Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
“یہ میری خواہش ہے روز آنکھ کھلے اور تمہیں میری بانہوں میں سوتے ہوئے دیکھوں۔۔”
“آہم۔۔۔”
انوشہ کی نظریں فہاج کے ہونٹوں سے ہٹ کر کھلی آنکھوں پر جاپڑی تھیں اور اپنی پوزیشن کو دیکھ کر انہوں نے پیچھے ہٹنا چاہا جب فہاج کی گرفت اور مظبوط ہوئی انوشہ کی ویسٹ پر
“رات کو تمہیں ٹھنڈ لگ رہی تھی۔۔تو میں نے اے سی بند کردیا۔۔۔ تمہیں پھر بھی سردی لگ رہی تھی۔۔۔سو۔۔۔۔”
دوسرا ہاتھ سر کے نیچے رکھے وہ انوشہ کو دیکھ رہے تھے جو انکے سینے پر خود کو بار بار اٹھانے کی کوشش میں تھیں
“اور اس میں غلطی کس کی ہے۔۔؟ کون بارش میں بھگا رہا تھا مجھے۔۔؟؟”
انوشہ نے آہستہ سے سر اٹھا کر فہاج کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“احساس تیرے اور میرے تو۔۔۔اک دوجے سے جُر رہے۔۔
اک تیری طلب مجھے ایسی لگی۔۔۔ میرے ہوش بھی اُڑنے لگے۔۔”
۔
“آہاں۔۔۔؟؟ کل رات تمہاری سردی ختم ہوگئی تھی میری بانہوں میں آکر انوشہ۔۔۔
تو اب شکایت کرنے کے بجائے شکریہ کریں ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
انوشہ کی تھوڑی پر انگلی رکھے چہرے کو اپنی اوڑھ کیا تھا فہاج نے۔۔۔
“مجھے ملتا سکون تیری بانہوں میں۔۔۔
جنت جیسی اک راحت ہے۔۔۔”
۔
“آپ کو جانا نہیں ہے یونیورسٹی۔۔؟؟”
اس نے پھر سے خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔اور پھر فہاج کو دیکھا تھا
“اوکے اوکے۔۔۔”
فہاج نے ہاتھ جیسے ہی ہٹایا تھا انوشہ نے جلدی سے خود کو اٹھایا تھا۔۔۔ مگر پھر ایک جھٹکے سے واپس فہاج پر آگری تھی۔۔۔
“تمہارا دوپٹہ بھی نہیں چاہتا کہ تم اٹھ کر جاؤ۔۔۔”
فہاج نے کچھ ہی پل میں انوشہ کی ویسٹ پر دوبارا ہاتھ رکھے بیڈ کی دوسری طرف کرکے ان پر جھکے تھے۔۔۔
انوشہ کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھیں فہاج جیسے ہی جھکے تھے ان پر۔۔۔
“یہ رہی وہ رکاوٹ۔۔۔”
اپنے نیچے سے وہ دوپٹہ ہٹا کر انہوں نے انوشہ کے گلے پر ڈال دیا تھا اور پھر سے جھک کر ماتھے کو چوما تھا۔۔۔
“میں سچ میں لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔ٹیچرز میٹنگ ہے آج ایک۔۔۔”
وہ یہ کہہ پیچے ہٹے تھے انوشہ کی ویسٹ سے اپنے ہاتھ کو جیسے ہی پیچھے ہٹایا تھا انوشہ کی بند آنکھیں کھل گئی تھی۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے کپڑے نکالے فہاج واش روم میں چلے گئے تھے اور انوشہ وہیں انہیں جاتے دیکھ دیکھتی رہ گئی تھی تھی
“میں نے ساری رات یہاں فہاج کی بانہوں میں گزاری۔۔؟؟”
خود سے سوال کرنے پر انہوں نے پوری کمرے کو دیکھا تھا اور رات کا ہر لمحہ دہرایا تھا انکے دماغ نے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ہمیں بات کرنی چاہیے صہیب پلیز میں چاہتا ہوں تم بات کرو ابیہا کے رشتے کی روحان سے۔۔۔”
” ہو دا ہیل آر یو۔۔؟؟ میری بیٹی کی زندگی کا فیصلہ اسکی شادی کا فیصلہ کرنے والے۔۔؟؟”
وہ جو پیچھے کھڑے احلام کی باتیں سن رہی تھی اسکے ضبط نے اب جواب دہ دیا تھا
“ایکسکئیوز مئ۔۔؟؟ میں باپ ہوں اس کا انوشہ۔۔ ہماری بیٹی بڑی ہوگئی ہے۔۔۔”
“ایگزیکٹلی وہ بڑی ہوگئی ہے احلام اس لیے انٹرفئیر کرنا بند کردیجئے باپ ہیں۔۔ کونسے فرض پورے کردئیے باپ ہونے کے۔۔؟؟”وہ کہتے ہوئے سامنے کھڑی ہوگئی تھی احلام کے
“تم نے کبھی مجھے یہ حق دیا بھی۔۔؟ آج تو مجھ سے یہ خوشی مت چھینو۔۔ وہ پسند کرتی ہے اس لڑکے کو۔۔۔اس پروفیسر کے بیٹے کو۔۔۔
نیہا اور صہیب کو بات کرنے دو۔۔۔”
“وائے۔۔؟ کیوں بات کرنے دوں۔۔؟؟ میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ رشتہ۔۔۔”
“تمہارا آفئیر چل رہا ہے اس سے۔۔؟؟ چکر کیا ہے۔۔؟ کیوں نہیں چاہتی تم اس پروفیسر کے بیٹے سے ہماری بیٹی کی شادی۔۔؟؟ کس بات کا ڈر ہے۔۔؟؟ تمہارا آفئیر ختم ہوجائے گا۔۔؟؟”
احلام کی بات سن کر عنبر بھی باقی سب کے ساتھ کھڑی ہوگئی تھی انوشہ کے کردار پر پہلی بار انگلی اٹھی تھی اور وہ بھی اس الزام کے ساتھ۔۔؟؟
مگر سب شاکڈ زیادہ تب ہوئے جب انوشہ کا ہاتھ اٹھا تھا احلام پر۔۔
“تم جیسا شخص جو ساری زندگی خود کرتا آیا وہی میرے لیے بھی سوچ رہے ہو۔۔؟؟
بھول گئے ہو اپنے ماضی کو۔۔؟ پیچھے چھپ چھپا کر ملنا چیٹ کرنا دھوکا دینا۔۔۔
یہ سب تمہیں آتا ہے مجھے نہیں۔۔۔ میں آفئیر نہیں چلاؤں گی احلام ڈائریکٹ نکاح کروں گی جس سے بھی کروں گی۔۔۔
میرے اور میری بیٹی کے معاملات سے دور رہو۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر اوپر کمرے میں چلی گئی تھی پیچھے سب کو شاکڈ چھوڑ کر۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔”
نیہا نے ایک دم سے کہا تھا۔۔۔ وہاں احلام کے پاس جانے کی کسی کی بھی ہمت نہیں ہوئی تھی وہ غصے سے وہاں سے چلے گئے تھے
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ۔۔۔ میری بات سنو دروازہ کھولو دیکھو تم سے کوئی ملنے آیا ہے۔۔”
“اگر رشتے کی بات کرنی ہے تو میں ابھی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی نیہا۔۔۔ مجھے پیکنگ کرنے دو فلائٹ ہے میری۔۔۔”
انوشہ پھر سے اپنے کپڑے سوٹ کیس میں ڈالنے لگی تھی
“انوشہ بیٹا۔۔۔ “
بی جان کی آواز پر اسکے ہاتھ رک گئے تھے۔۔۔
“بی جان۔۔؟؟”
اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد دروازہ کھولا تھا۔۔۔
“کیا میں اندر آسکتی ہوں بیٹا۔۔۔؟؟”
“جی پلیز آئیں۔۔۔”
بی جان نے آگے ہاتھ بڑھایا تو انوشہ نے اپنی بہن کو حیران ہوکر دیکھا تھا جس پر نیہا نے ہاں میں ہاں اشارہ کیا تھا۔۔۔
انوشہ بی جان کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی تھی
“آپ دونوں باتیں کریں میں کچھ کھانے کو لیکر آتی ہوں بی جان آپ کی پسندیدہ ڈش بنائی ہے آج صبیحہ نے۔۔۔”
وہ لائٹ موڈ میں وہاں سے دروازہ بند کرکے چلی گئی تھی
“بی جان۔۔۔”
“بہو۔۔۔”
انوشہ کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرے بی جان نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا تھا
“جب عنبر بہو بن کر گھر آئی تو پورے شہر نے دیکھی تھی شادی کی دھوم دھام۔۔۔
فہاج کی دلہن بہت چاؤ سے لائی تھی میں۔۔۔ اور جب دونوں کی طلاق ہوئی تو سب سئ زیادہ تکلیف مجھے ہوئی تھی مجھے ایسا لگنے لگا تھا جیسے میں قصوروار ہوں۔۔ میرے بیٹے کی زندگی میں اتنا سب کچھ ہوتا رہا اور مجھے خبر تب ہوئی جب بات طلاق تک پہنچ گئی تھی۔۔”
بی جان کی باتیں سن کر انوشہ انکمفرٹ ایبل محسوس کررہی تھی۔۔۔ وہ فہاج کی ایکس وائف کی باتیں نہیں سننا چاہتی تھی اسے چڑھ ہوتی تھی شدید۔۔۔ وجہ وہ خود نہیں جانتی تھی۔۔
۔
“انوشہ بیٹا جو فہاج کے ساتھ ہم لوگوں نے وہ بہت غلط کیا ہمیں بھی اسی وقت فہاج کی شادی کروا دینی چاہیے تھی۔۔۔ اس نے کبھی حامی نہیں بھری تھی دوسری شادی کی
صبیحہ کی شادی تک بھی اس کا یہی ری ایکشن تھا پھر کیسے بات اتنی جلدی آگے بڑھ گئی۔۔؟؟”
بی جان کی بات سننے کی دیر تھی وہ جو ہاتھ بند کئیے بہت سنجیدہ ہوکر بیٹھی ہوئی تھی اسکے چہرے کے رنگ بدلنے لگے تھے چہرہ جیسے ہی سرخ ہونا شروع ہوا تھا بی جان نے اپنے ہاتھ سے دو کنگن انوشہ کو پہنا دئیے تھے بہت آرام سے۔۔۔
“بی جان۔۔۔”
“یہ فہاج کی امی کی امانت تھے میرے پاس۔۔ عنبر کو دے نہیں پائی تھی میں بیٹا۔۔۔
اب فہاج کے چہرے پر اتنی خوشی دیکھ کر مجھے لگتا ہے تم پر ان کا حق ہے۔۔۔”
“بی جان۔۔۔نیچے روحان اور ابیہا کی شادی کی بات کرنے کی کوشش میں ہیں وہ سب اور۔۔۔”
“اسی لیے میں خفا تھی تم دونوں سے اور غصہ بھی ۔۔۔پہلی بات یہ شادی بہت جلد بازی میں کرلی تم دونوں نے اور دوسری بات کہ کسی کو نہیں بتایا۔۔
بیٹا میں جانتی ہوں فہاج نے ضد کی ہوگی۔۔۔”
انوشہ کے گال پر ہاتھ رکھے انہوں نے انوشہ کو پھر سے متوجہ کیا تھا
“یہ دو لوگوں کی نہیں دو خاندانوں کی رشتے داری اور عزت کا سوال ہے۔۔۔ روحان اور ابیہا کی پسند کا ہماری طرف سب کو ہی پتہ تھا میں نے ہی وہاں سب کو منع کیا ہوا تھا فہاج حق رکھتا ہے اپنے بیٹے کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا۔۔۔ مگر مجھے نہیں لگتا کہ یہ سب اب رکنے والا ہے۔۔۔ کیا جواب دیں گے ان دونوں کی شادی نہ کرنے کا۔۔؟؟”
۔
بی جان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا انوشہ کے پاس۔۔۔
“بیٹا تم دونوں کوئی بھی فیصلہ کرو تو سوچ سمجھ کر کرنا۔۔۔”
۔
کچھ دیر اور باتیں کرنے کے بعد بی جان وہاں سے چلی گئی تھی۔۔ انوشہ کو نئی پریشانی میں مبتلا کرکے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“گلاب کے پھول لے کر جارہا ہوں۔۔۔اب فون بند کررہا ہوں۔۔۔ آج تیری بھابھی کو ڈنر پر لے جاؤں گا۔۔۔”
یہ کہتے ی فہاج نے فون بند کردیا تھااور اپارٹمنٹ میں داخل ہوگئے تھے۔۔
۔
“انوشہ۔۔۔۔انوشہ۔۔”
۔
انہیں یقین تھا انوشہ انہیں گھر میں ہی ملیں گی۔۔۔ کل رات کے بعد تو انہیں یقین ہوگیا تھا کہ انوشہ بھی انہیں دل سے اپنا چکی ہیں۔۔۔
“سر میڈم تو چلی گئیں ہیں وہ یہ آپ کے لیے دہ گئی ہیں۔۔۔”
کوئی لیٹر کوئی نوٹ نہیں تھا بس دو لائن لکھی ہوئی تھی
“میں واپس جا رہی ہوں
ایم سوری۔۔۔میں یہ نہیں کرسکتی۔۔۔”
۔
ملازمہ کے چہرے پر ہمدردی جھلک رہی تھی فہاج نے گلاب کے پھول کچن ڈسٹ بن میں پھینک دئیے تھے اور اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
“انوشہ۔۔۔ سب کے سامنے تذلیل نہ کرو ہمارے رشتے کی اتنا گیا گزرا میں نہیں ہوں جتنا تم بنا رہی ہو۔۔۔”
کوٹ اتار کر وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
۔
“کیا یہ رشتہ ایسے ہی چلے گا۔۔۔؟؟ کیا مجھے آگے بڑھنے کا کوئی حق نہیں ہے انوشہ۔۔؟؟”
انہوں نے نظر دہرا کر خالی کمرے کو دیکھا تھا جیسے وہ بات کررہے ہوں انوشہ سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آج دوسرا دن ہے اور کتنے سگریٹ پھونکنے ہیں۔۔؟؟”
مہران نے فہاج کے منہ سے سگار کھینچ لیا تھا جسے وہ جلانے والے تھے
“مہران۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ اتنا دیوداس تو یار تو عنبر بھابھی کے جانے پر بھی نہیں بنا تھا” فہاج نے جیسے ہی جھکا ہوا سر اٹھایا تو مہران ایک دم سے حیران رہ گیا تھا اسکی بھری ہوئی آنکھوں میں بلا کی اداسی دیکھ کر۔۔۔
“میں بہت پر امید تھا اس رشتے کو لیکر مہران۔۔ ابھی تو دنیا کو دیکھانا تھا کہ میں تنہا نہیں ہوں۔۔ ابھی تو عنبر کو بتانا تھا کہ مجھے تھامنے والا بھی کوئی آگیا ہے۔۔ ابھی تو بہت چاہ لاڈ کرنے تھے اسکے۔۔جو مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔”
“اووہ۔۔۔ فہاج۔۔۔”
مہران نے اپنے گلے سے لگایا تھا اپنے دوست کو۔۔۔
“مہران۔۔۔”
اپنی وائف کو جلدی سے چپ رہنے کا کہہ دیا تھا انہوں نے اور وہ واپس چلی گئی تھی ایک نظر فہاج کو دیکھ کر۔۔۔
“انوشہ بھابھی آپ بہت غلط کررہی ہیں فہاج بھائی جیسا ہیرا پھر نہیں ملے گا ۔۔۔”
خود سے بات کئیے عالیہ اندر چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“روحان۔۔۔میں موم کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتی۔۔۔”
“کم آن ابیہا۔۔۔ یہ لاسٹ چانس ہے۔۔ ہم وہ کرسکتے ہیں جس کے بعد یہ لوگ مجبور ہوجائیں گے۔۔ ہماری شادی کو۔۔۔”
روحان نے اسے پھر سے بیڈ پر کھینچ لیا تھا۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔؟؟”
“مطلب یہ۔۔۔ اگر ہم ایک ہوجائیں۔۔ اور پھر۔۔۔”
“تم پاگل ہوگئے ہو۔۔؟ تم چاہتے ہو میں زنا کروں۔۔؟؟”
روحان نے اسے غصے سے بیڈ پر لٹا لیا تھا۔۔۔
“اتنی معصوم کیوں بن رہی ہو۔۔؟ کونسا زنا۔۔؟ مجھے سے گلے لگنا مجھے کس کرنا سہی تھا۔۔؟ اور جب میں کہہ رہا ہوں کہ سیک٭٭۔۔۔تو تمہیں زنا یاد آگیا۔۔۔کم آن۔۔”
روحان نے زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی جس پر ابیہا کی شرٹ پھٹ گئی تھی چہرہ آنسوؤں سے بھر گیا تھا اس کا جب اس نے روحان کے منہ پر تھپڑ مار کر پیچھے دھکا دیا تھا جو بیڈ سے نیچے گر گیا تھا۔۔۔
“اننف۔۔۔شیم آن یو روحان۔۔۔شیم آن یو۔۔۔”
گھٹنوں پر منہ چھپائے اس نے اپنے دوپٹے سے خود کو کور کرلیا تھا۔۔۔
“ابیہا۔۔۔ایم۔۔۔”
وہ جیسے اپنے پاگل پن سے باہر آگیا تھا اس تھپڑ کے بعد۔۔۔
“میرے پاس مت آنا ورنہ اپنی جان لے لوں گی میں۔۔۔”
“اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔”
روحان کا چہرہ بھی ندامت کے آنسو سے بر چکا تھا وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گیا تھا ابیہا کی سسکیوں اسے اندر تک تکلیف پہنچا رہی تھی
“ابیہا۔۔۔”
“تم اتنا گر جاؤ گے روحان مجھے معلوم نہیں تھا۔۔”
“میں کیا کروں تم ہی بتاؤ۔۔۔؟؟ تمہیں کھونے کا خیال بھی میری سانسیں بند کرنے لگتا ہے ابیہا آئی رئیلی لو یو۔۔۔”
روحان اسکی گود میں سر رکھے جیسے ہی فلور پر بیٹھا تھا ابیہا نے اپنے چہرے کو صاف کرکے اسکی بےبسی کو دیکھا تھا۔۔۔
“ایم سوری ابیہا۔۔۔ ایم سوری۔۔۔ میں پاگل ہورہا ہوں پلیز۔۔۔ مجھے معاف کردو پلیز۔۔۔”
ابیہا کے ہاتھوں پر سر رکھے اس نے بار بار معافی مانگی تھی اس سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“انوشہ ہوا کیا ہے۔۔۔؟؟ جب سے آئی ہو یہ کررہی ہو۔۔۔؟ وہ مریض کریٹیکل حالت میں ہے۔۔کم سے کم تمہیں اس طرح آپریشن شروع نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔”
پلوشہ اور انوشہ بات کرتے کرت اسکے کیبن کے باہر تھے۔۔۔
“مجھے نہیں پتہ۔۔میں۔۔۔ ایم سوری اوکے۔۔۔ ہوگئی ہے غلطی مجھے ابھی نہیں کرنا چاہیے تھا آپریشن۔۔”
انوشہ نے غصے ےس کہا تو کچھ نرس ان دونوں کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔
“بیک ٹو ورک ۔۔۔”
وہ کہہ کر اپنے کیبن میں داخل ہوئی تھی جہاں فہاج کو دیکھ کر انوشہ کا غصہ آسمان چھونے کو تھا۔۔۔
“اب سمجھ آرہی ہے کہ مسئلہ کیا چل رہا ہے۔۔ پلیز سارٹ آؤٹ کرو اس سے پہلے تمہاری پرسنل اور پروفیشنل دونوں زندگیوں پر اثر ہو۔۔۔”
انوشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھے پلوشہ نے نرمی سے کہا تھا
“السلام وعلیکم فہاج بھائی کیسے ہیں آپ۔۔؟؟”
“وعلیکم سلام میں ٹھیک ٹھاک آپ کیسی ہیں۔۔؟؟”
وہ دونوں جیسے ہی باتیں کرتے ہوئے انوشہ کو اگنور کرچکے تھے انوشہ نے گلہ صاف کرتے ہوئے انکی توجہ حاصل کی تھی
“ڈاکٹر پلوشہ رشتے داریاں اپنے بھائی کے ساتھ ہسپتال کے باہر نبھائیے۔۔۔”
“بھائی۔۔؟؟ میرے بہنوئی ہیں یہ ڈاکٹر انوشہ۔۔۔ میری نک چڑی بہن کے اکلوتے شوہر۔۔۔”
ان دونوں کو آنکھ مارتے ہوئے پلوشہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
اور وہ جیسے ہی گئی تھی تھی انوشہ نے فہاج کو مکمل اگنور کردیا تھا لیب کوٹ اتار کر وہ اپنے ڈیسک کی طرف بڑھی تھی جب فہاج نے بازو سے پکڑ کر اسی ڈیسک کے ساتھ اسے پن کردیا تھا۔۔
۔
“ثابت کیا کرنا چاہتی ہو۔۔؟؟ پرابلم کیا ہے تمہاری۔۔؟؟”
“جاننا چاہتے ہیں میری پرابلم کیا ہے۔۔؟؟ آپ ہیں میری پرابلم مسٹر فہاج جب سے میری زندگی میں آئے ہیں زندگی الٹا کر رکھ دی ہے آپ نے۔۔۔
ہر ایک چیز درہم برہم کردی ہے آپ نے۔۔۔۔”
۔
“اور یہی سب تم میرے ساتھ کررہی ہو۔۔۔ انوشہ۔۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ فہاج۔۔۔ ہر بات آپ کے مطلب کی ہونی چاہیے نہ۔۔؟؟ آپ اور آپ کی زندگی آپ کی خوشیاں۔۔۔
میری ذاتی زندگی اب میرے پروفیشن پر اثر انداز ہورہی ہے۔۔۔
آپ کی وجہ سے۔۔”
وہ پیچھے ہٹی تو ڈیسک پر ہاتھ رکھے سر جھکا لیا تھا لہجہ اتنا بھاری ہوگیا تھا
“جب سے پاکستان آئی ہوں یہی سوچ رہی ہوں۔۔ میں کسے چوز کروں گی۔۔؟ آپ کو یا اپنی بیٹی کو۔۔؟ اپنی خوشیوں کو کیا اپنی بچی کی خوشیوں کو۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔”
“ایک دم چپ رہیے فہاج۔۔۔ ہر بار آپ ہی بولتے ہیں آج میری بھی سن لیں۔۔”
وہ جیسے ہی ٹرن ہوئی تھی انہوں نے انکے کالر پر ہاتھ رکھے روک دیا تھا بات کرنے سے
“آج میری اپمورٹنٹ سرجری تھی۔۔۔ فہاج۔۔۔ فرسٹ ٹائم میرا دھیان آپریشن پر نہیں کسی اور پر تھا۔۔ آپ پر تھا۔۔۔
اور میں نے دغا کردیا اپنے فرض کو۔۔۔ وہ مریض میری غفلت کی وجہ سے ابھی تک ہوش میں نہیں آسکا۔۔۔ اگر وہ کومہ میں چلا گیا تو میں خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی۔۔۔
اور آپ کو بھی نہیں۔۔۔”
“انوشہ اس رشتے کو ختم کرنے کی بات۔۔”
“وہی کرنے والی ہوں میں فہاج۔۔۔ میں اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لیے یہ رشتہ ختم کرنے والی ہوں آپ۔۔۔”
فہاج نے ایک دم سے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا تھا اور لڑکھڑا کر وہ صوفہ پر گرگئے تھے۔۔
“بس کرجائیں فہاج۔۔۔ ہر بار وہی ہارٹ اٹیک کا ڈرامہ نہیں چلے گا۔۔۔اننف از اننف۔۔۔”
وہ چلائی تھی مگر فہاج جیسے ہی گرے تھے پیچھے انوشہ کی سانسیں تھم گئیں تھیں فہاج کی بند آنکھوں کو دیکھ کر۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
اسکے چلانے سے ہسپتال کے سٹاف ممبرز جلدی سے اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
“فہاج۔۔۔آنکھیں کھولیں۔۔۔”
مگر کوئی جواب نہیں ملا تھا انوشہ کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈاکٹر انوشہ اب وہ سٹیبل ہیں انہیں کوئی سٹریس نہ لینے دیں۔۔۔ یہ آپ کے رشتے دار ہیں انکی وائف فیملی کو انفارم کردیں ایسی حالت میں انکو ضرورت ہے اپنوں کی۔۔۔۔؟؟”
ڈاکٹر صاحب کے سوال پر انوشہ نے انکی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“ہم۔۔۔ ہی از مائی ہزبنڈ۔۔۔۔”
“وٹ۔۔۔۔؟؟؟”
وہ ڈاکٹر دیکھتے رہ گئے تھے انوشہ اندر فہاج کے روم میں چلی گئی تھی اسی وقت۔۔۔
فہاج کے سینے پر لگے ان وائرز کو دیکھ اس نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
آج سب نے اس سے یہی سوال پوچھا تھا کہ وہ اس پئشنٹ کو اٹینڈ کیوں نہیں کررہی۔۔
اور انوشہ کے پاس جواب نہیں تھا۔۔۔
وہ کیا بتاتی کسی کو۔۔؟ کہ اس میں ہمت نہیں تھی۔۔ فہاج کو بےہوشی میں دیکھ کر اسکے وجود سے وہ ہمت چلی گئی تھی۔۔۔جو آج تک نہیں ہوا تھا اسکے ساتھ آج ہورہا تھا اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔
وہ جیسے ہی وہاں آئی تھی اس نر نرس کو باہر بھیج دیا تھا فہاج کے بالوں کو ماتھے سے ہٹا کر وہ جھکی تھی اسی جگہ اپنے لبوں کو رکھ دیا تھا اس نے کتنی دیر وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔۔فہاج۔۔۔”
سینے پر لب رکھے اسکے آنسو بھی گرے تھے اسکے۔۔۔
مانیٹر کی بیپ اسے یقین دلا رہی تھی ان دھڑکنوں کی تیزی کا۔۔۔اور انوشہ ایک دم سے مسکرا دی تھی
“ڈرا دیا تھا۔۔۔اتنا کمزور دل لئیے اتنے خطرناک کام کررہے ہیں پروفیسر فہاج۔۔؟؟”
ان سے سرگوشی کی تو فہاج کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہوئی تھی
“انوشہ۔۔۔ میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا۔۔۔”
“شش۔۔۔”
انوشہ نے بھی بہت آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔
“انوشہ میں۔۔۔”
انوشہ نے فہاج کی چہرے پر ہاتھ رکھ کر ان آنکھوں میں دیکھا تھا
“فہاج۔۔۔”
آنکھ سے جیسے ہی آنسو نکل کر فہاج کے چہرے پر گرا تھا انوشہ نے ان دونوں چہروں کے درمیان اس فاصلے کو ختم کردیا تھا جب آنکھیں بند کئیے فہاج کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھے تھے اور انکی انگلیوں نے فہاج کے بالوں کو دسہلانا شروع کیا تھا۔۔۔
۔
