Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
“زندگی کی پہلی حقیقت اگر زندگی جینی ہے تو اپنی خوشیوں کو لوگوں کی ترجیحات سے پہلے رکھے۔۔۔ لوگوں کی ترجیحات دیکھیں گے تو آپ زندگی گزاریں گے جئیں گے نہیں۔۔۔”
۔
“اس نہیں کا کوئی علاج نہیں۔۔۔؟؟
روز کہہ دیتے ہو آج نہیں۔۔۔”
۔
ہاتھ میں پکڑے ہوئے چائے کے مگ کو انوشہ کے ہاتھ میں تھما دیا تھا فہاج نے۔۔۔
“واہ پروفیسر صاحب شاعری۔۔۔؟؟آہ۔۔۔”
کہتے کہتے چائے کا سپ بھرا تھا اور پہلا سپ پیتے ہی وہ لطف اندوز ہوگئی تھی چائے اتنی اچھی لگی انہیں۔۔۔۔
“شاعری نہیں میرے اندر کی آواز میرے اندر کا درد ہے ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔ کل رات ڈنر ڈیٹ سکیپ کردی تھی آپ نے۔۔۔”
وہ ایک دم سے منہ بنا کر بیٹھ گئے تھے۔۔۔ انکے لہجے اور بچوں جیسے ناراض ہونے کے انداز نے انوشہ کے چہرے پر بےساختہ ہنسی بکھیر دی تھی۔۔۔
“ہممم شونا۔۔۔ ناراض ہو۔۔؟؟”
وہ اٹھ کر فہاج کی سیٹ کے پاس آکر جیسے بیٹھی تھی فہاج صاحب کی چائے کا وہ سیپ باہر نکل آیا تھا منہ سے انہوں نے جیسے کھانسی شروع کی تھی
“ہاہاہاہا۔۔جیز۔۔۔۔ چہرہ دیکھیں۔۔۔۔”فہاج کے کندھے پر سر رکھے انہوں نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔ ایک ہفتہ ہوگیا ہے۔۔۔ تم ایک بار بھی گھر سے باہر نہیں نکلی۔۔۔ میں گلٹ میں پاگل ہورہا ہوں۔۔۔کہیں۔۔۔”
فہاج کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔مگر وہ جیسے اٹھ کر فہاج کی تھائی پر آکر بیٹھی تھی وہ خود بھی شاکڈ تھی اپنے اس بولڈ مووو پر۔۔۔ فہاج کے سینے پر ہاتھ رکھے انہوں نے اس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنی زندگی کا سب سے بڑا راز کہہ دیا تھا جو وہ خود بھی ایکسیپٹ کرنے سے ڈر رہی تھی
“فہاج جانتے ہیں میرا سب سے بڑا ڈر کیا تھا۔۔؟؟ “
فہاج کی ہلکی ہلکی بئیرڈ پر نیلزرکھتے ہوئے چہرے کو اپنی جانب کیا تھا درمیان میں کچھ فاصلہ نہیں تھا وہ اپنی بات سرگوشیوں میں بیان کررہی تھی
“اس دنیا کی اپنوں کی لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنی خوشیوں کو اپنانا۔۔۔
میں زندگی گزار رہی تھی۔۔۔ کبھی موقع نہیں ملا تھا اپنے بارے میں سوچنے کے لیے۔۔
مگر میں ڈرتی تھی فہاج۔۔۔ ڈر لگتا تھا کہ کہیں کچھ غلط ہوا تو لوگوں کو موقع مل جائے گا ایک اکیلی عورتکے کردار کو داغدار کرنے کا۔۔
ان سالوں میں لوگوں کو کیا میں تو اپنوں کی رسوائی سے ڈرنے لگی تھی۔۔۔
خاص کر اس شخص سے ج موقع کی تلاش میں تھا۔۔۔۔”
انوشہ کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے فہاج نے اسکا چہرہ اپنے سینے پر رکھے اپنی آغوش میں بھر لیا تھا
“میں آگیا ہوں انوشہ۔۔۔ میں تمہارا محافظ ہی نہیں۔۔۔ تمہارا ہمراز بھی ہوں۔۔۔ میری محبت ہر اس اندھیرے میں روشنی بن کر تم سے آگے رہے گی۔۔۔”
“کوئی نہیں تھا تو رسوائی سے ڈرتی تھی۔۔۔
اب آپ آگئے ہیں تو جدائی سے ڈرنے لگی ہوں۔۔۔ اتنا کہ سب چھوڑ چھاڑ کر پیچھے پیچھے آگئی میں۔۔۔ ورنہ میرے لیے میرا پروفیشن سب سے اوپر تھا فہاج۔۔۔ میری بیٹی میری فیملی سب کچھ تھی۔۔۔۔ مگر ایک لمحے میں میری پرائیاوریٹیز بدل گئی۔۔۔ اہمیت بدل گئی۔۔۔
اہم ابھی بھی ہیں سب مگر اس رشتے کے بعد آپکے بعد۔۔۔۔”
کہتے ہوئے انوشہ نے آنکھیں بند کر لی تھی فہاج کی تیز دھڑکنیں سکون سے سننے لگی تھی۔۔۔
وہ خود چپ ہوگئی تھی مگر فہاج کے دل میں ایک شور برپا کردیا تھا انکی اُن قیمتی باتوں نے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ صبح رپورٹ کریں پروفیسر۔۔۔۔اٹس ارجنٹ۔۔۔”
فہاج نے فون بند کردیاتھا اور پہلو میں سورہی بیوی کو آہستہ سے اپنی بانہوں میں اٹھا کر بیڈروم میں لے آئے تھے اور بیڈ پر لٹا دیا تھا۔۔۔
“میں بھی کتنا خود غرض نکلا انوشہ۔۔۔ تمہیں پریشرائزڈ کرتا رہا یہ سوچے بغیر کہ تم ایک عورت ہوکر کیسے اتنا بڑا فیصلہ کرو گی۔۔۔ مگر تم نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔۔۔ اپنا خواب وہ ہسپتال اپنا پیشن سب کچھ۔۔۔”
انوشہ کے ماتھے پر بوسہ دئیے وہ اٹھ کر باہر چلے گئے تھے
۔
“فہاج میں بنا شئیرز کے انویسٹ کرنے کو تیار ہوں یار حکم کر۔۔۔”
“نعمان میں نے انوشہ کو تحفہ دینا ہے اپنی محنت کے پیسوں سے میں یہ ہسپتال بنوانا چاہتا ہوں۔۔۔”
وہ دونوں لیونگ روم میں بیٹھے بہت آہستہ آواز میں باتیں کررہے تھے۔۔۔جب فہاج نے یہ پرپوزل سامنے رکھا تھا اپنے دوست کے
“اوکے ٹھیک ہے مگر میری انویسٹمنٹ میں کیا حرج ہے۔۔؟؟ انوشہ بھابھی کو برا نہیں لگے گا میں بات کروں گا۔۔۔”
“اورے۔۔۔نہیں۔۔۔ میں اسے سرپرائز دینا چاہتا ہوں۔۔۔ جلدی سے جلدی یہ ہسپتال بنوا کر۔۔۔”
“یار بھابھی اتنی قابل ہیں کہ یہاں کہیں بھی بڑی پوزیشن مل جائے گی پھر ہسپتال ہی کیوں۔۔؟؟”
“کیونکہ ان لوگوں نے دھوکے سے میری بیوی کی محنت چھینی ہے۔۔ میرا بس نہیں چل رہا راتوں رات اس جیسے دس ہسپتال کھڑے کروا دوں انوشہ کے نام پر۔۔۔”
وہ غصے سے چکر کاٹنے لگے تھے اس روم میں۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
“میں نے جلد بازی میں کچھ بھی نہیں سوچا انوشہ کی پوری زندگی محنت رشتے پیچھے چھوٹ گئے میری وجہ سے۔۔۔ میرا کیا گیا۔۔؟؟ میرے بچے تو پہلے ہی میرے نہیں تھے۔۔۔
اور بی جان۔۔ انہوں نے بھی پرایا کردیا تھا مجھے۔۔۔ باقی کون ہے میرا جو نہیں ہوگا تو زندگی رک جائے گی۔۔؟؟ مگر انوشہ کی اب تک کی زندگی۔۔۔ رک گئی ہے۔۔۔”
“کیا بھابھی نے شکایت کی۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔ وہ بیچاری سچ میں میرے لیے سب چھوڑ آئی ہے۔۔۔ اسکے چہرےپر کوئی ندامت نہیں ۔۔مگر آنکھوں کا خالی پن میں دیکھ سکتا ہوں۔۔۔”
“ہمم اوکے ڈونٹ ورری۔۔۔ ہم مل کر کریں گے سب۔۔۔”
“ہمم میں بس سب ٹھیک کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دھوکا دیا ہے انہوں نے بی جان۔۔۔ اب جو میں نے کیا ہے وہ بھی یاد رکھیں گے وہ۔۔۔”
“بس روحان بیٹا۔۔۔”
“نہیں پھوپھو۔۔۔ بس نہیں۔۔۔ اس شخص نے سب برباد کردیا میں انہیں برباد کردوں گا۔۔۔”
روحان کو کتنے لوگوں نے پکڑا ہوا تھا جو چیزیں توڑ کر ہاتھ بھی زخمی کرچکا تھا اپنے۔۔۔۔
“نازنین بیٹا فہاج کو فون کرو۔۔۔”
بی جان روتے ہوئے کہنے لگی تھی جب روحان نے موبائل کھینچ کر توڑ دیا تھا نازنین کے ہاتھوں سے۔۔۔
“کوئی فون نہیں کرے گا میں شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔”
“بس کرجاؤ باپ ہیں وہ ہمارے بس کرو روحان۔۔۔۔”
اریبہ روتے ہوئے بیٹھ گئی تھی اس سے اور برداشت نہیں ہورہی تھی بےعزتی فہاج کی
“باپ۔۔؟؟ مطلب بھی پتہ ہے باپ کا۔۔۔؟؟ باپ ایسے ہوتے ہیں۔۔۔
کاش ہمارا کوئی باپ نہیں ہوتا۔۔۔ موم آپ سہی کہتی تھی۔۔ آج سمجھ آئی کوئی وہ شادی جیسا پاکیزہ رشتہ نبھا سکے وہ شخص رشتوں کی اہمیت۔۔۔”
نازنین کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔
“اننف از اننف۔۔۔ تم اپنے باپ کو مارنے تک کی حد پار کرگئے ہو پر میں اپنے بھائی کی تذلیل برداشت نہیں کروں گی میرے گھر میں۔۔۔ دفعہ ہوجاؤ بدتمیز۔۔۔ تم انہیں باپ ہونے کا طعنہ دے رہے۔۔۔۔ ارے تم نے بیٹے ہونے کا فرض نبھایا۔۔۔؟؟
تم سے اچھی تو ابیہا نکلی۔۔۔ اپنی ماں کے لیے سٹینڈ لیا۔۔۔
میرے بھائی نے ساری زندگی وار دی اس لیے۔۔؟؟
عنبر شرم کرو اپنے بچوں کو انہی کے باپ کے خلاف کردیا۔۔۔”
نازنین جس طرح چلائی تھی سب ڈر کر پیچھے ہوگئے تھے بی جان میں بھی سکت نہیں رہی تھی اپنی بہو کو چپ کروانے کی سب بچے اپنے اپنے رومز میں چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضروری میٹنگ ہے یونیورسٹی جانا پڑ رہا ہے جاناں۔۔۔ ناشتہ لازمی کرلینا۔۔۔ ملازمہ کو بلا لیا تھا۔۔۔
کوئی کام مت کرنا بستر سے نیچے نہ اترنا۔۔۔بس یوں گیا یوں آیا۔۔۔”
انوشہ کے چہرے پر مسکان چھا گئی تھی۔۔۔ مگر کچھ سیکنڈ میں جب فہاج صاحب کے بجتے ہوئے موبائل پر نظر پڑی تو انہیں اٹھنا ہی پڑا۔۔۔
“جناب سیل فون تو گھر ہی بھول گئے ہیں۔۔۔”
۔
ناشتہ کئیے بغیر وہ تیار ہوکر اپارٹمنٹ سے چلی گئی تھی فہاج کی یونیورسٹی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میری صرف ایک ہی بیٹی ہے۔۔۔ نیہا۔۔۔ میں کسی اور کو نہیں جانتا۔۔۔ مرگئی ہے وہ میرے لیے۔۔۔ اور آج وہ ہاسپٹل بھی مسمار کروا دوں گا۔۔۔”
مبشر صاحب کی گونجتی ہوئی آواز نے سب کو اپنی جگہ ٹھہر جانے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔ وہ ہاسپٹل پر آپ کی نہیں انوشہ کی محنت لگی ہے۔۔۔ کس حق سے برباد کررہے ہیں۔۔؟؟ کتنے لوگوں کی زندگیاں جڑی ہوئی ہیں۔۔۔ کتنے لوگو ں کا علاج۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔ کونسی محنت۔۔۔؟؟ اسے خیال ہوتا تو یوں اپنے یار۔۔۔”
“مائنڈ یور لینگوئج ڈیڈ۔۔۔ وہ ہزبنڈ ہے انوشہ کا یار نہیں۔۔۔ اگر ایک بیٹی مار ہی چکے ہیں تو مجھے بھی مار دیں۔۔۔ میں انوشہ کو چن رہی ہوں آپ کو نہیں۔۔۔ میں بھی سمجھ لوں گی آپ نہیں رہے۔۔۔”
“نیہا۔۔۔”
والدہ کے ساتھ ساتھ مبشر صاحب بھی شاکڈ رہ گئے تھے
“سوری موم۔۔۔ آج کے بعد میرا میرے بچوں کا میری فیملی کا آپ لوگوں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رہا۔۔۔
چلیں صہیب فرہاد۔۔۔ صبیحہ بیٹا۔۔۔ چلو اب ہم پاکستان نہیں آئے گے۔۔۔”
وہ بات کی پکی نکلی تھی نانی کے گلے لگنے کے بعد وہ اپنی فیملی کے ساتھ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
مبشر صاحب اپنے بڑے سے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ اکیلے کھڑے رہ گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایم سوری پروفیسر فہاج یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ریسٹیکیٹ کرنے کا فیصلہ اس لیٹر کے ریسیو ہونے کے بعد لیا ہے۔۔۔”
“لیٹر۔۔؟؟ کونسا لیٹر۔۔۔؟؟”
اور جب فہاج صاحب نے وہ لیٹر پڑھا تھا وہ ایک جھٹکے سے اپنی کرسی پر بیٹھ گئے تھے بیس لوگوں کے درمیان آج انہیں نکالا جا رہا تھا یونیورسٹی سے وہ بھی ایک لیٹر پر جو خود انکے اپنے خون نے یہاں بھیجا تھا۔۔۔
“روحان۔۔۔”
“اگر کوئی اور ہوتا تو ہم انویسٹیگیٹ کرتے مگر آپ کے بیٹے نے یہ سب بھیجا۔۔۔ ہمیں شرمندگی ہورہی ہے آپ کو ہم کیا سمجھتے رہے۔۔ اور آپ اس عمر میں اپنے سے کم عمر۔۔۔”
“اننف۔۔۔۔ میں جارہا ہو ایلیوبریٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔”
وہ اپنے ڈاکومنٹس لیکر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
مگر وہ جیسے ہی باہر آئے تھے کیفیٹیریا کے باہر سٹوڈنٹس کا رش دیکھ کر وہ سائیڈ سے جانے لگے تھے مگر ایک آواز سن کر وہ وہاں رک گئے تھے۔۔۔
“بٹ میم۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔ یہ ڈسیپلین ہے۔۔؟؟ اس طرح سٹڈی کرتے ہیں۔۔۔ شرٹ کے بٹن بند کرو مکمل۔۔۔”
سامنے کھڑے میل سٹوڈنٹس کو جس طرح انوشہ ڈانٹ رہی تھی وہ ڈرٹے ہوئے شرٹ کے بٹن بند کرچکے تھے۔۔۔
“ناؤ سٹینڈ اپ۔۔۔۔ جائیں کلاس میں۔۔۔ اور جانے سے پہلے یہ سب ایریا صاف کرکے جائیں ہری اپ۔۔۔”
وہ سب ہی شروع ہوگئےتھے صفائی کرنا۔۔۔
“فہاج کا سارا موڈ فریش ہوگیا تھا وہ ہنستے ہوئے انوشہ کے پاس آئے تھے۔۔۔
“اگر ہوٹ کہوں تو برا تو نہیں مان جاؤ گی۔۔؟؟ کیونکہ ابھی وہی لگ رہی ہو۔۔۔”
پیچھے سے سوگوشی کی تھی فہاج۔۔۔
“وہ تو آپ بھی لگ رہے ہیں مسٹر پروفیسر۔۔۔گلاسز لگائے۔۔۔ گھر میں بھی لگایا کریں۔۔۔”
انوشہ نے آنکھ مار کر پروفیسر صاحب کو اور شاکڈ کردیا تھا۔۔۔
ابھی وہ وہاں سے ہاتھ پکڑے جانے لگے تھے جب وہ بورڈ آف ڈائیریکٹر نے انہیں آواز دے کر روکا تھا۔۔۔ جو انوشہ کی پرفارمنس سے بہت متاثر ہوئے تھے
“کیا آپ نیو ٹیچر ہیں۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔ شئ از مائی فائف۔۔۔ ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
فہاج نے بڑے فخر سے انوشہ کو انٹروڈیوس کروایا تھا۔۔۔
“مگر وہ لیٹر میں۔۔۔”
“یہ پاکستان کی ٹاپ ڈاکٹر ہیں۔۔۔ سرچ کرلیجئے گا۔۔۔ مائی لیگلی ویڈڈ وائف۔۔۔ اینڈ ایم پراؤڈ آف ہر۔۔۔ گڈ ڈے سر۔۔۔”
انوشہ کا ہاتھ پکڑے وہ وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔
انوشہ کے لیے گاڑی کا دروازہ جیسے ہی اوپن کیا انوشہ نے پھر سے بند کردیا تھا
“سب ٹھیک ہے۔۔؟؟ آپ نے آج سے پہلے کبھی میری پوزیشن ایسے بڑھا چڑھا کر نہیں بتائی۔۔۔”
فہاج کے کالر پر نرمی سے انگلیاں رکھ کر انوشہ نے پوچھا تھا
“ہمم۔۔۔ روحان نے یہاں لیٹر بھیجا تھا۔۔۔ عجیب سچ جھوٹ لکھ کر۔۔۔ جہاں میرے۔۔۔ ہمارے رشتے کو ایسے الفاظ میں کہا گیا کہ میں دوبارہ بیان نہ کر پاؤں۔۔ تمہیں ایک کچی عمر کی لڑکی بتا کر اس نے اپنے باپ کا کردار مشکوک لکھ کر میرے کیرئیر پر بڑا سا بدنما داغ لگا کر مجھے نوکری سے نکلوا دیا۔۔۔”
کہتے کہتے آواز دھیمی ہوگئی تھی۔۔۔ اور وہ ڈرائیونگ سیٹ پر جاکر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
یہ اتنی بڑی بات تھی کہ کچھ منٹ لگے تھے انوشہ کو گاڑی میں بیٹھ کے لیے۔۔۔
“گاڑی جیسے ہی سٹارٹ ہوئی تھی انوشہ نے اپنی سیٹ بلٹ لگانے کے بجائے فہاج کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔
وہ دونوں ہی خاموش ہوگئے تھے۔۔۔ فہاج کی تکلیف وہ سمجھ رہی تھی پوری طرح۔۔۔
۔
“فہاج۔۔۔”
“آئی لو یو۔۔۔ آج جو ہوا ایسا لگ رہا تھا جیسے اگلا سانس نہیں لے پاؤں گا انوشہ۔۔۔
مگر تمہارا ساتھ ساتھ ہے تو یہ بھی سروائیو کرجاؤں گا۔۔۔”
بارش کی بوندیں گاڑی کے شیشے پر جیسے گرنا شروع ہوئی تھی ایک سائیڈ پر کار پارک کردی تھی انہوں نے۔۔۔
“ہم اس تلخ حقیقت سے بھی گزر جائیں گے فہاج ہمت نہیں ہارنی میں آپ کو یوں ٹوٹتے ہوئے دیکھوں گی تو برداشت نہیں کرپاؤں گی۔۔۔”
فہاج کا چہرہ جیسے اپنی طرف کیا تھا ان آنکھوں میں آنسو دیکھ کر انوشہ کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھی
“ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا انوشہ۔۔۔ شادی کی تھی۔۔ بچے ہی سمجھ نہ سکے ہمیں۔۔ میں کسے کسے بتاؤں کہ میں جانتا ہوں اتنے سال کیسے تنہا گزاریں ہیں میں نے۔۔
میری برداشت سے باہر تھی تنہائی۔۔۔ شادی کرنا میرا حق تھا۔۔۔کیا غلط کیا۔۔؟؟”
انوشہ کے گلے لگے وہ پوری طرح ٹوٹ چکے تھے۔۔۔
“کچھ غلط نہیں کیا فہاج۔۔۔ کچھ غلط نہیں۔۔۔ بس اب۔۔۔ شش۔۔۔
ہم نے اپنی خوشیوں کو آگے رکھا ہے ہمارے لیے سوچا ہے کوئی گناہ نہیں کیا ہم نے سنا آپ نے۔۔۔۔”
فہاج کے چہرے کو صاف کرکے اپنی طرف متوجہ کیا تھا
“فہاج یہ ہمارا ہمارے رشتے کا امتحان ہے۔۔۔ انشاللہ ہم سرخرو ہوں گے۔۔۔ ہمارا نکاح ہوا ہے لوگوں کے نہ چاہنے پر بھی ہمیں اللہ نے ایک دوسرے کے نصیب میں لکھ دیا ہے۔۔
دنیا کچھ بھی کرلے وہ ہمارے نصیب نہیں بدل سکتی۔۔۔”
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
