Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
“انوشہ۔۔۔ مجھے ابھی جواب نہ دو۔۔ سوچ لو پھر جواب دہ دینا۔۔۔ میں کہیں نہیں جارہا یہیں ہوں۔۔۔۔”
۔
ایک بار پھر سے انوشہ کی انگلیا ں انکی انگلیوں میں سما گئی تھی۔۔۔
اس بار ان دونوں کا رخ سمندر کی طرف تھا۔۔۔ ان اٹھتی لہروں کی طرح انکے دلوں میں بھی ایک طوفان اٹھا تھا۔۔۔ انکی ابھی تک کی زندگی کو ہلا کر وہ طوفان بہت خاموشی سے چلا گیا تھا۔۔۔چھوڑ گیا تھا ان دونوں کو ایک دوسرے کے آسرے۔۔۔۔
۔
“ایم سوری۔۔۔آئی کانٹ ڈو دس۔۔۔۔”
انوشہ نے اپنے ہاتھ کو چھڑا لیا تھا۔۔۔ سمندر سے آتی لہریں پاؤں بھگو چکی تھی انکے اور انوشہ کی باتیں فہاج صاحب کی پلکیں۔۔۔
پتہ نہیں اس ایک ریجیکشن کے لمحے میں اتنا کرب کیوں تھا۔۔۔ انہوں نے انوشہ کو دیکھنے کی ہمت نہیں کی تھی۔۔۔
“اوکے۔۔۔ یہی مرضی ہے تمہاری تو۔۔۔ میں جتنے دن یہاں ہوں۔۔ روز اسی وقت اس جگہ آؤں گا۔۔ میں صرف چند لمحات گزارنا چاہتا ہوں۔۔ ایک دوست کی حیثیت سے۔۔”
“دوست۔۔؟؟ آپ پریکٹکلی رشتے دار ہیں۔۔۔ یہاں اس جگہ میری ریپوٹیشن ہے ۔۔۔
میری فیملی ہے۔۔۔کسی ایک نے ایک بار آپ کو میرے ساتھ دیکھ لیا تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ ہم رشتے دار ہیں یا دوست۔۔۔وہ یہ کہے گا کہ اس عمر میں یہ لوگ یہ کرتے پھر رہے ہیں۔۔۔ایم سوری بٹ کونسی دوستی۔۔؟؟ میں کوئی بھی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔۔۔”
وہ واپس جانے کے لیے مڑی تھی
“تو تم بھاگ رہی ہو۔۔؟ تم دوستی سے رشتے داری سے ہر تعلق سے بھاگ رہی ہو کیوں۔۔؟؟ تم جانتی ہو تم کمزور پڑ جاؤ گی۔۔
اور تم انوشہ مبشر۔۔ تم کمزور نہیں پڑنا چاہتی۔۔۔۔”
وہ باتیں کررہے تھے اور انکے قدم تیز ہوتے جارہے تھے گاڑی کی طرف۔۔۔
“مگر یہاں دنیا نہیں ہے تماشہ دیکھنے کے لیے انوشہ یہاں میں ہوں صرف۔۔۔
ہم جو دنیا سے نہیں کہہ سکتے اپنوں سے نہیں کہہ سکتے وہ ایک دوسرے سے تو کہہ سکتے ہیں نہ۔۔؟؟ صرف دوستی ہی تو مانگ رہا ہوں۔۔۔”
وہ رکی تھی گاڑی کا دروازہ کھول دیا تھا اس نے
“مجھ سے ہی کیوں۔۔؟؟ میں ہی کیوں دوستی کے لیے بھی۔۔؟؟”
“کیونکہ۔۔۔”
“کیونکہ کہا پروفیسر فہاج۔۔۔؟؟”
وہ آمنے سامنے تھے ایک دوسرے کے۔۔۔
ہوائیں اب بھی زلف کے بالوں کو بکھیر رہی تھیں مگر اب انوشہ بے رخی اپنائے بیٹھی تھی۔۔۔
اب کے اسکی آنکھوں میں نرمی نہیں تھی۔۔۔
“کیونکہ اس رات ٹیرس پر میں نے تمہاری اور تمہاری ایکس ہسبنڈ کی باتیں سن لی تھی۔۔
میں اس کرب سے گزرا ہوں جس سے تم گزر چکی۔۔ میرے پاس اپنے ہیں پھر بھی میرا دل مجھے کھینچ کریہاں لایا۔۔۔
دل کررہا تھا میں تمہارا درد سنوں۔۔۔تمہیں اپنا درد سناؤں۔۔۔ میں کبھی اتنا ولنرایبل عنبر کے سامنے نہیں ہوا تھا۔۔۔ جتنا آج تمہارے سامنے ہورہا ہوں انوشہ۔۔۔
اور میں سمجھ سکتا ہوں اگر تم نے کوئی بھی تعلق رکھنا چاہتی تو۔۔۔”
۔
اپنی گہری باتوں کے ساتھ وہ انہیں وہیں چھوڑ آئے تھے واپس اسی جگہ اس ٹھنڈی ریت پر بیٹھ گئے تھے جیسے وہاں انہیں بہت سکون مل رہا ہو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کہاں پر تھی تم ۔۔؟؟ اس وقت گھر آرہی ہو۔۔۔؟؟”
ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا وہ شخص اندھیرے میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا چکا تھا اس سوال سے۔۔۔
“لائک یو کئیر۔۔؟؟”
انوشہ کیز ہینگ کرکے سیدھا سٹئیرز کی طرف بڑھی تھی
“اگر فکر نہ ہوتی تو اس وقت انتظار نہ کررہا ہوتا۔۔۔فریش ہوکر آجاؤ ڈنر ساتھ۔۔”
“وئیرز یور ادر فیملی سر۔۔۔؟؟ یہاں کیا کررہے ہیں۔۔؟ یو نو وٹ۔۔؟
آپ کو دیکھ کر بھوک مر گئی ہے میری۔۔۔سو پلیز۔۔۔”
وہ اوپر چلی گئی تھی اپنے روم میں۔۔۔مگر دروازہ بند کرنے سے پہلے اسے شیشہ ٹوٹنے کی آوازضرور آئی تھی
۔
“”مگر یہاں دنیا نہیں ہے تماشہ دیکھنے کے لیے انوشہ یہاں میں ہوں صرف۔۔۔”
۔
“تم نہیں سمجھو گے فہاج۔۔۔میری زندگی۔۔۔ اتنے سال تنہا رہی ہوں کہ اب دل ڈر گیا ہے لوگوں سے۔۔۔”
روم کی لائٹ آن کرکے کپبرڈ سے اپنا ڈریس نکال کر وہ باتھروم چلی گئی تھی چینج کرنے کے لیے۔۔۔
۔
“تم جانتی ہو یہ لاسٹ آپریشن ہے تمہارا۔۔۔ اسکے بعد ہم لمبی وکیشن پر جائیں گے انوشہ۔۔”
“مگر آپ کا آفس جناب۔۔؟؟”
“آفس کو آگ لگاؤ میری ڈارلنگ ہم اس بار ایک مہینے کے لیے جائیں گے تم میں اور ہماری ابیہا۔۔۔”
“اوکے مگر میری سرجری ہے۔۔۔ابھی مجھے چھوڑ دیں آگے ہی دیر ہوگئی۔۔۔”
“تو جاؤ نہ میں نے کب پکڑا ہے میڈم۔۔۔؟؟”
“احلام ۔۔۔ “
“ہاہاہاہا انک کورز کے بغیر بھی جا سکتی ہو۔۔ اب ایسا بھی کچھ نہیں جو میں نے دیکھا۔۔”
شرم کریں۔۔۔ “
“ہاہاہاہا۔۔۔۔اوکے بابا سوری۔۔۔۔”
۔
وہ کچھ دیر میں باہر آگئی تھی آنکھیں بھیگی ہوئی تھی اب پانی سے یا آنسوؤں سے یہ تو وہی جانتی تھی۔۔۔۔
۔
وہ لائٹس آف کرکے لیٹنے لگی تھی جب تیز ہوا کی وجہ سے ونڈو بہت زور سے اوپن اور کلوز ہوئی تھی۔۔۔
وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھی تھی۔۔ کھڑکی بند کرنے سے پہلے اس نے تیز بارش کی بوندوں کو ہاتھوں میں بھرنا چاہا تھو جانے انجانے میں اسکی نظر اسکی کی پارک کار کی طرف گئی تھی جہاں اسے وہ بیگ نظر آیا تھا جو اسکا نہیں تھا۔۔۔
کسی ایسے گرے بالوں والے سٹائلش شخص کو تھا جسے وہ وہیں سمندر کنارے چھوڑ آئی تھی۔۔۔
اس نے اپنے آپ کو اتنی مہلت نہیں دی تھی کہ وہ کپڑے چینج ہی کرسکے سلیپرز پہنے وہ اسی سپیڈ میں کمرے سے نیچے اور پھر وہاں سے باہر کی طرف بھاگی تھی کیز اٹھا کر۔۔
۔
“میڈم آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟’
ملازمہ نے پیچھے سے آواز دی تو وہ نہیں رکی تھی پارک کار میں بیٹھنے کے بعد جب گاڑی سٹارٹ کی تو سیکیورٹی گارڈ سے لیکر گیٹ کیپرنے بھی گاڑی کے پاس آکر خیریت دریافت کی تھی۔۔
پہلی بار گھر کی خواتین کو اس طرح نائٹ ڈریس میں گھر سے باہر بھاگتے دیکھا تھا
“دروازہ کھولو۔۔۔”
“پر میم آپ ٹھیک ہیں۔۔ میں ڈرائیور کو ابھی بلاتا ہوں۔۔۔”
وہ وہاں سے گاڑی چلا کر گیٹ تک لے گئی تھی اور دو بار اسکے ہارن پر گیٹ کیپر نے جلدی سے دروازہ کھول دیا تھا۔۔
“انوشہ میڈم۔۔؟؟”
“مجھے تو گڑ بڑ لگ رہی ہے۔۔اندر جاکر بتانا چاہیے۔۔۔”
سیکیورٹی گارڈ جلدی سے اندر چلا گیا تھا گھر والوں کو یہ سب بتانے۔۔۔
انوشہ کی گاڑی تو اس لونگ روڈ کو بھی کچھ ہی سیکنڈ میں کراس کرگئی تھی وہ اس قدر تیز سپیڈ میں گاڑی چلا رہی تھی۔۔۔
۔
“آئی ہوپ وہ گھر چلے گئے ہوں۔۔۔”
“مگر کیسے۔۔۔کہاں گئے ہوں گے ان کا بیگ بھی میرے پاس ہے۔۔۔
میں کیسے غصے میں فہاج کو وہاں چھوڑ آئی۔۔۔؟؟”
اس نے غصے سے سٹئرنگ پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پروفیسر فہاج۔۔۔؟؟”
پروفیسر فہاج۔۔؟؟”
۔
وہ جیسے ہی ایگزیکٹ اسی جگہ آئی تو وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔ ہر طرف اندھیرا تھا بارش کی گرتی بوندیں ایک الگ شور برپا کئیے ہوئے تھے اس اندھیرے میں۔۔
وہ مکمل بھیگ چکی تھی۔۔۔
کچھ پل کو وہاں کھڑے رہنے کے بعد جب وہ واپس جانے کو مڑی تو پیچھے سے آتی آواز نے اسے سکون بخشنے کے بجائے شرمندگی میں مبتلا کردیا تھا
“کیا آپ کچھ بھول گئی تھی ڈاکٹر انوشہ۔۔؟؟”
۔
“انتظآر تو ہم تیرا ساری عمر کرلیں گے۔۔۔
بس خدا کرے۔۔۔! تو۔۔۔ بےوفا نہ نکلے۔۔۔”
۔
پینٹ پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ مسکراتے ہوئے سامنے آئے تھے۔۔۔
جو بہت دیر سے وہیں گھوم رہے تھے بھیگ رہے تھے۔۔
“فہاج۔۔۔”
“اور مجھے لگا تھا تم کبھی نہیں آؤ گی۔۔”
“سیریلی۔۔؟؟ اتنی سیریس سچویشن میں بھی آپ کو مذاق سوجھ رہا۔۔؟؟”
وہ غصہ کرنا چاہتی تھی مگر فہاج کو بھیگے دیکھ وہ سخت الفاظ بھی نرمی سے بول رہی تھی انکے سامنے
“مذاق اور پروفیسر فہاج۔۔؟؟ میں اپنی فیملی دوستوں رشتے داروں میں اپنی سختی سنجیدگی کی وجہ سے مشہو ر ہوں۔۔۔ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
شرٹ کی سلیو رول کرنے کے لیے انہوں نے اپنا کوٹ جب اپنے قدموں کے پاس رکھ دیا تھا انوشہ نے اس گیلے کو کوٹ کو اٹھا کر پکڑ لیا تھا۔۔
“اوکے۔۔ مان لیتے ہیں۔۔ مگر کونسا سنجیدہ شخص اتنی تیز طوفانی بارش میں اس طرح سے ایسے سمندر کنارے کھڑا رہتا ہے۔۔؟؟”
“ویل۔۔۔ اٹس یور فولٹ ڈاکٹر۔۔۔”
سلیو رول کرنے کے بعد انہوں نے انگلی دیکھائی تھی انوشہ کو۔۔۔
“مائی فالٹ۔۔؟؟ سیریسلی۔۔؟؟”
“یس سیریسلی۔۔۔ تم غصے میں ایسے آگ بگولہ ہوکر بھاگی یہاں سے یہ بھی بھول گئی کہ تم مجھے یہاں اس انجان جگہ پر لائی تھی انوشہ۔۔۔ میں تمہارے قدموں کے نشان فالو کرتے آیا تھا تھا تمہیں فالو کرتے آیا تھا۔۔۔”
وہ انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اور گلٹ میں چلی گئی تھی۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔”
“میرا سامان گاڑی میں چلا گیا تھا۔۔۔ جو پاکستانی کرنسی تھی وہ تو ٹیکسی والے کو دہ دی تھی۔۔
اور موبائل فون۔۔۔ یہ بھگ کر بند ہوچکا تھا۔۔اور۔۔۔”
“پلیز اب مجھے اس سے زیادہ شرمندہ نہ کریں۔۔۔میرے ساتھ چلیں۔۔ آپ کب سے بارش میں بھیگ رہے طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔”
اس نے نظریں چُراتے ہوئے یہاں وہاں دیکھنا شروع کردیا تھا مگر پروفیسر صاحب اینجوائے کررہے تھے انوشہ کا یہ دس کمفرٹ انکی نظریں اس بھیگے وجود کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے اس سے پہلے نہ دیکھا ہو۔۔
اور وہ خود کو بہت کنٹرول کرنے کی کوشش میں تھے
وہ اپنی نظریں صرف انوشہ کی آنکھوں پر رکھنا چاہتے تھے اس بھیگے ہوئے وجود میں پر نہیں۔۔
“کچھ تو وہ بھیگتی ہے بارش میں۔۔۔
کچھ ہوا بھی اسے سنوارتی ہے۔۔۔”
۔
“پروفیسر فہاج۔۔۔”
وہ انہیں اپنی گاڑی تک تو لے گئی تھی مگر جیسے ہی اس نے خود سے دروازہ اوپن کیا اور فہاج کو اندر بیٹھانے کی کوشش کی وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوگئے تھے جیسے کوئی کرنٹ لگ گیا ہو۔۔
“پلیز ڈونٹ ٹچ مئ انوشہ۔۔۔دئیر۔۔از سمتھنگ ان یور ٹچ۔۔”
انوشہ کے گال لال ہونا شروع ہوگئے تھے فہاج وہاں اپنی فیلنگ ایسے بتا رہے تھے
“اینڈ میری ہارٹ بیٹ تیز ہورہی ہیں۔۔ آئی تھنک میں سروائیو نہیں کرپاؤں گی ڈاکٹر۔۔۔
اتنی ایکسپینسو گاڑی خراب ہوجائے گی میں سر سے لیکر پاؤں تک گیلا ہوگیا ہوں۔۔۔میں۔۔”
“پروفیسر۔۔ ناؤ اننف۔۔۔ آپ کو نہیں لگتا آپ آج کچھ زیادہ ہی بول رہے ہیں۔۔۔
کم سٹ۔۔۔”
زبردستی انوشہ نے انہیں سیٹ پر بٹھا دیا تھا۔۔۔
۔
“ہے یہ نشہ یا ہے زہر۔۔۔اس پیار کو ہم کیا نام دیں۔۔۔
کب سے ادھوری ہے اک داستان۔۔آجا اسے آج انجام دیں۔۔”
۔
وہ جتنی گاڑی لائی تھی واپسی کی سپیڈ اتنی تیز نہیں تھی۔۔۔
“ویسے آپ کو اس طرح باہر اس پہر نہیں آنا چاہیے تھا اس گاؤن میں اور سلیپرز سیریسلی۔۔؟؟”
فہاج کے چہرے کی مسکان دیکھ کر اس نے سڈنلی بریک لگا دی تھی۔۔۔
“ٹیز کررہے ہیں ۔۔؟؟ آپ کو تو شکرگزار ہونا چاہیے مسٹر۔۔ ورنہ پوری رات اس بارش میں گزارتے۔۔۔”
“ویل ڈاکٹر۔۔۔ آپ کوئی احسان نہیں کررہی ۔۔آپ کا فرض ہے مرتے ہوئے کی جان بچانا۔۔۔”
“ٹو چیزی لائنز پروفیسر۔۔۔”
وہ دونوں ہی بچوں کی طرح لڑتے ہوئے چپ ہوئے تھے۔۔۔ اور پھر ایک ساتھ ہنسنا بھی شروع ہوگئے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
۔
سفر بہت جلدی کٹ گیا تھا۔۔۔
مگر خاموشی کے ساتھ۔۔۔ وہ خاموشی جس میں سرگوشی تھی۔۔۔۔
۔
“خاموشیاں کبھی کبھی
بہت تفصیل سے جواب دیتی ہیں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اٹلی۔۔۔۔”
۔
“موم آج میری میٹنگ تھی اس لیے۔۔”
“فرہاد میں نے پہلے تم سے کچھ نہیں کہا تھا تمہاری نانی دادی پرنانی سب یہیں تھے میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی بھی بدمضہگی ہو۔۔۔ پر تم جو کررہے ہو صبیحہ کے ساتھ یہ اچھی بات نہیں ہے۔۔”
“موم میں نے کیا کردیا۔۔؟؟ صبیحہ نے شکایت لگائی۔۔؟؟”
فرہاد نے اپنا آفس بیگ سائیڈ پر رکھ دیا تھا جہاں صہیب صاحب خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے
“اس نے شکایت نہیں لگائی ہم اندھے نہیں ہیں ہم دیکھ رہے ہیں اس گھر کی بہو کیسے تمہارے غصے کو برداشت کررہی ہے فرہاد۔۔”
“موم۔۔میں نے کیا کردیا ہے ایسا۔۔؟؟ اگر ہم دونوں کے درمیان کچھ ایسا ہو بھی رہا ہے تو نجی معاملہ ہے ایم سوری۔۔۔”
وہ جانے کو تھا روم میں۔۔۔
“دیکھ رہے ہیں صہیب۔۔۔ نجی معاملہ ہوگیا اب۔۔؟؟”
“ڈیڈ آپ تو جانتے ہیں کہ۔۔۔”
صہیب صاحب نے روک دیا تھا اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرہاد کو۔۔۔
“میں شاید تمہیں نہیں جانتا فرہاد تم وہ تھے جس نے اس شادی کے لیے سب کو منایا یہان تک کہ ایک ایک چیز کی شاپنگ تم نے کی انوشہ کے ساتھ جاکر اپنی ماں کے ساتھ جا کر۔۔”
فرہاد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی سمت کیا تھا انہوں نے۔۔۔
“ابو پلیز۔۔۔”
اپنے موم ڈیڈ کو فرہاد امی ابو اس وقت کہتا تھا جب وہ خود بھی بہت ڈپرس ہوتا تھا وہ دونوں یہ بات جانتے تھے اور ابھی پھر پھر ابو لفظ سننے کے بعد صہیب صاحب نے فرہاد کو اپنے گلے سے لگایا تھا
“ہم دونوں تمہیں اور پریشان نہیں کریں گے فرہاد مگر اب تمہیں اپنے گھر کو سنبھالنا ہے۔۔
ماضی چلا گیا ہے مستقبل کو برباد نہ کرو اپنے پلیز۔۔۔”
۔
فرہاد اپنے کمرے میں چلا گیا تھا اپنا بیگ اٹھائے
“صہیب ڈیٹس اٹ۔۔؟؟ آپ نے یہ سمجھایا۔۔؟ آپ نے تو جانے دیا۔۔ہمارے بیٹے کو آئینہ نہیں دیکھایا کہ وہ کیا زیادتی کررہا اپنی بیوی کے ساتھ۔۔۔”
“یہاں آؤ میرے ساتھ بیٹھو بیگم۔۔۔ فرہاد ہمارا بیٹا ہے۔۔ مگر انوشہ کا بیٹا ہم سے بھی پہلے کا ہے وہ۔۔۔ انوشہ سے بات کرو وہ ہینڈل کرلے گی۔۔۔صبیحہ بہت اچھی بچی ہے انوشہ ضرور فرہاد کی آنکھیں کھولے گی۔۔”
یہاں وہ صبیحہ کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے تھے وہاں صبیحہ کال پر مصروف تھی
“تھنک یو سووو مچ آپ نے سہی کہا تھا عنبر پھوپھو۔۔۔ میں نے ویسے ہی کیا ہے۔۔
فرہاد کو ڈانٹ پڑ رہی ہے۔۔ اب ایسے ہی کروں گی دیکھ لیجئے گا۔۔۔”
اور دروازہ کھلنے پر صبیحہ نے فون بھی جلدی سے بند کردیا تھا
“فون کیوں بند کردیا۔۔؟؟ برائیاں ختم ہوگئی ہیں کرنے کو۔۔؟ کہو تو بعد میں آجاؤں گا۔۔ تم جشن منا لو میری فیملی کو میرے خلاف کرنے کا۔۔”
“فرہاد۔۔۔فار گاڈ سیک کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟ قصور کیا ہے میرا۔۔؟؟
آپ کی سوکالڈ خالہ کے ساتھ زرا سی بدتمیزی کردی یہ حال کررہے ہیں آپ میرا اور ہماری شادی کا۔۔؟؟”
“ایک لفظ نہیں خالہ کے خلاف۔۔۔”
فرہاد نے طیش میں کہا تھا
“کہوں گی۔۔۔ کیا کرلیں گے۔۔؟؟ اب سمجھ آئی کہ ان کا گھر کیوں نہ بس سکا۔۔۔ اور اب وہ آپ کا گھر بھی بسنے نہیں دینا۔۔۔”
فرہاد کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔
“فرہاد۔۔؟؟”
اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر بےیقینی سے کہا تھا فرہاد بھی اتنا ہی شاکڈ کھڑا تھا وہاں اس وقت۔۔۔
۔
“عجب لمس ہے اس کا۔۔۔میری ہتھیلی پر وہ
دل بناتا ہےبنا ہے۔۔اور وہ دل دھڑکنے لگتا ہے۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اووہ۔۔۔ آپ تو مجھے کہہ رہی تھی آپ کا گھر تو ۔۔۔ آپ ڈاکٹر ہی ہیں نہ۔۔؟؟
ہاؤز اٹ پوسیبل کہ ایک سادہ سے ڈاکٹر کا گھر اتنا ایکسپینسو۔۔؟؟”
فہاج نے گاڑی سے باہر نکل کر کہا تھا۔۔۔
“میں وہاں سرجن ہوں۔۔۔ اور وہاں نوکری نہیں کرتی وہ ہاسپٹل میرا ہے۔۔۔
ناؤ کم ان۔۔۔بارش میں اور بھیگیں گے تو بخار ہوجائے گا۔۔”
“ہاہاہا مجھے نہیں ہوتا بخار۔۔۔ میں تو۔۔”
اور انکی چھینک آگئی تھی۔۔وہ بات کرتے کرتے رک گئے تھے
“وہ تو نظر آرہا ہے۔۔۔”
“اسلام وعلیکم میڈم۔۔ بہت خوشی ہوئی آج آپ کو دیکھ کر آپ رکی گئی یا کچھ لینے آئی ہیں۔۔؟؟”
گارڈ نے دروازہ کھول کر پوچھا تھا۔۔۔
“رکیں گے ہم۔۔۔آپ سلطانہ کو بُلا دیں گے۔۔؟؟”
“جی بلکل آپ اندر چلیں۔۔۔”
فہاج جیسے ہی سامنے کھڑے ہوئے تھے گارڈ نے انوشہ کو دیکھنے کے بعد پھر فہاج کو دیکھا تھا۔۔۔
“کہیں تمہارے گھر والوں کو کوئی مسئلہ نہ ہو تم مجھے کسی ہوٹل میں چھوڑ دیتی۔۔”
“یہ میرا اپارٹمنٹ ہے۔۔ جس کے بارے میں کسی کو بھی نہیں پتہ۔۔سوائے۔۔۔”
۔
احلام کا نام لیتے لیتے وہ رکی تھی۔۔۔
“اووو۔۔۔۔”
انہیں شاکڈ پر شاکڈ مل رہا تھا آج۔۔۔۔
اس گھر میں احلام کے سوا وہ کسی کے ساتھ کبھی نہیں آئی تھی ابیہا کے ساتھ بھی نہیں۔۔۔
۔
“جی اندر چلیں۔۔۔”
انوشہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی تھی ملازم کی مسلسل نظر انوشہ پر تھی اب تو وہ گاؤن بھی سیکنڈ سکن بن گیا تھا اس قدر بھیگا ہوا تھا
اپنا کوٹ انوشہ کے کندھے پر ڈال دیا تھا فہاج نے اور انوشہ سے پہلے گھر کی طرف بڑھے تھے ملازم کو غصے سے دیکھ کر۔۔۔
۔
“وحدت عشق کے قائل ہیں ہم صاحب۔۔۔
تم سے تم تک۔۔۔بس تم تک۔۔۔”
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ سٹوڈنٹ مان گئی ہے سر آپ کا کام ہوجائے گا۔۔ پروفیسر فہاج کو وہ سیڈیوس کرلے گی۔۔ ایسا اس کا کہنا ہے۔۔۔”
“گڈ میں نے سنا ہے وہ ابھی کہیں گیا ہوا ہے جیسے ہی واپس آئے یہ کام فائنل کرو۔۔ پیسے اس سے بھی ڈبل دوں گا۔۔۔ بس یہ کام پوری رازداری کے ساتھ ہوجانا چاہیے۔۔”
“جی بہتر سر۔۔۔”
احلام نے فون رکھ دیا تھا اور ڈرنک کرنے کے بعد وہ گلاس بھی رکھ دیا تھا
اور خود اس کرسی پر بیٹھا کر انہوں نے واپس اسی فوٹو کو دیکھنا شروع کردیا تھا جس کے آگے وہ شام سے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔
“انوشہ۔۔۔فہاج کی کوئی جگہ نہیں ہے تم اسرار سے شادی کرو گی اور پھر وہ تمہیں طلاق دے گا۔۔ یہی پلاننگ تھی۔۔ میں کسی یوز لیس پروفیسر کو موقع نہیں دوں گا ہمارے درمیان۔۔۔
میں جان گیا ہوں اس دوٹکے کے پروفیسر کے ارادے۔۔۔ وہ رشتے دار نہ ہوتا تو آج زندہ نہ چھوڑتا اسے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“برس رہی تھی بارش باہر۔۔۔
اور وہ بھیگ رہا تھا مجھ میں۔۔”
۔
“فہاج۔۔۔اوو شٹ ایم سوری۔۔۔”
انوشہ نے روم کا دروازہ بند کردیا تھا شرٹ لیس فہاج کو دیکھنے کے بعد۔۔۔۔
“اٹس اوکے۔۔۔ میں نے کپڑے پہن لئیے ہیں۔۔ تھنکس بس یہ بتا دیں یہ کسی کے یوزایبل تو نہیں۔۔؟؟ مجھے اترن پسند نہیں ہے کسی کی۔۔۔”
انوشہ نے اگین دروازہ کھولا تھا
“یہ اترن نہیں ہے ابھی پیکنگ سے نکال کر آپ کو دئیے۔۔۔
اور اترن کسی کو بھی پسند نہیں ہوتی پروفیسر صاحب۔۔۔ فریش ہوکر نیچے آجائے گا۔۔
ڈنر۔۔۔”
“اس سے زیادہ کیا فریش ہونا میں نے۔۔؟؟ چار گھنٹے سے بارش میں فریش ہورہا تھا مجھے تو بس کھانا دیجئے۔۔۔”
وہ کہتے کہتے پاس سے گزر گئے تھے انوشہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔۔۔
وہ واپس روم میں اینٹر ہوئی تھی فہاج کے کپڑے دیکھ کر اس نے ملازمہ کو آواز دینا چاہی تھی۔۔۔ مگر پھر خود ہی ان کپڑوں کو اٹھائے روم سے باہر چلی گئی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“Smoking is injurious to health Dr Anwasha”
۔
“میں ٹھہری عورت ذات میرے تو کردار کے لیے بھی خطر ناک ہے نی۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کہنے والا نہ سوچا میں نے۔۔۔”
بارش کے بعد کا ماحول کچھ ایسا تھا کے باہر لاؤنج میں وہ اکیلی بیٹھی تھی جب فہاج سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
سوندھی مٹی کی خوشبو اور ان سبز پتوں کا تیز ہوا سے بکھر جانا انوشہ کو راحت بخش رہا تھا وہ اپنی دنیا میں مگن تھی جب فہاج نے بات شروع کی۔۔۔
کچھ تو تھا اس شخص میں کہ اپنی سموک کی اس برائی کو نہ وہ چھپا رہی تھی نہ شرم محسوس کررہی تھی۔۔۔
“یو نو وٹ۔۔۔ آپ وہ فرسٹ ہیں جنہیں پتہ ہے کہ میں یہ۔۔۔ یو نو۔۔۔ یہ سگار پی رہی۔۔”
“یو مین ٹو سئے میں وہ خاص ہوں جسے آپ کا وہ راز پتہ جو کسی کو نہیں پتہ۔۔؟؟”
انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایاتھا اس سلگتے سگار کو پکڑنے کے لیے۔۔۔
“ہاہاہاہا سامنے باکس پڑا ہوا ہے پروفیسر۔۔۔ آپ ہر بار تو اتنے خوش نصیب نہیں ہوسکتے نہ۔۔؟؟”
وہ ہنستے ہوئے اٹھی تھی کیر فری محسوس کررہی تھی وہ آج بہت زیادہ۔۔۔
“اوکے۔۔۔ ویسے میں بہت سالوں کے بعد اس رات کے بعد یہ سگار پینے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر۔۔۔؟؟”
“مگر۔۔؟؟”
انوشہ نے سرگوشی کی تھی فہاج اٹھ کر آہستہ سے سامنے آکر کھڑے ہوئے تھے انکے۔۔
“پورا باکس ختم کردیا مگر اس سگار کا لطف نہیں ملا جو اس رات اس سگار میں تھا۔۔۔۔”
انہوں نے ہلکی آواز میں کہا تھا اور انوشہ کچھ کہے بنا اندر جانے کو تھی جب فہاج نے پھر سے مخاطب کیا تھا انہیں
“ایٹ لیسٹ اب تو جواب دہ دیں۔۔۔؟؟ کل وہیں انتظار کروں آپ کا۔۔؟
آئیں گی۔۔۔؟؟”
“آپ ضد نہیں چھوڑیں گے۔۔؟؟”
“پہلی بار اتنا ضدی ہوا ہوں میں۔۔۔ ورنہ میں رکتا نہیں ہوں۔۔۔ ابھی تک یہی کرتا آیا ہوں انوشہ چلتا آیا ہوں۔۔۔ اب کہیں جاکر راحت مل رہی تو سوچ رہا ہوں رک جاؤں زرا سانس لے لوں سکون کا۔۔۔”
انوشہ تو ایسے مڑی تھی فہاج کی بات سن کر اسکا سگار نیچے گرگیا تھا۔۔۔
اسکے لیے وہ لمحہ رک گیا تھا وہ چلتی ٹھنڈی ہوا وہ سوندھی مٹھی کی خوشبو۔۔۔
وہ سبز لگے درختوں کے پتوں کی شور کرتی آوازیں۔۔۔
وہ اس قدر کھو گئی تھی فہاج کی آنکھوں میں۔۔۔
“میں انکار کروں گی آپ اور ضدی ہو جائیں گے۔۔۔؟؟ ضد جنون بن جائے گی۔۔۔پھر آپ دوستی کو چھوڑ کر کہیں کسی اور رشتے کے لیے نہ واپس آجائیں۔۔۔
سو مجھے یہ دوستی تک ہی منظور ہے فہاج۔۔۔کل اسی وقت۔۔۔”
۔
“میں انتظار کروں گا۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔۔انوشہ۔۔۔۔”
انوشہ کے جانے بعد انہوں نے اسی جگہ آکر وہ سگار اٹھا لیا تھا۔۔۔
“دوستی پھر جنون۔۔؟؟ میں نہ دوستی میں اٹکوں گا۔۔ نہ جنون میں بغاوت کروں گا۔۔
میں محرم رشتہ بناؤں گا۔۔۔ اور احترام کروں گا۔۔۔۔”
۔
۔
“چاہتیں تجھے تمام دوں گا
محرم بنا کر جب اپنا دوں گا۔۔۔۔”
