Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 29)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

کیا گڑیا کہاں تھی یہ

ولی نے دعا سے پوچھتے ہوئے کہا

بھائی وہ مریم بھابھی میرے ساتھ تھیں

کیا مگر یہ تو باہر سے آرہی تھی

اف بھائی آپ میری پوری بات تو سن لیں

ہاں بولو ہم سن رہا ہے

بھائی

مریم میرے ساتھ باہر لان میں باتیں کررہی تھی

میں اداس تھی ناں تو مجھے سمجھارہی تھی

دعا نے سراسر جھوٹ بولا تھا

مریم اسے دیکھ کر حیران ہوئی

شاید یہ ولی کو نا بتاکر مجھ پر احسان کررہی ہے

مگر کیوں

وہ سوچ ہی سکی

اچھا تم سچ کہرہی ہو ناں

ولی نے اپنی بہن سے پوچھا

جی بھائی بھلا میں آپسے جھوٹ کیوں بولوں گی

دعا نے کہا

چلو اب تم سوجاؤ

ولی نے اسکے سر پر پیار کرتے کہا

اور تو ہمارے لیے گرم پانی کرکے لا

اسنے مریم سے کہا جو سر ہلا کر باہر نکل گئی

ولی نے گرم پانی میں ٹماٹر کا رس ڈال کر پی گیااور سونے کیلیے لیٹ گیا

مریم نے لائٹ آف کردی اور خود بھی لیٹ گئی

اسنے سوچا بھی نہیں تھا کبھی کے اس کے ساتھ ایسا جانوروں جیسا سلوک ہوگا

اسے گالیاں پڑیں گی مارا جائے گا

اسکا پورا جسم درد میں ڈوبا ہوا تھا

مگر وہ بے بس سی تھی

اس دن کے بعد کبھی بھی اسنے روکنے کی ہمت نا کی تھی

سوچتے سوچتے اسکی آنکھ لگ گئی اور وہ وہیں پر سوگئی

@@@

یہ تم کیا کہرہے ہو فیض

شاہینہ بیگم نے اس سے پوچھا

جی مام صحیح کہرہا ہوں

لیکن کل تو تمنے انکار کیا تھا

عثمان نے پوچھا

تو آج اقرار کرہا ہوں بھائی

یہ کیا بات ہوئی بھلا

کل تم خود انکے سامنے مریم سے محبت کا اظہار کرکے آئے ہو تو آج وہ کیسے تمہیں دعا کا رشتہ دے دیں گے

ان سب میں حسین صاحب پہلی بار بولے تھے

پاپا پلیز مان جائیں پلیز میرے لیے

اسنے منت کی

کیا وجہ پیش کرو گے تم کے ایک رات میں ہی تمہیں دعا سے شادی کرنے کی سوجھی

شاہینہ بیگم نے اسے ٹونڈ کی

ماما وجہ میں بتاتوں گا پلیز آپ چلیں

فیض تم پہلے تو ایسے نا تھے یہ رات میں تمہیں کیا ہوگیا

عثمان نے حیرت سے پوچھا

عثمان مجھے لگتا ہے کے یہ مریم سے ملا ہے

فوزیہ نے اپنا تکہ لگایا جو کے بلکل ہی سچ تھا

بھابھی آپ کو کیسے پتہ؟

وہ حیران ہوا

مطلب تم ملے تھے؟

فیض بھولو مت وہ میری بہن ہے میں جانتی ہوں اسے

اسنے ہی تمہیں مجبور کیا ہوگا شادی کیلیے

ہے ناں

جی بھابھی

چلو اب پوری بات بتاؤ شاباش

اور پھر اسنے انہیں مریم اور اپنے بیچ ہوئی ساری باتیں بتادیں تھیں

@@

بوا کا رویہ مریم کے ساتھ بہت برا تھا

انہیں رہ رہ کر اس پر غصہ آرہا تھا

مریم کی بھی طبیعت خراب ہورہی تھی

اسکی دوائیاں ختم ہونے والی تھیں

اور کل جو کچھ ہوا تھا اس کی وجہ سے اسکا بی پی بھی ہائی ہورہا تھا

مگر وہاں پرواہ کسے تھی

ناشتا کرنے کے بعد سب اپنے اپنے کام کرنے لگے اور بوا کے کہنے کے بعد گھر کی صفائی کے بعد وہ کچن کی کیبنیٹ صاف کررہی تھی

تبھی ملازم نے آکر کہا کے مہمان آئے ہیں انکیلیے پانی لینے آیا ہوں

کون مہمان ہیں مریم نے ڈبے صاف کرتے کہا

جی حسین صاحب اور انکا فیمیلی آیا ہے

اچھا

انکے ساتھ کون ہیں گھر سے

مریم نے ہاتھ دھوتے ہوئے پوچھا

انکے ساتھ چھوٹے خان جی اور علی خان ہیں

ملازم کہکر چلاگیا جب مریم انکے لیے کچھ بنانے لگی

بوا تک خبر پہنچ چکی تھی

بوا نے دروازہ کھولا ہی تھا کے سامنے بیٹھے لوگوں کو دیکھ کر حیران رہ گئیں

فیض نے ان سب کو منا لیا تھا اب وہ ولی سے باتیں کررہا تھا

سب خوشی خوشی چل رہا تھا

شاہینہ بیگم نے سارہ بیگم اور بوا سے بات کرلی تھی

دعا بہت خوش تھی

اسکے دل میسے مریم کیلیے خفگی مٹ گئی تھی

منگنی کی تاریخ تین دن بعد کی تھی

مریم انکے لیے چائے اور لوازمات لیکر جارہی تھی جب بوا نے اسے وہاں جانے سے منع کردیا اور مہمانوں کے سامنے آنے سے بھی تو مریم کچن کے باقی کام کرنے لگ گئی

وہ کام کر ہی رہی تھی جب علی کچن میں آیا

مریم نے اسے ایک نظر دیکھا اور پوچھا

کچھ چاہیے آپکو بھائی

علی نے نفی میں سر ہلایا اور فریج کھولنے لگا

علی اپنے لیے ملک شیک بنارہا تھا جب ولی کچن میں آیا

علی کیا کررہے ہو یہ سب؟

بس بھائی ویسے ہی آپ پیے گے

اسنے ولی سے پوچھا

جبکے وہ مریم کے پیچھے چلاگیا

اے تجھے نظر نہیں آرہا میرا بھائی کام کررہا ہے

اسنے اسے جنجھوڑا

وہ آلو کاٹ رہی تھی

جسکی وجہ سے اسکے ہاتھ پر بھی کٹ لگ گیا

خون کی بوندیں فرش پر گرنے لگیں

وہ مینے پوچھا تھا

چٹاخ

تیری اتنی اوقات نہیں ہے کے میرے سامنے کچھ بول سکے سمجھی

ولی نے اسے تھپڑ مارا

بھائی کچھ نہیں ہوتا اب آپ میرے لیے انہیں مت ماریں

اچھا مت ماروں ولی نے علی کی طرف دیکھا

جسکے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے

علی نے نفی میں سر ہلایا

جبکے ولی نے مریم کے زخمی ہاتھ کی پرواہ بھی نا کی اور اسے تھپڑوں مکوں سے مارنے لگ گیا

مریم صرف روئے جارہی تھی

علی نے ولی کو پیچھے ہٹایا تو وہ مریم سے بولا

دیکھ تیرے لیے تیرا یار اپنے بھائی سے لڑرہا ہے

اسنے اسے ٹھوکر مارتے کہا

مریم کو یہ گوارا نا تھا کے وہ اپنے کردار پر اسکی انگلی اٹھتے دیکھتی

بس کریں ولی

بس بہت ہوگیا

آپ آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں لیکن اپنے بھائی پر تو

اسکی بات بیچ میں ہی رہ گئی اور ولی نے ایک زوردار تمانچہ اسکے منہ پر دے مارا

مریم دور سلیب پر جا گری

بھائی

علی نے کہا

تیری اتنی ہمت مجھے جواب دیتی ہے مجھے

بھول گئی کیا کے تیرے باپ کے ساتھ کیا کیا تھا مینے

دوبارہ بلواؤں اسے

وہ اسے مارتے ہوئے کہہ رہا تھا

نہیں ولی ایسا مت کیجیے گا

مریم نے اسک پاوں پکڑلیے

علی سوچ رہا تھا کے یہ لڑکی تو اتنی بہادر تھی جو سانپ تک سے نا ڈرتی تھی کسی کی غلط بات برداشت نا کرتی تھی آج ایسے مار کھارہی ہے

علی اسے جتنا منع کرتا وہ اتنا ہی اسے مارتا

آوازیں سنکر فیض اور باقی سب بھی آگئے تھے

مریم جسکی طبیعت صبح سے خراب ہورہی تھی اب اسکے دل میں بری طرح تیسیں اٹھنے لگیں

ولی یہ کیا کررہے ہو تم

عثمان نے آگے بڑھ کر اسے پکڑتے کہا

اسے اسکی اوقات دیکھارہا ہوں عثمان

ولی نے اسے پیچھے دھکیلا

مریم کے منہ اور ناک سے خون بہرہا تھا

فوزیہ اسکی یہ حالت دیکھ کر آگے آنے لگی جبھی اسے مریم کی بات یاد آئی

بے اختیار ہی اسکی آنکھوں میں آنسوں آگئے

بھائی آپ مریم کو کیسے اتنا مار سکتے ہیں

آپ کو تو اسکا بہت خیال رکھنا چاہیے

آپ اسے ماررہے ہیں

یہ مار کے ہی لائق ہے

اور فیض یہ کونسا لولی لنگڑی ہے جو اسکا خیال رکھوں

لولی لنگڑی نہیں ہے لیکن دل کی مریض ہے مریم

اور آپ اسے ٹینشن دیے جارہے ہیں

بیوی ہے وہ آپکی

علی حیرت سے اسے دیکھنے لگا

جبکے ولی کا دماغ گھوم گیا

کیا

ولی کو یاد آیا کے ایک مرتبہ وہ گھر پر ہی دوائی لے آیا تھا

اگلے دن اس میسے دو ڈبیاں گم تھیں

تو کیا وہ مریم نے

اس سے آگے سوچا نہیں گیا

میں اس پر بنا بات کے اتنے ظلم کرتا رہا ہوں اور یہ برداشت کرتی آئی

اسدن جب بوا جی نے اسکے پیر جلائے تب رات کو یہ بے ہوش ہوگئی

شاید اسیلیے

وہ اسکا اب سامنا کرنا نہیں چاہتا تھا اسیلیے گھر سے نکل گیا

فوزیہ نے سہارے سے مریم کو اٹھایا اور باہر لے آئی

شاہینہ بیگم بھی افسردہ دکھائی دے رہیں تھیں

فوزیہ نے علی سے فرسٹ ایڈ باکس لانے کو کہا تو وہ جلدی سے لے آیا

فوزیہ اسکے زخموں پر مرہم لگارہی تھی اور رورہی تھی

آپی میں ٹھیک ہوں آپ فکر نا کریں

مریم نے دھیمی آواز میں کہا

فوزیہ نے اسے گلے سے لگالیا

بوا ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں

مریم نے اسے خود سے لگ کیا

کیونکے وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی اسیلیے

تب تک حسین صاحب نے بھی کہہ دیا کے گھر چلتے ہیں اور وہ گھر کیلیے نکل گئے سب سے ملکر

بوا نے انہیں آخر میں منگنی کا یاد دلادیا کے کہیں اس سب ڈرامے میں وہ کہیں بھول ہی نا گئے ہوں

وہ سب پرسوں آنے کا وعدہ کرکے چلے گئے

فیض نے ایک آخری نگاہ اسکے چہرے پر ڈالی جو بے رونق ہوچکا تھا

اس سے برداشت نا ہوا کے وہ تو ولی کو مارہی ڈالے

لیکن اس سب سے بات بڑھ سکتی تھی اسلیے اسنے جانے میں ہی عافیت جانی

@@@

ان کے جانے کے بعد بوا نے اسکی بہت کلاس لی اور مریم کو دو چار تھپڑ بھی لگادیے

وہ اور کچھ کرتیں اس سے پہلے ہی دعا نے انہیں بلالیا

بوا جی آپسے بات کرنی ہے مجھے

وہ بوا کو بلانے آئی اور بوا ایک سخت نظر اس پر ڈال کر دعا کا ساتھ چلی گئیں

سارہ بیگم نے مریم کو کمرے میں بٹھادیا تھا اور خود باہر چلیں گئیں

انکے جانے کی دیر تھی کے مریم پھوٹ پھوٹ کر رودی

یا میرے مولا مینے تو کبھی کسی کے ساتھ بلاوجہ برا نہیں کیا تھا پر میرے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے

میرے مولا رحم کر مجھپر میں اتنی زلت برداشت نہیں کرپاوں گی میرے مولا

وہ چہرہ ہاتھوں میں دیے اللّٰہ سے دعائیں مانگ رہی تھی جبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور ولی اندر داخل ہوا

مریم اسے دیکھ کر جلدی جلدی کھڑی ہونے لگی جبھی اسکا پیر پھسلا اور وہ گرنے لگی تھی کے ولی نے اسے تھام لیا

مریم کے جسم سے کرنٹ گزرا وہ جلدی سے پرے ہوئی جبکے ولی اسکی حالت سے محفوظ ہوا

آپ کیلیے کچھ لاوں

مریم وہاں سے جانا چاہتی تھی اسیلیے بولی

ہاں لادو

وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا

جی وہ کہکر جانے لگی جب اس نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا

جی

وہ سر جکھائے پوچھنے لگی

پوچھو گی نہیں کے ہمکو کیا چاہیے

وہ اسے اپنے سامنے کرتا بولا

جی بتادیں وہ اسی انداز میں بولی

کھانا لے آؤ کمرے میں

وہ کہکر باتھ روم میں گھس گیا

اور وہ کچن میں

دس منٹ بعد وہ کمرے میں آئی تو ولی ڈریسنگ کے سامنے بغیر کمیض کے کھڑا بال بنارہا تھا

مریم نے ناک کیا اور اسکی اجازت ملنے پر کھانےکی ٹرے رکھ دی

سنو

وہ جانے لگی تب وہ شیشے میں دیکھ کر بولا

جی

وہ سر جکھائے بولی

کہاں جارہی ہو؟

وہ آپ کیلیے چائے بنانے مریم نے جواب دیا

وہ چ رہی تھی کے آج وہ اتنے آرام سے کیوں س سے پیش آرہا ہے کہیں ڈیڈی کوئی نقصان

نہیں نہیں وہ ایسا نہیں کریں گے انہوں نے کہا تھا کے میری بات مانتی رہو تو تمہارے باپ کو کچ نہیں کہوں گا

میں تو اب تک انکی ہی مانتی آئی ہوں

وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب ولی اسکے قریب آگیا

کیا سوچ رہی ہو

وہ اسکا جائزہ لیتے ہوئے بولا

کچھ نہیں وہ آپنے روکا تھا

اسلیے کھڑی ہوں

مریم نے جکھے سر کے ساتھ ہی کہا

اچھا چلو میرے لیے کافی بنا کر لاؤ

اسکے کہنے کی دیر تھی کے وہ کمرے سے اس طرح غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ

ولی کھانا کھارہا تھا جب وہ کافی لیکر آگئی

ولی نے مگ پکڑتے ہوئے اسے دیکھا

تم نے کھانا کھالیا

مریم نے نفی میں سر ہلایا

کیوں

وہ آپ گھر پر کھانے کے وقت موجود نہیں تھے اسلیے

اور بوا جی نے کہا تھا کے مجھ سے بات نا کرو بس اسیلیے

وہ معصومیت سے بولی

اس بات کا کھانا نا کھانے سے کیا تعلق

وہ اپنی کہی بات ہی بھول گیا تھا

جی وہ آپنے کہا تھا کے میری اجازت کے بغیر کچھ مت کرنا

اسیلیے

اچھا تو اس دن گولیاں مجھ سے پوچھ کر لیں تھیں

اسنے طنز کیا

جی مریم نے سر جکھائے ہی کہا

کب پوچھا تھا تم نے

وہ س سے پوچھنے لگا

مینے پوچھا تھا کے دوائیاں لیلوں تو آپنے کہا دو ڈبیاں نکال لو اسلیے مینے نکال لیں

او پاگل مینے بوا جی کے شوگر کی دوائی کا کہا تھا

ولی یاد آنے پر بولا

سوری مجھے بلکل بھی نہیں پتا تھا کے آپ بوا جی کیلیے کہہ رہے ہیں

مریم نے ولی سے کہا

اور اب میں آپکو واپس بھی نہیں کرسکتی

وہ کیوں

ولی نے حیرانی سے پوچھا

جی وہ مینے کھالی ہیں بس دوچار رہتی ہیں

چلو کوئی نہیں

وہ کہکر کھانے کی طرف بڑھا جب مریم بولی

ولی کھانا ٹھنڈا ہوگیا ہوگا آپ رکیں میں گرم کر لاتی ہوں

مریم کہکر کھانا اٹھانے لگی جب وہ بولا

رہنے دو اتنا بھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے

جی اچھا

وہ کہکر کھڑی رہی

ولی کھانا کھانے لگ گیا

تمنے کھالیا ہے کھانا

وہ اسکی طرف بنا دیکھے ہی بولا

جی

جی نہیں کھایا

مریم نے اسکی طرف دیکھ کر کہا

کیوں

ولی نے نوالہ منہ میں رکھتے کہا

جی وہ آپ گھر پر نہیں تھے اسلیے

مریم کو اس پر بہت غصہ آرہا تھا مگر وہ اسے کچھ کہہ بھی نا سکتی تھی

میں کب سے تمہیں کھانا کھیلانے لگ گیا

ولی کا منہ کو جاتا ہاتھ رک گیا

وہ آپنے ہی تو کہا تھا کے

ہاں مجھے پتا ہے

لیکن تمہیں یہ بھی تو یاد رکھنا چاہیے کے تم دل کی مریض ہو

اپنے کھانے پینے پر دھیان دیا کرو

ویسے کتنا کھاتی ہو دن میں؟

مریم کا دل چاہا کے اسکا سر ہی پھاڑ دے اور کہے کے تیرا جوٹھا کھاتی ہوں کمینے انسان

اسکے منہ سے نکلا بھی تو بس یہی کے جو آپ بچاتے ہیں وہی کھاتی ہوں

اب ولی کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا

کیا اور اگر میں نہیں بچاتا تب

تب باسی روٹی پانی میں بگھو کر

مریم نے روہانسی کہا

اف تم سے کس نے کہا ایسا کرنے کو

اسے اپنے آپ پر شدید غصہ آرہا تھا

بوا جی نے

مریم نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا😐

اوکے کل سے تم ایسا نہیں کرو گی بلکے تم وہی کھاوگی جو سب کھاتے ہیں

بوا جی سے بات کرلونگا میں

اب فل حال تم یہ کھانا کھالو

تمہیں میڈیسنز بھی لینی ہیں

جی

مریم کہکر کھانے لگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *