Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 17)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

تم تم یہاں اسنےفیض کودیکھاجسپرشہدکی مکھیوں نےدھاوابول دیاتھا

مریم نےنزدیک پڑاپانی کاپائپ اسکی جانب کرکےپانی پھینکامکھیاں دورجانےلگیں مگرایک دومکھی مریم کوبھی کاٹ چکی تھیں

مریم نےجلدی سےاسےبازوسےپکڑکربینچ پربٹھایااوراپنےبیگ سےفرسٹ ایڈباکس نکالااسکےزخموں پرچینی لگائی اسےیادآیاکےلیموں بھی لگاتےہیں اسیلیےبھاگ کرگیٹ سےباہرگئی اورٹھیلےسےدس روپےکےلیموں لےآئی

اسکاسانس پھول رہاتھامگراسنےدانت سےاسےتھوڑاکٹ لگایااسکےدانت کھٹےہوگئےمگرپھربھی اسنےاپناکام جاری رکھاروئی کےایک چھوٹےگولےپراسنےلیموں ڈالااوراسپرچینی پاوڈربھی ڈال دیاتھوڑاجلےگااوکےاسنےاسےبتایااوراسکےچہرےاورگردن پرجہاں زخم تھےلگاناشروع کردیاوہ اسےہی دیکھرہاتھا

اسےجلرہاتھامگراسنےبرداشت کیابس ایک دن میں ہی ٹھیک ہوجائےگااورانجیکشن لگوالینااوکے

اسکاباکس گراتواسمیسےچیزیں نکل گئیں تھیں وہ وہ اٹھارہی تھی جب دعاآگئی

کیاہواتم یہاں بیٹھےہوکام ہوگیاچیخیں ماری اس موٹی نےوہ اپنی ہی رومیں بولےجارہی تھی جب اسکی نظراسکےسوجھےہوئےچہرےپرپڑی کیاہوااسےکٹوانےکےچکرمیں

فیض نےاسےچپ ہونےکااشارہ کیا

کیوں کیاہواچپ کیوں ہوگئی بولوناں

پیچھےسےمریم نےدعاکوکہاوہ اسےدیکھکرگھبراگئی تھی شرم آنی چاہیےتمہیں ایساکرتےہوئے

تویہ سب تمہاراپلان تھااب اسکی توپوں کارخ فیض کی طرف ہوگیااورمیں سمجھی کےتم اچانک ہی آگئےتھے

وہ خاموش کھڑاتھااسکےپاس کہنےکوبھی کچھ ناتھاکہتابھی کیاکےجس لڑکی کیلیےاسنےیہ سب کیاتھااسنےہی اسےبچایاتھا

آئندہ کبھی میرےسامنےمت آناسمجھےوہ کہکرپلٹی ہی تھی کےاسنےاسکاہاتھ پکڑلیا

تمہاری اتنی ہمت اسنےدوسرےہاتھ سےاسکےمنہ پرتھپڑماردیا

مریم میری بات توسنووہ جانےلگی جب وہ دوبارہ بولا

مجھےتمہاری کوئی بکواس نہیں سننی سمجھےدوبارہ کبھی مجھےمخاطب مت کرناوہ کہکرچلی گئی

@@

جب وہ گھرپہنچی توگھرپرکوئی بھی نہیں تھاوہ سیدھااپنےکمرےکی طرف جانےلگی کےاسےجیاکےکمرےسےآوازیں سنائی دےرہی تھیں

وہ اسطرف ناجاتی مگراسےجیاکےرونےکی آوازآئی تووہ وہاں چلی گئی

اسنےدروازہ کھولاتوسامنےجیابڑےشاندارطریقےسےرورہی تھی

اورعاشق صاحب اورباقی سب گھروالےاسےچپ کرانےمیں مصروف تھےمگروہ چپ ہوکےہی نہیں دےرہی تھی

کیاہواجیاتم روکیوں رہی ہو؟مریم نےاسکےپاس بیٹھتےہوئےپوچھاجیاجورورہی تھی اسکےگلےلگ گئی

آپی وہ

اسسےشدتِ غم سےبولابھی نہیں جارہاتھا

کیاہواآخربتاؤگی

مریم نےابکی بارغصےسےکہا

میں بتاتی ہوں

اقانےاسےپوری بات بتائی کےTVپربلاول بھٹوزرداری کی تقریرچلرہی تھی توجیانےاسکےہاتھ میں رنگ دیکھ لی تھی اسےلگتاہےکےبلاول کی شادی یامنگنی ہوگئی ہےتبسےابتک روئےجارہی ہے

کیاجیاتمہارادماغ خراب ہےکیااگرانکی منگنی ہوئی ہوتی تومیڈیااسبات کوچھپی رہنےدیتاکیاپہلےتومریم کوبھی سنکرحیرانی ہوئی تھی مگراسنےخودپرقابوپالیاتھا

پرآپی اسنےمنگنی کرلی

اسنےروتےہوئےکہا

شٹ اپ جیاایک دم چپ اگرتم اب روئی ناں تومیں تمہیں بالکونی سےالٹالٹکادونگی سمجھی

جیاکارونااسی وقت بندہوگیاتھاکیونکےوہ جانتی تھی کےمریم ایساکرسکتی ہےجبکےصوفےپرسب سےلاتعلق بیٹھاعمران چونک گیاکیونکےاسنےمریم کواسطرح بولتےپہلی بارسناتھااوراسکےلبوں پرمسکراہٹ آگئی

کیوں رورہی تھی اگرانکی منگنی ہوبھی گئی ہےتوتمہیں کیااورتمہارےپاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہےاسبات کاکےانکی منگنی ہوئی ہےاسنےاسسےکہا

رنگ پہنی تھی بلاول نےجیامنمنائی

جیاپہلی بات تویہ کےوہ تمسے22سال بڑےہیں اوردوسری بات کےرنگ پہنناتوآجکل کافیشن ہےاسسےیہ بات توثابت نہیں ہوتی ناں کےاب ہرکوئ منگنی شدہ ہےاب دیکھوکچھ لوگ منگنی ہونےکےباوجودرنگ نہیں پہنتےجیسےمیری منگنی ہوگئی ہےمگرپھربھی

بولتےبولتےاسےیکدم بریک لگی اسےاپنی غلطیاحساس ہوااسنےسبکی طرف دیکھاجہاں سبہی شاکڈتھےعمران اوررضیہ بیگم توکچھ زیادہ ہی تھیں

مگر آپکی منگنی تو ختم ہوگئی ہے ناں عمران نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا

وہ بظاہر بےپرواہ سا دکھنےوالا شخص بلکل بےپرواہ نا تھاخاص کر اسکے معاملےمیں

جی مما وہ میں کہرہی تھی کے کھانا لگادیں بہت بھوک لگی ہے جیا تو شاید بلاول بھٹو کی منگنی سے کھا آئی ہوگی

اسنے جیا کے سرپر ہلکی سی چپت لگاکر کہا تھا

اسکی بات سے سب ہنسنےلگگئے وہ یہی تو چاہتی تھی کے سب نارمل رہیں

مگر عمران اپنی بات کا جواب نا پاکر سوچ میں پڑگیا

ابھی لائی

وہ کہکر اٹھ گئیں

بری بات آپی وہ آپسے 13سال بڑے ہیں

انکی عزت کریں

جیا کہاں پیچھے رہنے والی تھی اسلیے اسکی ہی بات اسپر لوٹا دی

وہ اسکے بال بگاڑ کر رہ گئی

@@

رات میں اسے نیند آہی نہیں رہی تھی

وہ سوچرہی تھی کے کوئی اتنا کیسے گرسکتا ہے

خیر اسسے اسسےاور توقع بھی کیا کی جاسکتی تھی

وہ کروٹ پر کروٹ بدلرہی تھی

جب اسے آذان کی آواز سنائی دی

وہ آرام سے اٹھی تاکے اقا ڈسٹرب نا ہوجائے اور نماز اداکرکے لیٹ گئی

بیشک کلام الٰہی میں سکون ہوتا ہے اسلیے مریم کی آنکھ لگ گئی

@@@

شانی شانی اٹھ جاؤاب

کالج نہیں جاناکیاسات بجگئےہیں اقانےاسےہلاتےہوئےکہااورتمنےمیڈیسنزبھی نہیں لیں

مریم تم لاپرواہ کیسےہوسکتی ہواقانےغصےسےکہا

کیاتمنےمجھےاٹھایانہیں

مریم نےبسترسےنکلتےہوئے

اٹھایاتھامیڈم ساری رات توجاگتی رہی ہواب جلدی اٹھتی بھی کیسے

کپڑےنکالتی مریم کےہاتھ رک گئے

رک کیوں گئی میڈم میں دیکھرہی تھی تمہیں کےتم کیسےساری رات کروٹیں بدلرہی تھی

اک بات پوچھوں

اقانےرازدرانہ اندازسےکہاکہیں تمہیں محبت تونہیں ہوگئی ناں

وہ شرارت سےکہتی آگےآگےاورمریم اسکےپیچھےپیچھے

فضول بکواس ناکیاکرواقاتمہاری یہ فضول باتیں میرادماغ خراب کردیتی ہیں

ویسےشانی ایک بات بتاو

اسنےسنجیدگی سےکہا

ہاں بولو مریم نے جوتے نکالتے ہوئے کہا

ویسے جس چیز کا تم نام لے رہی ہو وہ ہے تم میں

وہ شرارت سے کہکر بھاگ گئی

اور جب مریم کو سمجھ آئی تو اقا کے پیچھے بڑھی

تقریباً پانچ منٹ تک اسکے پیچھے بھاگنے سے

مریم ہانپ گئی تھی

وہ کرسی پر بیٹھ گئی

اسکی سانس پھول گئی تھی

اقا کو اسپر ترس آگیا

وہ لڑکی دو دو گھنٹے واک اور دوڑ کیا کرتی تھی آج پانچ منٹ میں ہی تھک گئی

اچھا اقا مجھے لیٹ ہورہا ہے تو

ہاں ٹھیک ہے اقا اسکی بات کا مطلب سمجھ گئی تھی اسیلیے سکی بائیک نکالنے چلی گئی

@@

اف یہ ٹریفک بھی ناں

اسنےاکتاکرکہا

اتنے میں ایک کار جو بڑی سپیڈ سے آرہی تھی دوسری کھڑی کار میں لگ گئی

اسمیسے سے ایک لڑکا نکلا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے انکل کا گریبان پکڑ لیا

سارے لوگ تماشہ دیکھنے لگ گئے

وہ نکل سوٹ بوٹ پہنے شریف سے آدمی لگرہے تھے

وہ اس لڑکے کو کچھ کہہ رہے تھے جبکے وہ لڑکا انسے بدتمیزی سے بات کررہا تھا

اتنے میں انکل کے ساتھ آنٹی نکل آئیں انہوں نے اس لڑکے کو کچھ سمجھانے کی کوشش کی تو انسے ہی زبان درازی کرنے لگا

آنٹی نے اسے کچھ کہا تو اسنے آنٹی کو دھکا دیدیا

آنٹی گر جاتیں اگر مریم انہیں نا پکڑتی

او ھائی صاحب آپکو ذرا تمیز نہیں ہیں کسی سے بات کرنے کی

مریم نے اس لڑکے سے کہا

ابے او نہیں ہے کیا کرلے گی

دیکھو لڑکے تمیز سے بات کرو اس بچی سے

انکل نے غصے سے کہا

ابے او بڈھے اگر ام نا کرے تو توں کیا کرے گا

اسنے انکا گریبان پکڑ کر جھٹکا دیا

اور توں لونڈیا

کسی کے معاملے میں مت بول

کیا بکواس کی تمنے

مریم نے چلا کر کہا

لونڈی کہا تجھے

جو کے توں

اسکی بکواس کو مریم کے تھپڑ نے لگام دی

ابے تیری تو

وہ اسے مارنے کوبڑھا لیکن مریم نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا

ابے او لوفر سوچنا بھی مت

وہ کوئی اور لڑکیاں ہونگیں جو تجھسے ڈر جاتی ہونگی

میں نہیں ہوں اور اگر تونے بدتمیزی کی ناں تو تیرے ساتھ اچھا نہیں کروں گی

مریم نے بیگ کی زپ کے ساتھ لٹکتے چھوٹے سے چاقو نکال کے کہا

ابے اسسے کیا کرے گی

ابے اسسے تیرا گلا تو کٹ ہی جائے گا ناں

تیری تو وہ آگے بڑھا ہی ھا کے مریم نے اسکے بازو پر کٹ لگادیا

بیٹا

انکل آپ چپ رہیں ان جیسے لوگوں کو ہینڈل کرنا میں جانتی ہوں

ابے کتتیا اسنے مریم کو گردن سےدبوچ کر غرایا

ابے سالے چھوڑ

اگر نا چھوڑوں تو وہ احتزائیہ ہنسی ہنستا بولا

مگر اگلے ہی لمحے تلملا کر رہ گیا

کیونکے مریم نے اسکی ٹانگوں کے بیچ میں ٹانگ ماردی تھی

آنٹی حیرت سے منہ کھولے کھڑی تھیں

وہ لڑکا گرتا چلاگیا

چلیں انکل آنٹی

میں چلتی ہوں اور یاد رکھیے گا ہمیشہ کے ٹیڑھے لوگوں کے ساتھ اسطرح ہی پیش آتے ہیں

اسنے مسکرا کر کہاوہ دونوں بھی مسکرادیے

جیتی رہو بیٹا

وہ نسے پیار لیکر بائیک چلاکر چلی گئی

ماشاء اللّٰہ شاہین کتنی پیاری بچی ہے

جی حسین بہت اچھی ہے کاش ہماری بیٹی بھی اسطرح نڈر ہوتی

شاہینہ بیگم نے مسکرا کر کہا

@@

وہ کالج پہنچی ہی تھی کےاسےپارکینگ میں ہی فیض مل گیاوہ اسےنظراندازکرتی آگےبڑھی ہی تھی کےاسنےاسکاہاتھ پکڑلیامجھےتمسےبات کرنی ہے

چھوڑومیراہاتھ اورمجھےتمسےکوئی بات نہیں کرنی

مریم نےاسےپیچھےدکھیلتےہوئےکہا

مگرمجھےتوکرنی ہےناں اسنےپھرکہا

تودیواروں سےکرلویاان گاڑیوں سےکرلوبات مجھےتمسےبات نہیں کرنی بس😗

وہ کہکرجانےلگی اسنےاسکاراستہ روک دیا

تمہیں سمجھ نہی آتی ایک بارکیااسنےناگواری سےکہا

نہیں

مقابل بھی ڈھیٹوں کاسردارتھا

توناآئےمجھےکیاوہ کہکرسائیدسےنکلنےلگی تواسنےاپنی ٹانگ اڑادی اسکےراستےمیں

وہ منہ کےبل گرتواسنےہنستےہوئےتالی بجاکرکہادیکھودیکھوسب موٹی گرگئی

سب اسکی بات سےہنسنےلگےمریم اٹھنےلگی جب پھسل کردوبارہ گری

اسنےقہقہہ لگایامریم کوشدیدغصہ آیااسنےکہااگرتم ہنسنابندنہیں کروگےتومیں

اوہوموٹی دھمکی بھی دیتی ہےاسنےاسکامذاق اڑایاکیاکرلیگی توں یاں

اٹھاتوجانہیں رہااوردھمکی دےرہی ہےوہ اوربھی زورسےہنسا

مریم اٹھی

مطلب کےتمہیں میری بات سمجھ نہی آئی

جی بلکل نہیں آئی اسنےاسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہا

اسنےاسکاہاتھ دوبارہ پکڑلیابتاؤکیاکروگی اب

نےایک ہاتھ سےبوتل نکالی اسسےہاتھ چھوڑاتےہوئےمگرابکی باراسکی گرفت مضبوط تھی

مریم نےاپنےالٹےہاتھ سےجوکےمریم کیلیےتوسیدھاہی تھاسےاسکےسرپربوتل ماری

چونکےبوتل سٹیل کےمیٹیریل سےبنی ہوئی تھی اسلیےکچھ زیادہ ہی زورسےلگی

فیض کودن میں ہی تارےنظرآگئےوہ وہیں پرگرساگیاتھاعلی اورمحسن اسےاٹھاکرہسپتال لےگئےاورمریم بھی وہاں سےچلی گئی تھی

آج صبانہیں آئی تھی اسلیےوہ لیکچرلیکرلائبریری کی جانب جانےلگی کےپیون نےآکراسےارشدصاحب کےبلاوےکاکہا

@@

وہ جب پرینسیپل آفس پہنچی توارشدصاحب پریشانی کےعالم میں کسی سےبات کررہےتھےمریم سائیڈپرہونےلگی جب انکی نظراسکی طرف گئی

مریم

مریم نےروم کادروازہ کھول کرکہا

مےآئی کم ان سر

یس کم ان

انہوں نےپیشہ وارانہ اندازسےکہا

مریم دروازہ کھولکراندرداخل ہوئی

سرآپنےبلایاتھامجھےوہ کالج میں انہیں سرہی کہتی تھی

جی مس مریم آپسےمسٹرفیض کےپیرنٹس ملنےآئےہیں

انہوں نےکرسی کیطرف اشارہ کرتےہوئےکہا

وہاں پروہ دوآدمی اورایک عورت تھی آدمی اورعورت کووہ پہچان گئی تھی اوردوسراآدمی کوئی اورنہیں فیض ہی تھا

االسلام وعليكم

اسنےانہیں سلام کیا

وعليكم والسلام بیٹااندونوں نےخوشدلی سےکہا

مریم ارشدصاحب نےکہا

جی سراسنے

کہا

بیٹاآپنےکیوں فیض کےسرپربوتل ماری

سراسنےمیرےساتھ بدتمیزی کی تھی

پوچھ سکتاہوں کیاکہاتھااسنےجوتم نےاسےماراانہوں نےسپاٹ لہجےمیں پوچھا

سراسنےصبح میراراستہ روکااورمریم نےانہیں ساری بات بتادی

فیض بیٹایہ توغلط کیاآپنےانہوں نےاسےکہااورمریم آپکوبھی ایسانہیں کرناچاہیےتھا

سوری سر

سوری مجھےنہیں فیض کوبولو

سرمجھےنہیں لگتاکےمینےکچھ غلط کیاہےجومجھےسوری کرناچاہیے

مریم انہوں نےرعب سےکہا

اوکےسراسنےکہااورفیض کی جانب متوجہ ہوئی

سوری فیض اسنےہلکی آوازسےکہا

کیاکہامجھےسنائی نہیں دیااسنےجان کرکہا

مینےکہاسوری اسنےابکی بارقدرےزورسےکہا

اوہوں اسنےکان کی جانب اشارہ کیا

سوری اسنےاب غصےسےکہاحسین صاحب کوبھی اسکی بات ناگوارگزری

نہیں سنااسنےآنکھ مارکےکہا

چٹاخ

مریم نےاسکےکان پرتھپڑدےمارااورسوری کہااب توسنائی دیاناں وہ کہکرارشدکی جانب مڑی سرمیری کلاس ہےتو

جی آپ جاسکتی ہیں

انہیں اسکےپرانےاندازمیں بولنےپرخوشی ہوئی تھی

شکرہےمیرےمولاانہوں نےدل میں اللّٰہ کاشکراداکیا

حسین صاحب کووہ لڑکی کافی امپریسڈکرچکی تھی

انہیں خوشی ہوئی اسسےملکےاوریہی حال شاہینہ بیگم کابھی تھاانہیوں نےسوچاکےیہ لڑکی انکےبیٹےکوسدھاردےگی

دیکھاسرآپنےکتنی بدتمیزہے

فیض خاموش ہوجاوشاہینہ بیگم نےکہاغلطی تمہاری تھی

تمنےاسےاکسایاتھاوہ توبہت پیاری بچی ہے

آپ مل چکی ہیں مریم سےارشدصاحب نےجوش سےپوچھا

جی بھائی صاحب صبح اس بچی نےہماری مددکی تھی

اورانہوں نےساری بات انکےگوشگزارکی

اسکےوالدین بہت خوش قسمت ہیں جنہیں اللّٰہ نےایسی اولادسےنوازاہے

بلکل جی

ہنہ

فیض منہ بناکروہاں سےچلاگیااسسےکہاں برداشت ہوتاکےاسکےوالدین اسکی دشمن کی تعریف کرتےمگریہ دشمنی کب تک تھی کون جانتاتھاوقت مسکراتاہواگزرگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *