Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 32)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 32)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
ولی ریش ڈرائیونگ کررہاتھااسےبہت غصہ تھامگراسےمعلوم ناتھااسےکسبات پراتناغصہ آرہاہےمریم کومارنےپریااسکےبندوق دینےپروہ خودسےہی الجھ رہاتھاجب ایک موٹرسائیکل سوارکےساتھ اسکی گاڑی کی ٹکرہوگئی
اوروہ نیچےگرپڑ
ولی نےجلدی سےبریک لگائی
اف اب یہ کیامصیبت ہےاسنےکہااوراسےدیکھنےکیلیےاتراہی تھاکےپیچھےسےآتی کارسےاسکی ٹکرہوگئی اوروہ دورجاگرا
کارسوارنےاسےاٹھاکردوسرےآدمی کوبھی کارمیں ڈالدیااورہوسپٹل لےگیا
@@
اومہارانی نیچےدفعہ ہوبوانےپٹھی ساری کودیکھتی مریم کی کمرپردھپ رسیدکرکےکہا
جی بواجی مریم کہتےساتھ ہی اٹھ گئی
ان کپڑوں میں آئےگی
انہوں نےاسکی پھٹی ساڑھی کودیکھکرکہاجسپرخون لگاتھااوروہ ٹھوکروں کی وجہ سےکافی خراب بھی ہوگئی تھی
وہ آپنےحکم نہیں دیاتھامریم نےجکھےسرسےکہا
بواکواسپرترس ساآیااسلیےاسےکمرےمیں ہی نہانےکابول کرچلی گئیں پرجاتےہوئےانکی نگاہ اپنےبھائی کی فوٹوپرپڑگئی وہیں سےمڑآئیں
اےکوئی ضرورت نہیں ہےتجھےباتھروم میں نہانےکی چل باہراورکنوےسےپانی بھرکےنہاجلدی کرکھانابھی دیناہےتونےسبکودس منٹ میں آجاکھاناپروسنےاوردیری کاانجام توجانتی ہےناں
بوانےاسکی تھوڑی پکڑکےکہااورجھٹک کرچلی گئیں
@@
مریم کنویں سےپانی پھرکرنیچےوالےواشروم میں رکھ آئی تھی جوکےنوکروں کیلیےبنایاگیاتھا
ارےعارفہ یہ میرےنہانےکیلیےہےتم
مریم نےاپناپانی رکھکےصابن اٹھانےہی گئی تھی کےعارفہ آگئی
توتیرےلیےہےتومیں استعمال کروں گی توں اوربھرلےاسنےمریم کےبھرےپانی میں اپنی بوسیدہ چادرڈالدی تومجبوراًمریم کودکھتےبازوں کیساتھ پانی دوبارہ بھرناپڑا
@@
وہ نہاکرآئی ہی تھی جب بوانےاسےکھاناپروسنےکوکہااسنےسبکوکھانادیدیاتھا
ولی ابھی تک نہیں آیاتھا
علی کی نظراسپرپڑی تواسےاپنےآپ پرشرمندگی محصوص ہوئی کےکیاتھااگروہ اسلام آبادجانےسےپہلےاسکاہاتھ مانگ لیتایااسکابھائی اس لڑکی کوعزت سےبیاہ کرلاتاتواسکی آج یہ حالت ناہوتی
وہ انہیں سوچوں میں گم تھاجب فون کی گھنٹی بجی
اسنےفون اٹھایاتودنگ ہی رہ گیااسکےچہرےکااڑتارنگ دیکھکےبواکوتشویش ہوئی
کسکافون تھاعلی
جیسےہی فون بندہوابوانےاسسےپوچھا
وہ ہسپتال سےفون تھاولی بھائی کاایکسیڈینٹ ہوگیاہےاسنےگویاسب پربمب پھوڑامریم کےہاتھ سےدال والی کٹوری گرگئی جووہ دعاکودینےلگی تھی
جوبھی تھاجیسابھی تھاوہ تھاتواسکاشوہرہی ناں
@@
وہ سب بھاگتےدوڑتےہوسپٹل پہنچےبواتوروئےجارہی تھیں اورمریم کوکوسےجارہی تھیں
اتنےمیں علی ڈاکٹرسےملکرآگیاجسنےکہاکےچوٹیں توگہری نہیں ہیں مگرانہیں کم ازکم ہفتہ دس دن آرام کرناچاہیےبازوپرزیادہ دباؤآگیاتھاجسسےہڈی پرچوٹ لگی تھی باقی کیامسلہ ہےیہ توہوش میں آنےکےبعدہی پتاچلےگا اورولی کی کارسےجس بندےکاایکسیڈینٹ ہواتھاوہ بھی خطرےسےباہرتھاعلی نےکہابوااورمریم دل ہی دل میں اسکےٹھیک ہونےکی دعاکررہی تھیں
تقریباًتین گھنٹوں بعدولی کوہوش آگیاتھاتوڈاکٹرنےانہیں اسسےملنےکوکہا
مریم کےعلاوہ سب ہی چلےگئےتھےبوانےمریم کوباہررکنےکاکہاتھاتاکےولی کےدماغ پرکوئی اثرناپڑجائےاسلیےوہ گھرآگئی
ولی سبسےملامگراسےمریم کہیں بھی دیکھائی نادی تھی
وہ وہاں ہوتی تودکھتی ناں
بواگھرچلیں اسنےبواسےکہا
ہاں میرےبچےکیوں نہیں چلتےہیں بس علی تمہاری دوائیاں لےآئے
انہوں نےاسےسہارادیتےہوئےکہااسکےسرپرچوٹ لگی تھی اوربازوپربھی پلاسٹرلگاہواتھاٹانگ پربھی چوٹ آئی تھی
ڈاکٹرنےکہاتھاکےاسےکچھ دنوں تک اپنےہاتھ کوحرکت دینےسےاجتناب کرناہوگا
چلیں علی نےآتےہی کہاولی اسکیطرف دیکھےبغیرہی اٹھنےلگاجب گرنےلگاہی تھاکےعلی نےسنبھال لیااتنےمیں ڈاکٹرکیساتھ ایک آدمی آیا
ولی آپ پوچھرہےتھےناکےوہ فرشتہ کون ہےجسنےآپکی جان بچائی ہےوہ یہ ہیں اگریہ آپکونالاتےتوکچھ بھی ہوسکتاتھا
نہیں ڈاکٹرصاحب غلطی میری تھی مجھےہی گاڑی آہستہ چلانی چاہیےتھی میں ہمیشہ ہی تیزڈرائیونگ سےنقصان اٹھاتاہوں
اس آدمی نےکہاجبکےولی کومریم کی بات یادآئی کےمینےتیزبائیک چلنےسےاپناقیمتی انسان کھویاہے
چلوبھائی تمنےمیرےبھائی کی جان بچائی ہےتواسلیےہمارےساتھ گھرچلوکچھ چائےپانی پیتےہیں علی نےاسےکہا
وہ ناناکرتاگیاجب بواکےاصرارکرنےپرمان ہی گیا
@@
گاڑی کےہارن کی آوازسےاسلم نےدروازہ کھولاتوگاڑی اندرآگئی
صحن سےکپڑےنکالتی مریم نےاورنیل پالش لگاتی دعانے
چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے بوا آرہی تھیں
اے منحوص پانی لا انہوں نے مریم سےکہا
جی
وہ کہکر پانی لینےچلی گئی
وہ پانی لیکر آئی تو سامنےبیٹھے شخص کی آواز سنکر چونکی
اسنے نظراٹھاکر دیکھاتو پتھر ہی بنگئی اتنے میں اس آدمی کی نظر بھی اسپر پڑ گئی وہ بھی مریم کودیکھ کر حیران ہوگیا مریم اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے مریم کو شدید قسم کا جھٹکا لگا اسکا دماغ گھوم گیا
_______
رضیہ بیگم لاونج میں بیٹھی دھوپ میں بھی آسمان کوتک رہی تھیں
انکےاحساسات تو جیسےمرہی گئے تھے
ساتھ میں بیٹھےانکےہمسفر سے بھی وہ بےنیاز تھیں
عاشق صاحب میز کو ہتھوڑے سے ٹھوک رہےتھےانکے دل پر بھی یہ وار محصوص کیے جاسکتے تھے
وہ ابھی ابھی ہی باہر سے آئے تھےتو ٹوٹی میز کو جوڑنےلگے
عاشق صاحب تھکاوٹ سے چور ہونے کے باوجودبھی وہ کام میں لگے ہوئے تھے
چلچلاتی دھوپ نے ان کی رہی سہی طاقت بھی چھین لی تھی
حالات نے جو رخ اختیار کیا تھا وہ سنبھال نہیں پا رہے تھے۔ کیا کیا سوچا تھا انھوں نے اپنی لاڈلی بیٹی کے لئے
سوچا تھا کہ اسکی تعلیم مکمل کروائیں گے اور پھر کسی اچھے اور پڑھے لکھے لڑکے سے اس کی شادی کروائیں گے
لیکن اب
اب پڑھانا تو دور اس کی شادی کے خواب بھی مٹی میں ملگئے تھے
بس لمحہ بہ لمحہ ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا
کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا
وہ کریں تو کیا کریں
مریم کے جانے کے بعد رضیہ بیگم بھی کم ہی کسی سے بولتی تھیں
آپکی چوٹ کیسی ہے اب؟
انہوں نے عاشق صاحب سے پوچھا
ہن ٹھیک ہے
مگر ہماری بچی کا کیا حال ہوتا ہوگا روز
وہ درندہ ہے درندہ اور ہماری پھول سی بچی
وہ رونے لگپڑے
اللّٰہ مالک ہے اور وہ ہی اسے سیدھی راہ پر لائے گا
ہماری بچی نے کسی کا کبھی برا نہیں سوچا مگر قسمت اسکے ساتھ برا کررہی ہے
وہ بھی رودیں
اقا بھی انکی باتیں سن کر رو رہی تھی
آخر کیا تھا جو وہ اور فوزیہ مریم ی بات مان لیتیں
ناں ایکسیڈنٹ ہوتااور ناں آج مریم اس حال میں ہوتی
کہتے ہیں ناں کے کاش ہماری زندگی میں طوفان لے آتا ہے مگر ہمیں سبق سکھادیتا ہے
اور یہی کاش انکی زندگیوں میں آگیا تھا
اور کون جانے اور کس کس کی زندگی میں اسے آنا تھا
@@
مریم کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گئے
مگر کسی کو آواز نہیں آئی تھی
سامنے بیٹھا شخص کوئی اور نہیں بلکے عتیق تھا
سنگدِل ہے وہ تو کیوں، اُس کا گلہ میں نے کِیا؟
جبکہ خود پتّھر کو بُت، بُت کو خُدا میں نے کِیا
کیسے نامانُوس لفظوں کی کہانی تھا وہ شخص
اُس کو کتنی مُشکِلوں سے ترجُمہ میں نے کِیا
وہ مِری پہلی محبّت، وہ مِری پہلی شِکست
پِھر تو پَیمانِ وَفا سَو مرتبہ میں نے کِیا
ہُوں سَزا وارِ سَزا کیوں، جب مُقّدر میں مِرے
جو بھی اُس جانِ جہاں نے لِکھ دِیا، میں نے کِیا
وہ ٹھہرتا کیا کہ گُزرا تک نہیں، جس کے لیے !
گھر تو گھر، ہر راستہ آراستہ میں نے کِیا
مُجھ پہ اپنا جُرم، ثابت ہونا ہو لیکن، فراز!
لوگ کہتے ہیں کہ اُس کو بے وَفا میں نے کِیا
وہ کوئی اور نہیں بلکے عتیق تھا
جو ولی اور علی سے باتیں کررہا تھا
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا زندگی اسے دو بارہ اس شخص سے سامناکروائےگی جس کی وہ کبھی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی جس نے ہر وقت اسے ذلیل کیا تھا جس کا دماغ ہر وقت اس کے خلاف سازیشیں رچنے اور اسے زچ کرنے کے منصوبے بنانے میں لگا رہتا تھا وہ اپنے سلگتے ہوئے دل پر قابو پاتے ہوئے آگے بڑھی
تم تم یہاں کیا کررہے ہو
مریم نے چلاکر کہا
کہیں تم میری زندگی برباد تو نہیں کرنے آئے
تمہیں کسنے کہا کے میں یہاں رہتی ہوں حالانکے کسی کو بھی نہیں پتا تھا
تم میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے
مریم رودی
عتیق کھڑا ہوگیا
اسے وہ کہیں سے بھی مریم نہیں لگی پیلا پھنک نیلوں سے بھرا چہرہ سوجی سوجی آنکھیں اور اب تو وہ پہلے سے آدھی بھی نہیں رہ گئی تھی
تم یہاں کیسے مریم؟
آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟
علی نے کہا جب مریم کو ہوش آیا کے وہ کہاں کھڑی ہے
اسنے جلدی سے ولی کو دیکھا جو قہر آلود نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
کیا لگتا ہے یہ تیرا
ولی نے غراتے ہوئے پوچھا
وہ وہ یہ
صحیح طریقے سے بتا نہیں تو
ولی سے اٹھا نہیں جارہا تھا نہیں تو وہ مریم کامنہ ہی توڑ دیتا
وہ یہ میرا بھائی ہاں بھائی لگتا ہے
میرا
مریم نے اٹک اٹک کر کہا
اچھا مجھے بےوقوف بنارہی ہے
ولی چلایا اور مریم ڈر کے دو قدم پیچھے ہوئی
نہیں بھائی
مریم صحیح کہرہیں ہیں
یہ ہمارے پرنسپل سر کے بیٹے ہیں
استاد تو باپ بجا ہوتا ہے تو اسکا بیٹا بھائی ہی ہوا ناں
دعا نے ولی سے کہا
اچھا تو یہ اسے یہ سب کیوں رہی تھی کے میرا پیچھا چھوڑ دے
بوا نے دعا سے پوچھا
وہ اسلیے بوا کے سر مریم کو کسی نا کسی بات پر سزا دیتے تھے اسلیے
دعا کے جواب سے کافی حد تک بوا تو مطمئن ہوگئیں تھیں مگر ولی کے دل میں اب بھی شک تھا
تو کیا مریم اس گھر کی بہو ہے
عتیق نے سوچا
چلتا ہوں اب میں
عتیق نے کہا
ارے نی نی بچے ایسے کیسے تمنے ہماری مدد کی ہے ایسے تھوڑی جانے دیں گے
کھانا کھا کر جانا
اور توں جاکر کھانا بنا
انہوں نے مریم سے کہا اور اسنے بھی وہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی
@@
مریم بڑے احتیاط اور تیزی سے کھانا بنارہی تھی
وہ نہیں چاہتی تھی کے اسکے سامنے کوئی بدمزگی پھیلے
وہ چاول نم پر لگا کر سلاد بنانے کیلیے مڑی تھی جب دعا پہلے ہی وہاں بیٹھی سلاد بنارہی تھی
تم کب آئی دعا
مریم نے چونک کر پوچھا
تبھی جب تم اپنے خیالوں میں کھوئی تھی
دعا اسے جواب دیکر کھیرا چھیلنے لگی
ایسی بات نہیں ہے دعا
مجھے مت سمجھاؤ مریم
میں جتنا تمہیں جانتی ہوں اس سے یہ بات تو واضع ہے کے تم کبھی معمولی بات پر ریآکٹ نہیں کرتی
ضرور کوئی بڑی بات ہے
سر کو دیکھ کر تمنے ایسے ایکٹ کیا جیسے وہ تمہارے دشمن ہوں
دعا نے اسکی طرف کناکھیوں سے دیکھا
نہیں دعا مجھے اس سے دشمنی تک کا بھی کوئی رشتہ نہیں رکھنا
میں ٹھیک ہوں ایسے ہی
تبھی بوا وہاں آئیں اور اسے کہا کے چائے بنادو
مہمان کیلیے اسکے سر میں درد ہے
مریم جی کہکر چاکلیٹ کافی بنانے لگی
وہ چاکلیٹ ڈال رہی تھی جب دعا بولی
مریم بوا جی نے چائے کہا ہے اور تم
ہاں عتیق کو چاکلیٹ کافی
اسنے دعا کو دیکھ کر کہا جب اسے احساس ہوا کے کوئی دروازے کے پاس کھڑا ہے تو چپ ہوگئی
کیا میں مریم سے اکیلے میں بات کرسکتا ہوں؟
عتیق نے دعا کو دیکھ کر کہا
کوئی ضرورت نہیں ہے دعا
دعا باہر جانے لگی جب وہ بولی
مجھے تم سے بات کرنی ہے
وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا
لیکن مجھے تمسے کوئی بات نہیں کرنی مسٹر
مریم نے غصے سے کہا
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تم کون ہو کون نہیں
مگر مجھے اتنا فرق پڑتا ہے کے تم میرے سسرال میں کھڑے ہو
دعا ہکا بکا انہیں دیکھ رہی تھی
وہ مریم کو اکیلا بھی نہیں چھوڑسکتی تھی
کے بوا نے دیکھ لیا تو نیا تماشہ ہوگا
فرق تو تمہیں پڑتا ہے
نہیں تو تمہیں یہ بات کیسے یاد رہتی کے مجھے چاکلیٹ کافی سے سکون ملتا ہے
وہ ہنسا تھا
یہ میں تمہارے لیے نہیں اپنے شوہر کیلیے بنارہی ہوں
انہیں بہت پسند ہے
مریم نے اس سے کہا
جو کے سراسر جھوٹ تھا
ایک دن اسنے ولی کیلیے کافی بنائی تھی اور چاکلیٹ ڈال دی تاکے اسکے سر کا درد کم ہو تو اسنے اسکے منہ پر ماری تھی پیالی کے اسے چاکلیٹ سے شدید نفرت ہے
او مریم کسے پاگل بنارہی ہو؟
مجھے یا خود کو
اپنا چہرہ دیکھا ہے آئینے میں
کتنے زخم بنے ہیں تمہارے
مارتا ہے ناں وہ تمہیں
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کے
مریم دی گریٹیسٹ بی بی
کسی سے کیسے پٹ سکتی ہے
اور تمہاری شادی کب ہوئی
تم تم تو عمران کے ساتھ ترکی نہیں گئی تھی
ماما نے بتایا تھا مجھے
پاپا تو تمہارے گھر جانے سے منع کررہے تھے اور ماما سے بات کی کے تم آپی کے نکاح کے بعد کالج نہیں گئی تو انہوں نے بتایا کے تم ترکی گئی ہو
میں تو تم سے ناراض
ناراض میں بھلا تمہاری کیا لگتی ہوں جو تمہیں مجھسے ناراض ہونے کا حق مل گیا
ناراض انسے ہوا جاتا ہے جو آپکے کچھ لگتے ہیں
جیسے تمہیں ثناء سے اور ولی مجھ سے ناراض ہوسکتے ہیں
اب تماشہ مت بناو اور جاؤ یہاں سے
مریم اسے کہکر چلی گئی
وہ سن سا اسے دیکھتا رہا
دعا بھی اسکے یچھے ہی چلی گئی اب اس کا وہاں پر رکنا فضول تھا
بوا کے بے حد اثرار پر وہ کھانا کھاکر فوراً نکل گیا
اس بیچ مریم بھی اسکے سامنے ایک بار ہی آئی تھی
@@@
ولی کا پیر اور بازو بری طرح زخمی تھا
اس سے کھانا بھی نہیں کھایا جاتا تھا
اسے کھانا کھیلانے کی زمہ داری مریم کی تھی اور دوسرے کاموں کی علی پر
علی مریم کی موجودگی میں کمرے میں نہیں آتا تھا
اور مریم بھی علی کی موجودگی میں نہیں آتی تھی
آہستہ آہستہ دن گزرتے جارہے تھے
اور ولی کا رویہ بھی اس کے ساتھ بدلتا جارہا تھا
البتہ بوا کا رویہ پہلے جیسا ہی تھا
وہ جب چاہتیں اسکی دہلائی کردیتیں
@@@
رضیہ بیگم مریم کے جانے کے بعد بیمار پڑنے لگیں تھیں
اقصٰی بھی اپنی جگہ شرمندہ تھی
سب اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ رہے تھے
مگر تین لوگ جہاں تھے وہیں رہ گئے تھے
@@@
چار مہینے بیت چکے تھے
ولی کا بازو اب اٹھنے تھا
مریم کی اس سے بات نہیں ہوتی تھی
البتہ وہ پورے طریقے سے اس کا خیال رکھ رہی تھی
ولی کا دل بھی تھوڑا نرم ہوگیا تھا
وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا تو وہ بس سر ہلا کر یا مختصر جواب دے دیا کرتی
مریم روز سوچتی کے مجھسے کوئی غلطی نا ہو ورنہ یہ میری فیملی کو نقصان پہنچادے گا
مریم
مریم
کہاں ہو تم؟
ولی واش روم سے نکل کر اسے آوازیں دے رہا تھا
مریم بھاگتی ہوئی اسکے پاس آئی
جی بولیں
وہ پھولتی سانسوں سے بولی
میری شرٹ نیچے کردو مجھ سے ہو نہیں رہی
جی اچھا
یہ کہکر مریم نے اسکی قمیض نیچے کردی جو اسکے بنیان اور ہاتھ میں پھنسی تھی
وہ احتیاط سے اسکی قمیض نیچے کررہی تھی اور وہ آئینے میں اسے اور خود کو دیکھ رہا تھا
کافی شرم آرہی ہے ناں تمہیں
وہ مسکراتا ہوا اسے دیکھا کر بولا
جبھی مریم نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
مریم نے نظریں جکھالیں
مریم اسکی شرٹ سیدھے کرتے ہی وہاں سے چلی گئی
ولی اسےجاتادیکھ کر ہنسا جبھی اسکی نظر اپنے باپ کی فوٹو پر پڑی
اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی اور وہ اسکے پیچھے لپکا
وہ زیادہ دور نہیں گئی تھی ابھی دعا کے کمرے کے پاس ہی تھی جب ولی نے اسے آن گھیرا
آپ آپکو کچھ چاہیے تھا
مریم اسکے لال چہرےکودیکھ کر بولی
آپ کے پاوں میں دردتھاآپ
چٹاخ
تمہاری اتنی ہمت کے تم میری بات سنےبغیرکمرے سے نکل آئی
دودن تم سے اچھے سے بات کیا کرلی تم تواپنے آپ کو مہارانی سمجھنےلگی
تمہاری اتنی اوقات نہیں ہے سمجھی
وہ اسے بالوں سے پکڑ کر بول رہا تھا
وہ خاموش اسکی بات سننے لگی
وہ کچھ بولتی اس سے پہلے ہی وہ اسے دھکا دے چکا تھا
اور اسکا سر ٹیبل پر لگا اور ایک بوند خون کی نکل آئی
ولی نے اسےجھک کردیکھاتواسےاپنے کیے پر شرمندگی ہوئی
وہ اسے ہاتھ دینے لگا جب وہ خود ہی اٹھ کھڑی ہوئی
اسے ایک بار پھر غصہ آیا اور اسنے اپنے بائیں ہاتھ سے اسے ایسا تھپڑ مارا جس سے وہ ٹیبل پر سینے کے بل گری
اسنے اونچی اونچی رونا شروع کردیا
جبکے ولی اپنی دکھتی ٹانگ سے ہی اسے مارنا شروع کردیا
جبکے وہ مسلسل روئے گئی
اسکے رونے کی آواز سے سب اکٹھے ہوگئے
مریم اپنے دل پر ہاتھ رکھے روتے ہوئے ہی بیہوش ہوگئی
جب ولی نے اسکا وجود زمین بوس ہوتے دیکھا تو اسکی بھی کاروائی رک گئی تھی
