Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 05
No Download Link
Rate this Novel
Episode 05
“بلو بگے بلیاں دا کی کرے گی۔۔۔؟؟؟
بگے بگے بلیاں دا کی کرے گی۔۔۔؟؟”
۔
انوشہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی تھی کچھ خاموشی ہوگئی تھی۔۔۔
یہ سرگوشی ہورہی تھی
“دلہے کی خالہ آئی ہیں۔۔۔”
انوشہ کو بی جان بھی کھڑی ہوگئی تھی بچیوں کے درمیان سے۔۔۔
انوشہ پتر۔۔۔”
“جی۔۔۔دراصل۔۔۔وہاں۔۔۔”
انوشہ کا دوپٹہ جیسے ہی کسی چیز کے ساتھ اٹکا تھا فہاج صاحب پیچھے سے چھڑا چکے تھے۔،۔۔
“بی جان میں انہیں لے کر آیا ہوں ۔۔۔وہاں رش تھا روم بک تھے۔۔۔اور ڈاکٹر صاحبہ نے ہوٹل روم میں رات رہنی تھی کوئی اچھی بات ہے۔،۔۔؟؟”
فہاج صاحب نے بی جان کے پاس آکر کہا تھا۔۔۔
“بہت اچھا کیا فہاج بیٹا۔۔۔اؤ انوشہ۔۔۔تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔۔۔ میری کچھ سہیلیاں آئی ہیں پاکستان سے ان سے ملواتی ہوں۔۔۔”
بی جان نے انوشہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“بی جان انہوں نے آرام کرنا ہے۔۔۔ آپ کی سہیلیاں رات بھر سونے نہیں دیں گی۔۔۔پلیز۔۔۔”
“تو تے چپ ہی کرجا۔۔۔ندیم۔۔۔اسے لیکر جاؤ یہاں سے۔۔۔”
فہاج صاحب کو جھڑک دیا۔۔۔ انوشہ کے چہرے پر بکھری مسکان نے انہیں خاموش کردیا تھا۔۔۔۔
۔
“لیڈیز اینڈ جنٹل مینز۔۔۔۔میری بات سنیں۔۔۔۔غور سے سنے۔۔۔”
روحیل نے جیسے ہی مائیک پکڑا تھا ساری لائٹس بند ہوگئی تھی۔۔۔
“آج میں بتانا چاہتا ہوں دیکھانا چاہتا ہوں کہ میں اپنی بیوی کو کتنی محبت کرتا ہوں۔۔۔
قرطبہ میری لائف لائن میری ہارٹ بیٹ۔۔۔۔ میرے آنے والے چنٹو منٹو کی ماما۔۔۔
میرے بچوں کی جنت ہو تم شونا آئی لووو یو۔۔۔”
کچھ زیادہ نہیں ہوگیا۔۔۔؟؟”
فہاج بھی بی جان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا اور دوسری طرف انوشہ بیٹھی ہوئی تھی
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ روحیل بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مور پاور ٹو یو۔۔۔۔”
“اووو میرا شیر۔۔۔۔”
ہوٹنگ ہونا سٹارٹ ہوئی تو سکرین بھی چلنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“قرطبہ میری پہلی محبت۔۔۔۔میرا پہلی شادی۔۔۔”
“اوے وقاص یہ ویڈیو نہیں دوسری۔۔۔”
روحیل نے اپنے کزن کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔
“پر ریموٹ تو تیرے پاس تھا نہ تو بدل۔۔۔ مائیک چھوڑ دے آیوارڈ شو نہیں چل رہا۔۔۔”
۔
اپنی ساری جیبیں چیک کرلی تھی پر ریموٹ تو تھا ہی نہیں روحیل کے پاس۔۔۔”
“پر میری آخری محبت قرطبہ نہیں ہو سکتی۔۔۔ اور شادی تو بلکل نہیں۔۔۔ بھائی لوگوں۔۔۔
تمہارے اس بھائی نے ابھی چار شادیاں اور رچانی ہے۔۔۔”
روحیل اور باقی کزنز ویڈیو میں شو ہورہے تھے اور سب کے چہروں سے ہنسی بھی جا چکی تھی۔۔۔
“ابھی ایک شادی بھگت لوں پھر یہاں کسی گوری میم کو پھنساؤں گا۔۔۔
چیک کی ہے بچیاں۔۔؟؟ ہماری بورنگ بیویوں سے تو اچھی ہے نہ۔۔؟؟”
روحیل۔۔۔۔”
قرطبہ بلکل سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔
“اللہ کی قسم میرے ساتھ کسی نے گیم کی ہے۔۔۔۔ کمینوں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
“روحیل۔۔۔۔”
“اوکے فائن۔۔۔۔”
روحیل نے اپنی گال آگے کی تھی تھپڑ کے لیے مگر مکا پڑا تھا ۔۔۔۔
“ہاہاہا جلدی بتی گل کر جا روحیل کو کھینچ لا وہاں سے ایک آنکھ تو گل ہوگئی اسکی۔۔۔”
“وقاص کو بھیج ۔۔۔”
لائٹ چلی گئی تھی۔۔۔۔
“آہ۔۔۔۔”
روحیل کے ساتھ ایک اور چیخ سنائی دی تھی۔۔۔
یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔۔”
ندیم صاحب تو ہنستےہوئے ایک کونے میں جاکھڑے ہوئے تھے فہاج صاحب ہی تھے جو اس وقت چلائے تھے
“بتی چلاؤ۔۔۔”
اور جب لائٹ آئی تو روحیل کی بائیں آنکھ۔۔۔اور وقاص کی دائیں آنکھ کے ارد گرد ایک دائرہ بن گیا تھا۔۔۔
اور قرطبہ کے ہاتھ میں اب بی جان کی سٹک تھی۔۔۔
“روحیل کو چھوڑو کمینوں مجھے بچا لو۔۔۔”
مگر لائٹ بند ہونے کے بعد روحیل اور وقاص دونوں کی چیخوں کی آوازیں وہاں ہال میں گونج رہی تھی اور باقی سب کے قہقوں کی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔”
انوشہ کی ہنسی نے فہاج کی توجہ حاصل کرلی تھی جو خود بھی ہنس دئیے تھے
“یہ سب ایسے ہی چلتا ہے یہاں۔۔۔؟؟”
انوشہ کے سوال پر وہ اور سنجیدہ ہوئے تھے
“نہیں۔۔۔ ایسے نہیں چلتا کبھی کبھی معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے روحیل اور قرطبہ کی لڑائی ایسے ہی رہتی ہے۔۔۔”
“نائس کپل۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا جورو کا غلام ہے ۔۔۔”
فہاج نے قہقہ لگا کر بتایا تھا۔۔۔ ان کی باتوں میں وہ یہ بھول گئے تھے کہ ان دونوں کے پاس بیٹھے رشتے دار بہت حیرانگی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
“آئیں انوشہ میں آپ کو روم دیکھا دیتی ہوں آپ آرام کرلیجئے۔۔۔”
نازنین انہیں لے جانے لگی تھی جب فہاج کے سامنے سے گزرتے ہوئے انوشہ رک گئی تھی
“ونس اگین تھینک یو پروفیسر صاحب۔۔۔”
اور وہ نازنین کے پیچھے پیچھے اوپر چلی گئی تھی۔۔۔
“پروفیسر صاحب۔۔؟؟ کیا بات ہے کل تک تو جان کے دشمن بنے ہوئے تھے۔۔۔”
فہاج کے خالہ زاد نے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“ایسی بات نہیں ہے وہ فرہاد کی ماسی ہے اور صبیحہ کے سسرال والوں کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔۔۔”
وہ وہاں سے واپس جانے لگے تھے مگر پھر سے مڑے تھے۔۔۔
“بی جان میرے لیے بھی کوئی گیسٹ روم خالی کروا دیں میں اب ڈرائیو کرکے واپس نہیں جا رہا۔۔۔”
“ہاہاہا کچھ نہیں ہے بھئ۔۔۔؟؟”
وہ کزن بھی ہنستے ہوئے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
“میں تمہیں روم میں نہ دیکھوں۔۔۔۔”
آؤچ۔۔۔”
روحیل بیٹھنے لگا تھا کہ درد سے پھر سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
“بیٹھ جا یار ٹگور کردیتے ہیں۔۔۔۔”
“بیٹھ جاؤں۔۔؟؟ اس چڑیل نے میری تشریف سجا دی ہے۔۔۔ نہیں بیٹھا جارہا ہائے میری بمپی۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا بی جان۔۔۔۔ پلیز ہیلپ کردیں۔۔۔”
“ہاں ہاں میرا ڈنڈا کہاں ہے۔۔۔”
“امی بچاؤ۔۔۔۔۔ بی جان ڈرا رہی ہے۔۔۔۔”
وہ سب ہی چیختے ہوئے باہر بھاگ گئے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہا مسٹنڈے۔۔۔۔”
بی جان بھی ہنستے ہوئے بیٹھ گئی تھی اور تب تک نازنین بھی نیچے آگئی تھی انوشہ کو روم دیکھا کر۔۔۔
۔
“بیٹا کمرہ صاف ستھرا تھا نہ۔۔؟؟ وہ ہمارے مہمان ہی نہیں صبیحہ کے سسرال والے بھی ہیں۔۔۔”
“جی بی جان آپ فکر نہ کریں۔۔۔ کھانا بھی میں خود لیکر جاؤں گی آپ فکر نہ کریں۔۔۔”
وہ کچن میں چلی گئی تھی شور شرابہ لڑکیوں کا ہلہ گلہ مہندی پھر سے جاری ہوگئی تھی۔۔۔
پچھلے ایک ہفتے سے یہی خوشی کا ماحول تھا یہاں۔۔۔بی جان سب سے زیادہ خوش تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نیہا میری بات سن لو پلیز۔۔۔”
“آپ سنیں صہیب۔۔۔ آپ نے غلط کیا ہے اپنی کزن کو انوائیٹ کرکے۔۔۔”
“تو کیا کرتا۔۔؟؟ فرہاد اسکا بھی کچھ لگتا ہے۔۔۔خونی رشتے بلانا لازم تھے نیہا۔۔۔”
انہوں نے بہت پیار سے اپنی بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“آپ نے میری بہن کی تکلیف کا سوچا۔۔؟؟ میں نے ایک مہینے پہلے اسے اس لیے بُلایا تھا کہ وہ اپنے سابقہ ہسبنڈ کو اسکی سیکنڈ وائف کے ساتھ خوش دیکھ کر پل پل مرے۔۔؟؟
بتا دیتے مجھے نہ لیکر آتی اپنی بہن کو اس گھر میں۔۔۔”
اپنے کندھے سے ہاتھ ہٹا دئیے تھے صہیب کے۔۔۔
“میں خود بات کروں گا۔۔۔ پلیز نیہا۔۔۔ گھر کے بڑے بزرگ موجود ہیں سب خاندان نیچے ہیں۔۔۔ سب خوش ہیں۔۔۔”
“وہ تو خوش ہوں گے انکی بیٹی جو بس گئی ہے کسی اور کا گھر اجاڑ کر۔۔۔”
“نیہا۔۔۔”
“ڈونٹ شاؤٹ۔۔۔۔ اینڈ تھینکس ٹو یو۔۔۔ جا چکی ہے انوشہ یہاں سے۔۔۔
خوش ہوجائیں میری بہن کی انسلٹ کرکے۔۔۔ اب میں اپنی فیملی کو کہہ دوں گی کہ ہوٹل میں رہیں یہاں اس گھر میں آنے کی ضرورت نہیں ہے جہاں ان سب کے جذبات کی کوئی قدر نہ ہو۔۔۔”
اپنی باتوں سے صہیب صاحب کو انہوں نے حیران پریشان کردیا تھا
“موم ڈیڈ۔۔۔پلیز۔۔۔ آوازیں نیچے تک جارہی ہیں۔۔۔”
“اپنی موم کو سمجھائیں فضول کا تماشہ لگا رہی۔۔۔”
“تو آپ بتا دیتے۔۔۔ ہم نہ انوشہ خالہ کو بُلاتے۔۔۔ پورا سال آپکی فیملی تو یہاں آتی رہتی ہے۔۔۔ کتنے سال کے بعد انوشہ خالہ آئی تھی اور یہ ویلکم کیا ہے ہم نے۔۔۔؟؟
موم تماشہ نہیں لگا رہی ڈیڈ۔۔۔۔چلیں موم۔۔۔ میں لے آؤں گا خالہ کو۔۔۔”
فرہاد انکا ہاتھ پکڑ کر لے گیا تھا۔۔۔
“شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔۔”
وہ دروازہ زور سے بند کرچکے تھے اپنے بیڈ روم کا۔۔۔
“صہیب۔۔۔۔”
صہیب صاحب بیڈ پر بیٹھ چکے تھے احلام کی آواز سن کر۔۔۔
“اگر ہمارے یہاں آنے سے مسئلہ ہوا ہے تو بتا دو ہم چلے جاتے ہیں یار۔۔۔”
احلام ساتھ بیٹھ گئے تھے وہ بات تو کرچکے تھے مگر اب ڈر رہے تھے کیونکہ وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتے تھے یہ ایک مہینہ ہی تو تھا انکے پاس انوشہ کو منانے کا۔۔۔
“احلام۔۔۔تم انوشہ کے بیڈروم میں کیا کرنے گئے تھے۔۔۔؟؟”
صہیب صاحب کی بات پر احلام نے جیسے سرد آہ بھری تھی۔۔۔
صہیب کے ساتھ رشتے داری ہی نہیں پکی یاری بھی تھی احلام کی۔۔۔
“تمہیں کیسے پتہ۔۔؟؟”
“وہ جس طرح اس کمرے سےنکلی تھی اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں وہ۔۔؟؟ تم گئے کیوں تھے وہاں۔۔۔؟؟ تمہاری بیوی بھی اسی چھت کے نیچے ہے۔۔۔ بھول گئے ہو۔۔؟؟”
“میں جانتا ہوں پاکستان سے یہاں تک کیسے وقت گزارا ہے میں نے صہیب میں اسے دیکھنے کے لیے بہت بے چین رہا ہوں۔۔۔ جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنی من پسند چیز پانے کے لیے تڑپ جائے۔۔۔
میرا دل مچل گیا تھا اسکے معصوم چہرے کو دیکھ کر۔۔۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا مگر وہ شخص۔۔۔کون تھا جسے دیکھ کر اسکے چہرے پر گھبراہٹ ختم ہوگئی تھی۔۔۔”
احلام سرگوشی کرتے ہوئے غصے سے پوچھ بیٹھا تھا۔۔۔
“کون شخص۔۔۔؟؟”
“جس کے ساتھ وہ چلی گئی۔۔۔؟ جو یہاں سے باہر نکل رہا تھا۔۔۔”
“کون۔۔۔؟؟؟”
“اففف۔۔۔۔ بلیک پینٹ شرٹ پہنا وہ شخص۔۔۔۔”
صہیب صاحب نے کچھ پل کو سوچا اور انکی آنکھیں شاکڈ سے بڑی ہوگئی تھی۔۔۔۔
“فہاج کے ساتھ انوشہ گئی ہے۔۔۔؟ کیا سوچ رہے ہوں گے وہ۔۔۔۔
احلام تمہیں آئے ہوئے ایک دن نہیں ہوا اور یہ کام شروع کردئیے۔۔۔؟؟
پلیز انوشہ سے دور رہو۔۔۔”
۔
“کوشش کر چکا ہوں بہت سالوں سے۔۔۔۔ کوشش کرتے کرتے ہار گیا ہوں۔۔۔”
صہیب صاحب دروازے پر رکے تھے دوست کے رنجیدہ لہجے کو دیکھ کر۔۔۔
“رامین کے بارے میں سوچا ہے ۔۔۔؟؟ اسے پتہ چلے گا تو کیا ہوگا جانتے ہو۔۔۔؟؟؟”
“کچھ نہیں ہوگا۔۔۔میں اپنی بیوی کو واپس حاصل کرنا چاہتا ہوں بس۔۔”
“بیوی۔۔۔؟؟ طلاق ہوچکی ہے۔۔۔ موو آن کر جاؤ۔۔۔۔ وہ تمہاری طرف پلٹ کر نہیں آنے والی اتنا تو جانتا ہوں میں۔۔۔”
۔
وہ وہاں سے جیسے ہی گئے تھے۔۔۔۔ احلام نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔
۔
“کچھ پاس میرے۔۔۔میرا تھا ہی نہیں
جو کچھ ہے سب تیرے ہونے سے۔۔۔۔
۔
کوئی اور میرا اب ہو نہ ہو۔۔۔۔
مجھے ہے مطلب تیرے ہونے سے۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آپ کو کچھ چاہیے تھا۔۔۔؟”
دروازے کے باہر فہاج صاحب کھڑے تھے جن کو دیکھ کر انوشہ ونڈو سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔۔۔۔
“دروازہ لاک کرکے سوئیے گا۔۔۔ اچھی بات نہیں ہوتی دروازے بنا لاک کئیے سونا۔۔۔۔شب بخیر۔۔۔۔”
وہ گزر گئے تھے وہاں سے اور اپنے روم کی جانب چلے گئے تھے جہاں وہ آج رکے تھے۔۔۔۔
۔
“دروازہ لاک۔۔۔۔؟”
انوشہ نے کچھ سوچنے کے بعد لاک کرلیا تھا ڈور۔۔۔
“عجیب آدمی ہے۔۔۔۔بنا جواب سنے چلے گئے۔۔؟؟”
وہ بستر پر بیٹھ گئی تو آج گزری دن نے انکوپوری طرح اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔۔۔
اپنے دونوں ہاتھ اپنے گرد لئیے وہ خود کو محفوظ کررہی تھی اس انجانے ڈر سے۔۔۔
“وقت۔۔۔وقت کی بات ہے۔۔۔ کبھی وہ شخص میری محفوظ دنیا تھا۔۔۔ میری جنت تھا وہ اس دنیا میں۔۔۔ آج اس کی نزدیکی سے جو وحشت مجھے ہوئی ہے میں وہ بیان نہیں کرسکتی۔۔۔ اگر خود کو اس وقت اسکی گرفت سے آزاد نہ کرتی تو میں تو برباد ہوجاتی پوری طرح۔۔۔
وہ۔۔۔یہی تو چاہتا ہے۔۔۔مجھے حاصل کرلے تاکہ میری کمزوری کا فائدہ اٹھا سکے۔۔۔
اسے کیا معلوم محرم نا محرم رشتے کا فرق اسے کیا معلوم زنا کی گندگی کا۔۔۔
اسے کیا معلوم۔۔۔ جسموں کے ایک ہونے سے گناہ ملتے ہیں خوشیاں یا محبت نہیں نا محرم کے۔۔۔
وہ میرا نا محرم ہے۔۔۔”
خود سے ہم کلام وہ آنکھیں بھیگ جانے پر اور سمٹ کر رہ گئی تھی خود میں۔۔۔
“بھری جوانی میں بیوہ ہونے والی لڑکی۔۔۔۔ اور بڑھاپے میں طلاق پانے والی عورت ان دونوں میں فرق صرف نصیب اور ظالم کا۔۔۔
ظلم دونوں ہی کرتے ہیں نصیب بھی اور مرد بھی۔۔۔۔ اگر دوبارہ شادی کرلیتی تو وہ عورت جو تمہاری محبت میں دیوانی تھی وہ پھر سے تمہاری باتوں میں آجاتی۔۔۔
مگر میں نے شادی نہیں کی۔۔کیونکہ میں تمہیں دوسرا موقع نہیں دوں گی میری زندگی میں واپس آنے کا احلام۔۔۔
بےوفا مرد کو محبت میں چاہے ہزار بار معاف کردیا جائے۔۔۔ مگر ایسے شوہر کو دوسرا موقع نہیں دینا چاہیے ورنہ زندگی دوزخ سے کم نہیں ہوتی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عجیب عورت ہے۔۔۔دروازہ کھول کر کون سوتا ہے۔۔۔؟؟ مانا کہ ہرا بھرا گھر ہے لیکن یہ کیا بات ہوئی۔۔۔؟؟”
فہاج نے اپنا کوٹ اتار کر بیڈ سائیڈ پر لٹکا دیا تھا اور خود شرٹ کے بٹن کھول کر جیسے ہی بیٹھا تھا دروازے پر ناک ہوئی تھی
“فہاج بھائی۔۔۔؟؟”
“نازنین ۔۔۔اندر آجاؤ۔۔۔”
وہ تھک کر لیٹ گئے تھے اٹھنے کی کوشش کی تو بہن نے نہ میں سر ہلا دیا تھا۔۔
“فہاج بھائی لیٹے رہیں۔۔۔ گرم دودھ کا گلاس لیکر آئی ہوں۔۔۔ بہت خوشی ہورہی ہے آپ یہاں رات رہیں گے۔۔۔ “
“ہمم بہت تھک گیا ہوں۔۔۔”
انہوں نے آنکھیں بند کرلی تھی جب بہن نے سر پر ہاتھ رکھا تھا بڑے بھائی کے
وہ ایک جملہ بہن کو بہت ناگوار گزرا تھا
“فہاج بھائی۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے ان لوگوں کو بلانا ہوگا۔۔۔”
“جانتا ہوں۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔بس بار بار میرا سامنا نہ ہو اس سے۔۔۔ویسے بھی میں نے کچھ ضروری کام کے لیے فرانس چلے جانا ہے۔۔۔”
بہن نے دودھ کا گلاس اٹھا کر بھائی کے سامنے کیا تھا۔۔۔
“میں جانتی ہوں اس عورت کو دیکھنے کے بعد آپ کو کام یاد آئے ہوں گے سارے۔۔۔؟ آپ ایک بار منع کردیں میں انہیں بھی منع کردوں گی۔۔۔”
تین گھونٹ میں وہ مکمل گلاس پی چکے تھے۔۔۔۔
“میں نہیں چاہتا تم کسی کو بھی منع کرو۔۔۔۔تم میری بہن ہی نہیں ہو بس اور بہت رشتے جڑے ہوئے ہیں تم سے نازنین۔۔۔۔امی ہوتی تو کیا کہتی۔۔۔؟؟”
نازین کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا۔۔۔۔
“امی کہتی کہ کیسی بہن ہے۔۔۔؟ بھائی اس عمر میں تنہا ہے اور مجھے پرواہ نہیں۔۔۔فہاج بھائی۔۔۔۔ دوسری شادی کا سوچ لیں۔۔۔۔”
“آج کہہ دیا نازنین پھر مت کہنا دوسری شادی کا۔۔۔۔
جن مردوں کو پہلی شادی راس نہ آئے انہیں دوسری بھی راس نہیں آتی۔۔۔”
“آپ ایک موقع دیں پلیز۔۔۔۔”
“محبت ہوجاتی کسی سے تو ضرور شادی کا سوچتا۔۔۔۔ مگر میرے دل نے دل پر پتھر رکھ لیا ہے اب یقین نہیں رہا کھوکھلے رشتوں اور محبت کے فریب میں۔۔۔۔۔”
۔
باتیں تمام کر دی تھی ان کے اس جملے نے بہن خاموشی سے کمرے سے باہر چلی گئیں تھیں۔۔۔۔
۔
“اب عمر کہاں رہی ہے شادی کی۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
انہوں نے خود سے سوال کیا تھا۔۔۔۔
“اب انتظار ہے زندگی کے ختم ہوجانے کا بس۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نہیں مجھے اب چلنا چاہیے۔۔۔”
“بیٹا ناشتہ تو کرجاؤ۔۔۔”
“میں دراصل ناشتہ کرتی ہی نہیں ہوں۔۔۔ میں کسی کیفے سے کافی لے لوں گی۔۔۔ تھینک یو آپ نے مجھے یہاں رہنے دیا۔۔۔ٹیک کئیر،،،،”
انوشہ بی جان کو انکار کرکے وہاں سے جانے لگی تھی سب کو ہی غصہ آیا تھا اتنے بے رخے لہجے پر انکے۔۔۔۔ دروازے پر نیہا کھڑی تھی فرہاد کے ساتھ۔۔۔
“میں گھر ہی آرہی تھی۔۔۔”
انوشہ ان دونوں کے پاس سے گزر گئی تھی۔۔۔ اب گھر والوں کو محسوس ہورہا تھا کہ کچھ تو گڑبڑھ تھی۔۔۔
“یہ تو بہت مغرور ہے صبیحہ کی خالہ ساس۔۔۔”
فہاج صاحب چائے کا سیپ لیتے لیتے رک گئے تھے۔۔اور جب انہوں نے انوشہ کی طرف دیکھا تو وہ جا چکی تھی وہاں سے۔۔۔
۔
“السلام وعلیکم۔۔۔ دراصل ہم انوشہ کو ہی لینے آئے تھے بی جان وہاں ہاسپٹل میں ایک ایمرجنسی آگئی جہاں انوشہ کا جانا ضروری ہے۔۔۔ میں شام میں واپس آکر ملتی ہوں۔۔۔”
نیہا بی جان کے ہاتھ پکڑے جلدی جلدی تفصیل بیان کرچکی تھی۔۔۔اور انوشہ کے پیچھے پیچھے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
“ایم سووو سوری بی جان انوشہ خالہ کو ائیر پورٹ میں نے ہی چھوڑنے جانا ہے۔۔۔”
“تو کیا وہ شادی اٹینڈ نہیں کریں گی۔۔؟؟”
فہاج کے سوال پر سب کی نظریں ان پر تھی
“شاید نہ کرپائیں۔۔۔ایم سو سوری۔۔۔”
فرہاد بھی چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
“عجیب بات ہے۔۔۔”
“وہ سرجن ہے وہاں کی۔۔۔”
انکی بھانجی نے کہا اور پھر وہاں ڈائننگ ٹیبل پر باتیں شروع ہوگئی تھی فرہاد کے سسرال کی خاص کر اسکی خالہ کی۔۔۔۔
“اس طرح بی جان کی بات ری جیکٹ کر گئی۔۔۔”
پھو پھو نے پھر سے منفی بات کہی تھی
“ایسی بات نہیں ہے پھوپھو۔۔۔ وہ وہاں صرف ایک سرجن نہیں ہے ان کا ہسپتال ہے وہ۔۔۔جہاں انکی ضرورت ہوسکتی ہے۔۔۔”
“تمہیں بڑا پتہ ہے اس کا اس نے بتایا۔۔؟؟”
“ہاہاہا نہیں میں نے کل انہیں سرچ کیا تھا ماشاللہ وہ لگتی ہی نہیں تھی فورٹی کی کل بس میں نے سرچ کیا تو میں حیران رہ گئی بہت ینگ لگتی ہیں ماشاللہ اور بہت کامیاب نام ہے ان کا اپنے شعبے میں۔۔۔ ٹاپ ٹین سرجن میں ان کا نام نمبر 4 پر ہے۔۔۔”
“واااووووو۔۔۔۔ امیزنگ۔۔۔۔”
فہاج صاحب اس وقت باہر جانا چاہتے تھے ایک بار انکے دل نے یہ خواہش ظاہر کی تھی انوشہ کو آخری بار دیکھنے کی۔۔ مگر پھر انہوں نے رد کردیا۔۔۔
“اچھا ہے واپس جارہی ہے۔۔۔”
خود سے سرگوشی کی تھی انہوں نے۔۔۔
“نہ بھی جاتی تو زیادہ اچھا تھا۔۔۔”
پھر سے ایک سرگوشی کی تھی انہوں نے
۔
۔
“مل رہا ہے۔۔۔ نہ کھو رہا ہے تو۔۔۔
کتنا دلچسپ ہو رہا ہے تو۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“خالہ ائیر پورٹ آگیا ہے۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔”
“اگر رات کو فون آگیا تھا تو مجھے رات کو بتا دینا چاہیے تھا۔۔۔ وہ صرف ایک پئشنٹ نہیں ہیں میری۔۔۔”
“مجھے نہیں پتہ تھا وہ مریضہ کچھ خاص ہیں۔۔ میں نے تمہیں کبھی کسی کے ساتھ اٹیچ نہیں دیکھا۔۔۔”
مگر انوشہ اپنا بیگ لیکر گاڑی سے باہر آگئی تھی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔واپس آؤ گی۔۔۔؟؟؟ میرے فرہاد کی خوشیاں ادھوری ہیں تمہارے بغیر۔۔۔”
وہ ماں بیٹے دونوں مایوس اور اداس ہوگئے تھے اس وقت۔۔۔
“ان لوگوں کو انوائیٹ کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا نیہا۔۔۔
میں نے اس شخص کو ان سالوں میں اپنے سامنے آنے نہیں دیا۔۔۔اور تم لوگوں کی وجہ سے وہ کل رات میرے روم تک آگیا تھا۔۔۔
ایم سوری۔۔۔بٹ آئی کانٹ۔۔۔۔”
اور وہ اندر چلی گئی تھی بنا پیچھے مڑے۔۔۔
“انکی تو میں۔۔ انکی ہمت کیسے ہوئی خالہ کے کمرے میں جانے کی۔۔؟؟”
فرہاد غصے سے گاڑی کی طرف بڑھنے لگا تھا جب نیہا نے ہاتھ پکڑ کر روکا اسے۔۔۔
“فرہاد۔۔۔ وہ شخص اب رشتے دار ہے تمہارے ڈیڈ کا۔۔۔ انکے لیے خاموش ہوجاؤ۔۔۔ مہمان آئے ہوئے ہیں تماشہ لگا تو انوشہ کو بھی ان سب میں گھسیٹا جائے گا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
پاکستان۔۔۔۔۔”
کچھ گھنٹے بعد۔۔۔۔”
۔
“سب اندڑ کنٹرول ہے ڈاکٹر انوشہ آپ کو اتنی جلد بازی میں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔”
مگر وہ سب کو اگنور کرکے آئی سی یو میں داخل ہوئی تھی۔۔۔
“آپ اب کیسی ہیں۔۔؟”
“میں اب ۔۔۔پہلے سے ٹھیک ہوں پتہ ہے اب اس اذیت سے جان چھوٹنے والی ہے۔۔۔”
“ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ میں آپ کا کیس واپس لے رہی ہوں۔۔۔ مجھے پتہ ہوتا تو میں چھوڑ کر نہ جاتی۔۔۔”
انوشہ کی فائل کو اٹھا کر ایک سائیڈ پر کھڑی ہوگئی تھی اور وہ ڈاکٹرز روم میں موجود تھے وہ بھی اس وقت اس چیز سے ڈر رہے تھے کہ اسکا ری ایکشن کیا ہوگا۔۔۔
“آپ کو پتہ تھا پچھلے دو دن سے انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور آپ نے الرٹ جاری نہیں کیا مجھے۔۔؟؟”
نظریں فائل پر تھی اور آواز میں شدید غصہ تھا۔۔۔
“تم نے کہا تھا۔۔۔ وہ آجائے گا جس نے مجھے زندگی بھر کا روگ لگا دیا
وہ آئے گا جب اسے سہی غلط کی پہچان ہوگی۔۔۔ میں اب آنکھیں بند کرنے والی ہوں اور وہ نہیں آیا۔۔۔انوشہ۔۔۔
میرا مجرم نہیں آیا اتنے سال ہوگئے انتظار کو۔۔۔اب نہیں تو کب آئے گا۔۔۔؟
میں چاہتی تھی وہ ایک بار مجھے مل لے۔۔۔ میں ایک آخری بار اسکے سینے پر سر رکھ لوں۔۔۔ کیونکہ میرے مرنے کے بعد میں پھر سے اسکے لیے نامحرم ہوجاؤں گی۔۔۔
وہ حق کھو دے گا میرے وجود کو چھونے کے۔۔۔”
درد ایسا تھا کہ وہاں موجود ہر کوئی آبدیدہ ہوگیا تھا اس ضعیف خاتون کے ساتھ ساتھ۔۔۔
مگر انوشہ اپنی جگہ ساکن تھی۔۔۔
“آپ سب جائیں۔۔۔”
انوشہ نے سوائے ایک نرس کے باقی سب کو اس روم سے بھیج دیا تھا اور خود انکے پاس بیٹھی گئی تھی۔۔۔۔
“دیکھیں مسزمظہر۔۔۔”
“تمہیں یاد ہے انوشہ جب تم شروع شروع میں مجھے مسز مظہر کہتی تھی تو میں جان بوجھ کر نہ سننے کا ڈرامہ کرتی تھی اور تم پھر سے مسز مظہر کہتی تھی۔۔”
انوشہ نے ہاں میں سر ہلایا تھا اور خاموشی سے ان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“آپ نے ان لوگوں کو کیوں منع کیا تھا مجھے بتانے سے۔۔۔؟؟”
“کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے مرجانے کے بعد تمہاری لسٹ میں ایک ناکام کیس کا نام لکھا جائے۔۔۔”انوشہ نے نفی میں سرہلایا تھا
“تم نے مجھے میرے سوالات کا جواب نہیں دیا انوشہ۔۔۔ وہ ابھی تک نہیں آیا۔۔۔
کب آئے گا۔۔۔؟؟”
“محبت میں بھاگے ہوئے لوگ اس ڈر سے بھی سامنے نہیں آتے کہ آپ کی نظروں کے تیر انکی آنا کو اور گھائل نہ کردیں۔۔۔”
ایک کارنر پر کھڑی نرس نے نظریں اٹھا کر ڈاکٹر انوشہ کو دیکھا تھا وہ حیران ہوگئی تھی
“آپ ٹھیک ہوجائیں گی مسز مظہر۔۔۔”
“ایک بار پھر سے پکارو۔۔۔۔”
“مسز مظہر۔۔۔”
اور مسز مظہر آبدیدہ ہوگئی تھی۔۔۔
“بہت افسوس ہورہا ہے اپنی آنا پر بےجا ضد پر انوشہ۔۔۔ مظہر نے دوسری شادی ہی تو کی تھی نہ۔۔۔ مجھے چھوڑا تھوڑی تھا۔۔۔ میں آنا میں آگئی۔۔۔ یہی سوچتی رہی کہ وہ آئے گے مجھے لینے۔۔۔
میں نے تو اپنے شوہر کے ساتھ ساتھ اپنی محبت کو بھی کھو دیا۔۔۔”
مانیٹر کی بیپ تیز ہوگئی تھی
“آپ ریلیکس رہیں نرس۔۔۔۔”
انوشہ اٹھنے لگے تھی جب انہوں نے پھر سے ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“اگر وہ آجائے۔۔۔ تو اسے کہہ دینا جہاں اتنے گناہ کئیے ہیں وہاں اک اور سہی۔۔۔
میرے جنازے کو کندھا دینے سے پہلے وہ میرے ماتھے پر ایک بار بوسہ ضرور دے اور ایک آخری بار اپنی محبت کا اظہار کرے۔۔۔ چاہے جذبات جھوٹے ہی سہی مگر مکمل الفاظ کے ساتھ ایک بار مجھ سے وہ کہے کہ اس نے مجھ سے پیار کیا تھا۔۔۔
انوشہ اسے کہنا۔۔۔مجھے میری روح کو سکون مل جائے گا۔۔۔”
۔
کچھ منٹ میں انکی آنکھیں بند ہوگئی تھی اور اس کمرے کا دروازہ بھی کھل گیا تھا
“فردوس۔۔۔؟؟؟”
۔
انوشہ انکی آنکھیں بند کرچکی تھی اور خاموشی سے وہاں سے اٹھ گئی تھی اسکی آنکھوں میں کوئی آنسو نہیں تھا جیسے آنکھیں پتھر ہوں۔۔۔
اس نے اس کمرے سے جانے سے پہلے اس روتے ہوئے شخص کو ضرور دیکھا تھا۔۔۔
جو ساری زندگی اذیتیں دینے کے بعد ایک معافی سے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کررہا ہو۔۔۔
۔
۔
“عش اگر ‘خاک’ نہ کردے۔۔۔
تو ‘خاک’ عشق ہو۔۔۔۔۔”
۔
۔
