Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 24)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 24)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
مریم کا آج آخری ٹیسٹ تھا
اور کل فوزیہ کی منگنی تھی
وہ فیض سے کتراتی پھرہی تھی
مما نے اسکے کافی مجبور کیا کے آج وہ انکے ساتھ شاپنگ پر چلے
جس سے وہ راضی ہوگئی تھی
@@@
سب تیاریوں میں مصروف تھے
اقا اور رضیہ بیگم فوزیہ کیساتھ ساری شاپنگ کر آئی تھیں
شاپنگ کرنے سے انہیں کافی تھکاب ہوگئی
جسکے بعد وہ کھانا کھاتے ہی سو گئیں
@@
آخر وہ دن آہی گیا
جب فوزیہ کی منگنی تھی
شاہینہ بیگم نے اپنے گھر پر یہ رسم کرنے کہا تھا جسے
انہوں نے قبول کرلیا تھا
مریم اقااور جیا بائیک پر جبکے عاشق صاحب رضیہ بیگم آصف اور فوزیہ کار میں گئے تھے
لان میں سب ارینجمینٹ ہوئے تھے
پورا گھر جگمگا رہا تھا
سب خوش تھے
وہ کناکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا
تھوڑی دیر بعد تقریب کا آغاز ہوا
شاہینہ بیگم کے اسرار پر اقا اور مریم نے
پریم رتن دھن پایو پر ڈانس کیا تھا
وہ دونوں ہی ریاست کی شہزادیاں لگ رہی تھیں
ایک نے انگوری اور کالے رنگ کی فراق ظیب تن کی تھی تو دوسری نے کالے اور پیلے رنگ کی
فوزیہ نے عثمان کی پسند کا نیلا اور سرخ رنگ کے امتجاز کا گھیرے دار فراق پہنا تھا
وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
منگنی کی رسم ہوگئی تھی دونوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنا دی تھیں
فوزیہ بہت خوش تھی
اسے خوش دیکھ کر سب ہی خوش اور مطمئن تھے
کھانے کے بعد نکاح کی رسم ہوئی
مریم سمیت سب کی ہی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے
سب نے اسکی دائمی خوشیوں کی دعا کی تھی
منگنی اور نکاح کے دو ہفتے بعد انکی شادی تھی
عاشق صاحب نے ان سے اجازت لے لی تھی
اسیلیے وہ گھر کیلیے نکلنے لگے کے اقا نے کہا
پھپھو ماموں میں کار چلاوں گی
اسکی فرمائش پر مریم نے اسے بہت منع کیا مگر وہ نا مانی
ٹھیک ہے اقا مگر سنبھل کے چلانا
فوزیہ نے کہا
ارشد صاحب کی کار میں جگہ نہیں تھی اسیلیے وہ انکے ساتھ آگئے
اقا کے ظد کرنے سے پتا نہیں مریم پریشان سی ہورہی تھی
مگر اقا اپنی بات پر قائم رہی
اسیلیے
وہ سب کار میں اور مریم جیا اور رضیہ بیگم بائیک پر آگئے
راستے میں مریم نے پٹرول بھروانے کیلیے بائیک روکی تھی
اسے اپنے پیچھے کار نظر ہی نہیں رہی تھی
تقریباً آدھا گھنٹہ وہ انتظار کرتی رہی مگر کار نا آئی
جیا کے اسرار اور
رضیہ بیگم کی طبیعت کیلیے وہ گھر کی طرف روانہ ہوگئے
وہ بھی اتنی رات گئے تک یوں سڑک پر کھڑا ہونا نہیں چاہتی تھی
@@@
مما وہ لوگ ابھی تک نہیں آئے
اسنے گھڑی پر نگاہ دوڑائی تو وہ رات کے بارہ بجارہی تھی
اسنے عاشق اور ارشد صاحب کو کئی کالز کیں
مگر وہ فون اٹھاکے ہی نہیں دے رہے تھے
مریم بار بار کال کیے جارہی تھی
@@
بیل کی آواز سن کر وہ اٹھی
وہ ان سب کا انتظار کرتے کرتے کاؤچ پر ہی سوگئی تھی
جیا اور رضیہ بیگم کو وہ کب کا سلا چکی تھی
ابھی اسکی آنکھ لگی ہی تھی کے بیل بج گئی
وہ دروازہ کھولنے گئی تو آگے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں
اس سے پہلے کے وہ گرتی پولیس والے نے اسے سنبھال لیا
وہ ہوش و ہواس سے بے گانہ ہوگئی تھی
ایسا نہیں تھا کے وہ کمزور اعصاب کی مالک تھی
مگر سامنے والا منظر بھی تو کوئی بیٹی بہن برداشت نہیں کرپاتی ناں۔
_______
مریم ہوش و حواس کی دنیا میں نہیں تھی
اس سے پہلے کے وہ گر جاتی
زوار(پولیس والا)
نے اسے پکڑ لیا
جیا جو پانی پینے باہر آئی تھی گھر میں انجان آدمی کو دیکھ کر گھبرا گئی
وہ اس طرف آئی
جبھی اسکی نظر بے ہوش مریم اور عاشق صاحب اور آصف پر پڑی
اسکے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا
عاشق صاحب نے بڑی مشکل سے مریم کو سہارا دیا اور اسکے روم میں لے آئے
رضیہ بیگم جو کے گلاس کی آواز سے باہر آئیں
ان دونوں باپ بیٹے کو دیکھ کر حیران رہ گئیں اور پولیس والے اور عاشق صاحب کے سہارے میں جاتی بے ہوش مریم کو دیکھ کر بھی
او میرے اللّٰہ یہ کیا ہوگیا
وہ جلدی سے اندر بھاگیں
جیا بھی انکے پیچھے اندر گئی
فوزیہ اور اقا بھی کمرے میں آگئیں
آپ بتائیں گے ہوا کیا ہے؟
آپ کچھ بولتے کیوں نہیں
انہوں نے زخمی عاشق صاحب کو کہا
میڈم ابھی صرف بچی و ہوش میں لانا ہے کچھ کریں
زوار نے کہا
اور رضیہ بیگم پانی لائیں
جسکے چھڑکتے ہی مریم ہڑبڑاکر اٹھ بیٹھی
ڈیڈی کیا ہوا آپکو اور بھائی کو آپ کی یہ حالت کس نے کی
مریم نے روتے ہوئے ان سے پوچھا
بیٹا وہ ہم آرہے تھے تو ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اسیلیے چوٹیں آئیں
انہوں نے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا
جو انہیں بے یقینی سے دیکھ رہی تھی
پکا یہی بات ہے ناں؟
اسنے ان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
ہاں بچے یہی بات ہے
رضیہ بیگم بھی مطمئن نا ہوئیں تھیں
انہیں کسی طوفان کے آنے کا مکان ہورہا تھا
ابھی میں چلتا ہوں سر پر آپ
جی جی میں آجاؤں گا
عاشق صاحب نے زوار کی بات کاٹ کر کہا
اوکے
وہ کہکر باہر جانے کیلیے بڑھا ہی تھا کے
دروازہ بجا
وہ جلدی سے باہر آیا تو کوئی آدمی تھا
عاشق صاحب نے بھی کچھ محسوس کیا اور اقا کو اشارہ کیا جو کمرے سے ملحکہ باتھ روم میں چلی گئی
مریم نے اسکا اچانک جانا نوٹ کیا مگر کہا کچھ نہیں
پھر عاشق صاحب نے رضیہ بیگم کو باہر آنے کا اشارہ کیا اور فوزیہ سے مخاطب ہوئے
فوزیہ آپ مریم کے پاس ہی رک جائیں
فوزیہ بھی باپ کا اشارہ سمجھ چکی تھی اسیلیے اثبات میں سر ہلاکر بیٹھ گئی
وہ تینوں کمرے سے چلے گئے جب جیا مریم کی گود میں آگئی
آپی آپ لوگ اتنا لیٹ ہوگئے تھے کے مما اور شانی پریشان ہوگئے تھے
جیا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا
جیا بیٹا آپ جاؤ مریم نے اسے اپنے پاس لٹاتے ہوئے کہا
جبھی باہر سے آتی آوازیں تیز ہوگئیں
آپی یہ کون اتنااونچا بول رہا ہے
فوزیہ کا چہرہ سفید ہوگیا
وہ جو بات انسے چھپانے کی کوشش کررہے تھے وہ انکے سامنے آنے والی تھی
مریم رکو تم کہاں جارہی ہو
فوزیہ نے کہا
آپی باہر اتنا
شانی چپ کرکے بیٹھو بابا نے منع کیا ہے ناں پھر
مجھے جانے دیں
مریم نے ہاتھ چھڑاتے کہا
بلکل نئی
شانی تم نی جاوگی
اسنے اسے منع کیا
مطلب آپ جانتی ہیں کے کون آیا ہے؟
مریم نے اسسے پوچھا جسکے چہرے پر ایک رنگ آکر گیا
آپی آپکو قسم ہے بتائیں کیا ہوا ہے
مریم نے اسکا ہاتھ اپنے سر پر رکھکے کہا
اسنے اپنا ہاتھ پیچھے کرنے کیلیے کھینچا مگر مریم نے اسکا ہاتھ اپنے سر پر جمائے رکھا
پلیز آپی
اسنے منت
اور پھر فوزیہ نے اسے روتے ہوئے بتایا
@@@@
وہ لوگ جب چلے گئے تب اقا نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی
وہ بڑے دھیان سے چلارہی تھی
وہ لوگ ابھی آدھے سے بھی کم راستے پر تھے کے اندھیرے کو بجا لاتے ہوئے اسنے رفتار تھوڑی تیز کرلی
گاڑی ایک میل ہی آگے بڑھی ہوگی کے سامنے سے ایک ٹرک آرہا تھا
اقا نے حادثے سے پچنے کیلیے کار بائیں جانب گھما دی
مگر قسمت کے آگے کس کی چلتی ہے
وہاں بھی سامنے سے بائیک آرہی تھی اقا کی گاڑی اس سے ٹکرائی تو وہ بندہ توازن کھو بیٹھا اور نیچے گر پڑا
اسکے پیر کے اوپر سے گاڑی گزر کر درخت سے ٹکرا گئی
جس سے پچھلے دروازہ کھلا اور وہ تینوں نیچے آن گرے
وہ تینوں کافی زخمی ہوئے مگر اس لڑکے کو بچانا بھی ضروری تھا
وہ دونوں باہر نکلے اور اسے اٹھایا
اقا کافی سہم گئی تھی
وہ تو شکر تھا کے گاڑی کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا اسیلیے عاشق صاحب ڈرئیونگ کرتے اسے ہسپتال لے آئے تھے
اس لڑکے کی حالت کافی خراب تھی
ڈاکٹروں نے کہا کے یہ پولیس کیس ہے
اسلیے پولیس کو کال کردی گئی تھی
پولیس والے نے بیان لیا تھا
ابھی تک اس لڑکے کو ہوش نا آیا تھا
مگر اسکی جان بچ چکی تھی
اسکے فون سے انسپیکٹرزوار نے اسکے گھر کال کردی تھی
اسکے گھر والے ہسپتال آرہے تھے
زاوار نے انہیں تسلی دی تھی کے وہ لوگ ہمت رکھیں اور زیادہ مسلہ نہیں ہوگا
مگر اس لڑکے کے بھائی نے جب اپنے بھائی کا پوچھا اور پاپا کیطرف دیکھا تو پہلے تو چونک گیا پھر اسنے زوار سے کہا کے ان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے
ماموں نے مجھے اور اقا کا کمرے سے باہر لابی میں بھیج دیا تاکے وہ ہمیں نا دیکھ سکے
اور اسکے بعد کی بات تمہارے سامنے ہے شانی
فوزیہ نے گہرا سانس لیکر کہا
آپی اتنا سب ہوگیا اور آپ نے بتایا نہیں
مریم نے شکوہ کیا اوراقا کو باہر بلایا
اقا جلدی باہر آؤ
وہ گھبراتی باہر نکلی
چٹاخ
تمہیں مینے منع کیا تھا نا کے تم رات میں کار مت چلانا
مگر تم نے ایک نا سنی
وہ تو شکر ہے وہ لڑکا بچ گیا اور تم جیل جانے سے بچ گئیں
مریم نے ایک تھپڑ لگاکر سے جنجھوڑ کر کہا
بچی نہیں مریم
میں نہیں بچی
وہ کہرہا ہے کے جسنے ایکسیڈنٹ کیا ہے اسے سزا ملنی چاہیے
اقا روتے ہوئے اسکے گلے لگ گئی
اچھا چپ کرو اقا بس
میں دیکھتی ہوں
تم آرام سے بیٹھ جاؤ
میں سمجھاوں گی اسے
اگر وہ نا مانا
اقا نے کرسی پر بیٹھ کر کہا
اگر نا مانا تو میں سارا الزام خود پر لیلوں گی
شانی
فوزیہ چلائی
آپی زیادہ سے زیادہ وہ کیا کرے گا
مجھے جیل میں ڈال دے گا
ویسے بھی مجھے جیل دیکھنے کا شوق تھا
پھر کیا ہوا اگر آفیسر بن کر نا جاسکی
شانی
چپ اقا اب مجھے دیکھنے دو
وہ باہر نکل گئی جبکے فوزیہ اسے روکتی رہ گئی
وہ باہر آئی تو عاشق صاحب اور آصف اسکی منتیں کررہے تھے
زوار بھی الگ پریشان تھا
ایکسکیوزمی
جونکے مریم کیطرف اسکی پیٹھ تھی اور اسے مخاطب کرنے کیلیے کہا
پانچوں نفوسوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا
عاشق صاحب جلدی سے آگے بڑھے
وہ لڑکا مریم کو دیکھ کر حیران ہوگیا تھا
اور یہی حالت مریم کی بھی تھی
عاشق صاحب نے اسکے چہرے پر غصے کا اثار واضع دیکھے تھے
تم؟
وہ دونوں ایک ساتھ بولے
تم میری گھر پر کیا کررہےہو
مریم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا
وہ شخص کوئی اور نہیں بلکے وہی تھا جسکا حسین صاحب سے جھگڑا ہوگیا تھا
آج بھی اس کے چہرے پر کیلوں کا شان واضع تھا
OH I SEE
وہ طنزیہ ہنسا
یہ تمہارا گھر ہے
اور یقینن یہ بڈھا تمہارا باپ ہوگا
اسنے عاشق صاحب کی طرف اشارہ کیا
ابے او تمیز سے رہ
مجھے پہلے ہی شک تھا مگر آج یقین ہوگیا ہے کے تمہاری پرورش اچھی نہیں کی گئی
مریم نے اسسے کہا
چلو اٹھو اور نکلو
مریم نے اسے بازو سے پکڑ کر باہر نکلنے کا کہا
زوار اس لڑکی کو دیکھ رہا تھ
جو بیس منٹ پہلے ہواس باختہ ہوگئی تھی اب کیسے اسسے بات کررہی تھی
شانی
بیٹا کیا آپ اسے جانتے ہیں؟
رضیہ بیگم نے پوچھا
جی مما
بہت بدتمیز ہے یہ
اور پھر مریم نے انہیں سب بتادیا
زوار کی ہنسی نکل گئی
ارے تم ابھی تک گئے نہیں
مریم نے اسکی طرف مڑ کر کہا
جارہا ہوں
اور تم
تم دونوں سے تو میں جیل میں ملوں گا
ولی کا کا وعدہ ہے تمسے
اسنے ایک نظر مریم پر ڈالی
مریم گھبراگئی
ایک منٹ
تم میرے ڈیڈی اور بھائی کو کس بناء پر جیل میں ڈالو گے
او مس بدتمیزی کی دکان
تمہارے باپ نے میرے بھائی ہادی کا ایکسیڈنٹ کیا ہے
اور مینے F I R
درج کروادی ہے
اور میرے اتنے کانٹیکٹس ہیں کے تمہاری فیملی بھی چکی پیسے گی
مریم نے زوار اور عاشق صاحب کیطرف دیکھا
جنہوں نے ہاں میں سر ہلایا
مریم گھبراگئی تھی
تم بیٹھ کر اس مسلئے کا حل بھی ڈھونڈ سکتے ہو
تمہارا بھائی اللّٰہ کے فضل سے بچ گیا ہے
اسلیےتم
اچھا تو تم مجھسے ڈیل کررہی ہو
ٹھیک ہے سوچتا ہوں
مریم کو تھوڑا اطمینان ہوا
ویسے میرے بھائی نے بتایا کے لڑکی گاڑی چلا رہی تھی
مگر یہ کہہ رہا ہے میں چلارہا تھا
ایک سال کی سزا تو اسکے جھوٹ بولنے پر بھی ہوگی
اسنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا
مریم نے انہیں دیکھا
جو اقا کو بچانے کیلیے اپنی جان جو کھپ میں ڈال رہے تھے
کار میں چلارہی تھی
مریم جب بولی تو سب اسکی طرف دیکھنے لگ گئے
او مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا
وہ مسکراتے ہوئے بولا
ہاں اب بتاؤ
کوئی حل نکال سکتے ہو
اسنے جو بات کی مریم کا دل کیا اسکا سر ہی پھاڑ دے
ٹھیک ہے میں یہ کیس واپس لےلیتا ہوں
پر تمہیں مجھسے شادی کرنا ہوگی
کیا
مریم چلائی
اوہ مس تمہیں شادی تو مجھسے کرنی ہی پڑے گی اگر نا کی تو تمہاری پوری فیملی جیل میں چکی پیسے گی
اسنے اسکے چہرے کے اڑتے رنگوں سے محفوظ ہوکر کہا
یہ کیا بکواس کررہے ہو
میں تمسے شادی کروں گی یہ تمہاری سوچ ہے
مریم نے غصے سے کہا
زوار کو آفس سے فون آگیا تو وہ معذرت کرکے چلاگیا
جی کرو گی تم مجھ سے شادی
اسنے اپنی طرف انگلی کرکے کہا
ولی تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ سب بکواس کرنے کی
عاشق صاحب نے اسے گریبان سے پکڑ کر کہا
ہمت تو مجھ میں بہت ہے
اور تمہاری بیٹی سے شادی تو ہم کرکے ہی رہے گا
اسنے انکا ہاتھ جھٹک کر مریم کا ہاتھ پکڑ کر کہا
چٹاخ عاشق صاحب نے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا اور آصف نے آکر مکا
ولی بوکھلا ہی گیا تھا
اسکا بدلا تو تم لوگوں کو ساری عمر چکانا پڑے گا
یہ کہکر اسنے عاشق صاحب اور آصف کو گریبان سے پکڑ لیا
مریم نے اس پر مکوں کی برسات کردی مگر اسنے اسے دھکا دے دیا
آواز سن کر باہر سے اسکے گنڈے بھی آگئے
ولی کے کہنے پر انہوں نے رضیہ بیگم کو بھی اقا وغیرہ کے کمرے میں بند کردیا اور کنڈی لگادی
اور ان لوگوں نے انہیں مارنا شروع کردیا اور ولی صوفے پر بیٹھ کر تماشہ دیکھنے لگا
مریم نے گلدان اٹھا کر ایک کے سر پر دے مارا
ولی نے جلدی سے اسے دبوچ لیا
چھوڑو میری فیملی کو ولی میں تمہارا خون کردوں گی
اسنے اسکے پیر پر پیر مارکے کہا
ابے مار اسکے باپ کو
اگر تمنے ہاں نا کہی تو سی طرح یہ پٹتے رہیں گے
اسنے مریم کا بازو مڑوڑا
مریم نے عاشق صاحب اور اپنے بھائی کیطرف دیکھا
جو خون سے بھر گئے تھے
مگر وہ پھر بھی انہیں ماری جارہے تھے
