Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 33)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 33)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
مریم کو جب ہوش آیا تو اسنے اپنے آپ کو بیڈ پر پایا
اسے بہت تکلیف ہورہی تھی
وہ سینے پر ہاتھ رکھتی بیٹھ گئی
اسنے اردگرد دیکھا تو ولی سامنے صوفے پر بیٹھا تھا
مریم جلدی سے بیڈ سے اٹھی
تبھی ایک درد کی لہر اٹھی اور وہ گرنے لگی
کے اسے سامنے بیٹھے ولی نے جلدی سے تھام لیا
مریم جلدی سے دو قدم پیچھے ہٹی
اٹھی کیوں ہو لیٹی رہتی تم
ولی نے آرام سے کہا
میری اتنی اوقات نہیں ہے ولی کے میں آپکے بستر پر لیٹ جاوں
مریم نے سپاٹ لہجے میں کہا
البتہ اسکے چہرے سے غصے اور درد کا آثار واضع تھے
میری بیوی ہو تم
اور یہ تمہارا بھی بستر
نہیں ولی مت بولیں آپ آرام سے
کہیں مجھے آپکے اس رویے کی عادت نا ہوجائے
میں بیوی تو ہوں آپ کی مگر میری اوقات ایک ملازمہ سے بھی بدتر ہے
میری اتنی اوقات بھی نہیں ہے کے آپکی مرضی کے بغیر
اسے بولتے بولتے شدید درد کا احساس ہوا تو اسنے لب بھینچ لیے
ولی نے اسے بٹھاکر پانی پلایا
اب ٹھیک ہو
ولی نے اس سے گلاس لیتے کہا
مریم نے سر ہلادیا
دیکھو مجھے اسبات پر غصہ آیا کے تم اچانک چلی گئی
کیوں نکلی تھی تم
وہ اب اسکی تھوڑی اونچی کرکے بولا
تو مریم کی آنکھیں اسکے چہرے پر پڑیں
وہ ککر کی سیٹی بجی تھی
آپ نے جلدی بلایا تھا اسلیے آنچ ہلکی نا کرسکی
پاگل نیچے بہت لوگ تھے کردیتے ناں
ولی کو اسکی بات پر ہنسی آئی
ویسے کیا بنارہی تھی؟
ولی اسکے قریب ہوکر بولا
چنے آپکو پسند ہیں ناں اسلیے مینے سوچا کے جل گئے تو
اتنا پیار کرتی ہو مجھ سے
کے میری پسندیدہ کھانے کیلیے تم نے اتنی مار کھائی
ولی اسکے چہرے کو دیکھ کر بولا
مریم نے اسکی بات پر اسکی طرف دیکھا
کچھ لمحے ایسے ہی گزرے جب وہ اسکے ہونٹوں کے قریب آیا تو مریم کو ہوش آئی
پیار نہیں کرتی
یہ ڈر ہے میرا
وہ بھی آپ سے
فکر اور مجبوری میں فرق ہوتا ہے خان
آپ میری فکر نہیں مجبوری ہیں
اگر میں کھانا جلادیتی تو آپ مجھے اور مارتے اور میری فیملی کو نقصان دیتے
اسلیے بھاگی تھی
ورنہ میری اوقات مجھے یاد ہے ولی خان
آج مریم کی آواز اسکے سامنے اونچی ہوگئی تھی
جبکے ولی گم سم سا اسکی بات سن رہا تھا
ولی مجھے معاف کردیں پر میں
وہ بولتی اس سے پہلے ہی وہ اٹھ کر باہر نکل گیا
@@
دن یونہی بیت رہے تھے
انکے درمیان اب کوئی بات نا ہوئی تھی
ولی سوچ رہا تھا کے کیسے اسنے اس لڑکی کو ڈرا کر رکھا ہے
مگر اگلے ہی پل وہ یہ سوچتا کے وہ اچھا کررہا ہے اس کے ساتھ
مریم کمرے کی صفائی کردو پہلے بعد میں یہ کرلینا
ولی برتن دھوتی مریم سے کہ کر چلاگیا
اور مریم ہاتھ دھوکر کمرے میں چلی آئی
وہ صفائی کرکے ہاتھ دھوکر نکلی ہی تھی جب اسے ایسا لگا جیسے اسے کسی نے آواز دی ہے
پہلے تو اسنے اپنا وہم سمجھا لیکن جب دوبارہ آواز آئی تو تو وہ آواز کے تعاقب میں دیکھ کر چونک گئی
______
EPISODE 40 اور آخری قسط
مریم
اقا نے کھڑکی سے اندر آتے ہوئے کہا
اقا تم
تم یہاں کیوں آئی ہو؟
مریم نے اردگرد دیکھتے ہوئے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا
کیوں میں نہیں آسکتی
اسنے کھڑکی کے پردے برابر کرتی مریم سے کہا
نہیں اقا تم نہیں آسکتیں تم جانتی نہیں ہو اگر کسی نے تمہیں دیکھ لیا تو کتنا ہنگامہ ہوسکتا ہے
مریم کی گھبرائی ہوئی آواز اقا کے کانوں تک آئی
جو اپنے دستی بیگ سے کچھ نکال رہی تھی
کیا کررہی ہو اقا اسنے اسسے کہا
ٹنٹناں
اسنے بریانی کا ڈبہ نکال کر کہا
یہ
مریم اسے دیکھ کر مسکرائی
اقا نے اب پوری طرح اسے دیکھا
جسکے چہرے پر نیل کے نشان تھا
شانی
یہ سب
وہ اب بھی تم پر ہاتھ اٹھاتا ہے
اقا نے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کہا
چھوڑو اقا تم یہاں کیوں آئیں
اور مما ڈیڈی نے تمہیں کیسے آنے دیا
اور وہ سب کیسے ہیں
مریم نے اسسے کہا
دھیرج رکھو بالیگے
ایک ساتھ اتنے سوال
سب ٹھیک ہیں
آج تمہاری اور میری سالگرہ ہے
اسلیے میں پھپھو کے ہاتھ کی بنی بریانی لائی ہوں
مریم نے آنسوں سے بھری آنکھوں سے بریانی اور پھر اقا کو دیکھ کر اسسے لپٹ گئی
وہ خاموش آنسو بہارہی تھی جب کسی کے قدموں کی آہٹ آئی
مریم ہڑبڑاگئی
اقا تم چلی جاو یہاں سے
مریم
کھاؤ
اسنے بریانی کا ڈبے سے ایک چمچ نکال کر اسے کھلایا اور مریم نے اسے
تبھی دروازے پر دستک ہوئی تو مریم نے اقا کے بیگ میں سب ڈال کر
اسے جانے کا کہا
اقا کھڑکی سے پار ہوگئی
مریم نے اسے جاتے دیکھا تو جلدی سے دروازہ کھول دیا
تو ولی بھنبھناتے ہوئے اندر آیا اور اسے گردن سے پکڑ لیا
تیری اتنی اوقات ہوگئی کے توں دروازہ بند کرے
بول
اسنے اسکی گردن پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا تھا
جی جی وہ میں
وہ دروازے کے پیچھے جھاڑو لگارہی تھی تو بار بار دروازہ کھل جاتا تھا اسیلیے کنڈی لگادی تھی
وہ سچ کہہ رہی تھی کیونکے اقا کے آنے سے پہلے وہ جھاڑو ہی لگارہی تھی
سچ کہرہی ہے
ولی تھوڑا دھیما پڑ کر بولا
جی اسنے دروازے کے پیچھے پڑے جھاڑو کی طرف اشارہ کردیا
تو پھر اتنی دیر کیوں لگی
وہ دھاڑا
مریم دو قدم پیچھے ہوئی
جی وہ میں ہاتھ دھونے جارہی تھی
اسنے ہاتھ دیکھاتے ہوئے کہا
اچھا تجھسے بوا کو کام ہے جا انکی بات سن لے اور پھر پودوں کو پانی بھی دے دینا
ولی حکم سناکر چلا گیا
اور وہ بھی اس کے پیچھے چلدی
@@
اقا نیچے اتر رہی تھی تبھی چونکی دار وہاں سے گزرا
اقا نے ہر براہٹ میں بالکونی میں چھلانگ لگادی
@@
جی بوا جی آپ نے بلایا
مریم نے سر جکھاکر انسے پوچھا
ہاں مہارانی صاحبہ
آپ کے دیدار کیلیےہمیں آپ کے حکم کی ضرورت تھی
بوا نے چبا چبا کر کہا
اور آگے بڑھیں
کیوں ری اب تو مجھے انتظار کروائے گی
انہوں نے اسکے بال پکڑ کر کہا
نہیں بوا جی بلکل نہیں
وہ بس میں کام کررہی تھی اسی لیے دیر ہوگئی تھی
اچھا چل اب میرے سر میں تیل کی مالش کر
مریم سر ہلاکر تیل لے آئی تو وہ کرسی بر بیٹھ گئیں
ویسے ایک بات تو تیری ماننی پڑے گی کے توں مالش تو اچھی کرتی ہے
مگر یک ہاتھ سے کیوں کررہی ہے؟
وہ بوا جی زخم ہے ناں اسلیے اسسے کام نہیں ہورہا
اسنے کہا
اچھا اب تجھے یہ معمولی زخم بھی زیادہ لگتا ہے
انہوں نے اسکا وہ ہاتھ جس پر ولی کا دیا گیا زخم تھا کو دباکر کہا
مریم کی چیخ نکل گئی
آہ
اسکی آنکھوں میں آنسوں آگئے
بوا نے ایک تھپڑ لگایا اور اسے باہر دھکا دے دیا
یہ سب بالکونی میں کھڑی اقصٰی دیکھ رہی تھی
اسکی بھی آنکھوں میں بھی
آنسوں تھے
وہ جس بالکونی میں آئی تھی وہ بوا کے کمرے کی تھی
@@
سن آئی بوا جی کی بات
وہ باہر لان میں آہی رہی تھی کے ولی نے پوچھ لیا
اسنے آنسووں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھ کر ہاں میں سر ہلادیا
وہ اسے روتے دیکھ چکا تھا
اسسے پتا نہیں کیوں اسکے آنسوں برداشت نہیں ہوئے تھے
مگر انا آڑے آگئی تھی
اسلیے بولا
جاؤ جاکر پودوں کو پانی دو
اور وہ سر ہلاکر چلی گئی
@@
اقا کو بوا کے رویے پر بہت غصہ آیا
اسلیے اسنے بوا سے بدلہ لینے کا سوچا
وہ یہی سوچتے کب لان میں پہنچی اسے پتا ہی نہیں چلا
@@
مریم لان میں آکر پودوں کو پانی دے رہی تھی
جب بوا اسکے پیچھے آئیں
اقا نے انکی طرف دیکھا تو اسکے دل میں نفرت بھر گئی
اسنے ادھر ادھر دیکھا تو اسے جنگلی پھول نظر آیا
چونکے اسنے انٹرنیٹ سے اس پھول کے بارے میں جانکاری لی ہوئی تھی اسیلیے اسنے چھپتے چھپاتے اس پھول تک گئی
اور کپڑے سے اسے توڑا
بوا مریم کے پیچے تھیں اور اس سے بات کرنے کیلیے آگے بڑھی ہی تھیں کے اسنے پھول پھینکا
وہ پھول پھینکتی اس سے پہلے ہی کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
اسنے ہڑبڑا کر پیچھے دیکھا تو وہ ولی تھا
جو غصے سے لال چہرے سے اسے ہی گھور رہا تھا
تمہاری اتنی جرَات کے تم بوا جی
پر یہ پھول پھینکنیں جارہی تھیں
اسنے اسے تھپڑ مار کر کہا
تھپڑ اور آواز سے وہ دونوں چونکیں
اور آواز کے تعاقب میں وہاں آئیں
وہاں کا منظر دیکھ کر دونوں ہی ٹھٹھک گئیں
بوا مریم اور سامنے کھڑی ااقا کو دیکھنے لگیں
مریم کا دل ڈوبا جارہا تھا
یہ اب تک گئی کیوں نہیں؟
مریم سوچ ہی سکی
تمہاری ہمت کیسے ہوئی
ولی کی انکی طرف پیٹھ تھی اسیلیے وہ اقا کو مریم سمجھ کر مارہا تھا
رکو ولی
بوا نے اسے روکا
وہ انکی آواز سن کر پیچھے مڑا اور دیکھتا ہی رہ گیا
کیونکے اسکے سامنے مریم آنکھیں بند کرکے کھڑی تھی
اسنے پیچھے دیکھا تو اقا اور مریم کو ایک شکل کا ہی پایا
@@
کیا ہوا عاشق صاحب نے رضیہ بیگم سے کہا جو ااچانک ہی گھبراگئی تھیں
اانکا چہرہ
پسینے سے بھر گیا تھا
مجھے ایسا لگا جیسے میری بچیاں مصیبت میں ہوں
کیسی ات کررہی ہیں آپ فوزیہ تو اپنے گھر گئی ہے اور مریم انہیں یاد آیا کے پچھلے چھ مہینوں سے انکی بیٹی مصیبت میں ہی تھی
آپ گھبرائیں نہیں
وہ سب ٹھیک کردے گا
انہوں نے تسلی دی
مگر ماں کا دل ہاں ماننے والا تھا
@@
تم کون ہو اسنے اقا سے پوچھا
اور تم تو مجھے پہلے کبھی نہیں دکھی تو اب کہاں سے آگئی ہو؟
اور تم دونوں کی شکلیں کیوں ملتی ہیں؟
بتاؤ مجھے
وہ دھاڑا
میں اقصٰی صدیقی ہوں
مریم کی کزن
اور آپکے بھائی
ولی یہ شاید مجھسے ملنے آئی تھی ہے ناں اقا
وہ آگے کی بات کرتی اس سے پہلے ہی مریم بول پڑی
ہاں میں
وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی ولی نے فون نکال لیا
اور عاشق صاحب کو جلد از جلد آنے کا کہا
ابھی کے ابھی پہنچ یہاں پر
ولی نے عاشق صاحب سے کہا
کیوں اور کس لیے
مریم ٹھیک ہے
انہوں نے فکر مندی سے پوچھا
تو جلدی یہاں آ
نہیں تو جانتا ہے نا
اسنے دھمکی دی
مریم کا دل لرز گیا
اچھا ٹھیک ہے آتا ہوں مگر تم اسے کچھ مت کہنا
انہونے جلدی سے فون بند کردیا
@@
عاشق صاحب جلدی جلدی گھر سے نکلے
انہوں نے رضیہ بیگم کو بھی نہیں بتایا کے وہ کہاں جارہے ہیں
وہ ابھی راستے میں ہی تھے کے کسی کے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ٹریفک جام تھی
انہوں نے اضطراب سے اپنی گھڑی دیکھی
ابھی وہ جھٹ بھٹہ مل سے بھی دس منٹ کی مسافت سے دور سے
کم از کم بھی انہیں دین پور جانے میں آدھا گھنٹہ لگ سکتا تھا
انہیں اپنی بیٹی کی بہت فکر ہوررہی تھی
انہوں نے کبھی اپنے آپ کو اتنا بے بس محسوس نہیں کیا تھا جتنا اس انسان سے جو انکا نام نہاد داما تھا سے ہورہے تھے
@@
ولی
ولی پلیز میری بات سن لیں
روتی ہوئی مریم اسکے پیچھے تقریباً بھاگ رہی تھی
مگر وہ اسکی کوئی بات سن ہی نہیں رہا تھا
ولی آپ نے ڈیڈی کو کیوں بلایا
آپ کو جو سزا دینی ہے مجھے دے دیں مگر
تم کیا سمجھتی ہو کے میں تمہاری بات مان جاوں گا
نا بی بی نا
میں نہیں ماننے والا تیری بات
اسنے ہاتھ جوڑے کھڑی مریم سے کہا
میں تیرے باپ سے بدلا لینے کا موقع کیسے چھوڑ سکتا ہوں
وہ احتزائیہ ہنسی ہنسا
ولی پلیز آپ
او دو دن تجھ سے آرام سے بات کیا کرلی تیری تو زبان ہی کھل گئی
اسنے مریم کا منہ دبوچتےکہا
تیری اوقات نہیں ہے
بھول گئی وہ دن
وہ ہنسا
مریم خاموش ہوگئی
@@
ایک گھنٹہ ہوگیا تیرے باپ کو فون کیے مگر ابھی تک آیا نہیں
اسنے مریم کے بالوں کو کھینچتے ہوئے کہا
آہ
پپ پلیز چھوڑ دیں درد ہورہا ہے
پتا نہیں اسکی آواز میں کیا
تھا کے اسنے اسکے بال چھوڑ دیے
مریم نے اسے نرم پڑتے دیکھا تو کہنے لگی
آپ میرے ڈیڈی کو معاف کردیں ناں
دشمنی میں کیا رکھا ہے؟
آپ جو کہیں گے میں بغیر کچھ کہے وہ کروں گی
آپ مجھے جتنا ماریں میں اف نا کروں گی
بس میری فیملی کو چھوڑ دیں
اسنے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے
وہ اسکی حالت دیکھ نہیں پایا اسلیے ہی کمرے سے بغیر لچھ کہے نکل گیا
اور وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی
@@
اقا کو تو پہلے ہی بوا ولی کے کہنے پر سٹور روم میں بند کر آئیں تھیں
مریم ولی کو لسی دینے گئی
کیونکے یہ وقت اس کے لسی پینے کا تھا
ولی اسنے دروازے پر ناک کرتے اسے آواز دی مگر جواب نا آیا
مریم نے اندر جھانکا تو روم خالی تھا
وہ اندر آئی تو اسے باتوں کی آوازیں آرہی تھیں
وہ آگے بڑھی تو اسے وہ بالکونی میں نظر آیا
وہ قدم آگے بڑھانے والی ہی تھی کے ولی کی بات سن کر رک گئی تھی
ہاں میں کہرہا ہوں وہ جہاں بھی ملے اسے مار ڈالو
بلکے نہیں وہ جہاں بھی ہو اسے گھسیٹ کر میرے گھر پر لاو
اسے مینے کہا تھا جلدی آ مگر اسنے میری نا سنی
ڈیڑھ گھنٹا ہوگیا
مریم کو سمجھ آگئی کے وہ اسکے باپ کے بارے میں بات کررہا ہے
مریم کو کپکپی شروع ہوگئی
اسے تو آج ہی مارڈالوں گا
مریم کا دل بند ہونے کو تھا
وہ کیا سمجھتا ہے
ولی اس سے آگے کچھ کہتا دھڑام
کی آواز سے مریم زمین بوس ہوگئی اور جگ بھی کرچی کرچی ہوگیا
مریم وہ اسکی جانب بڑھا
جسکا شہرہ سفید پڑچکا تھا
اسنے اسے اٹھاکر بیڈ پر لٹایا
اسکی دھڑکن چیک کرنے لگا
جو سست روئی سے چل رہی تھی
وہ سکا بی پی چیک کررہا تھا جو کے بہت ہائی تھا
اسنے اسے انجیکشن دیا اور اسکے منہ پانی کے چھینٹے مارے مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی
خان جی
سکینہ نے سر جکھائے اسے مخاطب ہوا
کیا ہے؟
وہ بی بی جی آپکو یاد کررہی ہیں
اسنے بوا کا کہا تھا
ولی نے اپنی دوست ڈاکٹر کو کال کرکے آنے کا کہا
اور خود بوا کی بات سننے چلاگیا
