Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“ایک کام دیا تھا تم نالائکوں کو وہ بھی نہ کرسکے۔۔۔۔”
“سر وہ گاڑی بری طرح ڈیمیج ہوئی تھی پتہ نہیں وہ ڈاکٹر کیسے بچ نکلی وہاں سے۔۔۔اگلی بار ہم پوری کوشش کریں گے ہمارے آدمی وہاں موجود ہیں۔۔۔”
“مظہر سبحانی دوسرا موقع کسی کو نہیں دیتا۔۔۔۔”
انہوں نے اپنے گارڈ کی طرف اشارہ کیا تھا جس نے فائر کی تھی ان دو لوگوں کی طرف۔۔۔۔
“انہیں اٹھا کر وئیر ہاؤس میں پھینک دو۔۔۔ اور اب تم جاؤ گے اٹلی۔۔۔ جب تک اس ڈاکٹر کو اذیت ناک موت نہ دے آؤ تب تک مجھے یہاں نظر نہ آنا۔۔۔”
“جی صاحب جیسے آپ کا حکم۔۔۔ موت سے پہلے اسکی چیخیں آپ کو ضرور سناؤں گا میں۔۔۔۔”
۔
وہ اس کمرے سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
اور اس شخص نے اس فوٹو فوٹو فریم کو ہاتھ لگا کر دیکھا تھا۔۔۔۔
“فردوس۔۔۔ اس ڈاکٹر نے بہت غلط کیا میرے ساتھ۔۔۔ ہمارے ساتھ۔۔۔ ہم دونوں کو آخری لمحے بھی ایک نہ ہونے دیا۔۔۔
میں اسے وہ درد ناک زندگی دوں گا کہ وہ یاد رکھے گی۔۔۔
تم دیکھ لینا بہت جلدی موت کے گھاٹ اتار دوں گا اسے۔۔۔۔”
.
“تمہاری میت یہاں اس گھر سے جانی چاہیے تھی فردوس۔۔۔ س ڈاکٹر نے اچھا نہیں کیا جتنے گھمنڈ اور غرور سے اس نے یہ سب کیا میں اس کا غرور توڑ کر رکھ دوں گا۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اتنی بھی کیا جلدی تھی شاپنگ کرنے کی محترمہ کو۔۔۔۔”
انہوں نے کوٹ کو اتار کر بیڈ پر جیسے ہی پھینکا تھا اس وقت انکی نظر شاپنگ بیگ پر پڑی تھی
“عمران۔۔۔۔عمران۔۔۔۔”
فہاج نے ملازم کو روم سے آواز دی تھی
“جی صاحب۔۔۔۔؟؟”
“یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟ کون لیکر آیا یہاں۔۔؟؟”
“سر میں لیکر آیا۔۔۔ آپ ہی نے تو بھجوائے تھے ڈرائیور کے ہاتھوں”
“وٹ دا ہیل۔۔۔؟ میں نے تمہیں فون کرکے کہا تھا۔۔؟ کوئی آیا اور تم نے دروازہ کھول دیا یہ میرے کمرے تک لے آئے۔۔۔؟ اٹھاؤ ان سب کو اور باہر پھینک کر آؤ۔۔۔۔”
فہاج صاحب نے وہ سب نیچے پھینک دیا تھا بیڈ سے اٹھا کر۔۔۔
اور اسی وقت انکی نظر اس کارڈ پر پڑی تھی جو بیڈ شیٹ پر رکھا ہوا تھا انہوں نے وہ جیسے ہی اٹھایا تھا پڑھتے ہی انکے فیس پر ملین ڈالر سمائل چھا گئی تھی۔۔۔۔
۔
“”پروفیسر صاحب۔۔۔ میں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔۔۔
ہاں مگر اب ڈنر ادھار رہ گیا ہے آپ کی طرف۔۔۔۔”
۔
انوشہ۔۔۔۔۔”
اس کارڈ کو پکڑے وہ بیڈ پر لیٹ گئے تھے۔۔۔ کچھ منٹ آنکھیں بند کرنے کے بعد انکو یاد آیا تھا اپنا آرڈر جو ابھی کچھ دیر پہلے انہوں نے اپنے ملازم کو دیا تھا۔۔۔۔
“او شٹ۔۔۔عمران عمران۔۔۔ وہ سب کہاں ہے۔۔۔۔؟ وہ شاپنگ بیگ۔۔۔”
“وہ تو میں نے پھینک دئیے آپ نے کہا تھا۔۔۔۔”
“ہمیشہ تو ہر کام لیٹ کرتے اسے بہت جلدی کردیا۔۔۔؟ بیوقوف۔۔۔”
فہاج باہر ڈسٹ بن کو نیچے گرا چکے تھے مگر وہ خالی تھی۔۔۔
انہوں نے واپس عمران کو دیکھا تھا۔۔۔
“اتنے بڑے شاپنگ بیگ اس چھوٹی ڈسٹ بن تو آنے سے رہے سر ۔۔۔ میں نے یہاں سے باہر پھینک دیا تھا بیک سائیڈ۔۔۔۔”
اور جب وہ ونڈو کی طرف جھکے تو کتنی منزلہ نیچے وہ سب شاپنگ بیگ گرے پڑے تھے۔۔۔
اپنے ملازم کو ایک نظر غصے سے دیکھا انہوں نے اور نیچے بھاگ گئے تھے بنا لفٹ لئیے۔۔۔۔
۔
اسکی یادیں کانچ کے ٹکڑے،
میرا دل __ننگے پاؤں”
۔
۔
“پروفیسر صاحب کو کیا ہوا۔۔۔؟ پہلے کہتے ہیں پھینک دو اور اب بچوں کی طرح اٹھانے چلے گئے۔۔۔”
ملازم یہ کہتے ہی کچن میں چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“انوشہ۔۔۔”
وہ ابھی دو سیڑھیوں پر چڑھی تھی جب احلام کی آواز نے اسکے قدم روک دئیے تھے
“انوشہ۔۔۔۔کون تھا وہ شخص جس کے ساتھ تم اتنی بے تکلفی سے باتیں کررہی تھی۔۔۔۔”
“آپ کو اس سے کیا وہ کوئی بھی ہو مسٹر احلام۔۔۔؟ کیا میں آپ سے حساب کتاب مانگتی ہوں۔۔۔؟؟؟”
وہ پھر اوپر جانے کو تھی پاؤں کی درد اسے اسے بہت تکلیف پہنچا رہی تھی کھڑا رہنے کی وجہ سے۔۔۔۔
“موم۔۔۔۔؟؟؟”
ابیہا جلدی سے انوشہ کی طرف بڑھی تھی
“ابیہا۔۔۔بچے آپ کب واپس آئیں۔۔۔؟”
اپنی بیٹی کو گلے لگا کر اس نے ماتھے پر پیار دیا تھا
“وہ سب چھوڑیں موم آپ کو اتنی چوٹ کیسے آئی۔۔۔؟ بازو پر بھی پاؤں پر بھی۔۔۔
فرہاد بھائی نیہا خالہ۔۔۔۔”
اپنی موم کو آہستہ سے وہ واپس نیچے لے آئی تھی
“تمہیں اتنی چوٹ کیسے آئی۔۔۔؟”
ابیہا جیسے ہی پانی کا گلاس لینے گئی تھی احلام پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا
“اتنی فکر ایک دم سے۔۔۔؟ ڈونٹ وری میری بیٹی ابھی یہاں نہیں ہے سو یہ ڈرامہ بند کریں احلام۔۔۔”
“ہماری بیٹی انوشہ۔۔۔ اور کوئی ایسا لمحہ نہیں جس میں مجھے تمہاری فکر نہ ہوئی ہو۔۔۔۔”
احلام نے انوشہ کا اپنے ہاتھوں میں جیسے ہی لیا تھا وہ بلکل خاموش ہوگئی تھی اس وقت۔۔۔۔
“موم۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔۔”
نیہا بھی جلدی جلدی انوشہ کے سامنے تھی وہ سب انوشہ سے سوال پہ سوال کر رہے تھے انوشہ کی نظریں تھی احلام سے ہٹ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
“میں روم میں لے جاتا ہوں۔۔۔۔”
احلام نے سب کو ہی روک دیا تھا
“نو تھینکس مسٹر احلام۔۔۔۔میں مینیج کرلوں گی ابھی تک کرتی آئی ہوں۔۔۔”
انہوں نے اپنا واضح پیغام پہنچا دیا تھا اپنے سابقہ شوہر کو۔۔۔۔
“میرے سامنے یہ سب نہیں چلے گا انو۔۔۔۔چلو روم میں۔۔۔۔ میں باقی کلاس ڈرائیور کی لوں گی۔۔۔ اسکی ہمت کیسے ہوئی اتنا سب ہوگیا اور اس نے ہمیں بتایا بھی نہیں۔۔۔۔”
وہ ڈانٹتے ہوئے اوپر لے گئی تھی پیچھے ابیہا بھی پریشان حال انکو اوپر روم تک فالو کررہی تھی۔۔۔
“موم آپ کیوں اتنا لاپرواہ ہوگئی ہیں۔۔۔؟ آپ کو میری بھی فکر نہیں ہے نہ۔۔۔۔۔؟”
“میری جان ایک تم ہی تو ہو جس کی فکر رہتی ہے مجھے۔۔۔”
ابیہا کی آنکھیں بھر آئیں تھیں یہ بات سچ تھی وہ دونوں ہی تو رہ گئے تھے ایک دوسرے کی فکر کرنے والے۔۔۔۔
“آپ پلیز اپنا خیال رکھیں۔۔۔”
انوشہ کو بیڈ پر لٹا کر وہ دونوں بھی پاس بیٹھ گئی تھی
“خالہ۔۔۔؟؟ آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔؟؟ میں نے ڈاکٹر کو فون کردیا ہے۔۔۔ آپ کو اتنی چوٹ کیسے آئی۔۔۔؟”
فرہاد کے پیچھے پیچھے وہاں صہیب صاحب بھی آگئے تھے
“انوشہ مجھے تم سے اتنی لاپرواہی کی امید نہیں تھی دھیان کہاں تھا تمہارا۔۔۔؟؟”
اور جو جو اندر داخل ہورہا تھا وہ سب ہی الگ الگ باتیں سنا رہے تھے
احلام صاحب روم سے باہر کھڑے رہ گئے تھے۔۔۔
آج وہ خود کو اتنا اکیلا محسوس کررہے تھے۔۔۔
وہ بھی چاہتے تھے انوشہ کے پاس جاکر بیٹھے اسے اپنے سینے سے لگا کر ہر پریشانی ہر درد تکلیف خود لے لیں۔۔۔ مگر وہ یہ حق کھو چکے تھے۔۔۔
جب ابیہا کو انوشہ کے گلے لگے دیکھا تو اپنی آنکھیں صاف کرکے وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بی جان صبیحہ آپی آگئی ہیں شاپنگ سے۔۔۔۔ اپنے روم میں ہیں ان کا موڈ آف لگ رہا۔۔۔۔”
سنبل بی جان کے کمرے میں جیسے ہی داخل ہوئی تھی نازنین بیگم اور پھوپھو نے اپنی گفتگو بند کردی تھی۔۔۔
“اور صبیحہ کے سسرال والے۔۔۔؟؟ نیہا اور انوشہ کو اندر بٹھانا تھا ایسے تو نہیں جانے دیا۔۔۔؟”
بی جان صبیحہ کے روم کی طرف چل دی تھی نازنین کے ساتھ۔۔۔
“بی جان وہ پتہ نہیں شاپنگ پر کیسے چلے گئے۔۔۔
میں بتا رہی ہو فرہاد کی خالہ۔۔۔شئ از ٹو مچ۔۔۔۔
اس طرح سے بی ہیو کررہی تھیں جیسے وہ سب سے اوپر اور باقی سب غلام۔۔۔”
صبیحہ نے وہ گولڈ کے سیٹ بیڈ پر ایسے پھینک دئیے تھے جیسے اسے کوئی قدر نہ ہو۔۔۔
“صبیحہ بیٹا کیا ہوا ہے۔۔؟؟ بیٹھ کر بتاؤ۔۔۔”
شفقت سے ہاتھ پکڑ کر بی جان نے بٹھایا تھا بستر پر اسے اور خود بھی ساتھ بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔
“بی جان ابھی ہم اینٹر ہوئے ہی تھے کہ انکے دنیا جہاں کے کام یاد آگئے تھے۔۔۔
میں نے یہاں جانا وہاں جانا۔۔۔ اور تو اور نیہا آنٹی پوری شاپنگ میں انکی رائے مانگ رہی تھیں جیسے شادی میری نہیں انکی ہو۔۔۔
بار بار مجھے ایٹی ٹیوڈ دیکھایا انہوں نے۔۔۔۔ پوری شاپنگ کا مزہ خراب کردیا۔۔۔اور اینڈ پر یہ بھی طنز دیا کہ اب بہت شاپنگ ہوگئی وہی لوگ سب خرید دیں گے تو میرے گھر والے کیا پہنائے گے مجھے۔۔۔؟؟؟”
صبیحہ کی باتوں نے سب کو ہی حیران کردیا تھا۔۔۔
“انوشہ ایسی تو نہیں ہے بیٹا ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔۔”
“بی جان انہوں نے میرے سامنے کہا۔۔۔”
صبیحہ نے غصے میں بہت سی باتیں خود سے بنا کر بھی بتائیں تھی جن میں کوئی حقیقت نہ تھی۔۔۔
“اٹس اوکے صبیحہ بیٹا۔۔۔ اگر انوشہ نے کہہ بھی دیا تو کچھ غلط نہیں کہا میں نے تمہیں پہلے ہی سمجھایا تھا تم صرف چند چیزوں کی شاپنگ کرو گی باقہ نہیں دیکھو تم کتنا کچھ لے آئی ہو۔۔۔یہ اچھی بات نہیں ہے بیٹا۔۔۔۔”
“بٹ موم۔۔۔ انکو کوئی حق نہیں تھا مجھے انسلٹ کرنے کا۔۔۔”
ان دونوں ماں بیٹی کی آپس میں بحث شروع ہوئی تو صبیحہ انوشہ کے خلاف وہ باتیں بھی کررہی تھی جو اسے نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔
۔
“وہ سب کو کنٹرول کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ فرہاد اور اسکی پوری فیملی انکی مٹھی میں ہے۔۔۔۔
اب تو مجھے یقین ہوگیا ہے انکے ڈائیورس کی وجہ بھی ان کا یہ ایٹیٹیوڈ ہوگا۔۔۔۔”
“بس کرجاو۔۔۔۔صبیحہ “
بی جان نے اپنی پوتی کو مایوس نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
“یہ تمہاری سوچ ہے اپنی خالہ ساس کو لیکر۔۔۔؟؟؟
بیٹا تم نے جڑے رشتوں کو اور مظبوط کرنا ہے وہاں جاکر۔۔۔ نہ کہ توڑنا ہے۔۔۔۔
بہو بننے جا رہی ہو اپنی منفی سوچ کو بدلو۔۔۔۔”
بی جان وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
“بی جان نے پہلی بار مجھے ایسے ڈانٹا۔۔۔۔”
“تم نے بات ہی ڈانٹ کھانے والی کی ہے۔۔۔ ان میں سے صرف دو سیٹ پسند کرو باقی میں نیہا کو واپس کردں گی۔۔۔”
“بٹ موم۔۔۔۔؟؟؟”
“صبیحہ انوشہ انکی فیملی کا وہ اہم حصہ ہے جسے وہ سب لوگ مانتے ہیں اور عزت دیتے ہیں۔۔۔ کہیں کچھ ایسی بات نہ کردینا کہ تمہارا امیج خراب ہو جائے فرہاد اور اسکی فیملی کی نظروں میں۔۔۔۔
جو بی جان نے کہا ہے اس پر غور ضرور کرنا۔۔۔۔”
صبیحہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
“لائک سیریسلی۔۔۔۔؟؟؟ وہ خالہ ساس اچھا ہو واپس پاکستان چلی جائیں۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
بی جان آپ صبیحہ کی فکر نہ کریں ہم سمجھائیں گے اسے۔۔۔۔”
“امی اگر صبیحہ نے کچھ کہہ دیا ہے تو کوئی بات تو ضرور ہوگی نہ۔۔؟
نیہا کی بہن تو مجھے ایک نظر نہیں بھای”
بی جان جی بیٹی والدہ کی دوائی لیکر اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔
“تم تو ایسی بات نہ ہی کرو میں نے تمہیں دیکھا جتنی عزت تم اسے دے رہی تھی۔۔۔”
“امی باجی ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے نازنین بھی جانتی ہے کہ کیسے اس نے اس دن کھانے سے انکار کیا تھا۔۔۔۔ وہ ہمیں ایسے ڈیل کررہی تھی جیسے ہم سے بہت بڑی ہو اور ہم چھوٹے۔۔۔۔”
بی جان نے اپنا سر پکڑ لیا تھا اپنی دونوں بیٹیوں کی باتیں سن کر اور بہو کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“نازنین بیٹا ندیم سے کہو کہ کچھ صدقہ خیرات کر دے۔۔۔مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا پر سو مہندی ہے۔۔۔
دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔۔”
“امی ڈاکٹر کو بلائیں۔۔۔؟ آپ ٹھیک نہیں ہیں روکیں میں ندیم بھائی کو بلا کر لاتی ہوں۔۔۔۔”
وہ دونوں پریشانی میں باہر چلی گئی تھی۔۔۔۔
“نازنین بیٹا۔۔۔ صبیحہ کیوں انوشہ کے اتنا خلاف ہوگئی ہے۔۔۔؟ انوشہ الگ تھلگ رہتی ہے تو اسکے پیچھے بھی ایک وجہ ہے۔۔۔۔”
“امی میں یہ بات سمجھتی ہوں۔۔۔ انوشہ سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ہمدردی ہے۔۔۔ اس نے کس طرح سے خود کو سنبھالا ہوا ہے۔۔۔
مجھے انوشہ کی تکلیف کا احساس اس لیے بھی ہے کہ میں نے اپنے بھائی کو ان سں سے گزرتے دیکھا ہے۔۔۔۔”
نازنین بی جان کا ہاتھ پکڑ کر وہاں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
“تمہیں پتہ ہے تم میری بہو ہی نہیں بیٹی بھی ہو نازنین۔۔۔”
بی جان کی بات پر نازنین مسکرا دی تھی
“میں آپ کی لاڈکی بیٹی ہوں میں جانتی ہوں بی جان۔۔۔۔”
“ششش اب یہ سیکرٹ ہے ہمارا۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا جی بی جان۔۔۔۔”
۔
بی جان کے بچے واپس کمرے میں داخل ہوئے تھے مگر ڈاکٹر کے ساتھ۔۔۔
دو سے تین اور پھر بہت سے لوگوں سے وہ کمرہ بھرگیا تھا۔۔۔
اب کے بی جان نے سچ میں سر پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پروفیسر صاحب مجھے آپ کے ٹیسٹ کا تو نہیں پتہ مگر اس عمر میں آپ پر اس طرح کے کلر سوٹ کریں گے۔۔۔۔ یہ مہرون کوٹ کافی اچھا لگا مجھے آئی ہوپ آپ تیز کلر بھی پہنتے ہوں گے۔۔۔”
فہاج نے اس نوٹ کو اپنی جیب میں ڈال کر جلدی سے وہ شاپنگ بیگ اوپن کیا تھا
“ہممم مجھے بھی اپنے ٹیسٹ کا پتہ نہیں تھا اب سے پہلے ایسا لگ رہا ہے یہ سب میرے پسندیدہ ترین رنگ بن جائیں گے۔۔۔۔”
اور جب انہوں نے سب بیگ کھولے تھے وہ حیران رہ گئے تھے چار سوٹ موجود تھے اور سب ہی الگ الگ اور درمیان میں ایک سلوار سوٹ دیکھ کر وہ حیران رہ گئے تھے۔۔۔۔
اور پھر شوز کے ساتھ ساتھ واچ دیکھ کر انہیں اتنی سمجھ آگئی تھی کہ انہوں نے ایک دن کی ڈریسنگ کا گلہ کیا تھا اور ڈاکٹر صاحبہ نے سارے فنکشن کی فکر مٹا دی تھی۔۔۔
“کوئی اتنا سمجھدار بھی ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟”
انہوں نے سب کپڑے باری باری اپنے کپبرڈ میں ہینگ کردئیے تھے۔۔۔
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔”
سرگوشی کرکے وہ بیڈ پر لیٹ گئے تھے۔۔۔۔
۔
اوپر سیلنگ میں بھی انہوں ڈاکٹر انوشہ کا چہرہ نظر آرہا تھا
“وہ میرے لیے شاپنگ کررہی تھی جب یہ سب چوٹ آئی اسے۔۔۔۔”
جلدی سے اپنا موبائل اٹھا کر نمبر ملایا جو کہ آف جارہا تھا۔۔۔
وہ کتنی دیر یونہی بیٹھے رہے تھے وہاں جب تک ڈنر کے لیے ملازم نے ناک نہیں کیا تھا دروازے پر۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“دو دن بعد۔۔۔۔۔”
۔
“انوشہ جلدی کرو اتنی دیر لگا رہی ہو۔۔۔۔”
نیہا نے باتھروم کا دروازہ ناک کیا تھا۔۔۔۔
“آپ لوگ چلیں میں ڈرائیور کے ساتھ آتی ہوں۔۔۔۔”
“نہیں۔۔۔۔ وہ لوگ آگے ہی تمہیں مغرور سمجھ رہے ایسے کیا امیج ہوگا۔۔۔”
“اففف اللہ۔۔۔۔۔”
انوشہ ائیرنگ پہنتے ہوئے جیسے ہی باہر آئی تھی نیہا کی آنکھیں شاکڈ سے بڑی ہوگئی تھی۔۔۔۔
“ڈیم یو ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔ یو لوکنگ ہوٹ۔۔۔۔ پلس بیوٹی فل ماشاءاللہ مجھے ٹیکہ لگانے دو کالا۔۔۔۔۔”
“سیریسلی نیہا۔۔۔۔؟؟؟ میڈم غضب تو آپ ڈھا رہی ہیں۔۔۔”
وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسی تھی سکول ٹین ایجرز کی طرح۔۔۔۔
۔
“ماشاءاللہ۔۔۔۔ آپ دونوں بہت خوبصورت لگ رہیں۔۔۔۔”
احلام نے جیسے ہی کہا تھا رامین پاس سے گزر گئی تھی۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔”
نیہا نے جواب دیا تھا مگر انوشہ بھی دوسری گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔ سب گاڑیاں پہلے ہی ریڈی تھی آج مہندی کا فنکشن دولہن والوں کی طرف جوائنٹ رکھا گیا تھا بی جان کو بچوں نے ہی راضی کیا تھا ایک ساتھ فنکشن کے لیے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بہت بہت مبارک ہو دلہن کے مامو۔۔۔۔”
“آپ کو بھی دولہے کی خالہ۔۔۔۔”
سب سے لاسٹ پر انوشہ ہال میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ بہت محبت اور عزت سے ملے تھے سب فرہاد کی فیملی کو۔۔۔۔
“موسٹ ویلکم۔۔۔۔بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔۔”
انوشہ پاس سے گزر کر اندر جانے لگی تھی جب فہاج نے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
اور تب مڑ کر انوشہ نے فہاج کو دیکھا تھا اوپر سے نیچے تک۔۔۔
“مجھے معلوم نہیں تھا آپ اس سلوار سوٹ کو پہنیں گے۔۔۔۔”
اور وہ اندر چلی گئی تھی فہاج اپنے چہرے کی مسکراہٹ چھپا نہیں پائے تھے۔۔۔۔
ان دونوں کی یہ گفتگو دیکھ کر احلام آگ بگولہ ہوگئے تھے اور غصے سے اپنی جیب سے موبائل نکال کر کال ملائی تھی انہوں نے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“میں نے کہا بھی تھا ہیل مت پہننا مگر تم سنتی کب ہو انوشہ۔۔۔۔روکو میں فرہاد کو بلاتی ہوں۔۔۔۔”
“بس نیہا کسی کو کچھ مت بتانا آج کا دن اتنا اہم ہے کہ کسی بھی وجہ سے ان خوشیوں میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔
میں اندر آجاؤں گی ٹیبلٹ کھا لی ہے میں نے پلیز اندر جاؤ۔۔۔۔”
وہ دونوں بیک یارڈ میں موجود تھی جب انوشہ کے پاؤں میں شدید درد شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“میں جوس کا گلاس بھجواتی ہوں۔۔۔۔اور ابیہا کو بھی۔۔۔”
“نہیں نیہا۔۔۔ سب خوش ہیں ایویں بیکار میں پریشان ہوں گے بس تم
کسی کو مت بتانا اب جاؤ جلدی اندر۔۔۔۔”
بہن کو زبردستی اندر بھیج دی تھا
“پین ریلیف سپرے ساتھ لے آتی تو کچھ کمی ہوجاتی درد میں۔۔۔۔”
وہ جیسے ہی چئیر پر ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر چکی تھی انہیں اپنے پاؤں پر ہلکا سا احساس ہوا تھا کسی کے چھو جانے کا۔۔۔
اور آنکھیں کھولی تو فہاج انکے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔
“پروفیسر فہاج یہ آپ کیا کر رہے۔۔۔؟؟”
انوشہ نے پاؤں چھڑانے کی کوشش کی مگر فہاج کی گرفت بھی مظبوط تھی۔۔۔۔
“پلیز ڈاکٹر انوشہ ایک منٹ آپ کا درد کم ہو جائے گا۔۔۔”
انہوں نے ہیلز اتار کر آہستہ سے پاؤں اپنے گھٹنے پر رکھا تھا۔۔۔
“فہاج۔۔۔۔”
فہاج صاحب کی انگلیاں جیسے ہی انوشہ کے پاؤں کی انگلیوں پر محسوس ہوئی تو ان کا نام ایک سرگوشی میں انکی زبان سے نکلا تھا
“ڈاکٹر انوشہ اٹس اوکے۔۔۔۔ آپ نے جو میرے لیے کیا میں اسکے بدلے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
آہستہ آہستہ پاؤں پر جیسے ہی ہاتھ پھیرنا شروع کیا تھا انہوں نے پاؤں کو دبانا شروع کیا تھا تو تکلیف کم ہونے لگی تھی۔۔۔۔
“اب مجھے بھی لگ رہا ہیلز پہن کر نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔”
فہاج کی نگاہوں ان پر تھی اور وہ سر جھکا چکی تھی آپ نے اس شخص کو اپنے اتنا پاس دیکھ کر اور اتنا احترام دیکھ کر اپنے لیے کہ انہیں احساس تک نہ ہوا تھا کب فہاج صاحب نے اپنے دور جیب سے وہ دو گولڈ کی پازیب نکال کر انہیں پہنا دی تھی ۔۔۔
اور جب کچھ قدموں کی آواز سنائی دی وہ اٹھ گئے تھے وہاں سے۔۔۔۔
“ہوسکے تو جلدی اندر آجائیے گا وہاں کی خوشیاں آپ کے بغیر ادھوری ہیں۔۔۔۔”
اور وہ تیز آندھی کی طرح وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
انوشہ کو شاکڈ چھوڑ کر۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آئی ایم پریگننٹ۔۔۔۔ فرہاد یہ بچہ تمہارا ہے۔۔۔ میں تمہیں یہ نکاح نہیں کرنے دوں گی۔۔۔”
ہال میں خاموشی ٹوٹ گئی تھی جب لائٹس آن ہوئی تھی۔۔۔۔
“میں اسے نہیں جانتا۔۔۔ موم۔۔۔ انوشہ ماسی آپ ہی یقین کیجیۓ”
“فرہاد۔۔۔۔؟؟؟”
مہندی کے جوڑے میں ملبوس فرہاد کی منگیتر وہاں مہندی لگے ہاتھوں کے ساتھ کھڑی تھی آنکھیں بھری ہوئی تھی جب اس نے اس انجان لڑکی کو دیکھا تھا
“فرہاد۔۔۔؟ یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟؟”
صہیب صاحب طیش میں اپنے بیٹے کی جانب بڑھے تھے۔۔۔
“ابو میری بات سنیں۔۔۔۔ یہ لڑکی۔۔۔۔”
“تم جانتے ہو اس لڑکی کو یا نہیں۔۔۔۔”
اس بار فہاج صاحب آگے بڑھے تھے اپنی بیٹی جیسی بھانجی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر انہوں نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بند کرلی تھی
“فہاج مامو میں اسے۔۔۔ جانتا ہوں مگر۔۔۔۔”
فہاج کا ہاتھ جیسے ہی اٹھا تھا وہ سب لوگ بھی الرٹ ہوکر فہاج کی طرف بڑھے تھے انہیں روکنے کے لیے۔۔۔۔
مگر انہوں نے گریباں پکڑ لیا تھا فرہاد کا۔۔۔
“ابھی تم نے کہا تم نہیں جانتے اور ابھی اعتراف کیا کہ جانتے ہو۔۔۔
اب یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ وہ جو کہہ رہی ہے سچ کہہ رہی ہے۔۔؟
ورنہ میں یہی تمہارا وہ حشر کروں گا کہ یاد رکھو گے۔۔۔”
فرہاد کے ہونٹ سے بلڈ نکلنے لگا تھا وہاں فہاج کا غصہ دیکھ کر کوئی آگے نہیں بڑھا تھا فرہاد کی حمایت میں۔۔۔ یہاں تک ک اسکی فیملی کی آنکھوں میں بھی شک و ابھر آیا تھا اسکے لیے۔۔۔
“آپ مجھے بولنے کا موقع دیں مامو میں اسے جانتا ہوں مگر اس لحاظ سے نہیں جیسے وہ الزام لگا رہی۔۔۔”
فرہاد نے پھر بہت احترام سے فہاج کو مخاطب کیا تھا۔۔۔
“فرہاد یہ سب بھی جھوٹ ہے ہماری ملاقاتیں یہ ڈاکٹر کی رپورٹ۔۔۔ یہ ڈی این اے ٹیسٹ سب کچھ۔۔۔۔”
“سب جھوٹ ہے۔۔۔فہاج مامو۔۔۔ صبیحہ۔۔۔۔”
“خبردار جو اسکی طرف ایک قدم بھی بڑھایا۔۔۔”
فہاج نے ایک بار پھر سے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا جو کسی نے پکڑ لیا تھا۔۔۔
“یہاں داماد کی اس طرح سے عزت کرنا آپ کے خاندان میں ہوتا ہوگا مگر ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔۔۔”
انوشہ نے فہاج کا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا تھا
“ماسی پلیز۔۔۔۔”
“پلیز وٹ۔۔۔؟ یہ لوگ تمہیں اس طرح ذلیل کررہے اور تم مجھے چپ رہنے کا کہہ رہے ہو۔۔۔؟”
انوشہ نے فہاج کی طرف مڑ کر دیکھا تھا جو غصے میں بھی تھے اور شاکڈ بھی تھے نوشہ نے جتنی بدتمیزی سے ان کا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔۔
“تم جانتی بھی ہو کیا کیا ہے اس نے۔۔۔؟؟؟”
“میں کچھ نہیں جانتی کسی ایری غیری پر یقین کرکے میں اپنی پرورش پر شک کروں۔۔۔؟ ہمارے خاندان کے مرد زانی نہیں ہیں۔۔۔ انکی تربیت میں انہی قدم بہ قدم سمجھایا گیا ہے یہ۔۔۔۔
اینڈ یو مسٹر فہاج۔۔۔ یہ آخری بار تھا کہ آپ نے فرہاد پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔”
اپنی انگلی سے انہوں نے جیسے ہی وارننگ دی تھی فہاج صاحب پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔
“ہو دا ہیل آر یو۔۔۔؟ میرے مامو سے ایسے بات کرنے والی آپ کون ہیں۔۔۔؟؟
مہمان ہیں مہمان رہیں۔۔۔ فرہاد ابھی مامو سے معافی مانگو۔۔۔۔ اور اپنی خالہ سے کہو اپنی لمٹس۔۔۔۔”
“ماں ہیں وہ میری۔۔۔۔ ماں سے بڑھ کر ہیں وہ میرے لیے۔۔۔ میری ماں سے بھی بڑے مقام پر ہے میری ماسی۔۔۔۔
اور کونسی معافی۔۔۔؟ تمہیں لگتا ہے میں ایسی کوئی حرکت کرسکتا۔۔۔؟”
فرہاد چلایا تھا صبیحہ پر۔۔۔۔
“اننف۔۔۔”
صبیحہ فہاج کے گلے لگ کر رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔۔
“ایگزیکٹلی مسٹر فہاج اننف از اننف۔۔۔۔ جب یقین ہے ہی نہیں تو کیسا رشتہ۔۔۔؟ میرا بھانجا بار بار شک کے کٹہرے میں کھڑا نہیں ہوگا۔۔۔
یہ رشتہ اعتبار بنا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ جن رشتوں میں اعتبار نہ ہو وہ کچھ معنی نہیں رکھتے۔۔۔۔
ایسے رشتے بننے سے پہلے تور دینا بہتر۔۔۔۔۔”
انوشہ یہ کہہ کر فرہاد کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گئیں تھیں۔۔۔۔
۔
“میں بھی دیکھتا ہوں بنا بات مکمل کئیے وہ کیسے فرہاد کو یہاں سے لے جا سکتی ہے۔۔۔”
“فہاج بھائی پلیز۔۔۔۔”
مگر فہاج باہر چلے گئے تھے انوشہ اور فرہاد کے پیچھے۔۔۔۔۔
۔
“انوشہ۔۔۔۔”
“اننف پروفیسر فہاج اندر کی بدتمیزی تو برداشت کرلی میں نے اب انوشہ سے ایک اور لفظ کہا تو دیکھ لیجئے گا۔۔۔۔”
احلام نے فہاج کا راستہ روک دیا تھا۔۔۔۔ انوشہ گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے رک گئی تھی۔۔۔
“ایک اور بات پروفیسر فہاج۔۔۔۔ نہ تمہاری بھانجی کو اب فرہاد کی صورت دیکھنے کو ملے گی اور نہ ہی تمہیں انوشہ کی وہ نزدیکیاں نصیب ہوں گی۔۔۔۔ تم اگر اسکے پاس بھی نظر آئے تو۔۔۔۔”
۔
احلام نے آہستہ آواز میں بہت مسکراہٹ بھرے لہجے میں فہاج کو کہا تھا۔۔۔
جس پر فہاج صاحب نے گریبان سے پکڑ کر احلام کو اپنی جانب کیا تھا چونکہ انکی ہائٹ بھی احلام سے بڑی تھی اور صحت میں بھی
“اگر فرہاد غلط نہیں ہے تو کوئی بھی اسے روک نہیں سکتا اس نکاح سے۔۔۔
میری بھانجی کی عزت اور پسند ہے وہ۔۔۔۔
اور رہی بات انوشہ کی تو۔۔۔۔۔”
اس بار فہاج نے انکے کان میں سرگوشی کی تھی
“انوشہ نے اگر اپنی پسند کا اظہار کردیا تو دنیا کی کوئی طاقت اسے میرا ہونے سے روک نہیں سکتی۔۔۔۔ کوئی ایکس جیلس ہسبنڈ بھی نہیں۔۔۔۔”
اور پیچھے جھٹک دیا تھا احلام کو انہوں نے۔۔۔۔ وہاں موجود ہر ایک کو ششدر کردیا تھا اپنے اس غضے سے۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
تجھ کو پانے میں مسئلہ یہ ہے
تجھ کو کھونے کے وسوسے رہیں گے