Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 02
No Download Link
Rate this Novel
Episode 02
“میں کہتی ہوں بلاؤ اسکو۔۔۔کہاں ہے وہ جسے لوگوں کی تو پرواہ ہے مگر گھر والوں کی نہیں۔۔۔”
وہ او پی ڈی سے اونچی اونچی آواز چھڑی گھماتی ہوئی سٹاف روم کی طرف چلی گئی تھی۔۔۔۔
“نووٹ ناؤ نانی۔۔۔”
وہ فائل انوشہ نے اپنے فیس پر رکھ لیا تھا اکتاہٹ میں
“دو دن پچھلے دو دن سے فون کر رہے اور یہ تمہاری اسسٹنٹ جھوٹ پر جھوٹ بولی جا رہی ہے۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ یہ تو ڈاکٹر صاحبہ وہ۔۔۔۔”
نانی نے اپنی چھڑی اٹھائی اور انوشہ اور ساتھ کھڑی اسسٹنٹ کی طرف رخ کر کے اس بیچاری کو اچھا خاصا ڈرا دیا تھا
“نانی۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔”
انٹرنز کے سامنے وہ بہت آہستہ سے بات کرتے ہوئے ریکوئسٹ کر رہی تھی۔۔۔
“نہیں کونسا ڈاکٹر ہے جو رات کو بھی گھر نہیں آتا بتاؤ مجھے”
نانی ایک انٹرن ڈاکٹر سے مخاطب ہوئی جس نے ڈاکٹر انوشہ کی طرف اشارہ کیا اور باقاعدہ نام بھی لیا تھا
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔ پچھلے ہفتے سے ہمیں بھی نہیں جانے دے رہی ہیں۔۔۔”
“ہی ہی ہی”
“ڈاکٹر سونیا آج بھی آپ کی ڈیوٹی چلڈرن وارڈ میں ہے”
“وٹ۔۔۔پر آج ہی تو میں کمپلیٹ کی ہے ڈاکٹر دس از رونگ…”
“نیکسٹ ویک تک آپ کی نائٹ ڈیوٹی رہے گی ڈاکٹر۔۔۔یو مئے گو ناؤ۔۔۔”
“دیکھا یہ ہے ہی کھڑوس گھر میں بھی یہی حال کرتی ہے ہمارا۔۔۔
اس بچی کی شکل دیکھ انوشہ یہ ابھی رو دے گی اتنے معصوم بچوں کو نائٹ ڈیوٹی۔۔؟ تو جا بیٹا شام کو ہی گھر چلی جانا کوئی نائٹ ڈیوٹی”
۔
نانی نے انوشہ کو ایک نظر ترشی نگاہ سے دیکھا اور باقی انٹرنز وہاں سے بھاگ گئے تھے انوشہ کا سرخ چہرہ دیکھ کر۔۔۔۔
۔
“انوشہ۔۔۔۔”
“افففف نانی میری ریپوٹیشن ہے یہاں۔۔۔۔”
“تو میں یہ سوجی کے لڈو واپس گھر لے کر جا رہی ہوں۔۔۔”
وہ جیسے ہی پلٹنے لگی تھی انوشہ انکی بازو میں بازو ڈالے اپنے کیبن کی طرف لے جانا شروع ہوئی تھی۔۔۔ وہ جہاں جہاں سے گزر رہی تھی اپنی نانی کے ساتھ سب عملہ اسے رک رک کر سلام کر رہا تھا
“انوشہ جب دیکھتی ہوں دوسروں کو تمہاری عزت کرتے تب میرا سر فخر سے اونچا ہو جاتا ہے۔۔۔۔”
“نانی یہ نائٹ ڈیوٹی اور ہر وقت محنت کا نتیجہ ہے۔۔۔”
انوشہ نے انہیں ٹیز کیا تھا اور کیبن میں چلی گئی تھی انکے ساتھ۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“روم اٹلی۔۔۔”
۔
پاستہ بنا رہا ہوں کون کون کھائے گا۔۔۔؟؟”
وہ اپرون پہنے کچن میں چلے گئے تھے مگر جب بچوں کا جواب نہ سنا تو واپس باہر آئے اور ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے تھے
“کیا ہوا ہے بچوں۔۔۔ ہفتے کے تین تو رہتے ہو میرے پاس اب یہ چہرہ کیوں اترا ہوا ہے۔۔۔؟ ہانیہ بیٹا۔۔۔؟؟”
فہاج اپنی بیٹی کے پاس جیسے ہی بیٹھے تھے وہ اٹھ کر دوسری طرف چلی گئی تھی
“ڈیڈ آپ جانتے تھے موم کے ساتھ ہم نے ویک اینڈ پلان کیا تھا یہاں سے سیدھا ہم نے بڑی دادو کے گھر جانا تھا شادی انجوائے کرنی تھی
صبیحہ آپی کی مگر آپ نے فوراً ہی ریمائنڈر دہ دیا فرحان پاپا کو۔۔۔”
فہاج نے اپنی بیٹی کو ایک نظر غصے سے دیکھا
“فرحان پاپا۔۔۔؟؟ اب اسے شخص کو پاپا بھی کہنا شروع کردیا بیٹا۔۔؟”
انکے لہجے میں ایک شکوہ تھا جو بہت کم وہ کرتے آئے ہیں۔۔۔
“ڈیڈ آپ نے پوری بات نہیں سنی۔۔۔”
“اگر اتنا ہی زیادہ اچھا لگنے لگا تو بیٹا نہیں آنا چاہیے تھا تم لوگوں کو یہاں۔۔۔ میں دوبارا ریمائنڈر نہیں دوں گا۔۔۔۔”
وہ اپپرون اتار کر اپنے بیڈروم میں چلے گئے تھے
“یہ کچھ زیادہ نہیں تھا اریبہ۔۔۔؟؟”
بڑے بھائی نے سختی سے پوچھا تھا
“روحان بھائی ڈیڈ کو بھی اب سمجھنا چاہیے جو وقت تھا محبت کا وہ انہوں نے اپنی لاپروائی میں گزار دیا اب ہمیں عادت ہوگئی ہے فرحان پاپا کی۔۔۔”
“وہ وقت ڈیڈ پر بھی اتنا ہی سخت تھا ڈائیورس ہوئی تھی انکی موم سے۔۔۔”
“تو طلاق کے ذمہ دار بھی ڈیڈ ہی تھے۔۔۔۔ “
“اننف اریبہ۔۔۔تمہیں نہیں آنا تھا مت آتی مگر یہاں آکر یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔۔۔”
۔
وہ دونوں میں کچھ اور آرگومنٹ ہوئی تھی اور ہمیشہ کی طرح اریبہ بنا اپنے دن یہاں گزارے بغیر واپس چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پاکستان۔۔۔۔۔”
۔
۔
“موم یو آر دا بیسٹ۔۔۔۔۔”
ابیہا نے انوشہ کے ہاتھ پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
“ویسے سوجی کے لڈو میں نے بنائے تھے ماں کے کھانے کی تعریف اور میں۔۔۔؟؟”
“اووہ میری نانی۔۔۔موم کو تو میں مسکے لگا رہی ہوں تاکہ اگلے ویک اینڈ بھی موم ہی کھانا بنائیں ہمارے ساتھ ٹائم سپینڈ کریں۔۔۔”
ابیہا کی بات سن کر انوشہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“ڈیڈ کی طرف کب جانا ہے۔۔۔؟ کل کا ڈنر بھی ہم ایسے ہی ساتھ کھائیں گے اوکے۔۔۔؟؟”
ابیہا کے سر پر ہاتھ رکھا تھا انہوں نے
“ڈیڈ سے تو میں نے ایک منتھ کی چھٹی لے لی ہے۔۔۔جانا نہیں ہے کیا اٹلی۔۔۔؟”
“اٹلی۔۔۔؟؟ پر کیوں۔۔۔؟؟؟”
انوشہ نے حیرانگی سے پوچھا تھا
“تم پھر بھول گئی ہو انوشہ۔۔۔؟”
والدہ نے سخت مایوسی سے پوچھا تھا اپنی بیٹی کو۔۔۔۔
“کیا بھول گئی ہوں۔۔۔؟ پچھلے سال تو اٹلی گئے تھے۔۔۔”
“موم پچھلے نے نہیں پچھلے سے پچھلے سال گئے تھے۔۔۔
آپ سچ میں بھول گئی ہیں۔۔۔؟ ٹھہریں زرا میں ابھی خالہ بتا کر آتی ہوں انہوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ یقیناً بھول گئی ہوں گی۔۔۔۔”
انوشہ کے دماغ میں ابھی بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ بھول کیا رہی ہے۔۔۔
۔
“نیہا خالہ آپ نے ٹھیک کہا تھا موم کو تو یاد ہی نہیں۔۔۔ اور معید بھائی سے بھی کہہ دیجیئے گا کہ انکی فیورٹ خالہ انکا سپیشل دن بھول گئی ہیں۔۔۔۔”
۔
انوشہ واپس کھانا شروع کر چکی تھی۔۔۔۔ اسے پتہ تھا اب بیٹی اور بہن مل کر اسکی خوب انسلٹ کرنے والی تھی۔۔۔
۔
“جی خالہ بات کیجئے زرا موم کھانے کھا چکی ہیں۔۔۔”
لائیر کھا رہی ہوں ابھی نیہا بعد میں کال کرنا میرا ڈنر ڈسٹرب مت کرو۔۔۔”
وہ ابیہا کا موبائل بند کر کے ٹیبل پر رکھ چکی تھی اور کچھ سیکنڈ بعد انکا خود کا موبائل بجا تھا جو ابیہا جلدی سے سپیکر پر لگا چکی تھی کال ریسیو کرکے۔۔۔ اور وہاں ملازموں سے لیکر ہر فرد تک نیہا کی آواز سنائی دی تھی
۔
“تم ڈاکٹر ہوگی اپنے ہسپتال میں۔۔۔ تم ہٹلر ہوگی اپنے انٹرنز کے لیے انوشہ رحمان۔۔۔ مگر میرے بیٹے کی خوشیاں اسکی دوسری ماں کے بغیر ادھوری ہیں۔۔۔
وہ تمہیں یاد کررہا ہے تم نے وعدہ کیا تھا انوشہ۔۔۔۔”
نیہا کی آواز جیسے ہی افسردہ ہوئی تھی ابیہا نے جلدی سے فون لاؤڈ اسپیکر سے ہٹا دیا تھا اور وہ اٹھ کر چلی گئی تھی۔۔۔
“نانی بھی چلی گئی تھی اب ڈائننگ ٹیبل پر صرف انوشہ تھے اور انکی والدہ۔۔۔۔
“آہمم۔۔۔۔ مس نیہا آج کھانے میں تیکھا کھا لیا ہے جناب نے۔۔۔؟”
ایک لائٹ مسکراہٹ تھی اسکے ہونٹوں پر
“تم نے وعدہ کیا تھا انوشہ۔۔۔۔” اسے محسوس ہوگیا تھا بہن کی رونے کی آواز سن لی تھی اس نے
“نیہا میں بات کرلوں گی فرہاد سے۔۔۔۔”
“انوشہ اسکی انگیجمنٹ پر بھی یہی کہا تھا نہ۔۔۔؟ تم لاتعلق ہونا چاہتی ہو تو ایسے ہی ہوجاو نہ۔۔۔صبر اجائے گا۔۔۔۔
میرے بیٹے کی شادی اگلے مہینے کی پچس کو ہے اور اسی ہفتے سے فنکشن شروع ہیں۔۔۔
اگر تم سب کے ساتھ اس ہفتے نہ اٹلی پہنچی تو سمجھ جانا کرگئی تمہاری بڑی بہن تمہارے لیے۔۔۔۔”
وہ فون بند کرکے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟؟”
انوشہ نے بند فون کی طرف دیکھا تھا
“تو کیا سوچا ہے۔۔۔؟ باقی کی زندگی بھی ایسے ہی ہسپتال میں گزارنی ہے انوشہ۔۔۔؟؟”
والدہ نے تلخ لہجے میں بات شروع کی تو انوشہ کے چہرے کے تاثرات اور بھی سنجیدہ ہوگئے تھے
“موم ڈاکٹری میرا پیشن ہے مجبوری نہیں جسے میں چھوڑ دوں۔۔۔”
“اچھا تو ڈاکٹری کے ساتھ لکھ دی گئی ہو تم۔۔؟ باقی کی زندگی لوگ اپنے تمہیں نظر نہیں آرہے۔۔۔؟؟”
“نوٹ ناؤ موم پلیز۔۔۔۔”
“نوٹ ناؤ۔۔۔؟ ابھی نہیں تو کبھی۔۔۔؟؟ اپنی شادی شدہ زندگی بھی اپنے پیشن کے بھینٹ چڑھا دی تم نے۔۔۔۔۔۔ اور اب باقی کے رشتے دار بھی تم قربان کرنا چاہتی ہو انوشہ۔۔۔؟ اٹس ہائی ٹائم۔۔۔
یا تو اپنی ڈاکٹری کی حدود محدود کرلو۔۔۔ یا پھر ہم سب کنارا کشی کرلیں گے۔۔۔”
والدہ کی بات سن کر وہ غصے روم میں چلی گئی تھی۔۔۔۔
یہ روم کہ جس میں پچھلے ایک ہفتے سے نہیں آئی تھی وہ۔۔۔
یہ کمرہ کہ جو اس پہر اسے بتاتا تھا اسکی تنہائی کے عالم کا۔۔۔۔
۔
نائٹ گاؤن چینج کر کے وہ بالکونی میں چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“آپ کے پہلو میں آ کر روو دئیے۔۔۔
داستانِ غم سنا کر روو دئیے۔۔۔”
۔
اس پہر وہ بہت کتراتی تھی اس کمرے میں آنے سے ہاسپٹل میں بھی اسی وجہ سے وہ خود کو مصروف رکھتی تھی۔۔۔
اپنی والدہ کی باتوں نے اسے بہت ہرٹ کردیا تھا۔۔۔۔
گاؤن کی نوٹ مظبوطی سے باندھ کر نیک کے بٹن کھولے وہ گہرا سانس بھر کر وہاں کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔۔
کچھ سیکنڈ کے بعد ہلکا سا دھواں اٹھا تھا جب ہاتھ میں پکڑے سگار کو جلایا تھا اس نے۔۔۔۔
۔
زندگی نے کردیا جب بھی اداس۔۔۔۔
آگئے گھبرا کے ہم منزل کے پاس۔۔۔۔”
۔
ہونٹوں پر لگائے اس سگار کو وہ دور تک نظر دہرا رہی تھی مگر تنہائی تھی۔۔۔
۔
اندر ایک ہی بات تھی جو اسے آج تک سننے کو ملتی تھی کہ شادی کی ناکامی کی وجہ وہ ہے۔۔۔۔
اور وہ اس قدر تنگ آگئی تھی کہ اس نے جواب دینا بند کردیا تھا
۔
“آپ کو کیا پتہ موم پہلی شادی کے ناکام ہونے کی وجہ عورت ہو یہ ضروری تو نہیں۔۔۔
یہ میری تنہائی میری اپنی اس وقت بنی تھی جب آپ سب نے تنہا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔”
۔ش
شام جب آنسو بہاتی آگئی۔۔۔۔
ہر طرف غم کی اداسی چھا گئی۔۔۔۔”
۔
“اپنوں کو افسوس ہے میری لاپرواہی پر۔۔۔۔ پر مجھے لاپرواہ بھی انہی رشتوں نے بنایا۔۔۔۔۔”
۔
دیپ یادوں کے جلا کر روو دئیے۔۔۔۔۔
سر جھکایا۔۔۔سر جھکا کر روو دئیے۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ون ویک لیٹر۔۔۔۔۔
روم اٹلی۔۔۔”
۔
“کیلے کے چھلکے وہاں کیوں پھینک رہے ہو بیٹا اٹھاؤ۔۔۔۔”
بی جان کی آواز کو اگنور کرکے وہ بچے بھاگ گیا تھا اور پیچھے پیچھے بی جان۔۔۔۔کچھ دیر میں کچن سے جیسے ہی قرطبہ باہر آئی روحیل نے راستہ روک لیا تھا بیوی کا۔۔۔
“روحیل میرا راستہ چھوڑ دو۔۔۔بات مت کرو۔۔۔۔”
“پلیز روم میں چلو نہ میں ایک سرپرائز لایا ہوں”
روحیل نے اپنی بیوی کو سیڑھیوں کی طرف کھینچا تھا۔۔۔۔
“میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔”
“ایسے کیسے نہیں جاؤ گی۔۔۔؟ سب دیکھ رہے ہیں ایسے چلو ورنہ اٹھا کر لے جاؤں گا۔۔۔”
“اپنے کزنز کے سامنے زیادہ مرد مت بنو۔۔۔”
بیوی کی شیرنی جیسی نگاہیں دیکھ کر روحیل ڈر کر پیچھے ہونے لگا تھا جب پیچھے سے اسکے کزنز نے پھر سے اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“مرد مت بنو۔۔ ؟ تم نے میری مردانگی دیکھی نہیں ہے بیگم۔۔۔”
اس نے سچ میں اپنی بیوی کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا تھا۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔ روحیل نیچے اتار دیں گر جاؤں گی میں۔۔۔۔”
“نہیں گرنے دیتا میری جان۔۔۔۔بس ایک سرپرائز پھر تمہارا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔۔۔”
کچھ سیڑھیاں ابھی وہ چڑھا ہی تھا کہ کچھ سیکنڈ میں قرطبہ کی چیخ سب نے ہی سنی تھی۔۔۔۔۔وہ دونوں چند سیڑھیوں سے نیچے گرے تھے پھولوں والے ٹوکرے پر جب قرطبہ کا منہ لگ کر چھپ گیا تو اس نے روحیل کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
“روحیل۔۔۔۔یو ایڈیٹ۔۔۔۔”
وہ پاس پڑے ڈنڈے کو اٹھا کر روحیل کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔۔
۔
“اللہ کی قسم میرا پاؤں پھسلا تھا۔۔۔۔۔”
مگر وہ پیچھے پیچھے تھی اور وہ آگے آگے۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“خالہ وہاں پارک کرنی ہے گاڑی آپ سے نہیں ہوپائے گی۔۔۔۔”
“اففف جاؤ تم لوگ اندر میں آجاتی ہوں۔۔۔۔”
فرہاد باقی سب کے ساتھ گاڑی سے جیسے ہی باہر نکل گیا تھا انوشہ نے کار پارک کرنے کے لیے ریورس کی تو اسے کال آگئی تھی
۔
“ڈاکٹر وہ پیشنٹ آپ کے علاوہ کسی سے ٹریٹمنٹ کو نہیں مان رہی۔۔”
۔
“انابیہ یہ معمول کے کیس حل نہیں ہو پارہے آپ سے۔۔۔؟ آگے چل کر میری سیٹ سنبھالنی ہے آپ نے۔۔۔؟”
“ایم سو سوری ڈاکٹر پر وہ۔۔۔۔”
“فون دیں زرا انہیں۔۔۔۔”
وہ گاڑی الموسٹ پارک کرچکی تھی جب ایک کار کے ساتھ گاڑی لگی اور اس گاڑی کی ہیڈ لائٹ ٹوٹ گئی تھی۔۔۔۔
۔
“ویٹ انابیہ۔۔۔۔”
انوشہ نے جلدی سے گاڑی کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“شٹ۔۔۔۔ہیڈ لائٹ ٹوٹ گئی۔۔۔۔” اس نے گاڑی کو دیکھ کر کہا تھا
“ڈبل شٹ مس سکریچ بھی آگیا ہے۔۔۔۔”
پیچھے سے جیسے ہی کسی نے سرگوشی کی تھی انوشہ ایک جھٹکے سے سائیڈ پر ہوگئی تھی۔۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔۔”
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔؟ یہ مجھے کہنا چاہیے میڈم میری برینڈ نیو کار ڈیمیج کردی آپ نے۔۔۔”
“تو آپ کو نظر نہیں آرہا تھا کہ یہاں سے میں گاڑی پارک کررہی۔۔۔ بہت جلدی تھی جگہ ملنے کی مسٹر۔۔۔۔”
اسے پتہ تھا غلطی اسکی ہے مگر وہ الٹا بول کر پیچھے جانا چاہتی تھی
“آپ عورتوں کو کوئی اور کام نہیں ہے۔۔؟ ڈرائیونگ کیا سیکھ لی ایسے نقصان شروع کردیتی ہیں اور پھر جھوٹ وللہ۔۔۔۔”
“فہاج بس کر جاؤ نہ۔۔۔۔”
“اررے کل ہی تو امپورٹ کروائی تھی میں نے یہ گاڑی۔۔۔۔ ان عورتوں کو لائسنس دیتا کون ہے۔۔؟؟”
وہ غصے سے بولا تو انوشہ نے بھی مڑ کر دیکھا تھا اسے۔۔۔۔
“آپ کو ایک بار میں نظر نہیں آیا اور اب غلطی نہیں مان رہے محترم آئی سائٹ ٹھیک کروائیں۔۔۔”
“سیریسلی۔۔۔؟ لیول چیک کرو محترمہ کا وہ حساب ہے پہلے چوری پھر سینہ زوری۔۔۔. پتہ بھی کتنا نقصان ہوا ہے میرا۔۔۔”
“اماونٹ بتائیں میں پئے کروں۔۔۔”
“یو مس۔۔۔۔”فہاج غصے سے گاڑی میں بیٹھا تھا اور گاڑی سٹارٹ کرکے انوشہ کی گاڑی کے ساتھ ایسے ٹچ کی تھی کہ گاڑی کی ہیڈ لائٹ ٹوٹ گئی تھی
“اب پتہ چلے گا نقصان کیا ہوتا ہے مس۔۔۔ آئی بڑی مجھے اماونٹ دینے والی اب اپنی گاڑی پر وہ پیسہ لگا دینا۔۔۔۔”
وہ اپنے دوست کو وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔۔
پر انوشہ وہیں کھلے منہ اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔
کچھ منٹ بعد اس نے طیش میں اپنی گاڑی کو سٹارٹ کیا تو اور اب فہاج کی گاڑی کے درمیان میں اپنی گاڑی کو مارا تھا۔۔۔۔
اور دو تین بار مارنے کے وہ اپنی گاڑی بھی دوسرے لائن میں پارک کرچکی تھی۔۔۔اور فہاج کی گاڑی پر وہ کچھ پیسے رکھ کر اندر چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
