Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
ابیہا بیٹا تمہاری شادی اگر روحان سے ہو بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔۔۔”
نیہا نے اپنی بھانجی کے بال سلجھاتے ہوئے کہا تھا جو نیہا کی گود میں سر رکھے مسلسل روئے جارہی تھی۔۔
خالہ میں چار دن کی محبت کے پیچھے نہیں رو رہی میں اس ماں کی جدائی میں رو رہی جن کی خوشیاں نہ دیکھ پائی میں۔۔۔”
نیہا کچھ پل کے لیے چپ ہوئی اور گہرا سانس بھر کر ابیہا کے چہرے کو اپنی طرف کرکے مخاطب کیا
“”ابیہا بیٹا جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔۔ مجھے اس بات کا سوچ سوچ کر پریشانی ہورہی کہ جب انوشہ کو پتہ چلے گا کہ تم نے اسکے لیے شادی توڑ دی تو وہ اداسی کی گہری دلدل میں پھنس جائے گی میں جانتی ہوں اپنی بہن کو۔۔۔”
“تو آپ ہی کچھ ایسا کیجیئے کہ انہوں کچھ پتہ نہ چلے خالہ موم کو ابھی یہ پتہ نہیں لگنا چاہیے کہ میری شادی نہیں ہوئی۔۔۔”
“پہلے تم اٹھو فریش ہو جاؤ کتنے دن سے اسی کمرے میں بند ہو باقی باتیں بعد میں سوچیں گے۔۔۔”
وہ ابیہا کو زبردستی باتھروم کی طرف لے گئی تھی۔۔۔
۔
“انوشہ تم کہاں ہو۔۔۔ تمہاری بیٹی کو ضرورت ہے تمہاری ہے۔۔۔
انہوں نے ایک بار پھر سے اپنی بہن کا نمبر ڈائل کیا تھا اور پھر فہاج صاحب کا دونوں ہی آف جارہے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“روحان بس کر جاؤ چلو گھر۔۔۔بی جان سب پریشان ہیں۔۔۔”
“روحیل بھائی میرے لیے جسے پریشان ہونا چاہیے وہ کہاں ہے وہ نظر نہیں آرہے۔۔۔”
روحیل اور وقاص دونوں روحان کو بازو سے پکڑ کر اس کلب سے باہر لے گئے تھے زبردستی۔۔۔
“بی جان اس حالت میں دیکھیں گی تو کیا ہوگی انکی حالت سوچا ہے تم نے۔۔؟ بدتمیز شراب نوشی کسی مسئلے کا حل نہیں۔۔۔”
گاڑی میں غصے سے ڈال کر روحیل نے دروازہ بند کردیا تھا
“اندر شراب کے ساتھ ساتھ شباب بھی ہے کچھ دیر پہلے آتے تو آپ دیکھتے کتنا انجوائے کررہا تھا۔۔۔ بس روم میں جانے سے پہلے آپ دونوں نے ڈسٹرب کردیا۔۔۔”
روحان بہت بےشرمی سے کچھ گھنٹوں کی داستان اپنے دونوں کزن کو بتا رہا تھا جن کو اور غصہ آیا تھا اس پر۔۔۔
۔
“شیم آن یو روحان۔۔۔”
“ہاں سب شرم مجھے ہی آنی چاہیے۔۔؟؟ اسے کیوں نہیں آئی جو مجھے اکیلا چھوڑ گئی نکاح سے انکار کردیا۔۔ شرم مجھے آنی چاہیے یا میرے باپ کو جو اس عمر میں میری شادی کرنے کے بجائے اپنی شادی رچا کر بیٹھ گئے ۔۔”
گاڑی فل سپیڈ میں آگے بڑھ رہی تھی اور روحان کی ہنسی والی باتیں اسکے رونے میں بدل گئی تھی۔۔۔
“میں ڈھونڈنے کو زمانے میں جب وفا نکلا
پتہ چلا کہ غلط لے کے میں پتہ نکلا۔۔۔”
۔
“روحان۔۔۔”
“روحیل بھائی اسکی مرضی تھی تو بات یہاں تک پہنچی تھی نہ۔۔؟؟ نکاح سے پہلے ایک بار مجھے بتاتی ۔۔۔ اگر ہمارے مطلبی ماں باپ نے یہ کرلیا تو ہم کیوں نہیں کرسکتے تھے۔۔؟
میں ابیہا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔۔ ابیہا کے انکار نے مجھے جیتے جی مار دیا ہے۔۔۔”
۔
“کیوں بےوجہ دی یہ سزاکیوں خواب دہ کے وہ لے گیا
جئیں جو ہم لگے ستم۔۔۔ عذاب ایسے وہ دے گیا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
آپ کو آپ کے بزنس کو میں نے سپورٹ دی تھی مبشر صاحب۔۔۔ میں نے ڈیل دی تھی آپ کو بدلے میں کیا مانگا تھا آپ سے۔۔۔ آپ کی بیٹی کا ہاتھ”
مبشر صاحب اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے احلام جیسے ہی کیبن میں داخل ہوا تھا
“تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے وہ سولہ سال کی بچی ہو۔۔۔ جو میرے اشاروں پر چلے گی۔۔۔
ایک بار پہلے بھی اپنی بیٹی کا ہاتھ دے چکا ہوں تمہیں بھولو مت۔۔۔”
انہوں نے ڈرنے کے بجائے غصے سے بات کی اس وقت وہ ایک عجیب وحشت میں تھے انکے بچے انکے نہیں رہے تھے انوشہ جو انکی نظروں میں کٹ پتلی بنی ہوئی تھی اب وہ اپنے پر پھیلائے اڑ کر جا چکی تھی انکی دنیا سے بہت دور۔۔۔
“یہ آواز میرے سامنے اونچی مت کریں میں برباد کردوں گا آپ کو آپ کے بزنس کو۔۔ اگر میں خوش نہیں تو کوئی بھی خوش نہیں رہے گا۔۔ ابھی حکم دیں اس ہسپتال کو توڑنے کا۔۔اور پھر دیکھئیے گا وہ بھاگتے ہوئے آئے گی یہاں مجھے یقین ہے۔۔۔”
احلام کی بات سن کر مبشر صاحب نے حکم دہ دیا تھا آنے والے کچھ گھنٹوں میں اس بلڈنگ کو خالی کروا کر مسمار کردیا گیا تھا۔۔۔
بہت کچھ کچھ گھنٹوں میں برباد ہوگیا تھا۔۔۔
انوشہ سرے سے غائب تھی بہت سے لوگوں نے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کسی کا رابطہ نہ ہوپایا تھا۔۔۔
مگر ان سب میں انوشہ کے وہ جونئیرز انٹرنز جنہوں نے پلوشہ سے کسی طرح انوشہ کا کنٹیکٹ نمبر لے لیا تھا۔۔۔
اس موبائل پر ایک کال پاکستان سے گئی تھی جو سندس کی طرف سے تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فہاج۔۔ آپ باہر جائیں آپ سے نہیں ہو پائے گا۔۔”
فہاج کے چہرے پر لگے فلور کر دیکھ کر انوشہ نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔
“نہیں آج میں ناشتہ بنانے والا ہوں۔۔”
فہاج کہتے کہتے پھر سے مصروف ہوگئے تھے۔۔۔مگر کچھ منٹ بعد جیسے ہی جلنے کی سمیل انوشہ کو آئی وہ جس طرف سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتی فہاج راستہ روک دیتے
“محترمہ آپ ابھی کے ابھی باہر جارہی ہیں۔۔۔”
جلی ہوئی روٹی کو چھپاتے ہوئے وہ انوشہ کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے۔۔
“افف۔۔۔پلیز مجھے بنانے دیں میں۔۔۔”
“نو۔۔ ڈیٹس فائنل۔۔۔ آج میڈم ہم آپ کی سروس میں ہیں۔۔۔”
انوشہ کو زبردستی اپنی بانہوں میں اٹھائے کچن سے باہر لے گئے تھے
“ہاہاہا فہاج نیچے اتار دیں گر جاؤں گی۔۔۔”
فہاج کی گردن میں منہ چھپائے انوشہ نے ڈرتے ہوئے کہا تھا
“نہیں گرنے دوں گا انوشہ۔۔۔ یقین کرکے دیکھو۔۔۔”
وہ کچن سے باہر آکر رک گئے تھے
“یقین ہی تو کیا ہے فہاج۔۔۔”
انکے ناک سے لگے ہوئے فلور کو انگلی سے صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
“آئی۔۔۔”
فہاج کا منہ جیسے ہی انوشہ کی طرف جھکا تھا پیچھے سے آئی آواز نے ان دونوں کو شاکڈ کردیا تھا
“تم تو پریشان ہو رہی تھی دیکھو تمہارے باپ کی رنگ رلیاں۔۔۔”
عنبر کی آنکھیں بھری ہوئی تھی اور دونوں ہاتھوں کی مٹھی بند ہوچکی تھی اپنے سابقہ شوہر کو کسی اور کے اتنا قریب دیکھ کر۔۔۔
“رنگ رلیاں۔۔؟؟ بیوی ہے میری وہ۔۔۔ عنبر مائنڈ یور لینگوئج۔۔۔”
انوشہ نے آہستہ سے فہاج کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کیا تھا۔۔انکی آنکھو ں کے اشارے پر فہاج نے نیچے اتار دیا تھا اور انوشہ نے پہلی بار عنبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھا تھا
“ڈیڈ۔۔۔؟؟سیریسلی۔۔؟؟”
اریبہ نے روتے ہوئے پکارا تھا
“اریبہ بیٹا۔۔۔”
“ڈونٹ ٹچ مئ ڈیڈ۔۔۔ آپ کیسے ہم سب کو اگنور کرسکتے ہیں ایک نئے رشتے کے لیے۔۔؟”
“آخر تمہیں ملا کیا اس میں فہاج۔۔؟ جو تم نے بغاوت کی۔۔؟”
عنبر نے آگے بڑھ کر پوچھا تھا
“جو تم مجھے نہ دے سکی وہ ملا مجھے اس رشتے سے عنبر۔۔۔۔ ‘یقین’ ‘اعتماد’ بےلوث محبت۔۔ وہ عورت جس نے پیسے سٹیٹس عزت شہرت اپنوں سے پہلے مجھے چنا۔۔ میرا انتخاب کیا۔۔۔ جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا میرے لیے۔۔۔”
فہاج کی بات سن کر انوشہ پرسکون سی ہوگئی تھی اور وہاں سے خاموشی سے اوپر بیڈروم کی طرف چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“فہاج۔۔۔”
جیسے فہاج کی باتوں نے بہت تکلیف پہنچا دی ہو عنبر کو اسکی ایگو کو۔۔۔
“عنبر۔۔۔ ایسے نہ دیکھو جیسے میں نے دھوکا دیا ہو تمہیں یا چیٹ کیا ہو۔۔۔ جو خوشیاں تم نے سالوں پہلے چنی تھی میں نے آج چن لی۔۔ جو تم نے سالوں پہلے کیا اپنے لیے وہ میں نے کردیا۔۔۔ جب تم نے کیا تو تب بچوں کا نقصان نہیں تھا تو آج مجھے کیوں بچوں کی نظر میں مجرم بنا رہی ہو۔۔؟؟”
انکی آنکھوں میں عنبر کو آج اپنے لیے وہ محبت وہ عزت وہ اپنائیت دیکھائی نہیں دی تھی جو وہ دیکھتی آئی تھی۔۔۔
“ڈیم اِٹ یہ کوئی عمر ہے ان سب کی۔۔؟؟ کونسی محبت۔۔؟؟ تمہاری محبت صرف میں ہوں بس میں ہوں۔۔۔آج اس کو فارغ کردو میں آج تمہارے پاس آجاؤں گی فہاج۔۔
کیونکہ میں آج بھی۔۔۔”
فہاج نے پیچھے ہونے کی کوشش کی تھی جب عنبر نے فہاج کا گریبان دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا تھا
“فہاج میں آج بھی تم سے محبت کرتی ہوں۔۔۔”
“موم۔۔۔”
اپنی موم کی باتیں سن کر اریبہ کچھ قدم پیچھے ہوئی تھی اور اسی وقت بیڈروم ڈور اوپن ہوا تھا
“ایم سوری موم۔۔۔ میں کچھ بھی سمجھ نہیں پارہی ہوں۔۔۔”
اریبہ منہ صاف کرکے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
انوشہ بلکل پاس آکر کھڑی ہوگئی تھی اور بہت آہستہ سے عنبر کی انگلیوں سے فہاج کا کالر چھڑوایا تھا
“ضروری نہیں ہے کہ سب کو سب کی محبت ملے۔۔ جو ایک بار محبت کو ٹھکرا دیں انہیں حق نہیں محبوب پرحق جتانے کا۔۔۔ اور محبوب بھی کسی اور کا۔۔۔”
انوشہ نے دونوں ہاتھ جھٹک دئیے تھے وہ جب فہاج سے مخاطب ہوئی تھی انکی بیک عنبر کی طرف تھی۔۔۔ فہاج کے کالر کو ٹھیک کرتے ہوئے انکے رخصار پر بوسہ لیا تھا ہونٹوں کے زرا پاس۔۔۔ اور پھر فہاج کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“میں ابھی جارہی ہوں نیہا سے ملنے جب میں واپس آئی تو ‘ہمارے ‘ گھر کے سب ہی لاکس چینج ہوجانے چاہیے۔۔ میں نہیں چاہتی کہ بار بار کوئی ہماری پرائیویسی میں خلل ڈالے۔۔۔اور۔۔۔”
وہ ابھی بات کررہی تھی جب فہاج نے انکی ویسٹ پر ہاتھ رکھے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔ مگر اب کوئی خلل نہیں ڈالے گا۔۔ لاک کیا تم کہو گی تو گھر بھی چینج کرلوں گا۔۔۔ مگر ابھی۔۔۔ کہیں مت جاؤ۔۔۔”
وہ گھبرا گئے تھے ایک دم سے سینے سے لگی انوشہ انکی کمزوری بن چکی تھی وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ اگر وہ جدا ہو گئے تو کیسے سروائیو کر پائیں گے وہ۔۔۔
۔
“اوکے پروفیسر فہاج۔۔۔ آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں۔۔ تیار ہوکر آجائیں ناشتہ آپ کروائیں گے۔۔۔”
“ہاہا۔۔۔ بس ابھی آیا۔۔۔”
انوشہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ بیڈروم کی طرف چلے گئے تھے بنا عنبر کی طرف دیکھے۔۔۔
۔
“تم سے میں فہاج کو چھین لوں گی۔۔”
عنبر کی بات سن کر انوشہ واپس پلٹی تھی۔۔۔ انکے سامنے وہ عورت تھی جس نے فہاج کو بہت سال پہلے چھوڑ دیا تھا اور آج محبت کا دعوا کررہی تھی وہ۔۔۔
۔
“اگر یہی قدر پہلے کی ہوتی تو آج چھیننے کی نوبت نہ آتی۔۔ فہاج کوئی چیز نہیں ہے انسان ہے۔۔ وہ انسان جن کے جذبات کو احساسات کو اتنے سال تک درگزر کیا گیا کبھی اپنوں نے تو کبھی اپنی بیوی نے۔۔؟؟”
“شٹ اپ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ۔۔ تم کچھ نہیں جانتی۔۔۔وہ آج بھی مجھ سے پیار کرتا ہے تم نے اسے سیڈیوس کیا۔۔۔”
عنبر نے جیسے ہی ہاتھ اٹھایا تو انوشہ نے پکڑ لیا تھا اور اتنی مظبوطی سے پکڑا تھا کہ درد عنبر کی آنکھوں میں عیاں تھا۔۔۔
“سیڈیوس۔۔۔ اور فہاج احمد۔۔؟؟ آر یو نٹس۔۔؟؟ وہ شخص اگر سیڈکشن پر مرمٹنے والا ہوتا تو اتنے سال تنہا نہ رہتا۔۔ آخر تم نے بھی تو کسی مرد کے ساتھ نکاح کیا نہ۔۔؟؟ بچے بھی پیدا کئیے۔۔؟؟ اور انگلی اس شخص کے کردار پر اٹھا رہی جس کے کردار کی گواہی میں آنکھیں بند کرکے دے سکتی ہوں۔۔۔
اور جہاں رہی محبت کی بات۔۔۔”
انہوں نے ہاتھ جھٹک کر چہرہ عنبر کے بہت پاس کیا تھا
“فہاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھو تم آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوکر کر بھی اپنا عکس نہیں میرا چہرہ دیکھو گی فہاج کی آنکھوں میں۔۔۔ وہ میری محبت میں پاگل نہیں ہوا۔۔ میری محبت نے اسے دیوانہ کردیا ہے۔۔۔اور ہماری محبت کو مظبوط ہمارے نکاح نے کیا ہے۔۔۔ بیوقوف عورت۔۔۔”
کندھے کو جھٹک کر انوشہ اپنے پرس کو اٹھا کر گاڑی کی کیز اٹھا کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چاہتوں کا مزہ فاصلوں میں نہیں۔۔۔۔
آ چھپا لوں تمہیں حوصلوں میں کہیں۔۔۔
سب سے اوپر لکھا ہے تیرے نام کو۔۔۔۔
خواہشوں سے جڑے سلسلوں میں کہیں۔۔۔”
۔
لائف لائن۔۔۔ ہم اس ہسپتال کے باہر۔۔۔”
انوشہ کہتے کہتے چپ ہوگئی تھی جب اسکی نظر فرنٹ پر پڑی فہاج کے دوست انکی وائف انوشہ کی فرینڈز وہاں موجود تھی اور ساتھ تھے بی جان فرہاد نیہا اور نازنین
جو ایک خوبصورت سی ٹرے لیکر کھڑے تھے جن میں گلاب کی پتیوں میں رکھا سیزر موجود تھا۔۔۔۔
چلیں میڈم دھاگا کاٹے اور اس ہسپتال کو اپنے ہاتھوں سے ایک نئی زندگی دیں۔۔۔۔ وہ دیکھیں آپ کے ہسپتال کا عملہ بھی موجود ہے۔۔۔
وہاں نرسز سے لیکر سٹاف ممبرز سب نئے لوگوں کو ہائر کیا جا چکا تھا
“فہاج یہ سب۔۔۔۔”
“منہ دیکھائی نہیں دی تھی لیٹ ہوگیا بس وہی بھگت رہا سزا میں۔۔۔”
فہاج کے سینے سے لگ کر انوشہ نے وہ فاصلہ بھی ختم کردیا تھا۔۔۔
“آئی لو۔۔۔”
“شش یہاں نہیں۔۔۔ سیلیبریشن کریں گے تو ہم دونوں کسی ایسی جگہ جہاں ہمارے سوا کوئی نہ ہو۔۔۔
ابھی تو سب دیکھ رہے۔۔۔”
انوشہ کے بالوں کے کانوں کی لو میں اٹکاٹے ہوئے سرگوشی کی تھی
“ہممم۔۔۔۔۔”
انوشہ بھی شرما کر پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔۔ اور آج اتنے ہفتوں کے بعد اپنوں کو دیکھ کر وہ گھبرائی گھبرائی سی لگی تھی۔۔۔مگر تب تک جب تک فہاج نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہیں لیا تھا۔۔۔
۔
وہ ہاتھ پکڑے ایک ساتھ قدم اٹھائے آگے بڑھے تھے۔۔۔۔
۔
اور دوسری طرف روڈ کی اس سائیڈ پر وہ گاڑی سٹارٹ ہوئی تھی اور تیزی سے چلی گئی تھی وہاں سے۔۔۔
۔
“تم صرف میری ہو انوشہ۔۔۔بس میری تمہیں حاصل کرنے کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑا میں کروں گا اس پروفیسر کو دور بھیج دوں گا تمہاری زندگی سے۔۔۔یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔۔”
۔
