Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“گڈ مارننگ ڈاکٹر انوشہ۔۔۔
گڈ مارننگ میم۔۔۔
گڈ۔۔۔ گڈ مارننگ ڈاکٹر۔۔۔”
وہ جہاں جہاں سے گزر رہی تھی سب اپنا ہر کام چھوڑ کر اسکے احترام میں اپنی اپنی جگہ کھڑے اسے وش کررہے تھے مگر انوشہ نے ہلکا سا سر ہی ہلایا تھا ایک بازو میں اپنا لیب لوٹ اور سٹیٹی سکوپ پکڑے وہ کوریڈور سے ہوتے ہوئے ریسیپشن پر کھڑی ہوگئی تھی۔۔
وہاں سامنے رکھی ہر فائل اسے پانچ منٹ میں چیک آؤٹ کرنی تھی۔۔ یہ اسکی ڈیوٹی تھی وہ ہر ڈاکٹر سرجن اور انٹرن کی ڈیوٹیوز ہر روز خود چیک کرتی تھی
“ہیلو۔۔۔۔ میڈم۔۔۔ آپ تو لمبی چھٹی پر نکل گئی تھی۔۔۔”
“بی ہیو مس پلوشہ۔۔ ہم ہاسپٹل میں ہیں۔۔۔ بریک ٹائم میں مجھےچلڈرن وارڈ میں ملئیے گا۔۔۔”
انوشہ اپنی دوست پلس مینیجر پلس اسسٹنٹ کو بھی اگنور کرگئی تھی
“آگئی کھڑوس واپس۔۔” پلوشہ نے ریسیپشن پر کھڑی نرس کو کہا تو انہوں نے پیچھے انٹرن کی طرف اشارہ کیا
جو مکمل نروس کھڑے تھے
“ڈاکٹر پلوشہ پلیز بچا لیجئے ہٹلر سے۔۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ میری دوست کو میرے سامنے ہٹلر کہہ رہے۔۔؟؟”
پلوشہ نے کلپ بورڈ پر پیپرز پر سائن کرکے واپس ٹیبل پر دے مارا تھا رؤب ڈالنے کے لیے۔۔۔ جو پڑ بھی رہا تھا۔۔
“مگر آپ نے بھی تو کھڑوس کہا نہ انہیں۔۔”
ایک فی میل انٹرن گھبراتے ہوئے سامنے آئی تھی
“یو نو وٹ۔۔؟؟ وہ گبر تم لوگوں کو سہی رکھتی ہے میرے ساتھ حساب برابر کررہے ہو نہ۔۔؟؟”
“انٹرنز ڈاکٹر انوشہ کے کیبن میں رپورٹنگ کریں۔۔۔”
اناؤنسمنٹ کے بعد وہ گرلز تو دانتوں میں انگلیاں دباتے ہوئے چلی گئی تھی اور جو باقی تین رہ گئے تھے وہ معصوم سا چہرہ بنا کر پلوشہ کو التجا کررہے تھے سفارش کی
“کوئی اثر نہیں پڑنے والا انٹرنز۔۔۔ جا کر رپورٹنگ کریں۔۔۔ کام کے وقت کوئی نرمی نہیں۔۔۔۔ سی یا۔۔۔”
وہ اپنا لیپ کوٹ پہنے اپنے راؤنڈ پر چلی گئی تھی۔۔۔ صبح کے اس پہر ہسپتال مریضوں اور انکے رشتے داروں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔ وہاں موجود ہر ایک ڈاکٹر اپنا فریضہ باخوبی نبھا رہا تھا۔۔۔
ہسپتال میں امیر غریب کے لیے کوئی الگ الگ رولز نہ تھے۔۔ نہ ہی کوئی پروٹوکول دیا جاتا تھا کسی امیر کو۔۔۔
پھر بھی یہ شہر کے ٹاپ ہاسپٹل میں سے ایک تھا۔۔۔
اسے ٹاپ پر لےجانے میں ڈاکٹر انوشہ کی دن رات کی محنت تھی۔۔۔
اور یہی انکی کامیابی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
روم، اٹلی۔۔”
۔
“فرہاد بیٹا رک جاتے کم سے کم ناشتہ کرلیتے۔۔۔”
“ایم سو سوری آنٹی دراصل نانو اور ابیہا کو اٹلی گھمانا ہے ان لوگوں نے چلے جانا ہے واپس پاکستان۔۔۔”
ابیہا کے نام پر روحان کے کان ضرور کھڑے ہوگئےتھے وہ سب لوگ ناشتے کی میز پر اکٹھے ہوئے تھے۔۔۔ جب صبیحہ فرہاد کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔۔
وہ بظاہر تو مسکرا رہی تھی مگر فرہاد کی بات نے مسکان چھین لی تھی
“تو بیٹا صبیحہ کو بھی ساتھ لے جاؤ اسی بہانے یہ بھی گھوم لے گی۔۔”
آنٹی صبیحہ تو یہیں ہوتی ہے۔۔ آئی مین میں نے پوچھا تھا پر صبیحہ نے منع کردیا تھا۔۔”
نازنین بیگم نے زیادہ زور نہیں ڈالا تھا صبیحہ سب گھر والوں کے گلے ملی تھی پیار لیا تھا دعائیں لی تھی اور وہ بھی کھانے کی میز پر بیٹھ گئی تھی
“بیٹا وہاں سب کیسے ہیں۔۔؟ تم خوش تو ہو نہ۔۔؟؟ اور فرہاد۔۔؟”
بی جان نے ماتھا چومتے ہوئے یہی تین سوال کئیے جس پر اس نئی نویلی دولہن نے روائتی طریقے سے جھوٹ بول دیا تھا۔۔مگر آدھا جھوٹ فرہاد کے علاوہ وہ سب کوگ بہت اچھے سے پیش آئے تھے
“وہ سب لوگ بہت اچھے ہیں بی جان،،،،”
“بس صبیحہ بیٹااب تم نے اپنے سسرال والوں کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دینا۔۔ وہ لوگ سچ میں اچھے ہیں بی جان۔۔۔ “
ندیم صاحب نے اپنی والدہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
“میں سو چ رہی تھی کیوں نہ انکی دعوت کی جائے۔۔؟؟ نیہا کی فیملی پاکستان جانے سے پہلے۔۔ جو درمیان میں غلط فہمیاں تھی انکو بھلایا جائے کیا کہتے ہو۔۔؟؟”
بی جان نے سب سے رائے مانگی تھی
“آپ کو جو اچھا لگے آپ کیجئے بی جان۔۔۔”
“صبیحہ بیٹا کچھ لو نہ۔۔۔”
“جی۔۔۔ جی اچھا۔۔۔۔”
صبیحہ چونک اٹھی تھی اپنی والدہ کی آواز پر جو حیران کن بات تھی۔۔
جب سے فرہاد وہاں سے گیا تھا صبیحہ بجھی بجھی سی کھوئی کھوئی سی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“جی ڈاکٹر انوشہ آپ نے بلایا۔۔؟؟”
پلوشہ نے لاسٹ فائل بھی نرس کو پکڑا دی تھی جو وہاں سے چلی گئی تھی ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر۔۔
“لڑکی اب منہ مت بنانا پندرہ منٹ کی بریک میں بارہ منٹ تو تمہیں مناتے ہوئے لگ جانے۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ یہ صبح سوچنا چاہیے تھا نہ جب باس بنی ہوئی تھی۔۔۔”
مگر وہ سامنے سیٹ پر بیٹھنے لگی تھی جب انوشہ نے اسے اپنے گلے سے لگایا تھا
“تمہیں پتہ ہے میں جس موڈ میں آئی تھی۔۔ انٹرنز کی حرکتیں کچھ خاصی اچھی نہیں تھی۔۔۔”
“ہمم۔۔۔ آئی کین انڈرسٹینڈ۔۔۔”
وہ دونوں دوست کچھ پل اور ایسے ہی گلے لگے رہی تھی۔۔
“تاہین کیسی ہے۔۔؟”
“کچھ بہتری نہیں۔۔ وہ۔۔ یہیں ایڈمٹ ہے۔۔۔ ایم سوری۔۔۔اس نے اپنی وین کاٹنے کی کوشش کی تھی۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔”
انوشہ کے ہاتھوں سے چائے کا کپ گر گیا تھا۔۔۔و
“کہاں ہے وہ جاہل عورت۔۔؟؟ اسے میں نے سمجھایا بھی تھا مرد ذات پر بھروسے کی سزا کبھی خود کو نہیں دینی چاہیے۔۔۔”
وہ جس طرح سے اٹھی تھی اسکی کرسی پیچھے فرش پر گر گئی تھی انوشہ کی لاؤڈ وائس سے انہیں کافی سروو کرنے والا وارڈ بوائے بھی پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔
“انوشہ۔۔۔”
“کس روم میں ہے وہ۔۔؟؟”
“ابھی بھی ایمرجنسی۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ اور تم نے بتایا نہیں۔؟ صبح بھی تم ۔۔۔”
وہ اپنی ہی دوست پر برس پڑی تھی انوشہ نے ان دونوں دوستوں سے فرینڈز جیسا نہیں بہنوں جیسا رشتہ بنایا ہوا تھا کالج کے دنوں سے وہ تینوں ساتھ ساتھ رہی تھی
“تم سے ہی سیکھا ہے انوشہ پرسنل اور پروفیشنل لائف کو الگ رکھنے کا۔۔۔تم اسے ملنے جا سکتی ہو۔۔۔”
“اور تم۔۔۔ساتھ چلو۔۔۔”
“میں راؤنڈز پر جارہی ہوں ابھی۔۔۔ٹیک کئیر۔۔۔”
۔
اانکے ہاتھ ہوا میں ہی رہ گئے تھے دوست پہلو سے اٹھ کر چلی گئی تھی اسی دروازے سے۔۔۔
وہ ہاتھ مٹھی کی صورت بند ہوا تھا تاہین کی حرکت کا سوچ کر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اٹلی۔۔۔۔”
۔
۔
“تم واپس کب جارہے ہو۔۔؟؟”
“کون میں۔۔؟ ارے ابھی تو آیا ہوں ابھی تو اینجوائے کروں گا میں یہاں۔۔”
“تجھے شرم نہیں آتی۔۔؟ واپس جا اپنا دفتر وغیرہ دیکھ کیا ویلا بیٹھا رہتا۔۔”
صوفے سے وہاب کی ٹانگیں نیچے پھینک کر اس جگہ وہ خود بیٹھ گئے تھے
“اوے اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔؟؟ تیرے اپارٹمنٹ میں آئے ایک دن ہوا یار تو تو مجھے اٹلی سے باہر نکالنے پر تل گیا۔۔”
وہاب نے اب کے ٹانگیں فہاج پر رکھ لی تھی۔۔۔
“کیونکہ تم واپس پاکستان جاؤ گے تو ہی کسی بہانے سے تمہارے پاس آؤں گا۔۔”
“سیریسلی۔۔۔؟؟تم نے کیوں میرے پاس آنا۔۔؟؟ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے تمہیں کوئی دعوت نہیں دی۔۔۔”
اور فہاج اس بار پوری طرح وہاب کو صوفہ سے نیچے پھینک دیا تھا۔۔
“یو مسٹر وہاب تم آج ہی واپس جارہے ہو۔۔ میری پرسو کی ٹکٹ ہے۔۔
کسی کو شک نہ ہو اس لیے تمہارے جانے کے بعدمیں یہاں سب سے کہوں گا کہ تمہیں میری ضرورت ہے۔۔۔”
فہاج نے اپنی ٹکٹس سامنے رکھ کر وہاب کو مکمل حیرت زدہ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
“وٹ دا ہیل فہاج۔۔؟؟ پاکستان کی ٹکٹ بھی کروا لی۔۔؟؟ مگر کیوں۔؟؟ تمہاری یونیورسٹی کی کلاسز کا کیا۔۔؟ تمہیں یہاں اتنی بڑی پوسٹ ملی ہے ایڈیٹ۔۔۔ اتا سب کیوں۔۔؟؟”
فہاج جواب دئیے بغیر کچن میں گئے تھے کچھ پل میں وہ چائے بنا کر لے آئے تھے۔۔۔
دونوں مگ انہوں نے وہاں رکھے تھے اور اب وہاب صاحب بہت خاموشی سے ان ٹکٹ کو دیکھ رہے تھے
“اب سمجھ آئی کہ کیوں تم اتنا رسک لے رہے ہو۔۔۔مگر تم کامیاب نہیں ہوسکتے فہاج۔۔
کچھ سال پہلے کی بات اور تھی۔۔ اب تمہارے بچے بڑے ہوگئے ہیں اور وہ ڈاکٹر۔۔۔
انکی بھی جوان بیٹی ہے۔۔۔مت کرو ایسے۔۔۔تم تو آگے ہی مجرم ہو اپنے بچوں کے سامنے اپنی بیوی کے سامنے سب ہی تمہیں ظالم سمجھتے آئے ہیں۔۔۔ تم نے بہت قربانیاں دی ہیں فہاج۔۔
میں نہیں چاہتا تمہاری قربانیاں رائیگاں جائیں صرف ایک دل لگی کے پیچھے پلیز۔۔۔”
۔
فہاج صاحب جو اتنا ایکسائیٹڈ تھے۔۔۔
وہاب کی باتوں نے انکی ایکسائٹمنٹ ہوا میں اڑا دی تھی۔۔۔
اور وہ لمحہ تھا کہ جس لمحے ہمیشہ کی طرح فہاج نے اپنی نہیں اپنوں کی اپنے بچوں کو خوشیاں سامنے رکھی تھی۔۔۔
“مگر۔۔۔”
وہ مگر کے آگے وہ سب باتیں رکھنا چاہتے تھے بتانا چاہتے تھے مگر۔۔۔۔ سننے والا کوئی نہ تھا سمجھنے والا کوئی نہ تھا۔۔۔
۔
اور وہ زرد آہ بھر کر چپ ہوئے تھے ٹکٹ اٹھا کر ٹکڑے ٹکڑے کردی تھی انہوں نے۔۔۔
“ڈیٹس مائی بوائے۔۔۔ مجھے یہی امید تھی فہاج۔۔۔ یقین جانواب یہ عمر نہیں رہی۔۔۔”
“مگر اس وقت تو تم ہی مجھے انکریج کررہے تھے اب کیا ہوا۔۔؟؟”
“میں نے حالات دیکھے ہیں جذبات دیکھے ہیں۔۔۔ بچوں کے خیالات دیکھے ہیں۔۔۔ ایم سوری ٹو سے۔۔۔پر اب یہ عمر ہماری خوشیوں کی نہیں بچوں کی خوشیوں کی ہے۔۔۔”
“ہمم میں ابھی آیا۔۔۔”
فہاج صاحب سے اور کچھ بھی نہیں سنا جارہا تھا وہ ایکسکئیوز کرکے آگئے تھے اپنے کمرے میں۔۔۔
“گڈ بائے ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
انہوں نے سرگوشی کی تھی خودکو شیشے میں دیکھ کر۔۔۔
۔
“میں بھی تھا، مرکزِ نگاہ وراحتِ جاں کبھی
گو کہ، سوکھ گیا ہوں، مگر گلاب تو ہوں۔۔”
۔
۔
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔”
نیچے وہاب صاحب نے فہاج کے موبائل کے کنٹیکٹ لسٹ میں سرچ کرنے کی کوشش کی تھی اور انوشہ کا نمبر اپنے موبائل میں سیو کرلیا تھا فہاج کے موبائل سے ڈیلیٹ کرکے۔۔۔
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
وہاب کی آنکھوں میں ایک لگ چمک اٹھی تھی۔۔۔ کچھ دیر میں وہ بھی فہاج کے اپارٹمنٹ سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“۔۔۔پاکستان۔۔۔”
۔
۔
“جی تو چاہتا ہے تمہیں اپنے ہاتھوں سے مار دوں میں۔۔”
وہ روم میں آتے ہیں رپورٹ چارٹ ریڈ کرنے لگی تھی۔۔۔
“ہیلو بیوٹیفل ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
تاہین کی گریٹنگ بھی اگنور کردی تھی۔۔۔ اور کچھ دیر بعد پلوشہ بھی آگئی تھی انوشہ پھر بھی تاہین کے ڈاکٹرز اور وہاں ڈیوٹی پر موجود نرس کو اس نے سپیشل وارننگ دہ دی تھی
۔
“یار یہ مجھے کچھ زیادہ ہی فرسٹریٹ لگ رہی ہے۔۔۔ میں نے تو سوچا تھا وہاں کوئی ینگ ہینڈسم اٹالین قابو کرلیا ہوگا۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔اس نے اسے بھی بھگا دیا ہوگا۔۔۔لکھوا لو۔۔ “
وہ دونوں انوشہ کو ٹیز کررہی تھی جب وہ فارغ ہوکر تاہین کے بیڈ کے پاس بیٹھ گئی تھی اطمنان سے
اس نے کہا کچھ نہیں بس اپنی دوست کا بینڈایج لگا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔۔۔
کافی منٹ وہ سنجیدہ ہی رہی دوسری سائیڈ پر پلوشہ بھی ہنستے ہنستے خاموش ہوگئی تھی
ان دونوں کو نظر آرہی تھی انوشہ کی خاموشی میں گہری سوچ جو وہ سوچ رہی تھی
کچھ منٹ تو وہاں خاموشی رہی تھی انوشہ کے بولنے سے پہلے
۔
“تم دونوں کو یاد ہے ہم میڈیکل کے فرسٹ سمسٹر میں جب اینٹر ہوئے تھے تو کیا وعدہ لیا تھا۔۔؟؟ کہ کسی مرد کے پیچھے ہم اپنا آپ نہیں گنوائیں گے۔۔ نہ کبھی خود کو کوئی نقصان پہنچائیں گے۔۔۔ ایسا وعدہ ہم نے کیوں کیا تھا تاہین۔۔؟؟”
تاہین کی آنکھیں اٹھی اور پھر جھکی تھی
“کیونکہ ہاسٹل کی ایک لڑکی نے سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی تھی کسی کے پیچھے۔۔۔”
“اور ہم تینوں نے پہلے تو اسکی خوب کلاس لی تھی پھر واپس اپنے ڈورم میں آکر ہم نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا۔۔۔”
پلوشہ نے تاہین کی بات مکمل کرتے ہوئے کہا
“ہممم۔۔۔ تاہین ۔۔۔ جب احلام نے بےوفائی کی تھی میں نے خود کو اس رشے سے علیحدہ کرلیاتھا۔۔کیونکہ اگر میں اس جھوٹے رشتے میں اس فریبی کے ساتھ بندھی رہتی تو شاید میں بھی وہی کرتی جو تم نے کیا۔۔۔”
تاہین کے ہاتھ کو اپنی انگلیوں سے سہلاتے ہوئے اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔
“مرد کی محبت میں فدا ہونا ایک الگ بات ہے۔۔ مرد کی بےوفائی میں ہاتھ کاٹنے والی عورت کمزور ہی نہیں بزدل بھی ہوتی ہے۔۔۔
وہ شخص کسی قابل نہیں جو اپن بیوی کی قدر اسکی عزت نہ کرسکے۔۔۔”
۔
“صدموں سے لوگ مر نہیں جاتے۔۔۔
تمہارے سامنے ہے مثال میری۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“گڈ نائٹ نسیمہ بی آپ چلے جائیں۔۔”
“بیٹا میں ڈنر لگا دوں۔۔”
“نہیں میرا دل نہیں ہے۔۔”
انوشہ بیگ صوفہ پر رکھ کر اپنے روم میں چلی گئی تھی اور ملازمہ سرونٹ کوارٹرز میں
۔
پورا گھر خالی تھی کوئی بھی نہیں تھا وہاں۔۔ اور اسے زیادہ فرق بھی نہیں پڑا اس وقت۔۔
وہ خود بھی لیٹ آئی تھی ہسپتال سے
سیدھا اپنے بیڈروم میں جانے کے بعد۔۔۔اپنے کپبرڈ سے اس نے نائٹ گاؤن نکالا تھا اور فریش ہونے باتھروم میں چلی گئی تھی۔۔۔
آج کا دن بہت سٹریس فل تھا۔۔
وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اپنی دوست کو روتے ہوئے چپ کرواتے ہوئے اسے جو اذیت مل رہی تھی اس وقت۔۔۔
وہ اس روم سے واپس آگئی تھی اور ہاسپٹل میں ہر مریض کی فائل چیک کرنے کے بعد وہ گھر کو واپس لوٹی تھی۔۔۔
۔
اپنی دوست کی وہ باتیں اسے بھلائیں نہیں بھول رہی تھی جو آج کہی تھی تاہین۔۔۔
۔
“مجھ کو خواہش کی ڈھونڈنے کی نہ تھی۔۔۔
مجھ میں کھویا رہا۔۔۔ خدا میرا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہیں احلام کے دھوکے کے بعد اپنا آپ بدصورت نہیں لگا تھا انوشہ۔۔؟
کیونکہ مجھے لگ رہا ہے میرا شوہر میرے ہوتے ہوئے کسی اور عورت کی طرف متوجہ ہوا ہے مجھے اپنا وجود بدصورت لگ رہا ہے مجھے گھن آرہی ہے خود سے۔۔ مجھے کمی نظر آرہی ہے خود میں۔۔۔
۔
گاؤن کی نوٹ بند کرنے سے پہلے وہ شیشے کے آگے رک گئی تھی۔۔ اور خود کو اس نے شیشے میں دیکھا تھا۔۔۔
اس عمر میں بھی اس نے خود کو اتنا مینٹین رکھا ہوا تھا کہ وہ اپنی عمر جتنی نہیں لگتی تھی۔۔۔
آج وہ اپنے وجود کو اس شیشے میں نہار رہی تھی۔۔۔
طلاق کے کتنے سال تک تو اس نے بند کردیا تھا شیشہ دیکھنا۔۔۔وہ اس قدر کمپلیکس کا شکار ہوگئی تھی۔۔۔مگر یہ باتیں آج تک قید رہی اسکے دل میں۔۔۔
۔
گاؤن کی نوٹ بند کرنے کے بعد وہ بالکونی میں چلی گئی تھی اور ہاتھ میں اسکا وہ سگار۔۔۔
۔
“ضروری نہیں جینے کے لیے عورت کو کسی مرد کے ساتھ کی اسکے سہارے کی ضرورت ہو۔۔
جینے کے لیے صرف ہمت کافی ہے۔۔۔جو مرد ایک بار دھوکا دے جائے اس پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔۔۔”
۔
اسے بار بار ایک چہرہ یاد آرہا تھا اور وہ بار بار اسے بھلانے کی چاہ میں تھی۔۔۔
۔
“یہ روح۔۔۔ باہر سے جی رہی ہے۔۔۔
یہ جسم اندر سے ۔۔۔۔ مرگیا ہے۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“اس ہسپتال میں سب سے اچھا ڈاکٹر کون ہے۔۔؟؟”
وہ شخص ریسیپشنسٹ کے سامنے پچھلے پانچ منٹ سے یہی سوال کررہا تھا۔۔۔
“سر بہت سے ڈاکٹر ہے۔۔ آپ نے کس سلسلے میں ملنا ہے۔۔؟؟”
“آپ مجھے نام بتائیے نہ سان اچھے ڈاکٹرز کے۔۔”
انہوں نے اپنی وہ بیسٹ سمائل دی تھی کہ سامنے کھڑی سسٹر بلش کرتے ہوئے سب کے نام بتانا شروع ہوگئی۔۔۔
“ڈاکٹر ابرار
ڈاکٹر مریم
ڈاکٹر نگہت
“ڈاکٹر ذلقرنین۔۔۔”
اور انکی لونگ لسٹ ختم نہیں ہورہی تھی۔۔۔
کہ انٹرنز بھی وہاں اپنی اپنی ڈیوٹی کی رپورٹ کے لیے کھڑے ہوگئے تھے
“نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ بیسٹ ڈاکٹر۔۔۔؟؟”
“ڈاکٹر ثنا ، ڈاکٹر سمیع، ڈاکٹر۔۔۔”
۔
“نہیں سسٹر۔۔۔۔اس ہسپتال کے۔۔۔”
“ہیلو سر اس ہسپتال میں سب ہی اچھے ڈاکٹرز ہیں سوائے ایک بددماغ کے۔۔۔”
اور سامنے کھڑے شخص کے آنکھوں میں ایک ہی چہرہ رونما ہوا تھا۔۔۔
“ڈاکٹر کھڑوس کی بات کررہی ہو سندس۔۔؟؟”
“نہیں ڈاکٹر ہٹلر۔۔۔”
وہ انٹرنز کی ہنسی بند ہوئی تھی جب انکے سامنے سے میٹنگ روم سے تمام سینئر ڈاکٹر باہر آئے تھے باتیں کرتے ہوئے۔۔۔۔
“آپ کو کس سے ملنا ہے۔۔؟؟”
“ڈاکٹر۔۔۔ان۔۔۔”
وہ کہتے کہتے روکے تھے جب انوشہ باقی ڈاکٹرز کو بریف دیتے ہوئے اپنے کیبن کی طرف مڑی تھی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔۔؟؟؟؟ ہائے۔۔۔۔”
فہاج کی ایکسائیٹڈ آواز نے تو سب سٹاف ڈاکٹرز اور وہاں کے عملے کو شاکڈ کردیا تھا وہاں کی ہیڈ کا نام اتنی بےتکلفی سے لیکر۔۔۔۔
“خود انوشہ کا وجود ساکن ہوگیا تھا وہ پیچھے پلٹی نہیں تھی مگر وہ اس آواز کو پہچان گئی تھی جس نے راتوں کی نیندیں خراب کردی تھی پچھلے کچھ ہفتوں سے۔۔۔
۔
“فہاج۔۔۔۔؟؟؟”
وہ ٹرن ہوئی تو فہاج صاحب آگے بڑھے تھے اور کچھ ہی دوری پر انکے ہی بیگ کے ساتھ
اٹکنے سے وہ لڑکھڑائے تھے۔۔۔ جنہیں تھامنے کے لیے انوشہ جلدی سے آگے بڑھی تھی۔۔۔
“آر یو آلرائٹ فہاج۔۔۔؟”
انوشہ نے بےساختہ پوچھا تھا
“ہاں اب ٹھیک ہوں۔۔۔”
انوشہ کے کندھے پر ہات رکھے وہ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔ انکی بات نے انوشہ کو ٹھیک اسی دن کی طرح پیرالائزڈ کردیا تھا۔۔۔
انہیں پتہ نہیں تھا کہ پیچھے ایک آڈئینس انہیں سانسیں رکے دیکھ رہی تھی۔۔۔
۔
“فہاج۔۔۔ میری ویسٹ سے ہاتھ ہٹا سکتے ہیں اب آپ۔۔۔”
“اووو۔۔۔ سو سوری۔۔۔۔”
وہ نروس ہوگئے تھے۔۔۔ مگر چہرے کی مسکراہٹ وہیں تھی
۔
“میری دی ہوئی پازیب ابھی تک پہن رکھی ہے تم نے۔۔۔؟؟”
فہاج نے شاکڈ ہوکر پوچھا تھا جو گھبراہٹ انکے چہرے پر وہ اور مسکان میں بدل گئی تھی اور اب انوشہ کا چہرہ لال ہوگیا تھا۔۔۔۔
۔
“اس قدر پاکیزہ محبت کی ہے تم سے۔۔۔
سر اٹھا کر دیکھا بھی تو صرف پاؤں تک۔۔۔”
۔