Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
آخری قسط)
۔
“تنہا راتوں کو اکیلے کمرے میں سونے والے ماں باپ کا دکھ وہ اولاد نہیں سمجھ سکتی جسے اس بات کی بھی فکر نہ ہو کہ ماں باپ یہ زندگی کیسے اکیلے گزار رہے ہوں گے۔۔۔”
۔
“اس۔۔۔السلام علیکم۔۔۔”
رامین نے آہستہ آواز میں کہا تھا جب فہاج نے اپارٹمنٹ کا ڈور اوپن کیا تھا بیل رنگ ہونے پر۔۔
“ہمم وعلیکم سلام ایم سوری میں آپ کو پہچانا نہیں۔۔۔”
“میں۔۔۔احلام کی وائف۔۔ انوشہ جانتی ہے۔۔ میں انوشہ سے ملنے آئی ہوں۔۔”
“اوکے۔۔۔ اندر آئیے۔۔۔”
فہاج نے دروازہ مکمل اوپن کردیا تھا۔۔۔ اور وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی تھی انوشہ ساڑھی ٹھیک کرتے ہوئے نیچے آرہی تھی چہرے پر جو مسکراہٹ تھی اس نے اسے اور ینگ بنا دیا تھا رامین کی نظر میں۔۔۔
“فہاج لیٹ ہوگئے ہیں۔۔ ایک تو آپ کا رومینس ختم ہونے کا نام نہیں لیتا اور پھر۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکی تھی رامین پر نظر پڑتے ہی فہاج کو دیکھا تھا۔۔۔
“آپ اندر جائیں۔۔۔”
فہاج کو ایک ہی جملہ کہا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ رامین کی نظر پھر سے اسکے شوہر پر پڑے۔۔
وہ ماضی کی طرح کوئی بیوقوفانہ حرکت نہیں کرنا چاہتی تھی
“اوکے۔۔۔ ویسے بھی اچھا ہوا ۔۔ مجھے انکار کیا تھا نہ۔۔۔؟؟ اب تو لیٹ ہو ہی گئے ہیں اب باہر کوئی نہیں جانے والا۔۔۔”
انوشہ کو آنکھ مارتے ہوئے وہ ماتھے پر بوسہ لیکر واپس بیڈروم کی جانب چلے گئے تھے
“مسز احلام۔۔ پلیز بیٹھیں۔۔۔”
انوشہ سامنے بیٹھ گئی تھی اور ملازمہ کو جوس لانے کا کہا تھا۔۔۔
“انوشہ۔۔۔ شاید تم جانتی ہو میں یہاں کس لیے آئی ہوں۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ میں نہیں جانتی۔۔ اور میں جاننا بھی نہیں چاہتی مجھے اچھا نہیں لگا تمہیں یہاں میرے گھر دیکھ کر۔۔”
انوشہ نے سٹریٹ فارورڈ بات کی تھی جس پر رامین ہرٹ ہوئی تھی سر جھکائے وہ گہرا سانس لے رہی تھی
“میں یہاں ایک ہی درخواست کرنے آئی ہوں۔۔ پلیز کیس واپس لے لو۔۔۔ احلام کو جیل سے ۔۔۔”
“ایم سوری میں ایسا نہیں کرسکتی۔۔۔ بات میری ہوتی تو میں ایسا کربھی لیتی مگر تمہارے شوہر نے میرے فہاج پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔۔”
وہ غصہ سے آگے ہوئی تھی۔۔۔
ابھی تک رامین کے دل میں جو انسیکیورٹی تھی و شک تھا احلام اور انوشہ کی محبت کو لیکر وہ تو ہوا کا بلبلہ ثابت ہوا تھا انوشہ کی فہاج کے لیے محبت دیکھ کر۔۔۔
“کیا۔۔۔ کیا تم سچ میں احلام کو بھول چکی ہو۔۔؟؟ تم دونوں کی محبت تو۔۔۔”
“ماضی تھا۔۔۔ وہ محبت اسی دن مرچکی تھی جب وہ تمہارے ساتھ فزیکل ہوا تھا رامین۔۔۔
اس شخص سے طلاق لیکر میں نے اس محبت کو دفنایا تھا۔۔۔”
اسکی باتیں رامین کو اور چھوٹا بنا رہی تھی جس کی آنکھیں بھر آئی تھی۔۔۔ مگر انوشہ وہ تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھی رہی تھی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔۔”
جب انوشہ نے کوئی جواب نہ دیا اور مسلسل رامین کی آنکھوں میں دیکھتی رہی تو رامین نے اپنی بات جاری رکھی تھی
“کتنی عجیب بات ہے نہ کہ میں نے عمر کا ایک حصہ ایک قیمتی حصہ تم سے جلن میں حسد میں گزار دیا۔۔۔ تمہارے گھر کی ہرخوشی ہر چیز تم سے چھین لی۔۔۔ مگر پھر بھی میں آج ناکامی کے دہراہے پہ کھڑی ہوں اور تم ایک خاشحال زندگی گزار رہی۔۔۔”
انوشہ نے ٹانگ پر سے ٹانگ ہٹا دی تھی رامین کی باتوں نے اسے شاک کردیا تھا۔۔۔
“جلن۔۔۔؟؟ حسد۔۔؟؟ میں۔۔۔”
“تم مجھے نہیں جانتی مگر میں جانتی ہوں تمہیں تب ھی جانتی تھی۔۔ میں اکثر تمہیں دیکھتی تھی آفس میں اتے جاتے ہوئے احلام پر میری نظر اس وقت پڑی تھی جس دن میں نے اسے تمہارے لیے اتنا فکر مند دیکھا تھاکہ وہ ایک امپورٹنٹ میٹنگ کو چھوڑ کر اس روم سے ایسے بھاگے تھے جیسے انکی زندگی انکے ہاتھ سے پھسل رہی ہو۔۔۔ میں اس شخص کو ایڈمائر کرنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔ اور تمہیں جب جب احلام کے کیبن میں دیکھتی تھی میری ایڈمائیرشن کب جلن میں بدل گئی مجھے پتہ نہیں چلا۔۔۔
انوشہ۔۔۔ ہمارے آفئیر کے بعد سے شادی تک کی خبر تمہیں میں نے پہنچائی تھی۔۔ کیونکہ میں چاہتی تھی کہ تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے احلام کی زندگی سے دور چلی جاؤ۔۔۔”
رامین کا چہرہ اسکے آنسوؤں سے بھر گیا تھا
“میں وہ سب حاصل کرچکی تھی مگر وہ سکھ نہ مل سکا مجھے۔۔۔ انوشہ احلام تب تک میرے ساتھ خوش تھے جب تک تمہیں پتہ نہیں چلا تھا۔۔ مگر جیسے ہی تمہیں پتہ چلا وہ میرا گھر جنت جیسا بکھرنے لگا تھا۔۔۔”
“کسی کی جنت کو برباد کرکے ایک عورت کے مقام سے گر کر کسی کے شوہر کو سڈیوس کرکے تم توقع رکھتی تھی کہ تمہارے ساتھ مکافات نہیں ہوگا۔۔؟؟”
انوشہ نے پانی کا گلاس رامین کی طرف کرکے پوچھا تھا۔۔۔
“شاید میں اس وقت سمجھ نہیں پائی تھی انوشہ مگر اب میں سمجھ گئی ہوں۔۔ کسی مرد کو سیڈیوس کرکے بستر تک لے جایا جاسکتا ہے مگر دل تک رسائی نہیں ملتی ایسی عورت کو۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔یہاں تم اپنے شوہر کو جیل سے بچانے آئی ہو یا میرے دل میں اسکے لیے ہمدردی جگانے آئی ہو۔۔؟؟ کیونکہ میرے دل میں محبت ہمدردی احساس اپنائیت بس ایک شخص کے لیے رہے گی تاحیات۔۔۔ اور وہ فہاج ہیں۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔”
“مجھے سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ رامین تم نے سیڈیوس کیا نہیں کیا۔۔۔ یا کیا کیا۔۔۔ تم غیر تھی ہمارے گھر کا مرد وہ تھا حاکم تھا۔۔ اگر اس نے اپنی غیرت اور ہمارے رشتے کو چند پل کی لذت پر وار دیا تو وہ گناہ گار ہے تم نہیں۔۔۔ تم جا سکتی ہو۔۔۔
البتہ میں اپنے ہزبنڈ سے پوچھ لوں گی۔۔ کہ کیس کا کرنا کیا ہے۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔”
“اپنا اور اپنے بیٹے کا خیال کرنا۔۔۔ احلام جیسے مرد پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اپنا بیک اپ لازمی رکھنا۔۔۔”
رامین چہرہ صاف کرکے وہاں سے چلی گئی انوشہ کتنے منٹ وہیں بیٹھی رہی فہاج پاس آکر بیٹھ گئے تھے تب بھی اسے احساس نہیں ہوا تھا
“انوشہ۔۔۔”
مگر فہاج کے کندھے پر سر رکھ کر اس نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
“کیا کھیل کھیلتی ہے نہ زندگی۔۔؟؟ جسے ہمسفر سمجھ کر شادی کی وہ محبت کے قابل بھی نہیں نکلا۔۔۔
اور جس پر یقین کرتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا تھا وہ میرا ہمسفر بن گیا۔۔۔”
انوشہ کی انگلیاں کالر سے ہوتے ہوئے فہاج کے چہرے پر جسے ہی گئی تھی وہ کچھ اوپر اٹھی فہاج کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
“آپ میرے ہمسفر بن گئے دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔یقین نہیں ہورہا زندگی کیسے بازی پلٹ دیتی ہے۔۔۔”
“مجھے یقین تھا۔۔۔ جس دن تمہیں پہلی بار دیکھا تھا۔۔ میرے دل کی تیز دھڑکن مجھے سگنل دے رہی تھی۔۔ اور میں درگزر کرتا رہا۔۔
انوشہ ایسے لگتا ہے کہ اس دن وہ نکاح کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو تمہیں کبھی اپنا نہ بنا پاتا۔۔۔
وہ ایک فیصلہ۔۔۔میرے ہمسفر۔۔۔”
انوشہ کی دیکھتی ہوئی آنکھوں پر جیسے انہوں نے اپنے ہونٹ رکھے تھے گہری خاموشی چھا گئی تھی وہاں۔۔۔انکی کی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھی بس۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فہاج تم سے کوئی ملنے آیاہے۔۔۔”
“مگر میری کوئی اپاؤنٹمنٹ نہیں تھی میں ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں ابھی اٹینڈ نہیں کرسکتا۔۔”
فہاج صاحب نے چئیر سے کورٹ اتار کر پہننا شروع کیا تو دروازے پر نظر گئی تھی جہاں مبشر صاحب اپنے وکیل کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے
“اوکے میں انہیں جانے کا کہہ دیتا ہوں۔۔۔”
“اسکی ضرورت نہیں۔۔۔”
فہاج صاحب نے اپنے دوست کو منع کردیا تھا اور کچھ فائلز دہ کر انسٹرکشن دہ دی تھی وہ دوست جیسے ہی کیبن سے باہر گئے تھے فہاج نے مبشر صاحب کو اندر آنے کا کہا تھا پورے احترام کے ساتھ
“تم جانتے ہو ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔”
وہ دونوں جیسے ہی بیٹھے تھے فہاج بھی ڈیسک کے اس طرف رکھی اپنی کرسی پر جاکر بیٹھ چکے تھے انکی مکمل توجہ اب مبشر صاحب کی طرف تھی
“نہیں میں نہیں جانتا کہ آپ بتائیے۔۔۔آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔؟؟”
مبشر صاحب جتنا رؤب فہاج پر ڈالنے آئے تھے فہاج کے آفس اور انکی پوسٹ دیکھ کر وہ خود بھی ہچکچا رہے تھے وہ ریکوئسٹ کرنا نہیں چاہتے تھے خاص کر ساتھ بیٹھے وکیل کے سامنے۔۔۔
“سر ہم میرے کلائنٹ مسٹر احلام بیل کروانے کے لیے آپ سے ملنے آئے ہیں۔۔ چونکہ آپ فیملی ممبر ہیں تو یہاں ختم ہوسکتی ہے بنا کورٹ جائے۔۔”
“فیملی ممبر۔۔۔؟؟ کس لحاظ سے۔۔؟؟ سر کیا آپ میرے رشتے دار ہیں۔۔؟؟”
فہاج کی آواز آہستہ تھی مگر بلا کا غرور تھا آنکھوں میں
“فہاج۔۔۔”
“آپ کا رشتہ کیا ہے میرے ساتھ وہ بتا دیجئے۔۔۔”
“دیکھیں سر آپ انکی بیٹی کے ہزبنڈ ہیں۔۔”
مبشر صاحب کا ہاتھ مٹھی کی صورت بند ہوگیا تھا جب فہاج کے چہرے پر ہنسی آئی تھی۔۔۔
“اچھا۔۔۔ انکی بیٹی اور داماد پر جان لیوا حملہ ہوا اور یہ کسی غیر شخص کو جیل سے بچانے کے لیے ہمارے پاس آگئے ہیں ۔۔۔ اگر آپ کی بیٹی تھی تو وہ پاکستان میں جو اسکی محنت کو ملبہ کی نظر کردیا وہ ہسپتال آپ نہ گراتے۔۔۔ جہاں تک مجھے یاد ہے آپ رشتے توڑ چکے تھے۔۔۔”
“انفف۔۔۔۔ میں برداشت کررہا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کہ۔۔۔”
“برداشت میں کررہا ہوں۔۔ میری بیوی کو خون کے آنسو رلا دینے کے بعد آپ رشتے کی بات کررہے ہیں۔۔۔؟؟”
“فہاج۔۔۔”
“میں چاہتا تو اس جیل میں اسکا برا حال بھی کروا سکتا تھا۔۔ مگر ایسا کچھ نہیں کیا۔۔ اگر وہ ساری زندگی بھی لاک اپ میں رہے تو کم ہوگی اسکی سزا۔۔۔ اس نے جرات کی میری بیوی کو کڈنیپ کرکے نقصان پہنچانے کی۔۔۔”
دونوں ہاتھ ڈیسک پر رکھ وہ مبشر صاحب کے روبرو ہوئے تھے
“مسٹر فہاج۔۔۔”
وکیل نے آہستہ آواز میں کہنے کی کوشش کی تو فہاج نے غصے سے دیکھا تھا
“میں اس معاملے کو اور نہیں الجھاؤں گا میں نے اور میری بیوی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اسے معاف کردیں۔۔۔ مگر یہ کورٹ کے پیپرز اپنے سابقہ داماد کو دہ دیجئے گا کہ اگر وہ اپنی زندگی چاہتا ہے تو دوبارہ یہاں نظر نہ آئے۔۔۔اور آپ بھی دور رہیں میری بیوی سے۔۔۔”
مبشر صاحب اتنا شاکڈ تھے کہ وہ اپنی جگہ سے ہل نہ پائے تھے وہ تو وکیل صاحب بازو سے پکڑ کر انہیں کیبن سے لے گئے تھے فہاج کے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ نے یہاں آنے کا تکلف کیوں کیا مسٹر مبشر۔۔ میرا وکیل آگیا تھا یہاں۔۔”
“تمہیں یہاں میرے آنے یا وکیل کے آنے پر نہیں چھوڑا گیا۔۔ فہاج اور انوشہ کے سٹیٹمنٹ کے بعد تمہیں چھوڑا ہے انہوں نے۔۔۔ اس شرط پر اب تم یہاں نظر نہیں آؤ۔۔”
“ہاہاہاہا یہ اسکی بھول ہے میں انوشہ کو یہاں سے لیکر جاؤں گا۔۔۔”
وہ پولیس سٹیشن سے جیسے ہی باہر نکلے تھے احلام کے پاس کچھ پولیس مین آگئے تھے سامنے گاڑی کھڑی تھی پولیس کی۔۔۔
“یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟”
“تمہیں ڈپورٹ کردیا گیا ہے۔۔۔ یہ آرڈرز۔۔۔ اور تم اب اس کنٹری سے بلیک لسٹ ہو۔۔۔چلو۔۔۔”
وہ اپنی گاڑی میں چلے گئے تھے جب کہ احلام کو زبردستی پولیس آفیسرز نے پکڑ کر گاڑی میں بٹھایا تھا اور ائر پورٹ لے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“موبائل فون کی بجتی ٹون نے انوشہ کی آنکھیں کھول دی تھی۔۔۔ سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ بڑھا کر اس نے جیسے ہی کال ریسیو کی تو ہاسپٹل سے ایمرجنسی کی کال تھی
“ہمم آپریشن ٹھیٹر ریڈی رکھیں میں آتی ہیں۔۔ ٹیس سب کرچکے ہیں آپ۔۔؟؟”
کچھ سیکنڈ جواب سننے کے بعد وہ فون بند کرچکی تھی۔۔
جب گھڑی کی طرف دیکھا تو تین بج رہے تھے۔۔۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرتی ہے تو فہاج کی گرفت اسے اٹھنے نہیں دیتی۔۔
“فہاج۔۔۔”
انوشہ نے سرگوشی کی تھی
“ہمم۔۔۔”
مجھے ہاسپٹل جانا ہے ایمرجنسی آگئی ہے۔۔ “
فہاج نے زرا سی آنکھیں کھولی تھی گھڑی کی طرف دیکھ کر انہوں نے انوشہ کی طرف دیکھا تھا
“ڈونٹ ورری میں ڈرائیور کو ساتھ لےے جاؤں گی۔۔۔”
فہاج کے سر پر بوسہ دئیے وہ اپنا نائٹ ڈریس پہنے باتھروم چلی گئی تھی بنا شور کئیے۔۔
کچھ دیر میں وہ وہ ڈریس اپ ہوکر جیسے ہی واپس بیڈروم میں آئی تھی وہاں بیڈ پر فہاج موجود نہیں تھے اور گاڑی کے انجن کی آواز جیسے ہی آئی وہ اپنا سیل فون پکڑے روم سے باہر چلی گئی تھی
“فہاج۔۔۔ آپ کی میٹنگ ہے۔۔ میں نے مینج کرلینا تھا”
“شش۔۔۔ تم جانتی ہو۔۔ رات کو میں ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنے دوں گا۔۔؟؟”
اور گاڑی چلا دی تھی۔۔۔
“اتنے پوسییسو۔۔۔؟؟؟”
“ابھی تم نے دیکھا کیا ہے۔۔؟؟”
باتیں کرتے کرتے انوشہ نے فہاج کے کندھے پر سر رکھے آنکھیں بند کرلی تھی
“میں آپ کی سب سائیڈ دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔وقت کے ساتھ ساتھ کوئی جلدی نہیں ہے۔۔۔”
فہاج کی گردن پر بوسہ دئیے اپنا ہاتھ فہاج کی ویسٹ پر رکھ چکی تھی
“سیریسلی۔۔؟؟ انوشہ۔۔۔ ہم نے مریض بن کر ہاسپٹل نہیں جانا۔۔۔ سو مجھے سیڈیوس مت کرو۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ اوکے۔۔ ڈئیر ہزبنڈ۔۔۔کچھ گھنٹے پہلے کون کررہا تھا سیڈیوس۔۔؟؟”
“تو اب کیا کرتا۔۔؟؟ تمہیں تو ترس آیا نہیں پچھلے ایک ہفتے سے مصروف ہو۔۔ میں نے عہد کرلیا ہے اب بی جان کی طرف تمہیں نہیں لے جانا۔۔۔ مجھ تو وقت ملتا ہی نہیں ہے۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔اچھا بابا اب سے سوچوں گی۔۔۔”
اس نے جیسے ہی پھر سے بوسہ دیا تھا گردن کے پاس فہاج نے سٹئیرنگ کو اور مظبوطی سے پکڑ لیا تھاجس پر انوشہ اور کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہاں تو پہلے سے ہی جشن منایا جا رہا ہے۔۔۔ سوچا کیوں نہ میں بھی اپنی خوشیاں منا لو اپنے کے ساتھ۔۔۔ کم ہیر عریشہ۔۔۔”
پیچھے کھڑی ہوئی لڑکی جیسے ہی دلہن کے لباس میں روحان کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی سب بیٹھے ہوئے فیملی ممبرز کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔
مگر ابیہا۔۔ وہ اس قدر شاکڈ تھی کہ اس سے اٹھا نہیں گیا اپنی جگہ سے۔۔۔ ان دونوں کو سجے ہوئے دیھ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے دیکھ وہ سمجھ گئی تھی۔۔۔
“آپ سب حیران ہورہے ہوں گے کہ میں یہاں کیا کررہا ہوں اس انجان لڑکی کے ساتھ
میں کیوں کسی کمرے میں سوگ منا رہا۔۔؟؟
ویل ویل ویل۔۔۔ جب سمندر میں اتنی مچلیاں موجود ہوں تو کیوں کسی ایک کے لیے سوگ منایا جائے۔۔؟؟”
روحان نے ابیہا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہی عریشہ کے ہاتھ کو اپنے چہرے کے قریب لے جاکر بوسہ دیا تھا جس پر ابیہا نے آنکھیں نیچے کرلی تھی
“یہ میری بیوی ہیں۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔؟؟ مجھے اور میری بیوی کو پیا نہیں دیں گے۔۔؟؟
اور میری سٹیپ موم۔۔؟؟”
وہ انوشہ اور فہاج کے سامنے کھڑا ہوا تھا عریشہ کے ساتھ۔۔۔
“روحان۔۔۔”
بی جان نے سختی سے کہا تھا۔۔ وہ لوگ آپس میں الجھ رہے تھے گھر والے روحان کو غصے سے دیکھ رہے تھے مگر فہاج اور انوشہ وہ دونوں خاموش کھڑے تھے۔۔
“ایکسکئیوز مئ۔۔۔”
ابیہا وہاں سے جانے لگی تھی جب روحان نے اسکا راستہ روکا تھا۔۔۔
“میری سوتیلی ماں کی سگی بیٹی۔۔۔ میری سٹیپ سسٹر۔۔۔ مجھے اور میری مسز کو مبارک باد دئیےبغیر چلی جائیں گی۔۔۔؟؟”
ابیہا کی آنکھ سے وہ آنسو بلآخر نکل آیا تھا جو اس نے منہ پھیرتے ہوئے جلدی سے صاف کیا تھا۔۔۔ روحان ہر اس حرکت کو دیکھ رہا تھا۔۔ مگر آج وہ بدلہ لینے آیا تھا ہر اس زیادتی کا۔۔۔
آج وہ بھی وہ سب کرنا چاہتا تھا جو ابیہا نے شادی سے انکار کرکے کیا تھا اسکے ساتھ
“ہمم۔۔ آپ دونوں کو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ ہی از آ نائس پرسن عریشہ۔۔ میری دعا ہے اللہ تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔۔۔ بہت مبارک ہو شادی روحان۔۔۔ ہمیشہ خوش رہو۔۔۔”
ابیہا نے مسکراتے ہوئے ان دونوں کو دعا دی تھی اور سر جھکائے وہاں سے چلی گئی تھی پھر کبھی نہ واپس آنے کے لیے۔۔۔
۔
“یہاں رہنے کا خیال بہت برا تھا۔۔۔ پاکستان واپس چلے جانا چاہیے مجھے۔۔۔”
وہ خود سے عہد کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مبشر کبھی انوشہ کو معاف نہیں کریں گے۔۔ ماں ہمارا گھر دیکھیں کس طرح خالی ہوگیا ہے۔۔”
“مبشر معاف نہیں کرے گا یا انوشہ کبھی معافی نہیں مانگے گی۔۔؟؟ مبشر نے اس ہسپتال کو گرا کر اپنی سندلی کا ثبوت دہ دیا تھا۔۔۔ انوشہ کے لوٹ آنے کی اب کوئی امید نہیں رہی۔۔
اور نیہا وہ بھی اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔۔۔”
انوشہ کی نانی نے انوشہ کی والدہ کو لاجواب کردیا تھا اور دروازے پر کھڑے مبشر صاحب بھی۔۔ خاموشی سے اپنی سٹڈی میں چلے گئے تھے۔۔۔
۔
کتنے گھنٹے وہ وہاں چئیر پر بیٹھے سگار پر سگار ختم کررہے تھے پورے کمرے کو دھویں سے بھر دیا تھا۔۔۔ جب بیگم نے دروازہ ناک کیا تو کوئی جواب نہ پا کر وہ اندر آگئی تھی۔۔۔
“مبشر۔۔۔”
مگر کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔ وہ بھی خاموشی کے ساتھ صوفہ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
اس بڑے سے گھر میں وہ دونوں بچوں کے بغیر اپنی اپنی وہ غلطیاں سوچ رہے تھے جن کی وجہ سے انکے بچے دور ہوگئے ان سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
دو سال بعد۔۔۔۔”
۔
۔
“کم آن جلدی کرو۔۔۔ نیچے مولوی صاحب۔۔۔۔”
فہاج صاحب جیسے ہی روم میں داخل ہوئے تھے باقی سب چلے گئے تھے سوائے انوشہ کے۔۔
“ڈیڈ۔۔۔ کیسی لگ رہی ہوں۔۔؟؟”
انوشہ نے دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے اریبہ کا چہرہ فہاج کی طرف کردیا تھا
“بیوٹیفل ماشاللہ۔۔۔ پتہ ہی نہیں چلا بچے کب بڑے ہوگئے۔۔۔ ابھی کل کی بات تھی جب تمہارا بہتا ہوا ناک صاف کرتا تھا میں۔۔۔”
“ڈیڈی۔۔۔”
اریبہ نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ فہاج کی بھری آنکھوں کی طرح انوشہ بھی بہت جذباتی ہوگئی تھی پچھلے کچھ سال اریبہ کے ساتھ اسکی اٹیچمنٹ ابیہا کی طرح ہوگئی تھی
“ماں آپ دیکھ لیجئے ڈیڈ کو۔۔۔”
انوشہ کو جیسے ہی ماں بلایا تھا اوہ ایکسکئیوز کرکے باہر جانے لگی تھی جب اریبہ نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
“مجھے آج جانے سے پہلے آپ دونوں سے بات کرنی ہے۔۔۔”
“بیٹا آئی تھنک آپ دونوں کو ٹائم چاہیے پلیز۔۔۔”
انوشہ کا ہاتھ اس بار فہاج نے پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا سامنے کرسی پر اریبہ جیسے ہی بیٹھی تھی اس نے دونوں کے ہاتھ پکڑ لئیے تھے۔۔۔
“آپ دونوں میری زندگی سب سے اہم حصہ ہیں۔۔۔ ڈیڈ ساری زندگی میں آپ کو نہیں سمجھ سکی جو ان تین سالوں میں سمجھی ہوں۔۔۔ مجھے موم کے جانے کا دکھ ہے مگر آپ کو پانے کی خوشی زیادہ ہے۔۔۔ سوچتی ہوں۔۔ اگر میں موم کے ساتھ ہوتی تو میرا بھی حال روحان جیسے ہونا تھا۔۔۔ “
“اریبہ بیٹا۔۔۔”
“ماں آپ بہت اچھی ہیں۔۔۔ مجھے آپ کی صورت میں ایک اور ماں مل گئی اور ابیہا کی شکل میں ایک بڑی بہن۔۔۔ “انوشہ کے ہاتھوں میں بوسہ دے کر اریبہ نے اپنی محبت اور انوشہ کے لیے عزت کا اظہار کیا تھا۔۔۔
“لڑکی اگر ہمارا میک اپ خراب ہوگیا نہ تو اور وقت لگے گا۔۔۔”
انوشہ نے اریبہ کو اپنے گلے سے لگاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ فہاج پاس بیٹھے خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ انوشہ نے سچ میں ثابت کردیا تھا کہ وہ کتنے دل سے فہاج اور فہاج سے جڑے ہر رشتے کو اپنا چکی تھی۔۔۔ فہاج کی آنکھیں انوشہ پر تھی جو پہلے سے فہاج کو دیکھ رہی تھی
خاموشی میں بھی ان دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے بہت باتیں کررہی تھی۔۔۔
“اگر تم دونوں کا میک اپ خراب ہوگیا تو نیچے سب ڈر کر بھاگ جائیں گے۔۔۔”
“فہاج۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔”
“ہاہاہاہا اوکے سوری میری چڑیلز۔۔۔ میرا مطلب ہے پرنسز۔۔۔”
“ماں دیکھ لیجئے ہم دونوں کو چڑیل کہا۔۔۔”
“دونٹ وری بیٹا ۔۔۔ آج رات لیونگ روم میں ہی سوئیں گے۔۔۔”
“فہاج کی شاکڈ سے بڑی ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر وہ دونوں ہنستے ہوئے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
۔
فہاج نے ان دونوں کو آگے بڑھ کر اپنے گلے سے لگایا تھا ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد وہ اور انوشہ اریبہ کا ہاتھ پکڑ کر نیچے لے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“روحان آج تمہاری بہن کی شادی ہے اور تم یہاں ایسے بیٹھے ہو۔۔؟ پلیز۔۔۔ چلو۔۔”
“ایکٹنگ بند کرو عریشہ۔۔۔ “
اپنا ہاتھ چھڑا کر روحان نے واپس دوسری طرف منہ کرلیا تھا مگر دروازہ پر کھڑے ان دو لوگوں کی ہنسی نے جیسے اس کا سانس روک دیا ہو اس لمحے۔۔۔
“ابیہا۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تو عریشہ نے بھی پیچھے مڑ کردیکھا تھا۔۔۔ اس لڑکی کو جس سے ہر گزرتے دن اسے نفرت ہورہی تھی
“تم آج بھی اسے نہیں بھلا پائے نہ۔۔؟؟” وہ روحان کے ساتھ رکھی چئیر پر بیٹھ گئی تھی اس کے سوال نے اسکی توجہ واپس عریشہ کی طرف مرکوز کردی تھی
“جیسے تم بھلا پائی ہو اپنے لور بوائے کو۔۔؟؟”
“روحان۔۔۔”
“شش۔۔۔ میں جانتا ہوں تم نے ڈائیورس پیپرز بنوا لئیے ہیں مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہو تم۔۔۔ مجھے حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے پچھلے تین سال میں نے تمہیں کیا کچھ نہیں دیا۔۔؟؟ پھر بھی تم نے باہر کسی کے ساتھ دل لگا لیا۔۔؟؟”
عریشہ نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔۔ ابیہا کی طرف نظر نہیں تھی اب روحان کی بلکہ اپنی بیوی کی طرف تھی
“روحان۔۔۔ سب کچھ دیا مگر اپنے دل میں جگہ نہ دے سکے تم۔۔۔ ابھی بھی دیکھو بیوی پاس پہلو میں ہے اور تمہاری نظر اس لڑکی پر ہے جو اپنے منگیتر کے ساتھ داخل ہوئی یہاں۔۔۔وہ موو آن کرگئی مگر تم۔۔۔؟؟”
“مووو آں کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے عریشہ۔۔۔ وہ مجھے ٹھکرا کر آگے بڑھی۔۔
اور میں ٹھوکر کھا کر وہی کھڑا رہ گیا۔۔۔میرے دل میں ابیہا کے لیے ایک ہی جذبہ ہے۔۔۔
اور وہ نفرت ہے۔۔۔ محبت نہیں۔۔۔”
وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“تم خود سے تو جھوٹ بول سکتے ہو پر مجھ سے نہیں۔۔۔اور اب میں اس بےمعنی رشتے میں اور رہ بھی نہیں سکتی۔۔۔”
۔
“ایسے ویرانے میں اک دن گھٹ کے مرجائیں گے ہم
جتنا جی چاہے پُکارو۔۔۔پھر نہیں آئیں گے ہم۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ ماشاللہ۔۔۔ ویسے فہاج بھائی۔۔۔ اگر آپ دونوں سوچ لیں تو گڈ نیوز آبھی سکتی ہے۔۔۔؟؟”
کزن نے جیسے ہی آنکھ ماری تھی انوشہ کو کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی پانی پیتے ہوئے۔۔۔
پورا ٹیبل قہقوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔ جہاں انوشہ کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔۔ وہیں فہاج بڑے فخر سے انوشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھے پاس بیٹھ گئے تھے
“ہاہاہاہاہا ایسا ہو بھی سکتا ہے مگر ہم دونوں نے بچوں کا سوچا نہیں اور شاید سوچیں بھی نہ۔۔۔”
وہ مزاحیہ ماحول سنجیدہ ہوگیا تھا فہاج صاحب کی بات پر یہاں تک وہاں اینجوائے کرتے بچوں کی توجہ بھی اس میز پر چلی گئی تھی جہاں سب بیٹھے ڈنر کررہے تھے
“فہاج اس میں کوئی غلط بات نہیں۔۔۔”
اس بار صہیب صاحب نے کہا تھا اور نیہا نے اپنے شوہر کی بات پر ہاں میں سر بھی ہلایا تھا۔۔۔ وہ سب انکریج کررہے تھے فہاج اور انوشہ کو۔۔۔
“ہم دونوں نے سابقہ زندگی میں یہی سب کیا۔۔۔ شادی ہوئی بچے ہوئے۔۔۔ بچوں میں لگ گئے۔۔۔
اب ہم دونوں اپنے لیے ایک دوسرے کے لیے یہ باقی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔۔
بچے کے ہوتے ہوئے بھی تنہا تھے۔۔۔ اب پھر سے بچوں کا سوچیں جب ہمیں کوئی کمی محسوس ہو۔۔۔؟؟ ہمارا نام لینے والے ہیں۔۔۔
مگر باقی کی زندگی ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیتانا چاہتے ہیں۔۔۔۔”
پن ڈراپ سائلنس ہوگیا تھا جب انوشہ نے اپنی آنکھیں صاف کرکے فہاج کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا اور اپنے اس ری ایکشن سے فہاج کو بتایا تھا کہ وہ فہاج کے فیصلے اور باتوں سے کتنا خوش ہے۔۔۔
“فہاج اور میں نے اپنی سب ذمہ داریاں مکمل کی
میاں بیوی کی ماں باپ کی بہن بھائی سب رشتے ہم دونوں نے نبھا لئیے۔۔۔
اب ہم ایک ہی رشتہ نبھانا چاہتے ہیں۔۔۔
ایک دوسرے کا ‘ہمسفر’ ہونے کا۔۔۔۔ ہماری زندگی میں اب گنجائش ہی نہیں اس ایک رشتے کے سوا۔۔۔”
انوشہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر فہاج نے وہ لفظ دہرایا تھا۔۔۔
“میری ہمسفر۔۔”
۔
ہاتھوں میں ہاتھ پکڑے وہ دونوں پیچھے سب کو حیران چھوڑ گئے تھے۔۔۔اور ایک نئی مثال دے گئے تھے اپنے خاندانوں کو۔۔۔
عمر بڑی ہونا اور اس عمر میں اپنے جذبات کا گلا گھونٹ دینا یہ غلط ہے۔۔۔
نکاح کرکے نئی زندگی کی شروعات کرنا غلط نہیں ہے۔۔۔
بچوں کی خوشی غمی کا سوچ کر اپنے ارمانوں کا خون کرنا غلط ہے۔۔۔
کسی تنہا شخص کا ہاتھ پکڑ کر اپنا ہمسفر بنا لینا غلط نہیں ہے۔۔۔
۔
اپنی فیملی میں خاندان میں۔۔۔ ایسے تنہا لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں
معاشرے کی زنجیروں میں قید مت کریں
کیونکہ تنہا راتیں گزارنا اور ایک لمبی زندگی میں خود کو اکیلا کرکے بوڑھنے ہونے سے اچھا ہے۔۔۔ اپنا سہارا ڈھونڈ کر کسے بےسہارا کا سہارا بنئے۔۔۔ کیونکہ ہمارے اسلام میں اسکی اجازت ہے۔۔۔ معاشرہ کیا کہتا ہے کہنے دیجئے۔۔۔
۔
۔
“۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شُد۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
