Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 03)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

تھول بھی لو اب

اقا نے بے صبری سے کہا

تھولتا ہوں تھولتا ہوں فکر کسبات کی ہے میری بہن

عتیق نے اسکی نقل اتارکر کہا

پھپھو اقا منمنائی

عتیق شرم کرو کیوں تنگ کرہے ہو اسے تم بھی ایسے ہی تاتلا بولتے تھے مگر کسی نے تمہیں تنگ نئی کیا ابتم میری بلیّ کو تنگ مت کرو رضیہ بیگم نے اسے جھڑکا جو بار بار اقا کی نقل اترہا تھا

اوکے پھپھو اب نئی تھتا ۔

اتھے تتھ۔

وہ کہاں باز آنے والا تھا اسلیے آنکھیں گمھا کر کہا

اب کھول لو پرچی بھی ارشد اور عاشق صاحب نے بے صبری سے کہا

اچھا پاپا اسنے کہا

لو بھی کھول دی آج سے نئی بلکے ابھی سے بیبی کا نام مریم ہوگا جو کے مینے رکھا ہے اسنے اعلانیا ں انداز سے کہا

سب بہت خوش ہوے پر اسکی آخری باتپر رضیہ بیگم اور عاشق صاحب چونکہ

کیا مطلب تمنے رکھا تھا یہ نام تو مینے رکھا ہے دونوں نے بیک وقت کہا

اندونوں نے اک دوسرے کو دیکھا

آپ نے بھی تینوں اک ساتھ بولے

یہ کیسے ہوسکتا ہے کے اک وقت میں یک ہی نام تین تین لوگ ایک ساتھ ایک ہی بچی کا رکھیںا

ارشد صاحب نے حیرانی سے کہا

چلو کوی بات نی آج سے بیبی کا نام شانی مریم ہوا عاشق صاحب نے کہا

خدا کا خوف کرے لڑکی کا نام شانی کون رکھتا ہے رضیہ بیگم نے حیرانی سے کہا اسکا نام تو مریم بی بی ہی ہوگا

انہونے کہا۔

اوکے ٹھیک ہے پر ہم اسکا نیک نام شانی بادشاہ رکھے گے انہوں نے کہا

اوکے سب نے کہا

____________

وقت گزرتا گیا بچے بھی بڑے ہوتے گئے آج مریم عرف شانی کی پہلی سالگرہ تھی۔

سب نے بہت تیریاں کررکھی تھیں وہیں عاشق صاحب اور رضیہ بیگم کی لڑائی ہورہی تھی انہونے مریم کےلیے فراق بنائی ےتھی اور وہ چاہتی تھیں کے آج وہ وہی پہنے مگر عاشق صاحب تھے کے مان ہینی رہے تھے وہ شانی کیلیے پینٹ شرٹ لاے تھے اور چاہتے تھے کے آج وہ وہی پہنے

آپ کیوں نی مان رہے کے شانی میرے کپڑ ے پہنے گی

نی وہ میرے کپڑے پہنے گا عاشق صاحب نے ضدی لہجے میں کہا تھا

اف آپبھی نا آپنے تو بپی کی جنس ی بدل کر رکھ دی ہے انھوں نے غصے سے کہا وہ کب سے بہس کرہی تھیں پر انکا جیتنا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا

مما،ڈیڈی میں آگیا مریم نے بازو پہلا کر کہا تاکے اسے اٹھایا جاے

اب بھی وہ پینٹ شرٹ میں ملبوس کسی لڑکے کی طرح لگ رہی تھی وہ نارمل بچوں کی طرح نہی تھی

مطلب کے وہ فاسٹ تھی بہت اسنے بیٹھنا،بولنا,چلنا سب چھ جلدہی سیکھ لیا تھا اور ورمزے کی بات یہ کہہ اسنے کبھی بھی توتلا نا بولا تھا

وہ بلکل درست الفاظ بولتی تھی جتنا کے چار سال کا بچے بولتا ہے

آگیا میرا بیٹا اب مما کو بتاو کے آپ میرے کپڑے پہنے گے

انہیں بتادو بیٹا کے آپ آج میرے لاے کپڑے پہنو گے رضیہ بیگم نے کہا

پاپا ے پہنے گا میرا بچہ

نی مما کے پہنے گی میری بچی

پاپا کے

ماما ے

پاپا ک

ماما ک

پاپا ک

ماما کے

مینے کہا ناں پاپا کے

اور مینے بھی تو کہا نا کے مما کے انہونے آنکھیں دیکھائیں

عاشق صاحب چپ کرگئے یونکے وہ جانتے تھے کے فیصلہ کیا ہونے والا ہے اور آج بھی یہی فیصلہ ہوگا

مریم جو کبھی پاپا کو تو کبھی مما کو دیکھ رہی تھی انسے کپڑے لے گی

ہم دونوں کے ہی پہن لے گے ڈیڈی مما

سنے معاملہ رفع کرتے ہوے کہا اور چلی گئی

آپی آپی اسنے فوزیہ کو پکارہ

جی جان

فوزی نے جواب دیا

آپی آپی پھول آپ مجھے یہہ پہنادو نا

اسنے اسے فراق پہنا دی

مریم نے فراق ک نیچے پینٹ جبکے اسکے پر واسکٹ پہن لی تھی۔

_________

آج اقا اور مریم دونوں ہی کی سالگرہ تھی ۔

اندونو کے کپڑے بھی سیم یم تھے پر مریم کی ڈریسنگ چینج تھی

ان دونون کی شکلیں ایک دوسرے سے ملتی تھی کیونکے اقا اپنی دادا او پھپھو سے میل کھاتی ی جبکے شانی بلکل اپنی ماں جیسی تھی۔

ان دونوں میں فرق تھا تو صرف یہ کے اقا کی آنکھوں کا رنگ سبز تھا اور ناک چھوٹی تھی اپنے دادا کی طرح جبکے مریم کی آنکھیں گہری کالی تھیں اور ناک پتلا تھا اپنی ماں کی طرح۔

باقی دونوں ایک جیسی تھیں دودھیا رنگت والی

_______

میڈموں اب کیک کاٹ بھی چکو عتیق نے ان دونوں سے کہا جو کیک کاٹنے کی بجاے اک دوسرے کی تعریف کررہی تھیں

وہ انسے بات نی کرنا چاہتا تھا مگر اسے بھوک لگی تھی

تم کو کس بات کی جلدی ہے کاٹ لےگے جنہوں نے کیک کھانا ہے کونسا تمنے کھانا ہے جعو تمہے جلدی ہے اقا نے طنزیہ کہا

(کیونکے جب اسنے کہا تھا کے دو کیک منگواے جاے پر مریم نے کہا کے ہم ایک ہی کیک کاٹیں گے ایک ساتھ جسپر اقا نے بھی تائید کی تھی۔

عتیق نے منہ فلا کر کہا تھا کے اگر تملوگ ایک ہی کیک کاٹو گی تو میں نی کھاوں گا اسنے اسلیے کہا تھا کے وہ دو کیک منگوالے پر

تو مت کھانا ہم فورس نی کرے گے اقا نے لٹھ مار انداز سے کہا

عتیق کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا یہ اسکی ماں جای ہے جو اسکی بات نا مانکر اسکی بات مان رہی ہے)

ہاں کہا تھا مینے اسنے کہا

تو پھر اب تو ہم نے تمہے دعوت نی دی ہے اقا نے ناک چڑھا کر کہا

پھر

پھر کیا اقا نے پوچھا

پھر یہ کے رات گئی بات گئی اسنے اقا کا اک دباکر کہا

ارے اقا کے بھای تم تم اسسے ایسے بات نی کرسکتے شانی نے غصے سے کہا

اچھا تو تم کیا کرلوگی اسنے اترا کر کہا کیونکے وہ اسسے کافی چھوٹی تھی قد میں بھی اور عمر میں بھی۔

تو

تو کیا شانی مانی اسنے چڑایا

تو یہہ اسنے اسکے ہاتھ پر چک کاٹ دیا

آہ

کیا ہوا اب دوبارہ پنگا مت لینا ہم سے اقا نے کہا

میرا باپ کی توبہ جو تم چڑیلوں سے بات بھی کروں اسنے ہاتھ سہلا کر کہا

انہون نے کیک کاٹا سب بہت خوش تھے۔

ہر کسی کے چہرے پر خوشی تھی۔

کیا سوچ رہی ہے بیگم عاشق صاحب نے رضیہ بیگم سے پوچھا جو کبسے اقا اور مریم کو دیکھ رہی تھی

کچھ بس ایسے ہی میں سوچ رہی تھی کے ہماری مریم کتنی سمجھدار ہے ناں ابھی سے ہی کیسے ہمارہ دل رکھنے کیلیے اتنی گرمی میں بھی ہماری پسند کے کپڑے پہنے ہوے ہے

وہ تو ہے انہو نے بھی کہا

اللّٰہ انکے نصیب اچھے کرے بس

آمین

دونون نے کہا

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

بیٹا ہمنے کتنی مرتبہ کہا ہے کے کسی کو مت مارا رو مگر تم ہماری بات سنتی ہی نی ہو پتا نی کب سنو گی میری بات تمہارے باپ نے ہی تمہے یہ گنڈا گردی سیکھائی ہے رضیہ بیگم نے غصے سے مریم کو کہا جو آج پھر کسی کی دھلائی کرکے آئی تھی

مما مینے پنگا نی لیا تھا پہلے اسنے ہی میرے بھائی کو گالی دی تھی اور آپ ہر بار ڈیڈی کو مت کہا کرے ایسے آپکو تو پتہ ہے کہ مجھے آرمی میں جانا ہے وہاں اگر کوئی مجھے کچھ کہے گا تو کیا میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہوں گا مریم نے کہا

اب کی بار بھی وہ لاجواب ہوگئی تھیں

ٹھیک کہہ رہے ہو تم شانی عتیق نے کہا

تم سے کسی نے کہا ک میری بات میں بولا کرو اسنے خفگی سے کہا

اوکے سوری سوری اسنے کان پکڑ کر کہا وہ اسے ناراض نی کرنا چاہتا تھا

جاؤ جاؤ معاف کیا اسنے احسان کرتے ہوے کہا

مما اقا کہا ہے ابھی تک آئی نی ہے کیا

لو شیطان کا نام لیا اور اقصٰی حاضر

عتیق نے لقمہ نگلتے ہوے کہا

پر تمہارہ تو کوی نام نی لیتا پھربھی تم حاضر ہوجاتے ہو شانی نے کہا

وہ دونوں ہنسنے لگی

پھپھو آپنے بلایا مجھے عتیق نے وہاں سے اٹھ میں ہی عافیت جانی

اچھا اقا کب تک نکلو گی تم میں بس ابھی کھانا کھا کر جارہی ہوں ہوں فلورہ اور فاریہ کے ساتھ تم بھی کھانا کھالو اور نکلتے ہے اب

یار ابھی تو آی ہو اقا نے کہا

تو تیز بھاگا کرو ناں

مریم نے کہا کیونکے مریم عتیق ر فلورہ بہت آگے چلے جاتے تھے مگروہ آصف فاریہ کافی پیچھے رہتے تھے

یار تم کیسے بھاگ لیتی ہو اتنا وہ تمہاری موٹی دوس

شٹ اپ اقا م شاید بھول رہی ہو کے وہ دونوں میری دوست ہے

سوری غلطی ہوگئی اقا واقع میں شرمندہ تھی وہ جانتی تھی کے مریم نے اپنے سارے دوست ان کیلیے چھوڑ دیے تھے

اوکے اقا پر دوبارہ نی شانی نے اسے وارن کیا

اوکے میری جان اقا نے اسکے گرد حصار بناکر کہا

وہ بھی ہنس دی

اب چھوڑ بھی دو اسنے اسکے سر پر چپٹ گا کر کہا

بلی شانی آکے کھانا کھالو رضیہ بیگم نے انہیں کچن سے آواز دی

آے

دونوں نے کہا اور چلے گئے

مما ڈیڈی کب آے گے ترکی سے شانی نے چاول کھاتے ہوے پوچھا

ابھی بابا کی کال آئی تھی کے وہ اگلے جمعہ کو آجاے گے فوزیہ نے کہا

اوکے آپ کب جارہی ہے آپی بس بابا کے آنے کے دو دن پہلے

اوکے مما یا آپی آپ میسے کوی میری پیکنگ بھی کردے مریم ے ان نوں کو مخاطب کرتے ہوے کہا

کیعوں تم کہاں جارہی ہو انہونے پوچھا

مینے بتایا تو تھا اسنے اطمینان سے جواب دیا

اور تب مینے بھی منع کردیا تھا ک تم نی جاوگی انہونے کہا

مینے بھی کہا تھا کے میں ضرور جاؤن گی اسنے کہا

بٹ بیٹا تم ابھی بچی ہو اور پچھلے سال گئی تو تھی ناں انہوں ے سمجھانے کی ناکام کوشش کی

اچھا 8 سال کی لڑکی کب سے چھٹی ہونے لگی مما اسنے کھانا کھانا چھوڑ دیا

ارے کھانا کھانا کیوں چھوڑا انہونے کہا

ارے مما آپ بھول گئی اسنے آنکھیں سکیڑ کے دیکھا

سب اب اسی کی طرف یکھ رہے تھے

کیا انہوں نے پوچھا

یہی ک ے پچھلے سال بھی تو کھانا کھایا تھا نا

اسنے کہا

اب انہے سمجھ آگئی تھی کے انکی بیٹی اپنی منواکر ہی رہے گی اسلیے ہار مانتے ہوے کہا کے زیادہ تیز مت بھاگنا

اسبار پچھلی مرتبہ بہت بری نظر لگی تھی

بہت بہت شکریہ آپکا مما اسنے پیار سے انکے گرد بازوحمائل کرتے ہوے پیار سے کہا

وہ بھی مسکرادیں

اچھا کبتک آو گی فوزیہ اورآصف ے پوچھا

لو جی ابھی گئی نی اور ان کو آنے کی بھی پر گئی اقا نے کہا

میں اسلیے کہہ رہی تھی کے ماموں آنے والے ہے تب تک آجاے گی نا فوزی نے کہا

شاید مریم نے جوس پیتے ہوے کہا

اکھو اکھو اکھھھووو

عتیق کے گلے میں چاول اٹک گئے

کیا ہوا تمہے

مریم نے پوچھا

پاپا کیوں آرہے ہیں اسنے کہا

کیا مطلب تمہارا شانی نے اسے گھورا

مم مم مینے کہا کے کب ہاں کب آرہے ہے وہ اسنے جلدی سے اپنی بات بدلی کے کہیں مریم اسے دوبارہ پیٹ نا دے اک مرتبہ اسنے ایسے ہی کہا تھا کے اقا کم کھایا کرو تو مریم نے اسکی واٹ لگادی تھی اور وہ بیچارہ دو دن تک بغیر میٹھائی کے رہا تھا یونکے مریم نے اسسے سزا دی تھی

اسسے جب بھی وہ دن یاد آتا ہے اسکا دل ہے۔

پتا نی ویسے کہہ رہے تھے کے جلد ہی آین گے آصف نے کہا

اگر تمہے جلدی ہے تو ابھی فون کردوں اقا نے کہا اور فون پکڑ کر کان سے لگالیا

جی بابا ارے ہمتوح یاد کرتے کہی ہے پر بھای زیادہ یاد کرتا ہے اسنے آنکھ چرا کر عتیق کو دیکھا

کہرہا ہے کے آپ جلدی آجاے

ارے نی نی جب آنا ہو جاے اسنے اٹھنے میں ہی عافیت جانی

وہ دونوں ہاتھ پر ہاتھ مارکے ہنس دی

ارے کیونتنگ کرتے ہو تم دونو ں اسبے چارے کو آسف اور فوزیہ نے کہا رضیہ بیگم نے بھی سر ہلایا

بے چارا آپکو وہ بے چارہ لگتا ہے

ہر دوسرے لڑکے یا لڑکی سے پیسے لے ا ہے جب وہ مانگتے ہے تو نی دیتا اور پتا ہے کیا کہتا ہے

کیا کہتا ہے سبنے پوچھا

انلوگوں کو کہتا ہے کے مریم میری زن ہے اور اگر تم لوگوں نے مجھے ہاتھ لگایا تو جانتے ہوناں اسے وہ کیا کرے گی تمہارا اور سب گدھے پھر اسسے پیسے مانگتے ہی نی ہے

ہاں تو تمہاری دہشت ہی اتنی ہے کتنے لوگوں کا تو سر پھاڑ چکی ہو بنا کسی بات کے آصف نے کہا

________

میں بنا کسی بات کے جھگڑا نی کرتی آپکو پتا ہے مریم نے منہ بسور کر کہا

اچھا اچھا وہ تو خد آیا تھا نا بے چارہ مار کھانے آصف نے یاد دلاتے ہوے کہا جسکی کل مریم نے مار مار ر درگت بنادی تھی

ہاہ

بیچارہ کس اینگل سے تمہے وہ بیچارہ لگتا ہے

مریم نے منہ کھولے کھا

شانی پھر بھی تمہے ایسے ریایکٹ نی کرنا چاہیے تھا اپنی عمر دیکھو اور کام دیکھو اسنے کہا

بس بھی کرو تم دونوں رجو بیگم نے کہا

مما آپ ہی بتاے اسنے بھای کو گالی دی تھی تبھی ینے اسے مارا تھا اور مینے اسے زیادہ نی مارا

مریم نے معصومیت سے کہا

اچھو اچھو

آصف کو شانی کی بات سن کر دھچکا لگا

ہاں امی اسنے زیدہ نی مارا اسے بس اسکی مار کھا کر اسکے منہ ناک اور ہاتھ سے خون نکلنے لگ گیا تھا بس اتنا ہی مارا ہے اس سنگل پسلی نے آصف نے اسکے پتلے جسم کو چوٹ کرتے کہا

السلام و عليكم

کیا حال ہیں آپ کے؟

فاریہ اور فلورہ نے کہا

مریم کوی جواب دیتی اسسے پہلے ہی وہ دونوں آگئی تھیں

وعليكم و السلام

اللّٰہ کا شکر ہے بیٹا آپ لوگ کیسے ہے رضیہ بیگم نے خوشدلی سے کہا

بس ٹھیک ہے آنٹی ویسے آپکی بیٹی نے کوی کسر نی چھوڑی ہمیں مارنے کی

فاریہ نے مریم کو دیکھتے ہوے کہا

جسنے اسے گھوری دی

کیا مطلب مینسمجھی نی انہوں نے کہا

ارے کچھ نی مما ان کو میں ایکسرسائز کا کہتی ہو نا اب چلو تم دونوں

مریم کہتے ساتھ ہی اٹھ گئی

اچھاآنٹی باے دونو کہہ کے اٹھ کھڑی ہوی

۔ ۔ ۔

تم جلدی نی چلسکتی مریم نے فاریہ سے کہا

یار چل تو رہی ہوں تمہی آہستہ چل لو اقا اور فاریہ نی کہا

اچھا بابا مریم نے کہا

آئس کریم کھائیں سب نے کہا

چلو کھلوادیتی ہوں تم لوگھ بھی کیا یاد کرو گی کس سخی سے پالا پڑا ہے

مریم نے فخریہ کہا

شانی بادشاہ سے

تینوں نے بیک وقت کہا

تم لوگ بھی نا

مریم نے انسے کہا

میری دو چاکلیٹ آئیس کریمز انکل اور تم لوگ بھی بتادو اسنے کہا

یار تم ہمے بہت یاد آؤگی فاری نے کہا

یار دو ہفتوں کی تو بات ہے پھر سب اکٹھے

مریم نے دلاسا دیتے ہوے کہا

اچھا میڈم

اب کھا بھی لو اسنے کہا

یار تمہارہ کزن نی ملا آج فلورہ نے کہا

افوہ اب اس بندر کا نام لے کر سارہ مزا خراب کردیا تمنے مریم نے اسے گھورا

مجھے یاد کیا کسی نے عتیق نے چہکتے ہوے کہا

لو ہوگیا حاضر مریم نے آنکھیں گمھائ

بس تمہاری کمی تھی اقا نے نخوت سے کہا

تو مینے پوری کرلی نا اسنے خوشی سے کہا

شانی ناٹ فئیر اکیلے اکیلے دو دو آٰئیس کریمز اسنے ایک لیتے ہوے کہا

اک دم بھوکے نادیدہ ہو تم مریم نے غصے سے کہا۔

شکریہ شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *