Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

“فردوس۔۔تم مجھے اس طرح چھوڑ کے نہیں جاسکتی سب کچھ ادھورا چھوڑ کر نہیں جا سکتی”
وہ شخص خود تو اس عمر میں بھی اس حال میں نہیں پہنچا تھا جتنا وہ خاتون جو بےجان پڑی تھی اس ہسپتال کے بستر پر۔۔۔
پاس بیٹھا وہ شخص اب تو رونا بھی بند ہوگیا تھا۔۔۔بے یقین کا سفر اسکی آنکھوں سے شروع ہوکر اس بےجان وجود پر آرکتا تھا ہر دومنٹ کے بعد۔۔۔وہاں اس ہسپتال کے کمرے میں اتنی خاموشی تھی۔۔۔
“فردوس۔۔۔ مجھے معاف کردو۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے تمہارے ہونا نہ ہونا میرے لیے معنی نہیں رکھتا تھا۔۔۔ ابھی تم نہیں ہو تو میری جان جا رہی ہے۔۔۔
مجھے معاف کردو میں مجبور تھا۔۔”
آنسو کی لڑی جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی مگر جواب کوئی نہیں مل رہا تھا انہیں۔۔۔
“فردوس مجھے معاف کردو۔۔۔پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔”
اپنی بیوی کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ انکے بےجان وجود کو اپنی آغوش میں لے چکے تھے۔۔۔
۔
اور ٹھیک اسی وقت ڈاکٹر انوشہ نے اپنے لیپ ٹاپ کی سکرین کو مکمل بند کردیا تھا اور ہاسپٹل کے ہیڈ آف مینیجر کو اپنے کیبن میں بلایا تھا۔۔۔
“گڈ مارننگ ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
“یہ پئشنٹ جن کی دیتھ ہوچکی ہے۔۔۔ انکی فیملی جو بھی ابھی آئے گی مجھے پہلے بتایا جائے گا۔۔۔
انکی ڈیڈ باڈی کسی کو بھی نہیں دی جائے گی خاص کر انکے ہسبنڈ کو۔۔۔”
“پر میم وہ لوگ لے جانے والے ہیں پیپر ورک آلموسٹ۔۔۔”
انوشہ نے ٹیبل پر ہاتھ مارا تھا اور غصے سے کھڑی ہوگئی تھی
“آپ کو سمجھ نہیں آرہی۔۔۔؟؟ میں نے کہا ہے کسی کو نہیں دی جائے گی انکی باڈی۔۔۔
ڈیٹس اٹ۔۔۔ جتنا کہا ہے اتنا کریں۔۔۔”
۔
وہ گھبرا کر وہاں سے چلے گئے تھے
“یہ دوغلے رشتے۔۔۔ جھوٹی محبتیں۔۔۔ ساری زندگی اذیت دیتے ہیں پھر معافی مانگ کر خود کو پچھتاوے کے بوجھ سے نکال لیتے ہیں۔۔۔ مسز مظہر کیا آپ نے معاف کردیا ہے اس شخص کو جو آپ کے پیغام سن کر بھی آپ سے ملنے نہیں آیا کبھی اب وہ آپ کے وجود کو لے جانا چاہتا ہے تاکہ دنیا کے سامنے بھرم رہ سکے۔۔۔؟؟
مگر میں ایسا ہونے نہیں دوں گی۔۔۔۔یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میرے اتنے قریب مت آؤ۔۔۔میں تمہیں برباد کردوں گی۔۔۔”
ہاتھوں کی انگلیاں انگلیاں کالر سے ہوتے ہوئے جیسے ہی ماتھے تک پہنچی تو سامنے کھڑے شخص کے ماتھے پر پسینہ آنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“آگے آپ کی لائن ہے۔۔۔مہیر جیجو۔۔۔”
اندھیرے میں سپوٹ لائٹ پر کھڑے ان کپل کو ایک سرگوشی سنائی دی تھی۔۔۔
“کیا لائن روحیل۔۔۔؟؟”
روحیل بھی سپاٹ لائٹ میں آگیا تھا اور مہیر کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر اپنی اوڑھ کھینچا تھا۔۔۔
“بھابھی لائن بولیں پھر سے۔۔۔”
روحیل نے مہیر کی گردن پر ہاتھ رکھے اپنی طرف کیا تھا
“میرے اتنے قریب مت آؤ۔۔۔ میں تمہیں برباد کردوں گی۔۔۔”
اس بار سندس کی لائن میں ہنسی تھی روحیل اور اپنے ہسبنڈ کو اس پوز میں دیکھ کر۔۔۔
“میں برباد ہونا چاہتا ہوں۔۔۔ یہ کہنا ہے۔۔۔”
روحیل جلدی سے پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔۔ سندس وہی لائن دہراتی ہے۔۔۔
ریہرسل چل رہی تھی سنگیت کے لیے۔۔۔اور گھر کے شادی شدہ جوڑوں کی باری تھی
“میرے اتنے قریب مت آؤ۔۔۔ میں تمہیں برباد کردوں گی۔۔۔”
سندس کی انگلیاں جیسے ہی مہیر کے رخصار پر گی تھی مہیر نے بھی اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا
“میں برباد۔۔۔نہیں ہونا چاہتا۔۔۔۔ معافی دو۔۔۔”
اور مہیر ایک دم سے پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔ سب نے حیران ہوکر سندس اور پھر مہیر کو دیکھا تھا۔۔۔
“مہیر جیجو۔۔۔”
لائٹس آن ہوئی تو سب ہی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
“آپ کے سین کی وجہ سے دیر ہورہی۔۔۔ کیون برباد نہیں ہونا چاہتے۔۔؟؟
بیوی تو اتنی خوبصورت ہے۔۔۔۔”
اپنی کزن کو سندس نے تھپڑ مار کر چپ کروایا تھا
“ارے کوئی اور لڑکی جوانی کے دنوں میں ایسے کہتی نہ میرے اتنے قریب نہ آؤ میں تمہیں برباد کردوں گی۔۔۔ بندے کو سمجھ بھی آتی ہے۔۔۔
مگر جب بیوی کہہ دے نہ کہ وہ برباد کرنا چاہتی ہے تو کبھی مت کہو
میں برباد ہونا چاہتا ہوں۔۔۔۔ یقین مانو سارا کریڈٹ کارڈ برباد ہوگا۔۔۔ اور پھر شاپنگ پر جا کر دیوالیہ کرواکر برباد کرے گی میں جانتا ہوں۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔”
مہیر کی بات پر سندس کے علاوہ باقی سب ہی ہنسنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ روحیل قہقہ لگاتے ہوئے مہیر کے کان میں کچھ کہنے لگا تھا جب سامنے قرطبہ کھڑی ہوگئی تھی
مہیر اور روحیل کو ایسی مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
“مجھے تو تم پر پہلے ہی شک تھا روحیل۔۔۔ جس طرح تم چپک چپک کر کھڑے ہورہے ہو نہ سب کے ساتھ۔۔۔ اس لیے کبھی وقاص کے ساتھ تو کبھی کسی کے ساتھ۔۔۔”
۔
“وٹ دا۔۔۔؟؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔۔؟؟”
اور روحیل کو جیسے ہی اپنی بیگم کی بات سمجھ آئی تھی وہ دس قدم دور ہوگیا تھا مہیر سے۔۔۔ْ
“اب مکرنا مت۔۔۔ میرے پاس تو آتے نہیں کمرے میں۔۔۔ جب دیکھو۔۔ایسے ہی چپکے کھڑے ہوتے۔۔۔ بی جان آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا تھا یہ شخص اپنے جیسے اشخاص میں دلچسپی رکھتا ہے۔۔”
“یا اللہ۔۔۔کون بتائے اسے کہ اسکے ڈر سے میں نے اپنے ہی کمرے میں جانا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔”
روحیل بےہوش نیچے گرا پڑا تھا
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ مجھے بھی اب شک ہورہا روحیل پر بار بار چپکتا تھا مجھ سے۔۔”
وقاص باقی سب کے ساتھ قہقہ لگاتے ہوئے بےہوش روحیل کے پاس بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“ارے کوئی اپنی جراب دو اسے ہوش میں لانا ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔”
۔
“چلو میں اپنی ہی جراب سے یہ نیک کام بھی کردیتا ہوں۔۔۔”
وقاص نے اپنی سوکس اتار کر روحیل کے ناک کی جانب کی تھی اور اسی وقت بھری ہوئی پانی کی بالٹی اس پر انڈیل دی تھی قرطبہ نے۔۔۔
“امی بچاو۔۔۔۔ سیلاب آگیا۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔” روحیل کی چیخ پر وہ سب اور ہنس دئیے تھے
“بیٹا ایکٹنگ پر کنٹرول کرو۔۔۔ بیویاں ہماری اماؤں سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہیں۔۔۔ سیلاب تو نہیں آیا طوفان ضرور آجائے گا اگر تم نو دو گیارہ نہ ہوئے تو۔۔۔” مہیر نے روحیل کے کان میں کہا تھا جو جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“روحیل۔۔۔”
قرطبہ نے پیچھے سے آواز دی تو وہ رک بھی گیا تھا۔۔۔
“بی جان۔۔۔ یہ آپ کی بہو۔۔۔اسکی وجہ سے میں اپنے کمرے میں نہیں جاتا۔۔۔ ظالم عورت نے مجھ جیسے معصوم بچے کو تڑپا کررکھ دیا ہے۔۔۔ مجھ سے تو بیٹھا بھی نہیں جاتا۔۔۔”
وہ کہتے ہی بھاگ نکلا تھا وہاں سے۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہا قرطبہ پتر ہتھ ہولا رکھ بیٹا۔۔۔”
بی جان کی بات سن کر قرطبہ کے دونوں کانوں سے جیسے دھواں نکلنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔یہ بچے بھی نہ۔۔۔۔”
ندیم صاحب نے وہاں بیٹھے باقی تین لوگوں کو کہا تھا۔۔۔
“میں ابھی آیا۔۔۔”
فہاج نے فرہاد کو جیسے ہی اپنی بھانجی کے کمرے کی طرف جاتے دیکھا تھا وہ بھی وہاں اسی جانب چل دئیے تھے ایکسکئیوز کرکے۔۔۔
۔
۔
“تمہاری خالہ کو اس طرح جانا نہیں چاہیے تھا۔۔۔”
“صبیحہ میری خالہ اپنی مرضی کی مالک ہیں فار گاڈ سیک۔۔۔”
“مگر کیا امیج پڑا انکا۔۔۔؟ سب بار بار پوچھ رہے تھے امی ابو سے۔۔۔
کم سے کم وہ آتی نہ۔۔۔”
“اننف صبیحہ انکو جانے پر ہن نے مجبور کیا۔۔۔ انکے ایکس ہسبنڈ کو ڈیڈ نے بلایا تھا گھر۔۔۔۔ اور وہ رات گئے خالہ کے بیڈ روم میں داخل ہوئے تھے جس غصہ ہم سب کو تھا۔۔۔۔ میں نے تمہیں یہ سب اس لیے بتایا کہ ایک بات کان کھول کر سن لو۔۔۔ انوشہ خالہ سے پیار میں اپنی موم سے بھی زیادہ کرتا ہوں۔۔۔۔ انہوں نے جو کیا تھا وہ رائٹ کیا تھا۔۔۔
تم میری ہونے والی بیوی ہو میں نہیں چاہتا میری دوسری ماں سے تم بدگمانیاں بڑھاؤ۔۔۔۔”
فرہاد صبیحہ کو منانے آیا تھا مگر خود ناراض ہوکر چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔۔
۔
فرہاد کے باہر جانے سے پہلے فہاج صاحب وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہاں تماشہ مت لگائے مسٹر مظہر ہم آپ کو ڈیڈ باڈی لےجانے نہیں دے سکتے۔۔”
“میں بھی دیکھتا ہوں کون روکتا ہے مجھے۔۔۔”
ہاسپٹل کے ریسیپشن پر جو تماشہ لگا دیا تھا مظہر صاحب نے اب تو انکے دونوں بیٹے بھی آگئے تھے وہاں۔۔۔جو اپنے والد کو سمجھانے کی کوشش کررہے تھے وہاں انوشہ اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی اور یہاں مسٹر مظہر۔۔۔
ہسپتال کی انتظامیہ سیکیورٹی کے ساتھ وہاں موجود تھی مگر مظہر صاحب کی عمر کا لحاظ کئیے وہ لوگ خاموش تھے
“ہم روکیں گے آپ کو مسٹر مظہر۔۔۔ آپ کو ان سے ملنے دہ دیا وہ انکی آخری وصیت تھی ورنہ میں آپ کو انکے پاس بھی نہ جانے دیتی۔۔۔”
انوشہ ہاتھ لیب کوٹ کی پاکیٹ میں ڈالے انکے سامنے کھڑی ہوگئی تھی
“دیکھو بیٹا وہ میری بیوی ہے۔۔۔ میں اسکا واحد سہارا ہوں۔۔۔”
“اوو۔۔ اچھا مجھے لگا تھا کہ وہ لاوارث ہیں ۔۔۔ اس ہسپتال کی ڈونیشن پر انکا علاج ہورہا تھا۔۔۔ پہلے سال ہی آپ کے بیٹوں نے انکا خرچہ بھیجنا بند کردیا تھا اور آپ کو تو اس وقت ہمارے اکاؤنٹ انچارج نے بھی فون کال کی تھی۔۔۔”
وہ ضعیف شخص سر جھکائے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا تھا انوشہ کے سامنے۔۔۔
“پلیز۔۔۔ مجھے اسے اپنے گھر لے جانے دو۔۔۔ اسکی میت۔۔ اسکے شوہر کے گھر سے اٹھے گی تو اس کی روح اور میری باقی کی زندگی سکون سے گزر جائے گی۔۔۔”
دونوں بیٹوں نے باپ کو دیکھا تھا۔۔۔ حیران رہ گئے تھے۔۔۔۔
۔
“شوہر کو اس وقت یاد نہیں آئی تھی جب بیوی خیرات پر علاج کروا رہی تھی۔۔۔؟ اب آپ چاہتے ہیں آپ کا پچھتاوا ختم ہونے دیا جائے۔۔۔؟
آپ جیسے مردوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ سکون سے رہ سکیں۔۔۔
جتنی وصیت انکی تھی ہم نے اتنا حق آپ کو دہ دیا۔۔۔”
انوشہ کی بات پر غصہ آگیا تھا مظہر صاحب کو۔۔۔
“میں تمہیں نکلوا دوں گا اس ہسپتال سے اس ہسپتال کو بھی بند کروا دوں گا تم جانتی نہیں ہو مجھے لڑکی۔۔۔”
انٹرنز نے انوشہ کی طرف دیکھا تو اسکے چہرے پر کوئی ڈر خوف نہیں تھا
“جو کرنا ہے کر لیجیے آپ کو میت کو جنازہ دینے کا تو حق دیا جا سکتا مگر انکو ساتھ لے جانے کا نہیں۔۔۔”
انوشہ کے جانے کے بعد بھی وہ روتے اور گڑگڑاتے رہے تھے مگر انوشہ نے ایک بار رحم دلی نہ دیکھائی اور اپنے کیبن میں چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“یہ کیا بکواس ہے ڈاکٹر انوشہ خود کو سمجھتی کیا ہیں میڈم پلوشہ۔۔؟”
جونئیر ڈاکٹر نے اونچی آواز پوچھا تھا۔۔۔ ہر کوئی انوشہ کو برا بھلا کہنا شروع کردیا تھا۔۔۔۔
۔
“بس کر جائیں آپ سب وہ جو کررہی ہیں ٹھیک کر رہی ہیں ۔۔”
“ہم انہیں ان انکل کے ساتھ نا انصافی نہیں کرنے دیں گے۔۔۔ہم خود بات کریں گے ڈاکٹر انوشہ سے اگر نہیں تو ہم خود یہ معاملہ سینئر ڈاکٹر مبشر وجدانی کے پاس لیکر جائیں گے وہ خود اس ہسپتال اور یہاں کے لوگوں کو دیکھ لیں گے۔۔۔۔”
وہ انٹرن کے پیچھے پیچھے باقی تین بھی ڈاکٹر انوشہ کے کیبن کی طرف چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آپ کو کوئی رائٹ نہیں ہے ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔”
“ایکسکئیومئ۔۔۔۔؟؟؟”
وہ تینوں بنا ناک کئیے کیبن میں داخل ہوگئی تھی۔۔۔
“مسٹر مظہر کو پورا پورا حق ہے باڈی لیکر جانے کا وہ شوہر ہیں انکے باہر انکی حالت دیکھیں۔۔۔”
“ہمارے پروفیشن میں جذبات جہاں داخل ہوجائیں وہاں ڈاکٹری کسی کام کی نہیں رہتی۔۔۔جائیں اپنی اپنی ڈیوٹیز کریں۔۔۔”
وہ اپنے پئشنٹ کی فائلز کو سٹڈی کرنا شروع ہوگئی تھی ان چاروں انٹرنز کو اگنور کرکے۔۔۔۔
“آپ ہمیں ہماری ڈیوٹی مت بتائیں یہ آپ پتھر دل ہیں میں نے سنا تھا آج دیکھ بھی لیا دو پیار کرنے والوں کے ساتھ آپ کا یہ سلوک ہے۔۔۔؟
اگر وہ ایک آخری بار انہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں تو جانے دیجیے نہ۔۔۔۔ وہ کونسا آپ کی اپنی تھی جو آپ انہیں کنٹرول کر رہی ہیں۔۔؟”
“بس کرجا مسکان بہت بول رہی ہے تو۔۔۔۔”
دوسری انٹرن نے بازو کھینچ کر اسے باہر لے جانے کی کوشش کی تھی اور جب انوشہ کے ہاتھ اس فائل پر رکے تھے تب کہیں جا کر مسکان کو لگا تھا اس نے ڈاکٹر انوشہ کی توجہ حاصل کرلی۔۔۔۔
“میں نے سہی سنا تھا اپنے گھر والوں کو بھی آپ نے کنٹرول کیا ہوا یہی وجہ ہے آپ کے ڈیڈ نے چھوڑ دیا آپ کو۔۔۔ آپ کی اپنی شادی کامیاب نہ ہوسکی۔۔۔ کیونکہ آپ رشتے نبھانا نہیں کنٹرول کرنا جانتی ہیں۔۔۔اپ۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔اس سے پہلے میرا ہاتھ اٹھ جائے دفعہ ہوجائیں یہاں سے۔۔۔۔ اور اپنی انٹرنشپ کینسل سمجھیں آپ مس مسکان۔۔۔ناو آؤٹ۔۔۔۔”
ڈاکٹر انوشہ نے رنگ کردیا تھا اپنی پی اے کو جو ان شاکڈ انٹرنز کو وہاں سے لے گئی تھی باہر۔۔۔۔
“ڈاکٹر انوشہ کو تو میں دیکھ لوں گی۔۔۔ میری انٹرن شپ جاتی ہےتو جائے اب ڈاکٹر مبشر کو شکایت کریں وہی انکی اکڑ ٹھکانے لگائیں گے۔۔۔۔”
ڈاکٹر پلوشہ مسکان کی بیوقوفی اور بدتمیزی پر حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
“آپ کیا کہیں گی ڈاکٹر مبشر کو۔۔۔؟”
“یہی کہ یہ کتنی بد دماغ بدتمیز پتھر دل مغرور ڈاکٹر کو کیسے اس ہپستال نے اتنی بڑی پوسٹ دہ دی۔۔۔؟
ڈاکٹر مبشر ٹاپ کے ڈاکٹر ہیں اس ملک کے انکے پاس کوئی بھی شکایت گئی انہوں نے ہمیشہ سزا دلوائی اس ڈاکٹر کو۔۔۔۔”
“آپ کے کہنے کا مطلب ہے آپ ڈاکٹر مبشر کے سامنے انکی ہی بیٹی کی شکایت لگائیں گی اور سزا دلوا دیں گی۔۔۔۔؟”
اس بار لاجواب چھوڑ گئی تھی ڈاکٹر پلوشہ ان سب کو۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بس بی جان بیٹھ جائیں آج کے فنکشن کی بھی ارینجمنٹ ہوچکی ہیں مکمل۔۔۔”
فہاج انکا ہاتھ پکڑ کر انہیں بٹھا چکا تھا صوفہ پر۔۔۔
“فہاج بھائی آپ بھی وقت پر آجائیے گا فرہاد کی فیملی ہی نہیں ساری فیملی آج آئے گی سنگیت پر۔۔”
نازنین نے ملازمہ کو ٹرے رکھنے کا اشارہ کیا تھا دن بھر کے کام کاج کے بعد اب جاکر سب فارغ ہوئے تھے۔۔۔
سکون کا سانس لیا ہے تھا کہ روحیل کی چیخ سنائی دی تھی اور کچھ دیر بعد وہ بھی سیڑھیوں پر گرا ہوا دیکھائی دیا تھا۔۔۔
جس کی بنیان ساری پھٹ چکی تھی وہ بکھرے بالوں کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“روحیل۔۔۔؟؟”
بی جان نے حیرانگی سے پوچھا تھا۔۔۔
“رنگ اور نور کی بارات کسے پیش کروں۔۔۔؟؟ یہ اینیورسری کا کیک کسے پیش کروں۔۔؟؟”
آدھا کیک جو سیڑھیوں کے پاس گرا تھا اس نے اٹھا کر بی جان سے پوچھا تھا۔۔۔
“اب کیا کردیا تم نے۔۔؟؟”
روحیل کے نزدیک دائرے میں کھڑے ہوگئے تھے سب۔۔۔
“میں نے کیا کردیا۔۔۔؟؟ میں نے شادی کی اینیورسری کا کیک آپ سب سے چھپ چھپ کر قرطبہ کو دینے کی کوشش کی تھی اور دیکھیں آپ کی لاڈلی نے مجھے کیا دیا۔۔۔؟؟”
وہ بات کررہی رہا تھا کہ قرطبہ بھی باہر آگئی اور جو کیک پکڑا ہوا تھا وہ اس نے روحیل کے منہ پر مل دیا تھا۔۔۔
روحیل سے زیادہ۔۔۔ قرطبہ کے منہ پر لگے کیک کو دیکھ کر سب کی ہنسی نکلی۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔تم نے کیک کھایا یا لگایا بیٹا۔۔؟؟”
نازنین بیگم نے ہنستے ہوئے اپنی بہو سے پوچھا تھا۔۔۔
“امی کیک کھلانے گیا تھا۔۔۔”
“جھوٹے تم کیک میرے منہ پر مار کر آئے۔۔۔”
قرطبہ نے اپنے منہ سے کیک اتار کر وہ بھی روحیل کے منہ لگا دیا تھا
“جھوٹی کھلانے گیا تھا۔۔۔”
“یہ کھلا کر آئے ہو۔۔؟؟ جھوٹے۔۔۔”
گھر والے یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں ان دونوں کو دیکھ رہے تھے جو بچوں کی طرح لڑ رہے تھے اور دونوں کے منہ بھر چکے تھے۔۔۔۔
“امی کھلانے گیا تھا۔۔۔ میڈم کے کپڑوں کی وجہ سے شوز پھسل گیا۔۔۔
اور کیک جا گرا میڈم کے منہ پر۔۔۔دیکھیں میری قمیض بھی پھاڑ دی اور میری بنیان بھی،۔۔۔ میں تو اپنی جان اور باقی کے کپڑے بچا کر بھاگا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
“شرم نہیں آتی روحیل سب کے سامنے شروع ہوجاتے ہو۔۔۔”
قرطبہ نے غصے سے پوچھا تھا
“سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ سچ کے آگے جیت ہے۔۔۔”
“اب قدم رکھنا روم میں۔۔۔”
وہ پاؤں پٹک کر روم میں چلی گئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا بھڑک گئی ہے بھابھی۔۔۔۔”
“ایک اور کیک آرڈر کرنا پڑے گا۔۔۔”
روحیل ڈر کے مارے اپنی موبائل پر کال ملا چکا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہااہا روحیل بھائی آپ کا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میرے اتنا قریب مت او۔۔۔۔۔میں تمہیں برباد کردوں گی۔۔۔۔”
“میں برباد۔۔۔ہونا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
بیک گراؤنڈ پر ایک خوبصورت سا گانا بجنا شروع ہوا تو فہاج صاحب ایک کارنر پر چلے گئے تھے جب انکی سابقہ بیوی اپنی مکمل فیملی کے ساتھ ہال میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
۔
“آج میں خود کو اور فہاج کو یہ گانا ڈیڈیکیٹ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ میرے جگر میرے جانم ہم دونوں ہی سنگل ہے ہم ہی کوئی پرفارمینس کرتے ہیں۔۔۔؟”
وہاب صاحب کی اناونسمنٹ کے بعد سونگ شروع ہوا تو اور مزاحیہ ماحول بن گیا تھا۔۔۔۔
مہمانوں کی چیم گوئیاں آپس کی گپ شپ نے سب کو مگن کردیا تھا۔۔۔
فرہاد کء فیملی بہت پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
“دولہے کی خوبصورت خالہ نہیں آئی۔۔۔؟؟؟”
فہاج کے پاڈ آکر سرگوشی کی تھی وہاب صاحب نے۔۔۔۔
“خوبصورت۔۔۔؟؟”
فہاج صاحب نے کول ڈرنک کا گلاس اٹھا لیا تھا اور ایک ویٹر کی ٹرے سے اٹھا کر وہاب صاحب کو بھی پکڑا دیا تھا۔۔۔
“ہاں نہ بہت تعریفیں سنی ہیں میں نے۔۔۔۔۔”
“فرہاد کی خالہ بھی آگئی۔۔۔تم یاد کررہے تھے وہاب۔۔۔او تمہیں ملواؤں۔۔۔”
بانو آپا اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں نیہا کے پاس لے گئی تھی جہاں وہ انوشہ کے گلے لگی ہوئی تھی۔۔۔۔
۔
“عمر کب کی برس کے سفید ہوگئی
کالی بدلی جوانی چھٹتی نہیں۔۔۔
واللہ یہ دھڑکن بڑھنے لگی ہے۔۔۔
چہرے کی رنگت اڑنے لگی ہے۔۔۔۔”
۔
“ہائے یہ تو واقعی میں خوبصورت ہے۔۔۔۔”
مگر وہاب صاحب کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دیا تھا انہوں نے انکی نظریں صرف انوشہ پر تھیں۔۔۔۔۔
۔
“فہاج۔۔۔۔؟ ڈونٹ ٹل مئ یار۔۔۔۔”
“کچھ بھی نہیں۔۔۔۔”
فہاج صاحب آگے بڑھ گئے تھے اپنے دوست کی ٹیزنگ سن کر۔۔۔۔
۔
۔
“ڈر لگتا ہے خود کہنے میں جی۔۔۔۔
دل تو بچہ ہے جی۔۔۔۔”
وہ زرا اونچی آواز میں بولے تھے۔۔۔
“فہاج۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا وہاب کو کیا ہوا۔۔۔؟ “
“نیا نیا عشق تو نہیں ہوگیا۔۔۔؟”
کزنز کی باتوں پر فہاج صاحب نے غصے سے ان سب کو دیکھا تھا۔۔۔
انہیں غصہ آرہا تھا وہاب پر اور اسکی سوچ پر انوشہ کو لیکر مگر وہ خاموش تھے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں سب پھر سے اپنی اپنی باتوں میں مگن ہوگئے تھے۔۔۔
مگر فہاج صاحب انکی نظریں تعاقب کر رہی تھی انوشہ کی ہر حرکت کا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا پئشنٹ کو اس کینسر سے بچنے کا کہہ کر ڈاکٹر لوگ خود بھی یہ سگار پیتے ہیں۔۔۔۔”
انوشہ نے سگار تو چھپا لیا تھا مگر ہونٹوں سے نکلتا دھواں جب فہاج کے چہرے سے ٹکرایا تو اس شخص کے دل و دماغ میں وہ ہر خیال آیا تھا جو کوئی سن لے تو شرما جائے پروفیسر صاحب کے خیالات سامنے کھڑی ڈاکٹر صاحبہ کو لیکر۔۔۔۔ فہاج کی نظریں جیسے ہی انوشہ کے ہونٹوں سے ہٹ کر انکی گردن پر گئی تھی اور پھر اس وجود پر وہ ساڑھی غضب ڈھا رہی تھی۔۔۔۔
۔
کوٹ کے بٹن کھول کر انہیں نے رئیلنگ پر ہاتھ رکھ دئیے تھے دنوں اس سے پہلے انکی نظریں انوشہ کو جی بھر کر دیکھتی وہ شہر کی روشنیوں کو دیکھنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔
“دراصل۔۔۔ یہ میری عادت نہیں ہے۔۔۔بس کبھی کبھی۔۔۔”
“کبھی کبھی جب ماضی کو سامنے دیکھ لیں تو جی چاہتا ہے کچھ پل کے لیے ہی سہی وہ سب بھول جائے۔۔۔۔”
انوشہ کی ادھوری بات انہوں نے مکمل کردی تھی۔۔۔
“ہممم۔۔۔۔۔”
“مئے آئی۔۔۔۔؟؟؟”
فہاج صاحب نے سگار کء طرف اشارہ کیا تو نہ چاہتے ہوئے بھی انوشہ نے انہیں پکڑا دیا تھا۔۔۔۔
بنا قریب ہوئے وہ دونوں اس پل اتنا انٹیمیٹ ہوگئے تھے۔۔۔۔
“میں بھی۔۔۔یہ میں تین سال بعد پی رہا۔۔۔۔”
انہوں نے سگار کو منہ سے ہٹا کر جیسے ہی انوشہ کی طرف دیکھا تھا انوشہ کی آنکھیں جھک گئی تھی فہاج کی نگاہوں میں ایک الگ چمک دیکھ کر۔۔۔انہوں نے فہاج کے ہونٹوں سے لگے اپنے اس سگار کو دیکھا تھا اور پھر انہوں نے بھی اپنے دونوں ہاتھوں رئیلنگ پر رکھ دئیے تھے۔۔۔
“اتنے سال بعد دیکھ رہے ہیں اپنے ماضی کو۔۔۔”
اسکا مطلب فہاج کی سابقہ بیوی سے تھا۔۔۔۔
“اسے تو ہر دو دن بعد دیکھتا ہوں۔۔۔۔ مگر جب اسے مکمل دیکھتا ہوں تو ایسے لگتا ماضی مجھ پر ہنس رہا ہے۔۔۔اور میں نظریں چرانا شروع ہو جاتا ہوں۔۔۔۔”
انوشہ نے خاموشی سے ساری بات سنی تھی انکی۔۔۔۔
اور جب وہ سگار واپس انوشہ کی طرف کیا تو وہ ہنس دی تھی۔۔۔
“ہاہاہا نووو اٹس اوکے اب اتنی بےشرم بھی نہیں میں۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔”
“اچھا وہ دھواں میرے منہ پر مارتے ہوئے تو آپ کو زرا شرم نہیں آئی تھی ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔”
خاموشی پھر سے چھا گئی تھی۔۔۔۔ اندر باہر سے شور شرابہ ہلہ گلہ بھی انکی خاموشی میں دخل نہ دے پایا تھا۔۔۔۔۔
“ویسے جس طرح سے آپ گئی تھی مجھے یا کسی کو یقین نہیں تھا آپ آئیں گی۔۔۔”
“کیا کرتی آنا پڑا۔۔۔ کسی ایک شخص کی وجہ سے میں باقی رشتوں کو مایوس نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔”
“مجھے یہ بھی نہیں لگا تھا کہ آپ اس طرح کھل کر بات کریں گی مجھ سے۔۔۔۔”
فہاج نے انوشہ کا موڈ لائٹ کرنے کی کوشش کی تھی اس وقت۔۔۔
“کبھی کبھی ضروری ہوجاتا ہے دل کی بات کسی نہ کسی سے کرنا۔۔۔ کسی اپنے کو راز دینے سے اچھا ہے کسی غیر پر یقین کرلیا جائے۔۔۔”
“ڈونٹ ورری۔۔۔۔یہ آپ کے راز محفوظ رہے گے اس غیر کے پاس۔۔۔” انوشہ کے ہاتھ جو ریلنگ پر تھے فہاج نے اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا اس ہاتھ پر۔۔۔ کچھ پل کو انوشہ شاکڈ رہ گئی تھی فہاج صاحب کے اس بولڈ موو پر۔۔۔
مگر اس ایک لمحے نے بہت کچھ بدل دیا تھا ان دونوں کے درمیان۔۔۔۔
۔
اور اس لمحے نے شروعات کردی تھی۔۔۔۔ اس منزل کی جانب جو لے جانے والی تھی انکے ہمسفر کے پاس ان دونوں کو۔۔۔۔
۔