئےوہ کرتوں

ولی نےکسی کابھی لحاظ کیےبغیراسےمارناشروع کردیاسب لوگ اس ڈرامےکوانجوائےکررہےتھےاورکچھ لوگوں کواسپرترس آرہاتھااورکوئی کہہ رہاتھاکےاسجیسی عورت کےساتھ ایساہی ہوناچاہیےسب اپنی اپنی چہ مگوئیاں کررہےتھےاتنےمیں علی جوکےفیض کےپاپاکولینےگیاتھاکیونکےانکی کاربندہوگئی تھی راستےمیں ہی آگیااسکی نظراکٹھےلوگوں پرپڑی

تووہ بھی اسطرف آگیاجہاں ولی مریم کوبری طرح پیٹرہاتھااوروہ روتےہوئےاپنی بےگناہی بتارہی تھی

وہ آگےبڑھابھائی یہ کیاکررہےہوکیوں مارہےہوانہیں

لوآگیاتیرایارتجھےبچانےاسنےحقارت سےکہتےاسےلات ماری

کوئی بتائےگاآخرہواکیاہےعلی نےچلاکرکہا

توں پوچھرہاہےجسکی وجہ سےیہ سب ہوافیض نےبھی چلاکرکہا

کیامطلب میری وجہ سےاورپھرفیض نےاسےسب کچھ بتادیاعلی نےچپ سادھ لی

بھائی آپ ہی انسےکہیں ناں کےیہ سب جھوٹ ہےپلیزانہیں کہیں ناں اسنےالتجائیہ کہاآج بھری محفل میں وہ ننگےسرکھڑی تھی اسےکوئی بھی اپناساتھی نظرناآیاجواسکی مددتوکیااسےڈوپٹہ ہی دیدیتاوہ آج سچمچ میں خودکوتنہامحسوس کررہی تھی

اےتوچپ کربڑی آئی بولنےوالی دوں سزاتجھےبوانےاسےبالوں سےپکڑکرکھینچاوہ کراہی

بواجی میں علی بھائی کوہمیشہ اپنابھائی ہی سمجھاہےبھلامیں

وہ اپنی بات مکمل کرتی اسسےپہلےہی بوانےاسکےبال پکڑکراسےگالیں بکنی اورتھپڑمارنےشروع کردیےتھے

فیض کےپاپااس لڑکی کودیکھرہےتھےجوکبھی کسی سےہارنامانتی تھی آج کیسےپٹرہی تھی

انہیں اسکی حالت دیکھ کرواقعی افسوس ہورہاتھا

بواچھوڑیں انہیں علی نےبواسےمریمکوچھوڑاتےہوئےکہااسکی آوازاتنی اونچی تھی کےسب ہی سہم گئےبوانےاپنےبھتیجےکوکبھیاتنااونچابولتےناسناتھاآج وہ چلارہاتھا

علی

بس بوابس کریں آپ سب لوگ بغیرحقیقت جانےآپ ایک لڑکی پراتناگھٹیاالزام کیسےلگاسکتےہیں

آپ لوگ توجاہلوں سےبھی بڑھکرہیں

اوربھائی آپ

آپ توڈاکٹرہیں ناآپکوتومعلوم ہوگاناسب کچھ پھربھی

اپنی بیوی کوشک کی نگاہ سےدیکھرہےہیں

میں نہی مانتاپھرکےآپ پڑھےہیں

علی ولی چیلایا

بس بھائی چلانامجھےبھی آتاہےاتنےدنوں سےمیں آپ سبکالحاظ کررہاتھاتوصرف مریم کی وجہ سےاسکی بات پرمریم نےنظراٹھاکراسےدیکھاجوغصےکی شدت کی وجہ سےلال ہورہاتھاتم اس بےغیرت لڑکی کی وجہ سےمجھسےاپنےبھائی سےزبان لڑارہےہوولی نےعلی کاگریبان پکڑکرکہا

میں یہ ناکرتامگرآپنےیہ سب کرنےپرمجھےمجبورکیاہےاتنےدنوں سےدیکھرہاہوں اسےاذیت دیرہےہوبنااسکےقصورکےاسکےپیرنٹس کوگالیاں دےرہےہواگرکلکویہ سب آپکی بہن دعاکےساتھ ہوتوکیاکروگے

چٹاخ اسکی بولتی کوولی کےتھپڑنےبندکیااس کےپیچھےیہ مت بھولوکےدعاہمدونوں کی بہن ہےولی غرایا

توکیاجسےمارہےہووہ کسی کی بہن بیٹی نہیں ہے

تجھےاسکی اتنی فکرکیوں ہورہی ہےاسنےطنزیاکہاکہیں یہ سب سچ تو

ہاں یہ سچ ہےکےمیں مریم سےپیارکرتاہوں

❤

بہت پیار

علی فیض نےاسکی جانب حیرت سےدیکھا

ہاں فیض یہ سچ ہےجب تمنےمجھسےکہاکےتمہیں مریم سےسچاپیارہواہےتومینےسوچاکےچلومیرادوست توکسی معاملےمیں سیریس ہواہےاسلیےمینےاپنےدلکی بات دل میں ہی رکھی میں اسدن صباکوبھی نابتاتااگریہ مجھسےمحبت ہونےکادعوٰی ناکرتی

یہ محبت ہےتمہاری کےتمنےمیرارازرازنارہنےدیااسنےاسےدیکھکےافسوس سےکہا

علی مینےسمجھاکےمریم تمہاری بیوی بنگئی ہےتمنےکہاتھاناں کےتم اسلام آبادسےواپس آکراپنےگھروالوں کومریم کےگھربھیجوگےتومینےسمجھاوہ شرمندہ ہوئی کےآج اسکی ایک غلطفہمی سےمریم کااسنابراسلوک ہواتھا

ہاں بھیجھنےوالاتھامیں مگرجب گھرآیاتویہ میری بھابھی بنی کھڑی تھی تومیں کیاکرتا

واہ واہ

ولی نےتالی بجائی

کیاعاشق ہےتوں

اپنےباپ کےقاتل کی بیٹی سےعشق کیاواہ اپنےپھوپھاکی قاتلہ سےکیابات ہےمریم نےاپناسرجکھالیا

کیامطلب علی نےناسمجھی سےکہا

مطلب یہ میرےبھائی میری بیوی کےعاشق کےجسکی وجہ سےہمارےباپ کوجیل اورپھانسی ہوئی وہ اورکوئی نہیں تیری معشوقہ اورمیری نام نہادبیوی کاباپ ہےچلووہ توتمہیں یادنہیں ہوگامگراتناتویادہوگاناکےپھوپھاجی اورہادی بھیاجس گاڑی میں جارہےتھےوہ اورکوئی نہیں تمہاری معشوقہ چلارہی تھی بمااپنےاہل وعیال کےاسنےساری بات کہدی

علی کوشدیددکھ ہواکےاسکابھائی ایک حادثےکوبھی مریم کےسرجوڑرہاتھا

مجھےاسسےبہت نفرت ہےمیری ماں اسکےباپ کوچاہتی تھی اسیلیےاسکی میرےباپ سےنابنتی تھی

بھائی علی چلایا

آپ سب لوگ چلیں اب فیض کےپاپانےسب لوگوں سےکہاسب جانےلگےعلی توں تب بہت چھوٹاتھامیں سمجھدارتونہیں مگراپنی ماں کارویہ خوب سمجھتاتھاماں باباسےلڑکراسکےباپ سےملنےجاتی تھی میں کئی باراسکےپیچھےگیاوہ دیرتک اسسےباتیں کرتی اسسےکچھ لیکرواپس آجاتی

باباسےبدکلامی کرتی

باباکہتےکےتیری ماں بہت بری ہےمیں نامانتامگرجسدن باباکوپولیس والےلیکرگئےتب مینےدیکھاماں اسکےباپ سےکہرہی تھی کےوہ بہت براہےمیں اسسےمحبت کرتی ہوں مگروہ

وہ کچھ اوربھی کہرہی تھی اسی شام باباجیل چلےگئےتبسےمجھےماں سےنفرت ہوگئی

میراکیاقصورتھابولوجس بچپن میں ماں میرااورتیراخیال نارکھتی تھی اوراسنےاپنےعاشق کیلیےمیرےباباکومروادیااسسےکیامیں محبت کرتامیرےدل میں انتقام کی آگ جلرہی تھی

اسدن جب اسنےہادی کاایکسیڈینٹ کیاتب میں اسکےباپ کوپہچان گیاتھااورمینےسوچاکےکیوں ناجسطرح اسنےہمیں رلایاہے

اب اسےبھی رلایاجائے

اسلیےمینےاسسےشادی کی

پرتب بھی ماں کوہادی سےزیادہ اسکی یعنیاپنےعاشق کی بیٹی کی پرواہ تھی

پتاہےمجھےکسنےسنبھالابوانےسمبھالامجھےاورمینےتجھےسمبھالاماں کےہوتےہوئےبھی

ہم یتیموں کیطرح پلتےرہےولی رونےلگا

مریم بھی اسکےساتھ ہی رورہی تھی اسےاپنےڈیڈی سےاسطرح کی امیدنہیں تھی

ڈیڈی توزیادہ کراچی میں ہوتےتھےیااسلام آبادتوپھریہاں کیسےاسنےدل میں سوچا

ہم اسلام آبادچھوڑکراس چھوٹےسےشہرمیں آگئےجہاں زندگی گزارنی تھی بس اورکوئی ہمیں ناپہنچانتاکےہم کون ہیں

وہ بولتےبولتےبیٹھ گیاتھااب بھی تم اسکی طرفداری کروگےجسنےہمسےہمارےباپ جیساپھوپھاچھینا

مریم تواسکےاسلام آبادکہنےسےہی گم سم ہوگئی تھی

توکیاڈیڈی اسلام آبادمیں بی جان سےملنےآتےتھےمگرکیوں

کیارشتہ ہےان میں؟اسکی آنکھوں سےآنسوں بہےجارہےتھےجوکےاسکےزخم آلودچہرےپرجلن پیداکررہےتھےمگران زخموں سےزیادہ جلن تواسکےدل میں ہورہی تھی

وہ لنگڑاتی ہوئی ڈائینگ روم کی طرف گئی

@@

ولی نےاسےجاتانہی دیکھاتھاوہ تواپنی یادوں کی دنیامیں مصروف تھا

مگربھائی انسب میں مریم کاکیاقسورہےعلی نےاپنےبھائی کےکندھےپرہاتھ رکھتےکہا

علی تومیراکیاقصورتھااسمےولی نےاسکاہاتھ تھام کرکہاعلی چپ کرگیااسےاحساس ہوگیاتھاکےاسکےبھائی نےکیاکچھ جھیلاتھا

باپ کادکھ اورماں کی بےاعتنائی برترہی تھی

بھائی

علی ولی سےبات کررہاتھاجب اسکی نظرمریم پرپڑی تواسنےولی کواشارہ کیاولی نےپیچھےمڑکردیکھاتومریم اسکی بندوق لیےکھڑی تھی

وہ ٹھٹک گیااسےکیوں لائی ہواسنےتعجب سےپوچھااورمریم لنگڑاتےہوئےاسکےپاس آئی اوربندوق اسکےحوالےکردی

اسنےناسمجھی کےعالم میں بندوق پکڑلی

مریم گٹنوں کےبل اسکےسامنےبیٹھ گئی اوربندوق کی نالی اپنےماتھےپررکھکےکہاولی آپ مجھےمارڈالیں میرےڈیڈی کی وجہ سےآپنےاپنےباباکھوئےہیں آپ پلیزمجھےماردیں

کرلیں اپنابدلاپورااسنےآنسوبھری آنکھوں سےاسےدیکھابوابھی ہکابکااسےدیکھرہی تھیں

دعابھی اسکی اتنی ہمت دیکھکےحیران ہوئےبنانارہ سکی

نہیں بھائی ایسامت کریں آپ

ولی نےمضباطی سےگن تھام لی اورٹریگرپرانگلی جمالی جب دعااورعلی نےکہا

نہیں ولی آپ مجھےماردیں پلیزمریم نےکہاآپ اتنےسال اپنی ماں سےنفرت کرسکتےہونگیں

مگرمجھمیں اتنی ہمت نہیں ہےکےمیں اپنےڈیڈی سے

وہ کہکرپھوٹ پھوٹ کررودی

ولی کےدل کوکچھ ہوااسلیےوہ گن پھینک کرباہرچلاگیااوروہ اسےجاتادیکھتی رہی

اب پہلی باربوابھی اسےکچھ کہےبناوہاں سےچلی گئیں

@@

دوپہر سے رات ہوگئی تھی

مگر ولی ابھی تک گھر نہیں آیا آیات

مریم کاپورا جسم مارکھا کھا کر دکھ رہا تھا

اسکے کپڑے بھی پھٹ چکے تھے

مریم دردسےکراہ رہی تھی جب دعااسکےکمرےمیں آئی

مریم دعانےاسےپکارااسنےپیچھےمڑکراسےدیکھادعاکچھ کام تھا

کیوں کسی کام کےبغیرمیں نہیں آسکتی کیادعانےخفگی سےکہا

مریم کوصبح سےہی اسکارویہ بدلابدلاسالگ رہاتھا

کیوں نہیں آسکتی ہومریم نےمسکرانےکی کوشش کی جسسےاسکےپھٹےہوئےہونٹ سےخون رسنےلگا

ارےدعاکھڑی کیوں ہوبیٹھو ناں اسنےڈوپٹےکےکونےسےصاف کرتےہوئےکہا

دعانےہاتھ میں پکڑافرسٹ ایڈباکس کھولااوراس میسےدوائی نکال کرروئی سےاسکےزخموں پرلگانےلگی

یہ کیاکررہی ہومیں ٹھیک ہوں مریم نےاسسےکہا

وہ تونظرآرہاہےدعانےاسکاہاتھ پکڑکرکہاجسسےخون نکل کرسوکھ چکاتھااورنیل بھی بنگئےتھےمریم نےجلدی سےاسکےہاتھ سےاپناہاتھ چھوڑایامگردعانےپھرپکڑلیا

پاگل مت بنومریم مجھےدوائی لگانےدوبیٹھوچپچاپ

دعانےاسےہاتھ سےپکڑکربیڈپربیٹھایامگروہ بیڈسےایسےاچھلی جیسےسپرنگ لگاہواہو

کیاہوادعانےحیرت سےپوچھا

کچھ نہیں اسنےنیچےبیٹھتےہوئےکہا

ارےنیچےکیوں بیٹھ رہی ہواوپرآؤ

دعامیری اوقات نہیں ہےاوپربیٹھنےکی اسلیےنیچےبیٹھی ہوں

مریم تمسےکسنےکہاولی بھائی نےکہااسنےمریم کی تھوڑی اونچیکرکےکہاتومریم نےپہلےاسےدیکھااورپھراثبات میں سرہلادیا

یارانکاکیاہےوہ توسبکوہی کہتےرہتےہیںانکاکیاماننااسنےمریم کادل ہلکاکرنےکیلیےکہا

دعانہیں میری وجہ سےانہیں اب کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیےپہلےہی وہ کہتےکہتےرکی

کیاہوارک کیوں گئی تم

دعامجھےایک بات بتاؤپرسوں تک توتم بھی میرےخلاف تھی آج

دیکھومریم کل کی بات کل پرہی رہنےدواوررہی بات نارمل ہونےکی تومینےتمہاری اورفیض کی باتیں سن لی تھیں

مجھےپتاچلگیاہےکےتم فیض کےپیچھےنہیں تھی

بلکےوہ

دعاچھوڑوپرانی باتوں کواب وہ تمہاراہےاوراسےتمسےکوئی نہیں چھین سکتااورمیں توبلکل بھی نہیں

مریم نےپھیکی سی مسکان سےکہا

دعااسےدیکھتی رہ گئی کےیہ کیاہےوہ اپنےدردمیں بھی اسکی ہمت بڑھارہی تھی اوروہ

تواسکےساتھ ہمیشہ غلط ہی کرتاآئی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *