Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 16)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 16)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
بس میں آپسےتوکیااب کسی سےبھی شادی یا محبت نہیں کرسکتی اورخاص کراعتبار
اسنےکہا
تم مجھپراعتبارکرکےتودیکھومیں تمہاراساتھ دونگا
مگرمجھےآپکےساتھکی ضرورت
اسیلیےاب آپ جاسکتےہو
مگرمریم وہ کچھ کہتااسسےپہلےہی مریم اسےپکڑکرباہرنکال دیاوہ بھی Pجوان خوبرو شخص اس لڑکی کےہاتھوں بےجان چیزکیطرح گھسٹتاگیا
اسکی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے
وہ کتنی ہی دیر وہاں بیٹھا رہا۔۔ اسکا ذہن بلکل خالی تھا۔۔ ارد گرد کی ہر آواز جیسے میوٹ ہو چکی تھی۔۔ ہر چیز کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔ وہ بس تار کول کی سڑک کو تکے جارہا تھا۔۔ کافی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ کوئ اسےآواز دے رہا ہے اسنے سر اٹھا کر آنسوں صاف کیے اور پیچھے کھڑھے عارف کو دیکھا
کیا ہوا تمہیں
وہ کچھ نہی کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
محبت بھی عبادت ہے
عبادت دل سے ہوتی ہے
تمنائیں مقدس ہیں
انھیں ہی سینچ کر دل میں
وفا پروان چڑھتی ہے
وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں
عبادت کے لئے بھی جو
کبھی رمضان
کبھی شعبان
کبھی معراج کی شب کو
فقط مخصوص کرتے ہیں
عبادت کے لئے کوئی بھی دن مخصوص کیا کرنا؟
محبت بھی عبادت ہے
اسے بھی لوگ جانے کیوں
کسی مخصوص ماہ و سال پر کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟
مرے دل کو یہ لگتا ہے
محبت بس عبادت ہے
“عبادت روز ہوتی ہے”
قضا جس نے محبت کی
وہی چاہت ادھوری کی
ادھورا عشق
ادھورا پیار
ادھوری چاہتیں…… اے دوست!
کبھی تکمیل کیا پائیں
بہت سے لوگ ہوتے ہیں
ادھورا پیار کرتے ہیں
آدھوری راہ تک چل کر
کہیں منزل سے پہلے ہی
سہارا چھین لیتے اور
وعدے توڑ دیتے ہیں
وہ دل بھی توڑ دیتے ہیں
محبت چھوڑ دیتے ہیں
عبادت چھوڑ دیتے ہیں
محبت بھی عبادت ہے![]()
![]()
![]()
![]()
محبت بھی عبادت ہے
عبادت دل سے ہوتی ہے
تمنائیں مقدس ہیں
انھیں ہی سینچ کر دل میں
وفا پروان چڑھتی ہے
وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں
عبادت کے لئے بھی جو
کبھی رمضان
کبھی شعبان
کبھی معراج کی شب کو
فقط مخصوص کرتے ہیں
عبادت کے لئے کوئی بھی دن مخصوص کیا کرنا؟
محبت بھی عبادت ہے
اسے بھی لوگ جانے کیوں
کسی مخصوص ماہ و سال پر کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟
مرے دل کو یہ لگتا ہے
محبت بس عبادت ہے
“عبادت روز ہوتی ہے”
قضا جس نے محبت کی
وہی چاہت ادھوری کی
ادھورا عشق
ادھورا پیار
ادھوری چاہتیں
کبھی تکمیل کیا پائیں
بہت سے لوگ ہوتے ہیں
ادھورا پیار کرتے ہیں
آدھوری راہ تک چل کر
کہیں منزل سے پہلے ہی
سہارا چھین لیتے اور
وعدے توڑ دیتے ہیں
وہ دل بھی توڑ دیتے ہیں
محبت چھوڑ دیتے ہیں
عبادت چھوڑ دیتے ہیں
محبت بھی عبادت ہے
سچ کہتے ہیں پیار ہی آباد کرتا ہے اور پیار ہی بباد کرتا ہے
پھربھی وہ کرتی رہی
ٹھیک چاربجےوہ اٹھی دوائی
لی اورنیچےآگئی جہاں اقااورڈیڈی حیاسلیمان کےترکی جانےناجانی پربحث کررہےتھے
اسنےسلام کیااورسائیڈپربیٹھ گئی
رضیہ بیگم نےاسےچاول لادیےوہ وہ کھانےلگی
ماموں جی مجھےلگتاہےکےتایاحیاکےترکیجانےپرضرورغصّہ ہونگےناں
نی بلی وہ ترکی چلی جائےگی
آپکوکیسےپتہ
کہیں آپنےمجھسےآگےتونہی پڑھلیا
انہوں نےنظریں چرائیں
ماموں
چلوکوئی بات نہی اب ایسامت کریےگا
ٹھیک ہےانہوں نےجلدی سےکہا
پکا
انہوں نےبچوں کی طرح اثبات میں سرہلایا
انکےاندازپرسب ہنس پڑے
سوائےمریم کےوہ وہاں ہوتی تو ناں
کیاہواشانی اقانےاسےہلاکرپوچھاجوکبسےاسےآوازیں دےرہی تھی
اسنےچونک کراقاکودیکھاپھرنفی میں سرہلاکروہاں سےاٹھپڑی
اوروہ پیچھےاسےدیکھتی رہی اورسوچاکےکچھ بات توضرورہے
@@
رات جب مریم کمرےمیں تھی اوراقاآئی تواسنےروم لاک کرکےاسسےبات کرنےکاسوچا
اسنےمریم سےپوچھاتواسنےسب بتادیااوراقاحیران تھی کےاسطرح بھی کوئی کرسکتاہےکیا
@@
مریم کےرات جاگنےکےبعس اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں
اسنےاپناکام مکمل کرلیاتھا
وہ میم کلثوم کی کلاس میں آگئی تھی
اسےراستےمیں فیض ملاتھامگراسنےاسےاگنورکیاوہ بھی اسےکندھےاچکاکرجاتےہوئےدیکھنےلگا
بدلاتوتجھسےلوں گاوہ بھی آج ہی
وہ کہتاہواچلپڑا
اسنےاسائنمنٹ میم کودیدی تھی
میم کولگاکےاسےبخارہےاسیلیےاسےگھرجانےکیلیےکہا
مگرمیم
کوئی اگرمگرنہیں بیٹاآج ویسےبھی آپکےتین لیکچرزنہیں ہونگےاسیلیےبہترہےآپ چلی جاؤ
اسنےاثبات میں سرہلایااورگھرکیلیےآگئی
اوردوسری طرف فیض جواسسےبدلالینےکی تیاریاں کررہاتھاجب اسےپتہ چلاکےوہ جاچکی ہےتواسےاپنےپلان کی ناکامی پر شدید غصّہ ہوا
کوئی نہی
کل سہی
اگلے ہی پل وہ دوسرا پلان تیار کرنے لگا
اسکے چہرے پر بدلےکی مسکان تھی
@@
مریم جب گھر آئی تو اسسے چلا بھی نہی جارہا تھا راستے میں بھی اسکا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچاتھا
وہ سیدھااپنے کمرے میں آگئی
مگر خلاف توقع رضیہ بیگم بھی وہاں موجود تھیں انہیں وہاں دیکھکے اسنے اپنی چال سیدھی کی اور انہیں سلام کیا
شانی تم جلدی آگئی ہو
انہوں نے سلام کا جواب دیکے کہا
جی مما بس تھوڑی طبیعت ٹھیک نا تھی
کیا ہوا انہوں نے فکرمندی سے اسےچھوکردیکھا جو بخار سے تپ رہی تھی
تمہیں تو بہت تیز بخار ہے
انہوں نے جلدی سے اسے لٹایا اور باہر آگئیں
تھوڑی دیر بعد بھائی ریاض جو اسکی کزن عابدہ کے شوہر تھے
نے اسکاچیک اپ کیا اسے107بخار تھا
بھلا کسی کادل دکھاکر وہ کیسے سکون کرسکتی تھی
لو تمہیں بھی 107بخار ہے
کیا ہوا شانی کچھ پریشانی ہے کیا
اسنے نفی میں سر ہلایا
اور کسے بخار ہے بھای
اسنے پوچھا جو اب اسے انجیکشن لگانے لگے تھے
اسے کیوں ہے اسنے دل میں سوچا
دوا کے زیرِ اثر وہ سوتی رہی
جب اٹھی تو سامنے عمران تھا
کیسی ہو اسنے پوچھا
اسنے اثبات میں سر ہلایا
ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﻣَﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻧﺪﮬﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣَﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ؟
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﻣَﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻧﮓ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﮈﮬﻨﮓ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺍِﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻨﮓ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻧﮓ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﯿﮟ ﮐﮭﻠﯽ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﮨﺮ ﺍﮎ ﭼﺸﻢ ِﺑﺼﯿﺮﺕ ﮐﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﮏ ﺗﺘﻠﯽ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﮔﻠﺸﻦ ﮐﯽ ﻓﻀﺎﻭٔﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﻮﮐﮭﮯ ﺭﻧﮓ ﺑﮭﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﮔﺮ ﺍِﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ
ﭘﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞﮐﯽ ﭘﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ
ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺍُﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺮﻡ ﻭ ﻧﺎﺯﮎ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﭘﮭﻮﻝ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ
ﮐﺴﯽ ﭼﻨﭽﻞ ﺣﺴﯿﻨﮧ ﮐﯽﻧﺮﺍﻟﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﮮ ﺗﻮ ﻣﮩﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﺸﺎﻡِ ﺟﺎﮞ
ﻣﺤﺒﺖ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻭﮦ ﺭﺷﺘﮯ ﺟﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﮎ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﺎﻧﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﻗﺪﺭ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﯽﮨﮯ
ﯾﮧ ﮨﺮ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮎ ﺍﻟﮓ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺩﻝ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺩِﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﺍﺝ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﺑﮭﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣَﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ؟
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻧﺪﮬﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺷﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﺍﻟﮓ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻣﺮَﻍ ﺯﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟﯾﮧ ؔ ﺳﻨﮓ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
…..ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻧﮓ ﺭﮐﮭﺘﯽ ہے
اور دیکھا آپنے میرا رنگ آپ پر چڑھ ہی گیا وہ مسکراتا ہو چلا گیا اور وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی
@@@
آسمان کالے گرے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ صبح سے مسلسل ہوتی بارش کا زور اب کافی حد تک تھم چکا تھا لیکن پھر بھی ہلکی ہلکی پھوارکی صورت بوندیں اب بھی برس رہی تھیں اور ٹھنڈی پختہ سڑک جل تھل ہورہی تھی۔ دسمبر کی اس بارش نے جہاں یک لخت ہی سردی کی شدت میں اضافہ کردیا تھا وہاں لوگوں کو صبح سے ہی اپنے گھروں میں قید بھی کررکھا تھا۔ وہ سب کزنز اپنی بوریت دور کرنے کے لیے صبح سے ہی لاﺅنج میں موجود ایک دوسرے پر فقرہ بازی کے ساتھ ساتھ مختلف حیلے بہانوں سے اپنا وقت گزارنے میں مصروف تھے۔بس بہت ہوگیا….صبح سے بیٹھے بیٹھے بور ہوگئے ہیں
اقا نے کہا
چلو میں پاستا بناتا ہوں
عمران نے کہا
نہی بیٹا تم ابھی ابھی تو ٹھیک ہوئے ہو
کچھ نہی ہوتا
معمانی جان
اسنے کہا اور کچن کی طرف چلاگیا
اسی دوران عتیق جو کسی کام سے آیا تھا صوفے پر بیٹھی مریم کے پاس پاسآکر بیٹھ گیا
مریم نے اسے دیکھا تو سکی ایک بیٹ مس ہوئی
وہ کہےتے ہیں ناں
جس سے کبھی محبت کی ہو اُس سے چاہے جتنی بھی نفرت کر لی جاۓ چاہے جتنا بھی ہم اپنے آپ کو یہ سمجھا لیں کہ ہم آگے نکل آۓ ہیں اُسکی محبت ، اُسکی نفرت سب پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ زندگی میں اب ہم پھر سے اپنا کردار نبھانے اور زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کو تیار ہیں
کیسے بتائیں کیوں تجھ کو چاہیں یارا بتا نا پائیں باتیں دلوں کی دیکھو جو باقی آنکھیں تجھے سمجائیں تو جانے نا تو جانے نا مل کہ بھی ہم نا ملے تم سے نا جانے کیوں میلوں کے ہیں فاصلے تم سے نا جانے کیوں انجانے ہیں سلسلے تم سے نا جانے کیوں سپنے ہیں پلکوں تلے تم سے نا جانے کیوں تو جانے نا تو جانے نا
عتیق گنگنایا
مریم وہاں سے اٹھ آئی
اسسےوہاں بیٹھنامحال ہورہاتھا
ایک بات پوچھ سکتاہوں میں
عمران نےکہا
اگرمیں ناکہدونگی توبھی توآپ پوچھیں گےہی ناں
اسنےطنزکیا
جی بلکل نہی اگرآپ ناکہیں گی تومیں بلکل بھی نہی پوچھوں گا
اچھااتنےفرمانبردارہیں آپ
مریم نےاسکی آنکھوں میں دیکھکےکہا
کوئی شک ہےآپکوہماری فرمانبرداری پے
اچھاتوپھرپھپھونےممااورڈیڈی سےآپکےرشتےکی بات کیوں کی
میری یاہمارےرشتےکی بات
اسنےشرارت سےہمارےپرزوردےکرکہا
بھائی پلیزمیں آپسےتوکیاکسی سےبھی شادی نہی کرناچاہتی آپ پھپھوسےکہدیں
مجھے ڈر لگتا ہے اب محبت کے نام سے بھی پلیز بھائی
میرا دل راضی نہیں ہے
اور جسکام میں دل راضی نا ہو وہ کام میں نہیں کرتی
مجھے ابھی ماضی کی یادیں ہی نہیں بھولیں بھائی اب کیوں کروں میں ایسا محبت سراب ہے جو کبھی نہیں ملسکتی
اور ویسے بھی میں اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہوں
وہ کہکرجانےلگی تھی کےاسنےاسکاہاتھ پکڑلیا
کہیں یہ سب اس عتیق کی وجہ سےتونہی ہورہاناں
آخراسکےدل کی بات اسکی زبان پرآہی گئی تھی
نہیں ایسا کچھبھی نہیں ہےوہ کہکراپناہاتھ چھڑاکرچلی گئی
پتاہےمجھےمیں بھی آرمی میں ہوں مجھےلوگوں کےچہرےپڑھناآتےہیں
اسنےپیچھےسےکہا
جی معلوم ہےبھائی
اوراگرآپکواتنےہی چہرےپڑھنےآتےناں توآپ اسطرح سےمیرادل نادکھاتےمیں آپکواپنابھائی سمجھتی ہوں اورآپ نےکیاکیا
مریم جی میں اپنےدل کےہاتھوں مجبورہوکرآپسےبات کرنےآیاتھامگرمجھےاحساس ہےآپکےجذباتوں کااسیلیےآپ بےفکررہیں ماماسےمیں بات کرلوں گا
وہ زخمی دل سےمسکرایا
شکریہ بھائی آپکا
مریم نےاسےدیکھکرمسکراکرکہا
وہ بھی مسکرادیا
رلا کر کہہ وہ،ذرا مسکراؤ…!!! جو غم تم کو بخشے انھیں بھول جائو…!!! جو گزرے ہے،دل پہ وہ چپ چاپ سہہ لو…!!! ضروری نہیں کہ سب کو بتائوں…!!! دامن چھرانا،بچانا ہے مشکل…!!! پردہ ہٹانے سے کیا ہو گا حاصل…!!! ایسے میں تو ہی بتا میرے مولا…!!! تو ہی بتا دے کہا جائے یہ دل…!!! کہا جائے یہ دل…!!! کہا جائے یہ دل
وہ گنگنایا
بھائی اچھی بات نہی ہے یوں جھوٹا مسکرانا
اسنے خفگی سے کہا
وہ اسکے انداز پراب بھی شک کی کوئی گنجائش باقی ہے
عمران نے پھیکی سی ہنسی ہنس کر کہا۔
اب اچھے بچوں کی طرح سوجائیں
وہ خد تو ہلکی پھلکی ہوگئی تھی مگر عمران کا درد بڑھا گئی
اوکے بائے
وہ کہکر چلی گئی
تو حکم تے کر دا وے
اسی دیندے جان یارا
پر تینوں زندگی چوں
نا دیندے جان وے یارا
ہو گیا میتھوں دور کیوں
چلدے ہی رہندے یار گلے شکوے
جانوں پیارے وچھڑن تے
کدوں وے ٹکانے یار دل ٹکدے
مر دے دم تک نال کھڑوں
گلاں تیریاں یار
ہنجو پروون گواہیاں
تیرے میرے پیار دی
تیری یار اپنی ہی کیوں سی
مہمان یارا
وہ اپنے آنسوں صاف کرکے اٹھ گیا
@@@
بارش تھم چکی تھی۔ دھلی دھلی فضا اور اس پر ہلکی ہلکی دھوپ کی چمک دل کو باغباغ کر رہی تھی
مریم کو ویسے تو دھوپ پسند نہی تھی مگر بارش کے بعد کی دھوپ اسے بھی اپنی طرف متوجہ کررہی تھی
سب اپنی مستیوں میں گم تھے
حنا اورفرح عارف بھائی کے ساتھ گانے گارہیں تھیں تبھی انکی نظر عمران پر پڑی اور اسسے شاعری سننے کیلیےبے تاب ہوگئیں کافی انکار کے بعد وہ مان ہی گیا
ﺩﺍﺱ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻭﮦ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﯽ
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ . . .
ﻭﮦ ﮔﻮﻝ ﭼﮩﺮﮦ ، ﻭﮦ ﮐﺎﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺟﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﻣﺰﺍﺝ ﺳﺎﺩﮦ ، ، ، ﻭﮦ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ . . .
ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﮯ
ﻭﮨﯽ ﮐﺮﮮ ﻭﮦ ، ﺟﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﺎﻧﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎ ﺟﺎﻧﮯ ، ، ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ . . .
ﮦ ﮐﺘﻨﯽ ﭘﮕﻠﯽ
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ
وہ اپنی تمام غزل مکمل کرچکا تھا اور ٹکٹکی باندھے مریم کو ہی دیکھ رہا تھا سب کی تالیوں نے اسے ہوش دلایا
تب تک وہ جاچکی تھی اور بھی بالوں میں ہاتھ پھیرتا چلاگیا
@@@
مریم اقانےکہا
ہاں
مجھےلگتاہےسنوں ناں
ہاں ہاں بولوکیالگتاہےتمہیں
مریم مجھےلگتاہےیہ جومیجراحمدبن کرآیاہےناں شاپ پریہ پنکی ہی ہےکیونکےپنکی کےکی کلائی پربھی کانٹےکانشان تھا
اسنےپرسراراندازمیں کہا
کون میجراورکون پنکی؟
مریم نےناسمجھی سےکہا
یارناول جنت کےپتےکاکریکٹرہے
اقانےکہا
اف اقاتمبھی ناں
کب آؤگی ان ناولزکےباہرمریم نےتاسف سےکہا
ایک مرتبہ تم پڑھکےدیکھوتوسہی تمہیں بھی چس لگ جائےگی
اقصٰی نےآنکھ دباکرکہا
توبہ ہےتم اورناولزاقاناولزمیں سب فرضی ہوتاہےمگرتم اسےحقیقی مان رہی ہو
اچھاسوجاؤاب آج بھی بارش کی وجہ سےنہی جاسکی کل تو ضرورجاناہے
مریم نےتکیہ اٹھاتےکہا
اوہو
مطلب کےتمہیں فیض سےملنےکی جلدی ہے
اقانےاسکےکندھےسےکندھاملاکرشرارت سےکہا
بکواس ناکروپاگل تمہیں توکچھ بتاناہی فضول ہےاب نہی بتاوں گی تمہیں کچھ بھی
وہ کہکرمنہ دوسری طرف کرکےتونےکیلیےلیٹ گئی
اچھاسوری شانی مینےمذاق کیاتھا
اقانےشرمندہ ہوتےہوئےکہا
کوئی بات نہیں اقااب تم سوجاؤ
اوکے
@@
مماممامیں جارہی ہوں مریم نی جلدی جلدی بیگ اٹھاتےہوئےکہا
مگربیٹاناشتہ توکرتی جاو
انہوں نےپیچھےسےکہا
نہی مماوہیں کرلوں گی اب دیرہورہی ہے
اسنےکہتےساتھ ہی بائیک اسٹارٹکردی تھی
کربھی لینا
انہوں نےکہااوروہ اثبات میں سرہلاکرچلدی
@@
آج اسےراستےمیں ہی فیض مل گیاتھا
وہ اسےدیکھکرحیران رہ گیاتھاکےکوئی لڑکی بھی بائیک چلاسکتی ہےوہ بھی پنجاب میں
اوہیلوموٹی کیسی ہواوراس موٹرسائیکل کی زندگی کےپیچھےکیوں پڑی ہے
مریم چپ چاپ بائیک سےاتری اورلاک لگاکرہیلہمنٹ کوسیٹ کورمیں ڈال کروہ جانےلگی کےاسنےاسکاراستہ روکا
اوہواتنانخرہ وہ بھی ہاتھی کاکےکسی کی بات کاجواب بھی نہی دےرہی
وہ تمسخرانہ ہنسا
ہاں کیوں ناہوگااسنےبھی کمر پرہاتھ رکھےکہااوررہی بات ہاتھی کی توہاتھی کبھی کتوں کی بات کاجواب نہی دیتےبےشک جتنےمرضی کتےبھونکتےرہیں
وہ اپنی بات مکمل کرکےچلی گئی
کتاکہامجھےاب دیکھ کیاکرتاہےیہ کتا
اسنےمنہ پرہاتھ پھیرکےکہا
@@
ارےمریم تم کل کہاں تھی
صبانےاسےآتےدیکھکرہی سوال داغا
السلام وعليكم
گھرپرہی تھی اورکہاں پرہونگی میں اتنی بارش میں
وعليكم والسلام
مریم اب اتنی بھی بارش نہی تھی
اسنےناک چڑھاکرکہا
تمہیں اتنی نالگی ہوگی کیونکےتم خانپورکی ہی تھیں اسیلیےآگئیں اورمیں فیروزہ سےکیسےآتی اسنےبھی اسی کےاندازسےکہا
تب تک بیل بج چکی تھی اوروہ لوگ کلاسروم کی طرف چلےگئے
جاوجاوتمہیں توبعدمیں پتہ چلےگافیض جو درخت کے ساتھ کھڑا تھا اسے جاتا دیکھ کے بولا
@@@
وہ کلاس روم سےباہرآئی تواسےسرعمرمل گئے
السلام و عليكم سراسنےادب سےکہا
وعليكم والسلام بیٹےاب توکسی نےدوبارہ تنگ تونہی کیاناں
انہوں نےنہایت پیارسےکہا
مریم کواسدن والاواقع یادآگیاوہ شرمندہ ہوئی
سوری اسدن سرمیری وجہ سےآپ کاوقت ضائع ہوا
کوئی بات نہیں انہوں نےمسکراکرکہا
تبتک اسےصبانےبلالیااورسربھی چلےگئے
کیاکہہ رہےتھےسر
کچھ خاص نہی اوروہ دونوں چلتےچلتےکینٹین کی جانب آگئیں
یارمیرادل چاہتاہےکےپرندوں کی طرح زندگی گزاروں
صبانےگراونڈمیں پانی پیتی چڑیوں کودیکھکرکہا
ڈرکےمریم نےکہا
کیامطلب وہ سیدھی ہوبیٹھی
مطلب یہ کےکبھی غورسےدیکھاہےپرندوں کووہ ہرقدم پھونک پھونک کررکھتےہیں انہیں ہمیشہ ڈرستاتاہےکےکوئی ہمیں نقصان ناپہنچادے
ہاں یارتم ٹھیک کہرہی ہوصبانےسمجھتےہوئےکہا
گڈجلدی سمجھگئی ہواسکےالفاظ ابھی مکمل ہی ہوئےتھےکےاسےلگاکسی نےاسپرکچھ پھینکاہےاسی آثنامیں صبانےچیخناشروع کردیااوردورچلی گئی
کینٹین میں باقی لوگ بھی ادھرادھربھاگنےلگے
کیاہوااسنےاردگرددیکھاتواسےاپنےڈوپتےپرسانپ ہلتاہوانظرآیا
او
وہ چونک گئی سبکی خوف کےمارےچیخیں نکل گئیں
مریم نےاحتیاط سےسانپ پکڑااسےوہ پہت اچھالگرہاتھا
واؤکتناپیاراہےاسنےاسکےاوپرہاتھپھیرتےہوئےکہا
اسےوہ سانپ تھوڑاعجیب سالگااسےغورسےدیکھنےکےبعدمریم کولگاکےوہ نقلی ہے
اف یہ تونقلی تھااسکےکہنےپرسبنےاپنی تیزدھڑکنوں پرقابوپایا
سائیڈپرکھڑےفیض نےآنکھیں پھاڑےاسےدیکھاوہ سانپ سےنہی ڈری لڑکیاں توچھپکلی سےڈرجاتی ہیں اوروہ اسنےحیرت سےسب کچھ دیکھتےکہالگتاہےکوئی اورپلان بناناپڑےگا
صبااسکےپاس آئی
تمہیں سچ میں ڈرنہی لگا
نی اسمیں ڈرنےکی کیابات تھی مجھےسانپوں سےڈرنہی لگتااب پہلےجب ہمGNB
گئیں تھیں تب ہمارےکوچ سرنےہمیں سانپ پکڑنےسکھائےتھےاسی وجہ سےمجھےوہ سانپ نقلی لگا اب میں نہی ڈرتی کسی بھی شےسے
واہ صبااورفیض اسکی بات پرعش عش کراٹھے
چلواب
اسےتوچھوڑجاؤمریم نےسانپابھی تک پکڑاہواتھا
اوہاں
اسنےاسےسیدھاکیاتووہ ڈرگئی
یہ پھینکاکسنےہوگااسنےسوچااورپھرسرجھٹک کرچلی گئی
انہیں معلوم نہی تھاکےاگلی مصیبت اسکاانتظارکررہی ہوگی
@@
وہ کلاس میں پہنچی توسب سٹوڈنٹس وہاں پرموجودتھےہرطرف ہلچل تھی
لیکچرشروع ہونےمیں ابھی پانچ منٹ تھےکےسرعمرکلاسروم میں داخل ہوئےسب انہیں دیکھ کراحتراماًکھڑےہوکےسلام کیا
انہوں سلام کاجواب دیااورسبکوبیٹھنےکااشارہ کیا
وہ سب حیران تھےکےسرآج انکی کلاس میں کیسےآگئے
شایدسرعمربھی انکی حیرانگی بھانپ گئےتھےاسیلیےقدرےمتانعت سےانہوں نےبولناشروع کردیا
طلباءوطالبہ جیسےکےآپ سب انتظارکررہےہونگےمیم کلثوم کاتومیں آپ سب کومطلعہ کرتاجاؤں کےآج میم آپکالیکچرنہی لیں گی لہٰذابغیرشورشرابےکےآپ کلاس یاگراونڈمیں تشریف فرماسکتےشکریہ
وہ کہکرکلاس سےنکل گئےانکےجاتےہی پوری کلاس میں یاہوکی آوازگونج گئی
پھرسبنےہی منہ پرانگلیاں رکھلیں
میم کلثوم کےناآنےکامطلب کےسرشعبان بھی نہیں آئےہونگےجسکامطلب کےفزکس اورمیتھ کی کلاس بھی نہی ہوگی
واؤمریم آج تومزےہی مزےہیں صبانےخوش ہوتےہوئےکہا
کیاخاک مزےہیں فارغ ہی بیٹھےرہیں گےویسےتومیم چھٹی نہی کرتیں پھرآج کیسےکرلی
مریم کوتشویش ہوئی
یارکرلی ہوگی
نی صبامیم کی طبیعت توٹھیک ہےناں وہ توکبھی
مریم چھوڑواس ٹاپک کومزےکرتےہیں مت نکالنااسے
صبانےبک نکالتی مریم سےایسےکہاجیسےوہ کوئی جن نکالنےلگی ہو
اف یارتمہیں مزےکرنےہیں کرومجھےتنگ مت کرومریم نےجنجھلاکرکہا
اسےآسنامیں ایک بےچاری چھپکلی اسکی بک پرآگری
پھرکیاتھاپوری کلاس میں صبامیڈم کی چیخیں بھرگئیں
اف صباکیامسلہ ہےتمہیں کیوں چیخرہی ہواتنی نازک بھی نابناکروتم
مریم نےاسےغصےسےکہاجوصبح سےہربات پرچیخےجارہی تھی ابکی بارکی چیخ کافی بھانک تھی مریم کےسینےمیں دردہونےلگ گیاتھامریم نےاسےپانی دیا
مریم تمہیں تولگتاہےاللّٰہ لڑکابنانےوالاتھاپرغلطی سےلڑکی بنگئی
مطلب اسنےتاسف سےاسےدیکھا
مطلب یہ کےتم بائیک چلاتی ہو’گن دیکھکےتمہیں اچھالگتاہے’سانپ اورچھپکلی سےتم نہیں ڈرتیں’لڑکیوں کی طرح چیخ تم نہی مارتی
تواب تمہی بتاؤکوئی بات ہےتم میں لڑکیوں والی ہاں
نی ہےمیں مانتی ہوکےمیں کمزورلڑکیوں کی طرح نہی ہوں میں ان کیڑےمکوڑوں سےنہی ڈرتی کیونکےمجھےاللّٰہ پرپورابھروسہ ہےکےوہ مجھےکچھ نہی ہونےدیگاواقعی میں کمزورلڑکیوں جیسی نہی ہوں
اسکی بات باہرکھڑافیض سنرہاتھاوہ واقعی میں اسسےامپریسڈتھاواقعی یہ لڑکی سبسےمختلف ہےوہ وہاں سےچلاگیاتھا
@@
سب سٹوڈنٹس چلےگئےتھےمریم کیاہواابھی تک تم یہیں ہو
صبانےگیٹ کےپاس کھڑی مریم سےکہا
ہاں یاربس ابھی جاتی ہوں وہ میری بائیک کاٹائرپنکچرہوگیاتھااسیلیےگارڈانکل سےکہاہےمگرابھی تک لائےنہیں ہےوہ
چلوبینچ پربیٹھ جاتےہیں وہ بینچ کی طرف چلدیں
@@
بس یہ آخری بارفیض نےعلی سےکہا
یاروہ تجھسےڈرنےوالی نہی ہےاسیلیےبہترہےکےتواپنی انرجی ویسٹ ناکرعلی نےاسےسمجھایاعلی جومریم کوسانپ سےناڈرتادیکھکےکافی امپریسڈہواتھا
علی توں توچپ ہی رہ فیض اسنک چڑی کےساتھ ٹھیک کررہاہےاسےکرنےدےدعانےاپنےبھائی کوکہا
اب علی توبتاتوں میراساتھ دیگااسنےپوچھا
یہ بھی کوئی پوچھنےکی بات تیرادوست ہمیشہ تیرےساتھ ہےعلی نےکہا
اوروہ تینوں پلین بنانےلگے
@@
بارش کاموسم ہورہاتھااورکافی ٹھنڈبھی تھی
صباتمہیں دیرتونہی ہورہی کیا
نہی تومیراگھرتوپاس میں ہی ہےجب تک تمہاری بائیک آئےگی تب تک تمہارےپاس رکتی ہوں
مریم چائےپیوگی
نی اب گھرمریم کی بات مکمل ہونےسےپہلےہی وہ کینٹین کی طرف چلی گئی
اوردوچائےکاکہا
یارانہائیجینک فوڈمیں نہی کھاتی پیتی مریم نےکہا
کچھ نہی ہوتابیٹھواب تم اورچپ چاپ پیو
صباہم کہیں اورناچلیں مثلاًگیٹ کےپاس
مریم کوہلکےہلتےدرختوں سےگبھراہٹ ہورہی تھی
اوکےاوروہ دونوں باہرکی طرف آگئیں
@@
فیض اورعلی نےگیٹ کےپاس رکھےگملےمیں اپناپلان ترتیب دیااب آئےگامزافیض نےکہااوردعاکوتھمب کااشارہ کیا
@@
وہ دونوں گیٹ کےپاس آگئیں تھیں
تبھی انکل بھی بائیک لیکرآگئےتومریم انکی طرف چلی گئی
ابھی وہ راستےمیں ہی تھی کےاسےگملےمیں کچھ عجیب وغریب شےدکھائی دی
اسکےقدم لامہلہ طورپراسی جانب بڑھگئےوہ گملےکےقریب پہنچی ہی تھی کےکسی نےپیچھےسےایک پتھرپھینکاجوکےگملےمیں پڑی شےپرلگامریم جلدی سے نیچے ہوئ
اور پیچھے کھڑے انسان پر اس آفتاد نے دھاوا بول دیا
چیخ کی آواز سنکر مریم نے پیچھے دیکھا تو حیران ہی رہ گئی۔
