Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“میں یہیں سو جاؤں گا آپ بیڈپر سو جائیں۔۔۔”
وہ بیڈروم میں جیسے ہی داخل ہوئے تو فہاج نے مسکراتے ہوئے کہا تھا وہ بہت خوش تھے۔۔
اور اس بات پر زیادہ خوش ہوئے تھے جب انوشہ بنا ڈریس چینج کئیے بیڈ پر بیٹھ گئی تھیں
ابھی تک اتنا ریلیکس تھے دونوں اور اب اتنے آکورڈ ہورہے تھے انوشہ پوری طرح لیٹ نہ سکی تھی وہ اتنی ہیسیٹیٹ ہورہی تھیں پاؤں سیدھے کرتے ہوئے بھی
“کچھ سال پہلے میں نے امید چھوڑ دی تھی یا یوں سمجھ لو کہ زندگی نے مجھ سے ہر موقع چھین لیا تھا خوش ہونے کا۔۔”
کشن سرکے نیچے رکھے وہ شوز اتار کر صوفہ پر لیٹ گئے تھے منہ کے نیچے ہاتھ رکھے انہوں نے انوشہ کی طرف رخ کرلیا تھا جس کا رخ پہلے ہی فہاج کی طرف تھا وہ بہت توجہ سے بات سن رہی تھی فہاج کی
“ایم سوری آپ کو آج صوفہ پر سونا پڑ رہا ہے آپ یہاں آجائیں میں وہاں سو جاتی ہوں۔۔۔”
“اٹس اوکے۔۔ میں یہاں ٹھیک ہوں۔۔ میں جانتا ہوں کہ سب کچھ نیا ہے انوشہ۔۔ جتنا مرضی وقت لگے ایڈجسٹ ہونے میں آپ لیجئے مجھے کوئی اعتراض نہیں بس۔۔ ساتھ رہیئے گا۔۔یہ التجا ہے میری۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔”انوشہ نے مسکرانے کی کوشش کی تھی مگر فہاج کی نظروں میں اداسی بلا کی تھی کہ وہ خود کو روک نہیں پائی تھی وہ اٹھی تھی اور بیڈ سے کمفرٹ اٹھا کر فہاج پر ڈال دیا تھا جو خود بہت حیران ہوئے تھے
“میں یہیں ہوں۔۔۔ بےفکر ہوکر سو جائیں بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہیں۔۔”
اور وہ واپس بیڈ پر چلی گئی تھی اور اب بنا کسی ہچکچاہٹ کے وہ سیدھی ہوکر لیٹ گئیں تھیں اور کچھ پل میں وہ سکون کی نیند سو بھی گئی تھی۔۔۔
“میں کوشش کروں گا انوشہ ہماری یہ شادی ناکام نہ ہو۔۔”
۔
خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ
اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں۔۔”
۔
انوشہ نے نیند میں جیسے ہی کروٹ لی تھی فہاج پاس آکر بیٹھ گئے تھے چہرے سے بالوں کو ہٹا کر انہوں نے رخصار پر جیسے ہاتھ رکھا تھا وہ وہاں سے اٹھنے کی ہمت نہیں کرپائے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بہت سال پیچھے چلے گئے ہیں جہاں سب کچھ نیا تھا انکے لیے جہاں عمر کا یہ پہرہ نہ ہو جہاں معاشرہ نہ ہو انوشہ کی موجودگی انہیں ویسا ہی جوان کرگئی تھی
۔
‏میری دنیا میں کوئی چیز ٹھکانے پہ نہیں
بس، تجھے دیکھ کے لگتا ہے کہ سب اچھا ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم نے پھر سے کچھ کیا ہوگا روحیل بہو دوسری بار بےہوش ہوئی ہے کچھ تو شرم کرو تم۔۔۔”
“پر ابو۔۔۔”
“چپ ابو کے بچے۔۔۔ کتنی بار سمجھایا ہے۔۔۔”
“بس خاموش ہوجائیں سب۔۔۔بس ڈاکٹر صاحبہ چیک اپ کرلیں۔۔”
بی جان چکر لگاتے ہوئے سب کو ڈانٹ کرچپ کروا چکی تھی
ایک تو کل رات وہ پریشانی کے باعث سو نہیں پائی اور صبح اٹھتے ہی شور شرابہ مچا ہوا تھا پورے گھر میں کہ اچانک سے نازنین نے قرطبہ کے بےہوش ہونے کی خبر دی سب کو تب سے اب تک سب انتظار کررہے ہیں
۔
“مبارک ہو شئ از پریگننٹ بی جان آپ پردادی بننے والی ہیں۔۔”
ڈاکٹر صاحبہ کو خوشی سے اپنے گلے لگا لیا تھا بی جان نے وہ تو اندر چلی گئی تھیں دروازہ پوری طرح کھل گیا تھا مگر باقی لوگ وہ سب ہی بڑی بڑی نظروں سے روحیل کو دیکھ رہے تھے جو خود شاکڈ کھڑا تھا۔۔۔
“کمینے سالے۔۔۔”
“وقاص۔۔۔”
بی جان کی اندر سے آواز آئی تھی جب وقاص نے وہ لفظ بولا تھا
“بی جان غصہ تو کرنے دیں اس کمینے کی وجہ سے ہم نے شادی کا فیصلہ کینسل کردیا۔۔ کہ شادی چوہے بلی کا کھیل ہے۔۔۔
مگر یہ دیکھو۔۔۔”
اور دو کزنز نے روحیل کو غصے سے دیکھا تھا
“ابھی ان دونوں کی لڑائی رہتی تھی چوبیس گھنٹے جا ن کے در پر ہوتے تھے۔۔۔”
“شٹ اپ بدتمیزوں۔۔۔”
قرطبہ کی آواز جیسے ہی آئی تھی سب اندر چلے گے تھے اور روحیل وہ ابھی بھی وہیں کھڑا تھا
بی جان نے قرطبہ کے ماتھے پر پیار دے کر روحیل کو اندر بلا کر قرطبہ کے ساتھ بٹھایا تھا وہ دونوں ہی شرما رہے تھے سب سے زیادہ روحیل۔۔۔
“شر تو نہیں آتی نہ ویسے تمہیں روحیل کے بچے۔۔۔ ہمیں بھیانک شادی کرکے ڈراتا رہا اور خود اتنی ترقیاں کرلی۔۔؟؟ واہ۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
سب کی ہنسی سے کمرہ گونج اٹھا تھا۔۔۔
“مبارک ہو بہت بہت۔۔۔”
روحیل نے سرگوشی کی تھی
“آپ کو بھی۔۔۔”
وہ دونوں جیسے ہی چپ ہوئے تھے بی جان نے سب کو باہر جانے کا اشارہ کردیا تھا اور خود بھی باہر چلی گئیں تھیں۔۔
“بی جان بس میری شادی بھی کروائیں۔۔۔”
“کل تک تو کہہ رہے تھے نہیں کرنی۔۔”
بی جان وقاص کو چھیڑتے ہوئے کہہ رہی تھی اور سب باہر لاونج میں جا کر بیٹھ گئے تھے ندیم صاحب مٹھائی لینے خود گئے تھے اور گھر کی خواتین یہ خوش خبری فون کرکے تمام رشتے داروں کو دینے چلی گئی تھی
“تب مجھے اس کمینے نے صرف لڑائیوں کا ہی بتایا تھا۔۔۔ یہ واردات تو۔۔”
“ہاہاہاہا بےشرم انسان دفعہ ہوجاؤ۔۔۔”
“ہاہاہاہاہ۔۔۔ وقاص بھائی شرم کریں۔۔۔”
“ارے گائیز سچ میں ابھی اسکی لڑائیاں تھی اور یہ۔۔۔”
پیچھے سے بی جان کی چپل اسکی طرف آئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اگلی صبح انوشہ کو بیڈ پر نہ پا کر وہ پریشانی کے عالم میں اٹھے تھے
“کہیں وہ واپس پاکستان تو نہیں چلی گئی۔۔؟ کہیں اپنے فیصلے پر دوبارہ تو نہیں سوچے گی وہ۔۔؟؟”
وہ ابھی پریشانی میں بیڈ پر بیٹھے تھے جب کھانے کی خوشبو نے انہیں روم سے باہر جانے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
اور وہ کچن میں گیلے بالوں میں کھڑے ناشتہ بناتی ڈاکٹر انوشہ نے پروفیسر فہاج کو پیرا لائزڈ کردیا تھا کچھ سیکنڈز کے لیے۔۔۔
“آہم۔۔۔”
انکی ویسٹ سے نظریں انکے گلے پر پڑ رہی تھی اور پھر انہوں نے اپنی موجودگی کا احساس دلا دیا تھا
“آپ فریش ہوجائیں میں نے ناشتہ بنا دیا ہے صبح جو ملازمہ آئیں تھی اس سے کچھ چیزیں منگوا لی تھی۔۔۔آپ۔۔”
وہ بےدھیانی میں بات کررہی تھ جب پیچھے مڑی تھی فہاج چن کے دروازے کے بجائے انکے بلکل پاس کھڑے تھے۔۔۔
۔
“سانسوں جینے کا اشارہ مل گیا۔۔۔
ڈوبا میں تجھ میں تو۔۔۔کنارہ مل گیا۔۔”
۔
“فہاج۔۔”
فہاج کی آنکھوں میں ایک الگ ہی جنون دیکھا تھا انہوں نے وہ جس طرح انکے پاس آرہے تھے وہ جیسے ہی کاؤنٹر کے ساتھ لگی تھی فہاج نے دونوں سائیڈ پر ہاتھ رکھ کر انہیں پن کردیا تھا
“تو ملا تو خدا کا سہارا مل گیا۔۔۔
غمزدہ غمزدہ۔۔۔دل یہ تھا غمزہ۔۔۔
بن تیرے۔۔بن تیرے دل یہ تھا غمزدہ۔۔۔”
۔
“فہاج۔۔۔”
“انوشہ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہوگیا۔۔؟ تم جیسی خوبصورت ابسرا میری محرم کیسے بن گئی۔۔؟ تمہیں میرے لیے ناشتہ بناتے دیکھ پتہ نہیں میرا سارا کنٹرول کہاں چلا گیا ہے۔۔۔”
وہ انوشہ کی جانب جھکے تھے ۔۔۔بالوں کو کندھے سے پیچھے کئیے انکے لب انوشہ کے کان کی لو کو جیسے ہی چھوے تھے انوشہ کی گرفت کاؤنٹر پر اور مظبوط ہوگئی تھی
“میں اپنے آپ پر کنٹرول پوری طرح کھو رہا ہوں۔۔ جو کل رات کرنے سے ڈر رہا تھا میرا دل کررہا ہے اب کرلوں وہ گستاخی۔۔؟؟”
انوشہ کی آنکھوں میں جیسے ہی دیکھا تھا انہوں نے وہ اجازت مانگ رہے تھے
ماتھے پر سے پسینہ بہہ رہا تھا اور یہی حال انوشہ کا بھی تھا۔۔۔ اتنے سالوں کے بعد یہ انٹیمسی ایک نیا جذبہ تھا انکے لیے بھی جسے وہ بہت پہلے مار چکی تھی
مگر اب تیز دھڑکنیں فہاج کو اپنے اتنا پاس دیکھ کر وہ ڈاکٹر سانس لینا بھول گئی تھی جیسے
“مئے آئی۔۔؟؟”
نظریں ہونٹوں پر جیسے ہی گئی تھی انہوں نے پھر انوشہ کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تھا
“فہاج۔۔۔”
اور انوشہ کی بند آنکھوں نے انہیں جیسے ہاں میں اجازت دی تھی اور وہ گلاب کی پتیوں جیسے لبوں کو چھونے کے لیے جھکے تھے
“اوووہ۔۔۔۔ سو سوری۔۔۔ ہم نے کچھ ڈسٹرب تو نہیں کیا۔۔۔”
“مہران آپ بھی نہ۔۔۔”
مہران نے اونچی آواز میں جیسے ہی کہا تھا وہ دونوں ایک جھٹکے سے پیچھے ہوگئے تھے
“السلام وعلیکم بھابھی۔۔۔”
مہران کی وائف کچن میں داخل ہوئی انہوں نے انوشہ کو گلے لگا کر حیران کردیا تھا۔۔۔
کیونکہ وہ ڈاکٹر صرف اپنے کلوز ونز کے ساتھ ایسے ریلیشن رکھتی تھی یہ پہلی بار تھا کہ وہ کسی غیر سے ملرہی تھی
“وعلیکم سلام۔۔۔”
“السلام وعلیکم بھابھی جی۔۔۔ ماشاللہ آپ دونوں تو کھل کھلا اٹھے ہیں۔۔ کیا روپ آیا ہے۔”
“وٹ دا ہیل مہران۔۔۔”
فہاج اپنے دوست کو باہر لے گئے تھے جو ابھی بھی ہنس رہے تھے
“مہران ایسے ہی تنگ کررہے تھے بُرا مت منائیے گا۔۔۔”
“نو نوو اٹس اوکے۔۔۔”
وہ کچن سے باہر آکر لیونگ روم میں چلے گئے تھے۔۔۔
اور پھر انوشہ حیران رہ گئے تھے بیک ٹو بیک مہمان آرہے تھے۔۔۔
انکے چہرے پر غصہ آگیا تھا۔۔۔ملازمہ نے جیسے ہی کالڈ ڈرنگ رکھی تھی انوشہ نے فہاج کو باہر چلنے کا اشارہ کیا تھا
“انوشہ میں۔۔۔”
“آپ نے کس سے پوچھ کر اتنے لوگوں کی دعوت کی۔۔؟ میں نے آپ سے بس کچھ وقت مانگا تھا فہاج۔۔ میں نہیں چاہتی نکاح کی بات ابھی باہر آئے۔۔۔
چوبیس گھنٹے نہیں ہوئے اور آپ نے اپنا وعدہ توڑ دیا۔۔؟”
وہ غصے سے بول کر واپس کمرے میں جانے کو تھی جب فہاج انکا بازو پکڑ کر ایک کونے میں لے گئے تھے
“وہ لوگ ہمارے رشتے دار نہیں ہیں جو تماشہ لگائیں گے۔۔۔ وہ میرے دوست ہیں انوشہ۔۔
وہ دوست جو اتنے سالوں سے میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ میں اس تنہائی کی زندگی کو چھوڑ کر ایک نیا سفر شروع کروں۔۔۔ یہ وہ دوست ہیں جو میری تنہائی کے ساتھی رہے ہیں انوشہ۔۔۔ میں نے ایک نئی زندگی شروع کی ہے یہ شادی میرے لیے زندگی موت کا مسئلہ ہے کیونکہ میں دل پھینک انسان نہیں ہوں۔۔ یہ میرے لیے وہ آخری خوشی ہے جو میں جینا چاہتا ہو اینجوائے کرنا چاہتا ہوں۔۔ تمہیں اپنی اس فیملی سے ملوانا چاہتا ہوں جو میرے سکھ دکھ کے ساتھی رہے ہیں۔۔۔میں۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوئے تھے جب انوشہ انکے سینے سے لگی تھی۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔میں ہائیپر ہو گئی تھی۔۔۔ فہاج میں ابھی دنیا کو لوگوں کو ہمارے بچوں کو صفائی نہیں دینا چاہتی میں سامنا نہیں کرنا چاہتی دنیا کا۔۔”
انکے ہاتھ فہاج کی ویسٹ پر جیسے ہی گئے تھے فہاج صاحب نے بھی انہیں اپنے گلے سے لگا کر گہرا سانس بھرا تھا،،،
“آئی نو۔۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔ تم جب کہو گی ہم اس وقت ہی سب کو بتائیں گے۔۔
مگر میں تمہیں ملوانا چاہتا تھا کچھ لوگوں سے۔۔۔ اگر تم کمفرٹ فیل نہیں کررہی تو میں انہیں کچھ دیر تک بھیج دوں گا تم ریسٹ کرو میں۔۔”
“اگر آپ کی خوشی ہے تو میں کوشش کروں گی ۔۔مجھے عادت نہیں ہے انجان لوگوں سے ملنے ملانے کی۔۔مگر آپ کی خوشی کے لیے میں کوشش کرنا چاہوں گی۔۔۔”
انکا چہرہ کھل اٹھا تھا انوشہ کی بات سن کر اور وہ انوشہ کا ہاتھ پکڑے وہاں سے واپس لیونگ روم میں لے گئے تھے۔۔۔۔
ان دونوں کو خبر تک نہ ہوئی تھی انہوں نے اپنے نئے رشتے کو اتنی خوبصورتی سے اپنانا شروع کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہا جتنا تم مسکرا رہے ہو نہ کچھ سال پہلے کرلیتے تو تو اب بچوں کے شور سے پورا پارٹمنٹ بھر جانا تھا۔۔”
ایک اور دوست نے جیسے ہی کہا تھا مرد حضرات اور زیادہ کھل کھلا کر ہنسے تھے فہاج صاحب نے انوشہ کی جانب دیکھا تھا جو ایکسکیوز کرکے روم سے باہر آگئی تھی۔۔
سرخ ہوتے رخصاروں پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے خود کو شیشے میں دیکھا تھا
“تھینک یو سوو مچھ انوشہ بھابھی۔۔۔فہاج بھائی کے چہرے کی یہ رونق واپس لانے کے لیے۔۔”
مہران صاحب کی وائف پیچھے سے بولی تو انوشہ نے چہرے سے ہاتھ ہٹا لیا تھا اور بال سیدھے کرتے ہوئے پیچھے ہوئی تھی
“تھنکس کی کوئی بات نہیں۔۔دراصل میرے لیے یہ سب بہت اچانک تھا کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کہوں۔۔ ابھی ہم نے کسی کو نہیں بتایا۔۔۔”
“اور بتانا بھی نہیں چاہیے ابھی آپ دونوں کو۔۔”
انوشہ چلتے چلتے انہیں گیسٹ روم میں لے گئی تھی
“میں سمجھی نہیں۔۔۔”
انوشہ نے کنفیوز ہوکر پوچھا۔۔
“دیکھیں بھابھی مجھے غلط مت سمجھئے گا فہاج بھائی کو میں اس وقت سے جانتی ہوں جب انکی شادی عنبر سے ہوئی تھی۔۔۔ وہ ایک آئیڈیل جوڑی تھی۔۔مگر۔۔۔”
انوشہ نے آج وہ کیا تھا جو پہلے کبھی نہ کیا ہو وہ جاننا چاہتی تھی سب کچھ فہاج کی گزری زندگی کے بارے میں
“آپ بلاجھجھک مجھے بتا سکتی ہیں عالیہ۔۔”
انوشہ کے اتنا کہنے کی دیر تھی جب عالیہ نے سب باتیں بہت تفصیل سے بتانا شروع کی
“عنبر شادی کے پہلے سالوں میں ٹھیک رہی تھی فہاج بھائی بھی بہت خوش تھے۔۔۔ مگر پھر ان کا بزنس آہستہ آہستہ نقصان کا شکار ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔”
“مگر فہاج تو پروفیسر ہیں ۔۔۔کیا پہلے بزنس مین تھے۔۔؟؟”
لہجے میں حیرانگی جھلکی تھی انوشہ کے
“ہاہا۔۔۔ وہ بیسٹ بزنس مین تھے۔۔۔ پھر پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی اور بزنس جانے کے بعد انکی ازدواجی زندگی بھی خراب ہونا شروع ہوگئی تھی جب انہوں نے ٹیچنگ کی جاب ایکسیپٹ کی تھی۔۔۔”
“اووہ۔۔۔”
“آج فہاج بھائی کو اتنے سالوں کے بعد خوش دیکھا ہے،،،بس ایسے ہی رہیئے گا انکے ساتھ آپ۔۔۔ پچھے سال انہوں نے جس تنہائی میں گزاریں ہیں مہران سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔۔”
انوشہ خاموش ہوگئی تھی اس وقت۔۔۔اور جب وہ لیونگ روم میں واپس آئے تو فرہاد نانی ماں کے ساتھ فہاج سے ہنستے ہوئے باتیں کررہا تھا۔۔۔
“خالہ۔۔۔”
انوشہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ بہت محبت سے انکے گلے لگا تھا اور پھر نانی ماں نے انوشہ کو پیار دے کر اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔فہاج کی آنکھوں میں ایک درد تو اٹھا تھا۔۔۔ وہ بھی چاہتے تھے انکے اپنے انکے ساتھ ہوں۔۔ مگر سب ہی تو خلاف تھے انکی خوشیوں کے۔۔۔ بی جان سے امید تھی سو وہ بھی ٹوٹ گئی کل نکاح والے دن۔۔
مگر وہ انوشہ کے لیے بہت خوش تھے۔۔۔ انکی نظریں ایک پل کے لیے بھی انوشہ سے ہٹ نہیں پارہی تھی۔۔۔
“سر۔۔۔ میں آپ کو خالو نہیں کہنے والا۔۔۔کیونکہ آپ ماشاللہ بہت ینگ لگ رہے ہیں میرے ساتھ باہر چلیں گے تو لوگ آپ کو میرا بڑا بھائی ہی سمجھیں گے۔۔۔ اور مامو۔۔۔ مامو کہہ سکتا ہوں صبیحہ کے سامنے۔۔۔”
“فرہاد۔۔۔”
فہاج کے شرماتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر انوشہ نے فرہاد کے کندھے پر تھپڑ مارا تھا۔۔
آہستہ آہستہ سب سینٹر میں کھڑے کچھ نہ کچھ کہہ رہے تھے
مہران صاحب بھی ہاتھ میں گلاس پکڑے کھڑے ہوئے تھے
“انوشہ بھابھی۔۔۔ میرا دوست بہت خاص ہے۔۔۔ اسے عام لوگوں میں شمار نہ کیجئے گا۔۔۔
یہ وہ ہیرا ہے کہ جو تراشنے پر بھی نہیں ملتا۔۔۔ میرا دوست۔۔۔ بہت خاص ہے۔۔۔ اس نے اپنی زندگی کے اتنے سال اس اپارٹمنٹ میں تنہا گزار دئیے کہ کوئی اور ہوتا تو شاید سروائیو نہ کرپاتا۔۔۔آپ۔۔”
مہران کی آواز جیسے ہی بھاری ہوئی تھی فہاج نے اٹھ کر انہیں اپنے گلے سے لگا لیا تھا
“او۔۔۔بھائی بس کرو۔۔۔ دولہے کی رخصتی نہیں ہورہی۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔”
فہاج کی بات نے موڈ پھر سے لائٹ کردیا تھا سب کا۔۔۔اور پھر فرہاد کھڑا ہوا تھا سامنے۔۔
“عام تو میری خالہ بھی نہیں ہیں۔۔۔کل جب مجھے پتہ چلا تو کہ وہ شادی کررہی ہیں میں شدید غصے میں گھر سے نکلا تھا مجھے یقین نہیں آیا تھا جن کو ہم سب کہتے تھے شادی کرلیں انہوں نے اس وقت نہیں کی اب کیوں۔۔؟؟ کیا وجہ ہوگی۔۔؟؟ کوئی زبردستی تو نہیں کررہا انکے ساتھ،،، میں لڑائی کی نیت سے غصے سے نکلا تھا۔۔۔”
جیسے ہی سب ہنسے تھے فرہاد نے پوز کیا۔۔
“مگر جب میں نے خالہ کو دیکھا تو میں سمجھ گیا تھا کہ وہ جو کوئی بھی ہے وہ کوئی عام نہیں ہے۔۔۔
کیونکہ میری خالہ عام نہیں ہیں اتنے سال جنہوں نے ایسا سوچا نہیں اب جب سوچا ہے تو وہ سپیشل ہوگا۔۔۔ اور وہ آپ تھے۔۔۔ آپ سچ میں سپیشل ہیں میری خالہ کا خیال رکھئیے گا۔۔۔”
“میں عام تھا۔۔۔ تمہاری خالہ نے میری محرم بن کر مجھے خاص بنا دیا ہے بیٹا۔۔۔”
گرم جوشی سے فرہاد کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔
“اللہ سدا سہاگن رکھے میری بچی ہمیشہ خوش رہو تم یہ خوشیاں ڈیزرو کرتی ہو بیٹا۔۔۔”
نانی نے انوشہ اور فہاج کو صوفہ پر جیسے ہی بیٹھے کا کہا تھا وہ خود بھی انوشہ کے ساتھ بیٹھ گئی تھی اور دوسری طرف فرہاد بیٹھ گیا تھا فہاج کے ساتھ اور انوشہ کی طرف جھکنے پر مجبور ہوگئے تھے فہاج صاحب اتنی کم جگہ کی وجہ سے۔۔۔ جس پر فرہاد کے نام کی ہوٹنگ شروع ہوگئی تھی۔۔۔ ہر ایک پرسن خوش تھا ان دونوں کے لیےاور خوشیاں دوبالہ ہوگئیں تھیں جب انوشہ کی دونوں فرینڈز بھی گفٹ لیکر وہاں آگئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بیٹا یہاں اچانک سے کیوں بلایا ہوسٹل سے سیدھا نیہا خالہ کی طرف آجاتی۔۔۔؟”
انوشہ نے ابیہا کی طرف دیکھا تھا جو چئیر پر نروس ہوکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“وہ موم میں۔۔کسی کو آپ سے ملوانا چاہتی ہوں پلیز ایک بارپلیز۔۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ اور مجھے لگا تھا تم اپنی زندگی ایسے ہی گزار دو گی چھپا کر۔۔۔”
انوشہ کی مسکراہٹ تشویش میں ڈال گئی تھی ابیہا کو وہ جتنا ڈر رہی تھی اپنی موم کے ری ایکشن سے انوشہ اسکے آپوزٹ ہی تھیں۔۔۔
“واااووو۔۔۔ سچ میں۔۔۔؟؟ روحان ٹیبل سے باہر نکل آؤ۔۔۔”
کندھے سے پکڑ کر ابیہا نے روحان کو باہر کھنچا تھا وہ ہوٹک کے ایک کارنر والے ٹیبل پر بیٹھے تھے جہاں پبلک بہت کم تھی۔۔۔
“روحان۔۔؟؟”وہ پانی کا گلاس چھوٹ کر نیچے گر گیا تھا انوشہ کے ہاتھ سے۔۔
“جی آنٹی۔۔میرا مطلب میم۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔ اففف آج نہیں تو کبھی نہیں۔۔۔”
روحان نے گھبراہٹ میں سب کچھ ایک ساتھ کہہ دیا تھا
“میم۔۔۔ میں آپ کی بیٹی کو بہت پسند کرتا ہوں۔۔ ایکچولی ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔میں۔۔۔ ابیہا سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔میں۔۔۔”
“تمہارے ڈیڈ کو پتہ ہے۔۔؟؟گھر والوں کو پتہ ہے۔۔؟؟”
انوشہ نے جتنے غصے سے پوچھا تھا ابیہا ڈر کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔
فیملی میں سب کو نہیں پتہ۔۔۔ موم کو پتہ ہے اور ڈیڈ کو بھی۔۔۔”
اس نے گہرا سانس بھرا تھا
“فہ۔۔۔ڈیڈ کو کب سے پتہ ہے یہ سب۔۔؟؟ تم دونوں کی پسند کا۔۔؟؟”
“وہ جب ہم پاکستان میں آئے تھے آپ کی طرف۔۔؟؟ ڈیڈ کو اسی لیے لیکر گئے تھے کہ وہ ابیہا کو مل لیں آپ کی فیملی کو مل لیں آپ،۔۔۔”
ڈیٹس اٹ۔۔”
انوشہ یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی تھی
“موم۔۔۔پلیز موم میں روحان سے بہت محبت کرنے لگی ہوں۔۔۔ پلیز۔۔۔ “
ابیہا کی آنکھیں بھر گئیں تھیں جب اس نے انوشہ کے ہاتھوں کو پکڑ کر التجا کی تھی۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔”
وہ ہاتھ چھڑا کر وہا ں سے غصے میں چلی گئی تھی واپس اپارٹمنٹ میں جس شخص پر اسے غصہ تھا وہ اس شخص پر غصہ اتارنا چاہتی تھی۔۔۔
کیب لینے کے بعد وہ جیسے ہی کوڈ لگا کر داخل ہوئی تھی فہاج کوٹ اتارے بیڈ روم کی جانب جارہے تھے۔۔۔
“ہاؤ ڈیرھ یو فہاج۔۔؟؟ ہمت کیسے ہوئی اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی۔۔”
انہوں نے جیسے ہی کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف رخ کیا تھا فہاج کا انکے ہاتھ سے وہ بُکے نیچے گرگیا تھا پھولوں کا۔۔
“میں نےکیا کیا۔۔؟؟ انوشہ کیا ہوا۔۔۔”
“ڈونٹ ٹچ مئ۔۔۔ آپ کی سوچی سمجھی سازش تھی یہ نکاح۔۔؟؟ آپ جانتے تھے ہمارے بچے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں آپ نے اس لیے اتنی جلدی کی ہوئی تھی نکاح کی۔۔؟؟”
وہ چلائی تھی اور فہاج کچھ قدم پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔ انکو زرا بھی غصہ نہیں آرہا تھا اس وقت۔۔۔
“اگر اس وقت تمہیں ہمارے بچوں کی محبت کا پتہ چل جاتا تو کیا تب بھی شادی کرتی مجھ سے۔۔؟؟”
آہستہ سے پوچھا تھا انہوں نے
“نہیں بلکل بھی نہیں۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔”
“بس اسی لیے نہیں بتایا تھا مسز فہاج۔۔۔ جانتا تھا تم بچوں کی خوشیوں کو آگے رکھو گی۔۔۔”
“ایکسکئیوزمئ۔۔؟؟ آپ کیسے اتنے خود غرض ہوسکتے ہیں فہاج۔۔؟؟ بچے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔۔۔ ہم نے جو کیا وہ جلد بازی کا۔۔۔”
فہاج جتنے قدم پیچھے تھے اتنے ہی قدم آگے ہوئے تھے انوشہ کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر اپنی اوڑھ کھینچا تھا اتنا قریب کرلیا تھا اور انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انہوں نے ایک ہی بات کہی تھی
“ہاں میں خود غرض ہو۔۔۔ ہوں میں سیلفش مطلبی باپ۔۔۔ مگر انوشہ میں نے ایک عمر بتا دی بچوں کے لیے رشتوں کے لیے۔۔۔ اب جب موقع ملا تو میں نے فائدہ اٹھا لیا۔۔۔ اور
جانتی ہو وہ فائدہ کس صورت میں ملا مجھے۔۔۔؟؟”
چہرہ جیسے ہی قریب کیا تھا انکے لب انوشہ کی آنکھوں کو چھو رہے تھے جو ابھی بھی شاکڈ تھی فہاج کیاس ایگریشن اس جنون پر۔۔۔
“مجھے وہ فائدہ تمہارے روپ میں ملا ہے۔۔۔ لک ایٹ یو۔۔۔میری نظروں میں ایک مکمل بہترین کامیاب لائف پارٹنر۔۔ لُک ایٹ مئ۔۔۔ لُک ایٹ عس۔۔۔ اگر میں خود غرض نہ ہوتا تو آج تم ایسے میری بانہوں میں نہ ہوتی۔۔۔
اور اگر ملازمہ کچن سے چھپ کر نہ دیکھ رہی ہوتی تو میں نے وہ کرجانا تھا جو پرسو سے کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔”
انوشہ کے ہونٹوں کی طرف دیکھ کر وہ اتنے آہستہ سے بولیں تھے کہ انوشہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی تھی چہرہ اتنا سرخ ہوگیا تھا وہ دونوں وہ بات تو بھول ہی گئے تھے جس بات پر انکی لڑائی ہورہی تھی
“فہاج میری بات۔۔۔”
“مسز فہاج۔۔۔ میں نے اپنی خوشیاں چُن لی بچوں کی خوشیوں کو رد کرکے۔۔۔ تمہیں کھونے کے خیال نے بہت ڈرا دیا تھا کہ یہاں سب کچھ چھوڑ کر بھاگ گیا تھا تمہیں منانے کے لیے۔۔
لوگ اور بھی آئے اور گئے مگر میری زندگی میں میں نے تمہیں شامل کیا ہے انوشہ۔۔
اور ایک بات۔۔۔میں نے تم پر اتنا یقین کیا ہے نہ کہ اپنا دل اپنی زندگی اپنا آپ تمہارے سامنے پیش کردیا۔۔۔ اب علیحدگی بات کرکے کچل نہ دینا ان سب کو۔۔۔”
۔
“پھر بارشیں تو ہونی تھیں۔۔۔
ہوا کو دُکھ جو سنائیں تھے میں نے۔۔۔”
۔
انوشہ کی آنکھوں میں دیکھ کر انہوں نے جیسے ہی کہا تھا انوشہ کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئی تھی اس شخص کو اتنا کمزور دیکھ کر۔۔۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔