Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

“جب انوشہ اپنے دونوں ہاتھ جھاڑ اندر کی جانب بڑھی تھی اس نے واپس مڑ کر ضرور دیکھا تھا اور جب اس گاڑی کی حالت غیر دیکھی تو وہ خود بھی اپنے اس پاگل پن پر حیران ہوئی تھی
اور بات کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے اس نے جو کردیا اس پر اسکی آنکھوں میں کوئی ندامت نہ تھی بلکہ ہونٹوں پر ہلکی سی ایک مسکان تھی۔۔۔
۔
“انوشہ گاڑی پارک کررہی تھی یا پارکنگ کی جگہ بنانے بیٹھ گئی تھی۔۔؟؟”
نیہا نے بہن کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے جانے کی تھی
“اور فیملی میں سب مجھے سرکاسٹک کوئین کہتے ہیں۔۔۔اپنی موم کے ریمارکس دیکھے ہیں۔۔؟؟”
فرہاد اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے انہیں فالو کررہا تھا جیسے ابیہا
“ویسے موم خالہ آپ کے سامنے کچھ بھی نہیں۔۔۔ آپ اتنی دیر کر کیا رہی تھی۔۔؟؟”
سجاوٹ سے بھرے گارڈن سے گزرتے ہوئے وہ اندر داخل ہوئے تھے
“فرہاد نے سپیشل ریکویسٹ کی تھی کہ میں ڈاکٹر انوشہ کے روپ میں نہ رہوں سمپل سی عام سی خاتون بن کر رہوں ود آؤٹ اینی ایٹی ٹیوڈ۔۔۔۔ بس باہر وہی کررہی تھی اپنی ساری نفاست میں نے گاڑی میں بند کردی۔۔۔”
۔
“ڈونٹ ٹل مئ انوشہ میں ایک اور منتھ کے لیے باندھ کر رکھ لوں گی تمہیں۔۔۔”
مگر انوشہ نے بہن کی دھمکی کو ہنسی میں اڑا دیا تھا۔۔۔وہ لوگ ہنستے ہوئے مین ہال میں داخل ہوئے تھے۔۔۔ لوگوں کا رش دیکھ کر انوشہ ریگریٹ کر رہی تھی اپنے یہاں آنے کے فیصلے کو۔۔۔ اس سے پہلے کو پیچھے کو جاتی نیہا نے اسکا ہاتھ مظبوطی سے اپنی گرفت میں لے لیا
“سوچنا بھی مت ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔ فرہاد کی خوشیوں کا سوال ہے۔۔۔”
“اوکے۔۔۔ریلیکس۔۔۔۔”
وہ دونوں بہنیں جیسے ہی بی جان کے سامنے گئی تھی وہ بہت گرم جوشی سے ملی تھی
“السلام علیکم بی جان کیسی ہیں آپ۔۔۔”
نیہا آگے بڑھ کر انکے گلے لگی تھی
“وعلیکم سلام بیٹا مجھے بہت خوشی ہوئی آپ لوگوں نے ندیم کی درخواست مان لی۔۔۔ بچوں جاؤ بڑے ابو کو بلا کر لاؤ۔۔۔”
“بی جان یہ میری چھوٹی بہن انوشہ۔۔۔آپ کو یاد ہے وہ جو گڑیا لے کر آپ کے گھر چلی جاتی تھی کہ اسکی شادی کرواؤ۔۔۔کچھ یاد آیا۔۔۔؟؟”
انوشہ کی آنکھیں بڑی ہوگئی تھی نیہا کی بات سن کر اور بی جان نے گلاسز پن کر انوشہ کو دیکھا تھا اور زور سے اپنے گلے لگا لیا تھا
“سیریسلی نیہا۔۔؟؟”
اس نے لپسنگ کی تھی
“سوری میں نے پہچانا نہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا بیٹا بہت چھوٹی تھی تم اس وقت۔۔۔کیسے یاد آیا گا۔۔؟آؤ آؤ بچوں بیٹھو۔۔۔”
“بی جان نے انوشہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا۔۔۔”
“بی جان یہ انوشہ کی بیٹی ابیہا۔۔۔”
“ماشاللہ انوشہ چھوٹی سی تھی اب تو بچے بھی اتنے بڑے ہوگئے ہیں۔۔۔”
بی جان نے ابیہا کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
کچھ دیر میں گھر کے باقی افراد بھی وہاں اکٹھے ہوگئے تھے۔۔۔۔
“انوشہ یہ فرہاد کے سسر ندیم بھائی اور یہ ساس ہیں نازنین۔۔۔
یہ انکے بچے۔۔۔ روحیل ، رانی، احمد۔۔۔اور یہ قرطبہ روحیل کی وائف۔۔۔”
انوشہ سب سے اٹھ کر ملی تھی
“یہ ہیں ڈاکٹر۔۔۔؟؟ ماشاللہ یہ تو بہت ینگ ہیں نیہا۔۔۔ پہلے مجھے لگا ہی نہیں تھا کہ آپ کی سسٹر ہیں۔۔۔”
نازنین انوشہ کے ہاتھ کو چھوڑ کر گلے ملی تھی۔۔۔
بہن کے ڈس کمفرٹ پر نیہا نے اسے آنکھ ماری تھی۔۔۔
ابیہا اور فرہاد دونوں ہی ہنس رہے تھے
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بی جان کا حکم ہے پروفیسر صاحب۔۔۔”
“اچھا میں گاڑی سے وہ گفٹ لے آؤں امی نے الگ سے ڈانٹ دینا ہے۔۔۔”
وہ دونوں واپس پارکنگ کی طرف آئے تھے جب ان دونوں کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا
“فہاج گاڑی یہیں پارک کی تھی۔۔۔؟؟”
“اس جنگلی بلی نے نقشہ بدل دیامیری برینڈ نیو کار کا۔۔۔”
فہاج صاحب نے ٹوٹے ہوئے شیشے کو دیکھتے ہی افسوس کے ساتھ کہا تھا
“ہاہاہاہا۔۔۔جنگلی بلی۔۔۔؟؟ ہاہاہاہا برینڈ نیو ۔۔۔ہاہاہاہا گاڈ۔۔۔۔فہاج”
وہ ہنستے ہنستے وہی بیٹھ گئے تھے فہاج کی شکل دیکھ کر۔۔۔
“بدتمیز۔۔۔دیکھ کیا حال کردیا ہے اور تو مجھے کہہ رہا تھا کہ میں معذرت کروں۔۔؟؟
ا س پر تو میں کیس کروں گا۔۔۔ یہ دیکھ چار ملین کی گاڑی کے چند یرو دے کر چلی گئی۔۔۔
کہاں ہے اسکی کھٹارا گاڑی۔۔۔اسکی تو میں۔۔۔”
فہاج تو گاڑی ڈھونڈنے لگے تھے مگر کچھ نہ ملا انہیں تو گاڑی کا حلیہ تک یادنہ تھا۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ریلیکس۔۔۔ اندر سے ہو کر آجائیں پھر ‘سی سی ٹی وی’ فوٹیج دیکھ لیں گے۔۔
ابھی یہان کوئی بھی تماشہ نہیں کرنا چاہیے۔۔۔کم لیٹس گو۔۔۔”
مگر جانے سے پہلے وہ رکھے نوٹس اپنی مٹھی میں مڑور دئیے تھے انہوں نے جیب میں رکھنے سے پہلے
“دیکھ لوں گا اسے تو۔۔۔”
“ہاہاہاہا جی ضرور۔۔۔۔ تمہیں اتنے سالوں کے بعد اتنا غصے میں دیکھ رہا ہوں۔۔”
مگر فہاج صاحب تو انہیں اگنور کرکے اندر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پاکستان۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“تم پچھلے ایک سال سے اسے کورٹ کرنے کی کوشش کررہے ہو یو ایڈیٹ۔۔۔
ابھی تک شادی کے لیے نہیں منا سکے۔۔؟؟”
گریبان سے پکڑ کر اس ڈاکٹر کو انہوں نے ونڈو کے ساتھ پن کردیا تھا
“دیکھیں مسٹر احلام۔۔۔وہ ڈاکٹر انوشہ ہے۔۔۔ کوئی ٹین ایجر نہیں کہ جو محبت کے پیچھے مری جائیں۔۔۔”
“تم پر کڑورں انویسٹ کئیے تمہاری اس بکواس سننے کے لیے۔۔؟؟
گاڑی بنگلہ پیسہ سب دیا تمہیں تاکہ تم اسے شادی کے لیے راضی کر سکو۔۔۔ سٹیٹس بنایا تمہاری
یو ایڈیٹ۔۔۔”
“اگر وہ ایسی ہوتی نہ تو ابھی تک مجھ سے شادی کو مان جاتی گاڑی بنگلہ میرا سٹیٹس دیکھ کر۔۔۔
مگر وہ ڈاکٹر انوشہ ہے۔۔۔۔ وہ اس زندگی میں محبت کرنا ہی نہیں چاہتی شادی تو دور کی بات ہے۔۔۔”
اس ڈاکٹر کو پیچھے دھکا دہ دیا تھا۔۔۔
“گیٹ لوسٹ۔۔۔ تین مہینے اور دے رہا ہوں تمہیں اگر تم نے اسے شادی کے لیے راضی نہ کیا تو تمہارا سب کچھ چھین لوں گا اور اس بار ڈاکٹری لائسنس بھی۔۔۔”
اور وہ ڈاکٹر گھبرا کر باہر چلا گیا تھا۔۔۔
“انوشہ۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی اور پھر اس کمرے کو روشن کردیا تھا جہاں ہر کونے میں ہر جگہ تصاویر تھی اسکی پہلی بیوی کی۔۔۔
جسے اس نے اپنے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے گنوا دیا تھا۔۔۔
۔
“میں تمہیں واپس حاصل کرلوں گا انوشہ۔۔۔بس ایک بار تم شادی کر لو کسی اور سے۔۔۔
اسکے بعد تمہاری طلاق کروا کر میں تم سے شادی کروں گا پھر سے۔۔۔
۔
“ہاتھوں کی لیکروں میں یہ۔۔۔سوئے کیوں نصیب ربا۔۔۔
ہوکے بھی قریب کوئی۔۔۔ہووے نہ قریب ربا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سوجی کے لڈو کمزوری ہیں انوشہ کی۔۔۔”
“وہ بھی ابھی بن جائیں گے نازنین بیٹا جلدی سے بنوا لاؤ۔۔۔ ہماری دھی رانی پہلی بار گھر آئی ہے۔۔۔”
انوشہ حیران رہ گئی تھی انکی محبت اور شفقت پر۔۔۔
“ریسٹ روم یوز کرسکتی ہوں۔۔؟؟” انوشہ نے جیسے ہی آہستہ آواز میں کہا تھا دس لوگ اٹھ گئے تھے اسے روم دیکھانے کے لیے۔۔۔
“آپ چلیں میں دیکھاتی ہوں آنٹی۔۔۔”
رانی انہیں اپنے ساتھ لے گئی تھی۔۔۔
“ایک منٹ میں یہ کال پک کرلوں۔۔۔”
“جی جی بلکل۔۔۔”
انوشہ کچھ دور جا کر فون اٹھا چکی تھی
“ایم سو سوری ڈاکٹر انوشہ میں نے آپ کو تنگ نہیں کرنا تھا مگر مسز دلاور کا کیس کافی پیچیدہ ہوگیا ہے ڈاکٹر آفرین آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔۔۔”
“وہ کیس پیچیدہ اس صورت میں بننا تھا جب آپ میری انسٹرکشن کو اگنور کرکے اپنی ڈاکٹری جھاڑنا شروع کردیں۔۔۔
میں نے اپنی ہر پئشنٹ کی فائل کے ساتھ ایک الگ نوٹ لکھا تھا جس میں صاف صاف بتایا گیا تھا آپ نے۔۔۔”
وہ بات کرتے کرتے وقت بھول گئی تھی جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو رانی کی جگہ نازنین کھڑی انتظار کررہی تھی اور ساتھ نیہا بھی تھی
“میں نے کہا تھا نہ ہسپتال سے ہی فون آیا ہوگا۔۔۔”
“ایم سو سوری۔۔۔ ایک امپورٹنٹ کیس تھا۔۔۔”
وہ واپس باتیں کرتے کرتے روم کی جانب جانے لگے تھے جب سامنے کوئی آکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔وہ تینوں ہی ڈر کر پیچھے ہوگئی تھی
“یہی تھی وہ۔۔۔ یو۔۔۔یہ چند یرو میری چار کڑور کی گاڑی۔۔۔”
“یہ دولہے کی خالہ ہے۔۔۔فہاج بھائی کنٹرول۔۔۔”
نازنین نے جلدی سےفہاج کو پیچھے کردیا تھا۔۔۔
“آپ کو زرا سی بھی تمیز نہیں ہے مسٹر۔۔؟؟ اتنی اونچی آواز میں بات کررہے ہیں
اور آپ جیسے بدتمیز شخص کو اندر آنے کی پرمیشن کس نے دی۔۔؟؟”
“یہ دولہن کے مامو ہیں۔۔۔ انوشہ میری بہن۔۔۔ غصے پر قابو کرو۔۔۔”
نیہا نے اپنی بہن کو پیچھے کیا تھا اور دوسری طرف فہاج کو نازنین اور ندیم نے۔۔۔
“یہ اور خالہ۔۔؟؟سیریسلی۔۔؟؟ فرہاد بھی کہیں ان جیسا نکل آیا تو۔۔۔۔؟”
“یہ مامو ہیں۔۔؟؟ آئی ہوپ وہ اپنے مامو پر نہ گئی ہو۔۔۔”
وہ فہاج کو لے گئے تھے مگر ان دونوں نے شدید غصے سے دیکھا تھا ایک دوسرے کو جاتے جاتے بھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پلیز میری جان۔۔۔ایم سوری نہ۔۔۔ لاؤ پاؤں دبا دوں۔۔۔”
“تم گلہ دبا دو میرا۔۔۔ایک دفعہ میں بات سمجھ نہیں آتی ۔۔۔؟؟
جاؤ مجھے تیار ہونے دو شام کے فنکشن کی تیاری بھی کرنی ہے۔۔۔”
“پلیز نہ میں تمہارے پاؤں دبا کر ہی جاؤں گا۔۔۔”
روحیل زبردستی پاؤں پکڑے وہاں بیٹھ گیا تھا قرطبہ کی آنکھیں بڑی ہوگئی تھی جب روحیل کے بیٹھے سے جوس کا گلاس اسکی جیولری پر گر چکا تھا۔۔۔
“کچھ گیلا گیلا لگ رہا۔۔۔”
اور قرطبہ کے کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“آئی ہیٹ یو۔۔۔ نکل جاؤ۔۔۔تم مجھے نظر نہ آنا۔۔۔”
“وٹ دا۔۔میں نے اب کیا۔۔؟؟”
اور روحیل کی نظر بیڈ پر پڑی تو وہ دس قدم پیچھے ہوگیا تھا
“میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔؟؟ وائے وائے۔۔۔۔”
روحیل نے دروازہ بند کردیا تھا وہ روم سے جیسے ہی باہر بھاگ کر آیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آج لڑکیوں کا فنکشن ہے۔۔۔ مگر ہم بھی کسی سے کم نہیں ہے۔۔۔ کم لیٹس گو۔۔۔
پورا پروگرام بنایا ہوا ہے نیچے لڑکوں نے۔۔۔”
پورچ پر بیٹھے سب مرد حضرات کو کسی نے خاموشی سے کہا تھا
“ارے بچوں میں ہمارا کیا کام ہے۔۔؟؟ لگے رہنے دو۔۔۔”
“چاچو۔۔۔شراب اور شباب دونوں کا خوب لطف لے رہے ہیں وہ بچے۔۔۔”
فہاج کے منہ سے چائے کا سپ باہر نکل آیا تھا
“یہ کیا بکواس ہے۔۔؟؟”
انہوں نے غصے سے پوچھا تھا
“نیچے چلیں زرا مگر میرا نام کوئی نہیں لے گا۔۔؟؟ وہ سب بیچلر پارٹی منا رہے ہیں۔۔۔”
دو نوں لڑکے بڑے لوگوں کو بیک ڈور سے نیچے بیسمنٹ میں لے گئے تھے جہاں فل سوئنگ میں گانے اونچی آواز میں لگے ہوئے تھے۔۔۔
اور سینٹر میں ڈانس کرتی ڈانسرز۔۔۔۔ اور ان پر پیسے لٹاتے فیملی کے لڑکے۔۔۔
“یہ کیا کنجر خانہ لگایا ہوا ہے۔۔؟”
فہاج صاحب کی آواز جیسے ہی گونجی تھی میوزک بند ہوگیا تھا۔۔۔
اور وہ جو لڑکے ڈانس کررہے تھے اب ان سب کو مرغا بنایا ہوا تھا پروفیسر صاحب نے
“حد ہوتی ہے یہ بےحیائی پھیلائی ہوئی ہے۔۔؟؟”
“مامو جان کی امان پاؤں تو ایک التجا کرو جاہ پناہ۔۔؟؟”
“تمہیں دو پڑنی ہے نہ تو بیٹھنے میں بھی دقت ہوگی جو التجائیں کررہے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ کان لال ہوا کہ منہ۔۔۔؟؟ ایڈا تو مغلیہ دور دا خانسامہ۔۔۔”
اس کزن کی انلسلٹ پر باقی سب قہقے لگا کر ہنسے تھے
وہ پانچوں مرد سامنے کرسیوں پر بیٹھے ہنس رہے تھے ان لڑکوں پر سوائے فہاج کی
“اور یہ دولہے میاں انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ دیا۔۔؟؟”
“نہیں سر۔۔۔ہم لوگ بس جانے ہی والے تھے۔۔۔”
فرہاد اپنے تینوں کزنز کو لے کر اٹھ گیا تھا
“آپ نے خفا کردیا تھا دولہے کو مامو۔۔؟؟ ایک رات ہی تو ہوتی ہے بیچارے کے پاس شادی سے پہلے وہ بھی چھین رہے ہیں آپ۔۔؟؟
کیا سوچے گا وہ۔۔؟؟”
“فہاج انکل ان بیچاری شکلوں کو دیکھیں ان کی روزی روٹی پر تو لات نہ ماریں۔۔”
اب وہ ینگ جنریشن کامیاب ہوگئی تھی ان سینیئر سٹیزن کو منانے میں۔۔۔
کچھ منٹ میں پھر سے میوزک شروع ہوگیا تھا
“ہاہاہا فہاج تھوڑا سا اینجوائے کرلے یار تیری تو بیوی بھی نہیں ہے جو روکے گی۔۔۔”
جو بات مذاق میں کہی گئی تھی وہ اتنا ہی ہرٹ کرگئی تھی انہیں۔۔۔
“بیوی نہیں ہے مگر بچے تو ہیں نہ۔۔؟؟”
“یہ گوری میم چیک کرو زرا۔۔۔ میں خود کو پھر سے اتنا جوان محسوس کررہا ہوں۔۔۔ ان بچوں کو ہر ہفتے ایسی پارٹی رکھنی چاہیے چھپ چھپا کر۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ میرے بس میں ہو تو اپنی بیوی ایکسچینج کرلوں اس گوری میم کے لیے۔۔۔”
روحیل نے ڈرنک کا گلاس پورا پی لیا تھا۔۔
“روحیل بیٹا کچھ زیادہ ہی بول دیا ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہا ویسے اچھا ہے بیوی نہیں ہے میری۔۔۔فضول لا سر درد رہنا تھا۔۔۔”
“بیچلر بندے کی بھی کیا خوبصورت زندگی ہے نہ۔۔؟؟”
“مجھے پہلے بتاتے تاکہ میں سوچ لیتا یہ شادی کرنے سے پہلے۔۔۔”
وہ اپنی باتوں میں مگن تھے اور کھلے دروازے سے ایک ایک کرکے گھر کی لیڈیز وہاں داخل ہورہی تھی۔۔۔
بی جان نے جوتی اتار لی تھی وہاں کا ماحول دیکھ کر۔۔۔۔
“ریڈ پڑ گئی ہے۔۔۔۔ تھانے دارنیاں آگئی ہیں بھاگ جاؤ۔۔۔”
ایک اونچی آواز سنائی دی تھی اور بتی گل ہوگئی تھی وہاں کہ۔۔۔
کچھ منٹ بعد نازنین نے ساری لائٹس آن کی اور واپس ان مردوں کو دیکھا تھا جہاں سے بچے تو سارے ہی غائب ہوگئے تھے
“کچھ شرم نام کی کوئی چیز بھی ہے۔۔۔؟؟”
“وٹ دا ہیل۔۔۔ بھاگ گئے سارے کے سارے۔۔۔”
ان پانچوں کے سوا اور ان کے پاس کھڑی ان بار ڈانسر کے سوا وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔
“یہ سب تو تھے ہی ٹھرکی۔۔ مگر فہاج بیٹا تم سے یہ امید نہیں تھی تم سب کان پکڑو۔۔۔”
فہاج نے نظریں اٹھا کر جب سب لیڈیز کی غصے سے بھری نگاہوں کو دیکھا تو ان میں ایک نظر ایسی تھی جن میں غصہ نہیں ہنسی چھپی ہوئی تھی
“اس خاتون کے سامنے بی جان مجھ سے کان پکڑوائیں گی۔۔؟؟ کبھی نہیں۔۔۔”
“بی جان میں نہیں تھا۔۔۔ ندیم بھائی مجھے یہاں کھینچ کر لے آئے روحیل نے ہم سب کو دعوت دی تھی وہ دیکھیں پیچھے چھپا ہوا۔۔۔۔آہ۔۔۔”
بات کرتے کرتے انہوں نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔اور وہ سب کا غصہ فکر میں تبدیل ہوگیا تھا۔۔۔
ان کے دونوں بہنوئی نے انہیں گرنے سے بچا لیا تھا۔۔۔سب ہی پریشان ہوگئے تھے اس وقت۔۔۔
اور وہ چھپے ہوئے نمونے بھی سب کے سب فکر مندی میں سامنے آگئے تھے۔۔۔
۔
پاس پڑے صوفے پر جلدی سے لٹا دیا گیا تھا۔۔۔
“جلدی سے ڈاکٹر کو بلائی بی جان۔۔۔”
“انوشہ پلیز تم دیکھو فہاج بھائی کو کیا ہوا ہے۔۔۔”
نیہا اسے کھینچ کر آگے لے آئی تھی۔۔۔
“تم ڈاکٹر کو بلاؤ نہ۔۔۔”
انوشہ نے جیسے ہی بہن کو آنکھیں دیکھائی تھی فہاج کی کراتی آواز نے اسے کچھ اور کہنے سے روک دیا تھا
گہرا سانس لئیے وہ آگے بڑھے تھے۔۔۔
“آپ شرٹ اتار دیں انکی اور پلیز سب رش مت ڈالیں۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ مجھے ہارٹ اٹیک آیا ہے ڈاکٹر کو بلاؤ کوئی یہ امئچور عورت کو پیچھے کریں مجھ سے۔۔۔”
فہاج اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے کو تھے جب دو لوگوں نے کندھے سے پکڑ کر لٹا دیا تھا واپس۔۔
“آپ اپنا کام کیجئے انوشہ۔۔۔”
انوشہ نے اپنی انسلٹ کو ایک سائیڈ پر رکھ دیا تھا جب بی جان نے روتے ہوئے انوشہ سے درخواست کی تھی
“آپ سٹریٹ لیٹیں رہیں اور مجھے میرا کام کرنے دیں۔۔۔”
فہاج کے کوٹ کے بٹن اوپن کرنے کے بعد انوشہ نےشرٹ کے بٹن جیسے ہی اوپن کئیے تھے فہاج وردان احمد کی ہچکچاہٹ گھبراہٹ میں بدل گئی تھی۔۔۔
انوشہ چہرے کی جانب جیسے ہی جھکی تھی شرٹ کے بٹن اوپن کرنے کے بعد دل کی جگہ پر انکی انگلیاں اور پھر ہاتھ کی نرم ہتھیلی جیسے ہی ٹچ ہوئی تھی فہاج کو شدید کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی اسی وقت پاس کھڑے بہنوئی نے فہاج صاحب کے کان میں کچھ کہا تھا جس سے کھانسی اور زیادہ ہوگئی تھی
“نیٹ اینڈ کلین ہوکر نہیں آسکتے تھے۔۔۔؟؟ ہئیری چیسٹ سیریسلی فہاج۔۔؟”
“آہ۔۔۔ویل یو شٹ اپ پلیز۔۔۔ مجھے ایسے ہی پسند ہے۔۔۔”
“سامنے والے کو نہیں ہوتی پسند خاص کر لیڈیز کو۔۔۔دیکھو کتنی ہیسیٹیٹ ہورہی ہے دلہے کی خالہ تمہیں ہاتھ لگاتے ہوئے۔۔۔”
دوسری طرف کھڑے دوسرے بہنوئی نے بھی پاس جھک کر سرگوشی کی تھی
“مگر دلہے کی خالہ کے چہرے پر ہلکا ہلکا سا بلش تو کچھ اور ہی داستان سنا رہا ہے فہاج۔۔۔”
وہاں وہ سب سیریس تھے سینے پر ہاتھ رکھے انوشہ نے پمپ کرنے کی کوشش کی تھی اور یہاں یہ دونوں فہاج کو ایک اور ہارٹ اٹیک کروا رہے تھے اپنی باتوں سے۔۔۔
“آپ کو اب سانس لینے میں مسئلہ ہورہا ہے۔۔؟؟ فرہاد بیٹا میرے روم سے باکس لے آؤ گے میرا۔۔۔ََجلدی زرا۔۔۔”
“فہاج کی نبض چیک کرتے ہوئے جیسے ہی انہوں نے پوچھا تھا
وہ پروفیسر کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے تھے انوشہ کی سوال کرتی آنکھوں کو دیکھ کر۔۔۔
۔
“سر۔۔۔ آپ کو تھوڑا سا درد ہوگا۔۔۔ یہ ضروری ہے آپ کی پلس ریٹ کو نارمل کرنے کے لیے۔۔۔”
اس کے لہجے میں اتنی نفاست اور نرمی تھی اسے وہ اس لمحے سب لگی تھی مگر امیچور بلکل نہیں۔۔۔
انوشہ نے جیسے ہی انجیکشن لگایا تھا۔۔۔فہاج کی آنکھیں بند ہوگئی تھی۔۔۔
مگر انکے ہاتھ نے انوشہ کے ہاتھ کو پکڑ لیا تھا جو ابھی بھی فہاج کے سینے پر تھا عین دھڑکتے دل پر۔۔۔
۔
۔
“ہاں ہم بدلنے لگے۔۔۔ گرنے سنبھلنے لگے۔۔۔
جب سے ہے جانا تجھے۔۔۔ تیری اوڑھ چلنے لگے۔۔”
۔
۔
“آپ سب لوگ جائیں میں یہیں ہوں فہاج کے ساتھ۔۔۔”
بی جان نے جیسے ہی کہا تھا ان کا حکم مانتے ہوئے سب ہی وہاں سے چلے گئے تھے اور جب انوشہ نے وہاں سے جانے کی کوشش کی تو وہ اپنا ہاتھ نہیں چھڑا پائی تھی فہاج کی گرفت سے
“انوشہ بیٹا تھوڑی دیر رک جاؤ۔۔۔ جب تک فہاج کو ہوش نہیں آجاتا۔۔۔”
“جی۔۔”
وہ پاس ہی بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“میرا شیر پتر ہے جلدی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔”
دادی آنسو صاف کئیے فہاج کا ماتھے چوم رہی تھی تو کبھی منہ۔۔۔
“فہاج کیا آپ کے بیٹے ہیں ۔۔؟؟”
بی جان کی محبت دیکھ کر سرگوشی کی تھی
“نہیں فہاج یہ میری بہن کا بیٹا ہے۔۔۔میری لاڈو کا۔۔۔وہ چھوٹی عمر میں مجھ پر ذمہ داری ڈال گئی تھی اپنے بچوں کی اور تب سے یہ میرے بچوں کی طرح ہے۔۔”
“ہممم۔۔۔۔”
“گہری خاموشی چھا گئی تھی درمیان میں۔۔۔ کبھی انوشہ اس ہاتھ کو دیکھ رہی تھی تو کبھی فہاج کے دھرکتے دل کو۔۔۔۔
“ابھی تک انکی فیملی نہیں آئی انکی بیوی بچے۔۔۔؟؟”
“فیملی۔۔؟؟۔۔۔میرا بیٹا اس معاملے میں بڑا غریب ثابت ہوا ہے۔۔۔
کسی وقت یہ بھی خوش تھا۔۔۔ پھر ایک دن معلوم ہوا کہ اسکی بیوی کو طلاق چاہیے۔۔۔
اور اس دن کے بعد سے اس نے بچوں کو بھی فہاج کے خلاف کرنا شروع کردیا ۔۔۔
اب یہ ہفتے میں ان تین دنوں کا انتظار کرتا ہے جب اسکے بچے اسکے ساتھ اسکے گھر میں رہیں۔۔۔”
بی جان آبدیدہ ہوگئی تھیں ۔۔۔ اور انوشہ کی نظریں ان بند آنکھوں کو تکتی رہ گئی تھی۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس تکلیف کو دل سے محسوس کررہی ہو۔۔۔
“کیا ابھی ابھی ہوا یہ سب۔۔؟؟ میرا مطلب ہے انکی طلاق۔۔؟؟”
“دس سال ہوگئے۔۔۔۔مگر میرا بیٹا آج بھی اسی جگہ کھڑا ہے۔۔”
“تو آپ لوگوں نے دوسری شادی کیوں نہیں کروائی۔۔؟؟”
“ہم تو کہہ کہہ کر تھک گئے مگر یہ مانتاہی نہیں ہے۔۔۔ اس نے قسم کھا لی ہے کہ محبت اور شادی کبھی دوسری نہیں کرے گا۔۔۔”
انوشہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔ایک اور گھنٹہ گزر گیا تھا
“بی جان آپ جائیں اور آرام کیجئے۔۔۔”
“پر بیٹا۔۔۔”
“میں یہیں ہوں انہیں بھی کچھ دیر میں ہوش آجائے گا پلیز۔۔۔”
“بی جان جیسے ہی وہاں سے چلی گئی تھی انوشہ نے فہاج کی طرف دیکھا تھا
“اب آپ آنکھیں کھول سکتے ہیں مجھے پتہ ہے آپ کو ہوش آگیا ہے۔۔”
“مگر فہاج کی تیز دھڑکنیں اسے اسکی آنکھیں کھولنے ہی نہیں دے رہی تھیں۔۔
“فہاج۔۔۔”
ان دھڑکنوں پر رکھا انوشہ کا وہ ہاتھ اور لبوں سے لیا گیا وہ نام فہاج کی سانسیں مکمل بند کرچکا تھا
“سیریسلی۔۔؟ ایکٹنگ بند کریں۔۔۔ ڈاکٹر ہوں میں آپ کی فیملی ممبر نہیں جو سمجھ نہ پاؤں۔۔۔
شکر کریں میں نے بےہوشی کا انجیکشن لگایا دوسرا نہیں۔۔۔”
اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے پیچھے کھینچ لیا تھا انوشہ نے۔۔۔
اور اب سانس لینے کا موقع ملا تھا پروفیسر فہاج کو۔۔۔
“ڈاکٹر۔۔۔؟؟ مجھے تو لگتا ہی نہیں۔۔۔یہ جو پارکنگ لوٹ پر جو بچگانہ حرکت کی آپ نے۔۔۔وہ سوٹ کرتی تھی آپ کو۔۔۔؟؟”
“یو مسٹر۔۔۔تھنکس کہنے کے بجائے باتیں کررہے ہیں۔۔؟؟
ابھی بتاتی ہوں بی جان کو۔۔۔”
“اووے۔۔۔ہیلو۔۔۔۔”
فہاج نے جلدی سے اٹھ کر انوشہ کا ہاتھ پکڑ کر واپس کھینچا تھا۔۔۔
اور انکی ہیلز جیسے ہی سلپ ہوئی تھی وہ فہاج کے ساتھ صوفہ پر گر گئی تھیں۔۔۔
اب کے انکے دونوں ہاتھ فہاج کے دھڑکتے دل پر تھے جیسے ان کے وجود کے درمیان کچھ فاصلہ رہ گیا تھا۔۔۔
“آپ کا پلس ریٹ پھر سے تیز ہورہا ہے مسٹر فہاج۔۔۔”
فہاج کی آنکھوں میں دیکھتے ہی اس نے سرگوشی کی تھی
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
وہ اس سچویشن میں بھی ڈاکٹری ٹون سن کر مسکرا دیا تھا انوشہ کی۔۔۔
۔
۔
“نادان ہے وہ کتنی۔۔۔کچھ سمجھتی ہی نہیں۔۔۔۔
سینے سے لگا کر پوچھتی ہے۔۔۔دھڑکن کیوں تیز ہے۔۔۔”
۔
۔