Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
“فہاج۔۔۔کیا ہوگیا ہے تمہیں کنٹرول کرو۔۔۔”
ندیم صاحب فہاج کا ہاتھ پکڑ کرواپس لے آئے تھے انہیں۔۔۔
“مجھے کیا ہوا ہے۔۔؟؟ یا ان لوگوں کو کیا ہوا ہے۔۔؟”
وہ اندر جیسے ہی آئے تھے بی جان نے فہاج کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
“خدا کا واسطہ ہے فہاج بیٹا اس معاملے کو ٹھنڈا کرو اور گرم نہیں جوان بیٹی کی عزت کا سوال ہے۔۔۔”
وہ لوگ جیسے ہی واپس آئے تھے صبیحہ بےہوش ہوکر نیچے گر چکی تھی۔۔۔
“میں ان لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں اسکی ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو دھوکا دینے کی۔۔؟”
روحیل نے نازنین بیگم کی مدد سے صبیحہ کو اٹھایا اور کمرے میں لے گئے تھے
“ہم آپ کے مجرم ہیں بی جان۔۔۔ مگر اس قدر گھنونا کام نہیں کرسکتا میرا بیٹا،،،”
نیہا اشکبار تھی
“بس کر جائیں یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے کیا۔۔؟ آپ کا بیٹا دھوکے باز ہے اور آپ لوگ چلے جائیں ہمیں کوئی رشتہ نہیں رکھنا آپ سے۔۔۔ اور تم ابھی تک یہیں ہو بےشرم لڑکی دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔”
پھوپھو نے اسے لڑکی کو تو دھکے دے کر نکال دیا تھا مگر صہیب صاحب اور نیہا کو بھی باہر جانے کا راستہ دیکھا دیا تھا تھاس
“بس کر جاؤ تم سب بس۔۔۔ رشتے ایسے نہیں ٹوٹ جاتے نیہا پتر یہ جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا مگر ہم یک طرفہ فیصلہ نہیں کرسکتے۔۔۔”
“مگر بی جان وہ لڑکی۔۔۔”
“بس بیٹا فہاج۔۔۔ میں نے سب دیکھا بھی اور سنا بھی۔۔۔ یک طرفہ فیصلے خاندانی لوگ نہیں کرتے ہمیں ان کی طرف کی بھی سچائی جاننی ہوگی۔۔۔ اور اس لڑکی کی سچائی کیسے پتہ کروانی ہے میں دیکھ لوں گی۔۔۔
کل نیہا ک گھر والوں اور انکی فیملی کے بڑے بزرگ سے مل کر ہی میں کچھ فیصلہ دے سکوں گی۔۔ اور سے پہلے کوئی بھی اپنی رائے قائم نہ کریں تو اچھا ہوگا۔۔۔”
“بی جان ایک بار ہماری بات سن لیں۔۔”
“بس نیہا پتر آج کے لیے اتنا کافی تھا آپ لوگ بھی جائیں اور کوشش کریں کے کچھ معجزہ ہوجائے کہ بکھرے رشتے پھر سے سمٹ جائیں آپس میں۔۔۔”
“چلو نیہا۔۔۔۔”
صہیب صاحب نے نیہا کے کندھے پر بازو رکھ کر انہیں سہارا دیا تھا اور اپنے ساتھ لے گئے تھے۔۔۔۔
“آپ سب لوگ بھی۔۔۔”
بی جان کی آواز بہت بھاری ہوگئی ھی جب وہاں خاندان کے ہی لوگوں نے باتیں کرنا شروع کردی تھی
“یہ کیسے رشتے دار ڈھونڈ لائے آپ اس سے اچھا خاندان والے ہی تھے جو یہاں ایسے فراڈ تو نہیں کرتے تھے۔۔۔”
فہاج سیدھا صبیحہ کے کمرے میں چلے گئے تھے مگر لوگوں کی باتیں بند نہ ہوئی تھی اس وقت وہ تو شروع ہوئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فرہاد۔۔۔۔فرہاد۔۔۔۔”
فرہاد پورے کمرے کا فرنیچر توڑ چکا تھا جب انوشہ روم میں داخل ہوئی۔۔
“بس میرے بچے۔۔۔۔ ریلیکس۔۔۔”
“اسکی ہمت کیسے ہوئی آپ سے ایسے بات کرنے کی خالہ۔۔ کیوں ہم لوگوں نے ان کو اپنے سروں پہ سوار کردیا کہ وہ منہ کو آپڑے۔۔۔”
وہ منہ دوسری طرف کرچکا تھا جب انوشہ نے فرہاد کا چہرہ بہت پیار سے اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“تمہیں میری انسلٹ پر غصہ آیا مگر رشتہ نہ ہونے کی سوچ نہیں آئی فرہاد۔۔؟؟”
“خالہ۔۔۔ اسکا مجھ پر یقین نہ کرنا مجھے زندہ مار دینے کے برابر ہے۔۔۔ “
“تم جانتے ہو تم سچے ہو۔۔۔ایک بار ہاں کہو ہم خود وہاں جائیں گے ان سے بات کرنے فرہاد میں تمہاری سچائی سامنے لاؤں گی۔۔۔”
فرہاد نیچے بیٹھ گیا تھا جب اسکی آنکھیں بھیگ چکی تھی انوشہ کو دیک کر شاک ضرور لگا تھا مگر وہ اس وقت اپنے بھانجے کی خالہ نہیں ماں بن کر اسے سپورٹ کرنا چاہتی تھی
“خالہ۔۔۔ مجھے تکلیف اس بات کی ہوئی ہے کہ اس نے مجھ پر یقین نہیں کیا کہ جس نے پوری زندگی گزارنی تھی میرے ساتھ۔۔۔
مجھے اسکے مامو کے تھپڑ کی اتنی تکلیف نہیں ہوئی جتنی اس کی بدتمیزی پر ہوئی جو اس نے آپ کے ساتھ کی۔۔۔”
اور اس وقت انوشہ نے فراہد کے اسی گال پر ہاتھ رکھا تھا
“تم میرے بہادر با ہمت بیٹے ہو فرہاد۔۔۔ تم اب تو ضرور ان لوگوں کے سامنے اپنی سچائی لاؤ گے۔۔۔”
“نہیں ماسی ہم نہیں کچھ ثابت کریں گے۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔ جس لڑکی نے رشتے سے پہلے آپ کی یہ عزت کی وہ بعد میں کیا کرے گی۔۔؟؟ میں ایسی لڑکی کو اپنا جیون ساتھی نہیں بنانا چاہتا جو میری ماں کو عزت نہ دے سکے۔۔۔”
فرہاد کے لب انکار کررہے تھے مگر اسکی آنکھیں کچھ اور ہی داستان سنا رہی تھی اور انوشہ جانتی تھی کہ اس لڑکی کو فرہاد کس قدر پسند کرتا تھا جو رشتہ نہ ہونے پر اشکبار تھا اسکے سامنے۔۔۔
انوشہ نے اسے اپنے گلے سے لگا کر چپ کروا دیا تھا۔۔ مگر اب اسکے دماغ میں سو طرح کے سوال شور مچا رہے تھے۔۔۔ وہ آج اس خاندان پر غصہ تھی سب سے زیادہ فہاج پر جس نے بنا تصدیق کے فرہاد پر ہاتھ اٹھا دیا۔۔۔
اور اب انوشہ نے عہد کرلیا تھا کہ وہ سچائی سامنے لاکر ان لوگوں کو ایک سبق ضرور سیکھائے گی جو وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے،،،
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شاہجہان مینشن۔۔۔۔”
۔
“بی جان آپ نے کیوں کل فیصلہ نہیں سنا دیا ہماری بیٹی اس گھر میں نہیں جائے گی وہ لڑکا معافی مانگے اسکی خالہ معافی مانگے یا پورا خاندان معافی مانگے۔۔۔”
فہاج صاحب اپنا فیصلہ سنا کر روم سے باہر جانے کو تھے جب بی جان کی گرجتی آواز نے انہیں روک دیا تھا
“فہاج۔۔۔ اوپر جا کر اپنی بھانجی کی حالت دیکھ لو رو رو کر ہلکان ہوگئی ہے۔۔۔ اور اپنی بہن کی بھی شکل دیکھ لو تم۔۔
ہم سب کی حالت وہ نہیں ہے بچے۔۔۔ہم یہ رشتہ ٹوٹ جانا آفورڈ نہیں کرسکتے۔۔۔
ابھی تو صرف خاندان کے لوگ تھے تو انکی باتوں ن مجھے کیجہ چیڑ کر رکھ دیا ہے تو سوچو باہر دنیا کی باتیں برداشت ہوجائیں گی۔۔۔۔؟؟”
بی جان نے اپنی عینک اتار کر اپنی آنکھوں کے آنسو جیسے ہی پونچھنا شروع کئیے تھے کمرے میں موجود ہر ایک مرد خاموش ہوگیا تھا۔۔۔ فہاج خود بھی بی جان کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“تو کیا ہماری صبیحہ کمپرومائز کرے گی بی جان۔۔؟؟ اس لڑکے کے دھوکے کو اپنا لینا چاہیے محض خاندان کی عزت کی خاطر۔۔؟؟”
ندیم صاحب نے بی جان کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تھا۔۔۔
“کل ہم جائیں گے وہاں ان سے پوچھیں گے کہ ہمارا قصور کیا تھا۔۔۔
اگر وہ سچے ہوئے تو یہ شادی ہوگی ورنہ ۔۔۔ سچ بتاؤں بچوں مجھے فرہاد پر اب بھی یقین ہے کہ وہ بچہ ایسا کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔ میرا دل کہتا ہے کہ جو انوشہ نے باتیں کی وہ سچ ہیں۔۔۔
ایک بار ہم فرہاد کی طرف کی بات بھی سنے گے۔۔۔کل نیہا کے گھر کے بڑے بزرگ بھی ہوں گے۔۔۔اسکے بعد تم لوگ جو کرنا چاہو میں منع نہیں کروں گی۔۔”
بی جان کا ایک ہاتھ فہاج کے چہرے پر تھا تو دوسرا ندیم صاحب کے۔۔۔ ان دونوں نے بی جان کے ہاتھ کو چومتے ہوئے ہاں میں سرہلا دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ کہاں جارہی ہو اس وقت۔۔؟؟ ایم سوری۔۔ مجھے اس طرح تم پر چلانا نہیں چاہیے تھا پلیز انوشہ اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جاؤ۔۔۔
امی نانی بھی آرہی ہیں صبح پہنچ جائیں گے۔۔۔اور ڈیڈ بھی۔۔۔”
انوشہ کے دونوں ہاتھ بند ہوگئے تھے نیہا کا روتا ہوا چہرہ انکے پاؤں میں بیڑیاں ڈال چکا تھا۔۔۔
۔
“نیہا۔۔تم جانتی ہو میں تمہیں اس حال میں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی۔۔۔
مگر میں۔۔ میں فرہاد کو اس طرح مجرم بنتے بھی نہیں دیکھ پاؤں گی۔۔۔اسکی بےگناہی سامنے لانا ضروری ہے۔۔۔”
“مگر تم کہاں جارہی ہو۔۔؟ تم یہاں نئی ہو کسی کو نہیں جانتی کسی مشکل میں نہ پھنس جاؤ گی۔۔ تم کہیں نہیں جارہی۔۔”
“نیہا۔۔ ہماری پرورش ایسی نہیں ہے۔۔ مجھے افسوس رہے گا کہ تم نے اس بھری محفل میں اپنے بیٹے پر یقین نہیں کیا۔۔”
اپنے ہاتھوں سے نیہا کے ہاتھ پیچھے کردئیے تھے جب اس نے بہن کی آنکھوں میں حیرانگی دیکھی تھی
“انوشہ۔۔ اس وقت سب کچھ ایک دم سے سامنے آیا۔۔۔ فار گاڈ سیک تم دونوں کو کیوں نہیں سمجھ آرہی کہ جب ایک دم سے ایک انجان لڑکی اس طرح ڈی این اے رپورٹ کے ساتھ سامنے آئے گی تو کیا یقین ڈگمگائے گا نہیں۔۔؟؟”
“یو نو وٹ نیہا۔۔؟؟ ج سچ سامنے آجائے تو فرہاد کو پورا حق ہوگا اس رشتے پیچھے ہٹ جانے کا۔۔
یاد رکھنا۔۔ وہ مرد ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسکی سیلف رسپکٹ نہیں۔۔۔”
وہ گاڑی کی کئیز اٹھا کر باہر چلی گئی تھی۔۔۔
“نیہا بیٹا۔۔۔ مہمان بہت باتیں پوچھ رہے ہیں۔۔ کچھ نے تو یہ تک کہا کہ اب یہ شادی نہیں ہوگی وہاں کچھ ہوا تھا کیا۔۔؟”
“نہیں آنٹی ایسی بات نہیں ہے۔۔ ہاں تھوڑا مسئلہ ضرور ہوا تھا وہ کل ہی حل ہوجائے گا۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مامو۔۔۔ میں فرہاد کو بہت پیار کرتی ہوں۔۔ منگنی کے بعد سے میں نے اسی کی دلہن بننے کے خواب دیکھے۔۔ مجھے نہیں پتہ یہ سب کیسے ہوا مامو مگر میں فرہاد سے الگ نہیں ہونا چاہتی کچھ کیجئے وہ واپس آجائے پلیز مامو۔۔۔”
تکیے میں سر چھپائے صبیحہ اور رونے لگی تھی۔۔۔
“یہاں میں تمہیں کہنے آیا تھا کہ کل جو فیصلہ ہوگا تمہیں اسے ایکسیپٹ کرنا ہوگا۔۔
مجھے لگا تھا کہ تم اس لڑکے کی بےوفائی پر غصہ ہوگی اپنے لیے سٹینڈ لو گی اور اس شادی سے انکار کردو گی مگر۔۔۔”
فہاج صاحب کا لہجہ مایوس کن تھا اور جب صبیحہ کی سوجھی ہوئی آنکھیں دیکھی تو مہندی لگے ہاتھوں پر انکی نظر جا پہنچی۔۔۔
اور وہ سجھ گئے تھے بات پسند سے بھی آگے کی محبت کی ہے۔۔۔
“مامو میں بس اتنا جانتی ہوں کہ میں نہیں رہ سکتی فرہاد کے بغیر۔۔۔ اسکی خالہ نے اچھا نہیں کیا میری کیا عزت رہ گئی مامو میری ہی شادی والے فنکشن میں یہ سب ہوا۔۔
وہ چاہتی تو فرہاد کو معافی کا کہتی مگر۔۔۔
وہ عورت مجھے شروع سے ہی پسند نہیں تھی مامو۔۔۔پلیز آپ کچھ کیجئے۔۔۔”
۔
مگر فہاج کے پاس الفاظ نہیں تھے صبیحہ تو انوشہ کے خلاف اتنی باتیں کرچکی تھی اتنی بدتمیزی کرچکی تھی کہ وہ ایک بار منع نہ کرسکے اپنی بھانجی کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہی وہ ایڈریس ہے میڈم۔۔یہیں رہتی ہے وہ لڑکی۔۔۔”
انوشہ نے گاڑی کی لائٹس آف کردی تھی اور کار وہیں پارک کردی تھی اس گھر کے سامنے روڈ پر۔۔۔
“اور کوئی انفارمیشن۔۔؟؟ آپ نے مجھے بہت ڈس اپاؤنٹ کیا ہے مسٹر معاذ۔۔۔ آپکی انویسٹی گیشن کمپنی کے بارے میں جتنا سنا تھا اتنا پایا نہیں۔۔۔”
انوشہ نے سادہ لفظوں میں انسلٹ کردی تھی اس شخص کی جو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر ہی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
“اس لیے میں نے آپ کو اس وقت یہاں ملنے کا کہا جس شخص کے کہنے پر اس لڑکی نے یہ سب کیا وہ ابھی اسی شخص سے ملاقات کرنے والی ہے۔۔۔گاڑی کی لائٹس آف ہی رکھئیے گا۔۔۔۔ہو سکتا ہے اندھیروں میں چہرے صاف نظر آجائیں دشمنوں کے۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر گاڑی سے باہر نکل گئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس آفیسر کی گاڑی وہاں سے جیسے ہی گئی تھی ٹھیک کچھ منٹ بعد وہاں ایک گاڑی آکر رکی تھی جو انوشہ کو جانی پہچانی لگی تھی۔۔۔
اور جب اس گاڑی سے اوور کوٹ اور سر پر کیپ پہنا شخص باہر نکلا تو اسکا فیس صاف نظر نہیں آرہا تھا۔۔
مگر اس لڑکی کے گھر کا دروازہ جیسے ہی کھلا تھا اس آدمی نے بھی سر سے کیپ اتار دی تھی اور اس لڑکی کو دیکھ کر جیب سے کچھ پیسوں کا بنڈل دیا تھا جس پر وہ لڑکی خوش ہوکر واپس اندر چلی گئی تھی اور وہ آدمی جب اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا انوشہ کی لیفٹ آئی سے ایک آنسو کا قطرہ نکل کر نیچے گر گیا تھا۔۔۔
۔
سٹیرنگ کو اتنی زور سےپکڑ لیا تھا کہ ہاتھ کی ہتھیلی سفید پڑ گئی تھی اسکی۔۔۔
۔
اور اسکے جانے کے بعد وہ بھی گاڑی سٹارٹ کرچکی تھی۔۔۔
مگر گاڑی واپس نہیں موڑی تھی بلکہ اس لڑکی کے گھر کی طرف بڑھا دی تھی اور واپس اس انویسٹیگیشن آفیسر کو کال ملا دی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آج تک کسی نے اس طرح بات نہیں کی مجھ سے جس طرح تم کرگئی انوشہ۔۔
غلطی بھی تمہارے بھانجے کی تھی معافی مانگنے کے بجائے یہ تماشہ لگایا تم نے۔۔
میں تو تمہیں بہت سمجھدار سمجھ رہا تھا ۔۔۔مگر تم نے آج کی بدتمیزی سے یہ بات باور کروا دی کہ تم کس طرح کی شخصیت کی مالک ہو۔۔۔
صبیحہ کو تو میں سمجھا لوں گا۔۔۔ مگر۔۔۔ تمہای آج کی بدتمیزی برداشت نہیں ہوپارہی۔۔
تم نے ہاتھ کیسے روک دیا میرا۔۔۔ پورے خاندان میں کوئی آگ نہیں بڑھا تھا میرے۔۔۔
اور تم نے یہاں بچوں کے سامنے اس طرح بےعزت کردیا مجھے۔۔۔۔
ہت غلط کیا تم نے انوشہ۔۔۔”
۔
“ہیں نہ مجھے غلط فہمیاں۔۔۔
تجھے جب بھی سمجھا اپنا سمجھا۔۔۔”
۔
پچھلے ایک گھنٹے سے پروفیسر فہاج وہاں اپنے روم میں چکر کاٹ رہے تھے وہ آج اپنے اپارٹمنٹ نہیں گئے تھے۔۔۔ ان میں ہمت نہیں تھی وہ اپنی فیملی کو اس کھٹن گھڑی میں اکیلا چھوڑ جائیں۔۔۔
سب کو تسلی امید دلاتے رہے مگر اب تنہائی میں انہیں ایک ہی پرسن بار بار یاد آرہا تھا اور اس پرسن کی وہ بدتمیزی۔۔۔ انہیں ابھی بھی یقین نہیں ہورہا تھا کہ انکا ہاتھ پکڑنے والی انوشہ ہی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“موم ڈیڈ پلیز آپ لوگوں نے بات کو کور رنا ہے رائتہ نہیں پھیلانا پلیز۔۔۔”
“تم سے تو میں بعد میں بات کروں گا تمہارے اس صاحبزادے کو بھی دیکھتا ہوں۔۔۔
اگر باہر کی لڑکیوں میں اتنی ہی انٹرسٹڈ تھا تو یہ شادی کا ناٹک کیوں کیا۔۔؟؟
عزت خراب کروانے کا ٹھیکہ لے لیا ہے اب تمہارے بچوں نے۔۔؟؟”
وہ غصہ کرتے ہوئے اندر روم میں داخل ہوگئے تھے جہاں دونوں خاندان کے بڑے بزرگ پہلے سےموجود تھے۔۔۔
“موم۔۔۔”
“نیہا بہت زیادہ مایوس کیا ہے تم دونوں نے اور اب تمہارے بچے بھی۔۔۔”
اور اب نانی ہی باہر کھڑی تھی انہوں نے نیہا کے سر پر پیار دیا تھا وہ بھی اندر چلی گئی تھی جنہیں دیکھ کر بی جان بھی کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
۔
سلام دعا کے بعد دونوں اطراف بحث مباحثے کے بعد انوشہ کی مدر نے ایک ایسی بات کہہ دی تھی جس پر سب ہی چپ ہوگئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ یہ لڑکی۔۔۔”
انوشہ کے پیچھے اسی لڑکی کو دیکھ کر نیہا نے غصے سے پوچھا تھا
“سب کہاں ہیں۔۔؟ وہ لوگ آگئے ہیں۔۔؟؟”
انوشہ نے اس لڑکی اور اور ان انویسٹی گیشن آفیسر کو وہیں رکنے کا کہا تھا
“وہ لوگ اوپر گرینڈ لیونگ روم میں ہیں۔۔پر انوشہ تم ابھی وہاں مت جاؤ۔۔۔ ڈیڈ بہت غصے میں ہیں وہ۔۔۔”
“وہ بہت انسلٹ کریں گے۔۔؟؟ کچھ نیا کیا ہوگا نیہا۔۔؟؟”
انوشہ ان دونوں کو سیکنڈ پورشن پر لے گئی تھی مگر جیسے ہی روم کا دروازہ آہستہ سے کھولا تھا اپنا نام سن کر وہ حیران رہ گئی تھی اپنی موم کی زبان سے۔۔۔
۔
“انوشہ نے جو بھی تماشہ لگایا اسکی طرف سے ہم معافی مانگتے ہیں۔۔
وہ ہمیشہ سے ایسی ہی بیوقوف رہی۔۔ ایسی ہی جذباتی۔۔۔ اس لیے وہ اپنا گھر نہ بسا سکی۔۔۔ طلاق لیکر بیٹھ گئی۔۔۔ یہی کام اس نے فرہاد کے ساتھ بھی کردیا۔۔ اس لیے میں اسے دور رکھتی ہوں ایسے معاملات تھے۔۔ میں اور مبشر چاہتے ہی نہیں تھے کہ انوشہ کسی بھی معامے میں انٹر فئیر کرے۔۔۔۔”
پن ڈراپ خاموشی تھی۔۔۔ دو لوگ تھے جو غصے میں آگئے تھے اس وقت ایک تو صہیب صاحب اور دوسرے فہاج۔۔۔ وہ جو اب ان خاتون کو دیکھ نہیں رہے تھے گھور رہے تھے۔۔۔۔
“میری بیٹی کی کسی بات کا آپ بُرا نہ منائیں ۔۔۔ اسکے فیصلے ایسے ہی تھے۔۔۔ اسکے طلاق کے فیصلے کی وجہ سے ہم نے احلام جیسے داماد کو کھو دیا۔۔۔ اب جانے وہ کیا کرنا چاہتی ہے فرہاد کے ساتھ جو اپنا گھر نہ بسا سکی۔۔۔۔”
اب کے انوشہ کے ڈیڈ نے سخت لہجے میں کہا تھا۔۔
اور کچھ ہی پل میں دروازہ پوری طرح سے اوپن ہوگیا تھا۔۔۔ انوشہ کی آنکھیں جیسے پتھر بن گئی تھی اسکے وجود کی طرح۔۔۔۔”
“یہ وہ لڑکی ہے جس کے ایک الزام پر میرے بھانجے کی کریکٹر اسیسی نیشن کردی گئی تھی کتنے لوگوں کے درمیان۔۔۔ اور یہ ساتھ انویسٹی گیشن آفیسر ہیں۔۔۔
اس لڑکی نے کسی انجان شخص کے کہنے پر یہ سب پیسوں کے عوض کیا وہ سب ثبوت آپ کو آفیسر معاذ دیکھا دین گے باقی یہ مس آپ کے سامنے ہیں۔۔۔
پروفیسر فہاج میرے بھانجے پر تو تھپڑ مار کر آپ بڑے بن گئے تھے مگر اس لڑکی ذات پر ہاتھ اٹھا کر آپ چھوٹے بن جائیں گے اس لیے میں چاہوں گی کہ کوئی بھی فزیکل نہ ہو۔۔۔
آپ سب کی باتوں سے اتنا تو سمجھ آگیا تھا کہ یہاں بھی ایک طرفہ کہانی پر فیصلے ہورہے ہوں گے۔۔۔
موم ڈیڈ۔۔۔ مجھے جب کبھی لگتا ہے کہ آپ دونوں کی باتیں مجھے اور حیران نہیں کرسکتی آپ تب ہی کچھ ایسا کہہ جاتے ہیں کہ میں حیران رہ جاتی ہوں۔۔۔
بی جان۔۔۔ آپ بڑی ہیں۔۔۔ معتبر ہیں۔۔ مگر آپ کے گھر ہونے والے داماد کے ساتھ جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔میں فرہاد کی خالہ ہوں اس لیے میں تو درگزر کردوں گی۔۔
اگر میں اسکی ماں ہوتی تو کبھی آپ کی فیملی میں اپنے بیٹے کا رشتہ نہ کرتی جہاں اسکی کوئی عزت نہ ہو۔۔۔۔”
انوشہ نے آخری بات فہاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ۔۔۔۔”
“تم جانتے ہو جب میں انٹرنشپ میں ٹاپ کرچکی تھی تم اس وقت جاب ڈھونڈ رہے تھے۔۔
اور دو دو بس بدل کر میرے ہاسٹل تک آتے تھے۔۔۔
۔
وہ بالکونی میں چلی گئی تھی اور وہ شخص اسے وہاں تک فالو کررہا تھا۔۔۔۔
“انوشہ۔۔۔”
اس نے پھر سے سرگوشی کی تھی۔۔۔
۔
انہیں معلوم نہ تھا کوئی اور بھی تھا جو ان دونوں کو فالوں کرتے ہوئے اس بالکونی تک آپہنچا تھا۔۔۔
۔
“جہاں سورج نکلتا تھا۔۔۔ جہاں سے دن مچلتا تھا۔۔۔
جہاں سے بس گزرتی تھی۔۔۔ جہاں پہ ریل رکتی تھی۔۔۔
جہاں پہ تم اترتے تھے۔۔۔ جہاں م روز ملتے تھے۔۔۔۔
جہاں وعدے ارادے تھے۔۔۔۔ جہاں باندھے وہ دھاگے تھے۔۔۔
وہیں یک بار آجاؤ۔۔۔۔”
۔
“احلام تمہیں کھونے کے بعد میں نے زندگی کے دو اور اہم رشتوں کو کھو دیا تھا۔۔۔
وہ میرے اپنے ماں باپ تھے۔۔۔ وہ جو اینڈ تک تمہیں سہی اور مجھے غلط کہتے رہے۔۔۔”
۔
“انوشہ۔۔۔” انہوں نے انوشہ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی اور انوشہ نے ان پر ہاتھ اٹھا دیا تھا۔۔۔
“تم نے کہا تھا تمہیں مجھ سے محبت ہے۔۔۔ اور تم یہ کیا میرے ساتھ میری فیملی کے ساتھ۔۔۔؟؟”
احلام نے اپنی گال پر ہاتھ رکھ لیا تھا
“انوشہ۔۔۔ تم نے مجھ پہ ہاتھ اٹھایا۔۔؟؟ کیا کہہ رہی ہو میں نے کیا کردیا۔۔؟؟”
“ہاں اٹھایا ہاتھ۔۔ کاش پہلے اٹھا لیا ہوتا۔۔۔ سب جان گئی ہوں اس لڑکی کو آپ نے ہائر کیا تھا۔۔۔سب سمجھ گئی ہوں۔۔ یہ گھٹیا حرکت آپ نے کی۔۔۔
مگر یہ نہ سمجھ سکی کہ کیوں کیا آپ نے ایسا۔۔؟؟ اس لیے کہ میری بہن کے بچوں کا گھر نہ بس سکے۔۔؟؟ مگر اب تو آپ کی بیوی کا بھی خون کا رشتہ ہے فرہاد سے پھر اتنی نفرت کیوں۔۔؟؟ کیوں۔۔۔؟
انہوں نے کالر جیسے ہی پکڑا تھا انکے آنسوؤں سے انکا چہرہ بھیگ چکا تھا،،،،
وہ انوشہ کو اب اتنا بکھرا ہوا دیکھ رہے تھے۔۔۔
“انوشہ۔۔۔ پلیز ڈونٹ کرائی۔۔۔ میں تمہیں نہیں دیکھ سکتا ایسے روتے ہوئے۔۔۔”
احلام نے انوشہ کے چہرے کے آنسو جسے ہی صاف کرنا شروع کئیے تھے دور کھڑے فہاج نے اپنا چہرہ ٹرن کرلیا تھا کیوں انہوں اس قدر جلن محسوس ہوئی تھی وہ نہیں جانتے تھے۔۔۔ وہ تو یہاں انوشہ سے ایکسکئیوز کرنے آئے تھے
“پھر بھی تم مجھے رولاتے آئے ہو۔۔۔ آج موم ڈیڈ نے پھر وہی بات کی احلام تم تو خوش ہوگئے ہو گے نہ۔۔؟؟ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایسا کیا پیلا دیا ہے تم نے انہیں ۔۔؟؟ کہ انہیں ہماری طلاق کی وجہ تمہاری بےوفائی نظر نہیں آئی بلکہ میری لاپروائی نظر آئی ۔۔۔
ایسا کیوں ہے احلام۔۔؟؟ میں نے تمہیں کھو دیا اپنا دوست اپنا شوہر اپنا مجازی خدا۔۔۔
یہاں تک کے اپنے ماں باپ۔۔۔ پھر بھی مجھ پر ترس نہیں آیا کسی کو ساری ہمدردیاں مرد کے ساتھ کیوں۔۔؟؟
تم۔۔۔”
انوشہ نے احلام کے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
یہ نزدیکی انکی طلاق کے بعد کی پہلی نزدیکی تھی۔۔۔ وہ طلاق کے بعد آج اس طرح روئی تھی احلام کے سامنے
“تم ۔۔ تم رہے احلام بےوفائی کے بعد۔۔۔ مگر میں ۔۔میں نہ رہی۔۔۔ نہ اپنی نظر میں نہ دنیا کی اور نہ گھر والوں کی۔۔۔
مبارک ہو۔۔۔ تم نے ہمارا گھر ہی برباد نہیں کیا تم نے مجھ سے جُڑا میرا ہر رشتہ برباد کردیا۔۔۔”
۔
“خود پرستی کا نشہ جب اتر جائے گا۔۔۔
وہ مجھے ڈھونڈنے ہر جگ جائے گا۔۔۔”
۔
وہ وہاں سے چلی گئیں تھی اپنے آنسو صاف کرکے۔۔۔
۔
“انوشہ۔۔۔ میں آج بھی اتنی ہی محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔”
،گر احلام کی آواز سنن والا کوئی بھی نہیں تھا وہاں۔۔۔ فہاج صاحب بھی جا چکے تھے انوشہ کے جانے کے بعد۔۔۔۔
۔
۔
“محبت میں دغا کی تھی۔۔۔ سو کافر تھے سو کافر ہیں۔۔۔
ملی ہیں منزلیں پھر بھی۔۔۔ مسافر تھے مسافر ہیں۔۔۔
تیرے دل کے نکالے ہم ۔۔۔ کہاں بھٹکے۔۔۔کہاں پہنچے۔۔۔”
