Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
“اس عمر کی محبت وبالِ جان ہے اور شادی وبالِ عزت۔۔۔اور مجھے دونوں ہوگئے ہیں تم سے انوشہ۔۔۔ محبت بھی اور شادی بھی۔۔۔ ‘لوگ کیا کہیں گے’ اس لفظ کو کبھی سوچا نہیں تھا کیونکہ خواہش نہیں تھی جینے کی آگے بڑھ جانے کی ایک شادی پہلے ہی ناکام ہوگئی تھی۔۔۔
مگر تم آئی تو محسوس ہوا کہ میں کن لوگوں کی فکر کروں جنہوں نے کبھی میرے اکیلے پن کی فکر نہیں کی۔۔؟؟”
“فہاج۔۔۔” فہاج کے سینے پر چھپائے ہوئے اپنے چہرے کو اٹھا کر فہاج کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“فہاج میں۔۔۔”
“پہلے میرے زخموں پر مرہم لگا دو۔۔ ابھی اور بھی ملیں گے نہ۔۔؟؟”
فہاج نے نیچے جھک کر انوشہ کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر باتھروم کی طرف چل دئیے تھے
“وٹ دا۔۔۔فہاج۔۔۔”
باتھروم سنک پر جیسے ہی انہیں بٹھایا تھا وہ خو د بھی پاس کھڑے ہوگئے
“فرسٹ ایڈ کہاں ہے ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔؟؟” فہاج نے آہستہ آواز میں پوچھا تو انوشہ کا کھلا منہ پھر سے بند ہوگیا تھا
“سیکنڈ کیبنٹ۔۔۔”
کچھ سیکنڈ میں فرسٹ ایڈ باکس لاکر انوشہ کے پاس رکھ دیا تھا جب دونوں ہاتھ انوشہ کی دونوں سائیڈ کاؤنٹر پر رکھ کر وہ اور پاس ہوئے تھے۔۔
“ف۔۔۔فہاج۔۔۔”
“ہمم۔۔؟؟ زخم یہاں ہیں۔۔۔”
اپنے چہرے کو انوشہ کےاور پاس کرکے کہا تھا انہوں نے۔۔۔
۔
“جب سانسوں میں تیری سانسیں گھلی تو پھر سلگنے لگے
احساس میرے۔۔ مجھ سے کہنے لگے۔۔۔”
۔
“آپ کا دھیان کہاں ہے ڈاکٹر۔۔۔؟”
فہاج کے چہرے نے جیسے ہی انوشہ کے گال کر ٹچ کیا تو انکی بڑھی بئیرڈ نے انوشہ کو پیچھے سرکنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
“یہاں بھی لگی ہے۔۔۔”
۔
“گستاخیاں کچھ تم کرو ۔۔کچھ ہم کریں اس طرح۔۔۔۔
شرما کے دو۔۔۔ سائے ہیں جو منہ پھیر لے ہم سے یہاں۔۔۔”
“یہاں بھی۔۔۔”
ہونٹوں کے پاس انگلی لے جاکر انہوں نے انوشہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
وہ جو انکے وجود کے درمیاں فاصلہ تھا وہ بھی ختم کرچکے تھے فہاج صاحب۔۔۔
“فہاج۔۔۔۔”
“اور یہاں بھی۔۔۔”
انوشہ نے جیسے ہی کاٹن سے انکے چہرے کے زخم صاف کرنا شروع کئیے تو انہوں نے انوشہ کے ہاتھ کو اپنے شرٹ کے کالر پر رکھ دیا تھا
انوشہ کی آنکھیں شرم سے جھکی جارہی تھی اور فہاج کو اور ہمت ملتی جارہی تھی۔۔۔
“کچھ زخم لوگوں نے دئیے کچھ دل زخمی تمہارے لفظوں نے کیا اب مرہم لگاتے ہوئے ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں۔۔؟؟”
انوشہ کی انگلیاں جیسے انکی شرٹ کے بٹن کھولنے میں مصروف ہوئی تھی فہاج کے لبوں کو کندھے پر محسوس کرتے ہوئے وہ بھی رکی تھی۔۔۔
“فہاج۔۔۔۔”
“جاری رکھو۔۔۔ “
کندھے سے شرٹ کو سرکا کر جیسے ہی انہوں نے گردن کے پاس بوسہ دیا
“فہاج۔۔۔۔۔”
“ششش۔۔۔۔”
انوشہ کو اٹھائے وہ واپس بیڈروم میں لے گئے تھے۔۔۔۔
۔
“تیری بانہوں میں مجھے رہنا ہے رات بھر۔۔۔
تیری بانہوں میں ۔۔۔ہوگی صبح۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ کہاں گئی۔۔؟؟ وہ گھر میں تو ہے نہیں پتہ کرو۔۔۔ کہاں ہے وہ اور وہ پوفیسر۔۔؟؟
کہاں ہے مجھے دونوں کی لوکیشن کا پتہ کرکے بتاؤ۔۔۔”
“احلام بس کرجائیں۔۔۔ ہاتھ اتنے زخمی ہوگئے ہیں۔۔”
رامین جیسے ہی کریم لگانے لگی تھی احلام نے اسے پیچھے دھکیل دیا تھا خود سے
“وہ سالا باسٹرڈ۔۔۔ اسکی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے بیڈروم میں جانے کی۔۔؟؟
اسکی جرات کیسے ہوئی۔۔؟؟”
غصے سے ناک پھلاتے ہوئے وہ شیشے کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے
“بیوی۔۔؟؟ سابقہ بیوی۔۔ اور کوئی بھی جائے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے۔۔؟؟
کیا پتہ یہ اسکا کردار ہو۔۔؟؟ فہاج کو پھنسانے کا اور کیا پتہ ارو مرد بھی۔۔۔”
رامین کی گردن احلام کے ہاتھ کی گرفت میں تھی اگلے لمحے۔۔۔
“ایک لفظ نہیں انوشہ کے خلاف۔۔۔ وہ کردار میں جتنی پاکیزہ ہے تم سو بار مر کر بھی اسکے جیسی نہیں بن سکتی۔۔۔
تمہیں میں اپنے بیٹے کی وجہ سے برداشت کررہا ہوں۔۔۔
اب دفعہ ہوجاؤ میرے کمرے سے۔۔۔”
دروازے کی طرف جھٹک دیا تھا رامین کو جو اتنی حیران تھی کہ بنا کچھ کہے ہی روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
انوشہ۔۔۔ کہاں ہو تم۔۔۔ جہاں بھی ہو اگر اس پروفیسر کا سایہ بھی پڑا تم پر تو میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔۔
دیکھ لینا۔۔۔”
انکے موبائل پر جیسے ہی انوشہ اور فہاج کے موبائل کی لوکیشن آئی تھی انہوں نے پاس پڑے گلدان کو شیشے پر دے مارا تھا۔۔۔
“انوشہ۔۔۔۔ چھوڑوں گا نہیں اس باسٹرڈ کو۔۔۔ تم صرف میری ہو۔۔۔”
۔
اپنا کوٹ اٹھائے وہ کمرے سے باہر نکل گئے تھے اپنی بیوی اور بیٹے کو اگنور کرکے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بی جان پھر کیا سوچا ہے آپ نے۔۔؟؟”
“کس بارے میں بیٹا۔۔۔؟؟”
بی جان نے اپنی تسبیح کو مکمل کرکے سائیڈ پر رکھ دیا تھا۔۔۔
“یہی کہ ابیہا کی شادی کہاں ہوگی۔۔؟؟ یہاں انوشہ کے والدین کے گھرمیں یا احلام بھائی کے۔۔؟؟”
نازمین کی بات سن کر بی جان نے سرد آہ بھری تھی انہوں نے نظر گھما کر دیکھا تو ہر طرف تیاریاں چل رہی تھی اور وہ پریشان ہورہی تھی اندر ہی اندر۔۔۔
“بیٹا۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔۔۔ فہاج کا انتظار کررہی ہوں میں۔۔۔ وہ آئے گا تو ہی بتائے گا۔۔کیونکہ یہ لوگ تو ہمیں یہاں روک رہے ہیں مگر ہمارا یہاں رکنا اچھا نہیں ہے۔۔۔ فہاج کا فیصلہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ مگر عنبر نے ہر بات میں مداخلت کرکے اچھا نہیں کیا۔۔۔”
“ہممم بی جان فہاج بھائی یہاں روحان کی شادی کیوں نہیں ہونے دے رہے۔۔؟؟ اب تو سب ہی نوٹ کرنے لگے ہیں فہاج بھائی کی بےرخی۔۔۔”
“بیٹا کچھ باتیں پردے میں رہیں تو ہی اچھی لگتی ہیں۔۔ یقین جانو میں جتنی پریشان ہوں اس وقت کوئی نہیں جانتا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈاکٹر انوشہ آپ سے ملنے آپ کی نانی آئی ہیں اور کوئی بی جان۔۔۔”
“ہمیں اندر جانے دو گی تو تمہیں اس ہٹلر سے ڈانٹ کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔۔۔”
نانی اور بی جان ہاتھ پکڑے انوشہ کے کیبن میں داخل ہوگئی تھی اور نرس وہاں سے گھبراتے ہوئے چلی گئی تھی۔۔
“آپ دونوں یہاں۔۔۔؟؟”
وہ جو فائل سٹڈی کررہی تھی ڈیسک پر رکھ کر اس نے ان دونوں کا ہاتھ پکڑ کر سیٹ پربٹھایا تھا۔۔
“انوشہ بیٹا۔۔۔ گھر میں تمہاری بیٹی کی شادی کی تیاریاں ہورہی ہیں۔۔۔ شاید تمہیں پتہ نہ ہو کل مہندی ہے۔۔۔”
انوشہ نے گہرا سانس بھرا تھا اور سامنے کرسی ان دونوں کے پاس کرکے وہ بھی وہاں بیٹھ گئی تھی
ان دونوں کی جو باتیں شروع ہوئی تو وہ اتنی توجہ حاصل نہ کرپائی تھی سوائے ابیہا کے نام کے علاوہ۔۔۔
وہ خود بھی سٹریس میں تھی مگر جو فہاج کے ساتھ ہوا وہ وہاں اس شخص کو بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔۔۔
پھر اسکے ڈیڈ کی دھمکی۔۔۔ ایک ساتھ مشکلات کے پہاڑ اسکے سر پر آگرے تھے۔۔۔
“بیٹا اس عمر میں نکاح۔۔۔ ہم برداشت نہیں کرپارہے تو معاشرہ کیسے کرے گا۔۔؟؟”
نانی کی بات نے انوشہ کی سانس ساکن کردی تھی اسے لگا تھا کہ نانی اسے سمجھیں گی اس کا ساتھ دیں گی۔۔۔
“نانی۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔ اگر تم طلاق کے بعد شادی کا سوچتی تو میں کرواتی شادی مگر اب نہیں انوشہ۔۔۔ لوگوں کو پتہ چلے گا تو مذاق اڑائیں گے۔۔۔ تماشہ بنائیں گے۔۔۔ فہاج تو ٹھہرا باہر کا مگر تم تو جانتی ہو نہ ہم کہاں رہتے ہیں۔۔؟؟ ہمارے یہاں اس عمر میں شادی نہیں ہوتی خاص کر ہمارے خاندان میں۔۔۔”
“انوشہ بیٹی۔۔۔ میں فہاج کو جانتی ہوں وہ۔۔۔ وہ اس رشتے کو لیکر جنونی تھا مگر سنجیدہ نہیں ہوسکتا وہ۔۔۔ میں اسے جانتی ہوں۔۔۔ اگر اتنا سنجیدہ ہوتا تو اسکی پہلی شادی خراب ہوتی۔۔۔ اسکے پیچھے تم اپنا نام اپنے خاندان کا نام خراب مت کرو۔۔۔”
بی جان نے اتنی کڑوی باتیں کرتے ہوئے انوشہ کو غمزدہ کردیا تھا اور کیبن سے باہر کھڑے اس شخص کے ہاتھوں سے پھولوں کا گلدستہ گرچکا تھا۔۔۔
“بی جان۔۔۔ آ پ بھی۔۔۔۔ وہ تو آگے ہی مجھ سے نجات چاہتی ہے۔۔۔”
فہاج صاحب مایوس لوٹ گئے تھے وہاں سے۔۔۔
۔
“آپ دونوں چاہتی کیا ہیں اب۔۔؟؟” انوشہ فہاج کی اور انسلٹ برداشت نہیں کرپائی تھی
“بیٹا ابیہا انتظار کررہی ہے تمہارااسکو اسکی ماں کی ضرورت ہے۔۔۔ تم نے ساری زندگی دہ دی اسے اور اب ایسے کرو گی۔۔؟؟ کیا ہوگا ہمارا ہماری عزت کا مبشر کا۔۔؟؟
کم سے کم ایک بار گھر چلو۔۔۔ روحان اچھا لڑکا ہے۔۔۔ انوشہ اپنی خود غرضی میں ہم سب کی زندگیاں برباد مت کرو۔۔۔”
“وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں انوشہ۔۔۔ اس عمر کی شادی کا کوئی وجود نہیں اور بچوں کی شادی کے بعد اگر پتہ چلا تو کیا ہوگا۔۔؟؟ ہمارے گھر کے لوگ ہی لوگوں کو جواب دیتے دیتے تھک جائیں گے۔۔۔
خدا کے لیے۔۔۔ تم دونوں علیحدہ ہوجاؤ ایک دوسرے سے۔۔۔”
وہ دونوں اٹھ کر دروازے تک پہنچی تھی جب انوشہ نے ان سے ایک ہی سوال تھا
“علیحدہ ہونے سے مراد۔۔۔؟؟”
“طلاق لے لو بیٹا۔۔۔۔ہم سب پر احسان ہوگا تم دونوں کا۔۔۔”
اور وہ دونوں وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“احلام بھائی۔۔۔ بس شادی جلدی سے جلدی کروائیں ۔۔
میری بھی ضد ہے فہاج کی آنا ٹوٹنی چاہیے۔۔۔”
“بس فکر نہ کریں مبشر صاحب کے گھر کے ساتھ والے مینشن میں میں نے سب ارینجمنٹ کردیا ہے آپ سب لوگ وہاں شفٹ ہوجائیں۔۔۔ بس نکاح ہوجائے تو دیکھوں گا۔۔۔
انوشہ کے گھر والوں کو میں جانتا ہوں نکاح ہونے کے بعد وہ خود بھی پیچھے ہوجائے گی۔۔۔”
۔
یہاں وہ دونوں پلاننگ کررہے تھے وہاں فہاج صاحب انوشہ کے اپارٹمنٹ سے جانے کی تیاریاں۔۔۔
۔
اور انوشہ فائننلی نکاح ہونے سے کچھ دیر پہلے اپنی بیٹی سے ملنے آگئی تھی۔۔۔ وہ پشیمان تھی جلدی نہ آنے پر مگر وہ شرمندہ نہیں تھی اپنے اور فہاج کے رشتے پر۔۔
بی جان کی فہاج کو لیکر خیالات نے اس جذبے کو جگا دیا تھا جو فہاج کی بےپناہ محبت بھی نہ جگا پائی تھی اب تک مگر بی جان کی مخالفت اور وہ نفی باتوں نے فہاج کے لیے وہ نرم گوشہ روشن کردیا تھا انوشہ کے دل میں۔۔۔
۔
“موم۔۔۔؟؟ تھنک گاڈ آپ آگئی۔۔۔یہ سب عجیب عجیب باتیں کررہے تھے۔۔۔آپ”
“ارے ایک ساتھاتنے سوال جواب۔۔۔؟؟ پہلے مجھے اپنی دلہن کو جی بھر کر دیکھنے تو دو۔۔”
ابیہا کو اٹھا کر جیسے اپنے گلے سے لگایا تھا باقی سب کزنز اور میک اپ آرٹسٹ وہاں سے چلی گئی تھی ان دونوں کو پرائیوسی دے کر۔۔۔
“موم۔۔۔۔”
“آج کے دن سب مائیں اپنی شادی کا جوڑا کوئی سرخ دوپٹہ اپنی بیٹی کو نشانی کے طور پر دیتی ہیں پر بیٹا۔۔۔ میری شادی کا جوڑا میرے لیے کبھی خوش نصیب ثابت نہیں ہوا تو میں تمہیں وہ کیسے دے سکتی ہوں۔۔۔؟؟”
کہتے ہوئے سر جھکا لیا تھا انوشہ نے اتنے سال کے بعد انکی آنکھوں میں آنسو آئے تھے اپنی بیٹی کے سامنے۔۔۔
“موم آپ مجھے ڈرا رہی ہیں۔۔۔”
ابیہا ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بیڈ پر بٹھا چکی تھی۔۔۔۔
“ابیہا۔۔۔تم بہت پیاری لگ رہی ہو اس دلہن کے جوڑے میں کہ میں جی بھر کر تمہیں دیکھ نہیں سکتی کہ میری نظر نہ لگ جائے۔۔۔”
ابیہا کے ماتھے پر بوسہ دے کر اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا انہوں نے۔۔۔
“موم۔۔۔”
ابیہا خود پریشان ہوگئی تھی ابھی تک اسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنی موم کے بغیر شادی کرلے گی اور بعد میں روحان کے ساتھ انکے سامنے جائے گی تو اسکی موم ناراض نہیں ہوں گی۔۔۔
ابھی تک گھر میں بھی کسی کو کوئی فکر نہیں تھی انوشہ کے شادی میں آنے یا نہ آنے کی۔۔۔
سب ہی چاہتے تھے شادی ہوجائے۔۔۔مگر اب اپنی موم کو اتنا خوش اتنا افسردہ اور اداس ایک ساتھ دیکھ کر وہ بھی گھبرا گئی تھی۔۔۔
“ابیہا ابھی جو میں کہنے والی ہوں شاید دنیا کی کوئی ماں نہ کہہ سکے۔۔۔مگر میں پہلی بار ہمت کررہی ہوں کچھ کرنے کی۔۔۔ اپنے لیے بیٹا۔۔۔”
“اووہ۔۔۔ آپ کھل کر بتائیں موم۔۔۔”
دونوں ماں بیٹی نے ایک دوسرے کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ لیا تھا کیونکہ وہ دونوں ہی جانتی تھی کہ اب جو ہونے والا ہے
“ابیہا۔۔۔۔”
“موم پلیز کچھ ایسا مت کہیے گا کہ آپ میری نظروں سے گر جائیں۔۔۔
کچھ ایسا مت کہیے گا کہ دنیا کی لوگوں کی باتیں سچ ثابت ہوجائیں۔۔۔”
ابیہا کی اس جملے نے اس ماں کا دل چیڑ دیا تھا جس نے اپنی ساری زندگی اس لیے بھی برباد کردی کہ لوگ کیا کہیں گے میری بیٹی کا کیا ہوگا۔۔۔؟؟
مگر اب نہیں تو کبھی نہیں۔۔۔ وہ طہ کرچکی تھی۔۔۔
انوشہ فہاج۔۔۔۔۔ مسز فہاج۔۔۔
پلکوں پر آنسو تھے اور اسکے لب مسکرا دئیے تھے کچھ دیر پہلے ہوئی بحث پر فہاج کے نام پر۔۔۔
ان کپڑوں پر اس لڑائی پر۔۔۔
“موم۔۔۔۔”
انوشہ نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔۔
“تم جانتی ہو تمہارے ڈیڈ کے دھوکے کے بعد بس ہم دونوں تھے ایک دوسرے کے۔۔۔
ہر خوشی ہر غمی میں ابیہا۔۔۔اس وقت شاید تم ہوتی تو میں مرگئی ہوتی۔۔۔
شوہر کی بےوفائی کوئی چھوٹا غم نہیں ہوتا ابیہا۔۔۔ طلاق لینے کے بعد بھی میں سکون نہیں لے پائی۔۔۔ لوگ کہتے تھے برداشت کرلو گھر والے کہتے تھے صبر کرلو۔۔۔
مگر وہ جو میرے اندر کی بیوی تھی وہ مرگئی تھی۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی تھی اس شخص کے ساتھ جس نے مجھے توڑ دیا کھوکھلا کردیا۔۔۔”
بیٹی کے ہاتھوں کو ہونٹوں تک لے جا کر انہوں نے بوسہ دیا تھا وہ خود تو آبدیدہ تھی مگر بیٹی بھی اشکبار تھی انکی۔۔۔
“موم۔۔۔”
“ابیہا۔۔۔ یہ کوئی عمر نہیں ہے خوش رہنے کی اپنی مرضی کرنے کی۔۔۔
پر میرے لیے کبھی بھی کوئی عمر ایسی نہیں جب میں نے اپنی مرضی کی ہو۔۔ ایک بار کی تھی دھوکا مل گیا۔۔
آج میں تم سے سچ بولنے آئی ہو۔۔۔ میرا کسی کے ساتھ کوئی آفئیر نہیں چلا رہا۔۔۔ کوئی چکر نہیں کوئی یارانہ نہیں۔۔۔ اپنا کردار ایسا نہیں رکھا جیسے معاشرہ طلاق یافتہ عورت کو بتاتا ہے۔۔۔”
ابیہانے جیسے سکون کا سانس بھرا تھا پر کچھ پل کے لیے انوشہ کی اگلی بات نے اسے شاکڈ کردیا تھا
“میں نے نکاح کیا ہے فہاج سے رائٹفلی۔۔۔ شادی کی ہے۔۔۔”
ابیہا نے آدھی بات سن کر اپنے ہاتھ پیچھے کرلئیے تھے
“آپ نے تو سچ میں لوگوں کو سچا ثابت کردیا۔۔۔”
“آج مجھے لوگوں کی پرواہ نہیں ہے ابیہا۔۔۔ سچ پوچھو تو آج مجھے میری بیٹی کی بھی پرواہ نہیں ہے۔۔۔
آج گھر کی سجاوٹ بنا سنگھار۔۔۔ تمہارا اس طرح مکمل تیار ہونا۔۔۔ مجھے ایک بات تو باور کروا گیا کہ میرا ہونا نہ ہونا ایک جیسا ہے۔۔۔۔
ابیہا مگر اس شخص کا میری زندگی سے چلے جانا مجھے مار دے گا۔۔۔
آج میں اس عمر میں “لوگ کیا کہیں گے” معاشرہ کیا کہے گا خاندان کیا کہے گا یہ سب چھوڑ کر اپنے بارے میں سوچ رہی ہوں۔۔۔
ابیہا میں نے اگر اس شخص کو جانے دیا تو میں خود بھی ویسی نہیں رہوں گی۔۔۔
مجھے اس سے محبت نہیں ہوئی۔۔۔ مجھے اس شخص کی محبت سے عقیدت ہوگئی ہے۔۔۔
وہ جس نے سب چھوڑ کر میرا ہاتھ تھاما۔۔۔ وہ بھی معاشرے سے رشتے داروں سے۔۔۔
اپنوں سے غیروں سے ڈر کر ساری زندگی گنوا بیٹھا جیسے میں۔۔۔”
ابیہا کو کندھے سے پکڑ کر واپس اسکا منہ اپنی طرف کیا تھا بہت پیار سے۔۔۔
“میں خود غرض سہی مطلبی سہی۔۔۔ مگر میں تمہاری خوشیوں کے راستے میں نہیں آؤں گی۔۔۔ ہاسپٹل تو چھین چکے ہیں ڈیڈ۔۔۔ اب یہاں کیا کروں گی رہ کر۔۔؟؟ میں فہاج کے ساتھ جارہی ہوں۔۔۔ میں دعا کروں گی تم روحان کے ساتھ خوش رہو۔۔۔
میں اور فہاج ہم دونوں آپ سب سے دور چلیں جائیں گے۔۔۔”
بیٹی کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
“ابیہا۔۔۔ مولوی صاحب آگئے ہیں چلو بیٹا۔۔۔”
رامین فیملی کی اور خواتین کے ساتھ اندر آئی تھی۔۔۔
ابیہا بنا انوشہ کی طرف دیکھے باہر چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈیڈ۔۔۔۔ روحان۔۔۔”
“پلیز ڈیڈ۔۔۔ آج کے دن کچھ نہیں۔۔۔ ہاتھ جوڑتا ہوں پاؤں پکڑتا ہوں۔۔۔ سب ٹھیک جا رہا ہے۔۔۔”
“ڈونٹ ورری میں کوئی مسئلہ ڈالنے نہیں آیا۔۔۔ خوش رہو۔۔۔ویسے بھی میری ضرورت کسی کی نہیں۔۔۔”
وہ جانے لگے تھے جب روحان نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔ باپ کے دل میں ایک امید جاگی تھی جو روحان کی اگلی بات نے ختم کردی تھی۔۔۔۔
“تھنک یو سووو مچ واپس چل کر ہم بیٹھ کر بات کریں گے ڈیڈ۔۔۔ڈونٹ ورری۔۔۔”
فہاج کے گلے لگتے ہی روحان نے کہا تھا اور پھر شیشے کے آگے چلا گیا تھا۔۔۔
“وہاں اسے میری ضرورت نہیں اور یہاں میرے بچوں کو۔۔۔ میں اپنی اسی زندگی میں ایک ربوٹ کی طرح کام کرتا سہی ہوں۔۔۔”
وہ بچتے بچاتے جیسے ہی مہمانوں کے رش سے باہر نکلے تھے تو ٹیکسی پہلے ہی انکا انتظار کررہی تھی۔۔۔
۔
اور انکی گاڑی جیسے ہی ائر پورٹ کے باہر رکی تھی۔۔۔۔ کچھ دوری پر کھڑی ہوئی اس کار سے وہ بھی باہر نکلی تھی جو انتظار کررہی تھی پروفیسر فہاج کا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پروفیسر فہاج۔۔۔۔”
“ڈیم اِٹ اگر تم وہی ڈریس پہن کر یہاں تک آئی ہو نہ تو بنا دیکھے چھوڑ جاؤں گا۔۔۔”
“جا تو ویسے بھی رہے ہیں پروفیسر صاحب دیکھنے میں کیا حرج ہے۔۔۔؟؟”
وہ اور پاس ہورہی تھی
“انوشہ میں ۔۔۔۔”
فہاج صاحب جیسے ہی ٹرن ہوئے تھے انوشہ کو پہلے سے زیادہ کور سوٹ پر اپنا کوٹ پہنے دیکھ انکا غصہ ہوا میں اڑ گیا تھا
“جی۔۔۔؟؟ کہاں کی تیاری تھی۔۔۔؟؟”
کچھ اور قدم بڑھائے تھے انوشہ نے۔۔۔
“واپسی کی۔۔۔ یہاں کسی کو میری ضرورت نہیں ہے سو۔۔۔ سوچا کیوں نہ اسی زندگی میں چلا جاؤں اس خواب کی دنیا سے۔۔۔”
“مجھے چھوڑ کر۔۔؟؟ اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر۔۔۔؟؟
انوشہ کے ہاتھ کو اب ٹھیک سے دیکھا تھا جس سے انہوں نے سوٹ کیس کا ہینڈل پکڑا ہوا تھا۔۔۔
“انوشہ۔۔۔میں تمہیں تمہاری بیٹی۔۔۔ تمہارے ہاسپٹل تمہارے اپنوں سے دور نہیں کرنا چاہتا۔۔۔”
“اتنے بہانے نہ لگائیں صاف صاف کہیں کہ بس دل بھر گیا۔۔۔؟؟”
انوشہ کا لہجہ غم سے بھر گیا تھا اور فہاج کی آنکھیں۔۔۔
“اگر دنیا خوشیاں سانسیں سب گنوا کر بھی تم ملو تو میں تمہیں چُنوں گا۔۔۔ انوشہ۔۔۔”
“اور میں۔۔۔ نے آپ کو چُن لیا ہے سب کو چھوڑ کر۔۔۔ ہمارے رشتے کو چن لیا ہے فہاج۔۔۔”
وہ ہاتھ بڑھائے جیسے ہی آگے بڑھی تھی۔۔۔تو پیچھے سے آتی تیز رفتار گاڑی کی ٹکر نے انوشہ کے وجود کو دوسری طرف پھینک دیا تھا۔۔۔
فہاج کا بڑھا ہوا ہاتھا ہوا میں خالی رہ گیا تھا جیسے انوشہ کے وجود کو خون سے لت پت دیکھ انکی روح جسم سے چلی گئی ہو۔۔۔۔
۔
۔
“میری بیوی کو مجھ سے دور کیا تھا۔۔۔”
وہ جو شخص شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے پیچھے دیکھ رہا تھا اسکی گاڑی بھی آگے ٹرک کے ساتھ ٹکرا کر چکنا چور ہوگئی تھی۔۔۔
