Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 06,07)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

تم تم ہمارے گھر کیا کررہے ہو

اقا نے غصے سے پوچھا

ارے یہی سوال میں تمسے پوچھنے لگاتھا کے آپ میری خالہ کے گھر کیا کررہیں ہیں اسنے اسسے ہی الٹا سوال کرلیا

جبکہ آپ تو جہنم میں جانے لگی تھیں

اسنے شرارت سے کہا

جسپر مریم نے اسسے کہا کے ہاں جانے لگے تھے مگر سوچا کے پہلے آپکو پہنچا آئیں۔

توبہ توبہ لڑکی اتنی سی ہو اور اتنی بڑی باتیں کرتی ہو

اسنے کانوں کو ہاتھ لگاکر کہا

زبان ہی تو ہے ان کی اور کیا ہے انکے پاس

شریفاں بی بی نے طنز کیا

شکر ہے نانو ہماری زبان ہی ہے

آپکی طرح نی ہے

زبان چاہے جیسی ہو پر دل ہمارا صاف ہے

آپکی طرح نی ہے کہ

وہ اور بھی کچھ بولتی پر اقا نے کوہنی ماری

دادو یہ تو بس ایسے ہی کہہ رہی تھی

اقا نے کہا

اسسے اور آتا ہی کیا ہے بولنے کیلیے تو تیار رہتی ہے اپنی ماں کی طرح

انہون نے نفرت سے کہا

اقا انکو کہہ دو کہ میری مما و کچھ نا کہیں

اچھا نی ہوگا اور پچھلی باری کا تو یاد ہی ہوگا نا آپکو

وہ کہتے ساتھ ہی وہاں ے چلی گئی

اور وہ لڑکا انکا دوسرا روپ دیکھکے رہ گیا تبھی بانو آئیں

اقا مللی اپنے کزن سے؟

کونسا کزن ماما؟ اقا نے پوچھا

تمہاری خالہ کا بیٹا نعمان اور کون انہونے اسے اس لڑکے کی طرف اشارہ کرتے کہا

یہ کزن ہے میرا

اتنا بڑا

اقا نے حیرانی سے اسے دیکھا

ہاں یہ ثناء سے بھی ایک ماہ بڑا ہے انہونے بتایا

اوکے ماما میں چلتی ہوں

وہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی

مریم کو ڈھونڈنے

اور پیچھے سے شریفاں بی بی اپنی پوری کے تعریفوں کے پل باندھتی رہ گئیں۔

@@@

مریم تمہیں تو انکی عادت کا پتہ ہے پھر بھی اقا نے کہا

گندی عادتیں بدل لینی چاہیے

وقت سے پہلے ہی اسنے کہا

اچھا اب تم اپنا موڈ مت خراب کرو اور ہاں اب میری دادو کے بارے میں کچھ مت کہنا اوکے اقا نے کہا

پتا ہے مجھے کے تو انکی چمچی ہے

وہ دونوں ہنس دیں اور پیچھے سے آتا نعمان انکو دیکھنے لگ گیا

کیا ہیں یہ دونوں کبھی کچھ تو کبھی کچھ

وہ مسکراتا ہوا چل دیا

@@@

مما مما پھپھو مامی ہم لوگ کیسے لگرہے ہیں اقا اور مریم دونوں بھاگھتی ہوئ آیں

ماشاءاللّٰہ

آپ دونوں تو بہت پیاری لگرہیں ہیں

تینوں نے کہا

پھپھو ماموں آپکو

عتیق جو رضیہ بیگم کو بلانے آیا تھا مریم کو تیار دیکھ کر مبہوت سا رہ گیا تھا

آج وہ پہلی بار اتنا تیار ہوئی تھی اسپر گلابہی اور پیلے رنگ کی فراق پہت جچ رہی تھی

کیا ہوا بیٹا

رضیہ بیگم نے اسسے پوچھا وہ جانتیں تھیں کے اسکے دل میں کیا ہے پر انہیں یہ بھی پتہ تھا کے مریم انکی ماں کے ساتھ نی رہ پائے گی اسیلیے وہ بھی خاموش تھیں

کچھ نی وہ ماموں بلارہیں ہیں آپکو اسنے اک اور نظر اسے دیکھا تھا جو اقاق کو ٹیب پر کچھ دیکھارہی تھی

اسے دیکھکے پوچھنے لگی کے

عتیق بتاؤ ہم کیسے لگ رہیں ہیں

بہت ہی بری اسنے شرارت سے کہا

ہا

انکے منہ سکی بات پر کھلے کے کھلے رہ گئے

تیری تو

مریم اسکی طرف بڑھی پر وہ بھاگنے لگ گیا

ابھی پوچھتی ہوں تمہیں وہ کہتی جیسے ہی آگے بڑھی تو ایک لڑکے سے ٹکراگئی

اندھے ہو دیکھ کے نی چلسکتے

اسنے غصے سے اسے کہا

جو یک ٹک اسے ہی دیکھے جارہا تھا

ابے او کیا دیکھرہے ہو

اسنے اسسے پوچھا جو کب سے اسے دیکھی جارہا تھا

آ

کچھ نی میں دیکھ رہا ہوں کے میری خالہ اتنی چھوٹی کیسے ہوگئیں

اسنے تھوڑی پر ہاتھ رکھتے کہا

ارے بھائی آپ اقا نے اسے دیکھتے کہا

جانتی ہو اسے مریم نے پوچھا

ہاں یہ پھپھو صغرٰی کا بیٹا ہے کالو

ارے یہ کیسا نام ہوا مریم نے اسے دیکھتے کہا جو حیرت سے کبھی مریم تو کبھی اق کو دیکھ رہا تھا

نیگ یم ہے یار اقا نے بتایا

تم دونوں ایک جیسی کیوں ہو میرا مطلب کے ایک جیسی کیسے ہو اسنے حیرانی سے پوچھا

ارے بھای سمپل سی بات ہے میں اپنی مما پر گئی ہو اور یہ اپنی پھپھو پر مریم نے کہا

او اچھا اسنے کہا

آپ اکیلے ہی آے ہو کیا اقا نے پوچھا

نی میری چھوٹی بہن بھی آئی ہے ثناء

او تو وہ کہاں ہے انہوں نے پوچھا

تبھی جمیلہ بیگم نے انسے کہا کے مایوں شروع ہونے والی ہے

جلدی آجائیں

آے تائی امی اقا نے کہا

@@@@

ہر طرف لوگوں کا شور تھا سب اپنی باتوں میں مصروف تھے کیونکہ بڑوں نے تیل کی رسم کرلی تھی اور اقا نے تو سارا تیل ہی بھای مانی کے سر پر گرادیا تھا

جسسے بیچارہ کو اتنی ٹھنڈ میں نہانہ پڑا

پھپھو نلوگوں سے کہہ دیں کے سٹیج خالی کردیں

مریم ے اپنے سب کزنز کی طرف اشارہ کرتے ہوے جمیلہ بیگم سے کہا

چلوبھی اٹھو سب

بچیوں نیں ڈانس کرنا ہے انہونے سب سے کہا اور سٹیج خالی کرایا

سب لائیٹس آف کردی گئیں اور اقا اور مریم نے ڈانس شروع کردیا تھا

اٹھرہ برس کی کنواری لی تھی۔

گھونگٹ میں مکھڑا چھپا کے چلی تھی۔

وہ دونوں بہت اچھے سے سب سٹیپس کررہی تھیں

سب ان چھوٹی سی پریوں کو دیکھ رہے تھے

جب انکا ڈانس ختم ہوا تو عتیق نے کہا کہ تم لوگ کیسے اٹھراں برس کی کنواری کلی ہوگئے

اسنے شرارت سے کہا

سمپل میں آٹھ سال کی اور اقا دس سال کی ہے

تو ہوے ناں اٹھراں برس

مریم کے جواب پر عتیق عش عش کر اٹھا

چلو اب ہم ڈانس کریں اسنے کہا

تمہارے ساتھ جیسے تمنے اسکول فنکشن پر کیا تھا رہنے دو

مریم نے اسے یاد دلاتے ہوے کہا

نی اسبار اچھا کروں گا پلیز

اسنے کہا

پتہ نی اسکے لہجے میں کیا تھا کے اسے ماننہ ہی پڑا

اوکے

اور دونوں سٹیج پر آگئے سب انہیں دیکھ کر خوش تھے سوائے تین لوگوں کے ایک ثناء اور کالو اور انکی نانی

ثناء تو انہیں ساتھ دیکھ کر جل بھن ہی گئی

کیوں گگلی میں آکے ویٹ کرتا

حرکت ڈاون مارکیٹ کرتا

ارے دیکھوں جو ہٹا کے کھڑکی کا پردہ

اس بول پر وہ ناچ رہے تھے کے ثناء نے کوئ شیز سٹیج پر پہینکی جو کے مریم کے پاؤں کے نیچے آنے ہی والی تھی کے عتیق ے اسے دیکھ لیا

اور آگے بڑھا پر تبتک اسکا پاوں اوپر آہی گیا تھا اور وہ گرنے لگی

_______

وہ گرنے والی تھی کے عتیق نے اسے تھام لیا اور وہ اسکی بانہوں میں جھول گئی

وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

مریم کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا

ثناء پہلو بدل کر رہ گئی۔جبکہ شریفاں بیگم کی آنکھوں میں یہ ات بری طرح خٹکی

لو اب انسے یہی امید باقی رہ گئی تھی کے میرے پوتے کی باہوں میں جھول جائے انہوں نے نفرت سے کہا

اسنے خود کو سنبھالا اور کھڑی ہوگئی

وہ وہاں سے جانے لگی کہ عتیق نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک لیا

دادی میری ہونے والی منگیتر میری باہوں میں نا جھولے گی تو کسکی انہوں میں جھولے گی آپکی

اسنے شوخ نظروں سے مریم کو دیکھا جسکا چہرہ دھواں دھواں ہورہا تھا اور وہ پھٹی پھٹی

نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

تو دوسری طرف ثناء پر تو جیسے بجلی گرگئی تھی

تو ارشی نے دوبارہ میری بات نی مانی انہوںنے غصے سے ارشد صاحب کو دیکھا

ہاں تو کیا غلط کیا مینے اور پلیز امی آپ اسے اسطرح مت بولا کریں انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو تھا

ارشی

بانو بیگم نے نکا ہاتھ دبایا

نی آج نہیں ورنہ ہمیشہ یہ ایسے ہی کریں گی

انہوں نے ہاتھ چھوڑاتے ہوے کہا

لو اب یہ کمی رہ گئی تھی ابھی یہ منحوس گھر نی آئی اور میرے بیٹے کو مجھسے دور کردیا

انہوں نے ہاتھ نچاکر کہا

امی پلیز آپ اپنی ہرکتوں کی وجہ سے سب سے دور ہو رہی ہیں ناکے کسی کے آنے یا ناں آنے سے ارشی نے کہا

بس اسکی ماسی نے تمہارے بابا کو چھین لیا اور یہ تمہے مجھسے چھین لے گی انہوں نے روتے ہوے کہا

مریم سے اور برداشت نا ہوسکا تو وہ وہاں سے چلی گئی

بس خوش ہو گی آپ

عتیق نے انسے کہا اور اسکے پہیچھے چلا گیا

لو بھئی اب مینے کیا کہہ دیا انہوں نے اسے جاتے یکھ کر کہا

@@@@

مریم رکو میری بات سنو

مجھے کچھ نی سننا

اسنے بغیر مڑے کہا

سنو تو سہی اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کے کہا

کیا سنوں ہاں بتاو مجھے

تمہاری ہمت کیسے ہوئ سبکے سامنے بکواس کرنے کی ہاں اسنے اسکا ہاتھ جھتکتے ہوے کہا

کیا بکواس کی مینے بتاو گی اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھتے شرارت سے کہا

یہی کے تمہاری منگنی مجھ سے ہورہی ہے جبکہ یہ جھوٹ ہے

اسنے بھی اسکی آنکھوں میں دیکھتے کہا تھا

اف لڑکی یہ سچ ہے

پاپا پھپھو سے ہمارے رشتے کی بات کرچکے ہیں اسنے اسے بتایا

اچھا

پر یہ ضروری تو نی ہے کہ ہمارا رشتہ ہو

اسنے بھی اسی کے انداز سے کہا

کیا مطلب میں سمجھا نی

ارے سیدھی سی بات ہے میں اتنی دور رہنے آنیسکتی اور تم گھر داماد بننے سے رہے اسنے کہا

اوہو ابھی منگنی بھی نی ہوئی اور تمنے مجھے اپنا شوہر تسلیم کر لیا

اسنے شرمانے کی ناکام ایکٹنگ کی

جسپر مریم کی ہنسی نکل گئی اور اسنے دعا کی کے اسکی ہنسی کبھی نا تھمے

پر گزرتے وقت نے کہا کے تمہی اسکے آنسووں کی وجہ بنو گے

لو اب مینے ایسا بھی نی کہا

وہ کہہ کر چلی گئی

@ @ @

السلام و عليكم

محترمہ

کیا حال ہیں آپ کے؟

نعمان نے تیار ہوتی اقصٰی سے کہا جو اسکے بولنے سے ڈر کر مڑی

توبہ ہے تم یہاں بھی

اسنے کہا

اف میڈم انسان ہی ہوں گبھرا کیوں رہی ہو

ویسے مینے کچھ کہا تھا

وعليكم و السلام

میں ٹھیک ہوں!

اسنے جلدی سے کہا اسکے انداز سے صاف ظاہر تھا کے اب نومی سے بات نی کرے گی

ارے رے آپ تو ہم سے جان ہی چھوڑانے لگ گئی

اسنے شرارت سے کہا

اے توں کی میرے پچھے ای پیگیاں واں

پراں دفعہ ہو کھسماں نوں کھانا توں میرا کی ماما لگداں ایں جیڑا تیرے نال گل کراں

کھچر جیا

اقا کیا ہوگیا ہے اور تم یہاں کیا کررہے ہو مریم نے پہلے اقا پھر نومی سے پوچھا

بس جی انسے بات کرنے آیا تھا پر انکے مزاج ہی نی ملتے

وہ کہہ کر رکا نی بلکہ دوڑ گیا گویا پھر سے اقا کچھ کہہ نا دے

چلو اب ہم لڈی کھیلتے ہیں مریم نے کہا

اور وہ دونوں نیچے آگئیں

@@

چھلکا چھلکارے کلسی کا پانی

چھلکا چھلکارے او

آنکھ ناں مانی

اندونوں نے توح چار چاند ہی لگادیے تھے دونوں ہی بہت اچھی لگ رہیں تھیں

گودی میں کھیلائیں سکھیاں سکھیاں

ننا منا للا لائی یوں

وہ دونوں اب ایک دوسرے کی بانہوں میں باہیں ڈالے گھوم رہی تھیں

اسکے بعد مریم نے اور اقا نے ملکر

تال سے تال ملا

گانے پر کلاسیکل ڈانس کیا

@@@

آج بھائی عمران کی ولیمہ کی تقریب تھی

پوری شادی ی اچھے سے گئی

جہاں کچھ تلخ باتیں تھیں وہیں پر کچھ میٹھی یادیں بھی تھیں

عاشق صاحب اور ارشد صاحب نے فیصلہ کیا تھا کے اگلے دن انچاروں کی بھی منگنی کردی جاے

وہ تو صرف مریم اور عتیق کی چاہتے تھے مگر سراج انکل(نومی کا باپ) اور شریفاں بی بی کے کہنے پر انہوں نے اقصٰی اور نعمان کی بھی کردی تھی

اقا ایک بات پوچھوں نومی نے اسے پیار سے دیکھتے کہا

اسنے شرماتے ہوے کہا پوچھ لیں

وہ اسکی بات پر صدقے واری ہوجاتا اگر اگلی بات نا سنتا تو

کونسا میرے کہنے سے تمنے نی پوچھنا

اب منہ کھول ہی لیا ہے پھوٹ بھی لو

اسنے بے زاری سے کہا

وہ تلملا کر رہ گیا پر پھر بھی ہمت نا ہاری اور پیار سے کہنے لگا کہ

اقا سچ سچ بتانا کہ تمہیں میری آنکھوں میں نظر آتا ہے

ڈیلا ہے اور کیا ہونا ے سنے اسکی طرف دیکھ کر کہا

ارے جذبات سے عاری لڑکی جذبات دیکھوناں میری آنکھوں میں اسنے اسکا رخ اپنی طرف موڑ کر کرکہا

سچ کہنا ہے

اسنے کہا

ہاں

اسنے سر ہلایا

تمہاری آنکھوں میں مجھے زلالت.کمینگی۰فلرٹ پن اور بے غیرتی نِظر آتی

وہ کہہ کر بھاگ

گئی

تمہیں تو دیکھ لوں گا وہ اپنی اس تعریف سے تلملا کر رہ گیا

اچھے سے اسنے پلر کی اوٹ سے کہا اور قہقہہ لگاتی چلی گی

وہ مسکرادیا

@@@@@

مما بابا

مریم زور سے انک گلے لگ گئی

وہ جو چاے کے ساتھ انصاف کررہے تھے اس اچانک کے افتاد پر بوکھلا کر رہ گئے

ارے کیا وا شانی آپ بہت خوش لگرہے ہو

ارشد اور عاشق صاحب نے کہا

ماموں بابا اور مما

مس فاریہ کی کال آئی ھی آپکو پتہ ہے انہوں نے کیا کہا

یار ہمیں کیسے پتہ اب عتیق اں چپرہنے والا تھا آخر بول ہی پڑا

کیا کہا مس نے؟رضیہ بیگم نے پوچھا

مما اب جو ہمارے ایگزامز ہوے تھے اسکا رزلٹ آیا تھا ناں و ہمکو G N B والوں نیں سلیکٹ کرلیا ہے

فردھر ٹریننگ کیلیے

دو یا تین سال کیلیے مجھے G N B

جانا ہوگا

پر بچے وہ تو آپ یہاں بھی ٹریننگ کرہیرہے ھے ناں

عاشق صاحب نے کہا

پر بابا وہاں اسسے زیادہ اچھے سے کروائیں گے اور پتہ ہے آپکو کہ وہاں جو آرمی کا اسکول ہے ناں اسی میں ہمکو بھی ٹرینگ کرایں گے

پر رہ گی کہاں؟عتیق نے پوچھا

بدھو ہاسٹل میں اور کہان

پر اکیلی کیسے رہو گی

بابا میں رہلوں گی

آخر تھوڑی سی بحس پر سب مان گئے تھے سواے عتیق کے

@@@

میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گا

اسنے کہا

تمتو ایسے کہہ رہے ہو جیسے میں مرنے جارہی ہوں

مریم نے تپ کر ہا

پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ ایک ہی سوال پوچھے جارہا تھا اب وہ تاگئی تھی

ٹانگیں توڑ دونگا گر دوبارہ ایسے کہا تو

اسنے بھی غصے سے کہا

اور میں منگنی توڑ دوں گی اگر تمنے میری بات نا مانی

اور دور وقت انکو دیکھ کر مسکرایا اور کہنے لگا مجھے آنے تو دو سب کی خاہشیں پوری کردوں گا

Episode 7

آج اسے گھر سے آے ایک سال سے اوپر ہوگیا تھا

گھر سے بار بار کال آرہی تھی کے کب تک آو گی مگر اب وہ بھی تنگ آگئی تھی سبکی باتوں کا جواب دیتے دیتے

اسلیے اسنے کہہ دیا تھا کہ وہ لوگ چلے جائیں اسنے جب آنا ہوگا آجائے گی

عاشق صاحب نے کہا کءے ٹھیک ہے جب آنا ہوتو بتا دینا

دراصل وہ گھر جانا ی چاہتی تھی۔ اسے رہ رہ ر عتیق کی باتیں یاد آرہی تھیں

وہ بھی کیا کرتی اسنے کونسا اسسے محبت کے دعوے کیے تھے جو ثناء کی باتیں ے پریشان کرنے لگیں

@@

مریم یار تمنے بتایا گھر کے ہم آرہے ہیں فلورہ نے اسسے پوچھا جو مسلسل کھڑکی کو گھورے جارہی تھی

ہاں بتادیا ہے اسنے کہہ کر اپنا بیگ اٹھاکر بند کرنے لگی

اچھا میں سمجھی کے پچھلی بارکی طرح اسبار بھی تم سر پرائز دینے کا سوچ رہی ہوگی

اسنے مسکراکر کہا

جبکہ مریم صرف اسے دیکھ کر ہی رہ گئی

اسے آج ھی وہ دن یاد تھا جب وہ دونوں اپنے گھر کے دروازہ پر پہنچیں تھیں پر قسمت اچھی تھی یا بری کے دروازہ کھلا ہوا تھا اور اسنے دیکھا کہ عتیق اسکی کزن ثناء کے ہاتھ پر دواء لگاریہا تھا

اسے شاید بہت درد ہورہا تھا کہ وہ اسسے لپٹ گئی

بس یہی بات مریم سے برداشت نا ہوسکی کے وہ مڑنے ہی والی تھی کہ ثناء نے اسے پکار لیا

ارےمریم تم کب آئی؟

اسنے مسکرا کر پوچھا

بس ابھی

وہ کہہ کر کمرے میں چلی گئی بغیر کسی کی طرف دیکھے

مریم تمنے مجھسے بات ہی نی کیعتیق بھی اسکے پیچھے ہی چلا آیا

لگتا ہے زیادہ ہی تھک گئی ہو

ہاں تھک گئی ہوں اور ہاں جاتے وقت دروازہ بند کرتے جانا اسنے کہہ کر تکیہ سیدھا کرکے لیٹ گئی

مجھسے بات تو کرو کوئی میں تمہارہ انتظار کرتا رہا کہ تم جب آوگی تو ہم بہت سی باتیں کریں گے

اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا

اچھا کیوں اسسے دل بھرگیا

جسسے میرے آنے سے پہلے باتیں کررہے تھے مریم نے اسکا ہاتھ پیچھے کرتے کہا

اب جاو مجھے نیند آرہی ہے

اسنے کہہ کر کمبل اوڑھنے کیلیے اٹھا لیا

عتیق بس دیکھکر ہی رہ گیا

اسسے پہلے کے وہ کچھ کہتا ثناء آگئی

تم یہاں کیا ررہے ہو تم نے جو میرے لیے سینڈوچز بناے ہیں وہ تو لادو

اسنے میرے پر کافی زور دے کر کہا

مریم اسے دیکھ کر طنزیہ ہنسی

جاو اب تمہاری کزن تمہارا ویٹ کررہی اسنے کہہ کر کمبل اوڑھ لیا کے کوئی سکے آنسوں نا دیکھ لے

پر اسکے بعد مریم کی اسسے کوئی بات نا ہوئ اور نا ہی ثناء نے انکو کوئی موقع دیا

مریم ھی تین دن بعد ہی واپس آگئی یہ کہہ کرکے اسکی کوئی بک رہ گئی تھی

کیا ہوا کیا سوچنے لگی فلورہ نے پوچھا

کچھ نی یار بس ایسے ہی

ہمہم

مجھے پتہ ہے جیجو کو مس کررہی ہو ناں

وہ اسے چڑانے کیلیے عتیق کو جیجو کہتی تھی

فلورہ پلیز

اسنے اکتا کر کہا

میرے ساتھ فضول باتیں مت کرو تم جانتی ہو ناں پھر بھی

شانی ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کے تم جیسا سوچ رہی ہو ایسا نا ہو اسنے کہا

میں کچھ نی سوچ رہی اب

وہ اسکی کزن ہے تو باتیں کرے یا شادی مجھے کوئی فرق نی پڑتا

یار ہ تمہاری بھی تو کزن ہے اور ویسے بھی وہ تمسے پیار کرتا ہے اور تم ہوکے

میں نی مانتی کہ ہ ایسا ہے پر تمنے ثناء کو تو دیکھا ہی ہے نا پھر تم

چلو چھوڑو کیب کا وقت ہو گیا ہے چلتیں ہیں اب

اور وہ دونوں گھر کیلے نکل آئیں

@@@

ارے تملوگوں کی فیملی تو مری گئی ہوئ ہے اور تم لوگ اب آئ ہو ساتھ والی پڑوسن نے انکو دیکھتے کہا

کیا مطلب آنٹی میری فیملی بھی وہ تو فلورہ کی جارہی تھی نا

مریم ے پوچھا

پر مجھے نی پتہ اور چابی بھی ی دی انلوگوں نے اب تم کہاں رہوگی

اتنے میں فاریہ آجاتی ہے انسے ملکے کہتی ہے کہ انکل نے تمہاری ٹکٹ اور پیسے وغیرہ مجھے دےدیے ہیں میں بھی اکیلی ہی ہوں

کیا مطلب ہم اکیلے جائیں گے کیا

فلورہ ے حیرانی سے پوچھا

کیوں اکیلے نی جاسکتے کیا

مریم ے ٹکٹ دیکھتے کہا

پر

پر ور کو گولی مارو اور فریش ہوکر سوجاؤ اور ہاں چار بجے تک تیار ہوجانا کیونکہ چھ بجے زکریا نے آنا ہے سو لیٹ مت ہونا

وہ کہہ کر واش روم یں گھس گئی اور فاریہ انکیلیے کھانا منگوانے لگی

@@@

یار مہرے بابا کیسے تمہے اکیلے بھیج دیتے ہیں جبکے میری مما تو اکیلے کے نام سے ہی گبھرا جاتی ہیں

وہ اسلیے کے میرے ڈیڈ کو پتا ہے کے میں انکا فوجی بیٹا ہوں

وہ سب ہی مسکرادیں

@@

ارے بچے آپلوگ کہاں تک پہنچے

عاشق صاحب نے کوئ دس مرتبہ پوچھ چکے تھے

آپکے پیجھے بابا

مریم نے کال کاٹ کرکہا

ارے میرا بچہ کیسا ہے انہوں نے اسسے ملتے ہوے کہا

اور ان دونوں کے سرپر بھی پیار دیا

تملوگ اکیلی آئی ہو

عتیق نے پوچھا

تمہیں تنا نی پتہ کے تین لوگ اکیلے نی ہوتے اور ہاں تمہاری کزن چلی گئی مریم نے لٹھ مار انداز سے جواب دیتے ہوے سوال کیا

ارے انکل آپ تو کھلتے بھی ہو فاریہ نے فلورہ کے پاپا سے کہا جو کہ اب پیرالائیزد ہوچکے تھے

جی بچے کبھی کبھی شوق پورا کرلیتا ہوں

انکی ٹانگیں اسی حادثے میں گئیں تھی جسمیں فاریہ کے پاپا اوا مما شہید ہوے تھے دشمنوں کو کوشش کو ناکام بناتے ہوے

وہ سب ایک دوسرے ے ہنسی مذاق کررہے تبھی انپر کسی کی نظر پڑی

ارے وہ دیکھ وہ کیپٹن عاشق علی ہی ہے ناں

ان یسے کسی ک نے کہا

لگ تو وہی رہا ہے اور وہ دیکھ وہ وہی لڑکیاں ہیں ناں جنہوں نے ہمارا فارمولا برباد کرکے اور پین ڈرائیو فوجیوں کو دیدی تھی ناں

پر وہ اس کیپٹن کے ساتھ کیا کررہی ہیں؟

شاید اسکی بیٹیاں ہوں اگر ایسا ہے تو ہمارے دو دو بدلے ایک ساتھ پورے ہونگے تک عاشق صاحب مریم اور فاریہ سڑک کے پار والی شاپ کی طرف بڑھ گئیں

اسے اچھا موقع نی ملے گا

وہ مکروواع ہنسی ہنستی ائیک کو ریس دیتے ہوے اپنے ساتھی کو آواز دیتے ہوے بولا

انکا ٹارگٹ پہلے کیپٹن تھا پھر مریم

اسنے عاشق صاحب کی طرف بائیک مارنے کیلیے بڑھائی تو مریم کی نظر اس تک پہنچ گئی تھی

اسنے جلدی سے انہیں پیچھے کردیا

وہ آدمی توزن برقرار نا رکھ پایا اور گرگیا

تیری تو آصف نے آگے بڑھ کر اسے گریباں سے پکڑ کر مارا

مریم نے پاس پڑی برف کی سیل اٹھاکر اسکے منہ پر دے ماری پر دوسرا بائیک سوار نے پھر انپر حملہ کیا پر اس وقت نشانے پر مریم تھی اسنے سمجھا ے یہ پھر اسکے بابا کو تکلیف دینے والا ہے اسلیے سنے اسپر چھلانگ لگانی چاہی پر اسنے اسنک ٹانگوں میں موٹر سائیکل مارا جسسے وہ دور جاگری اسے گرتے دیکھ کر اسنے دی سے چاقو نکالا اور جاتا جاتا عاشق صاحب کے پیٹ یں مارگیا ٹھیک اسی نشانے پر جہاں سکے ساتھی نے دو سال پہلے انہیں گولی ماری تھی

رضیہ بیگم نے بلند چیخ ماری جسکی جہ سے آصف کی گرفت اسسے ڈھیلی پڑی اور اسکا ساتھی اسے لیگیا

کیا ہوا امی

اسنے پریشانی سے پوچھا

تمہارے بابا اور بہن کو وہ مار گیا ہے

ان سب نے ملکر عاشق صاحب کو اٹھایا پر مریم دور گری تھی اسلیے عتیق اور فلورہ کے بھائی نے اسے ڈھونڈ کر لے آئے اسکے سارے کپڑے خونم خون ہوگے تھے

شانی ش ش شااان ن نی عاشق صاحب کہتی کہتے بے ہوش ہوگئے

اور انہون نے ان دونوں کو گاڑی میں لیٹا کر ہسپتال لے گئی

________

ارے انکو کیا ہوا ہے ڈاکٹر نے کہا

انہیں کسی نے چاقو مار دیا ہے آصف نے کہا

پھر تو یہ پولیس کیس ہے آپ پولیس کو انفارم کردیں ڈاکٹر نے کہا

سر میرے پا پا خودہی کیپٹن ہیں

اچھا ٹھیک ہے سسٹر آپ او ٹی کی تیاری کریں اور آپ ریسیپشن پر فارم جمع کرادیں

ڈاکٹر کہہ کر عاشق صاحب کا معائنہ کرنے لگ گیا تب تک عتیق اور صغدر بھائی مریم کو بھی لے کر آگئے

OH MY ALLAHاب انکو کیا ہوا؟

انکا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے یہ بھی انہی کے ساتھ تھیں

آصف نے کہا

اچھا اللّٰہ بہتر کرے گا

آپ دعا کیجیے

@@@@@

مبارک ہو اوپریشن کامیاب رہا پر بچی کی ٹانگ اور پاوں پر کافی فریکچرز آئیں ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ چل نا پاے اور اب

کیپٹن صاحب تو خطرے سے باہر ہیں اب تک انہیں ہوش آجانا چاہیے اور

ڈاکٹر کچھ اور کہتا اسسے پہلے نرس نے آکے کہا کہ مریض کو ہوش آگیا ہے

ڈاکٹر چیک اپ کرنے چلا گیا اور جلدی باہر آکر کہا شانی کونہے آپ میسے

وہ بار بار اسے یاد کررہے ہیں تو شانی جو بھی ہے وہ ان سے ملسکتا ہے

ڈاکٹر صاحب شانی ہماری وہی بیٹی ہے

رضیہ بیگم اور اشفاق احمد نے کہا

اچھا پر وہ تو لڑکی ہے پھر

سر وہ مریم کو پیار سے ہمسب شانی کہتے ہیں

فاریہ نے ڈاکٹر کی کنفیوزن کو کم کرنے کیلیے کہا

اچھی بات ہے

وہ کہہ کر مریم والی واڈ یں چلے گئے

لو جی آپکی شانی کو ھی ہوش آگیا ہے نرس نے مسکرا کر انہیں بتایا

اللّٰہ تیرا شکر ہے سب نے بیک وقت کہا

@@@

شانی جی آپ بہت خوشقسمت ہیں کے آپکی فیمیلی آپسے بہت پیار کرتی ہے

ڈاکٹر نے اسکی لات کا معائنہ کرتے ہوے کہا

وہ تو ہے پر سر آپنے بتایا نی کے میری ٹانگ کبتک ٹھیک ہوجائے گی

آج یک ہفتہ ہوگیا ہے درد بجی بڑھتا ہی رہا ہے اور میری پریکٹس بھی ضائع جارہی ہے

کیسی پریکٹس؟

وہ مجھے آرمی میں جانے کا شوق ہے ناں اسلیے ابھی سے ہی ٹرین کررہی ہوں خود کو

اسنے فخر سے کہا

ڈاکٹر ابراہیم کا دل چاہا کے اس بچی کے حوصلہ اور عظمت کو سلام پیش کرے پر اب اسکو بتانا بھی ضروری تھا

عاشق صاحب نے پوچھا

کچھ نی ڈیڈ بس جوس ہی پلادیں گنے کا

اسنے کہا

آپنے بتایا نی سر اسنے دوبرہ ابراہیم کی طرف دیکھکے کہا

بیٹا آپکی ٹانگ فریکچر ہوگئی ہے کافی جسکی وجہ سے اب آپ اس پر اب زیادہ کام نی کراسکتے اب آپ زیادہ تو کیا تھوڑا بہت ہی چل پائیں گے

پر یہ آپ پر منہسر ہے کے آپ کبتک ٹھیک ہونے کی کوشش رتے ہیں

اسنے اسکا اترا چہرہ دیکھکے کہا

بی برئیو بچے

اسلیے میں سوچرہی تھی کے معمولی سا تو ایکسیڈینٹ ہوا ہے پھر بھ میری ٹانگ ہل نی رہی اب پتا چلا

اسے بہت صدمہ ہوا تھا پر اسنے اپنے آپکو ارمل ظاہر کرنے کیلیے مسکرا کر کہا

صدمہ تو ہوتا ہی ہے ناں جب آپ ایک چیز کو حاصل کرنے کیلیے اتنی محنت کرو نا دن دیکھو ناں رات اور وہی چیز آپسے قسمت چھین کے لے جاے تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ ایسی حالت ہی مریم کی تھی

پر پھر بھی وہ مضبوط ثابت کررہی تھی خودکو

عتیق تو اسکے معمولی کہنے عش عش کر اٹھا

پر بابا اب تو میں آرمی میں نی جاسکتی ناں

اسنے انکی طرف دیکھکے کہا

ارے کیوں نی جاسکتی جیسے ہی آپکا پاؤں ٹھیک ہوجاے گا آپ پھر سے کام کرسکوگے

انہوں نے اسے تسلی دی مگر جانتے تھے کے ایسا کچھ نی ہونے والا

صدقے تمہارے اتنا بڑا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور تم ہو کے معمولی کہہ رہی ہو

اسنے آنکھیں پھاڑ کر کہا

ارے میں مریم ہوں اور میرا برج شیر ہے شیر جیسی ہمت تو ہوگی نا مجھمیں اور تمہاری طرح کے معمولی سی بات پر واویلہ شروع کردیتے ہو اسنے اسکے دروازے میں انگلی آنے پر دو دن تک رو رو کرنے پر چوٹ کی سب انکی باتوں پر ہنس رہے ے اور یہی تو وہ چاہتی تھی کے اسکے اپنے ہمیشہ خوش رہیں

@@@

مریم,رضیہ کہاں ہیں آپلوگ

عاشق صاحب نے دروازے سے اندر آتے ہی کہا

یہی ہیں اور کہاں ہونگے وہ جو مریم کے پیر پر پٹی کررہی تھیں وہیں سے بولی

اچھا یگم آپ لوگ تیری شروع کرلیں ہمیں پنجاب جانا پڑے گا

اوپر سے آرڈر ہے

کیوں بابا ہم کیوں جایں گے

مریم ے پوچھا

بچے آفیسر کا کہنا ہے کہ جو ہم پر حملہ ہوا ہے وہ دوبارہ بھی ہوسکتا ہے اسلیے ہمیں یہاں سے کہیں اور شفٹ ہوجانا چاہیے

اور پنجاب ہی بہتر ہے

میں بھی اپنا کام کرتا رہوں گا اور آپ بھی سکون سے رہ پاو گے

پر بابا ہم ہمت ہار کے جاتو نی سکتے پر اگر گورنمنٹ نے کہہ ہی یا ہے تو مان ہی لیتے ہیں

اسنے کہہدیا پر بابا ہم جائیں گے کہاں

پھر اسسے اگلی بات جو عاشق صاحب نے کہی اسسے ان دونوں کو ہی غصہ آگیا

_______

#لو_میں_ہار_گی

#مریم_بی_بی

EPISODE 18

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں رضیہ بیگم نے کہا

ہاں بابا وہاں رہنے سے بہتر ہے کے میں یہیں رہ جاوں

مریم نے ناگواری سے کہا

آخر آپلوگوں کو مسئلہ کیا ہے میری پھپھو بے چاری سے

عاشق صاحب نے بیچارے پر زور دہتے کہا

بیچاری NOT FEAR DADY

اگر وہ بیچاری ہیں تو بھارت نے تو ہمیں کچھ کہا ہی نی ہے پھر اسنے ناک چڑھا کر کہا

دیکھلیں بیگم اپنی نانی کو کیا کہہرہی ہیں انہوں نے اسے کیا کہا ہے غلطی ہوتو بندہ کہتا ہی ہے ناں اگر کلکو میں انہیں کچھ کہوں گا تو کیا شانی میرے لیے بھی ایسے الفاظ استعمال کرو گے انہوں نے صدمے سے کہا آخر انہیں کہاں گوارا تھا کے انکی جان سے پیاری پھپھی+ ساس کو کوئی کچھ کہہدے اسلیے بول دیے

ٹھیک کہا آپنے

مریم نے ماں کو دیکھا اسے لگا کے انہوں نے بھی پارٹی بدل لی ہے

ہاں اور کیا انہیں لگتا ہے کے کمریم کے دل کی بات سمجھ آگئی تھی اسیلیے اسے دیکھ کر کہا

اگر غلطی ہو تو ڈانٹنا پبنتا ہے پر وہ تو میری بچی کے پیچھے ہی پڑ جاتیں ہے خواہ اسنے کچھ کیا ہو یا ناں کیا ہو

انکی بات پر مریم نے سکھ کا سانس لیا پارٹی اپنی ہی جگہ پر ہے

جبکہ دوسری طرف عاشق صاحب جو تھوڑے مطمئن ہوے تھے گڑبڑاگئے اور سارا اطمینان دھرا کا دھرا رہ گیا

اگر جانا ہی ہے تو چند ماہ انکے ساتھ رہلیں گے ارشی نے بھی کہہ دیا ہے

بس ہم نی جائیں گے انکے گھر رہنے آپکو تو کچھ نی کہتی ناں

اسلیے اتنی طرفداری کررہیں ہیں

کرائے پر رہ لیں گے جبتک اپنا گھر نا بن جائے

انہوں نے حتمی فیصلہ سنادیا

جیسے آپکی مرضی

عاشق صاحب نے بجھے دل سے کہا

@@@@@

انہیں پنجاب آئے اب دوسرا مہینہ تھا

انہیں گھر بھی عاشق صاحب کے یونی فیلو نے ہی کرائے پر لے دیا تھا

گھر چونکہ دوسری منزل پر تھا اور لفٹ بھی ا تھی اسسیلیے مریم تو گھر کر ہی ہوکر رہ گئی

ابھی بھی اسکی ٹانگ ٹھیک سے کام نئی کررہی تھی اوپر سے درد بھی کافی رہتا تھا پر اسنے برداشت کی پوری کوشش کی تھی

ڈاکٹر نے اسے جوس اور ابلے چاول ہی کھانے کیلیے کہا تھا کیونکہ یہ ہلکی پھلکی غذا تھی

یہ ڈاکٹر کا ماننا تھا مگر مریم پر تو یہ بہت بھاری ثابت ہورہی تھی اسکا جسم دنبدن پھولتا جارہا تھا

اسنے کبھی بھی اتنا پھیکا نا کھایا تھا اسلیے اسے زیادہ کھایا نا جاتا تھا تو اندر سے کمزوری کا احساس تھا

اقا پانی تو پلوادو اور اس جیا کو تو چپ کرادو

اسنے بےزاری سے کہا جو کبسے روے جارہی تھی

اسے لگتا ہے بھوک لگی ہے اقا نے کہا

تمہے زیادہ پتہ ہے اگر اسے بھوک لگی ہے تو کھانا نکال کر کھالے میرا دماغ کیوں کھارہی ہے

اسنے اسکو دیکھتے ہوے اقا سے کہا ایک نظر اسے دیکھکے اسنے منہ پرے کرلیا تھا

اسے وہ ذرا بھی اچھی نی لگتی تھی

پر سب کہتے تھے کے وہ مریم کے جیسی لگتی ہے تھوڑی تھوڑی

مریم تھوڑا تو خدا کا خوف کرو اتنی چھوٹی ہے وہ اور تم کہہ رہی ہو کے وہ خود جاکے کھالے

کمال ہے تمہارا

اقا نے اسے جھڑکا

اچھا تو اسمیں بھی میری غلطی کے یہ چھوٹی ہے مریم نے غصے سے کہا

یار تمہیں کیا ہوگیا ہے پہلے تو تم ایسی نی تھی اقا نے اسسے کہا

اچھا پہلے یہ بھی نی تھی اور ردا خالہ تھیں

پر اسنے مجھسے نہیں چھین لیا پر ب مجھے پتہ ہے کے چاچو اورخالہ کے جانے میں بھی اللّٰہ ہی کی کوی مصلیحت ہوگی

اسلیے وہ اسے ہمارے پاس چھوڑ گئے

مریم نے افسردگی سے کہا جبسے ردا بیگم فوت ہوی تھیں تبسے مریم نارمل نا ہوسکی تھی وہ اس ننھی سی ایک ماہ سے بھی کم عمر بچی کو قسور وار سمجھتی تھی

جسے پیدا کرتے وقت ردا بیگم وفات پا گئیں تھیں

پر اب اسے پتہ چلگیا تھا کے جو ہوتا ہے اسی کی رضا سے ہی ہوتا ہے

اگر سنے اپنی پیاری خالہ وئی ھی تو اس معصوم نے بھی تو اپنی ماں کھوئی تھی

اسلیے اب اسنے فیصلہ کرلیا تھا کے وہ اپنے دلمیں

کوئی بھی خلش نا رکھے گی

@@@@

مما لائیں اسے مجھے دے دیں اور آپ چلی جائیں

رضیہ بیگم نے پہلے اسے حیرت سے دیکھا پھر مسکرا کر جیا کو اسے دےدیا

وہ بہت خوش تھیں کے چلو آج مریم نے اسے اٹھا ہی لیا

فجیہہ پہلے تو اسکا انجان لمس محسوس کرکے رونے لگی پر جب مریم نے اسے تھپکی دی اور سیٹی بجائی تو وہ چپ ہوگئی ور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی

وہ اس پہچاننے کی کوشش کررہی تھی جبھی مریم نے کہا کے جیا میں تمہاری آپی ہوں

اب م میرے ساتھ رہوگی ٹھیک ہے ناں

جیا کو کیا خاک سمجھ آنی تھی اسلیے وہ منہ کھولنے لگی

ارے مما اسکے تو دانت ہی نی ہیں تو یہ کھانا کیسے کھاتی ہے

رضیہ بیگم نے اسے بتایا کے ابھی یہ بچی ہے بعد میں آیں گے

@@@@@

اب جیا کو دودھ پیلانا اور نہلانے کھیلنے کی ذمی داری مریم نے ے لی تھی اور رضیہ بیگم مطمئن ہوکر گھر بنوانے میاں عاشق صاحب کی مدد کرنے لگ گئیں تھیں

کے ایک دن اقا چاول بناے تھے

اور مریم جیا کو لیکر بیٹھی تھی وہ اندنوں سکول نی جاررہی تھی کیونکے گرمیوں کی چھٹیاں تھیں

تو اقا نے مریم کو چاول دیے تو وہ کھانے لگگئی

اب یا کا بھی ایک دانت نکل آیا تھا

وہ اسے ہی کھاتا ہوا دیکھکے زبان نکال رہی تھی

مریم نے اسے یکھا تو اسکے منہ میں بھی چاول کے دانے ڈال دیے ڈالنے تو پورا چمچ والی تھی پراسنے سوچا کہ پہلی بار کھاے گی تو اچھا لگتا ہے کے نی

اسکے منہ میں اسنے چاول ڈالدیے

جیا ے تھوڑا منی ہلایا مگر اسسے کھا نا گئے تو وہ رونے لگگئی

بری بات جیا تمسے کہا ھا ناں کے مجھے روتے بچے اچھے ی لگتے پھر کیوں رو رہی ہو

نریم ے اسسے کہا جو رونے میں مصروف تھی اور چپ ہونے کا نام بھی نئی لے رہی تھی

صد شکر کے اسی وقت رضیہ بیگم آگیں

ارے یہ کیوں رورہی ہے انہوں نے جلدی سے ہاتھ دھوتے وچھا

پتہ ی مما لگتا ہے اسے اقا ے چاول پسند نی آئے اسی لیے رو رہی ہے

کیا تمنے اسسے چاول کھلادیے

انہونے جلدی سےاسے پکڑ کر اسکا منہ کھولا تو اسمیں ابھی بھی چاول تھے

انہونے جلدی نکالے اور اسے کلی کروائی

اف جیا تم اتنی سلو ہو ابھی تک کھایا نی

اسنے اسے آنکھیں دیکھاکر کہا

بیٹا ابھی چھوٹی ہے اسلیے اگر اسکے منہ میں ڈالنا ہی ہوتو تھوڑا سا

انہونے کہا

تھوڑا ہی تو ڈالا تھا پر آگے سے دھیان رکھوںگی اوکے مریم نے کہا

تمہیں زے ی بات بتاوں جب تم چھوٹی جیا سے بھی تو ردا اور شاہد نے بھی تمہارے ساتھ ایسا ہی کیا تھا

پر تم روئی نی بلکہ تمنے تو بغیر دانتوں کے ہی کھالیا اور نلوگوں کھیلایا بھی تمہے اسسے زیادہ تھا

شکر ہے میں آگی تھی نی تو اسنے تو تمہیں پوری پلیٹ ہی کھیلادینی تھی

انہونے ہنستے ہوے کہا

واقع

تو اور کیا پر شانی تم نارمل بچوں کی طرح نی تھی تمنے بڑے مزے سے ھایا اور تمہے پتا ہے اسوقت تم دو ماہ کی تھی

تب تک کا نارمل بچہ تو پانی بھی نی زیادہ پی سکتا اور تمنے کھچڑی کھائی تھی وہ بھی بنا روے مزے سے

پھر اسکے بعد عتیق مہیں کچھ نا کچھ تھوڑا کرکے کھیلاتا تھا

ارے مجھے یاد کیا جارہا ہے

اسنے کمرے ں داخل ہوتے کہا

لو شیطان نام لیا اور عتیق حاظر ہوگیا

مریم بڑبڑائی

کچھ کہا

کیا کسی نے اسنے مریم کو دیکھتے کہا

ہاں میں سوچرہی تھی کے تم ابھی تک آئے نی

دماغ خراب کرنے

اسنے ہا

اچھا تو میری شان میں یہ کسیدے پڑھے جاررہے تھے

ایسا ہے تو جو میں گڈ نیوز لایا ہوں وہ نی بتاتا اب

کیا اپنے گھر جاررہے ہو

مریم نے چہک کر کہا

جی نی نی جارہا میں

چلو میں اب بتاہی دیتا ہوں

تمہارا ایڈمیشن ہوگیا ہے اور سب سے اچھی بات کے سکول بھی گھر کے نزدیک ہی ہے

اسنے بتایا

واو کونسے گھرکے

اسنے سوال کیا

جو بن رہا ہے اسنے بتادیا

گڈ تھینک یو عتیق اسنے خوشی سے کہا اور عتیق اسے خوش دیکھکر خود بھی خوش ہوگیا

_______

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں رضیہ بیگم نے کہا

ہاں بابا وہاں رہنے سے بہتر ہے کے میں یہیں رہ جاوں

مریم نے ناگواری سے کہا

آخر آپلوگوں کو مسئلہ کیا ہے میری پھپھو بے چاری سے

عاشق صاحب نے بیچارے پر زور دہتے کہا

بیچاری NOT FEAR DADY

اگر وہ بیچاری ہیں تو بھارت نے تو ہمیں کچھ کہا ہی نی ہے پھر اسنے ناک چڑھا کر کہا

دیکھلیں بیگم اپنی نانی کو کیا کہہرہی ہیں انہوں نے اسے کیا کہا ہے غلطی ہوتو بندہ کہتا ہی ہے ناں اگر کلکو میں انہیں کچھ کہوں گا تو کیا شانی میرے لیے بھی ایسے الفاظ استعمال کرو گے انہوں نے صدمے سے کہا آخر انہیں کہاں گوارا تھا کے انکی جان سے پیاری پھپھی+ ساس کو کوئی کچھ کہہدے اسلیے بول دیے

ٹھیک کہا آپنے

مریم نے ماں کو دیکھا اسے لگا کے انہوں نے بھی پارٹی بدل لی ہے

ہاں اور کیا انہیں لگتا ہے کے کمریم کے دل کی بات سمجھ آگئی تھی اسیلیے اسے دیکھ کر کہا

اگر غلطی ہو تو ڈانٹنا پبنتا ہے پر وہ تو میری بچی کے پیچھے ہی پڑ جاتیں ہے خواہ اسنے کچھ کیا ہو یا ناں کیا ہو

انکی بات پر مریم نے سکھ کا سانس لیا پارٹی اپنی ہی جگہ پر ہے

جبکہ دوسری طرف عاشق صاحب جو تھوڑے مطمئن ہوے تھے گڑبڑاگئے اور سارا اطمینان دھرا کا دھرا رہ گیا

اگر جانا ہی ہے تو چند ماہ انکے ساتھ رہلیں گے ارشی نے بھی کہہ دیا ہے

بس ہم نی جائیں گے انکے گھر رہنے آپکو تو کچھ نی کہتی ناں

اسلیے اتنی طرفداری کررہیں ہیں

کرائے پر رہ لیں گے جبتک اپنا گھر نا بن جائے

انہوں نے حتمی فیصلہ سنادیا

جیسے آپکی مرضی

عاشق صاحب نے بجھے دل سے کہا

@@@@@

انہیں پنجاب آئے اب دوسرا مہینہ تھا

انہیں گھر بھی عاشق صاحب کے یونی فیلو نے ہی کرائے پر لے دیا تھا

گھر چونکہ دوسری منزل پر تھا اور لفٹ بھی ا تھی اسسیلیے مریم تو گھر کر ہی ہوکر رہ گئی

ابھی بھی اسکی ٹانگ ٹھیک سے کام نئی کررہی تھی اوپر سے درد بھی کافی رہتا تھا پر اسنے برداشت کی پوری کوشش کی تھی

ڈاکٹر نے اسے جوس اور ابلے چاول ہی کھانے کیلیے کہا تھا کیونکہ یہ ہلکی پھلکی غذا تھی

یہ ڈاکٹر کا ماننا تھا مگر مریم پر تو یہ بہت بھاری ثابت ہورہی تھی اسکا جسم دنبدن پھولتا جارہا تھا

اسنے کبھی بھی اتنا پھیکا نا کھایا تھا اسلیے اسے زیادہ کھایا نا جاتا تھا تو اندر سے کمزوری کا احساس تھا

اقا پانی تو پلوادو اور اس جیا کو تو چپ کرادو

اسنے بےزاری سے کہا جو کبسے روے جارہی تھی

اسے لگتا ہے بھوک لگی ہے اقا نے کہا

تمہے زیادہ پتہ ہے اگر اسے بھوک لگی ہے تو کھانا نکال کر کھالے میرا دماغ کیوں کھارہی ہے

اسنے اسکو دیکھتے ہوے اقا سے کہا ایک نظر اسے دیکھکے اسنے منہ پرے کرلیا تھا

اسے وہ ذرا بھی اچھی نی لگتی تھی

پر سب کہتے تھے کے وہ مریم کے جیسی لگتی ہے تھوڑی تھوڑی

مریم تھوڑا تو خدا کا خوف کرو اتنی چھوٹی ہے وہ اور تم کہہ رہی ہو کے وہ خود جاکے کھالے

کمال ہے تمہارا

اقا نے اسے جھڑکا

اچھا تو اسمیں بھی میری غلطی کے یہ چھوٹی ہے مریم نے غصے سے کہا

یار تمہیں کیا ہوگیا ہے پہلے تو تم ایسی نی تھی اقا نے اسسے کہا

اچھا پہلے یہ بھی نی تھی اور ردا خالہ تھیں

پر اسنے مجھسے نہیں چھین لیا پر ب مجھے پتہ ہے کے چاچو اورخالہ کے جانے میں بھی اللّٰہ ہی کی کوی مصلیحت ہوگی

اسلیے وہ اسے ہمارے پاس چھوڑ گئے

مریم نے افسردگی سے کہا جبسے ردا بیگم فوت ہوی تھیں تبسے مریم نارمل نا ہوسکی تھی وہ اس ننھی سی ایک ماہ سے بھی کم عمر بچی کو قسور وار سمجھتی تھی

جسے پیدا کرتے وقت ردا بیگم وفات پا گئیں تھیں

پر اب اسے پتہ چلگیا تھا کے جو ہوتا ہے اسی کی رضا سے ہی ہوتا ہے

اگر سنے اپنی پیاری خالہ وئی ھی تو اس معصوم نے بھی تو اپنی ماں کھوئی تھی

اسلیے اب اسنے فیصلہ کرلیا تھا کے وہ اپنے دلمیں

کوئی بھی خلش نا رکھے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *