Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 11,12)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 11,12)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
مماآپ میرےکپڑےنکال دیں میں جاوں گی مریم نے رضیہ بیگم سےکہاجواقاکےکپڑےپریس کررہیں تھیں انہوں نےچونک کر اسکی طرف دیکھا
عتیق کی مسکراہٹ نےوہیں دم توڑدیا
ارےتمہیں کیاہواہےتمہاری بات مان رہی ہوں تو تیاری کروناں میری بہن کی منگنی کی
اسےتومانوسانپ سونگھ گیاتھا
مریم مجھسے اتنی نفرت کرتی ہے کیا
اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں،
اپنے گزرے ہوئی ایام سے نفرت ہے مجھے۔
اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں،
اپنی بے سود اُمیدوں پہ ندامت ہے مجھے۔
میرے ماضی کو اندھیرے میں دبا رہنے دو،
میرا ماضی میری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
میری امیدوں کا حاصل میری کاوش کا صلہ،
ایک بے نام اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
کتنی بے کار امیدوں کا سہارا لے کر،
میں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر۔
کتنی بے ربط تمناؤن کے مبہم خاکے،
اپنے خوابوں میں بسائی تھے کس کی خاطر۔
مجھ سے اب میری محبت کے فسانے نہ کہو،
مجھ کو کہنے دو کہ میں نے انہیں چاہا ہی نہیں۔
اور وہ مست نگاہیں جو مجھے بھول گئیں۔
میں نے ان مست نگاہوں کو سراہا ہی نہیں۔
مجھ کو کہنے دو کہ میں آج بھی جی سکتا ہوں،
عشق ناکام سہی، زندگی ناکام نہیں۔
ان کو اپنانے کی خواہش انہیں پانے کی طلب،
شوق بے کار سہی، سعی غم انجام نہیں۔
وہی گیسو، وہی نظریں، وہی عارض، وہی جسم،
میں جو چاہوں تو مجھے اور بھی مل سکتے ہیں۔
وہ کنول جن کو کبھی ان کے لیے کھلنا تھا،
ان کی نطروں سے بہت دور بھی کھِل سکتے تھے
۔@@
مریم سوچ لوبیٹاعاشق صاحب اوررضیہ بیگم نےکہا
مماپاپاآپ توجانتیں ہیں ناں پھر بھی اورمیں اسسےشادی نی کروں گی اور سب سےبڑی بات کے وہ دونوں ایکدوسرےکوپسندکرتےہیں اسلیےمینےسوچاکےکیوناں کسی کابھلاہی ہوجائے۔وہ کہکراٹھگئی
@@@@
ہاں ہوگئی ہےمیری بات اسسےاب وہ انکارنئی کرپاےگاتم فکرمتکروثناءسب اچھاہی ہوگا۔مریم نےفونپرکہا
میں تمہاراشکریہ کس منہ سےاداکروں مریم تمنےمیرےلیےاپنےپیارکی قربانی دی۔اوراک میں ہوں جوہمیشہ تمہارابراہی سوچتی رہی مجھےمعاف کردوپلیز۔ثناءنےروتےہوےکہا
کوئی بات نی ثناءتم ایسےمت کہواورہاں اپنی منگنی کی تیاری کرومریم نے اسےآرام سےکہامگراسکےاندرکی توڑپھوڑسےوہ خودبھی پریشان اورحیران تھی۔اوکےبائےمریم نےکہکےفون بندکردیا۔
تت تت مریم تمبھی ناں کتنی بےوقوف ہوکتنی تمہیں توبےوقوف بنانااتتناآسان ہے۔اسنےبند فون کو حقارت سے دیکھتے ہوےکہا
کون کہتا ہےکے تم اتنی ہوشیار ہو تم تو میرے چند جھوٹے آنسووں سے ہی پگھل گئی۔
اگر تمنے مجھے چیلینج ناں کیا ہوتا ناں اقصٰی تو مجھے بھی تمہارے دو ٹکے کے بھائی کو حاصل کرنے کی دھن سوار نا ہوتی
ہاہاہاہا
تت تت
کہاں گیا تمہارا سچا پیار
اسنے کہکر قہقہہ لگایا
تم تو ایک منٹ میں ہی میرے ہاتھعں کی کٹپتلی بن گئی یادآنے یاد کرکے طنزیہ مسکراکر کہا
ہیلو ہیلو مریم تم میری بات سن لو
ثناء نے مکاری سے روتے ہوے کہا
اب کونسی بات سنانی ہے تمنیں ثناء باجی
مریم نے اسسے پوچھا
اسنے ساری بات بتادی کے عتیق نے اسے فون کرکے کیا کہا ہے
اور اسسے منت کی کے وہ اسکی منگنی میں آے گی تبھی وہ اسے اپناے گا
اور مریم مان گئی بغیر اسکی چال جانے اسکے واسطے پر
کھیل سمجھا ہے مجھ کو لوگوں نے
میں نے لفظوں میں ڈھل کے دیکھا ہے.۔
ھو جاۓ محبت ساقی تو ھم سوچا نھیں کرتے ،
چاند جیسے چہروں سے کبھی دھوکا نھیں کرتے
جو آۓ ھماری مہفل میں خوش آمدید ،
جو اٹھ کر چلا جاۓ اسے روکا نھیں کرتے
اچھا ٹھیک ہے آپی جیسے مریم کی مرضی اب میں کچھ نی کہہ سکتا
آصف نے فوزیہ کی بات کا جواب دیتےہوے کہا
پروہ ایسےکیسےکرسکتی ہےماموں بھی بہت پریشان تھےکےعتیق نےاتنی بڑی شرط کیوں رکھی ہے؟
بس اب قدرت پرہی چھوڑدوبات کو جواسنےسوچاہوگاوہ وہی کرےگا۔فوزیہ نے کہا
ہاں یہ بھی ہےآصف نے بھی تائیدکی
@@@
بیٹاآپ آج توروضہ نا رکھتیں
رضیہ بیگم نےسحری کےوقت اٹھی مریم سے کہا
نی ممامجھےرکھناہے اسنے کہا
پربیٹاسفرزیادہ ہےبیمارپڑجاوگی انہوں نےفکرمندی سےکہا
کچھ نی ہوتامما اسنے کہا اور کھاناکھانےلگی اب کیابتاتی انہیں کےوہ روضہ سکون حاصل کرنےکیلیےرکھ رہی ہےجواسے گزشتہ برسوں سےنہیں ملا۔
@@@
توآہی گئی تم ناں
عتیق نے اسے دیکھ کر افسوس سے کہا جو ثناء کو تیار کروارہی تھی
ہاں آگئی
اسنے جواب مختصر دیا
میں کیسی لگرہی ہوں عتیق؟اسنے عتیق سے کہا جویک ٹک مریم کو ہی دیکھ رہاتھا۔
ثناء انکو بات کرتا سنکرجیلیس ہوگئی اوراسنےمداخلت کرناضروری سمجھا تھا پر اپنی بات کاجواب نا پاکراسنےمریم سےکہاکےتم یہاں کیاکررہی ہو؟تمہیں نظرنی آتاکےہم دونوں بات کررہے ہیں اسنےنفرت سے اسےکہاجواسکےاچانک بدلنےپرحیرانی سےاسےدیکھرہی تھی۔جاواب کیا تمہیں اسکیبات ادھوری رہ گئی اورعتیق وہاں سے چلاگیا
عتیق ثناء نےپیچھےسےآوازلگائی مگروہ سنی انسنی کرگیا
یہ سب تمہاری وجہ سےہواہےمریم اسنےمریم کوگھورکرکہا
مینےکیاکیاآپی؟اسنےحیرانی سےاسکےبدلےتیوردیکھے
ہاں ہاں تم توکچھ کرتی نی ہوناں اسلیےہی اتنی موٹی ہوگئی ہو
اگرتم ناہوتی یہاں تو وہ میرےپاس ہوتا
اسنےایک قہربھری نظر مریم پرڈالی اورچلی گئی وہ بس اسے جاتا دیکھرہی تھی۔
@@@@
منگنی کی تقریب شروع ہونےوالی تھی عتیق دوبار آکےمریم سےکہہ چکاتھاکےاب بھی وقت ہےمجھسےشادی کرلومگراسنےایک بھی ناسنی اسکی
اب بھی وہ اسی کی طرف جارہاتھاکےرضیہ بیگم نےمریم کوبلالیاتھا
جی مماآپنےبلوایامجھے اسنے انکےپاس بیٹھتےہوےکہا
انہیں اپنی بیٹی کےاتنےصبرپرحیرانی ہورہی تھی
مما اسنےانہیں ہلایا
ہاں انہوں نےچونک کردیکھا
کیاہواآپکوکچھ پریشان لگ رہی ہیں آپ؟
نی بچے مینے تمسےبس یہ کہناتھاکےتمبھی کپڑےبدلی کرلو فنکشن شروع ہونےوالاہےصبع سےروضہ رکھےپھررہی ہو انہوں نےپیارسےکہا
جی ممابدلتی ہوں میں
وہ کہہ کرکمرےکیجانب بڑھ گئی
اسنےفیروزی اور کالےرنگ کےامتزاج کی فراق پہن لی تھی جوکےاسکی گوری رنگت پر بہت جچ بھی رہی تھی وہ سادگی میں بھی حسین لگرہی تھی
ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﮨﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ
کتنا حسین پھر سے —– نظارہ بنا دیا
جیسے خدا نے اس کو ——- دوبارہ بنا دیا
آیا تھا امتحان میں مضمون —— حسن پر
پرچے میں سب نے چہرہ —– تمہارا بنا دیا
ہردہکھنےوالےکی نظراسپرجاکرپلٹنابھول جاتی تھی۔
وہ چلتی چلتی اقا اور اپنی ماں کےپاس آکربیٹھ گئی۔
ماشاءاللّٰہ مریم تم توبہت پیاری لگرہی ہواقااوررضیہ بیگم نےایک ساتھ کہا
شکریہ ممااینڈاقاوہ دھیماسامسکرائی
پرپھپھوآپکونی لگتاکےکسی چیزکی کمی ہےاسنےکہتےساتھ ہی اپناپرس کھول لیا
ہاں بلی مجھےبھی یہی لگتاہےوہمسکرائیں
نی اقاپلیزمیرےکان دردکریں گےپلیزاسنےکہامگراقانےاسکی ایک ناں سنی اوراسکوبلیک موتیوں والےبندےپہنادیےاورہلکیسی گلوزبھی لگادی جواسکےنکھرےنکھرےچہرےپرجچرہی تھی
میں کیسی لگ رہی ہوں؟
وہ جب تیارہوکربیٹھاتوثناء نےاسسےپوچھا
کیوں ہزارروپےکامیک اپ تھوپ لیاتمنےمگرپچاس روپےکاآئینہ نی لےسکی جسسےتمہیں پتاچلجاتاکےتم کیسی لگرہی ہو۔اسنےبےزاری سےکہا
تبھی عتیق کی نظرمریم پرپڑی توپلٹنابھول ہی گئی تھی اسکی آنکھوں میں چمک اورہونٹوں پرمدھم سی مسکراہٹ آگئی اوراسکی زبان سے بےاختیارنکلاماشاءاللّٰہ۔
ثناءنےجب اسکی آنکھوں کےزاویےمیں دیکھاتواسکاحلق تک کڑواہوگیااسنےدوبارہ عتیق کیطرف دیکھا تووہ اببھی صرف مریم کوہی دیکھےجارہاتھا
اسےبےچینی ہوئی
آج تواسےاسکی اوقات یاد دلانی ہی پڑےگی۔
ثناءنےاقاسےبات کرتی مریم کودیکھکے نفرتدہکھنےوالےکی نظراسپرجاکرپلٹنابھول جاتی تھی۔
وہ چلتی چلتی اقا اور اپنی ماں کےپاس آکربیٹھ گئی۔
ماشاءاللّٰہ مریم تم توبہت پیاری لگرہی ہواقااوررضیہ بیگم نےایک ساتھ کہا
شکریہ ممااینڈاقاوہ دھیماسامسکرائی
پرپھپھوآپکونی لگتاکےکسی چیزکی کمی ہےاسنےکہتےساتھ ہی اپناپرس کھول لیا
ہاں بلی مجھےبھی یہی لگتاہےوہمسکرائیں
نی اقاپلیزمیرےکان دردکریں گےپلیزاسنےکہامگراقانےاسکی ایک ناں سنی اوراسکوبلیک موتیوں والےبندےپہنادیےاورہلکیسی گلوزبھی لگادی جواسکےنکھرےنکھرےچہرےپرجچرہی تھی
بہت پیاری لگرہی ہو اقا نے کہا اور وہ مسکرادی
اس کی اک مسکان میں دنیا بستی ہے
اور ہاں چاند اسی کا جھمکا لگتا ہے
@@@@
میں کیسی لگ رہی ہوں؟
وہ جب تیارہوکربیٹھاتوثناء نےاسسےپوچھا
کیوں ہزارروپےکامیک اپ تھوپ لیاتمنےمگرپچاس روپےکاآئینہ نی لےسکی جسسےتمہیں پتاچلجاتاکےتم کیسی لگرہی ہو۔اسنےبےزاری سےکہا
تبھی عتیق کی نظرمریم پرپڑی توپلٹنابھول ہی گئی تھی اسکی آنکھوں میں چمک اورہونٹوں پرمدھم سی مسکراہٹ آگئی
میں اور میرا دل
افسوس !!!
دونوں مر گئے تم پر![]()
اوراسکی زبان سے بےاختیارنکلاماشاءاللّٰہ۔
![]()
![]()
![]()
![]()
بہت دیکھی حسین آنکھیں، تبسم دل نشین دیکھے…!!!
ہزاروں خوبرو دیکھے، مگر تم جیسے نہیں دیکھے![]()
![]()
![]()
![]()
ثناءنےجب اسکی آنکھوں کےزاویےمیں دیکھاتواسکاحلق تک کڑواہوگیااسنےدوبارہ عتیق کیطرف دیکھا تووہ اببھی صرف مریم کوہی دیکھےجارہاتھا
اسےبےچینی ہوئی
آج تواسےاسکی اوقات یاد دلانی ہی پڑےگی۔
اٹھانی ھے تو نفرت کی اٹھا ——- دیوار بسم اللہ
میری سچی محبت سے تو کر ——— انکار بسم اللہ
کہا اس نے میری خاطر یہ ——- کوہ غم اٹھاءو گے ؟
جواباَ ھم بھی بول اٹھے میرے ——– دلدار بسم اللہ
جہاں کو چھوڑ کر ھم جب تیرے ——- کوچے میں آ بیٹھے
تو پھر سنگ ملامت سے کیوں ——— انکار بسم اللہ
پجاری زر کے ھو تو ہاتھ میں ——— سچ کا علم کیوں ھے
اگر منصور ھو تو پھر یہ ——— سنگ و دار بسم اللہ
ثناءنےاقاسےبات کرتی مریم کودیکھکے نفرت سے کہا اور اسکی جانب آگئی
________
جب بھی جھانکوں میں اپنے اندر میں
اک اداسی سی پاؤں منظر میں
ایسا رازق دوسرا ہے کون
رزق کیڑے کو دے وہ پتھر میں
میرے اشکوں میں جو روانی ہے
کب ہے دریا ، گھٹا، سمندر میں
یہ تری جستجو کا معجزہ ہے
منزلیں آ پڑی ہیں ٹھوکر میں
میں شاید ہوا ہوں پتھر کا
کوئی سودا نہیں رہا سر میں
دھوپ میں ساتھ ساتھ چلتا ہے
ایک سایہ مرے برابر میں
نفرتوں کے سوا یہاں احسان
کچھ نہیں حلقہء سخنور میں
وہ اپنےخیالوں میں گم تھی جب ثناء نے اسس بازو سے پکڑ کر ایک طرف لے گئی
کیا مسئلہ ہے تمہیں ہاں؟
مجھےتوکوئی مسلئہ نی ہےباجی پرلگتاہےآپکوہے
اورمینےکیاکیا ہے جو آپ ایسے بدتمیزی کررہی ہو
اچھا تم تو کچھ کرتی ہی نی ہو ناں موٹی تبھی موٹی ہوگئی ہو
اور ہاں
کیوں اتنا تیار ہوئی ہو کسے دیکھانے کیلیے
اسے جو تمہارا اب نہیں رہا
جو میرا بننے والا ہے اسے
ہاہاہاہا
کیوں تمہیں کوئی تکلیف ہے اورہاں تمسے تو کم ہی تیار ہوئی ہے مریم اور ہاں تم چاہے جتنا بھی میک اپ کرلو اچھی نی دیکھو گی اور تمہارےبدھےنقوش بھی نی چھپ سکتے سمجھی اسلیے اپنی کمزوری کو دوسروں پر نا ہی تھوپو تو اچھاہے سمھجھی
اقا نے کہا
اسنے دیکھلیا تھا کے ثناء نے کتنی بےدردی سے مریم کی گلوز اتاری تھی جسسے اسکے ہونٹ سے خون نکل آیا تھا
ویسے بھی انسان میں خوبصورتی اندرسےہوتی ہےاسکی معصومیت سے ہوتی ہےجوکےمریم میں ہے نا کےمیک اپ اورچلاکیوں سے
م جو آس پاس اس کے یوں ہی پھرتے رہتے ہیں
بات گو نہیں کرتے ، بات کر تو سکتے ہیں
بے سخن ملاقاتیں خوشبوؤں کے جھونکے ہیں
عشق کرنے والوں کے جسم تک مہکتے ہیں
شہر بے محبت میں اور اپنا مصرف کیا
اس کے مل کے آتے ہی اس سے ملنے جاتے ہیں
کوئی تو ملے گا جو اس کو جانتا ہو گا
اس سے پوچھ لیتے ہیں اس سے پوچھ لیتے ہیں
یہ عجیب بستی ہے ، عشق سوچ کر کرنا
چھوٹی چھوٹی باتوں کو لوگ یاد رکھتے ہیں
اب تو میں سرہانے بھی اس کے خط نہیں رکھتا
جب بھی نیند آتی ہے لفظ رونے لگتے ہیں
گر یقین نہیں آتا عشق کر کے دیکھو تم
زخم جو نہیں لگتے کتنے گہرے ہوتے ہیں
اور کیسی آزادی ہم کو چاہیے تابش
ہم تو ہنس بھی سکتے ہیں ہم تو رو بھی سکتے ہیں
اسسے پہلے کے ثناء کچھ کہتی عتیق نے سب کو خاص طور پر مریم کو سٹیج کی جانب متوجہ کرایا
مریم اسنے مائیک میں کہا
تم مجھے اور باجی ثناء
ثناء اسکے باجی کہنے پر آگ بگولا ہوگئی
جبکے اقا اور جیا کھی کھی کرنے لگیں
سوری مجھے اور ثناء کو رنگ تم دوگی اوکے
اچھا
مجھے اجی سے ایک بات یاد آئی ہے
Episode 12
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﺎ ﺣﺴﻦ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﻧﺮﺍﻟﮧ ﮨﮯ
ﭼﮩﺮﮦ ﮨﮯ ﺭﻭﺷﻦ ﭼﺎﻧﺪ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺎﻻ ﮨﮯ۔
۔
ﺁﺏِ ﺑﺤﺮ ﺳﺎ ﮐﮭﺎﺭﯼ ﭘﮑﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅ ﯾﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻧﻮﺍﻟﮧ ﮨﮯ۔
۔
ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﮈﮐﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮐﺮﮐﮯ
ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﯾﺎﺭﺏ ﮐﺲ ﻣﺸﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻻ ﮨﮯ
۔
ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺷﺐ ﻭ ﺭﻭﺯ ﺩﮨﯽ ﺍﻧﮉﮮ
ﮔﯿﺴﻮ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﻣﮑﮍﮮ ﮐﺎ ﺟﺎﻻ ﮨﮯ۔
۔
ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺎﻧﻮ ﻣﯿﮏ ﺍﭖ ﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ
ﺳﺮﺧﯽ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻟﮕﺘﯽ۔۔۔۔۔ ﺑﮭﻮﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﻟﮧ ﮨﮯ۔
۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻋﻮﺕِ ﺧﺎﺹ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺩﯾﮑﮫ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﭽﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ،،ﺑﮭﺎﻟﻮ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﻋﻠﯽٰ ﮨﮯ۔
۔
ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮﺍ ﺷﺮﻭﻉ ﺗﻮ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﮟ ﭘﻠﯿﭩﺲ
ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮨﻮﺍ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﮨﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﻧﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ۔
ﺩﺱ ﺑﺎﺭﮦ ﻧﺎﻥ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﻢ ﮨﯽ ﮈﺍﻻ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺑﺮﺗﻦ ﺩﮬﻮﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ
ﻣﯿﮟ ﺷﻮﮨﺮ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﻟﯿﻠ
ﺧﻮﺩ ﮐﺮ ﻟﻮ ﺳﺐ ﮐﺎﻡ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ۔
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ، ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔
ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺑﺮﺗﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ
ﺑﯿﮕﻢ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﺧﺮ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﺎﻻ ﮨﮯ۔
ﮐﭙﮍﮮ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﯾﮧ ﺟﮭﮕﮍﺍ
ﺍﯾﮏ ﺳﻮﭦ ﮐﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﯾﭧ ﮨﮯ ﺗﮕﮍﺍ
ﯾﮧ ﺳﻮﭦ ﺟﻮ ﭘﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ،، ،ﺳﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻻﺋﯽ۔
ﺩﻭﭼﺎﺭ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﻣﮩﻨﮕﺎﺋﯽ۔
ﺟﻞ ﺑﮭﻦ ﮐﺮ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ
ﺍﯾﮏ ﺳﻮﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﺟﯽ۔۔۔ﺁﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﺗﮭﺎﻥ ﮈﺍﻻ ﮨﮯ
سب اسکی بات پر ہنسنے لگے اور مریم کو بھی ہنسی آگئی
اور وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
کبھی جب بات کرتی ہے
تو اُس کے لفظ خوشبو کی طرح محسوس ہوتے ہیں
وہ ہنستی ہے تو جیسے سارا عالم اُس ہنسی میں ڈوب جاتا ہے
وہ لب اُس کے ، وہ آنکھیں اور وہ چہرے کی شادابی
کہ جیسے اپسرا کوئی
وہ میرا نام لیتی ہے تو میری روح میں جیسے نشہ سا اِک اُترتا ہے
میرا مَن جھوم اٹھتا ہے
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
جھکائے اپنی پلکوں کو کبھی مجھ سے جو کہتی ہے
مجھے تم سے محبت ہے
تو اس کا شرمگیں لہجہ ، یقیں مجھ کو دلاتا ہے کہ دُنیا خوبصورت ہے
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
اُداسی کے گھنے سایوں کو جب بھی اُوڑھ لیتی ہے
مرا دل خون روتا ہے
میں اُس کی شربتی آنکھوں کے نم سے بھیگ جاتا ہوں
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
جسے مجھ سے محبت ہے
مرا اظہار سنتی ہے تو پھر سب بھول جاتی ہے
جھکائے اپنی پلکوں کو وہ ایسے مسکراتی ہے
کہ جیسے اپسرا کوئی
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
مرے لفظوں میں رہتی ہے
مجھے اکثر یہ کہتی ہے
مجھے تم سے محبت ہے
وہ سوچوں سے تب باہر آیا جب وہ چلی گئی
اطہر نے مریم کو ٹرے دیدی جس میں رنگز تھیں
بھائی میں کیسے اور ویسے بھی یہ حق توبہنوں کاہوتاہےناں
مریم نےرضیہ بیگم کی طرف دیکھکےکہا
توزرتاش آپی یااقا کرلیں
تم کرلوتم یہی سمجھوکےتم عتیق اورثناءکی بہن ہو
اطہرنےمعنیٰ خیزی سےکہا
مریم کادل کھینچ ساگیااسکےدل کوکچھ ہوامگراسنےخودکوسمبھال لیا
درد و غم کا ساتھ نبھانا بھول گئی
الفت ھے اک روگ پرانا بھول گئی
بیتی یادوں نے اتنا مجھے تڑپایا ھے
ھر لمحے کا قرض چکانا بھول گئی
ان آنکھوں کے آنگن میں تو سایہ تھا
تپتی دھوپ میں آنکھ ملانا بھول گئی
اجڑی بستی کے نوحوں اور ماتم میں
جلتے گھر کی آگ بجھانا بھول گئی
ھجر کے رستے بے شک تھے پُرخار بہت
زخمی قدموں کو سہلانا بھول گئی
اس کے تیور بگڑے بگڑے لگتے تھے
سانس رُکی تو آنا جانا بھول گئی
وہ بھی مجھ کو دٍلا نہ پایا یاد کبھی
میں بھی اس کو یاد دٍلانا بھول گئی
ہے افسوس مجھے بھی تیری یادوں کا
رکھا تھا وہ کہاں خزانہ بھول گئی
کسی موڑ پر ملیں تو نہ پچھتائیں گے
بات یہی خود کو سمجھانا بھول گئی
دل پاگل نے کب سمجھی یہ مجبوری
شب ٹھہری ھے سحر تو آنا بھول گئی
اورایک دردسااٹھاتھاسینےمیں جواسےپسینےمیں بگھوگیامگروہ سٹیج کی طرف بڑھ گئی اب وہ اپنی بات سےپیچھےہٹنےوالی نی تھی۔
جب اسنےثناءکورنگ دےکرعتیق کورنگ دی تووہ اسےہی دیکھ رہاتھا
دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو
آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو
شفق دھنک مہتاب گھٹائیں تارے نغمے بجلی پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو
چاہت کے بدلے میں ہم تو بیچ د یں اپنی مرضی تک
کوئی ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپنائے تو
سنی سنائی بات نہیں یہ اپنے اوپر بیتی ہے
پھول نکلتے ہیں شعلوں سے چاہت آگ لگائے تو
جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے
اچھا میرا خوابِ جوانی تھوڑا سا دہرائے تو
نادانی اور مجبوری میں یارو کچھ تو فرق کرو
اک بےبس انسان کرے کیا ٹوٹ کے دل آجائے تو
اسنےنظریں جھکالیں وہ اسےدیکھ ناں پارہی تھی کیونکےاسکی آنکھوں میں شکوہ تھاالتجاتھی
مریم کوترس آیامگراگلےہی لمحےاسےفلورہ کاچیخنایادآیاجواسےروکرہی تھی مگراسنےایک بھی ناں سنی اوراسنےاپنی جان ہاردی
مانا کہ قسمت پہ میرا زور نہیں
پر یہ سچ ہے مہبت میری کمزور نہیں
تیرے دل میں تیری یادوں میں
شائید کوئی اور ہے لیکن
میری سانس میں تیرے سوا کوئی اور نہیں
بس ایک لمحہ لگاتھااسےسب بھول جانےمیں اوراسنےسراٹھالیااوراسےمبارکباددی
ثناءعتیق کوانگوٹھی پہناچکی تھی مگرعتیق لاتعلق سابیٹھاٹکٹکی باندھےمریم کوہی دیکھےجارہاتھا
ﺣﺎﺳﺪ ﮨﮯ ﺑﺪﮔﻤﺎﮞ ﮨﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻭﮦ
ﯾﺎ ﺭﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻗﯿﺐ ﮐﻮ ﺻﺒﺮِ ﺟﻤﯿﻞ ﺩﮮ
اسےلگاکےجب مریم نےمنہ نیچےکیاتھااسکامطلب کےوہ خوش نی ہےاسیلیےوہ اسکےانکارکاانتظارکررہاتھا
اسےامیدتھی کےوہ انکارکردےگی پرجب اسنےسراٹھاکراسےدیکھاتواسکی آنکھوں میں اسےاپنےلیےنفرت ہی نفرت نظرآئی اوراسکاچہرہ بلکل سپاٹ کسی بھی تاثرسےبیگانہ تھا
احسان ویسے بھی تیرےکم نہ تھے…!!!
بہر حال یوں بدلنے کا شکریہ…!!!
وہ ابھی تک اسےہی دیکھ رہاتھا
تم نے احسان کیا تھا جو ہمیں چاہا تھا
اب وہ احسان جتا دو تو مزہ آجائے
مریم
ثناءنےمریم کوبلایا
ہاں
ارےمٹھائی توکھیلاؤمجھےاسنےطنزکیا
اوکےمریم کہہ کراسکی طرف جاہی رہی تھی کےیکدم اسکےسینےمیں دردہوااسکےہاتھ سےپلیٹ چھوٹنےلگی تھی کےاسنےاپنی حالت پرقابوپالیاتھاوہ سنبھل گئی اوربرفی کاایک پیس ثناءکودےدیا
ادھرآناتم ثناءنےکہا
جب مریم اسکےقریب گئی تواسنےاسکےکان میں کہادیکھاناں مینےتمسےتمہاراپیارتمہارامنگیترکیسےچھین لیااورتم کچھ بھی ناکرسکی ثناءنےمسکراکرکہا
ﻣﻘﺪﺭ ﮐﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﮨﻢ
ﺑﮯﺑﺲ ﻟﻮﮒ
ﻋﻤﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﻌﺠﺰﻭﮞ ﮐﮯ
ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ
ثناءباجی آپ کون ہوتی ہیں دینےیاچھیننےوالی وہ بس ایک ہی ذات باری تعالٰی ہےآپ نی اورہمارےساتھ ہوتاوہی ہےجوہماری قسمت میں لکھاہوتاہےناکےہمارےچاہنےیاناچاہنےسےسمجھی آپ
اگراسنےآپکی سنلی ہےتواِترئیں مت بلکےاسکاشکراداکریں
مریم ثناءکوکہکرچلی گئی
آئی بڑی مجھےسمجھانےوالی یہ اجھاہےجب خودکچھ ناکرسکتی ہےموٹی توساراالزام قسمت پرڈال دیاہن
ثناءنےمنہ بیگاڑکرکہا
@@@
ارےرےکہاں جارہی ہےریل گاڑی اطہرنےکمرےکی طرف جاتی مریم سےکہا
کہیں نی بھائی بس وہ عتیق نےجوثناءباجی کورنگ پہنانی ہےوہ گم ہوگئی ہےوہی دیکھرہی ہوں
اسکےچہرےسےپریشانی۔تھکن۔اوردردواضع تھا
اسکےسینےکادردبڑھتاہی جارہاتھااوپرسےاسنےروضہ رکھکےادھراُدھرجارہی تھی
ارےاب اسےبھی بھائی کہلواب کونساتمہاری اسسےشادی ہونےوالی ہےمجھےہی پٹالو
اسنےبےشرمی سےآنکھ دباکرکہا
بکواس بندرکھواپنی سمجھےوہ دھاڑی
کیوں بھی کیاغلط کہامیرےبھائی نےعتیق کوتواب میں تمہارےپاس آنےنی دونگی اورتم بورناہواسلیےمیرےبھائی سےکام چلالو
ثناءنےاطہرکےہاتھ پرہاتھ مارکرکہا
ہاں مجھمےکیاخرابی ہےمجھپربھی توڈورےڈال ہی سکتی ہوناں
اسنےمسکراکرکہا
ہاں ڈال سکتی ہوں اگرباجی ثناءسےٹرینگ لی جاےتو کیوں باجی
مریم نےبھی لتھ مارجواب دیا
کیامطلب
اطہرنےپوچھا
مطلب یہ میرےبھائی کےمیں اپکی بہن کی طرح نی ہوں جوکسی نامحرم سےبات کرےیاعشق لڑائے
وہ کہکرچلی گئی
@@@@@
کیاہوابیٹاتمہےاتنےپسینےکیوں آرہےہیں اوررنگ بھی پیلاہوگیاہےطبیعت توٹھیک ہےرضیہ بیگم نےکہا
کچھ نی مماوہ بس
وہ کہتی اسسےپہلےصغرٰی بیگم نےآواز دی
_____
مریم کے سینے میں بہت درد ہورہا تھا
وہ پسینے میں بھیگ چکی تھی
وہ درد برداشت نا کر پائی اور دھڑام سے گر گئی
ارشد صاحب وہیں موجود تھے اسیلیے اسے جلدی سے اٹھاکر لائےرضیہ بیگم اور سب جمع ہوگئے تھے
شانی شانی
کیا ہوا بچے
ارشد صاحب نے اسکا چہرہ تھپتھپایا
جبکے وہ بے حس و حرکت پڑی رہی
انہوں نے جلدی سے ریسکیو کال کی اور اگلے پانچ منٹ میں ہی ریسکیو والے اسے لے گئے
اسکے ساتھ اقا اور رضیہ بیگم تھیں
جبکے باقی گھر والے انکے پیچھے کار میں آئے
ڈاکٹر نے جلدی سے اسے ICU
میں بھیجھا
ڈاکٹر مریم کا چیک اپ کرکے باہر آیا
اور عاشق صاحب کو کو لاکر بتایا کے اسے اٹیک ہوا ہے
چونکے بہت کم عمری کا اٹیک ہے اسی لیے ہمیں انکی سرجری کرنی ہوگی
سرجری کا خرچہ کم از کم دو لاکھ سے زائد آپ انتظام کرالیں
اور انسے کہہ کر وہ باہر آگیا
@@
آصف کچھ بتاو گے مجھے
رضیہ بیگم نے اس سے کہا
ڈاکٹرنےکہاکےامیدہےکےوہ ریکورکرسکتیں ہیں مگرچانسزبہت کم ہیں
اسکی بات نےتوجیسےانپربجلی ہی گرادی تھی
مگر
عاشق صاحب آپ اللّٰہ پربھروسہ رکھیں ڈاکٹرنےانکی بات کاٹتےہوےکہا
جی بلکل
انہوں نیں انسےکہا
@@@
وہ سب آپریشن تھیٹرکےباہرموجودتھے
سوائےعاشق اورارشدصاحب کےکیونکےوہ پیسوں کاانتظام کرنےگئےتھے
چونکےمریم کی حالت بہت خراب تھی جسکی وجہ سےڈاکٹرنےاسکاآپریشن پہلےکردیا
آپریشن روم کی لائٹ بھج گئی اورڈاکٹرباہرآگیااتنےمیں وہ دونوں بھی آگئے
CONGRATULATION OPERATION IS SUCCESSFUL
ڈاکٹرنےکہاسب خوش ہوگئے
ہم ملسکتےہیں کیا؟رضیہ بیگم نےپوچھا
نی ابھی انہیں ہوش نی آیاہےلہٰذاآپ بعدمیں مل لیجیےگاڈاکٹرنےکہکرروم کی طرف چلاگیاارشدصاحب بھی کاونٹرپرپیسےجمع کراآےتھے
@@@
اس نے کہا عید آ رہی ہے
میں نے کہا تیری یاد رولہ رہی ہے
اس نے کہا عید مناؤ گے .
میں نے کہا کیا تم او گے.
اس نے کہا رونا نہ عید کہ دن
میں نے کہا روکتے نہیں آنسو ترے بن
اس نے کہا اداس نہ ہونا عید کہ دن
میں نے کہا برا رولاتا ہیں یہ دن
اس نے کہا کب تک نہ کرو گے عید
میں نے کہا جب تک نہ ہوں تیری دید









آج عیدتھی مگرپھربھی مریم کےگھروالوں کیلیےکسی عذاب سےکمناتھایہ دن
آج تیسرادن تھااسےبےہوش ہوئی کو
پراسےابتک ہوش ناآیاتھا
رجو تم پریشان ناہوں۔ٹھیک ہوجائےگاہماراشانی عاشق صاحب نےانہیں تسلی دی
وہ خودبھی اندرسےٹوٹ گئےتھےاپنی لاڈلی بیٹی کی حالت دیکھکر
آپ بھی توپریشان ہیں ناں رجوبیگم نےکہا
نہی مجھےاسذات پرپورابھروسہ ہےمگرمیں یہ سوچ رہاہوں کےآخرمریم کوکونسی بات نےاتناپریشان کردیاکےاسکی یہ حالت ہوگئی
ڈاکٹرنےکہاہےکےاسنےبہت بڑاصدمہ لیاہےاورکافی ٹینس تھی
اب اگراسنےکوئی پریشانی لی تووہ کہتےکہتےرونےلگ گئے
سنبھالیےخودکو
رضیہ بیگم انہیں تسلی دی
ہم اسےکیسےبتائیں گےکےاب وہ
آپکوتوپتہ ہےناکےاسےکتناشوق ہےآرمی میں جانےکامگراب
آپکویادہےجب مینےاورآپنےجب وہ چھ ماہ کی تھی تب اسےکھیلونےدیلائےتھےاپنی اپنی پسندکے
انہوں نےانکےکندھےپرسرٹیکاکرکہا
ہاں یادہےتب آپنےاسےگڑیااورمینےاسےکارلیکردی تھی اور اسےدیکھائی تھی تاکےہمیں پتہ چلسکےکےوہ کیاپسندکرتی ہےاورمریم نےمیری جیب سےمیری سروس گن دیکھرہی تھی جب ہمنےاسےدیکھاتواسکی نظرگن پرتھی
اورآپنےاسےاپنی گن نکال کردیدی تھی اورشانی کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی اسنےجلدی سےگن پکڑلی اورکھلکھیلانےلگی
رضیہ بیگم نےیادکرتےکہااوراسکےبعدشانی نےہمیشہ گنزہی لیں ہیں ابتک
اورکہتی تھی کےمماپاپامیں جب آرمی میں جاوں گی ناں تومیرےپاس بھی اپنی اصلی پسٹل ہوگی
اوراب جب وہ بڑی ہوگئی ہےتوان بیماریوں نےہی اسکی جان نہیں چھوڑی انہوں نےروتےہوےکہا
اللّٰہ نئیں شایداسکیلیےبہترسوچاہو
عاشق صاحب نےکہا
ہوسکتاہےانہوں نےبھی کہا
@@@
ﺣﻖ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺗﻢ ﺩﺭﺩ ﺗﻮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ، ﺩﻭﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﮐﯿﻮﮞ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺁ ﮐﺮ
ﯾﺎﺭﻭ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺴﻢ ﮨﮯ، ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻝ
ﺟﺎﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺴﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﻭﻓﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮌﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺳﯽ
ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﺳﺪﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﻟﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ، ﺣﻤﯿﺪﯼؔ ﻟﺐِ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﮧ ﮨﮯ ﺩﺭﯾﺎ
ﭘﺮ ﭘﯿﺎﺱ ﮨﮯ ﮐﺐ ﮐﯽ یہ ﭘﺘﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
آج پورےسات دن بعدمریم کوہوش آیاتھااسنےاردگرددیکھاتووہاں سب موجودتھےسوائےاس دشمن جان کے
کسے ڈھونڈرہی ہومریم
اقصٰی نےپوچھا
کسی کونہیں مگراب بھی اسکی نظریں باہرکی طرف تھیں
میں کیوں اسےڈھونڈرہی ہوں بھلامجھےکیاوہ آئےیاناآئےاسنےدل میں سوچا
HOW ARE YOU GIRLڈاکٹرنےپوچھا
I AM FINE NOWمریم
نےمسکراکرجواب دیا
آپکواب بہت احتیاط کرنی ہوگی بیٹا
جی مگرکیوں سرمجھےاتنابھی بڑامسئلہ نی ہےاسکےسینےسےدرداٹھاوہ توبس کل گرمی کافی تھی اورکام کرتی رہی تھی اسیلیےتھوڑاسادردہواتھاباقی میں ٹھیک ہوں
اقصٰی اسکی بات پرعش عش کراٹھی اسنےدل میں سوچاواقع مریم بہت ہمت والی ہے
کل نی بچےپچھلےدس دنوں سےآپ ہسپتال میں ہیں اوروہ کوئی معمولی دردنہیں دل کادردتھاجسکی وجہ سےآپکواٹیک ہواتھااسلیےاب آپکومکمل پرہیزکرنی چاہیےکسی بھی قسم کی پریشانی سےاورچلنےمیں بھی احتیاط کریں
آپکودو بجےتک ڈسچارج کردیاجائےگااب توپین نئی ہورہی ناں
کیا
مریم جوانکی بات سن کرسن ہی ہوگئی تھی انکےہلانےپرگڑبڑاکربولی
مینےکہااب توکوئی پین تونہی ہورہی ناں؟ڈاکٹرنےاپنی بات دہرائی
نی ہورہی اسنےجھوٹ بولاجبکےاسےابھی بھی دردہورہاتھا
اوکےبیٹا
عاشق سرآپ میرےساتھ آئیں
ڈاکٹرنےعاشق صاحب کوبلایا
آپکی بچی ماشاءاللّٰہ بہت ہی ہمت والی ہےاتناسب کچھ ہوگیامگرانہوں نےمنہ سےاف تک ناکی ڈاکٹرنےمریم کی تعریف کرتےکہا
جی وہ بچپن سےہی بہت بہادرتھی اسےصرف ہلتےہوئےدرختوں سےڈرلگتاتھااورکسی چیزسےنہی
اسکاخواب اورمقصدتھاکےوہ آرمی میں جائےمگراب قسمت کوکچھ اورہی منظورتھاتوہم کیاکرسکتےہیں
او سوری سرمگربچےکااب تو
جی مجھےمعلوم ہےعاشق صاحب نےکہا
کوئی نی سروہ مالک بہترہی کرےگیاڈاکٹرنےانہیں حوصلہ دینےکیلیےکہا
@@@
وہ لوگ گھرپہنچ چکےتھےاورکچھ دنوں بعدہی مریم کامیٹرک کارزلٹ آناتھا
وہ کلاس میں بھی بلکل اکیلی اکیلےہی بیٹھتی تھی اسکی کلاس کی لڑکیاں اسےچڑاتیں تھیں کےکہاں ہےاسکی دوست
اوروہ اس سب سےدکھی ہوجاتی
مگراب وہ گھرپرتھی اسےاپنی دوستوں کی بہت یادآتی تھی
ایک دن وہ اپنی اورفاریہ فلورہ کی پیکچرزدیکھ رہی تھی کےارشدصاحب اسکےکمرےمیں
میں اندرآسکتاہوں شانی انہوں نےاجازت طلب کی
وہ انہیں دیکھ کرچونک گئی اورایلبم بندکردی
جی ماموں آجائیں اسنےہاتھ کی پشت سےآنسوں صاف کرتےکہا
مریم بچےبھول کیوں نہیں جاتی یہ سب انہوں نےپریشانی سےکہاانہیں اسکی بہت فکرتھی تبھی انہوں نےکئی بار اسےکہاتھامگر ہربارہی مریم کاایک ہی جواب ہوتا
کہ
وہ سب بھول جائےگی جب وہ سانس لیناچھوڑدےگی
اوراسکی اسی بات سےسبکودکھ پہنچتاتھا
ارشدصاحب نےاسکی طرف دیکھاجسےکم عمری میں ہی دکھوں نےگھیرلیاتھاانہیں چارسال پہلےوالی مریم یادآئی جوہروقت مسکراتی رہتی تھی وہ زندگی کوجیتی تھی مسکراتی تووہ اب بھی تھی پراپنوں کادل رکھنےکیلیےاب وہ زندگی جیتی نہیں بلکہ زندگی گزارتی ہے
اچھاچھوڑو سب باتوں کویہ بتاو کےکالج کب آرہی ہوانہوں نےاسکادھیان بھٹھانےکیلیےکہا
