Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
“میاں بیوی کا رشتہ محض جسمانی ہو تو جذبات مر جاتے ہیں دونوں طرف سے کیونکہ کیفیت بس جسمانی رہ جاتی ہے۔۔”
“فہاج۔۔اسے لگتا تھا کہ میں بس ہمارے رشتے میں فزیکل ریلیشن میں انٹرسٹڈ ہوں۔۔
میری بیوی جو سمجھتی تھی میں اسکے قریب اس لیے جاتا ہوں۔۔۔ اگر جسموں کی بھوک ہو شوہر میں تو وہ باہر سے بھی پوری کرسکتا ہے انوشہ۔۔ میاں بیوی کے رشتے میں انٹیمیسی محض جسم کی ضرورت تک نہیں ہوتی۔۔۔ “
فہاج کی ہلکی تیز ہوتی دھڑکنیں سنتے ہوئے انوشہ نے آنکھیں بند کرلی تھی فہاج کے سینے پر سر رکھے وہ آج فہاج کا ہر درد ہر تکلیف سننا چاہتی تھی۔۔
“وہ میرا وقت چاہتی تھی اور میں دن بھر کی محنت کے بعد اپنی بیوی قربت۔۔۔ فرق اتنا تھا وہ مجھے سامنے پاکر سمجھتی تھی میں ہوں۔۔ اور میں اسے اپنی آغوش میں ۔۔۔”
“مسٹر فہاج مت بھولیں آپ اپنی موجودہ بیوی کے سامنے اپنی سابقہ بیوی کے لیے قربت کی باتیں کررہے ہیں۔۔۔”
انوشہ کی آواز اتنی آہستہ تھی انگلیوں کے نیلز سینے سے ہوتے ہوئے گردن تک جیسے ہی گئے تھے انوشہ نے فہاج کےجا سے مظبوطی سے پکڑ کر اپنی طرف چہرہ کیا تھا۔۔۔
وہ گرے سلک کمفرٹ اسکے وجود کو بئیر کرگیا تھا سلپ ہوگیا تھا مگر اسے فکر نہیں تھی۔۔۔
اسکی نظریں فہاج کے چہرے کو اتنی شدت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
۔
“انوشہ میں ماضی کو چھپانا نہیں چاہتا تم سے میں۔۔۔؟”
“مجھے وہ ماضی نہیں سننا فہاج جہاں آپ کسی اور کے محرم تھے۔۔ مجھے وہ باتیں نہیں سننی جن میں آپ کی محبت کسی اور کے لیے تھی مجھے۔۔۔”
انوشہ کے ہونٹ بات کرتے کرتے فہاج کے ہونٹوں سے جیسے ٹکرائے تھے وہ کچھ پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔فہاج صاحب نے اوپر چہرہ کرکے وہ فاصلہ مٹانے کی کوشش کی مگر انوشہ نے فہاج کے دونوں ہاتھ پن کردئیے تھے۔۔۔
“انو۔۔۔۔”
“مجھے بس وہ دھڑکنیں سننی ہیں جو محبت کرتے ایک ہوگئی تھی ہمارے وجود کی طرح۔۔
مجھے اور کوئی بات نہیں سننی۔۔۔ کیوں نہ ایک عہد کریں۔۔ ہمارے اس بیڈروم میں ہم آج کے بعد کسی تیسرے کی بات نہیں کریں گے سوائے ہمارے۔۔؟؟”
انوشہ نے کہتے ہوئے ان پلکوں پر آہستہ سے بوسہ لیا تھا جو ابھی بھی شاکڈ تھے انوشہ کی بولڈ سائیڈ دیکھ کر۔۔۔
“کرتے ہیں وعدہ۔۔۔۔۔؟؟”
وہ کہتے ہوئے ٹیز کررہی تھی اور فہاج ڈیسپریٹ ہورہے تھے اس ایک لمس کے لیے
“وعدہ رہا۔۔۔ ناؤ کس مئ۔۔۔”
بِیگ مئ مسٹر فہاج۔۔۔”
فہاج جیسے اپنا چہرہ آگے بڑھاتے انوشہ خود کو پیچھے کرلیتی کچھ سیکنڈ کے بعد فہاج نے انوشہ کے چہرے کو ہاتھوں میں لئیے وہ بھی ختم کردیا تھا۔۔۔
۔
“اپنی سانسوں کے دامن میں چھپا لو مجھ کو
تیری روح میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بی جان مجھے فہاج کے اس قدم سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ ہمیں انوشہ بھابھی اور فہاج کو یہاں نہایت عزت کے ساتھ دعوت پر بلانا چاہیے۔۔۔ کیوں نازنین۔۔۔؟؟”
ندیم صاحب کی بات سن کر نازنین بیگم نے خوشی خوشی اپنے آنسو صاف کئیے تھے۔۔۔
“فہاج ماموں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔۔؟”
عریج جو کزنز میں سب سے چھوٹی تھی وہ ایک دم سے بولی تو صبیحہ نے غصے سے دیکھا تھا
“روحان کی فکر نہیں ہے تمہیں عریج۔۔؟؟ ابیہا کی موم نے فہاج مامو کو ٹریپ کیا ہے۔۔”
“بالکل۔۔ اریبہ روحان کے ساتھ برا ہوا ہے۔۔ اور میں بھی فہاج مامو کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہوں۔۔”
قرطبہ نےبھی آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔
“اچھا بیگم تمہارا کہنے کا مطلب ہے فہاج مامو ساری زندگی سوگ مناتے اور اینڈ پر مر جاتے۔۔؟؟ پتہ ہے کب سے طلاق ہوئی ہے انکی۔۔؟؟ اتنے سال ہوگئے ہیں۔۔
کیسے زندگی گزاری اکیلے۔۔۔ بچے تو بہت کم رہے انکے پاس۔۔۔ میں فہاج مامو کی روز مرہ کی زندگی دیکھتا آیا ہو۔۔۔ وہ شخص۔۔۔ چوبیس گھنٹے کام کرتے تھے۔۔۔ چوبیس گھنٹے۔۔۔ قرطبہ تم جانتی کیا ہو مامو کے بارے میں۔۔؟ ایک سال تک تنہا اکیلے زندگی گزار کر دیکھاؤ۔۔۔ وہ تو پھر شکست کھائے ہوئے تھے۔۔۔”
روحیل نے جیسے ہی بات ختم کی تھی قرطبہ شرمندہ ہوئی تھی روحیل نے پوری فیملی کے سامنے اسکی انسلٹ کردی تھی۔۔۔
“روحیل۔۔۔”
“صبیحہ آپی۔۔۔مجھے ڈر ہے کہیں آپ اپنا گھر نہ خراب کرلیں۔۔۔ کیونکہ بار بار ایک ہی رٹ۔۔۔ ٹریپ ٹریپ ٹریپ۔۔۔ فہاج مامو خوش ہیں اپنی شادی سے۔۔۔ سمجھتے کیوں نہیں ہیں۔۔؟؟ یہ اللہ کے فیصلے ہیں۔۔۔ ہم لوگوں نے لاکھ چاہا مگر روحان کی شادی نہ کروا سکے۔۔۔ لیکن فہاج مامو کی شادی ہوگئی۔۔۔ انوشہ۔۔۔ مامی سے۔۔۔میں ان دونوں کے رشتے سے بہت خوش ہوں۔۔۔ ابو۔۔۔ آپ اور بی جان بڑے ہیں۔۔
فہاج مامو ہم لوگوں کے ساتھ ہر قدم کھڑے رہے اب انکی خوشیوں میں انہیں تنہا مت چھوڑئیے گا۔۔۔”
روحیل وہاں سے چلاگیا تھا۔۔۔ اسکے جانے کے بعد جیسے سب کو سانپ سونگ گیا ہو خاص کر صبیحہ۔۔
“امی میں بھی چلتی ہوں ۔۔۔”
“مجھ سے بات کرنے کے بعد جاؤ گی تم۔۔۔چلو۔۔۔”
نازنین بیگم سختی سے کہہ کر اپنے روم میں چلی گئی تھی
باقی سب بھی آہستہ آہستہ وہاں سے جانا شروع ہوگئے تھے سوائے بی جان اور ندیم صاحب کے۔۔۔
“ندیم بیٹا تم مجھے فہاج کے اپارٹمنٹ میں لے جاؤ گے۔۔؟؟ وقت آگیا ہے اب ہمیں ان دونوں کے رشتے کو اپنانے اور عزت دینے کا۔۔۔ گھر کی بہو کو گھر لانے کا۔۔۔”
بی جان نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا تھا جو بہت زیادہ خوش ہوئے تھے اس وقت۔۔
“بی جان بہت بہت شکریہ۔۔۔ آپ نے فہاج کے بارے میں سوچا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دیکھیں سر۔۔۔ یہ ممکن نہیں ہے۔۔ انکے بہت احسان ہے مجھ پر۔۔”
“اچھا تو پھر تمہارا شوہر اور بیٹا ضروری نہیں ہے۔۔؟؟”
“دیکھیں سر آپ کسی سے بھی یہ کام کروا سکتے ہیں۔۔۔ میں ہی کیوں۔۔؟؟”
وہ روتے ہوئے خود کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی مگر جن گارڈز نے اسکو بازو سے پکڑا تھا وہ چھوڑ نہیں رہے تھے اور سامنے کرسی پر بیٹھا شخص زرا سا بھی ترس نہیں کھا رہا تھا اس نرس پر۔۔۔
“احلام سر پلیز۔۔۔ کسی اور سے یہ کام کروا دیں۔۔۔ میں انوشہ میڈم کو ایسے دھوکا نہیں دے سکتی۔۔۔میرے شوہر اور بیٹے کو چھوڑ دیں۔۔۔ آزاد کردیں۔۔۔”
“اچھا۔۔۔آزاد کردیتا ہوں۔۔۔ ان دونوں کو لیکر آؤ۔۔۔”
احلام کے گارڈ اس نرس کے زخمی شوہر اور چھوٹے بیٹے کو اندر لیکر آئے تو احلام نے سر پر گن رکھ دی تھی
“کردوں آزاد۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔ میں وہی کروں گی جو آپ کہیں گے۔۔”
“تمہیں پتہ ہے کیوں تم سے یہ کام کروا رہے ہیں۔۔؟؟ کیونکہ تم اس وقت اس ہسپتال کی ہیڈ آف نرس ہو۔۔۔ اور اس ہسپتال کی اونر ڈاکٹر کی اسسٹنٹ ہو جس طرح وہ تم پر یقین کرتی ہے۔۔۔ میری انوشہ۔۔۔”
“سر آپ۔۔۔چپ۔۔ اپنے بچے کو زندہ دیکھنا چاہتی ہو تو وہی کرو۔۔۔ اسے شام پانچ بجے تم اس ہسپتال سے باہر لیکر آؤ گی۔۔۔”
“میں کیسے لا سکتی ہوں۔۔؟؟ وہ نہیں آئیں گی۔۔۔”
“وہ اپنے ہوش میں باہر نہ آئی تو بےہوش کرکے لے آنا۔۔۔ تمہارے پاس بس کچھ گھنٹے ہیں بس۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
انوشہ۔۔۔۔۔ میری ٹائی۔۔۔”
“انوشہ گھڑی۔۔ کہاں ہے۔۔کچھ بھی جگہ پر نہیں ۔۔”
“انوشہ ۔۔۔”
وہ جیسے ہی ہنسی چھپاتے ہوئے پیچھے ہوئے تو انوشہ غصے سے سامنے کھڑی تھی اور ڈریسنگ پر رکھی ٹائی کو اٹھا کر ہاتھ پر پٹک دیا تھا۔۔۔
“سب کچھ سامنے رکھا ہوا تھا فہاج۔۔۔”
دانت پستے ہوئے وہ یہ کہہ کر باہر جانے لگی تو فہاج نے انکی ویسٹ پر ہاتھ رکھے ڈریسنگ کے ساتھ پن کردیا تھا۔۔۔
“کہاں جارہی ہو۔۔؟؟ ٹائی کون پہنائے گا۔۔؟؟”
“گلا نہ دبا دوں۔۔؟؟”
انوشہ نے اپنی مسکراہٹ کنٹرول کی تھی جب انکے جواب پر فہاج منہ بنا کر خود ہی ٹائی پہننا شروع کرچکے تھے
“لائیں دیں مسٹر۔۔۔زرا زرا سی بات پر بچے بن جاتے۔۔۔”
انوشہ نے کالر کو سیدھا کرتے ہوئے ہی شکایت کی تھی اور فہاج خاموش انوشہ کی باتیں سن رہے تھے۔۔۔
“مجھے ڈانٹتے ہوئے تم پر بہت پیار آتا ہے۔۔۔ دل کو تسلی ہوگئی ہے کوئی تو ہے۔۔
کوئی تو ہے جو حق جتا رہا ہے۔۔مجھے بتا رہا ہے کہ وہ ہے اب میرا خیال رکھنے کے لیے لاپروائی پر مجھے ڈانٹنے کے لیے۔۔۔”
انوشہ کے ماتھے پر بوسہ دئیے فہاج نے چہرہ جیسے جھکایا تھا ہونٹوں کو بنا لپ سٹک کے وہ حیران ہوئے تھے۔۔۔
“خیریت ہے آج ریڈی ہو پھر بھی میرا یہ خوبصورت حصہ ادھورا ہے۔۔؟؟”
“جیسے آپ کو پتہ نہیں ہے مسٹر فہاج۔۔۔؟؟”
ٹائی کی نوٹ باندھنے کے بعد انوشہ نے اسی ٹائی کو کھینچ کر اپنی طرف کیاتھا فہاج کو شاکڈ کردیا تھا انوشہ کے جواب نے اور لبوں پر لائٹ سا بوسہ لے کر انوشہ روم سے باہر چلی گئی۔۔۔
“ہاہاہاہاشاک سے جلدی نکل آئیے گا آپ آفس کے لیے لیٹ ہوجائیں گے مسٹر ہزبنڈ۔۔”
“دس از نوٹ فئیر۔۔۔ یہ کاؤنٹ نہیں ہوگی۔۔۔”
فہاج کی شکایت پر انوشہ اور ہنسی دی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پلوشہ میں جانتی ہوں میری وجہ سے تمہیں یہاں آنا پڑا اور ڈبل ڈبل شفٹ کی وجہ سے تمہاری پرسنل لائف۔۔۔”
“ہشش۔۔۔بس کرجاؤ۔۔۔ تم اتنا کیوں سوچ رہی ہو انوشہ۔۔؟؟ وہ ہسپتال بھی ہمارا خواب تھا۔۔ اور یہ بھی۔۔ ہم ساتھ ہر مسئلے کا حل نکالیں گے۔۔”
انوشہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پلوشہ نے کہا تھا
“اور ویسے۔۔۔ بھئ پتہ ہے نئی نئی شادی ہوئی ہے اور فہاج بھائی کی بیوی ہو۔۔ مگر اس طرح سب کو جیلس کرنا ۔۔؟؟”
“کیا مطلب۔۔؟؟”
گردن کی طرف اشارہ کرکے پلوشہ نے ٹیز کیا تھا۔۔۔
“اوہ۔۔۔ یہ تو۔۔۔ ایرنگ اتا۔۔ نیکلسکے سکریچ۔۔۔”
“ہاہاہاہا شٹ اپ۔۔۔ ویسے تمہارا تو پتہ تھا وائلڈ ہو۔۔۔ مگر فہاج بھائی۔۔؟؟ ویسے تم نے مجھے بتایا نہیں کہ شروعات۔۔۔”
“شرم کرو۔۔۔پلوشہ۔۔ میں نے کچھ نہیں سنا۔۔۔”
“ہاہاہا مگر میں نے دیکھ ضرور لیا۔۔۔”
اس سے پہلے وہ اور ٹیز کرتی انوشہ پئشنٹ فائل لیکر وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا وئے۔۔۔تہیم کو بھی بتاؤں گی۔۔۔ ہماری بھولی بھالی انوشہ ۔۔۔”
“بےشرم۔۔۔جان لے لوں گی اگر اسکو بتایا تو۔۔۔ وہ ساری تفصیل پوچھنے بیٹھ جائے گی۔۔۔”
انوشہ واپس آئی تھی۔۔۔۔اس بار اسکے چہرے پر بھی ہنسی تھی۔۔۔ ان کی ہنسی دیکھ کر سٹاف کے ممبرز بھی کچھ پل کو رک کر انہیں دیکھنے لگے تھے۔۔۔
“بیک ٹو ورک گائیز۔۔۔”
انوشہ واپس اسی موڈ پر آئی تھی اور اپنے کیبن میں جانے لگی تھی جب نرس نے آواز دی تھی
“انوشہ میم مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔”
“تبسم۔۔ آپ کیبن میں۔۔”
“میم مجھے آپ کو کچھ دیکھانا ہے۔۔۔پلیز۔۔۔ میں سب کے سامنے نہیں کہہ سکتی۔۔۔”
تبسم کی آنکھوں میں آنسو دیکھے انوشہ نے فائل ڈیسک پر رکھ دی تھی اور پھر تبسم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بہت نرمی سے پوچھا تھا۔۔۔
“کیا بات ہے کیا دیکھانا چاہتی ہیں۔۔؟؟ سب خیریت ہے۔۔۔؟؟”
“آپ میرے ساتھ چلئیے پلیز۔۔۔”
وہ جیسے جیسے تبسم کے پیچھے جانا شروع ہوئی تھی اچانک سے انوشہ کے موبائل پر انکمنگ میسج کی رنگ ہوئی تھی۔۔۔
“مسنگ یو۔۔۔ “
“ہاہاہا۔۔۔پاگل۔۔۔”
ریپلائے کرکے انوشہ نے کوٹ کی پاکیٹ میں سیل فون رکھ دیا تھا۔۔۔ اور نرس جس ڈائیرکشن میں جارہی تھی وہ پارکنگ کی سائیڈ تھی لاسٹ فلور کی۔۔۔
“تبسم یہ۔۔۔”وہ ابھی تبسم کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہیں جب پیچھے سے کسی نے انوشہ کے چہرے پر کپڑا رکھ کر اسے بےہوش کردیا تھا۔۔۔
“تمہارے گھر میں تمہارا بیٹا اور شوہر کو بھیج دیا ہے اگر کسی کے سامنے منہ کھولا تو تم تینوں کو مار دیں گے۔۔۔”
وہ گارڈ اور انکے ساتھ ایک نرس جو انوشہ کے منہ کو کور کرکے گاڑی کی بیک سیٹ پر لٹا چکی تھی۔۔۔
“ماریہ اب تمہارا کام ہے سیکیورٹی پر تم نے کہنا ہے کہ تم یہاں آن ڈیوٹی نرس اس پئشنٹ کے ساتھ اسکے گھر جارہی ہو۔۔ “
اور باآسانی وہ لوگ ہاسپٹل کے ایریا سے نکل گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
فہاج۔۔۔”
“میں آج جلدی جانا چاہتا ہوں۔۔۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔”
فہاج کوٹ چئیر سے اٹھائے اٹھ گئے تھے اپنے دوست کو میٹنگ سے متعلق کچھ باتیں کئیے وہ آفس سے باہر چلے گئے تھے اور گاڑی سٹارٹ کئیے سیدھا ہاسپٹل کی طرف۔۔۔
۔
ہاسپٹل پہنچ کروہ سیدھا انوشہ کے کیبن کی طرف بڑھے تھے۔۔۔
جہاں پلوشہ پہلے سے موجود تھی۔۔۔
“انوشہ کہا ہے۔۔؟ “
“فہاج بھائی میں بھی اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی ابھی تو یہیں تھی۔۔۔ رکئیے میں تبسم سے پوچھتی ہوں۔۔۔ آپ کیا لیں گے۔۔؟؟ چائے جوس۔۔؟؟”
“کچھ بھی نہیں بس انوشہ سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔”
“ہاہاہا لو برڈز۔۔ کچھ گھنٹے کی دوری برداشت نہیں ہورہی۔۔؟؟”
پلوشہ کی ٹیزنگ پر فہاج شرما گئے تھے مسکراتے ہوئے انہوں نے سر نیچے کرلیا تھا۔۔۔
“میں ابھی آپ کی بیگم کو ڈھونڈ کرلاتی ہوں۔۔۔”
وہ جیسے ہی باہر گئیں تھی فہاج کی نظر نیم پلیٹ پڑی تھی آفس کی
“ڈاکٹر انوشہ فہاج۔۔۔”
میرا حاصل۔۔۔”وہ بہت محبت سے دیکھ رہی تھے اس نیم پلیٹ کو۔۔۔
۔
اور دوسری طرف بیس منٹ گزر گئے تھے مگر انوشہ کا کوئی پتہ نہیں تھا
“سسٹر تبسم انوشہ تو لیب میں بھی نہیں ہے چلڈرن وارڈ میں بھی نہیں ہے آپ نے جو جگہ کہی تھی۔۔۔”
پلوشہ کی بات پر تبسم چونک گئی تھی اور ہاتھ سے موبائل جیسے ہی صقفہ پر گرا تھا جہاں وہ بیٹا کچھ ٹائم کررہی تھی
“آپ کا موبائل۔۔۔”
تبسم اتنا گھبرا گئی تھی کہ پلوشہ نے موبائل اٹھا کر تبسم کو دیا تھا۔۔ اور اسی پکڑانے میں ایک وائس جو ٹچ ہونے پر پلے ہوئی تھی
“ہاسپٹل کے سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ تم ڈیلیٹ کرو گی۔۔ اور یہ راز آج دفن ہوجائے گا میں انوشہ کو اس ملک سے دور لے جارہا ہوں۔۔۔”
تبسم دروازے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔ جب پلوشہ نے بازو سے پکڑ کر اسے زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔۔
“وارڈ بوائے اس پر نظر رکھو جانے مت دینا۔۔۔ پولیس کو انفارم کردو۔۔۔”
پلوشہ تبسم کا موبائل لیکر انوشہ کے کیبن میں بھاگی تھی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔”دروازہ کھلنے پر فہاج بےساختہ کھڑے ہوئے تھے انوشہ کا نام لیکر۔۔۔
“بھ۔۔۔فہاج بھائی۔۔۔ انوشہ۔۔۔ احلام۔۔۔ نے کڈنیپ۔۔۔”
پلوشہ بات مکمل نہیں کرپا رہی تھی آنکھوں سے آنسو پانی کی طرح بہہ رہے تھے فہاج نے ہاتھوں سے موبائل کھینچ کر جیسے ہی وہ میسج سنا تھا۔۔۔ وہ کچھ سیکنڈ میں وہاں سے بھاگ گئے تھے اپنا موبائل نکال کر انہوں نے کچھ کالز کی تھی گاڑی سٹارٹ کی اور وہ ایک ہی طرف گئے تھے جہاں انہوں یقین تھا کہ احلام انوشہ کو لے کر جائے گا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ گھنٹے بعد۔۔۔”
۔
“میرا ہاتھ چھوڑو احلام۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے زبردستی یہاں لانے کی۔۔۔”
“تمہاری جرات کیسے ہوئی اسکے ساتھ رات گزارنے کی۔۔؟؟ کیوں دھوکا دیا مجھے۔۔۔؟”
انوشہ نے حیرانگی سے احلام کو دیکھا تھا۔۔احلام بازو سے کھینچتے ہوئے گاڑی سے دور سٹارٹ اس ہیلی کاپٹر کی طرف انوشہ کو لے جارہا تھا۔۔۔
“یہ جو نشان گردن پر لئیے پھر رہی ہو۔۔ دل کررہا ہے اسے مار دوں۔۔۔”
“تم ہوتے کون ہو اسے مارنے والے۔۔؟؟ شوہر ہے میرا۔۔۔ میرا محرم۔۔۔
اور رات نہیں راتیں گزاریں ہیں میں نے اسکے ساتھ نکاح کیا ہے۔۔۔ شادی ہوئی گواہان کے سامنے۔۔۔پیار کرتی ہوں۔۔۔ مجھ پر میرے جسم پر اسکا حق ہے۔۔۔”
“بے شرم۔۔۔”
اس سے پہلے انوشہ پر ہاتھ اٹھاتے کسی نے پیچھے سے احلام کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور ایک مکا مار کر احلام کو پیچھے دھکا دیا تھا انوشہ سے۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
فہاج کے گلے لگ گئی تھی وہ روتے ہوئے۔۔۔
“شش۔۔۔ میں آگیا ہوں۔۔۔”
اپنا کوٹ انوشہ کو پہنائے۔۔ فہاج احلام کی طرف بڑھے تھے جس کے ناک سے خون بہہ رہا تھا شدید۔۔۔
“تیری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی یہاں لانے کی۔۔۔ میں رشتے دار سمجھ کر تجھے عزت دے رہا تھا۔۔۔ تو میری ہی عزت کو داغ لگانے کے در پر تھا۔۔۔”
فہاج ایک ایک بات کے ساتھ احلام پر ہاتھ اٹھا رہے تھے کبھی ٹانگوں سے تو کبھی مکوں سے۔۔۔ احلام کے جوابی وار پر بھی وہ اور زور سے وار کررہے تھے۔۔۔ تب تک جب تک احلام نے فہاج کو پیچھے کرکے اپنی گن نہ نکالی تھی۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
وہ چلائی تو احلام ہنستے ہوئے آگے بڑھا تھا۔۔۔
“تم میری نہیں ہوئی تو اسکی بھی نہیں ہوگی۔۔۔”
“نہیں۔۔۔پلیز۔۔۔”
گن پوائنٹ انوشہ پر دیکھ کر فہاج دس قدم پیچھے ہوگئے تھے انوشہ کی ڈھال بن کر۔۔۔
“اسے زندہ دیکھنا چاہتا ہے تو طلاق دے ابھی میرے سامنے۔۔۔ اور انوشہ۔۔۔ اگر تم پانچ سیکنڈ میں اس ہیلی کاپٹر پر نہیں بیٹھی تو میں اسے مار دوں گا۔۔۔”
احلام گن کبھی ادھر کررہا تھا تو کبھی ادھر۔۔۔
“میں مرنا پسند کروں گا۔۔۔ “
“میں مرنا پسند کروں گی۔۔”
فہاج اور انوشہ ایک ساتھ بولے تھے جس نے احلام کو حیران کردیا تھا۔۔۔
“انوشہ۔۔۔ پلیز۔۔۔ یہ پروفیسر تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔۔۔ میں تمہیں دس ہسپتال بنا دوں گا پاکستان میں۔۔۔پلیز۔۔۔میرے ساتھ چلو۔۔۔”
وہ جیسے گھٹنوں پر بھی بیٹھنے کو تیار تھے۔۔۔
“میں اپنے دھن من سے دل و دماغ سے فہاج کو اپنا چکی ہوں۔۔ میں محبت کرتی ہوں اپنے شوہر سے۔۔۔”
“اور میں انوشہ۔۔؟؟ میں نے بھی تمہیں چاہا۔۔۔ کبھی کوئی ایسا پل نہیں گزرا جب میں نے تم سے محبت نہ کی ہو۔۔۔ میں۔۔۔ رامین کو چھوڑ دوں گا۔۔پلیز۔۔۔”
احلام کی آنکھ سے ایک آنسو جیسے ہی نکلا تھا انوشہ نے منہ پھیر لیا تھا۔۔۔
“تمہیں تو اتنی بھی شرم نہیں رہی احلام کے کسی شوہر کے سامنے اسکی بیوی سے محبت کا اظہار کررہے ہو۔۔ وہ خاموشی سے سن رہا تو صرف میرے لیے۔۔۔ تمہیں سمجھ نہیں آ رہی۔۔؟؟ ہماری طلاق کے بعد مجھے تم سے صرف نفرت رہی محبت نہیں احلام۔۔۔
اللہ نے شاید اس لیے رامن والی آزمائش ڈالی ہمارے رشتے میں۔۔۔ کیونکہ میں اور تم ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے۔۔۔ میں فہاج کے نصیب میں تھی اور وہ میرے۔۔۔”
“ایک اور لفظ نہیں۔۔۔”
“تم مجھے مارنا چاہتے ہوتو مار دو۔۔۔ میں فہاج کی سہاگن مروں گی۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔”
فہاج انوشہ کی طرف جیسے ہی بڑھے تھے احلام نے گن پھر سے پوائنٹ کی تھی
“تمہیں نہیں اسے ماروں گا۔۔۔”
اور فہاج کے کندھے پر گولی جیسے ہی لگی تھی۔۔۔احلام کو بھی کسی نے شوٹ کردیا تھا۔۔۔
پولیس کی بھاری نفری نے پورے ایریا کو کور کرلیا تھا اور احلا م کو وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔
“فہاج۔۔۔ فہاج۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔”
وہ روتے ہوئے فہاج کے پاس بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
“میم۔۔”
“ایمبولینس فہاج کو جیسے سٹریچر پر ڈالنے کے لیے آگے آئے تھے فہاج نے انوشہ کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا وہاں موجود سب کو شاک کردیا تھا۔۔۔
“بیوی کو زرا سا اور ایموشنل تو ہونے دیتے۔۔۔بیگم تم جاری رکھو۔۔۔”
“یو ایڈیٹ۔۔۔ ڈفر۔۔۔ شرم کریں یہاں میری جان جارہی تھی۔۔۔”
فہاج کے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ اور رونا شروع ہوگئی تھی
“جان اب جائے گی میری۔۔۔ جس سینے پر اتنی زور زور سے ماررہی ہو اسی سینے پر سر رکھ کر سونا بھی ہے محترمہ ۔۔۔ ہتھ ہولا رکھو۔۔۔”
“ہاہاہاہا بےشرم۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“پروفیسر فہاج محبت میں دیوانہ شخص محبوب کو انتظار کی سولی نہیں چڑھاتا جتنا آج آپ نے اپنی بیوی کو کو انتظار کروایا۔۔۔۔”
سگار کے دھوئیں نے اپنی لپیٹ میں بھر لیا ہوا تھا اس کمرے کے۔۔۔۔
“میری شرٹ میں تمہیں دیکھنے کی خواہش تو میری تھی
مگر یہ ہاتھ میں سگار پیتے دیکھنے میرے بیڈروم میں رات کے اس پہر
یہ میری فینٹسی تھی ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔”
کوٹ کے بٹن آہستہ سے کھولے وہ اندر آئے تھے۔۔۔۔ دروازہ بند کئیے وہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔۔۔
وہاں بیڈ پر بیٹھی بیوی کی یہ بولڈ سائیڈ دیکھ کر وہ اس لمحے پاگل ہورہے تھے چلتے اے سی میں بھی ماتھے پر پسینے کے بادل چھائے ہوئے تھے انکے۔۔۔۔
“آہاں۔۔۔؟؟ پروفیسر فہاج اس عمر میں کافی خطرناک فینٹسی ہیں آپ کی نہیں۔۔۔؟؟؟”
وہ جیسے ہی بیڈ سے اٹھ کر فہاج کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ اپنی شرٹ میں دیکھے انوشہ کو انکے باقی کے ہوش بھی جانے لگے تھے
“سو۔۔۔۔ اتنا پیچھے کیوں ہورہے ہیں۔۔۔۔؟؟”
وہ دروازے کے ساتھ پن کر چکی تھی فہاج کو۔۔۔۔
نیل پینٹ لگی انگلیاں جیسے ہی فہاج کی شرٹ کے بٹن کو اوپن کرنے کو تھی فہاج نے اپنا ہاتھ انوشہ کے ہاتھ پر رکھ کر اسے روک دیا تھا۔۔۔۔
“اس کے بعد واپسی کا کوئی موقع نہیں دوں گا ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔سوچ لو۔۔۔۔”
فہاج نےوہ سگار پکڑ لیا تھا اسکے لبوں کو وہ جیسے ہی لگایا تھا اس کا دوسرا ہاتھ انوشہ کی ویسٹ پر تھا
“کون کمبخت واپس جانا چاہتا ہے۔۔۔؟؟؟ جس آگ میں میں جل رہی ہوں اس میں تمہیں بھی جلانا چاہتی ہوں۔۔۔۔”
فہاج کے سینے پر عین تیز دھڑکتے دل پر جیسے ہی انوشہ نے اپنا ہاتھ رکھا تھا وہ کھو گئی تھی ان آنکھوں کی گہرائی میں
“مجھے پاس پا کر جناب کا دل اتنی زور سے دھڑکنا شروع کیوں کردیتا ہے۔۔۔۔”
“یہ مچل رہا میرے سینے سے باہر آنے کے لیے۔۔۔ تمہیں پہلو میں پاکر میرے دل میرے قابو میں نہیں رہتا ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔۔
اگر تم چاہتی ہو کہ یہ دل صدا یوں ہی دھڑکتا رہے تو یوں ہی پاس رہنا میرے۔۔۔۔ کہ اب یہ دل اور میں کوئی بھی جدائی برداشت نہیں کر پائیں گے۔۔۔۔۔”
یہ کہہ کر انہوں نے باقی کا فاصلہ بھی ختم کردیا تھا ان دونوں کے درمیان۔۔۔۔۔۔
۔
“سوچ لیں پروفیسر فہاج۔۔۔ میں ڈاکٹر ہوں میں حساب کتاب میں اتنی پکی ہوں کہ وقت اور بات ذہن نشین ہوجاتی ہے مجھے
نہ بھولوں گی نہ بھولنے دوں گی۔۔۔۔”
۔
۔
“مجھے پسند نہیں ہے محبتوں میں کمی۔۔۔۔
میں لفظ بھی گنتی ہوں تیری باتوں کے۔۔۔۔”
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
