Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 09
No Download Link
Rate this Novel
Episode 09
“فہاج بھائی رک جاتے تھوڑی دیر۔۔۔”
“نہیں مجھے کچھ ضروری کام ہے بی جان۔۔۔ نازنین میں بعد میں آؤں گا۔۔۔”
وہ پاس سے گزر گئے تھے اور انوشہ میں ہمت نہیں تھی کہ آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے اوپر روم میں جو ہوا اسکے بعد تو بالکل بھی نہیں۔۔۔
“مجھے اوپر روم میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔”
وہ ایک ہی بات دہرا رہی تھی خود کو غلط کہہ رہی تھی
“ہم لوگ جیولری کی ہی شاپنگ کرنے جا رہے تھے بی جان میں صبیحہ کو ساتھ لیکر جانا چاہتی ہوں۔۔۔”
نیہا نے واپس متوجہ کردیا تھا سب کو۔۔۔
“ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے بیٹا بس ہم چاہتے ہیں نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے سامنے نہ آئے۔۔۔۔”
۔
صبیحہ نے شرما کے سر جھکا لیا تھا بی جان کی بات پر۔۔۔۔
“بی جان آپ فکر نہ کریں فرہاد ساتھ نہیں ہوگا۔۔۔۔”
“اور وہ جو راتوں کو دیدارِ یار کرنے آتا ہے اسکا بی جان کیا کریں گی۔۔؟”
صبیحہ کی کزن نے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔
“شش کسی نے سن لیا تو اس چاند کے ساتھ ساتھ صبیحہ کی چاندنی بھی مدھم کر دیں گی بی جان۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔’
صبیحہ نے ان دونوں کو چپ کروا دیا تھا اس وقت
“صبیحہ بیٹا جلدی سے ریڈی ہوجاو آج تو تمہاری ساس نے شاپنگ کروانی ہے۔۔۔”
بی جان نے حکم دیا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ لوگ صبیحہ کے ساتھ شاپنگ پر چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اننف رامین۔۔۔۔”
“یہی میں کہہ رہی ہوں اننف از اننف احلام۔۔۔ اب تو مجھے بھی لگ رہا ہے یہاں آنے کا فیصلہ غلط تھا۔۔۔
میں اسے جیلس کرنے آئی تھی اور یہاں تو آپ ہی نئی پلاننگ میں ہے۔۔۔”
وہ کندھے سے پکڑ کر احلام کو اپنی طرف متوجہ کرچکی تھی جو موبائل سے نظر ہٹا نہیں پائے تھے جو اس لڑائی کو نظر انداز کر رہے تھے کل سے۔۔۔۔
“کونسی سی پلاننگ۔۔؟ اور کس لیے تم انوشہ کو جیلس کرنا چاہتی تھی۔۔؟”
“میں اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ میری جگہ نہیں لے سکتی آپ صرف میرے ہیں احلام۔۔۔۔
مگر آپ تو۔۔۔۔”
رامین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے جس پر احلام کا لہجہ بھی نرم ہوگیا تھا
“رامین جب تمہیں میں نے اپنے نکاح میں لیا تھا میں نے ایک بات صاف صاف کہی تھی کہ انوشہ میری پہلی بیوی اور محبت ہے۔۔۔ وہ ہمیشہ میرے لیے ہر چیز میں ہر کام میں پہلی چوائس ہی رہے گی۔۔۔”
احلام نے بازو پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے کی کوشش کی تھی
“تو مجھے یہ بھی بتانا تھا نہ کہ طلاق کے بعد بھی آپ اسکی محبت کے دیوانے رہے گے۔۔۔
طلاق تو اس نے مانگی تھی نہ الگ تو وہ ہونا چاہتی تھی نہ تو پھر آپ کیوں بھاگ رہے ہیں آپ میرے ساتھ خوش نہیں ہیں احلام۔۔؟ ہمارے بیٹے کے ساتھ خوش نہیں ہیں۔۔۔؟
ہادی تو جان ہے آپ کی۔۔۔”
رامین نے اپنے ہاتھوں میں بھر لیا تھا احلام کے چہرے کو
“اور ابیہا میں میری جان بستی ہے رامین۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا انوشہ میری دوسری شادی کے اتنا خلاف ہوگی۔۔۔
تو کبھی شادی نہ کرتا تم سے۔۔۔ اب میں جانتا ہوں کہ کیسے اسے واپس لانا ہے۔۔۔۔پلیز میرا ساتھ دو وہ میری زندگی ہے۔۔۔
رامین اب مجھ سے برداشت نہیں ہورہا۔۔۔”
وہ رامین کے سامنے اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گئے تھے
“یہاں میں خود کو کامیاب سمجھ رہی تھی دوسری عورت ہوکر بھی میں آپ کی زندگی میں راج کرتی آئی مگر اب سمجھ آرہا ہے لوگ مجھے کیوں کہتے تھے کہ میں کبھی بھی آپ کی پہلی بیوی کی جگہ نہیں لے سکتی۔۔۔
اور آپ نے وہ بات سچ کردیکھائی اچھا نہیں کیا احلام۔۔۔۔
مجھے پتہ ہوتا کہ اتںے سالوں کے بعد بھی میں خود کو اسی دوراہے پہ پاؤں گی تو کبھی انوشہ کے ہنستے بستے گھر کو آگ نہ لگاتی۔۔۔۔”
وہ بہت سے قدم پیچھے ہوگئیں تھیں
“رامین۔۔۔۔”
“میں انوشہ نہیں ہوں جو آپ کے دھوکے کو دیکھ کر طلاق کا مطالبہ کر دوں۔۔۔
میں اپنے حق کے لیے لڑوں گی احلام دیکھتی ہوں وہ کیسے میری زندگی کو برباد کرتی ہے۔۔۔”
“رامین پلیز۔۔۔۔”
رامین نے احلام کا کالر پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔۔
“احلام جو چلا گیا ہے اسے اب بھول جائیں جو پاس ہے وہی سب کچھ ہے۔۔۔”
“پر۔۔۔۔”
رامین نے اپنے چہرے کو بہت پاس کرکے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
“کتنا وقت ہوا ہم دونوں ایک نہیں ہوئے کبھی آپ اپنے آفس کے کام میں الجھے رہے تو کبھی میں گھر کے کاموں میں۔۔۔۔
مگر اب نہیں۔۔۔۔ مسٹر احلام۔۔۔اگر اپنا گھر بچانے کے لیے مجھے اپنے ہی ہسبنڈ کو سیڈیوس کرنا پڑا تو میں ہر روز کروں گی۔۔۔۔”
وہ احلام کی شرٹ کے بٹن اوپن کرچکی تھی پوری طرح سے۔۔۔
“پلیز رامین۔۔۔۔”
اب انکی غصے سے بھری ہوئی آواز بھی آہستہ ہوگئی تھی اپنی بیوی کی اس سیڈکٹیو موو پر۔۔۔۔
“پلیز وٹ احلام۔۔۔؟؟ یہی وجہ تھی جو آپ مائل ہوئے تھے۔۔۔ اب یہ مت کہہ دینا کہ میرے اس وجود میں کوئی اٹریکشن نہیں رہی۔۔۔۔”
اپنی شرٹ کی زپ اوپن کئیے وہ پیچھے مڑ گئی تھی۔۔۔۔
یہ وہ لاسٹ موو تھا اپنے ہسبنڈ کو اپنی طرف مائل کرنے کا
“پلیز ڈونٹ ڈو دس رامین۔۔۔۔”
کم آن احلام۔۔۔۔ آپ بھی یہی چاہتے ہیں جو میں۔۔۔”
اپنی بئیر ویسٹ پر احلام کا ہاتھ رکھ کر رامین نے باقی کا فاصلہ بھی ختم کردیا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
“یہ میری زندگی ہے میری خوشحال شادی شدہ زندگی انوشہ میں تمہیں ایک موقع نہیں دوں گی اسے برباد کرنے کا۔۔۔”
احلام کے سینے پر سر رکھے وہ اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ڈاکٹر صاحب آگئے ہیں زیادہ پریشانی والی بات نہیں ہے۔۔۔
بہو جلدی ہوش میں اجائے گی۔۔۔۔”
“پر ہوا کیا تھا روحیل بیٹا۔۔۔؟ بہو باتھروم میں کیسے گر گئی۔۔۔؟
بی جان نے روحیل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا جو نظریں چرا کر پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا تھا روحیل میرے بھائی۔۔۔؟؟ سب پریشان ہورہے ہیں۔۔۔”
“ہر بات بتانے والی نہیں ہوتی بی جان۔۔۔۔”
روحیل وہاں سے چلا گیا تھا بالکونی میں۔۔۔۔
“میں دیکھتا ہوں اسے بی جان آپ فکر مت کریں۔۔۔۔”
وقاص باہر چلا گیا تھا۔۔۔
بی جان نے واپس قرطبہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔اور پھر ڈاکٹر بھی بینڈ ایج کرکے باہر آگئے تھے۔۔۔
“زخم اتنا گہرا نہیں تھا یہ کچھ میڈیسن انہیں دہ دی ہیں آپ چیک اپ کے لیے انہیں ہاسپٹل لے آئیے گا ایک بار ضرور۔۔۔۔”
وہ جیسے ہی گئے تھے بی جان اور باقی گھر والے اندر روم میں واپس آگئے تھے۔۔۔
“قرطبہ بیٹا کیا ہوا تھا اچانک کیسے پاؤں پھسل گیا میری بچی۔۔۔؟؟ تم لاپرواہی سے کیوں کام کرتی ہو۔۔۔؟”
بی جان نے سے ڈانٹ کھانے کے بعد قرطبہ کی آنکھوں میں شدید غصہ ابھر آیا تھا۔۔۔
“بی جان روحیل سے پوچھیں ہوا کیا تھا ۔۔۔۔ “
“روحیل کو بلا کر لاو ابھی۔۔۔۔۔”
ندیم صاحب نے بھی اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔۔۔۔ قرطبہ کے سر پر بندھی پٹی کو دیکھ کر سب ہی پریشان ہوگئے تھے اس وقت۔۔۔۔
۔
“بی جان آپ نے بلایا۔۔۔؟”
روحیل سر نیچے کئیے کھڑا تھا دروازے پر۔۔۔وہ رو اندر آنے سے بھی ڈر رہا تھا
“اب بتاؤ گے روحیل مسئلہ کیا ہے۔۔۔؟ کیوں بہو کچھ بتا نہیں رہی کیا تم نے ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔؟؟؟ کچھ کیا۔۔۔؟
تمہیں پتہ ہے شادی والا گھر ہے اور یہ تماشے ہورہے تمہاری چھوٹی بہن کی شادی ہے اور تم اپنی بیوی کا خیال نہیں رکھ پا رہے ہو۔۔۔؟؟”
نازنین اپنے بیٹے پر برس پڑیں تھی سب کے سامنے جو اور شرمندہ ہوگیا تھا۔۔۔۔
“بس نازنین۔۔۔چپ ہوجاو۔۔۔روحیل بیٹا تم بتاؤ کیا ہوا تھا۔۔۔۔”
“وہ بی جان۔۔۔۔ دراصل قرطبہ مجھ سے ناراض تھی۔۔۔”
“تو وہ کب ناراض نہیں رہتی۔۔۔؟”
“سیریسلی وقاص اب تم مجھے ہی غلط کہو گے۔۔۔”
قرطبہ نے وقاص کو پوچھا تھا۔۔۔
“وقاص بی جان روحیل سے پوچھ رہی ہیں۔۔۔”
ندیم صاحب روحیل کی طرف بڑھے تھے
“وہ۔۔۔ بی جان۔۔۔ میں گلاب کا پھول لیکر آیا تھا۔۔۔اور قرطبہ باتھروم سے نہا کر باہر آئی تھی۔۔۔۔ اور۔۔۔؟؟؟”
روحیل کی باتیں تجسس بڑھا رہی تھی مسلسل۔۔۔۔کہ کچھ مہمان بھی کمرے میں آگئے تھے۔۔۔
“تو میں نے کہیں ایک مووی میں دیکھا تھا ہیرو ایسے ہی ناراض بیوی کے سامنے آہستہ قدموں سے بڑھتا ہے۔۔۔اور ہیروئن ایسے ہی پیچھے جاتی ہے۔۔۔۔”
آہستہ آہستہ روحیل کی بات سن کر ندیم صاحب نے سر پر ہاتھ رکھ لیا تھا مگر گھر کی عورتوں کے چہرے پر ہلکی ہلکی ہنسی آنا شروع ہوگئی تھی
“پھر قرطبہ دو قدم ہی پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔”
“اور تم پہاڑ کی طرح میرے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔”
قرطبہ نے منہ بنا کر کہا تھا۔۔۔
“پھر مجھے لگا تھا کہ قرطبہ جیسے ہی پیچھے واال کے ساتھ پن ہوگی میں اسے یہ گلاب کا پھول دوں گا اور پھر کچھ رومنٹک سا کہوں گا۔۔۔
یہ شعر بھی لکھا تھا میں نے
۔
میں تم اور آٹھ دس بچے
چھوٹا سا گھرانہ۔۔ خوشحال زمانہ۔۔۔”
۔
مگر میں جیسے ہی آگے بڑھ کر ویسٹ پر ہاتھ رکھنے لگا تھا وہ تو ایسے پیچھے ہوئی باتھروم کا دروازہ کھل کا اور دھڑام کرکے قرطبہ باتھ ٹب میں۔۔۔۔”
روحیل کا چہرہ اس وقت دیکھنے والا تھا وہ اس قدر معصوم بن کر کھڑا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔۔یا اللہ۔۔۔۔”
بی جان ہنستے ہوئے کھانسی کرنے لگی تھی اور پھر باہر آگئی تھی ۔۔۔۔۔
“اس لیے نہیں بتا رہا تھا آپ سب ہنستے ہو۔۔۔”
روحیل بھی باہر آگیا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ قرطبہ۔۔۔۔ میری بچی۔۔۔۔ایم سو سوری۔۔۔۔”
نازنین بیگم ہنستے ہوئے قرطبہ کو اپنے گلے سے لگا چکی تھی۔۔۔
“روحیل۔۔۔۔۔ یار تو پھر سے کچھ ٹرائی مت کرنا۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔”
وقاص اور کزنز ان دونوں کو ٹیز کرنا شروع کر دیا تھا اس وقت۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آپ کو چوٹ لگی ہے میم میں فون کرتا ہوں نیہا میڈم کو۔۔۔”
“آپ پاس کے کسی ہسپتال میں لے جائیں گھر میں کسی کو پریشان مت کیجیے گا”
انوشہ نے اس بازو پر ٹشو رکھ لئیے تھے جہاں سے خون نکل رہا تھا۔۔۔۔
شاپنگ سینٹر پر ہوئے حملے سے وہ گھبرائی نہیں تھی مگر حیران ہوئی تھی کہ اچانک سے ہی گاڑی کو کوئی کیونکر ہٹ کرکے جائے گا۔۔۔؟؟”
“کیا ایسا پہلے کبھی ہوا ہے کہ کوئی گاڑی کو ایسے ہٹ کرکے گیا ہو۔۔۔؟”
“نہیں میڈم یہ پہلی بار ہوا ہے اس لیے میں کہہ رہا ہوں مجھے بتانے دیں صہیب صاحب کو۔۔۔۔”
“گھر چل کر بتا دیں گے ابھی آپ ہاسپٹل لے جانے سے پہلے اس ایڈریس پر گاڑی روک دیجیئے گا۔۔۔۔۔۔”
ڈرائیور شاکڈ ہوا تھا جس ایڈریس کا انوشہ نے کہا تھا وہ ہسپتال سے دور تھا۔۔۔
“پر آپ کے بازو اور پاؤں سے خون نکل رہا ہے میڈم۔۔۔وہ راستے اپوزٹ ہے
ڈرائیور نے گاڑی روک کر پھر سے پوچھا تھا۔۔۔۔
“آپ پہلے اس ایڈریس پر لے جائیں۔۔۔”
آنکھیں بند کرکے ٹیک لگا لی تھی اس نے۔۔۔۔
وہ نیہا اور صبیحہ کو چھوڑ کر بہانہ لگا کر دوسری جگہ شاپنگ کرنے گئی تھی۔۔۔
وہ شاپنگ بیگ جس میں سب جینٹس سوٹ اور شوز تھے میچنگ ٹائی کے ساتھ ساتھ ایک واچ۔۔۔۔ کتنے سال کے بعد اس نے آج شاپنگ کی تھی کسی کے لیے اور وہ کوئی اپنا نہیں تھا۔۔۔۔
کوئی انجان کہ جس کے چہرے کی مایوسی نے انوشہ کو اسکا فیصلہ بدلنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔
۔
“میم ہم آگئے ہیں۔۔۔”
۔
“آپ اس بلڈنگ کے اس اپارٹمنٹ میں یہ سب بیگ دہ آئیں اور کوئی بھی پوچھے تو کہیے گا کہ فہاج صاحب نے بھجوائے ہیں ان کے کمرے میں رکھوا دیں۔۔۔۔
اور یہ بات کسی کو بھی پتہ نہ چلے۔۔۔۔”
ڈرائیور ہاں میں سر ہلائے وہ تمام شاپنگ اندر لے گیا تھا۔۔۔۔۔
۔
“پروفیسر فہاج میں وعدہ نبھانے میں چوک گئی مگر وعدہ خلافی نہیں کروں گی۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تھینک یو سوو مچ پروفیسر فہاج آپ مجھے ہاسپٹل لے آئے”
“اٹس اوکے مس عینی آپ کے پاؤں کو اب آرام ہے۔۔۔؟؟؟”
وہ ہاسپٹل سے جیسے ہی باہر آنے لگے تھے اسی وقت انوشہ ڈرائیور کے پیچھے پیچھے داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔
انوشہ کی نظر پہلے پڑی تھی فہاج پر اس ینگ لڑکی کے کندھے پر ہاتھ رکھے پروفیسر فہاج جیسے اسے باہر لا رہے انوشہ نے ایک نظر انہیں دیکھا تھا اور پھر وہ اندر چلی گئی تھی۔۔۔۔
“انوشہ۔۔۔۔؟؟ یہ کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟؟”
فہاج وہاں بنچ پر بٹھا کر اس لڑکی کو واپس اندر گئے انوشہ کے پیچھے۔۔۔
“انوشہ۔۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔”
“لئیو مائی ہینڈ فہاج۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
ہاتھ چھڑا کر وہ اندر داخل ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
۔
ابھی تو اور …. محبت کا لطف آئے گا
کہ اب جان….. چھڑانے پہ آگیا وہ ۔۔۔۔۔”
۔
“ٹھیک ہوں۔۔۔؟؟ یہ پاؤں سے بازو سے خون کیوں نکل رہا ہے۔۔۔؟ ڈاکٹر۔۔۔؟؟؟”
انوشہ کے دوسرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑے وہ ایمرجنسی میں لے گئے تھے
انوشہ کی ہر بات کو اگنور کئیے۔۔۔۔
“آپ اپنا ٹائم ویسٹ کررہے ہیں باہر وہ لڑکی آپ کا انتظار کررہی ہوگی۔۔۔”
انوشہ نے اپنے غصے کو چھپا کر جواب دیا تھا۔۔۔
“وہ لڑکی سٹوڈنٹ ہے میری گرگئی تھی کلاس میں۔۔۔۔”
“آپ کے یہاں سٹوڈنٹ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہسپتال لایا جاتا ہے۔۔؟ آپ کیا اکیلے رہ گئے تھے۔۔۔؟”
۔
بات معیوب بھی ہے، اور بہت خوب بھی ہے
میرا محبوب کسی اور کا محبوب بھی ہے….”
۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے انوشہ کی بات اتنی ان ایکسپیکٹڈ تھی کہ فہاج صاحب خود کو روک نہیں پائے تھے اپنے آپ کو جواب دینے سے پہلے۔۔۔۔
“ڈاکٹر انوشہ آپ جیلس ہورہی ہیں میری سٹوڈنٹ سے۔۔۔؟
ڈونٹ وری مجھے امیچور ٹین ایجر میں کوئی انٹرسٹ نہیں میں اپنے جیسے میچور لوگوں میں انٹرسٹڈ ہوں۔۔۔”
انوشہ کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔۔۔۔
“خون کتنا بہہ گیا ہے۔۔۔ اگر یہ ایکسیڈنٹ کی وجہ آپ کی ڈرائیونگ ہوئی تو لائسنس کینسل کروا دوں گا آپ کا۔۔۔۔”
وہ انوشہ کو اندر کے گئے تھے۔۔۔۔ ڈاکٹر جب تک انہیں دیکھ رہے تھے وہ تب تک اس ڈرائیور سے انویسٹیگیشن کررہے تھے
“میں بس گاڑی کے پاس ہی آرہا تھا جب سامنے سے آتی گاڑی نے پوری خالی روڈ کو چھوڑ کر ہماری گاڑی کو ہٹ کیا اندر بس انوشہ میڈم ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔”
“ہممم اس معاملے کو رپورٹ کروائیں اور اس جگہ کی لوکیشن مجھے سینڈ کردینا یہ میرا نمبر ہے۔۔۔”
انوشہ سامنے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
۔
“پروفیسر فہاج چلیں ہم۔۔۔؟”
دانتوں میں زبان دبائے وہ لڑکی جیسے فہاج کو دیکھ رہی اں
“چلیں۔۔۔؟؟”
انوشہ نے فہاج کی طرف دیکھا تک نہیں تھا وہ تو ڈرائیور سے مخاطب تھی۔۔۔۔
“ڈاکٹر نے کیا کہا۔۔۔؟؟؟ زخم کیسا تھا۔۔۔؟ سٹیچز لگے کیا کیا۔۔۔؟ کچھ تو بتاؤ۔۔۔”
پر انوشہ وہاں سے باہر چلی گئی تھی فہاج کا یوں پریشان ہونا اسے اچھا بھی لگ رہا تھا مگر اسے غصہ بھی تھا۔۔۔۔
“وہاں ان صاحب کی شاپنگ کی وجہ سے میں یہاں ہسپتال آپہنچی اور یہ یہاں تیمارداری کرنے میں مصروف تھے۔۔۔” وہ غصے سے گاڑی کی طرف بڑھنے لگی تھی جب فہاج نے پھر سے ہاتھ پکڑا تھا ان کا۔۔۔
“آپ مس عینی کو ڈراپ کردیں گے انکے گھر۔۔۔؟ میں انوشہ کو ڈراپ کردیتا ہوں۔۔۔۔”
“بٹ سر۔۔۔”
فہاج اپنی گاڑی کی طرف لے گیا تھا۔۔۔
“پروفیسر فہاج۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟”
“عجیب نخرے ہیں آپ عورتوں کے۔۔۔۔ ناراض مجھے ہونا چاہیے آپ سے۔۔۔۔”
گاڑی کا دروازہ کھولا تو انوشہ اندر بیٹھنے کے بجائے وہیں کھڑی تھی
“وہ گاڑی کا سارا کانچ ٹوٹا ہوا ہے بیک سیٹ پر کیسے بیٹھو گی۔۔۔؟ زخم لگے ہوئے ہیں۔۔۔پلیز۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اتنی بھی کیا ایمرجنسی تھی شاپنگ کی کہ آپ کو ہوش نہیں تھا گاڑی کہاں کھڑی ہے کونسی گاڑی کہاں سے آرہی ہے۔۔۔اتنی مگن تھی۔۔۔۔”
پورے راستے یہی سننے کو مل رہا تھا انوشہ کو مگر وہ چپ تھی۔۔۔۔
فہاج ڈرائیو کرتے ہوئے بھی بار بار زخمی بازو کو دیکھ رہے تھے اور پھر ایک لیکچر شروع کردیتے تھے۔۔۔۔
“اتنی زیادہ چوٹ نہیں آئی جتنا آپ کو لگ رہا ہے پروفیسر فہاج۔۔۔اور آپ ڈرائیو بہت سلو چلا رہے۔۔۔۔”
“کیونکہ میں چاہتا ہوں یہ سفر جلدی ختم نہ ہو۔۔۔۔”
انہوں نے آہستہ آواز میں کہا تھا جو انوشہ کو بھی سنائی دیا جس پر اس نے انکی طرف دیکھا تھا
“کیا مطلب۔۔۔؟؟؟”
“سلو ڈرائیو سے آپ کے زخموں پر درد نہیں ہوگا۔۔۔”
وہ بات ٹال گئے تھے اور یہ بھی چپ ہوگئی تھی۔۔۔۔ پورا راستہ خاموشی سے گزر رہا تھا۔۔۔
انوشہ کے دوپٹے کا ایک حصہ اسٹیرنگ پر جیسے ہی آگرا تھا فہاج کی انگلیوں سے ٹکڑایا تو وہ کچھ سیکنڈ انوشہ کی جانب دیکھتے رہ گئے تھے جو ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تھینک یو سو مچ۔۔۔اپ۔۔۔۔”
“اندر تک چھوڑ دیتا ہوں میں۔۔۔۔”
“پلیز میری ویسٹ پر ہاتھ مت رکھئیے گا یہاں ہزار لوگ ہیں جو ہزار منہ رکھتے ہیں اور ان ہزار زبانوں نے ہزار باتیں کرکے دامن کو داغدار کر دینا ہے جو میں نہیں چاہتی۔۔۔۔”
وہ سرگوشی میں بھی اتنی انٹیمیٹ بات کرگئیں تھی کہ فہاج صاحب نے ہاتھ پیچھے لیا تھا جو وہ سچ میں رکھنے والے تھے
“میں بھی اپنی اور آپ کی حدود جانتا ہوں انوشہ۔۔۔
میں اپنا ہاتھ کندھے پر رکھنے والا تھا۔۔۔۔”
اور انہوں نے ایک ہاتھ میں ان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور دوسرا ہاتھ کندھے پر رکھ دیا تھا
“مجھے فرق نہیں پڑتا لوگ کیا کہیں گے۔۔۔۔ لوگوں کو کہنے دیں وہ جو کہنا چاہتے ہیں۔۔۔”
وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئے تھے سب سے پہلے احلام کی نظریں گئی تھی ان دونوں پر۔۔۔۔
۔
اندر آجائیں۔۔۔۔”
وہ دس بیلنس ہوئی تھی اور فہاج کی شرٹ کو مظبوطی سے پکڑ لیا تھا اس نے۔۔۔۔۔
“پھر کبھی ڈاکٹر انوشہ ابھی نہیں۔۔۔۔ جب مجھے لگتا ہے میرے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی میری کوشش ہوتی ہے اس وجہ سے تھوڑا دور ہوجاوں تاکہ دھڑکنیں قابو میں لا سکوں۔۔۔۔”
انوشہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ بہت آہستہ سے بولے تھے اور چند قدم پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔۔
“ٹیک کئیر۔۔۔۔”
۔
ان دونوں کی نگاہیں اس وقت ہٹی تھی ایک دوسرے سے جب شیشے کا گلاس ٹوٹنے کی آواز سنائی دی تھی انہیں۔۔۔۔
۔
احلام کے ہاتھ سے گلاس گرگیا تھا۔۔۔۔۔
“پروفیسر۔۔۔۔ فہاج۔۔۔ وہ سٹوڈنٹ ڈینجرس ٹیراریٹی ہے سو احتیاط کیجئے گا۔۔۔۔”
انوشہ نے ایک لاسٹ وارننگ دی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہا اب یقین ہورہا کہ جیلس ہورہی ہو۔۔۔؟؟”
انوشہ مڑ گئی تھی ان کی بات سن کر چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
“یہ آپ کی غلط فہمی ہے پروفیسر فہاج۔۔۔۔۔”
۔
تو اچانک جو کسی دن مڑ کے دیکھے مجھے
میں تجھے عمر کا ٹھہرا ہوا لمحہ لکھوں۔۔۔۔۔”
۔
“چلیں کچھ تو ہے ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔”
۔
اپنے کوٹ کا بٹن بند کرکے وہ باہر کی طرف چل دئیے تھے مگر جانے سے پہلے احلام کو انہوں نے دیکھا ضرور تھا۔۔۔۔
۔
۔
ہم نقش ہوئے
اس دھڑکن پر ۔۔۔۔
جسے علم نہیں تھا ہم بھی ہیں۔۔۔۔”
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
