Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 04
No Download Link
Rate this Novel
Episode 04
“سیریسلی۔۔؟ ایکٹنگ بند کریں۔۔۔ ڈاکٹر ہوں میں آپ کی فیملی ممبر نہیں جو سمجھ نہ پاؤں۔۔۔
شکر کریں میں نے بےہوشی کا انجیکشن لگایا دوسرا نہیں۔۔۔”
اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے پیچھے کھینچ لیا تھا انوشہ نے۔۔۔
اور اب سانس لینے کا موقع ملا تھا پروفیسر فہاج کو۔۔۔
“ڈاکٹر۔۔۔؟؟ مجھے تو لگتا ہی نہیں۔۔۔یہ جو پارکنگ لوٹ پر جو بچگانہ حرکت کی آپ نے۔۔۔وہ سوٹ کرتی تھی آپ کو۔۔۔؟؟”
“یو مسٹر۔۔۔تھنکس کہنے کے بجائے باتیں کررہے ہیں۔۔؟؟
ابھی بتاتی ہوں بی جان کو۔۔۔”
“اووے۔۔۔ہیلو۔۔۔۔”
فہاج نے جلدی سے اٹھ کر انوشہ کا ہاتھ پکڑ کر واپس کھینچا تھا۔۔۔
اور انکی ہیلز جیسے ہی سلپ ہوئی تھی وہ فہاج کے ساتھ صوفہ پر گر گئی تھیں۔۔۔
اب کے انکے دونوں ہاتھ فہاج کے دھڑکتے دل پر تھے جیسے ان کے وجود کے درمیان کچھ فاصلہ رہ گیا تھا۔۔۔
“آپ کا پلس ریٹ پھر سے تیز ہورہا ہے مسٹر فہاج۔۔۔”
فہاج کی آنکھوں میں دیکھتے ہی اس نے سرگوشی کی تھی
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
وہ اس سچویشن میں بھی ڈاکٹری ٹون سن کر مسکرا دیا تھا انوشہ کی۔۔۔
۔
۔
“نادان ہے وہ کتنی۔۔۔کچھ سمجھتی ہی نہیں۔۔۔۔
سینے سے لگا کر پوچھتی ہے۔۔۔دھڑکن کیوں تیز ہے۔۔۔”
۔
“آہممم۔۔۔۔”
دروازے پر کھڑے اس شخص نے بلآخر اپنی موجودگی کا احساس دلا دیا تھا۔۔۔
اور انوشہ جلدی سے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
“اب یہ ٹھیک ہیں آپ لوگ انہیں گھر لے جاسکتے ہیں۔۔۔”
وہ جلدی سے اپنا موبائل پکڑے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“فہاج۔۔۔؟؟ وٹ از اٹ۔۔؟؟ “
“کچھ بھی نہیں پاؤں پھسل گیا تھا ان کا۔۔۔”
“ان کا۔۔۔؟؟ چل کیا رہا ہے۔۔؟؟ وہ صبیحہ کی خالہ ساس ہے۔۔۔ پلیز مجھے کچھ بھی ایسی پیچیدگی نہیں چاہیے۔۔۔”
ندیم صاحب اندر آگئے تھے
“سمجھا تو ایسے رہے ہو۔۔۔جیسے میں کوئی ٹین ایجر ہوں۔۔مجھ سے ایسی بات کی توقع بھی مت رکھنا۔۔”
اپنی شرٹ کے بٹن بند کرکے وہ بھی سٹریٹ کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟”
انہوں نے اپنا کوٹ اٹھا کر جیسے ہی پہننا شروع کیا تھا تو ندیم صاحب بلکل سامنے کھڑے تھے
“فہاج ابھی میں نے تمہاری آنکھوں میں کچھ پل کے لیے وہ سب دیکھا جو کبھی اس خود غرض عورت کے لیے دیکھتا تھا۔۔۔
میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ عمر بچوں کی خوشیوں کی ہے ہماری نہیں۔۔۔”
ندیم صاحب کے جاتے ہی فہاج وہاں بیٹھ گئے تھے گہرا سانس لئیے۔۔۔
“یہ ڈاکٹر تو خطرے کی گھنٹی ہے۔۔۔ مجھے دور رہنا ہوگا اس سے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بی جان نے کیا خوب سزا دی ہے۔۔۔سب لڑکوں کو۔۔۔”
وہ لڑکیاں ایک سرکل میں بیٹھ گئی تھی دائرے کی شکل میں اور درمیان میں مہندی آرٹسٹ گرلز جو سب کے ہاتھوں میں مہندی لگا رہی تھی
“کیا سزا ملی۔۔؟؟”
“ایک منٹ۔۔۔۔ ویٹر۔۔۔۔ ایک جوس کا گلاس ادھر بھی۔۔۔۔”
ویٹر کا لباس پہنے وہ لڑکا منہ چھپائے ٹرے لیکر انکی جانب آیا تو سب ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے تھے۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا روحیل بھائی۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔ ویری فنی ہنس لو چڑیلوں۔۔۔”
روحیل ٹرے دوسرے گیسٹ کی طرف لے گیا تھا۔۔۔
“واقع۔۔؟؟ یہ سزا بس روحیل بھائی کو ملی ہے۔۔؟؟”
دوسری کزن نے بھی حیرانگی سے پوچھا تھا۔۔۔
“جی نہیں نظر گھماؤ۔۔۔ یہاں پورے ہال میں گھر کے سب بیچلر ویٹر یونیفارم میں ڈرنکس سروو کررہے ہیں۔۔۔ اور وہ دیکھو بی جان چھڑی لیکر انکی نگرانی کررہی۔۔۔۔”
کچھ سیکنڈ کی خاموشی کے بعد سب قہقے لگا کر ہنسنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
گھر کا ماحول اور خوشگوار ہو گیا تھا کہ انوشہ جلدی جلدی میں وہاں آئی تھی نیہا کا ہاتھ پکڑ کر وہ ایک کورنر پر لے گئی تھی۔۔۔
“اب پروفیسر فہاج کیسے ہیں انوشہ۔۔۔؟؟”
نیہا نے پہلا سوال ہی یہی کیا تھا۔۔
“پروفیسر۔۔۔؟؟؟”
انوشہ کے سوال پر نیہا بھی ہنسی تھی۔۔۔
“بہت ینگ لگتے ہیں نہ۔۔؟؟ وہ ٹاپ کے لیکچرار ہیں اور اور یہاں کی بیسٹ یونیورسٹی میں ٹاپ کے پروفیسر۔۔۔”
بہن جیسے ہی تعریفوں کے پُل باندھنے لگی تھی انوشہ نے بورہیت کا اظہار اپنا موبائل فون آن کرکے کیا تھا۔۔۔
“مجھے ابھی گھر جانا ہے نیہا پلیز۔۔۔۔ یہاں کا شور شرابہ سب سے سر درد ہورہا ہے۔۔۔
انٹرنز کے ساتھ ویڈیو میٹنگ بھی کرنی ہے پلیز۔۔۔”
“اوکے اوکے۔۔۔۔ ہم بھی بس چلتے ہیں تھوڑی دیر رک جاؤ۔۔۔میں زرا بی جان سے مل کر آجاؤں۔۔۔۔ ہاہاہا ویسے بی جان کی سزا دیکھی۔۔؟؟ ہاہاہا ہمارا فرہاد بچ گیا ہے۔۔۔”
نیہا ٹین ایج گرلز کی طرح ہنسی تھی اور جب انوشہ کو کچھ سمجھ نہ آئی تو انہوں نے سب کی طرف اشارہ کیا تھا جو کولڈ ڈرنک سروو کررہے تھے۔۔۔
“پروفیسر صاحب کو سزا کیوں نہیں ملی۔۔؟؟ موقع واردات پر وہ بھی موجود تھے ۔۔”
“ہاہاہا انہیں تو انکے ہارٹ اٹیک نے بچا لیا نہ۔۔۔وہ بھی جھوٹ موٹ کے۔۔۔”
نیہا بہن کو آنکھ مارے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“ایک سے بڑھ کر ایک ہوشیار ہیں یہاں اور پروفیسر صاحب کو لگ رہا تھا جیسے وہ پکڑے نہیں جائیں گے۔۔۔؟؟”
وہ بڑبڑا رہی تھی جب اسکی نظر فہاج پر پڑی تھی جو ابھی ابھی ہال میں داخل ہوا تھا
۔
“بی جان۔۔۔ابو چاچو مامو سب شامل تھے۔۔۔ آؤچ۔۔۔۔”
روحیل آگے آگے تھا بی جان کے۔۔۔
“سب شامل تھے مسٹنڈوں۔۔۔ یہ تم سب نے بُلایا تھا ان گوری میموں کو۔۔۔ “
“بی جان۔۔۔۔ آؤچ۔۔۔ میری تشریف پر مارنا بند کردیں۔۔۔بیٹھا نہیں جائے گا۔۔
کندھے پر مارے نہ۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ دفعہ ہوجاؤ۔۔۔۔”
روحیل کی بات نے بی جان کو ہنسا دیا تو وہ بھی مارنے سے رک گئی تھی۔۔۔
۔
“بچوں دھیان سے جانا۔۔۔”
“جی بی جان۔۔۔چلیں۔۔۔انوشہ۔۔۔”
وہ سب انوشہ کی جانب بڑھے تھے عین اسی وقت فہاج صاحب بھی بی جان کے پاس آکر کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔
“تھینک یو ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔ مجھ غریب کی جان بچانے کے لیے۔۔۔”
فہاج صاحب نے ہاتھ آگے بڑھایاتھا۔۔۔۔
“اٹس اوکے پروفیسر صاحب یہ میری ڈیوٹی ہے۔۔۔”
“مگر وہ تو ہسپتال تک ہے نہ۔۔؟؟”
“تو یہاں میرا فرض تھا۔۔۔ ضروری نہیں کسی کی جان بچانے کے لیے میرے پاس میرا لیپ کوٹ ہو یا ہسپتال۔۔۔”
انوشہ نے جیسے ہی ہینڈ شیک کیا تھا وہ دونوں خاموش ہوگئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ خاص ہے کچھ پاس ہے۔۔۔کچھ اجنبی احساس ہے
کچھ دوریاں نزدیکیاں۔۔۔ کچھ ہنس پڑی تنہائیاں۔۔۔”
“نائس ٹو میٹ یو۔۔۔”
اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا تھا انوشہ نے۔۔۔۔
۔
“شام تک تو نہیں تھی۔۔۔”
انوشہ نے انہیں ٹیز کرتے ہوئے کہا تھا جس پر وہ ہنس دئیے تھے
“ہاہاہاہا۔۔۔۔”
ان دونوں کی باتوں پر باقی سب کو سمجھ کچھ نہیں آرہا تھا۔۔۔
مگر وہ اپنے اپنے نک چڑے پرسن کو ایسے گھلتے ملتے دیکھ خوش ہورہے تھے۔۔۔
۔
“کیا یہ خمار ہے یا اعتبار ہے۔۔۔شاید یہ پیار ہے۔۔۔
کیا یہ بہار ہے یا انتظار ہے۔۔۔۔ شاید یہ پیار ہے۔۔۔۔
پیار ہے شاید۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک ہفتے بعد۔۔۔۔”
۔
“ہیلو نیہا بھابھی کیسی ہیں آپ۔۔۔؟؟ تھینک یو ہمیں انوائیٹ کیا آپ نے اپنے بیٹے کی خوشیوں میں۔۔۔ورنہ مجھے تو لگا تھا آپ پرانی ناراضگی کو بھولی نہیں ہیں۔۔۔”
نیہا نے اپنے ہسبنڈ کو صرف ایک نظر دیکھا تھا اور رامین انکے گلے لگ گئی تھی۔۔۔
“کیسی ہو نیہا۔۔؟؟”
رامین کے ہسبنڈ احلام صاحب نے جب انکے سر پر ہاتھ رکھنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو نیہا پیچھے ہوگئی تھی
“میں ٹھیک ہوں آپ پلیز بیٹھیں۔۔۔ رخسانہ مہمانوں کے لیے جوس لیکر آو۔۔۔”
“ابھی تو میں فریش ہونا چاہتی ہوں بھابھی۔۔۔ احلام اور سعد بھی تھک گئے ہیں۔۔۔
صہیب بھائی ہمارا روم ریڈی ہے۔۔۔؟؟”
نیہا کی مٹھی بند ہوگئی تھی جب صہیب انہیں اپنے ساتھ گیسٹ روم کی جانب لے گئے تھے۔۔۔
اور وہ بھی غصے سے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔
“آنٹی کو ایسے ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا فرہاد رامین پھوپھو بھی فیملی کا حصہ ہے۔۔۔
صہیب مامو کے اپنے ہیں وہ۔۔۔”
“تم میری فیملی کے میٹرز میں مت بولو۔۔۔ اگر ڈیڈ نے یہ سب کرنا تھا تو ہمیں بتانا چاہیے تھا۔۔۔
اوپر کمرے میں انوشہ خالہ سو رہی ہیں جب آمنا سامنا ہوگا نہ تو وہ سب چھوڑ جائیں گی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میرا شوہر کسی اور عورت کے ساتھ کسی انجان گھر میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔۔۔
اورآپ کہہ رہے ہیں جو میں سوچ رہی ویسا نہیں ہے۔۔۔
یہ انجان عورت بنا کپڑوں کے آپ کی شرٹ میں ایسی حالت میں آپ کے ساتھ تھی اور آپ کہہ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے احلام۔۔۔”
“انوشہ پلیز میری بات سنو۔۔۔”
“سب قسمیں وعدیں عہد سب کچھ ایک طرف رکھ کر بتائیں کب سے چیٹ کررہے ہیں آپ مجھے۔۔؟؟”
“لیسن انوشہ گھر چلو میں سب بتادوں گا۔۔۔”
“اس گھر میں اب صرف آپ جائیں گے واپس۔۔۔مجھے میرا جواب دہ دیں بس۔۔۔
کب سے۔۔؟؟ یہ ناجائز تعلق کب سے ہے۔۔؟؟”
“میں۔۔ نے۔۔۔ شادی کی ہوئی ہے۔۔۔انوشہ۔۔۔”
“اووہ۔۔۔”
وہ کچھ قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔
“کتنا وقت ہوگیا ہے۔۔۔؟؟”
“چار سال۔۔۔”
ایک زور دار تھپڑ مارا تھا انوشہ نے اپنے ہسبنڈ کو۔۔۔
“چار سال۔۔۔؟؟ چار سال۔۔۔ تو پچھلے چار سال سے ایک الگ دنیا بسائی ہوئی تھی آپ نے۔۔؟؟
اور مجھے وہاں ہر پل میں گِلٹ میں رہی کہ میں محبت کا بیوی ہونے کا حق ادا نہیں کرپارہی۔۔۔
یہاں تو آپ نے ایک اور بیوی بھی رکھی ہوئی ہے۔۔۔”
پاس کھڑی وہ خاتون خاموشی سے اندر چلی گئی تھی
“پاپا۔۔۔۔” ایک چھوٹے بچے کی آواز پر اسکی آنکھوں کے آنسو چھلک گئے تھے عین اسی وقت احلام نے آگے بڑھ کر انوشہ کو سہارا دیا تھا اس سے پہلے وہ لڑکھڑا کر پیچھے گرتی۔۔۔
“واہ۔۔۔۔ میرے مجازی خدا واہ۔۔۔یہ دیکھیں۔۔۔ میں آپ کے لیے ہمارے رشتے کے لیے اپنے پیشن کو اپنی ڈاکٹری کو خیر باد کہہ کر آئی تھی۔۔۔یہ دیکھیں میرا ریزائن لیٹر
احلام۔۔۔۔”اپنے آپ کو اس نے احلام کی گرفت سے چھڑا لیا تھا
“کوئی بیوی یہ ڈیزرو نہیں کرتی جو آج آپ نے میرے ساتھ کردیا۔۔۔
دوسری شادی بھی کی دوسری بیوی بھی ہے اور دوسری اولاد بھی۔۔۔
آپ نے وہ کردیا ہے جو میں نہیں سوچ سکتی تھی۔۔۔۔
دوسری شادی کرلی۔۔۔۔
اب میں وہ کروں گی جو آپ نے نہیں سوچ سکتے۔۔۔ میں آپ کو اس رشتے کو چھوڑ کر جارہی ہوں بہت جلدی ڈائیورس پیپرز بھیجوں گی آپ کو۔۔۔”
“تم ۔۔۔ایسا نہیں کرسکتی۔۔۔ انوشہ۔۔۔ تم میری پہلی محبت ہو۔۔۔تم مجھ سے طلاق نہیں لے سکتی میں نہیں دوں گا۔۔۔”
وہ پاگلوں کی طرح کہتے ہوئے آگے بڑھا تھا
“آپ نے بھی تو وہ کیا ہے نہ جو ایک بیوی کو جیتے جی مار دیتا ہے۔۔۔ دھوکا دیا ہے آپ نے چیٹ کیا ہے مجھے۔۔۔۔
بےوفائی کے اس طوفان نے جیسے مجھے برباد کردیا اندر تک
جدائی کی یہ تباہی آپ کو بھی چین سے رہنے نہیں دے گی احلام۔۔۔”
۔
“بہت مان تھا جن پر۔۔۔
بڑے بےایمان نکلے وہ۔۔۔”
۔
۔
“احلام۔۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ گئی تھی بیڈ سے۔۔۔
“آج ہی ٹیبلٹ کھانا بھولی تھی۔۔۔آج ہی یہ سب۔۔۔”
ماتھے سے پسینہ صاف کئیے انوشہ سے سائیڈ ٹیبل سے اپنی نیند کی گولی اٹھا کر کھانے لگی تھی جب انکی نظر کھلے دروازے پر پڑی اور جب کسی سائے کو کھڑے دیکھا تو انہوں نے سائیڈ لمپ جلایا۔۔۔۔
“احلام۔۔۔”
کچھ پل کو وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر خؤاب سمجھ رہی تھی۔۔۔ ایک بھیانک خواب۔۔۔
اور پھر ایک بُرا خیال۔۔۔
وہ اسے دیکھ رہی تھی کہ احلام آہستہ قدموں سے بیڈ کر پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“ا ن جُدائی کے سالوں نے تمہیں اور خوبصورت بنا دیا ہے۔۔۔ کتنا بدل گئی ہوئی۔۔۔”
جب اسکی انگلیاں انوشہ کےکھلے بالوں سے ہوتے ہوئے اسکے چہرے کوئی چھوی تھی وہ ایک دم سے پیرالائزڈ ہوگئی تھی اس شخص کو اتنے سالوں کے بعد اپنے پاس دیکھ کر۔۔۔۔
“اس سلک گاؤں میں تم آج بھی وہی اکیس سالہ میری معصوم سی بیوی لگ رہی ہو۔۔۔
سب کچھ بدل گیا مگر یہ انڈر گاؤن نائٹی نہیں۔۔۔”
بئیر شولڈر پر ان انگلیوں کا لمس جیسے ہی محسوس ہوا تھا انوشہ کی آنکھیں بند ہوگئی تھی۔۔۔
اس چھونے کو وہ آج تک نہ بھلا پائی تھی اور نہ ہی بھلانا چاہتی تھی۔۔۔ اس شخص کو عبادت کی طرح چاہا تھا اس نے شادی کے بعد۔۔۔۔
“انوشہ۔۔۔ آج بھی سمٹ رہا ہے تمہارا وجود میرے ایک لمس سے۔۔۔ ان لمحات کو اگر اتنا مس کررہی تھی تو کیوں بھاگ رہی ہو مجھ سے۔۔؟ ایک بار ہاں کردو ہم حلالہ کروا لیں۔۔۔”
انوشہ کی آنکھیں کھل گئی تھی جیسے ان الفاظ سے اسے اس شخص کے جادو سے باہر لا کھڑا کیا تھا وہ اٹھ گئی تھی۔۔۔
“تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔؟؟”
“تمہیں دیکھنے آیا تھا۔۔۔ انوشہ آج سامنا ہورہا ہے تم سے ہماری طلاق کے بعد۔۔۔۔”
احلام بھی دوسری سائیڈ پر چلا گیا تھا بیڈ کی۔۔۔ وہ کچھ قدم پیچھے ہورہی تھی تو احلام اور اسکی جانب بڑھ رہا تھا
“اتنا بھاگ رہی ہو مجھ سے۔۔۔ میں احلام ہوں تمہارا۔۔۔ ہم پھر سے ایک ہوں گے۔۔۔بس ایک بار شادی کرلو میں اسے طلاق۔۔۔”
انوشہ کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔ اپنے گاؤن کو اور مظبوطی سے بند کرکے کور کرلیا تھا خود کو اس نے۔۔۔
“تم یہی کرسکتے ہو۔۔۔ فائدہ اٹھا سکتے ہو۔۔۔ میرے کمزور لمحات کا احلام۔۔۔ حلالہ جیسے کام کی امید تم سے ہی لگائی جا سکتی ہے۔۔۔۔
تم کہتے تھے میں تمہیں کوئی سزا دوں۔۔۔ یہ سزا ہے تمہاری۔۔۔ کہ اب میں تمہیں کبھی میسر نہیں ہوں گی۔۔۔۔”
وہ ابھی بات کررہی تھی کہ احلام نے اسے پن کردیا تھا واال کے ساتھ۔۔۔
“تم یہ سزا نہیں دے سکتی مجھے آئی لوو یو ڈیم اٹ۔۔۔ ہوگئی غلطی مجھ سے۔۔۔مانتا ہوں مگر انوشہ۔۔۔ دیکھو نہ ہماری محبت ہماری کیمسٹری آج بھی ویسی ہی ہے۔۔۔۔”
احلام کی سرگوشی پر وہ اور بولنا چاہتی تھی مگر احلام نے اسکے ہونٹوں پر انگلیاں رکھ دی تھی اپنی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔ ہم دونوں کو دیکھو۔۔۔ ہمارے وجود ترس گئے ہیں ایک دوسرے کو پھر سے پانے کے لیے۔۔۔ دوریاں کم کردو۔۔۔”
اسکا چہرہ جیسے ہی قریب ہوا تھا انوشہ نے پھر سے ہاتھ اٹھا دیا تھا
“دور رہو مجھ سے۔۔۔۔ گھن آرہی ہے مجھے۔۔۔۔شیم آن یو۔۔۔۔”
احلام نے چہرہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا وہ غصے سے آگے بڑھا تھا جب انوشہ باہر بھاگ گئی تھی وہاں سے۔۔۔
نیچے ہال میں اتنے گیسٹ موجود تھے کہ وہ حیران تھی۔۔۔اور جب اس عورت پر اور اس عورت کے ساتھ کھڑے اسکے بیٹے پر نظر پڑی تو وہ گھر سے باہر بھاگ گئی تھی۔۔۔۔ لونگ گاؤن پہنے کھلے بالوں کے ساتھ وہ گھر کے باہر تھی۔۔۔ باہر بھی وہی رش تھا۔۔۔ ہلہ گلہ چل رہا تھا۔۔۔ اس نے گہرا سانس لیا۔۔۔۔
“انوشہ۔۔۔۔”احلام بھی اسکے پیچھے کچھ قدموں کے فاصلے پر تھا۔۔۔
“اور تب اسکی نظر اس شخص پر پڑی جو اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔
“فہاج۔۔۔۔”
بھاگتے ہوئے اس نے آواز دی تھی اور فہاج صاحب کے قدم رکنے سے پہلی انکی دھڑکنیں تھم گئی تھی۔۔۔ سب لوگوں کی وجہ حاصل کرلی اس ایک آواز نے۔۔۔
“انوشہ۔۔۔؟؟”
فہاج اسکی طرف بڑھا تھا اس حلیہ میں ننگے پاؤں دیکھ کر اس نے یہاں وہاں دیکھا تھا اور اسکی نظر پیچھے اس شخص پر پڑی تھی۔۔۔
“سب ٹھیک ہے۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔ پلیز آپ مجھے کسی ہوٹل میں چھوڑ دیں گے۔۔۔؟؟”
۔
انوشہ کہہ کر فہاج کی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی بنا کوئی جواب سنے۔۔۔
اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔۔۔ اس ان لمحات کی کمزوری نے ڈرا دیا تھا۔۔
اگر وہ آج اس شخص کی نزدیکی اپنے آپ پر حاوی ہونے دہ دیتی تو کیا ہوتا۔۔۔
۔
“فہاج۔۔۔۔”
فہاج احلام کو دیکھ رہے تھے جب انوشہ کی آواز سن کر وہ بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھے تھے۔۔۔
۔
“ڈاکٹر انوشہ سب ٹھیک ہے۔۔۔؟؟”
“آپ مجھے انوشہ کہہ سکتے ہیں۔۔۔”وہ دونوں سیٹ بلٹ باندھ چکے تھے اور وہ گاڑی سٹارٹ کرچکے تھے۔۔۔
گاڑی احلام صاحب کے بلکل پاس سے گزری تھی جنہوں نے ہاتھوں کی دونوں مٹھیاں بند کرلی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ۔۔۔۔”
“یہاں گاڑی روک دیں کچھ منٹ کے لیے ۔۔۔بس تھوڑا سانس لے لوں۔۔۔۔”
گاڑی سنسان سڑک پر کھڑی ہوگئی تھی ایک بار کہنے پر ہی فہاج نے گاڑی روک دی تھی۔۔۔
وہ گاڑی سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔دروازہ بند کرکے وہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔۔۔۔
کتنی دیر وہ باہر کھڑی رہی تھی اور فہاج صاحب نے ایک بار بھی انہیں تنگ نہیں کیا تھا گاڑی سے باہر نکل کر۔۔۔ وہ اتنا تو سمجھ گئے تھے۔۔۔ وہ مغرور ڈاکٹر باہر کھڑے روو رہی تھی۔۔۔
۔
“کہاں جوڑ پائیں گے ہم دھڑکنوں کے۔۔۔
کہ دل کی طرح ہم بھی ٹوٹے ہوئے ہیں۔۔۔”
۔
“پیار۔۔۔؟؟؟ وہ پیار میری عبادت تھی میرے مجازی خدا کے لیے احلام۔۔۔”
چہرہ صاف کئیے وہ گہرے سانس بھر رہی تھیں اور کچھ سیکنڈز کے بعد واپس گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔۔۔
“مجھے دراصل کبھی کبھی سانس لینے میں مسئلہ ہوتا ہے۔۔۔”
“اٹس اوکے۔۔۔۔ایسا ہوتا ہے کبھی کبھی۔۔۔۔”
واپس گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔ ویرانے سے نکل کر گاڑی روشنیوں میں جیسے ہی آئے تھے وہ ایک جگہ گاڑی پارک کرچکے تھے۔۔۔
“کیا ہوٹل آگیا ہے۔۔۔؟؟ تھینک یو۔۔۔”
“نہیں ابھی ہوٹل نہیں آیا۔۔۔ آپ بیٹھیں میں ابھی آیا۔۔۔”
اپنا والٹ اٹھا کروہ جلدی سے سامنے مال میں چلے گئے تھے
کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد انوشہ بھی گاڑی سے باہر نکلنے لگی تھی۔۔۔
جب ایک جوتی انکے سامنے زمین پر رکھ دی گئی تھی۔۔۔
“یہ پہن لیجئے ورنہ کچھ چبھ جائے گا پاؤں میں۔۔۔”
“سیریسلی۔۔۔؟؟ آپ یہ لینے گئے تھے۔۔۔؟؟”
“جی۔۔۔ اور یہ بھی۔۔۔۔”
انہوں نے شاپنگ بیگ انوشہ کی گود میں رکھ دیا تھا انہوں نے سینڈل جیسے ہی پہن کر واپس پاؤں گاڑی میں رکھے تو دروازہ بند کردیا تھا فہاج صاحب نے۔۔۔
“یہاں میرا اپارٹمنٹ ہے وہاں آپ چینج کرلیجئے گا۔۔۔”
“اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے میں ہوٹل روم میں چینج کر لوں گی۔۔۔”
“فکر نہ کریں میں اکیلا نہیں رہتا وہاں ملازم ہوتے ہیں ہوسکتا ہے میرے بچے بھی ہوں۔۔۔”
اور گاڑی چلا دی تھی۔۔۔
“مگر۔۔۔”
“یہاں لوگ جتنے مرضی ایڈوانس ہوں مگر میں نہیں چاہتا آپ اس حلیہ میں ہوٹل روم داخل ہوں۔۔۔۔ آپ کے کردار کا امپریشن اچھا نہیں پڑے گا۔۔۔”
ڈاکٹر انوشہ کو فہاج صاحب نے کچھ وقت میں بہت سے شاکڈ دہ دئیے تھے۔۔۔
انکا منہ کھلا رہ گیا تھا اور وہ لاجواب ہوگئی تھی جو کسی کو اپنے سامنے بولنے نہیں دیتی تھی۔۔۔
۔
گاڑی جیسے ہی ایک لیوش بڑے بنگلے نما بلڈنگ میں داخل ہوئی تھی اس نے فہاج کی طرف دیکھا تھا
“آپ پروفیسر ہی ہیں یا کوئی ڈان۔۔؟؟ اس جگہ رہتے ہیں۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہ یو میں مافیا مین۔۔۔؟؟؟ ہاہاہاہا۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے باہر نکل آئے تھے۔۔۔
“چلیں میڈم اندر۔۔۔”
انہیں اندر لے گئے تھے اور پھر لفٹ سے اپنے اپارٹمنٹ میں۔۔۔
جہاں اندر سے بہت شور شرابے کی آوازیں آرہی تھی
“تمہارا باپ تو وہیں مصروف ہوگا۔۔۔ وہ تم لوگوں کو اہمیت نہیں دیتا مان کیوں نہیں لیتے۔۔”
اپارٹمنٹ کا دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔؟؟؟”
روحان نے انکے ساتھ ایک انجان چہرے کو دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔ پیچھے کھڑے باقی
“انوشہ آپ یہ ڈریس لے جائیں چینج کر کے آجائیں۔۔۔ اوپر جاکر لیفٹ روم۔۔۔”
۔
وہ ہیسیٹیٹ ہوئی تھی اس خاتون کو دیکھ کر جو گھور رہی تھی انہیں۔۔۔
۔
“ڈیڈ۔۔۔؟؟”
اریبہ نے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔
“وٹ۔۔۔؟؟ آئیندہ کی بعد اتنی اونچی آوا ز میں مجھ سے بات مت کرنا۔۔۔ اپنی ماں کے نقشے قدم پر چلنا ہے تو چلو مگر میرے گھر میں نہیں۔۔۔”
روحان بھی اریبہ کے پیچھے باہر چلا گیا تھا
“کون ہے وہ عورت۔۔؟؟ تمہاری ون نائٹ۔۔۔”
“او جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔ اپنی گری ہوئی سوچ اپنے پاس رکھو۔۔۔ نہ وہ ایسی ہے نہ میرا کردار گندہ ہے کہ شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی آفئیر چلایا۔۔۔”
وہ جن کو کہہ رہے تھے انکی آنکھیں بھر آئی تھی ایک دم سے۔۔۔
“فہاج۔۔۔۔”
“ایم سوری۔۔۔”
“نوو۔۔۔ بولو۔۔۔ جس کو تم آفئیر کہہ رہے ہو رہے ہو وہ میرا دوست تھا۔۔۔
تم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کردیکھا ہے۔۔؟؟ جب تمہاری بیوی کو تمہاری فیملی کو تمہاری ضرورت تھی تب تم نے کہاں مصروف تھے۔۔۔؟؟ “
“فہاج۔۔۔”
آہستہ آواز میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا انوشہ نے۔۔۔
“چلیں ۔۔۔”
وہ اپنی سابقہ بیوی کو ایک نظر دیکھے باہر چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
“آپ نے خوامخواہ اتنی تکلیف اٹھائی ہے۔۔۔پلیز مجھے اب ہوٹل ڈراپ کردیں۔۔۔”
مگر فہاج صاحب گاڑی کی سپیڈ تیز کئیے ایگزیکٹ اسی گھر کے سامنے رکے تھے۔۔۔۔
جو شادی والا گھر تھا۔۔۔
“یہ تو فرہاد کا سسرال ہے۔۔۔”
“جی۔۔۔ اور آپ یہیں رہیں گی۔۔۔ کل صبح آپ کو ہوٹل ڈراپ کردیا جائے گا۔۔۔ مگر آج رات نہیں۔۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر انکی سائیڈ کا دروازہ کھول چکے تھے۔۔۔۔
۔
“فہاج۔۔۔۔”
“پلیز۔۔۔۔ اندر جائیے میں بی جان سے کہہ دوں گا وہاں کوئی بھی روم خالی نہیں تھا۔۔۔”
۔
انکے چہرے کو دیکھتی رہ گئی تھی انوشہ۔۔۔۔
۔
“کچھ تو لحاظ کریں۔۔۔ وہ کیا سوچیں گی۔۔؟؟ اس وقت آپ کے ساتھ میں کیوں۔۔۔اور۔۔۔”
“میں لحاظ نہیں کرتا۔۔۔انوشہ جو کرتا ہوں سو کرتا ہوں۔۔۔”
۔
انوشہ نے جیسے ہی انکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔جتنی شدت تھی۔۔۔ فہاج صاحب کا موبائل انکے ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔۔انکے وجود کو جیسے ساکن کردیا تھا اس کے دیکھنے نے۔۔۔ اور انہوں نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔
“اندر جائیں ۔۔۔مجھے لگ رہا سچ میں ہارٹ اٹیک آجائے گا۔۔۔”
۔
۔
“دل معصوم پر تیرے قاتلانہ حملے۔۔۔
اپنی اداؤں سے کہو زرا لحاظ کریں۔۔۔۔”
