Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
“بی جان آپ جو بار بار فہاج کی شادی کی بات کرکے افسردہ ہوجاتی ہیں وہ اس قابل بھی ہیں۔۔؟؟ پہلے اُن سے تو پوچھ لیجئے وہ اس قابل ہوگئے ہیں کہ وہ اس ذمہ داری کو سنبھال سکیں۔۔؟؟”
عنبر کی طنز کرتی آواز سننے کی دیر تھی کہ بیٹھک کا ماحول جو کچھ دیر پہلے خوشگوار تھا وہ بدل گیا تھا خاموشی میں
“وائے سوو و رؤڈ موم۔۔؟؟ نوٹ فئیر۔۔”
اریبہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی
“عنبر تمہیں نہیں لگتا کہ تم فہاج بھائی کو کچھ زیادہ ہی ڈی گریڈ کرنے کی کوشش کرتی ہو۔۔؟؟ میں نے فہاج بھائی کے منہ سے کبھی تمہارے لیے کوئی لفظ نہیں سنا۔۔”
“کیونکہ وہ پشیمان ہے۔۔ کیا بولے گے وہ۔۔؟ جو شخص صرف مایوسیاں دیتا آیا سب کو اور۔۔”
“بس۔۔۔”
بی جان نے چائے کا کپ غصے سے واپس رکھ دیا تھا
“بی جان تو پھر آپ اپنی بہو کو منع کریں میرے سامنے وہ بات نہ کرے جو کبھی حقیقت نہیں ہوسکتی۔۔۔ فہاج کو کبھی کوئی دوسری نظر نہ دیکھے جس طرح کے وہ ہیں۔۔ غرور سے بھرا ہوا پتھر دل انسان۔۔۔ کون شادی کرے گی اس جیسے شخص سے۔۔؟؟ وہ انسان اکیلے ہی ساری زندگی گزارے گا۔۔۔”
۔
“کس نے کہا وہ اکیلا ہے۔۔؟؟ میرا فہاج اکیلا نہیں ہے۔۔ اور جو اسکی زندگی میں ہے اس نے زندگی خوبصورت بنا دی ہےمیرے بیٹے کی۔۔ شاید پچھلے کچھ دنوں سے تم نوٹ نہیں کررہی مگر ہم سب نے نوٹ کرلیا ہے۔۔۔
اور نازنین بیٹا اب فہاج کی شادی کی بات مت کرنا وہ جو فہاج کی زندگی میں وہ ہمارے فہاج کو لیکر بہت جنونی ہے۔۔۔”
بی جان نے عنبر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا وہ مسکراتے ہوئے باہر لان میں بیٹھنے چلی گئی تھی
“وٹ۔۔۔؟”
روحان نے شاکڈ ہوکر پوچھا تھا وہ ماں بیٹے کے علاوہ سب ہی خوش تھے
عنبر خاموشی کے ساتھ گیسٹ روم میں چلی گئی تھی۔۔۔ فہاج کی زندگی میں کسی اور کا ہونا ہے عنبر کو تکلیف پہنچا گیا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ یہاں آرام کیجئے میں کچھ کھانے کو لے آتی ہوں۔۔”
وہ فہاج کو اپنے اپارٹمنٹ میں لے آئی تھی ہاسپٹل سٹاف کی مدد سے جب اپنےبیڈروم میں بیڈ پر آہستہ سے فہاج کو لیٹے میں ہیلپ کرتے ہوئے انوشہ نے کہا تو فہاج نے ہاتھ پکڑ لیا تھا
“یہیں بیٹھی رہو۔۔ ابھی کچھ کھانے کا دل نہیں کررہا۔۔”
“کھانا تو پھر بھی ہوگا میڈیسن کھانی ہے۔۔۔”
انوشہ نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی تھی اور فہاج نے ہاتھ پھر سے پکڑ بیڈ پر کھینچا تھا۔۔۔ اس سے پہلے وہ فہاج پر گرتی انہوں نے دونوں ہاتھ بیڈ کراؤن پر رکھ دئیے تھے۔۔۔
“آئی لائک دس پوزیشن۔۔۔”
فہاج کے چہرے پر جھکے ہوئے انکے وجود نے جیسے ہی اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا وہ ایک دم سے پیچھے ہوگئی تھی
“سیریسلی۔۔؟؟ ہو کیا گیا ہے۔۔؟؟”
وہ بات بدل کر دروازے تک بڑھی تھی باہر جانے کو
“مجھے یا تمہیں۔۔؟؟ ہاسپٹل میں وہ کس۔۔۔ہائے۔۔۔ انوشہ مدہوش کردیا ہے مجھے میں۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔”
وہ باہر بھاگ گئی تھی۔۔۔
“ڈاکٹر انوشہ بھی شرماتی ہیں۔۔؟؟”
وہ پیچھے سے چلائے تو انکو پھر سے درد ہوئی تھی ابھی تک وہ جان بوجھ کر بتا نہیں رہے تھے۔۔۔ مگر وہ شدید تکلیف میں تھے۔۔۔
آنکھیں جیسے ہی بند کی تھی انہیں نیند آگئی تھی اسی وقت۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“احلام آپ کیوں درمیان میں آرہے ہیں۔۔ اس نے آپ پر ہاتھ اٹھایا ہے اس کا ہاتھ توڑ دینا چاہیے تھا اور آپ یہاں لے آئے ہیں مجھے۔۔؟؟”
“رامین ایک اور لفظ نہیں۔۔ جیسا میں نے کہا تھا وہی کرو بس۔۔ روحان کی شادی اسی سے ہوگی جس سے وہ چاہتا ہے۔۔”
وہ آگے آگے چلنا شروع ہوئے تھے
“احلام کیوں اتنی جلدی ہے آپ کو۔۔؟؟ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ انوشہ اور وہ پروفیسر کے آفئیر کا۔۔؟؟ تو بی لئیو مئ انوشہ کو کوئی دوسری نظر دیکھے نہ آفئیر تو دور کی بات ہے۔۔ اتنی اہمیت نہ دیں انوشہ کو عمر نہیں رہی کہ کوئی اس میں انٹرسٹ لے گا۔۔”
احلام بیوی کی بات کر رک گئے تھے جب رامین بات مکمل کرے پاس سے گزر گئی تھی۔۔۔
“تم نہیں جانتی کوئی بھی نہیں جانتا اس شخص کی آنکھوں میں جو میں نے انوشہ کے لیے دیکھا وہ حاصل کئیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔۔۔”
۔
مٹھی بند کئیے وہ بھی اندر چلے گئے تھے جہاں انوشہ کے علاوہ اسکی فیملی کا ہر فرد تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چُپ کے سے سن اس پل کی دُھن۔۔۔ اس پل میں جیون سارا۔۔
سپنوں کی ہے دُنیا یہی۔۔۔ میری آنکھوں سے دیکھو زرا۔۔۔”
۔
“اتنا ٹھنڈا کپڑا۔۔۔”
“شش ایک دم چپ۔۔۔ اتنا تیز بخار ہورہا ہے اب پلیز خاموش رہیں۔۔”
انوشہ نے ٹھنڈی پٹیاں کرنا شروع کردی تھی۔۔
ان سب میں وہ فہاج کی آنکھوں میں دیکھنا اگنور کررہی تھی پہلو میں لیٹا ہوا شخص کمزور کرتا جارہا تھا انہیں۔۔انہوں نے جتنا بولڈ سٹیپ ہاسپٹل میں لیا فہاج کو کس کرکے وہ خود سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی۔۔
وہ جانتی تھی انکے ساتھ اب وہ ہورہا تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ اس شخص کو وہ پسند کرنا شروع ہوگئی تھی تب جب انہیں اس رشتے کی زندگی بہت کم لگ رہی تھی
“انوشہ۔۔۔”
نام لیتے ہوئے فہاج نے انوشہ کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔ان کے لب انوشہ کی گردن پر جیسے ہی محسوس ہوئے تھے انوشہ کے ہاتھ رکے تھے
“ہاہاہا۔۔۔کنٹینیو رکھیں ڈاکٹر صاحبہ آئی نو مائی لمٹس۔۔۔”
یہ کہتے ہی فہاج نے گردن پر بوسہ لیا تھا اور آنکھیں بند کرلی تھی
“سیریسلی۔۔۔؟؟ لمٹس کراس کرنا اور کسے کہتے۔۔؟؟”
“کرکے بتاؤں۔۔؟؟’
آنکھیں کھولتے ہیں انوشہ کے ہونٹو ں کی طرف دیکھا تھا انہوں نے
“وٹ نو۔۔۔”
مگر فہاج چہرے کو گردن میں اور چھپائے ویسٹ پر ہاتھ رکھ چکے تھے
“یہ ہیں لمٹس کراس کرنا۔۔۔”
انکی ٹانگ پر ٹانگ جیسے ہی رکھی تھی انوشہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا اور آنکھیں شاک سے بڑی ہوگئی تھی
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ توبہ ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔”
انوشہ کا ری ایکشن دیکھ کر وہ بےساختہ ہنس دئیے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ گھر جا سکتی ہیں۔۔۔مگر آپ یہیں رہیں گے اندر صاحب کی دیکھ بھال کریں گے میں جلدی ہی واپس آجاؤں گی ڈیڈ کی کال آگئی ہے اس لیے۔۔۔”
فہاج کو بھی وہ بتا رہی تھی اور دونوں ملازمین کو بھی انوشہ نے ملازمہ کو چھٹی دہ دی تھی مگر ملازم کو فہاج کی دیکھ بھال کا کہہ کر اس نے بیڈروم کا دروازہ بند کردیا تھا اور جب مڑ کر فہاج کی طرف دیکھا تو اسکے چہرے پر ایک مسکان آگئی تھی جسے وہ چھپانے کی کوشش میں تھی فہاج بچوں کی طرح ہاتھ باندھے دوسری طرف منہ کرچکے تھے
“ناؤ وٹ۔۔؟؟”
“بیمار میں ہوں میری دیکھ بھال کرو وہاں جانا ضروری ہے۔۔؟”
“فہاج۔۔۔”
“انوشہ کچھ بھی کہنے سے پہلے یاد رکھنا میرا دل بہت کمزور ہے۔۔۔”
دل پر ہاتھ رکھے انہوں نے آہستہ سے کہا تھا
“دل کو بہانا بنانا ضروری ہے فہاج۔۔۔؟؟”
وہ آہستہ سے پاس آکر بیٹھ گئیں تھیں وہ جانتی تھی کہ فہاج کا دل سچ میں کمزور ہے جو ہوا وہ نہیں چاہتی تھی کہ پھر سے ہو۔۔۔
“کوئی اور بہانا ہے بھی نہیں نہ۔۔؟ نہ ماضی کی محبت نہ جوانی کا یارانہ۔۔؟؟ نہ کوئی عہد نہ کوئی وعدہ نہ کوئی قسم۔۔۔”
فہاج نے انوشہ کا سیدھا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ دیا تھا۔۔۔
“میرے پاس بہنا صرف میرا دل اور یہ نکاح ہے۔۔۔”
انوشہ سر جھکا کر بیٹھی رہی تھی وہاں ہاتھ اس دھڑکتے دل پر تھا جو ہاسپٹل میں دھڑکنا بھی بند ہوا تو سانس انوشہ کی تھم گئی تھی۔۔۔
“میں کوشش کررہی ہوں فہاج۔۔”
“جانتا ہوں۔۔ اس لیے سکون میں ہوں کہ تم کوشش کررہی ہو۔۔۔”
انوشہ کے رخصار پر ہاتھ رکھے انہوں نے اس خوبصورت چہرے کو جیسے ہی اپنے قریب کیا تھا انوشہ کے موبائل کی رنگ ٹون نے دونوں کو دور کردیا تھا
“ڈیڈ کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔۔میں جلدی آجاؤں گی۔۔”
وہ جلدی سے اٹھ گئی تھی فہاج کو مایوس کردیا تھا مگر جب انوشہ دروازے پر جاکر واپس آئی تو چہرے پر وہی مسکراہٹ تھی فہاج کے
“ٹیک کئیر۔۔۔ دل کو مظبوط کریں میں اگر سعی معنوں میں بیوی بنی تو آگے لگا دوں گی فہاج صاحب۔۔۔ مجھے رشتے میں کمزور مرد نہیں چاہیے یاد رکھئے گا۔۔۔”
فہاج کے ماتھے پر بوسہ دئیے وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عنبر بھابھی اتنی اداس ہوگئی ہیں۔۔؟؟ فہاج بھائی کی زندگی میں کوئی آگیا ہے تو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔۔۔”
“مگر میں خوش نہیں ہوں شمائلہ۔۔۔ اس شخص کو میں کسی اور کا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔۔”
“وٹ۔۔؟؟”
شمائلہ پاس آکر بیٹھ گئی ھی عنبر کے جو چہرے کو ہاتھوں میں چھپائے رو رہی تھی
“بھابھی۔۔۔آپ شادی کرچکی تھی آپ کے بچے ہیں۔۔ آپ کا اس طرح رونا مجھے سمجھ نہیں آیا۔۔۔آپ تو اپنی شادی شدہ زندگی میں خوش ہیں۔۔”
“نہیں ہوں میں خوش۔۔۔ میں فہاج کو سزا دینا چاہتی تھی۔۔ میں اسے بتانا چاہتی تھی کہ کہ میں اسکے بغیر خوش ہوں۔۔۔ سچ تو یہ ہے میں نے سب حاصل کیا اچھی ازدواجی زندگی عیش عشرت پیسہ دولت۔۔۔ مگر وہ پیار حاصل نہ کرسکی جو فہاج کے پہلو میں جاکر ملتا تھا۔۔
وہ سکون جو فہاج کی بانہوں میں جا کر ملتا تھا۔۔”
“بھابھی۔۔توبہ کیجئے۔۔۔آپ کسی اور کی محرم ہے۔۔”
“فہاج کے ساتھ اتنا بُرا کیا میں نے مگر وہ شخص کبھی اف نہیں کرتا تھا۔۔۔ اس کی خاموشی نے مجھے جیت لیا۔۔۔ میں سب کچھ چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہوں۔۔۔اگر بدلے میں وہ مجھے۔۔۔”
“عنبر۔۔؟؟ بچے انتظار کررہے چلیں۔۔؟؟”
ریحان کی آواز سن کر عنبر نے اپنا چہرہ جلدی سے صاف کرلیا تھا
وہ جیسے ہی روم سے باہر گئی تھی شمائلہ نے گہرا سانس بھرا تھا
“عنبر بھابھی اب جاکر آپ کو احساس ہوا ہے جب فہاج بھائی کی زندگی میں کوئی آیا ہے انکی قدر کرنے والا۔۔۔اب آپ کہہ رہی ہیں کہ آپ نے غلط کیا بھائی کو چھوڑ کر۔۔
اگر فہاج بھائی سمجھدار ہوں تو کبھی آپ کی طرف متوجہ نہ ہوں۔۔ “
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مبشر انوشہ آگئی ہے پلیز آرام سے بات کیجئے گا۔۔”
انوشہ کی موم نے وہاں موجود سب لوگوں سے کہا تھا جن میں نانی کے ساتھ ساتھ احلام اور رامین بھی شامل تھے۔۔۔
“اووہ۔۔۔مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا پھر کوئی کھچڑی پک رہی ہوگی۔۔۔”
انوشہ بھی نانی کے ساتھ جاکر بیٹھ گئی تھی احلام اور رامین کو مکمل اگنور کرکے۔۔
۔
“جب احلام کو روحان اور ابیہا کی شادی سے مسئلہ نہیں تو تمہیں کیا پرابلم ہے۔۔؟؟”
مبشر صاحب نے بنا کسی بات کو گھمائے ڈائیریکٹ سوال پوچھا تھا جیسے وہ اپنے کسی ملازم سے وجہ پوچھ رہے ہوں۔۔ احلام سینا چوڑا کئیے سکون سے بیٹھ گئے تھے۔۔۔
یہی چاہتے تھے وہ اسی نیت سے آئے تھے وہ انوشہ کے ڈیڈ کے پاس۔۔۔
۔
“اووہ اب اس شخص کی مرضی سے میری بیٹی کی شادی ہوگی۔۔؟”
“وہ شخص باپ ہے اس کا۔۔۔”
وہ دونوں باپ بیٹی اک دوسرے کے سامنے تھے
“باپ۔۔؟؟ یا رائٹ جیسے آپ باپ تھے۔۔؟؟ انوشہ۔۔۔”
انہوں نے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی تھی مگر رک گئے تھے
“وہ شادی کرنا یا نہ کرنا میری فیصلہ ہوگا۔۔۔ آپ بھی سن لیں ڈیڈ۔۔۔
اور احلام تم سے جو بن پڑتا ہے تم کرو۔۔ مگر ابیہا کی زندگی کا فیصلہ میں تمہیں کرنے نہیں دوں گی۔۔”
وہ جانے لگی تھی جب مبشر صاحب کی اگلی بات نے انکے قدم روک دئیے تھے
“اگر تم اس شادی کے لیے راضی نہ ہوئی تو میں وہ کروں گا جو تم نے سوچا نہیں ہوگا۔۔”
“کیا کریں گے۔۔؟؟ مجھے گھر سے نکال دیں گے۔۔؟ جائیداد سے بےدخل کردیں گے۔؟
کردیں میرے پاس آپ سے زیادہ دولت ہے۔۔۔ میں آپ سے زیادہ کامیاب ہوئی ہوں ڈیڈ۔۔۔”
“میں اس ہاسپٹل کو بند کروا دوں گا۔۔”
انوشہ کے قدم رک گئے تھے
“بورڈ آف ڈائیریکٹرز میں ستر فیصد شئیرز جن کے ہیں وہ میرے دوست ہے جاننے والے ہیں۔۔ میں اس ہاسپٹل کو خرید کر اسے کچھ گھنٹوں میں بند کروا دوں گا۔۔۔ اور۔۔۔
تم جانتی ہو میں ایسا کرسکتا ہوں انوشہ۔۔۔”
“یو نو وٹ۔۔۔ آپ سے ایسی ہی امید لگا جاسکت ہے سر۔۔۔ آئی رئیلی ہیٹ یو۔۔”
مبشر صاحب کے چہرے پر سے وہ غرور بھری مسکراہٹ جیت کی خوشی غائب ہوگئی تھی انوشہ کی بات سن کر۔۔۔
“جتنی نفرت میں اس شخص سے کرتی ہوں اس سے زیادہ نفرت مجھے آپ سے ہوگئی ہے ڈیڈ۔۔۔”
احلام کی طرف دیکھ کر اس نے بات مکمل کی تھی اور وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
آنے والے دنوں میں اسے اپنے ہی ہاسپٹل کی وہ وہ نیوز ملنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
اس کی غلطی تھی کہ اس نے وقت رہتے وہ باقی کے شئیرز نہیں خریدے تھے اب وہ انجام بھگت رہی تھی۔۔۔
مبشر صاحب نے دھمکی کے مطابق اپنی چال چل دی تھی۔۔۔
۔
اور وہ اتنی مایوس تھی کہ اس میں ہمت نہیں تھی واپس اپارٹمنٹ میں جانے کی۔۔۔
۔
وہاں فہاج صاحب پچھلے دو دن سے انتظار کررہے تھے انوشہ کا اور جب کوئی خیر خبر نہیں آئی انوشہ نے کوئی فون اٹینڈ نہیں کیا تو وہ ہسپتال چلے گئے تھے مگر وہاں سے بھی مایوس ہی لوٹے۔۔۔
“فہاج۔۔۔ بیٹا ہم پاکستان آرہے ہیں۔۔۔”
“بی جان سب خیریت ہے۔۔؟؟ پاکستان کیوں۔۔؟؟”
فہاج انوشہ کو پھر سے کال ملانے والے تھے جب بی جان کی کال ریسیو کی انہوں نے۔۔
“کیا عنبر نے بتایا نہیں۔۔۔ اس نے تو کہا تھا تمہیں پتا ہے۔۔؟؟”
“کیا پتا ہے بی جان۔۔؟؟”
“یہی کہ روحان اور ابیہا کی منگنی رکھ دی گئی ہے پرسو۔۔۔انوشہ نے ہاں کردی تھی اور۔۔۔”
فہاج بیڈ پر گر گئے تھے جب انہوں نے بی جان کی مکمل بات سنی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دو دن بعد۔۔۔۔۔۔”
۔
“بہت بہت مبارک ہو بیٹا۔۔۔۔جیتے رہو۔۔۔”
احلام صاحب گلے ملے تھے اور فہاج صاحب کے بھی گلے لگ کر انہوں نے حیران کردیا تھا
“بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ روحان بہت اچھا لڑکا ہے مجھے خوشی ہوگی اگر یہ ہمارا داماد بن جائے گا تو۔۔۔ کیوں انوشہ۔۔۔؟؟”
اور انوشہ بھی سامنے آگئی تھی سب گیسٹ کو ویلکم کرنے۔۔۔ ڈارک مہرون ساڑھی میں وہ جیسے ہی سامنے آئی تھی فہاج صاحب کی نظریں پھر ہٹ نہیں پائی ان سے۔۔۔
۔
“پلیز کم ان۔۔۔”
وہ فہاج کی آنکھوں میں دیکھنے سے بھی کترا رہی تھی جس شخص کو وہ پچھلے کچھ دنوں سے اتنا اگنور کررہی تھی اب اسے تھری پیس سوٹ میں دیکھے بلآخر انہوں نے فہاج کے چہرے کو ایک نظر دیکھ ہی لیاتھا جس میں بلا کا غصہ تھا۔۔۔
“ٹائی کہاں ہے۔۔؟؟”
وہ دونوں جیسے ہی ایک ساتھ اندر آئے تھے انوشہ نے پہلا سوال ہی یہ پوچھا تھا
“سیریسلی۔۔۔؟؟ تمہیں میری ٹائی کی پڑی ہے۔۔؟؟”
“جی۔۔۔ پروفیسر صاحب۔۔۔پلیز اندر چلیں۔۔۔”
اور وہ خود دوسری طرف چلی گئی تھی۔۔۔ ہال میں مہمان آنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
ایک پل کو فہاج کا غصہ آسمان چھو رہا تھا جب انہوں نے احلام کا ہاتھ انوشہ کی ویسٹ پر دیکھا تھا۔۔۔
“باسٹر۔۔۔”
“شش فہاج پتر۔۔۔یہاں نہیں تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔۔”
“بی جان وہ میری بیوی ہے۔۔جس کے اتنا قریب ہے وہ۔۔ میں اسے۔۔۔”
“میں نے کیا کہا تھا بیٹا۔۔۔؟؟ ابھی نہیں اس فنکشن کو ختم ہوجانے دو پھر بیٹھ کر بات کریں گے۔۔”
فہاج کے ماتھے پر بوسہ دے کر انہوں نے فہاج کا غصہ کس حد تک کم کردیا تھا۔۔۔
اور جب منگنی ہوگئی تھی اور کچھ کپل ڈانس فلور پر سلو ردھم پر ڈانس کررہے تھے تب فہاج بہت گریس فلی انوشہ کی طرف بڑھے تھے سب کے سامنے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔
“مئے آئی۔۔؟؟”
“نو۔۔۔ وہ میرے ساتھ۔۔”
احلام کی بات کاٹ دی تھی انوشہ نے جب فہاج کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
۔
“سب دیکھ رہے ہیں فہاج۔۔۔”
انوشہ کی بات تو جیسے اگنور کردی تھی جب اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“یہ میرا فیورٹ سونگ ہے۔۔۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
عنبر نے غصے سے کہا تھا جو ایک کارنر پر کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔۔۔
۔
“یہ دھواں دھواں سا رہنے۔۔۔ مجھے د ل کی بات کہنے دو۔۔۔
میں پاگل دیوانہ تیرا۔۔۔ مجھے عشق کی آگ میں جلنے دو۔۔۔”
۔
“فہاج۔۔۔”
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو ماشاللہ۔۔۔ سب دیکھ رہے تھے تمہیں۔۔۔اور میرا دل جل رہا تھا۔۔”
۔
“مجھے چھو گئی تیری نظر۔۔۔ مجھے ہوش بھی نہیں رہا۔۔۔
اس آگ میں جلنے کا ہے۔۔۔ اپنا مزہ اپنا مزہ۔۔۔۔”
۔
“جلن کیوں ہورہی تھی۔۔؟؟ میں خوبصورت ہوں اس لیے یا کچھ ہینڈسم مین دیکھ رہے تھے اس لیے۔۔۔؟؟”
انوشہ نے ٹیز کرتے ہوئے پوچھا تو فہاج کی گرفت اور مظبوط ہوگئی
“مجھے پبلک ڈسپلے میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔مگر میں ٹیزنگ کو لائٹلی نہیں لیتا مائی وائف۔۔؟”
ہاتھ کو اونچا کئیے انوشہ کو پھر سے گھما کر واپس اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا انہوں نے۔۔۔
۔
“یہ دھواں دھواں سا رہنے دو
مجھے دل کی بات کہنے دو۔۔۔”
۔
“سب دیکھ رہے ہیں فہاج۔۔۔ ایکسکئیوزمئ۔۔۔”
وہ شرما گئی تھی فہاج کی آنکھوں میں الگ ہی جذبات تھے۔۔۔
ایکسکئیوز کئیے وہ جیسے ہی وہاں سے گئی تھی فہاج بھی انکے پیچھے وہاں سے چلے گئے تھے
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ۔۔۔پلیز۔۔۔”
“فہاج نوٹ ناؤ۔۔۔ گھر چلل کر بات کریں گے۔۔”
“گھر۔۔؟؟ کونسا گھر۔۔۔؟؟”
انہوں نے انوشہ کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کیا تھا
“اپارٹمنٹ فہاج۔۔۔”
“اوووہ۔۔۔ جہاں تم مجھے اکیلا چھوڑ گئی تھی یہ سوچے بغیر کہ میں بیمار ہوں۔۔۔”
انہوں نے جیسے ہی کہا تھا انوشہ نے بےبسی کے عالم میں اپنا ہاتھ فہاج کے گال پر رکھ کر چہرہ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
وہ گھر کے اس کمرے میں تھے جو انوشہ کا تھا۔۔۔
“فہاج پلیز۔۔۔”
“پلیز وٹ۔۔۔؟؟؟”
“یو باسٹرڈ۔۔۔”
دروازہ کھولتے ہی احلام نے فہاج کے منہ پر مکا مار دیا تھا جو ایک جھٹکے سے پیچھے جا گرے تھے
“انوشہ تم ٹھیک ہو۔۔؟؟”
“پھوپھو آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
احلام کے ساتھ دو فیملی کے مرد دیکھ کر انوشہ نے غصے سے احلام کو دیکھا تھا۔۔۔
“یہ بدتمیزی کررہا تھا انوشہ کے ساتھ۔۔۔”
احلام نے اونچی آواز میں کہا تھا اور فہاج کو پوری طرح مشکوک کردیا تھا اس لمحے
“یہ کیا بکواس کررہے ہو۔۔؟؟”
فہاج صاحب نے اٹھتے ہی گریبان پکڑ لیا تھا احلام کا ۔۔۔
“اچھا تو کیا کررہے تھے انوشہ کے کمرے میں۔۔ ڈانس فلور پر بھی زبردستی کررہے تھے تم۔۔۔”
“انف از اننف احلام ایسا کچھ نہیں تھا۔۔۔”
مگر احلام صاحب نے پھر سے فہاج پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔
“ایسا نہیں تھا۔۔؟ تو بتاؤ کیا کررہا ہے یہ تمہارے کمرے میں۔۔؟؟”
“بس کرجاؤ احلام۔۔۔”
“تم جواب دو مجھے کس حق سے یہ تمہارے اتنے قریب آیا۔۔؟؟ یہ زبردستی ہی کررہا تھا۔۔۔”
انوشہ کی خاموشی پر فہاج نے بھی چپی اختیار کرلی تھی اور احلام کی بھڑاس برداشت کرنے لگے تھے
“فہاج۔۔۔”
“پھوپھو آپ پیچھے رہے۔۔۔”
ان دونوں نے انوشہ کو پکڑ کر پیچھے کرلیا تھا وہ حیران نظروں سے فہاج کو دیکھ رہی تھی جو اپنے ڈیفینس میں کچھ نہیں کررہے تھے بس مار کھا رہے تھے
“یہ سب کیا تماشا ہورہا ہے۔۔؟؟”
مبشر صاحب نے غراتے ہوئے پوچھا تھا اور احلام کے ہاتھوں سے گریبان چھڑایا تھا۔۔۔
“ڈیڈ یہ۔۔۔”
“ابھی معافی مانگو احلام۔۔۔ وہ مہمان ہیں ہمارے۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہاتھ اٹھانے کی۔۔؟؟”
“ڈیڈ۔۔۔؟؟”
“معافی مانگو۔۔۔”
۔
مگر فہاج صاحب بیڈ کا سہارا لئیے اٹھ گئے تھے۔۔
“فہاج۔۔۔”
“خدا حافظ۔۔۔”
انوشہ کے ہاتھ کو جھٹک دیا تھا انہوں نے۔۔۔اور وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فہاج۔۔۔”
اپارٹمنٹ میں جیسے ہی داخل ہوئی تھے فلور پر لگے خون کو دیکھ کر وہ سیدھا اپنےبیڈ روم میں گئی تھی۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
الفاظ دم توڑ گئے تھے جب فہاج کو بیڈ پر آنکھیں بند کئیے لیٹے دیکھا تھا
“آپ ٹھیک ہیں۔۔۔”
وہ پاس آکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔ انوشہ کا ہاتھ اپنے زخمی ہونٹ سے ہٹا کر اپنے سینے پر رکھتے ہوئے پوچھا تھا اور آنکھیں مکمل کھول لی تھی
۔
“اپنے ہاتھ کو میرے ہونٹوں سے ہٹا کر میرے سینے پر رکھ کر قسم کھاؤ میری کہ تم میری ہو انوشہ فقط میری ہو۔۔۔
میرے زخم بھر جائیں گے میری تڑپتی روح ٹھنڈی پڑ جائے گی وجود سے جاتی ہوئی جان واپس آجائے گی”
۔
مگر انوشہ انکی سبھی باتیں اگنور کرگئی تھی۔۔
“کتنا خون بہہ رہا ہے فہاج کیوں ان لوگوں کی مار برداشت کرتے رہے آپ۔۔؟؟
کیوں کچھ نہیں کہا کسی کو بھی۔۔۔”
انوشہ نے اپنے دوپٹے کے پلو سے چہرے پر لگے خون کو صاف کرنا شروع کیا تو انکی شکایت بھی انکے لبوں پہ آگئی تھی
“میں چاہتا تھا تم سب کے سامنے اپناؤ مجھے۔۔۔ بتاؤ دنیا کو کہ میں کون ہوں تمہارا۔۔۔”
“میں ایسا نہیں کرسکتی فہاج۔۔۔ بچے ہیں فیملی ہے سب کے سامنے۔۔۔ میں نہیں اپنا سکتی۔۔۔”
“تو پھر میں بھی ایسے ہی ہمت کرتے رہوں گا تم سے محبت کے اظہار کی اور یہی حال۔۔۔”
انوشہ جیسے ہی آگے جھکی تھی فہاج کی نظریں انکے لبوں پر گئی تھی مگر وہ آگے جھک کر انکی آنکھوں پر بوسہ دے رہی تھی انکے ماتھے پر اور پھر انکے گال پر جہاں جہاں زخم تھے۔۔۔
“فہاج مجھے اور تکلیف مت دیں۔۔۔وہ لوگ جو آپ جیسے عظیم انسان کے آگے کھڑے نہیں ہوسکتے ان لوگوں نے آپ پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔ مجھے اندر تک گھائل کردیا آپ کی خاموشی نے۔۔۔
مگر یہ بھی سچ ہے میں نہیں اپنا سکتی۔۔۔”
۔
وہ بیڈ سے اٹھی کھڑی ہوئی تھی اور دوسری طرف چہرہ کرکے اپنے آنسو بھی صاف کرلئیے تھے
“تو پھر رو کیوں رہی ہو ڈاکٹر انوشہ۔۔؟؟ زخم تو مجھے ملے ہیں چوٹ تو مجھے لگی ہے۔۔
تم اپنی ضد پر ڈٹی رہو۔۔۔”
انہوں نے انوشہ کو پیچھے سے جیسے ہی اپنے حصار میں لیا تھا انوشہ کی سانسیں تھم گئیں تھیں
“فہاج۔۔۔”
“انوشہ ایسے ہی ملتے رہیں گے پھر۔۔؟؟ کیونکہ تم سے ملنا تو میں چھوڑنے والا ہوں نہیں۔۔
اور مجھے تم اپناؤ گی نہیں۔۔۔”
انکے وہ ہاتھ جو انوشہ کی ویسٹ پر تھے انوشہ نے ان ہاتھوں کو تھام لیا تھا وہ دونوں ااسی جگہ کھڑے رہ گئے تھے اس لمحے کو جیسے محسوس کررہے تھے تھے۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
ایک سرگوشی کی تھی جب فہاج کے ہونٹ اپنے کندھے پر محسوس ہوئے تھے انہیں
“انوشہ۔۔۔ میں نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں اینڈ تک تم نے مجھے اور ہمارے رشتے کو اپنایا نہیں کسی کے بھی سامنے۔۔۔پھر ایک دن میں نے خود کو اپنی آخری سانسیں لیتے دیکھا۔۔۔
اور تم میری ڈیڈ باڈی کو اپنے سینے سے لگائے سب کے سامنے چلا رہی تھی کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو میں تمہاری زندگی ہوں۔۔۔
انوشہ۔۔۔وہ تمہارا اظہارِ محبت ساری دنیا نے سنا اور جو سننے کے لیے ترستا رہا وہ بےجان پڑا تھا تمہارے پہلو میں۔۔۔”
فہاج نے جیسے ہی بات مکمل کی تھی انوشہ روتے ہوئے واپس ٹرن ہوئی اور فہاج کے سینے سے لگ کراور رونے لگی تھی۔۔۔
“اللہ نہ کرے۔۔۔ اللہ نہ کرے فہاج۔۔۔۔”
“اللہ کرے میری جان۔۔۔ کم سے کم اسی بہانے تم اظہار تو کرو گی نہ۔۔۔
محبت مکمل ملنے کا نہیں۔۔۔ محبت مکمل ہونے کا نام ہے۔۔”
۔
۔
