Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

عاشق صاحب فوجی ہے۔
عاشق صاحب اور رضیہ بیگم کے4بچے تھے ۔3بیٹیاں اور 1بیٹا سب سے بڑی والی بیٹی کا نام فوزیہ ہے۔اسسے ایک سال چھوٹا بیٹا ہے جسکا نام آصف ہے۔اسسے 1.6سال چھوٹی بیٹی کا نام ثمرہ ہے اور ثمرہ سے 5سال چھوٹی بیٹی کا نام مریم ہے
انکی تیسرے نمبر والی ثمرہ بیٹی کے دل میں سوراخ تھا جسکی وجہ سے وہ 3.6
سال کی عمر میں فوت ہوگئی۔اسکا غم رضیہ بیگم کو بیت ہوا جسکی وجا سے انہیں برین ہیمبرج ہوگیا۔
وہ دنیا سے بیگانہ ہوگی۔یہی حال عاشق صاحب کا بھی تھا ک انہوں نے ابتک اپنی بیٹی کو زندہ نی دیکھا تھا جبسے وہ پیدا ہوی وہ گھر ہی نا آسکے۔
دو دن پہلے انہیں چھٹی ملی تو انہوں نے سوچا کے گھر ہو آئیں۔پر جب وہ گھر آے تو کوی بھی گھر پر نا تھا ۔
پڑوس پر بھی تالا لگا ہوا تھا پوچھتے تو کسسے پوچھتے۔
انہوں نے سرپرائز کا سوچکر کسی کو نہ بتایا پر انہیں کیا پتا تھا کے انھیں ہی سرپرائز ملنے والا ہے جو کے ناخوشگوار ہے
ثمرہ کی موت نے جہاں سب دکھی تھے وہیں عاشق صاحب شرمندہ بھی تھے کہ وہ اسے دیکھ ہی نا سکے۔
یہ گلٹ انہیں اندر ہی اندر کھاے جارہا تھا۔
دوسری طرف رضیہ بیگ۔ بھی رو رو کر ہلکان ہورہی تھیں۔
آپکو ڈاکٹر نے کہا ہے کے سٹریس مت لیں طبیعت دوبارہ خراب ہوجاے گی۔
نی ہوتی آپ ان کیوں آے ہیں انہوں نے خفگی سے کہا
آں اسی سوال سے بچنے کے لیے تو وہ انکا سامنہ نی کر پارہے تھے۔
آپی آپی اب کیسی ہے آپ ارشد صاحب نے اندر داخل ہوتے ہوے کہا۔
او بھای آپ کیسے ہیں
جسکی بچی مرجاے عہ ماں کیسی ہوگی بھلا؟
آپی بھول جاے آپ اللّٰہ کی چیز تھی اسنے لے لی اب بس کریے آپ
انہونے کہا
اچھا۔
وہ بس اتنا ہی کہ پای کے انہیں دورہ پڑگیا
شبانہ تم جلدی آو آپی کی طبیعت ٹھیک نی ہے ۔ارشد نے اپنی بیوی کو فون کرکے کہا جو رضیہ بیگم کی دوست اور بھابھی بھی تھیں۔
اچھا میں آتی ہوں ابھی انہوننےکہہ کر نکلنے کو تیر ہوی۔
آپ آگیں اننہے اس وقت آپکی بہت ضرورت ہے۔
عاشق نے کہا
جی بھای آپ پریشان نا ہوں مینسمبھالونگی۔وہ کہہ کر اندر چلی گی۔
رجو تم کیسی ہو؟
کیسی ہوسکتی ہوں میں؟
انہوں نے نقاہت سے جواب دیا
کیا ہوا آج تمنے مجھے بانو نی کہا
دل ی کررہا میرا مجھے اکیلا چھوڑ دو۔انہونے کہکر چادر تان لی۔
شبانہ کو اپنی نند کم بہن کی حالت دیکھ کر رونا آیا۔
اب وہ فیصلہ کرچکی تھیں کے انہیں کیا کرنا ہے۔
بابا بابا۔آصف اور فوزیہ انہے پکارتے ہوے آے
وہ انسب میں انہیں تو بھول ہی گئے تھے۔
جی بابا کی جان انہونے باری باری اندونوں کو چوما
بابا وہ چھموں کہاں ہے۔فوزی نے پوچھا
بیٹا وہ اللّٰہ تعالٰی کے پاس گئی ہے۔
بابا ہم کب جاے گے آصف نے پوچھا۔
بیٹا اس کے پاس صرف وہی جاتا ہے جسکو وہ بلاتا ہے۔انہننے پیار سے سمجھایا۔
وہ ہمیں کب بلاے گا۔فوزی نے معصومیت سے پوچھا۔
بیٹا ایسے نی کہتے ۔وہ ناراض ہوے
پر ہم اسسے کب ملے گے؟دونوں نے پوچھا
قیامت والے دن بیٹا ۔اب آپدونوں اسکےلیے دعا کرے۔
اوکے بابا۔
ارشد مینے اک فیصلہ کیا ہے
انہونے کہا
کیسا فیصلہ؟
میں نے اقصٰی کو رجو کو دینے کا
کیا بکواس کررہی ہو تم وہ دھاڑے
میں نے تو
کیا مینے تو ہاں کوی ماں اپنے بچے کو کیسے کسی کو دے سکتی ہے بولو تم وہ چیلاے
وہ کسی نی ہے وہ بھی چیخھیں۔وہ ہماری رجو ہے اسکو ہماری ضرورت ہے ارشی آج اسکے پاس بچہ نی ہے ۔
تو ہوجاے گے آج نی تو کل انہون نے کہا۔
ہمارے بھی تو ہوہی جایں گے۔
پر۔
مت سوچو کچھ بھی۔کیا تم بھول گئے ہوکے جب کوی بھی راضی نہ تھا تو رجو نے سبکو راضی کراکر ہماری شادی کروای تھی انہونے انہیں یاد دلایا۔
نی بانو میناپنی بچی نی دیسکتا۔
پر مینے فیصلہ کرلیا ہے بس۔وہ کہہ کر رکی نی۔
ویکھ رجو کون ہے یہ؟شبانہ نے اقا کو انکے سامنے کرتے ہوے پوچھا۔
یہ تو بلی ہے ناں۔انہوں نے خوش ہوتے ہوے کہا اور اقا کو گود میلے لیا۔
بانو تمہے یاد ہے کہ چھمو کی آنکھیں بھی بلی جیسی تھیں انہونے اقا کی آنکھوں کو چومتے ہوے کہا جو انکی گودمیں آتے ہی کھلکھیلانے لگی تھی۔
ہاں تو یہ بھی توتمہاری ہی ہے ابسے انہوں نے کہا
کیا مطلب ابسے کا وہ ٹھٹکیں
مطلب کے اقا آج سے تمہاری بیٹی ہے۔
یہ تمکیا کہہ رہی ہو مجھے نی چاہیے
پلیز تمھیں میری قسم لے لو اسے رجو ۔
وہ جو اقا کو بانو کو دینے لگی تہی رک گی۔
پلیز بانو۔
پلیز رجو مان جاو۔
اچھا ٹھیک ہے پر بیٹی یہ تمہاری ہی رہے گی۔
پر چھ ماہ کی بچی کو کیا پتہ کے اسکی ماں کون ہے۔
بس بانو مینے تمہاری بات مانی اب تم میری بات مانو۔انہونے ہا
اتنے می ننھی اقا نے بھی" گوں "کہا
اچھا جب پھپھی بھتیجی راضی تو کیا کرے گی ماجی۔
کہہ کر دونوں ہنس پڑی۔
انکو ہنستہ دیکھ کر اقا بھی رضیہ بیگم کی ناک پکڑ کر کھلکھیلا اٹھی۔
دور قسمت اور وقت بھی انکو دیکھ کر ہنس دیا۔
اللّٰہ کی انپر عنایت ہوی اور اقا کے آنے کے ڈیڑھ سال بعد ہی انکو اک اور بیٹی سے نوزا گیا۔آج شام کو اقا کی دوسری سال گرہ تھی جب ننھی مریم نے صبح دس بجے آنکھیں کھولیں۔
اسبار عاشق صاحب نے پہلے ہی چھٹی لے رکھی تھی۔
وہ پریشانی سے ادھر اْھر جارہے تھے کیونکے رضیہ بیگم کو ایک ماہ پہلے ہی درد شروع ہوگیا تھا۔
جب بچی پیدا ہوی تب سب ہی وہاں موجود تھے۔
پیشنٹ کا ہسبینڈ کون ہے؟نرس نے پوچھا
جی میں ہوں عاشق صاحب نے کہا
آپکی بیٹی ہوی ہے مگر اسے سانس نی آارہی اور نہ ہی روی ہے لگتا ہے مردہ بچی ہوی ہے۔نرس نے کہا
انک تو مانو پیروں تلے سے زمین ہی کھسک گی یا میرے مولا رحم کر میرے مالک انہون نے آنسووں سے تر چہرے سے دعا کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *