Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 08
No Download Link
Rate this Novel
Episode 08
“مجھے پتہ تھا یہیں ملو گی۔۔۔”
لان میں اکیلی بیٹھی انوشہ کو دیکھ کر نیہا اور ایکسائیٹڈ ہوگئی تھی ہاتھ میں رکھا نوٹ پیڈ اور پین ٹیبل پر رکھ دیا تھا اس نے
“گڈ مارننگ دولہے کی ماما۔۔۔کیسی تیاریاں چل رہی۔۔؟؟”
“بس یہ گیسٹ لسٹ تیار کررہی۔۔۔ آج رات کی فلائٹ ہے امی اور نانی آجائیں گی اور۔۔۔
ڈیڈ بھی آجائیں گے۔۔۔”
نیہا نے ہلکہ سے سرگوشی کی تھی انوشہ کا ری ایکشن دیکھنا چاہا تھا جو اپنی چائے کا سیپ بھر کر واپس مگ ٹیبل پر رکھا تھا
“ہمم۔۔۔”
انوشہ نے ہمیشہ کی طرح کوئی خاص رسپانس نہیں دیا تھا ڈیڈ لفظ سن کر بھی
“ایک اور بات پوچھنی تھی کیا تم کل شاپنگ سے آنے کے بعد بھی باہر گئی تھی۔۔؟؟
فرہاد کی گاڑی بھی نہیں تھی ۔۔؟؟ کیا تم کہیں گئی تھی انوشہ۔۔؟؟”
انوشہ کے چہرے کے رنگ آ جا رہے تھے بہن کے سوال پر۔۔۔
“آہم۔۔ نہیں۔۔۔ میں اپنے روم میں ہی تھی۔۔۔”
“آر یو شئیو۔۔۔؟؟”
“ہمم دراصل میں کل۔۔۔”
“ہیلو بیوٹیفل لیڈیز۔۔۔۔ نیہا ایک منٹ اٹھنا پلیز کچھ کہنا ہے۔۔۔”
صہیب صاحب نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا انہیں۔۔۔نیہا کا موڈ ابھی بھی آف تھا مگر انوشہ کے سامنے وہ کوئی بھی بد مزگی پیدا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
وہ جیسے ہی اٹھی تو صہیب صاحب جلدی سے انکی کرسی پر بیٹھ گئے تھے انوشہ کے ساتھ۔۔۔
“وٹ دا صہیب۔۔۔ میں بات کررہی تھی انوشہ سے۔۔۔”
“سووو۔۔۔؟؟ اب میں بات کرنے والا ہوں اپنی فیورٹ سالی صاحبہ سے۔۔۔”
“فیورٹ۔۔۔؟؟ میں اکلوتی ہی ہوں صہیب بھائی۔۔۔”
انوشہ کے چہرے پر ہنسی نے تسلی بخشی تھی نیہا اور صہیب کو۔۔۔
“پہلے میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ تم واپس آئی۔۔۔”
“اب میرے بھائی نے اتنے مان سے کہا تھا میں انکار نہیں کرپائی۔۔۔”
“میں شکر گزار ہوں کہ تم نے مان رکھا انوشہ۔۔۔”
صہیب صاحب نے انوشہ کے سر پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا نیہا نے حیرانگی سے دیکھا تھا اپنے ہسبنڈ کو۔۔۔
“میں جانتا ہوں مجھے ایسے انوائیٹ نہیں کرنا چاہیے تھا انوشہ۔۔۔ مگر وہ میری کزن سسٹر ہے۔۔۔
فرہاد کی پھوپھو۔۔ یہاں سب موجود تھے اگر ان کو نہ بُلاتا تو گھر کے بڑے ناراض ہوجاتے۔۔۔”
“تو مجھے بتا دیتے تاکہ میں اپنی بہن اور فیملی کا الگ انتظام کردیتی۔۔۔”
“پلیز نیہا۔۔۔۔”
انوشہ کو اب احساس ہوا تھا ان دونوں کی لڑائی کا۔۔۔ ان دونوں کو کبھی لڑتے نہیں دیکھا تھا انوشہ نے۔۔۔ آج ایسے دیکھ کر وہ خود کو قصوروار ٹھہرا رہی تھی
“آپ دونوں میری وجہ سے لڑیں ہیں۔۔؟؟ کم آن نیہا میں ناراض نہیں ہوں۔۔
صہیب بھائی۔۔۔ اٹس اوکے۔۔۔ میں سمجھ سکتی ہوں مجھے کوئی ایشو نہیں۔۔ بس وہ شخص دوبارہ میرے پاس نظر نہ آئے مجھے۔۔۔”
“میں نے اسے سمجھا دیا تھا انوشہ۔۔۔احلام۔۔۔”
ابھی وہ بات کرہی رہے تھے کہ رامین احلام کا ہاتھ پکڑے اسے بھی لان میں لے آئی تھی۔۔
وہ دونوں بھی سامنے بیٹھ گئے تھے گڈ مارننگ وش کرنے کے بعد۔۔۔
۔
احلام صاحب کی نظریں وہاں اس ایک چہرے کا تعاقب کررہی تھی جو اپنی نگاہیں جھکا چُکا تھا۔۔۔
۔
انوشہ نے جیسے ہی احلام کی نظریں خود پر دیکھی اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا ان آنکھوں میں۔۔۔
اب کے محبت چاہت عزت کچھ نہیں تھا انوشہ کی آنکھوں میں سامنے کھڑے شخص کے لیے۔۔۔
۔
۔
“اسے کہنا مر گئی وہ۔۔۔
وہ جو روز تم پہ مرتی تھی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
ان دونوں کو دیکھتے ہی انوشہ نے نیہا اور صہیب صاحب کو بات ختم کرنے کا کہہ دیا تھا
اور خود نیوز پیپر سامنے رکھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“ہائے انوشہ کیسی ہو۔۔۔؟؟ نہ سلام نہ دعا ابھی تک ماضی کی غلام بنی بیٹھی ہو۔۔؟؟
کم آن موو آن کرجاؤ۔۔۔”
رامین کی بات سن کر سب سے پہلے نیہا نے رہ ایکٹ کیا تھا اپنی کرسی سے اٹھ کر
“کیسا ماضی۔۔۔؟؟ کسی طرح کی غلامی اور کیسا موو آن۔۔؟؟”
انوشہ رامین کے سامنے تھی
“تم جانتی ہو کیسا ماضی۔۔۔اب تو ہم رشتے دار بھی ہیں تم کم سے کم احلام کو وہ عزت۔۔”
“ایک منٹ۔۔۔ ماضی میں رہنے والے لوگوں میں سے نہیں ہوں میں۔۔۔
اور یہ شخص میری نفرت کے قابل نہیں ہے تو عزت دور کی بات ہے۔۔۔
جس دن میں موو آن کرگئی یہ تمہارا شوہر رینگتے ہوئے میرے پاس آئے گا۔۔۔
کیونکہ یہ یہی تو چاہتا ہے آج میں شادی کروں اور ان کے راستے آسان بنا دوں مجھے حاصل کرنے کے۔۔۔مگر اس زندگی میں میں نے ایک غلطی کرنی تھی اس سے شادی کی سوو کردی۔۔۔۔”
وہ جاتے جاتے رکی تھی رامین کے شاکڈ چہرے کو دیکھ کر۔۔۔
“ماضی میں بھلا چکی ہوں۔۔۔ پر تمہارا شوہر نامدار نہیں بھلا پایا اس لیے راتوں کی تنہائی میں یہ وہ راستوں پر چل پڑتا ہے جو مجھ تک آتے ہیں۔۔۔
تم شکر کرو کہ مجھے ماضی یاد نہیں رہا۔۔۔ورنہ جس دن میرے
دل و دماغ پر ماضی حاوی ہوا تو تو میں بھی وہی کرو گی جو تم نے ماضی میں کیا۔۔۔
میں نے سنا ہوا ہے کہ دھوکے کو اپنا اصل مالک اور اصل جگہ بہت پسند ہوتی ہے وہ گھوم پھر کر واپس وہیں آجاتا ہے جہاں سے نکلا ہو۔۔۔”
۔
اتنے سالوں کے بعد انوشہ کی یہ سائیڈ ان لوگوں نے دیکھی تھی۔۔۔
احلام صاحب کا غصہ ایک غرور میں بدل گیا تھا انوشہ کا غرور اور اسکا حسن دیکھ کر وہ جس طرح اندر گئی تھی۔۔
۔
“احلام یہ کیا بکواس کرکے گئی ہے۔۔؟؟”
“اننف رامین۔۔۔ وہ میری سالی ہی نہیں بہن بھی ہے۔۔۔ اسکی عزت کرنا سیکھ لو اگر یہاں میرے بیٹے کی شادی پر رہنا ہےتو۔۔۔ ورنہ میں آپ لوگوں کے لیے ہوٹل بُک کردیتا ہوں۔۔۔”
۔
وہ جیسے ہی گئے تھے نیہا بھی اپنانوٹ پیڈ لے گئی تھی وہاں سے۔۔۔
اور ایک نظر احلام کو دیکھنے کے
۔
۔
جب سے ڈسا ہے سہاروں نے
لاٹھی سانپ نما اب دکھتی ہے۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کل تک جس کے سپنے دیکھے۔۔۔آج وہ میرے ساتھ ہے۔۔۔
مجھ کو اب یہ ہوش نہیں ہے۔۔۔ یہ دن ہے یا رات ہے۔۔۔”
روحان نے گیٹار کو واپس ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔ پورے کیفے میں کلیپنگ کی آوازیں گونج رہی تھی سب گرلز روحان کی طرف دیکھ رہی تھی اور روحان کی نظریں صرف ایک خوبصورت حسینہ پہ تھی
“روحان۔۔۔ ایک اور لائن ہوجائے۔۔۔۔ “
۔
“عاشق تیرا دل ہے میرا۔۔۔کرتا ہے یہ عاشقی۔۔۔
تو ہے چنچل شوق حسینہ۔۔۔تو ہے میری زندگی۔۔۔”
۔
“اور یہ اس لڑکی کے لیے جس نے قید کرلیا ہے میرے دل کو اپنے دل میں اور غلام بنا دیا ہے اس بندہ ناچیز کو۔۔۔۔سو۔۔۔۔ مس ابیہا۔۔۔؟؟”
وہ ابیہا کے سامنے اپنی نیز پہ بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
۔
“تیرے پیار میں جانم۔۔۔۔
میرا ہر دن ہر پل گلزار ہوگیا۔۔۔”
۔
“واااوووووو روحان۔۔۔۔۔۔۔”
“ول یو میری مئ مس ابیہا۔۔۔؟؟”
“بیوٹیفل۔۔۔۔”
ابیہا کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئی تھی جب اس نے ‘ہاں’ میں سر ہلایا تھا۔۔۔
“یس یو ایڈیٹ۔۔۔ تین سال لگ گئے تمہیں پرپوز کرنے میں۔۔۔”
ابیہا نے گلاب کا پھول پکڑ کر روحان کو کھڑا کرلیا تھا اپنے ساتھ۔۔
کلاس کے فرینڈز سرکل نے خوب چئیر کیا تھا ان دونوں کو۔۔۔
وہ لوگ کامیاب ہوگئے تھے ان دونوں کو ایک دوسرے کو پرپوز کرنے میں۔۔۔
۔
“آئی لوووو یو روحان۔۔۔۔”
گردن میں بانہیں ڈالے ابیہا نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرگوشی کی تھی
“آئی لوو وو ٹو۔۔۔ بس ڈیڈ سے بات کرلوں پھر ہم دونوں آفیشل۔۔۔”
آنکھ مارتے ہوئے روحان نے مستقبل کی پلاننگ بتانا شروع کی تو ابیہا سر جھکا چکی تھی اپنا۔۔۔
“بس میری موم کو یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ ہم پہلے سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
انہیں یہی پتہ چلنا چاہیے کہ اس شادی میں تمہارے گھر والوں کو میں پسند آگئی ڈیٹس اٹ۔۔۔”
“پر کیوں۔۔۔؟؟ محبت کا کہیں گے تو یہ پرپوزل سٹرونگ ہوگا۔۔۔”
“نہیں محبت کی شادی وہ کبھی نہیں ہونے دیں گی روحان۔۔۔ بس جو میں کہہ رہی ہوں ویسا کرنا ہے۔۔۔”
تمام دوست بھی ابیہا کی بات سن کر ٹینس ہوگئے تھے جیسے روحان ہوا تھا اس لمحے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہاب۔۔۔”
فہاج صاحب بھی لیونگ روم میں جا کر بیٹھ گئے تھے اپنے دوست کے پاس
“جب صبح بُلا رہا تھا تب تو کوئی بات سنی نہیں اب وہاب وہاب مت کرو۔۔۔
روحیل جلدی سے بی جان کو بُلا لاؤ انہیں لیکر جانا ہے میں نے کسی کی طرف۔۔”
روحیل جیسے ہی وہاں سے باہر گیا تھا فہاج نے وہاب کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“دیکھ میرے بھائی تو نے منہ بنانا ہے تو بعد میں بنا لینا۔۔۔مگر ابھی میری بات سن لے۔۔
میں نے ایک گڑ بڑ کردی ہے۔۔۔”
“ہاہاہا سیریسلی۔۔؟؟ پروفیسر فہاج مسٹر پرفیکٹ۔۔؟؟ غلطی ہوئی ہے تو بھگتو۔۔”
وہ اپنا موبائل اٹھائے جانے کو تھے جب فہاج کی اگلی بات سن کر انکے قدم رک گئے
“میں نے کل فرہاد کی خالہ ساس کو آج اپنے ساتھ شاپنگ کی دعوت دی تھی۔۔۔”
“تو۔۔۔؟؟؟”
“تو۔۔۔کیا آج جانا تھا میں نے ساتھ۔۔۔”
“آگے بکو کیا ہوا۔۔۔؟؟”
دوست شاکڈ بھی تھا اور دلچسپی سے سن بھی رہا تھا
“تو کیا میں نے نمبر تو لیا ہی نہیں۔۔۔ صبح سے دوپہر ہونےکو آگئی اب کس سے مانگو نمبر۔۔؟؟ کس سے لوں۔۔۔؟؟”
اور اگلے ہی لمحے وہاب صاحب کمرے سے باہر بھاگ گئے۔۔
“مجھے پتہ تھا یہ ایسے ہی ری ایکٹ کرے گا اس لیے کسی کو نہیں بتا رہا تھا۔۔
کیا میں نے غلطی تو نہیں کردی انوشہ کو شاپنگ کا کہہ کر۔۔؟؟”
وہ ابھی سوچ میں ہی تھے کہ وہاب صاحب ایک دوسرا موبائل بھی لے آئے تھے۔۔
“نازنین کا موبائل چھین کر لایا ہوں۔۔۔ چل جلدی سے نمبر ڈھونڈ۔۔۔”
“واہ میرے شیر یہ آئیڈیا تو میرے ذہن میں آیا نہیں۔۔۔”
وہ دونوں ساتھ ساتھ بیٹھ چکے تھے
“تو بیٹا جتنا مرضی آگے چلا جا تیرا استاد میں ہی رہوں گا۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ موبائل دہ دو شاباش۔۔۔”
کچھ منٹ موبائل میں نمبر تلاش کرنے کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا اور مایوسی سے نظریں جھکا لی تھی
“چل اب جا اور بی جان کا موبائل چوری کر لا۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ میں نہیں جاؤں گا۔۔۔”
فہاج نے فورا ہی نہ میں جواب دیا تھا
“نہیں تو نہ سہی وہاں وہ ڈاکٹر تیار شیار ہوکر انتظار کررہی ہوگی پہلی ڈیٹ پر یہ امپریشن دینا چاہتے ہو۔۔؟؟”
“کوئی ڈیٹ شیٹ نہیں ہے یہ کیجویل سی شاپنگ ہے۔۔”
وہ نظریں چرا گئے تھے جب وہاب نے مسکراتے ہوئے فہاج کے دونوں گالوں کو پکڑا تھا۔۔
“اوووہ بلش کررہے ہو۔۔؟؟ چل رک میں ابھی لایا۔۔۔تب تک یہ موبائل چھپا کر رکھنا”
وہ وہاب صاحب واپس بھاگ گئے تھے بی جان کی روم کی طرف۔۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا یہ بھی بچہ بن جاتا ہے۔۔۔ ڈیٹ میری۔۔۔ ڈیٹ نہیں۔۔۔شاپنگ۔۔۔”
فہاج کہتے کہتے چپ ہوئے تھے عین اسی وقت وہاب صاحب واپس آگئے تھے بی جان کا موبائل ہاتھ میں پکڑے۔۔۔
پھولے سانس کے ساتھ
“ہاہاہا بی جان چھڑی لیکر میرے پیچھے آرہی ہیں جلدی سے نمبر سرچ کر۔۔۔”
بنا دیر کئیے فہاج نے موبائل چھین کر کنٹیکٹ دیکھنا شروع کردئیے تھے
“توبہ ہے اتنی آخر آئی ہوئی ہے یار تجھے تو۔۔؟؟ تو نے تو مجھے شاکڈ کردیا۔۔۔”
وہاب نے شاک نظروں سے دیکھا تھا فہاج جو جو ہنس دئیے تھے مگر موبائل پر سے نظر نہیں ہٹی تھی۔۔۔
۔
“نہیں ہے یار۔۔۔ دولہے کی خالہ کا نمبر نہیں ہے کرلی ترقی ہم لوگوں نے۔۔۔۔”
فہاج نے موبائل واپس پکڑا دیا تھا۔۔۔
“کہہ تو ایسے رہا ہے جیسے تو نے ڈیٹ کا پوچھنے سے پہلے سوچا تھا۔۔؟؟ کم سے کم نمبر لے لیتا۔۔۔
کر لی ترقی تم نے بھی بھائی۔۔۔”
“بس کر جا بھول جا ڈیٹ والی شاپنگ۔۔۔ رہنے دو۔۔۔”
فہاج منہ بنا کر جیسے ہی بیٹھ گئے تھے وہاب بھی سوچ میں پڑ گیا تھا اس وقت۔۔
“آئیڈیا۔۔۔؟؟ کیوں نہ بہن سے نمبر مانگے۔۔؟؟ بی جان بن کر آواز نکالتا ہوں رک جا۔۔۔”
وہاب صاحب نے نیہا کے نمبر پر کال ملانے کی کی جب فہاج انکے اوپر جھپکے تھے۔۔۔
“نہیں۔۔۔ وہاں کیا سوچیں گے۔۔۔ کتنے سوال ہوں گے بی جان کو پتہ لگا تو نازنین کو پتہ چل جانا۔۔۔۔
اور اپنی بہن کو جانتا ہوں میں پورے گھر میں دھنڈورا پیٹنا شروع کردینا۔۔۔”
وہ انکے اوپر لپکے تھے موبائل کھینچنے کے لیے جب لیونگ روم کا دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔
اور کچھ ٹوٹنے کی آواز پر ان دونوں نے دروازے کی طرف دیکھا تھا
“یا اللہ۔۔۔ مجھے تو اپنے روحیل پر شک ہورہا تھا۔۔۔۔بی جان۔۔۔”
قرطبہ چلائی تھی۔۔۔ اسکے ہاتھوں سے جوس کے گلاس والی ٹرے بھی نیچے گر گئی تھی
“کیا ہوا قرطبہ۔۔۔”
“بی جان یہ دیکھیں۔۔۔ بند دروازے کے پیچھے کیا ہو رہا تھا۔۔۔ روحیل اور یہ سب ایسے ہی ہیں۔۔؟؟”
قرطبہ منہ بنا کر جیسے ہی گئی تھی فہاج نے دھکا دہ دیا تھا وہاب صاحب کو پیچھے۔۔۔
“بی جان۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔”
فہاج جلدی سے بی جان کے پاس آئے اور موبائل ہاتھ میں تھما دیا تھا۔۔۔
“میں تو وہاب کو ڈانٹ رہا تھا اور موبائل لے رہا تھا آپ کا۔۔۔”
وہ کہتے ہی کمرے سے باہر چلے گئے
“کچھ شرم کر لو وہاب اپنی عمر دیکھی ہے اور کام دیکھے ہیں۔۔؟؟ میرے موبائل میں کس کی فوٹو ڈھونڈنے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔”
“بی جان۔۔۔۔”
وہ بچوں کی طرح منہ بنا چکے تھے بی جان کی ڈانٹ پر
“اب سے گھر کے کام دیکھو کبھی یہاں تو کبھی وہاں بیٹھ جاتے ہو۔۔۔ جاؤ باہر گھر کی سجاوٹ کی ذمہ داری تمہاری ہے۔۔۔ فہاج بیٹا اب سے تم اس سے سارے کام کروانا۔۔۔”
“جی بی جان۔۔۔”
دور سے بھی فہاج صاحب نے ہنستے ہوئے بی جان کو جواب دیا تھا جو اپنی چھڑی دیکھا رہی تھی وہاب کو۔۔۔
۔
“تمہیں تو میں دیکھ لوں گا فہاج۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“رات کے دو بج رہے تھے باہر رات کی چاندنی پورے جوبن پہ تھی جب انوشہ کے موبائل کی رنگ ٹون بجنا شروع ہوگئی تھی
بنا سکرین دیکھے جب اس نے موبائل فون اٹھا کر کان پر لگایا تو اسے پہلے کچھ سیکنڈ صرف سانسوں کی آواز سنائی دی تھی
۔
“میں نے کبھی ایک فون نمبر کے لیے اتنے جتن نہیں کئیے جتنے آج کرنے پڑ گئے۔۔۔۔”
ہلکی سرگوشی پر انوشہ نے موبائل سکرین پر نمبر دیکھا تو حیران ہوئی تھی
“میں نے پہچانا نہیں کون صاحب۔۔۔۔؟”
“آج شاپنگ کا وعدہ تھا۔۔۔۔”
فہاج۔۔۔۔”
انوشہ نے ہلکی آواز میں کہا تھا اور واپس لیٹ گئی تھی بیڈ پر۔۔۔
“اس وقت میرا نام مت لو پلیز۔۔۔۔۔”
ماتھے سے پسینہ صاف کئیے وہ کھڑکی کھول کر کھڑے ہوگئے تھے
“کیا ہوا فہاج آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟؟”
“ہمم اس طرح بار بار نام نہ لو میرا۔۔۔”
بلآخر فہاج نے وہ بات کہہ ہی دی تھی
انوشہ کے لبوں سے اس وقت وہ آواز انکے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں رہی تھی
آج سے پہلے اپنا نام انہیں شاید ہی اتنا خوبصورت لگا ہو کسی کے منہ سے سننا۔۔۔۔
“فہاج۔۔۔۔؟؟؟؟”
“ہم دونوں بھی کتنے عجیب ہیں۔۔۔ شاپنگ کا وعدہ ہوا بھی اور ایک دوسرے سے بات بھی نہ کرسکے نمبر لینا بھی یاد نہیں رہا آج۔۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ اور پھر یہ بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس سے مانگیں نمبر۔۔۔”
انوشہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔۔
“سوو کل کا ڈن کریں پھر۔۔۔؟؟ کل چل رہی ہیں نہ۔۔۔؟؟”
بہت ہیسی ٹیٹ ہوکر پوچھا تھا فہاج نے۔۔۔۔
“آپ مجھے لوکیشن اینڈ ٹائم بتا دیجیئے گا۔۔۔”
“اوکے۔۔۔۔”
“اوکے۔۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔۔”
“مجھے ابھی بہت نیند آرہی ہے صبح بات ہوگی۔۔۔۔”
“مگر مجھے۔۔۔۔”
“گڈ نائٹ فہاج۔۔۔۔۔”
آنکھوں میں ایک چمک اٹھی تھی انوشہ نے جب موبائل پر وہ نمبر سیو کیا تھا
“پروفیسر فہاج۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
دونوں مل جائیں تو تخلیق بنے گی شاہکار
عشق ہے فن میرا …. حسن ہے جاگیر تیری۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اگلی صبح۔۔۔۔”
۔
۔
“ہوا کیا ہے تاہین کچھ بتاؤ گی بھی۔۔۔؟؟؟ ایسے رونا بند کرو پلیز۔۔۔”
انوشہ پچھلے پندہ منٹ سے وہ نا
ممکن کام کرنے کی کوشش کر رہی تھی اپنی روتی ہوئی دوست کو چپ کروانے کا کام
“فار گاڈ سیک پلوشہ تم ہی بتا دو ہوا کیا ہے۔۔۔”
موبائل سپیکر پر کیا ہوا تھا پلوشہ نے جب سے اس نے انوشہ کو کال ملا کر تاہین کی حالت کا بتایا تھا وہ
پلوشہ اور انوشہ تو ہاسپٹل میں بھی ایک ساتھ ہوتے تھے مگر تاہین وہ اس فیلڈ میں نہیں تھی وہ فیشن ڈیزائنر تھی اور شادی کے بعد تو وہ اس شہر سے بھی موو کر گئی تھی اپنی دوست کے ساتھ اسکی بات بہت کم ہوتی تھی وہ تو جیسے بھول ہی گئی تھی ہر بار اسے کال کرتی تھی اسکی دوست۔۔۔۔
آج بھی پلوشہ کی کال آئی تھی اسے
“انوشہ میڈم سب ناشتہ کے لیے آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔”
انوشہ نے دروازے پر جیسے ہی ملازمہ کو دیکھا تو کان سے موبائل ہٹا دیا تھا۔۔۔
“انہیں کہیں میں صرف چائے ہی پیتی ہوں وہ روم میں بھجوا دیں”
“انوشہ۔۔۔۔ ہی چیٹس آن مئ۔۔۔۔اس نے دھوکا دیا مجھے۔۔۔ میری ہی کالیگ دوست کے ساتھ اسکا افیئر چلتا رہا اور میں انجان بنی رہی۔۔۔۔”
یہ سننے کی دیر تھی انوشہ کے سامنے اسکا وہ سارا ماضی گھوم گیا تھا
“ایک اور محرم رشتوں کا ڈسا ہوا رشتہ۔۔۔؟؟؟”
اور جواب میں اسے تاہین کی سسکیوں کی آوازیں سنائی دیں تھی۔۔۔
“انوشہ یہ پاگل سوسائیڈ کرنے جا رہی تھی۔۔۔ اسکے ہاتھ میں بلیڈ پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔اگر میں ٹائم پر نہ پہنچتی تو یہ اپنی جان لے لیتی۔۔۔”
“مرجانے دو مجھے۔۔۔ میں نے کتنا یقین کیا تھا اس شخص پر۔۔۔”
پلوشہ اور تاہین کی آوازیں اور ان دونوں کی آر گیومنٹ کی آواز جیسے ہی بند ہوئی تو ایک تھپڑ کی آواز اسے سنائی دی تھی۔۔۔۔
“پلوشہ تم اسکے پاس رہو میں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔۔”
انوشہ فون بند کرچکی تھی۔۔۔
“اب اور کون کون شکار ہوگا اس محبت میں دھوکے کا۔۔۔۔؟؟؟”
۔
“ایسے دھوکے جیتے جی مار دیتے ہیں۔۔۔ اور جو ایک بار دھوکا کھا لیں ان کو کوئی حق نہیں ہے کسی کو پھر سے موقع دینے کا۔۔۔”
انوشہ نے یہ لاسٹ میسج کردیا تھا اپنی دونوں دوستوں کو۔۔۔۔
۔
اور آنکھیں بند کرنے پر اسےایک شخص کا چہرہ نظر آیا تھا۔۔۔
جس کے میسج صبح سے آرہے تھے اسے۔۔۔۔
۔
پروفیسر فہاج۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پروفیسر صاحب۔۔۔کیا بات ہے اتنی جلدی کہاں جا رہے ہیں۔۔۔”
یونیورسٹی کی پارکنگ پر ساتھی پروفیسر نے فہاج کا راستہ روک کر پوچھا تھا۔۔۔
“دراصل گھر والوں کے ساتھ شاپنگ پر جانا تھا لاسٹ لیکچر پر بہت وقت لگ گیا۔۔۔”
“چلیں خیریت سے جائیں دوبارا کوئی ایسی بات ہوا کرے تو بتا دیا کریں میں آپ کی کلاس اٹینڈ کرلیا کروں گا۔۔۔”
“تھینک یو سو مچ یار۔۔۔”
وہ انہیں شکریہ کہہ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے تھے گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے انہوں نے انوشہ کو میسج کردیا تھا اور سیدھا اس مال کی جانب گاڑی گھما دی تھی جہاں انہوں نے ٹائم دیا تھا۔۔۔۔
شیشے کھول کر اپنا کوٹ پہن لیا تھا۔۔۔ باہر سے آتی ٹھنڈی ٹھںڈی ہوا انکے چہرے کواور مہکا رہی تھی۔۔۔۔
۔
بہت کم وقت میں وہ فاصلہ طہ کر لیا تھا انہوں نے اور وہاں پہنچنے کے بعد کچھ دیر انتظار کے بعد انوشہ کو کال کرنا شروع کردی تھی
۔
۔
آج وعدہ ہے اُسکے آنے کا ۔۔۔
آج اٹکی ہے جان دستک پر۔۔۔”
۔
۔
“سر آپ کے لیے کیا لیکر آؤں۔۔۔؟”
ویٹر نے جیسے ہی پوچھا تھا فہاج صاحب نے بہت کچھ آرڈر کردیا تھا انوشہ کے نمبر پر میسج چھوڑ دئیے تھے۔۔۔۔
“پتہ نہیں کیا پسند آئے اسے۔۔۔ آپ ایسا کریں یہ سب لے آئیں۔۔۔۔”
ویٹر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
یہاں وہ انتظار کر رہے تھے وہاں انوشہ بے سد ہوکر اپنے روم میں بیٹھی اپنے لیپ ٹاپ پر کام کررہی تھی۔۔۔۔
“موبائل کب سے بج رہا ہے اٹھاؤ گی نہیں۔۔۔؟؟”
نیہا نے پاس پڑے سیل فون کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔روونگ نمبر ہے۔۔۔”
اور انوشہ نے۔۔۔وہ نمبر بلاک لسٹ میں ایڈ کردیا تھا۔۔۔
“مجھے بتاؤ میں صہیب کی بات کرواؤں زرا اس سے۔۔۔تنگ کر رہا۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا ریلیکس نیہا نہیں تنگ کر رہا میں نے بلاک کردیا ہے ڈونٹ وری۔۔۔”
انوشہ نے وہ میسج جب اوپن کئیے تو فہاج کے میسج نے اسے اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ضرور کردیا تھا۔۔۔
مگر وہ کسی بھی طرح سے کسی کے ساتھ بھی انوالوو نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔
خاص کر فرہاد کے سسرال میں۔۔۔۔۔
وہ اس بات پر یقین رکھتی تھی
“لوگ کیا کہیں گے۔۔۔۔”
۔
۔
اور وہاں کچھ گھنٹے بعد بھی فہاج صاحب انتظار میں تھے۔۔۔۔
ٹیبل پر ہر کھانے کی چیز ان ٹچ تھی سوائے پانی کے ان گلاسز کٹ جو وہ ہر پانچ منٹ بعد پی رہے تھے۔۔۔۔۔
۔
“سر مجھے نہیں لگتا میڈم آنے والی ہیں۔۔۔”
“وہ میڈم نہیں تھی میرا دوست تھا۔۔۔۔”
اپنی شرمندگی کو چھپاتے ہوئے وہ اپنا کوٹ پہن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے
اور بل کے پیسے وہاں رکھ دئیے تھے۔۔۔
“یہ کھانا جھوٹھا نہیں ہے پھینکنا مت کسی فقیر کو دہ دینا۔۔”
اور وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
بھیگی ھُوئی اِک شام کی دھلیز پہ بیٹھے
ھم دِل کے سُلگنے کا سبب سوچ رھے ھیں۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
تم تو حل تھے میری اذیت کا _
تم بھی اب مشکلوں میں ڈالو گے؟”
۔
۔
“کم سے کم وہ مجھے بتا سکتی تھی منع کرسکتی تھی مگر اس طرح سے بلا کر اتنی بےعزتی۔۔۔۔ “
۔
فہاج آج اتنے غصے میں تھے کہ وہ بی جان کی طرف جانے کے بجائے سیدھا اپنے اپارٹمنٹ میں چلے گئے تھے۔۔۔
انہیں اس قدر غصہ تھا انوشہ پر۔۔۔
۔
اور یہ غصہ تین دن تک برقرار رہا تھا ان کا۔۔۔۔
اور کچھ دن بعد جب وہ شادی والے گھر گئے تھے وہاںث اس چہرے کو دیکھ کر ان کا غصہ جیسے واپس آگیا تھا۔۔۔۔
“فہاج بھائی آپ کو ہی فون کرنے والے تھے۔۔۔۔”
نازنین کی آواز پر انوشہ اور باقی سب نے انہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
جو ان وہاب اور انوشہ کو ایک ساتھ باتیں کرتے دیکھ طیش سے اوپر چل دئیے تھے۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔میں اپنی ضروری فائلز لینے آیا ہوں یہاں۔۔۔”
انوشہ کے پاس سے گزر گئے تھے۔۔۔
انکے اس لہجے پر سب نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔۔۔۔
“اسے کیا ہوا۔۔۔۔؟؟؟”
بی جان پریشانی کے عالم میں نازنین سے پوچھتی ہیں۔۔۔۔
“وہ کام ہوگا کوئی نہیں آپ پریشان مت ہوں میں بات کرتا ہوں۔۔۔۔”
وہاب جیسے ہی اوپر کمرے میں گئے تھے کچھ ہی سیکنڈ میں ڈانٹ سن کر واپس آگئے تھے
“توبہ توبہ وہ تو ہمارا فہاج لگ ہی نہیں رہا اتنا غصے میں ہے۔۔۔ابھی کوئی مت جائے ۔۔۔۔”
وہاب تو ڈرتے ہوئے بتا رہے تھے مگر انوشہ آنکھیں چراتے ہوئے مہمانوں کے رش میں اوجھل ہو کر اوپر فہاج صاحب کے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“میں نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے وہاب۔۔۔میں بس جانے والا ہوں۔۔۔”
دراز سے فائل نکال کر وہ مڑے تو انوشہ کو دیکھ کر انکی فائل ہاتھ سے گر گئی تھی
“آپ کو عادت پڑ جانی ہے مجھے دیکھ کر ہر چیز چھوٹ جاتی ہے آپ کے ہاتھوں سے پروفیسر فہاج۔۔۔”
وہ تو کیجول بات کرنے آئی تھی مگر فہاج صاحب دو قدموں کے فاصلے کو طہ کئیے انکے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔
جس طرح انہوں نے انوشہ کے کندھوں کو پکڑ کر انہیں جھنجھوڑا تھا انوشہ کے لیے بھی یہ سب نیا تھا جیسے فہاج کے لیے
“تمہیں زرا سا بھی اندازہ ہے کہ کتنا انتظار کیا میں نے تمہارا۔۔۔ وہاں ہزار لوگوں کے درمیان اکیلا بیٹھا تھا کھانے کی بھری ہوئی ٹیبل کے سامنے انوشہ۔۔۔۔”
وہ مکمل پن ہوگئی تھی پیچھے واال کے ساتھ۔۔۔۔
“آپ میری پرسنل سپیس پر کھڑے ہیں۔۔۔۔”
انہوں نے بھی اتنے ہی غصے سے کہا تھا۔۔۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟ یہاں جو میں نے کہا اس کی پرواہ نہیں مگر پرسنل سپیس کی ہے۔۔۔ اب کراس ہوئی ہے یہ سپیس۔۔۔”
ایک قدم کا فاصلہ بھی نہیں چھوڑا تھا انہوں نے۔۔۔۔
“فہاج۔۔۔۔”
“انوشہ مجھے اسی وقت انکار کردیتی منع کردیتی مگر اس طرح کی شرمندگی پہلی بار برداشت کی ہے میں نے۔۔۔۔۔”
انوشہ چپ ہوکر رہ گئی تھی ان کی آواز میں اتنی مایوسی کو دیکھ کر
“فہاج۔۔۔۔”
“میں کوئی ٹین ایجر نہیں تھا کہ جو انکار برداشت نہ کرپاتا تمہارا۔۔۔
مگر میری اس عمر میں وہاں انتظار کرتے جس کرب سے میں گزرا ہوں یہ میں جانتا ہوں۔۔۔۔”
“فہاج۔۔۔۔”
اس بار فہاج نے انکے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
“انوشہ۔۔۔۔ انکار کردینا بہتر ہوتا ہے کسی کو امید دلا کر اسکی امید توڑ دینے سے۔۔۔۔
انکار پر تکلیف ہوتی ہے مگر امید ٹوٹ جانے پر جو مایوسی ملتی ہے وہ آپ کو ایک ہی جگہ باونڈ کردیتی ہے ایک ہی سوال کے ساتھ
کہ آخر کیوں۔۔۔؟؟؟”
وہ تیز سانسیں لیتی ڈاکٹر کی سانس روک دی تھی جب انکی انگلیاں لبوں کو ٹچ کی تھی انوشہ کے۔۔۔
۔
۔
میرے سارے مسائل جانِ جاناں
فقط تجھ سے لپٹ جانے تلک ہیں”
۔
۔
اور پھر بحال ہوئی تھی جب فہاج نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا تھا۔۔۔۔
“ہم لوگ اتنے میچور تو ہوگئے ہیں کہ اپنے فیصلے کرنے کے بعد ان پر قائم رہ سکیں۔۔۔اب آپ جا سکتی ہیں پلیز۔۔۔۔”
۔
اور بنا کچھ کہے انوشہ دروازے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
جب فہاج نے ایک بار پھر سے انہیں آواز دی۔۔۔۔
“یہ ٹشو پیپر سے چہرہ صاف کرلیجیۓ۔۔۔۔ آپ کی لپسٹک ہونٹوں سے نیچے لگ گئی ہے۔۔۔۔”
اور اس میں غلطی کس کی ہے۔۔۔؟؟؟؟”
وہ غرائی تھی اور فہاج کے ہاتھوں سے ٹشو کھینچ کر اسی کمرے کے شیشے کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی وہ صاف اپنا چہرہ کر رہی تھی اور نظریں فہاج پر تھیں جو چہرہ جھکائے کھڑے ہوئے تھے کسی معصوم بچے کی طرح جو کچھ دیر پہلے کچھ اور ہی تھا۔۔۔۔
وہ دونوں ری ایکٹ ایسے کررہے تھے جیسے نیا نویلا جوڑا ہوں
“غلطی آپ ہی تھی ڈاکٹر صاحبہ مجھے پسند نہیں ہے لوگوں کا زبان دے کر پیچھے ہو جانا۔۔۔۔
کوشش کرئیے گا کہ پھر مجھ سے آپ کوئی ایسا وعدہ نہ کریں۔۔۔ ورنہ میں اس سے زیادہ برا پیش آؤں گا۔۔۔۔ اور نیکسٹ ٹائم پرسنل سپیس بھی اگنور کردوں گا۔۔۔۔
کوشش کیجئے گا ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔۔۔۔”
وہ جب کہہ رہے تھے انکی نظریں انوشہ کے چہرے سے ہوتے ہوئے انکے ہونٹوں پر جا رہی تھی۔۔۔۔ وہ کہہ کر چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
ان دونوں میں ملاقاتیں جتنی بھی ہوئی ہر بار پروفیسر صاحب کی دھڑکنیں تیز کرجاتی تھی ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔
مگر اس بار انہیں وقت لگ گیا تھا اپنی دھڑکنوں کو بحال کرنے میں۔۔۔
۔
۔
“یوں ہاتھ بڑھا میں جی اٹھوں
اک معجزہ ہے درکار پیا….”
جاری ہے۔۔۔
