Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
“فہاج بھائی آپ کو سب بُلا رہے ہیں۔۔۔”
فہاج اس گیسٹ روم کے باہر کھڑا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے انوشہ داخل ہوئی تھی۔۔۔
وہ ابھی فیصلہ کر ہی رہے تھے کہ پیچھے سے نیہا نے انہیں مخاطب کیا۔۔۔
“کیا۔۔۔ میں فرہاد سے بات۔۔ کرسکتا ہوں۔۔؟؟”
انہوں نے نظریں ابھی بھی دروازے پر جما رکھی تھی
“جی۔۔ فرہاد کا روم ابھی ٹھیک نہیں آپ انوشہ کے روم میں چلیں میں فرہاد کو بلوا کر لائی۔۔۔”
نیہا نے خود روم کے دروازے پر ناک کرکے ڈور اوپ کردیا تھا۔۔۔
“انوشہ۔۔۔ فہاج بھائی ابھی روم میں داخل ہورہے ہیں میں فرہاد کو لیکر آئی تم جانتی ہو فرہاد کے کمرے کا حال،،،”
انوشہ جو اوندھی بیڈ پر لیٹے تکیے میں سر چھپائے آنسو بہا رہی تھی وہ جلدی سے اٹھ گئی تھی
اور فہاج صاحب پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے سارے کمرے کو دیکھ رہے تھے سوائے انوشہ کے۔۔۔
“اٹس اوکے۔۔۔ آپ ڈیسینٹ ہوجائیں ۔۔۔”
انوشہ نے دوپٹے سے خود کو کور کرلیا تھا فہاج کی بات سن کر وہ جو دوسری طرف منہ کرکے کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔
“آپ آکر بیٹھ جائیں فرہاد آتا ہی ہوگا۔۔۔”
وہ پاس سے گزرنے لگی تھی جب فہاج نے انکی کلائی پکڑ کر انہیں روک لیا تھا
“پلیز سٹے۔۔۔مجھ میں ہمت نہیں ہے فرہاد سے بات کرنے کی۔۔۔”
انوشہ نے ہاتھ چھڑوائے بغیر انکی طرف دیکھا تھا۔۔۔
اسکی آنکھوں میں کرب تھا تو فہاج صاحب کی آنکھوں میں التجا تھی۔۔۔
بنا کچھ کہے نگاہوں نے ایک دوسرے سے بہت کچھ کہہ دیا تھا۔۔۔
“خالہ۔۔۔”
فرہاد کی آواز پر وہ ہاتھ چھڑا کر دس قدم دور ہوگئی تھی فہاج سے۔۔
اور وہ اپنا خالی ہاتھ دیکھتے رہ گئے تھے۔۔۔
یہاں آنے سے پہلے انہوں نے ہر بات ڈیسائیڈ کرلی تھی ہر فیصلے پکا تھا ان کا۔۔۔
مگر اب وہ بال کسی اور کے کورٹ میں چلی گئی تھی
“فرہاد۔۔۔۔”
“آپ کو سچائی پتہ چل گئی ہوگی اس لیے آج آپ کے لہجے میں بہت عزت اور نرمی ہے پروفیسر فہاج۔۔ بھول جائیں اس شادی کو اور صبیحہ سے بھی کہہ دیجئے گا۔۔۔؟؟”
فرہاد جو تھپڑ کھانے کے بعد بھی انہیں مامو مامو کہہ رہا تھا اب وہ انجان بنا کھڑا تھا فہاج کے سامنے۔۔۔۔
“فرہاد بیٹا۔۔۔میں تم سے ہاتھ جوڑ۔۔۔۔”
فرہاد سے پہلے وہ تیز قدموں سے فہاج کے سامنے تھیں فہاج کے ہاتھ جوڑنے سے پہلے انوشہ نے اپنا ہاتھ فہاج کے ہاتھوں میں رکھ کر نفی میں سر ہلایا تھا
“فرہاد۔۔۔ بیٹا۔۔۔”
اور اس با انہوں نے خود فرہاد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر التجا کی تھی۔۔۔
وہ جو خود اس رشتے کے خلاف ہوگئی تھی وہ سہہ نہیں پائی تھی فہاج کے جڑے ہاتھوں کو دیکھ کر۔۔۔ انوشہ میں تو اب خود ہمت نہیں تھی فہاج کی آنکھوں میں دیکھنے کی۔۔۔
“کچھ سیکنڈ میں ان کو واپس لیونگ روم میں بلوایا گیا تھا جہاں سب موجود تھے۔۔۔
وہاں دونوں گئے تھے مگر انوشہ نہیں۔۔۔
وہ اسی جگہ کھڑی تھی اور پھر انہوں نے دروازہ بند کرلیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فرہاد بیٹا ہم نے جو کیا وہ غلط تھا بہت غلط تھا۔۔ میں جانتا ہوں تم اس رشتے کو انکار کرچکے ہو۔۔
مگر ایک بار خود کو ہماری جگہ رکھ دیکھو۔۔۔ بیٹی کی شادی کے فنکشن میں اس طرح سے کوئی آجائے تو کیا کرتے تم۔۔؟؟ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔۔
ہمیں نہیں پتہ تھا اس طرح کے پاکھنڈ بھی ہوتے ہیں۔۔ ۔
میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ صبیحہ ایک بہت اچھی لڑکی ہے
اپنے غصے میں ضد میں اس رشتے کے ساتھ ساتھ تم اسکا دل بھی توڑ دو گے۔۔۔”
فہاج صاحب اپنی بات مکمل کرکے وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
“فرہاد بیٹا رشتے ایسے نہیں توڑے جاتے۔۔ وہ لوگوں کی بچی انکی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔۔۔
تم کس کی باتوں میں آکر ایسا کررہے ہو۔۔؟ وہ جوخود اپنا گھر۔۔”
“بس نانو۔۔۔ آپ انکو بلیم کیوں کررہی ہیں۔۔؟؟ انکی کی وجہ سے میری بےگناہی ثابت ہوئی ہے ورنہ میرے موم ڈیڈ کے ساتھ ساتھ آپ سب بھی مجھے زانی بےشرم بےحیا سمجھ رہے تھے۔۔۔”
ندیم صاحب پنی جگہ سے اٹھ کر فرہاد کی طرف بڑھے تھے۔۔۔
“فرہاد بیٹا۔۔۔ میں صرف اتنا کہوں گا ہمیں پچھتاوا ہے۔۔ ہم نے یک طرفہ بات سن کر فیصلہ لیا۔۔ بی جان آپ ٹھیک کہتی تھی۔۔۔ ہمیں فرہاد کی بات سن لینی چاہیے تھی۔۔۔
اور میں تمہیں فورس نہیں کروں گا۔۔۔ مجھے افسوس ہے کہ ہم نے تم جیسا داماد کھو دیا ۔۔
باقی رہی صبیحہ کی بات تو اسے میں سمجھا لوں گا۔۔۔
چلیں بی جان نازنین۔۔۔”
“فرہاد بیٹا پلیز۔۔۔”
نازنین بیگم آنسو صاف کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔
“تم سب چلو میں آجاؤں گی۔۔۔”
اور پھر بی جان نے نیہا کی موم اور موم کی موم کے ساتھ ساتھ مبشر صاحب کو بہت اچھے سے سب سمجھانے کی کوشش کی اور فرہاد جو اینڈ تک انکار کررہا تھا اس نے ہر ایک کی درخواست کو رد کردیا تھا اس وقت۔۔۔
“آپ ایک بات بتائیں اگر وہ لڑکی کی سچائی سامنے نہ آتی تو اس وقت ہم میری فیملی آپ لوگوں کے ترلے منتیں کررہی ہوتی۔۔۔
کبھی سوچا ہے آپ نے کہ اس وقت اگر میرا زرا سا ساتھ دہدیتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔۔
بی جان آپ نہیں سوچ رہی میری اذیت کو۔۔۔ میری ہونے والی بیوی نے میری ماں جیسی خالہ کے ساتھ بدتمیزی کی۔۔۔
ارے میں تو تھپڑ کھا کر بھی عزت دے رہا تھا آپ سب کو۔۔۔”
فرہاد نے اس وقت اس کمرے سے باہر جانا ہے بہتر سمجھا تھا۔۔۔وہ اور کوئی بھی بات نہیں سننا چاہتا تھا
خاص کر اپنی نانی کی زہر بھری باتیں اپنی خالہ کو لیکر۔۔۔
۔
“وہ تو جذباتی ہے آپ تینوں تو سمجھدار ہیں اس طرح شادی نہ ہونے سے ہم دونوں خاندان کی عزت مٹی میں مل جائے گی۔۔۔رشتے ہونا نہ ہونا بعد کی بات ہے۔۔۔
صہیب بیٹا۔۔ صبیحہ انوشہ سے معافی مانگے گی جو اس نے بدتمیزی کی مگر ایک بار۔۔۔ بس ایک بار اس سب معاملے کو ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔۔۔”
“بی جان۔۔۔ میں سمجھ گیا ہوں۔۔۔ خود کو آپ لوگوں کی جگہ رکھ کر بھی دیکھ لیا ہے۔۔
اس لڑکی کو دیکھ کر اسکی باتیں سن کر کوئی بھی دھوکا کھا جاتا۔۔۔ اس وقت ہمیں بھی اس لڑکی پر یقین ہونے لگا تھا۔۔۔
میں بات کروں گا فرہاد سے۔۔۔”
بی جان کے ہاتھوں کو ہاتھوں میں لئیے صہیب صاحب نے بہت نرم لہجے میں کہا تھا۔۔۔
۔
“آپ فکر نہ کریں بی جان آپ شادی کی تیاری جاری رکھیں اس دن نکاح ہوگا فرہاد کا۔۔۔”
مبشر صاحب نے آخری فیصلہ سنا کر اپنے داماد اور بیٹی کی طرف دیکھا تھا
“اور تم دونوں۔۔ انوشہ سے کہو گے کہ وہ فرہاد سے بات کرے فرہاد اب سی کی بات سنے گا۔۔”
بی جان کے جانے کے بعد وہ سب بھی اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔۔
مگر گوسپ اپنے عروج پر تھے یہاں بھی اور وہاں بھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“قرطبہ بھابھی آپ روحیل بھائی سے پوچھیں جا کر۔۔”
“نہ بابا نہ میں کبھی نہیں جاؤں گی وہ جس طرح سے کمرے میں چکر لگا رہا
میں گئی تو وہ پہلا حملہ مجھ پر ہی کرے گا۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔ مجھے کیوں لگ رہا ہے یہ شادی نہیں ہو پائے گی۔۔؟؟
بی جان نے جو بتایا ہے اسکے بعد تو فرہاد جیجو کبھی شادی کے لیے ہاں نہیں کریں گے۔۔۔”
وہاں فیملی کی گرلز موجود تھی اور آپس میں ہر کوئی اپنے اپنے دماغ کی سوچ شئیر کررہا تھا۔۔
باقی گھر والوں کے آنے کے بعد جو خبریں ملی وہ سب کو احساس ہورہا تھا کہ کتنا غلط کیا انہوں نے فرہاد کے ساتھ۔۔۔
“مگر اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ سونیا ہم لوگوں نے غلط کیا ہے فرہاد بھائی کے ساتھ۔۔ وہ بےقصور تھے۔۔۔پھر بھی فہاج مامو نے ہاتھ اٹھایا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تو تم نے ہاتھ اٹھایا ہی کیوں تھا۔۔۔؟؟اب ہاتھ زخمی کرکے بیٹھ گئے ہو۔۔۔”
“نوٹ ناؤ راعنبرجاؤ یہاں سے۔۔۔”
“میں بھی یہاں شوق سے نہیں کھڑی ہوئی۔۔۔ روحان پریشان ہورہا ہے۔۔
اس عمر میں اپنا خیال نہیں ہے تو اپنے بچوں کا ہی کر لو۔۔”
فہاج صاحب نے سر پکڑ لیا تھا جب سے وہ واپس آئے تھے یہاں انکے سر میں شدید درد ہونا شروع ہو گیا تھا۔۔۔
“میرے بھی بچے ہیں۔۔۔”
“کیا سچ میں بچے ہیں۔۔؟؟ م صرف نام کے باپ ہو۔۔۔ فہاج کاش فرحان مجھے تم سے پہلے مل گیا ہوتا تو آج۔۔۔”
فہاج صاحب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا مگر انہوں نے درمیان میں ہاتھ روک لیا تھا
عنبر ڈر کے مارے چہرے پر ہاتھ رکھ چکی تھی۔۔۔
“تم اور کتنا نیچے جاؤ گی عنبر۔۔؟؟ میرے سر میں درد ہوریا ہے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے تم سے دخواست کررہا ہوں کہ چلی جاؤ چھوڑ دو۔۔۔۔
میری بیوی بن کر بھی تمہیں پرواہ نہیں تھی۔۔۔ کم سے کم اب تو کرلو کہ باہر لوگ جمع ہیں مہمان آئے ہوئے ہیں۔۔۔
میرا تماشہ مت بناؤ۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
وہ اپنے کپڑے اٹھائے باتھروم میں چلے گئے تھے۔۔۔
“اوکے فائن۔۔۔ گو ٹو ہیل۔۔۔۔ اللہ کرے انکار کردیں وہ لوگ پھر تمہیں اور تمہاری فیملی کو پتہ چلے تماشہ کیا ہوتا ہے۔۔۔”
وہ بھی چلاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
اور اندر شاور کے نیچے کپڑوں کے ساتھ وہ جیسے ہی کھڑے ہوئے تھے وال پر سر رکھے انہیں انوشہ ہی بار بار نظر آرہی تھی۔۔۔
“اس دن اس شاپنگ سینٹر سے وہ سیدھا میرے اپارٹمنٹ میں آئی تھی صرف میرے ہاتھ پر پٹی کرنے کے لیے۔۔۔۔
اور آج فرہاد کے سامنے میرے ہاتھ جڑنے نہیں دئیے اس نے۔۔۔
حالانکہ وہ چاہتی تو طنز کرسکتی تھی تذلیل کرسکتی تھی۔۔۔مگر کیسے کرتی۔۔۔
وہ انوشہ ہے۔۔۔ عنبر نہیں۔۔۔شٹ۔۔۔”
انہوں نے آج پہلی بار کسی عورت کو اپنی سابقہ بیوی سے ملایاتھا۔۔
پہلی بار وہ ان دونوں کی فکر انکی باتوں میں موازنہ کررہے تھے۔۔
“عنبر۔۔۔ جتنی محبت تم سے کی۔۔ تم ایک زرہ برابر بھی مجھ سے محبت نہیں تھی۔۔
مگر وہ فکر کہاں گئی۔۔؟؟
جو طلاق کے بعد بھی میں تمہاری نظروں میں دیکھنا چاہتا تھا مگر میں نے وہ فکر وہ پراہ اس انجان کی نظروں میں دیکھی جو میری کچھ نہیں لگتی تھی۔۔۔”
۔
“کیوں یہ انجانہ احساس کہ تمہیں میری فکر ہے اس احساس نے تمہیں میرے اور قریب کردیا ہے۔۔۔کیوں میں تنہا ہوکر بھی تمہاری سوچوں کے ہجوم میں گھرا ہوا ہوں انوشہ۔۔؟؟”
۔
“خود سے لڑتا ہوں۔۔بگڑتا ہوں۔۔۔ منا لیتا ہوں۔۔۔
میں نے تنہائی کو ۔۔۔اک کھیل بنا رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ میری بہن۔۔۔ تم جانتی ہو خاندان کو رشتے داروں کو۔۔۔
شریکا یہاں ہی نہیں وہاں بھی ہے انوشہ۔۔۔ اس بچی کے بارے میں سوچ لو۔۔”
انوشہ نے اپنی گلاسز اتار کر بہن کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر کھینچ لیا تھا
“وہ بچی کا واسطہ تو مت دو وہ انتہائی بدتمیز ہے۔۔۔ شادی کے بعد تارے دیکھا دے گی یاد رکھنا۔۔۔”
“اس نے جو تمہیں کہا اس کے لیے میں تم سے معافی مانگتی ہوں میری بہن۔۔۔”
“آج کیا ہوگیا ہے سب ہی ہاتھ جوڑ رہے ہیں۔۔۔”
“اور کس نے جوڑے ہاتھ۔۔؟؟”
نیہا نے حیران ہوکر پوچھا۔۔۔
“کسی نے نہیں۔۔۔ مگر بس کر جاؤ۔۔۔ فرہاد کو سانس لینے دیں آپ لوگ۔۔۔
میں اسے زبردستی زبردستی نہیں کرسکتی۔۔”
اب انوشہ بھی غصہ ہورہی تھی۔۔۔ تیسری بار دروازہ ناک ہوا تھا اور تیسری بار کوئی نہ کوئی آجاتا تھا اس سے ریکویسٹ کرنے۔۔
“انوشہ۔۔۔۔”
“اففف اللہ۔۔۔۔ آپ سب لوگ یہیں آجائیں۔۔۔”
مگر دروازے پر بہنوئی کو دیکھ کر اس نے اپنی ٹون نرم کرلی تھی۔۔
“افف صہیب میں آئی تو تھی بات کرنے۔۔۔”
“تو کیا میں بات نہیں کرسکتا۔۔؟؟ تمہاری ہی بہن نہیں ہے وہ۔۔”
وہ دونوں میاں بیوی کی لڑائی دیکھ کر انوشہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“گائیز۔۔۔۔ اوکے۔۔۔ میں ہی جا رہی ہوں۔۔”
“نووو نووو۔۔۔ پلیز ویٹ انوشہ۔۔۔یہاں بیٹھو۔۔۔ میں جا رہا ہوں۔۔ ایم سوری نیہا۔۔۔
تم دونوں بات کرو۔۔۔ میں بس یہ پوچھنے آیا تھا کہ سب کو منع کردوں۔۔؟؟ باہر مہمانوں کو بھی کہہ دیتا ہوں۔۔کیونکہ فرہاد کہہ رہا ہے کہ وہ کل کی فلائٹ سے پیرس جارہا۔۔۔”
“اووہ۔۔۔۔”
انوشہ نے آہستہ سے کہا تھا۔۔۔ وہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے دونوں کے چہرے پر مایوسی بلا کی تھی ۔۔۔مگر وہ چپ ہوگئے تھے۔۔
“میں بھی چلتی ہوں ٹائم بہت ہوگیا ہے گڈ نائٹ انوشہ۔۔۔”
اور نیہا بھی چلی گئی تھی صہیب کے ساتھ روم کا دروازہ بند کرکے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“احلام۔۔۔روم میں اتنا اندھیرا کیوں کردیا ہے۔۔؟؟ ہادی کو بھی ڈانٹا آپ نے۔۔۔”
۔
“تمہیں کیا یاد ہے وہ چھت ۔۔۔
جہاں تم نے لکھے وہ خط۔۔۔۔
کبھی اشکوں سے لکھتی تھی۔۔۔
کبھی ہونٹوں سے لکھتی تھی۔۔۔۔”
۔
احلام نے ان کاغذ کے ٹکڑوں کو اپنے ہاتھوں کی مٹھی میں بند کرلیا تھا۔۔۔۔
۔
“وہ خط کیسے جلا دوں میں۔۔۔
تمہیں کیسے بھلا دوں میں۔۔۔
بڑھے گا درد یہ جتنا ۔۔۔
کروں گا یاد تمہیں اتنا۔۔۔۔”
۔
“میں سوچ رہا تھا میری غلطیوں کو۔۔۔ اور تم اپنا آپ سامنے لے آئی ہو میرے۔۔؟؟”
احلام نے ڈرنک کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا اور رامین کی طرف بڑھیں تھے۔۔۔
“احلام۔۔۔؟؟”
احلام نے بالوں سے پکڑ کر رامین کو اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“یہی چاہتی ہو نہ تم رامین۔۔؟؟ تمہیں یہی چاہیے تھا انوشہ کی ہار اور تمہاری جیت۔۔۔
ہمارے رشتے میں سوائے فزیکل ریلیشن کے اور کیا ہے۔۔؟؟”
“ہمارا بیٹا ہے احلام۔۔۔ ہادی۔۔۔ جس نے ہمیں ابھی تک ساتھ جوڑے رکھا۔۔”
رامین نے احلام کے چہرے کو بہت پیار سے اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ سیریسلی۔۔۔؟؟”
احلام نے رامین کو اور پاس کیا تھا۔۔۔
“یس سیریسلی۔۔۔ آئی رئیلی لو یو۔۔۔”
احلام کی گردن میں بانہیں ڈالے انہوں نے چہرے کے درمیاں اس فاصلے کو بھی کم کرنا چاہا تھا
“رومینس کرنے سے پہلے دروازہ بند کرلیا کریں۔۔۔ یہاں کتنے مہمان گھوم رہے ہیں بچے ہیں گھر میں۔۔۔
تھوڑی شرم کرلیجئے۔۔۔”
انوشہ اس دروازے کو مکمل بند کرکے چلی گئی تھی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔”
وہ پیچھے جانے کو تھے جب رامین نے انہیں روک لیا تھا۔۔۔
“احلام پلیز۔۔۔ مت جاؤ اس راستے میں وہاں کچھ نہیں ہے۔۔۔ جو ہے تمہارا وہ یہاں ہے میرے پاس۔۔۔”
۔
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔”
“کم آن احلام۔۔۔۔ بس کر جاؤ۔۔۔”
۔
انکی لڑائی اس کمرے میں انہیں شیٹس کے درمیان ختم ہوگئی تھی ہمیشہ کی طرح۔۔۔
وہ شخص اپنے پیار کے آگے اپنی ہوس کو ایسے ہی ترجیح دیتے آیا تھا۔۔۔
جسم کی اسی لذت نے اسے مجبور کردیا تھا اپنی بیوی کو دھوکا دینے میں بہت سال پہلے۔۔۔
۔
جب پیاس جسموں کی تھی تو کیوں محبتوں کے پیچھے بھاگ رہا تھا احلام۔۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شش۔۔۔ میں ہوں۔۔۔”
“وٹ دا۔۔۔”
ابیہا چلائی تھی اور تب جا کر اسکے منہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا تھا روحان نے۔۔۔
“وٹ دا کیا۔۔؟؟ فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھی میں۔۔۔؟؟”
“شش۔۔۔ مجھے دروازہ لاک کرنے دو۔۔۔”
ابیہا خود کو روحان کی گرفت سے چھڑا کر جلدی سے روم ڈور لاک چکی تھی۔۔۔
اور تب تک روحان بہت ریلیکس ہوکر بیڈ پر بیٹھ گیا تھا
“روحان۔۔؟؟ یہ کیا طریقہ ہے۔۔؟؟ کوئی دیکھ لے گا۔۔۔ تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا تمہاری فیملی نے کیا وہ۔۔۔”
روحان ابیہا کو بیڈ پر اپنی اوڑھ کھینچ چکا تھا
“شش۔۔۔۔ بہت بولتی ہو تم یاررر۔۔۔”
وہ روحان پر جس طرح سے گری تھی دونوں ہاتھ روحان کے سینے پر تیز دھڑکنوں کو قابو کرتے ہوئے اس نے روحان کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔
“روحان۔۔۔”
” اب کیوں بولتی بند ہوگئی ہے۔۔؟؟ تم جانتی نہیں ہو تمہیں اپنی بانہوں میں بھرنے کے لیے کتنا ترس گیا تھا۔۔۔
اورپر سے تم نے میرا نمبر بلاک کردیا تھا کیوں۔۔۔”
ابیہا کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے روحان نے اسے زرا سا ہلنے کا موقع بھی نہیں دیا تھا
“روحان پلیز۔۔۔”
“پلیز وٹ۔۔۔؟؟ کیا ہمارے درمیان ہر رشتہ ختم کرنے کا سوچ رہی ہو۔۔؟؟ ایسا میں ہونے نہیں دوں گا مس ابیہا۔۔۔ بہت مشکل سے تمہیں پایا ہے میں نے تین سال پیچھے گھومتا رہا ہوں تمہارے تب کہیں جاکر تم نے میرا پرپوزل ایکسیپٹ کیا۔۔۔”
وہ ابیہا کے گال پر ہاتھ رکھے اپنی طرف چہرہ کرچکا تھا جوسر شرم سے جھکائے ہوئے تھی۔۔۔
“روحان۔۔۔”
“نہیں ابیہا۔۔۔ فیملی کے لڑائی جھگڑوں کومیں ہمارے درمیان نہیں آنے دوں گا یاد رکھنا۔۔۔”
وہ چہرہ اور پاس کرچکا تھا جب ابیہا نے ہاتھ رکھ دیا تھا روحان کے ہونٹوں پر۔۔۔
“پلیز ابیہا۔۔۔”
“ایم سوری شادی سے پہلے کچھ نہیں ملنے والا مسٹر رومینٹک۔۔۔”
ابیہا جلدی سے اٹھا گئی تھی۔۔۔ چہرے پر ایک لائٹ سی مسکان تھی اسکے۔۔
“تو کب کررہے ہیں شادی۔۔؟؟ ابھی نکاح کرلیتے ہیں۔۔”
“افف۔۔۔ فرہاد بھائی کی شادی کے بعد ہم پاکستان جارہے ہیں واپس۔۔۔ وہاں تمہارے ڈیڈ بات کریں گے۔۔۔ یہی پلان تھا روحان۔۔۔ ہوسکے تو بی جان کو راضی کرنا۔۔۔ کیونکہ میری موم لوووو میرج کے سخت خلاف ہیں۔۔۔”
“بٹ ابیہا جو حالات ہوئے ہیں اسکے بعد تمہاری موم کیا مان جائیں گی۔۔؟؟”
“وہ میں نہیں جانتی۔۔مگر ایک بات سن لو غلطی تمہارے خاندان والوں کی ہے روحان۔۔۔
میری موم سے بدتمیزی کرکے صبیحہ باجی نے اپنی تہذیب ظاہر کردی ہے۔۔۔
اگر میری موم ہماری شادی کے لیے راضی نہ ہوئی تو یاد رکھنا میں بھی تم سے قطع تعلق ہوجاؤں گی۔۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔۔ ابیہا۔۔ ہمارے محبت ہماری دوستی سب کچھ کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔؟؟”
روحان نے کندھوں سے پکڑ کو اسے جیسے ہی قریب تر کیا تھا ابیہا خاموش ہوگئی تھی۔۔
“پلیز ابیہا۔۔۔میں مرجاؤں گا۔۔۔”
“میں سب کچھ کرسکتی ہوں مگر اپنی موم کے خلاف نہیں جاسکتی روحان انہوں نے میرے ڈیڈ کی وجہ سے بہت سففر کیا ہے۔۔۔ اب انکی بیٹی بھی انہیں اذیت پہنچائے۔۔؟؟”
اپنے کندھوں سے ہاتھ پیچھے کردئیے تھے ابیہا نے۔۔
“ابیہا پلیز میں کچھ کرتا ہوں نہ۔۔۔”
“وہ میں نہیں جانتی روحان۔۔۔تم ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔پلیززز۔۔۔”
وہ باتھروم میں چلے گئی تھی اپنا نائٹ ڈریس لیکر۔۔۔”
“آئی رئیلی لوو یو ابیہا۔۔۔ میں سب کو منا لوں گا یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔ تمہاری موم کو بھی۔۔۔”
۔
روحان یہ کہہ کر واپس کھڑیکی طرف چلا گیا تھا جہاں سے وہ اندر آیا تھا۔۔۔
۔
“ایم سوری روحان۔۔۔میں جانتی ہوں تمہارا کوئی قصور نہیں ان سب میں۔۔۔
میں بھی مجبور ہوں۔۔۔ میرے سوا میری موم کا کوئی نہیں یہ ایک رشتہ بھی انہیں دھوکا دے گیا تو شاید وہ جی نہ پائیں۔۔۔”
گھٹنوں کے بل وہ باتھروم کے فلور پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
اسے کچھ بھی ٹھیک ہوتا نظر نہیں آرہا تھا اب۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دو دن بعد۔۔۔۔۔”
۔
“آج نکاح کا دن تھا۔۔ وہ دن جس کے لیے سب خوش بھی تھی سب تیاریاں بھی عروج پر تھی۔۔
مگر جو خلش اس فنکشن میں درمیان آگئی تھی اسکے بعد کچھ کہیں مدھم مدھم سا تھا۔۔۔
۔
انوشہ کے منانے کے بعد فرہاد شادی کے لیے مان گیاتھا جشن کے طور پر گیٹ ٹو گیدر رکھا تھا بی جان نے۔۔۔
جس میں سب نے ہی فرہاد اور اسکی فیملی سے ایکسکئیوز کیا تھا معذرت کی۔۔۔
اور سب ٹھیک چل رہا تھا۔۔۔
مگر اس رات کے بعد کسی فنکشن میں انوشہ نے شمولیت نہیں کی تھی۔۔۔
۔
فہاج صاحب وہی سوٹ پہن کر آئے تھے جو انوشہ نے انکے لیےسلیکٹ کیا تھا۔۔۔
مگر آج انکی نظریں نہ دلہن پر تھی نہ ہی دولہے پر۔۔۔آج انکی نظریں اس لیڈی کو ڈھونڈ رہی تھی جو انہیں اس دن کے بعد سے نظر نہ آئی تھی
“کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔۔”
فہاج صاحب کی نظریں واپس دروازے سے فرہاد پر آٹکی تھی مگر فرہاد۔۔۔ وہیں دیکھ رہا تھا انتظار کررہا تھا اپنی خالہ کا۔۔۔
جنہوں نے بچپن سے اسے بھانجے کی طرح نہیں بیٹے کو طرح اپنے سینے سے لگائے رکھا۔۔۔
وہ خالہ جن کو ٹوٹتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔۔۔ وہ خالہ جن کو پتھر بنتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔
وہ خالہ۔۔۔جو اسے اسکی ماں سے بھی زیادہ عزیز تھی ۔۔۔۔
“کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔”
“فرہاد بیٹا۔۔۔”
پردے کے اس پار صبیحہ کے آنسو بہنا شروع ہوگئے تھے اسے اس بات کا ڈر تھا
“خالہ ۔۔۔؟؟”
فرہاد کی ہلکی سے سرگوشی بھی سب کو سنائی دے گئی تھی۔۔۔
“مجھے تو لگا تھا کہ مٹھائی تقسیم ہورہی ہوگی اور یہاں نکاح ہی نہیں ہوا۔۔۔؟؟”
انوشہ کے ہاتھوں میں بہت سے گفٹ پکڑے ہوئے تھے۔۔۔
وہاں موجود ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔
“قبول ہے۔۔۔”
فرہاد نے خالہ کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔۔ وہ اب سکون میں تھا۔۔۔”
۔
“بہت بہت مبارک ہو۔۔۔”
فرہاد سب سے پہلے اٹھ کر اپنے خالہ کے گلے لگا تھا
“میری خوشیاں آپ کے بغیر ادھوری تھی خالہ۔۔۔”
“اور ہماری خوشیاں تمہاری ہاں کے بغیر۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو۔۔۔”
فہاج اتنے پا س کھڑے ہوگئے تھے انوشہ کے۔۔۔
“مبارک ہو دولہے کی خالہ۔۔۔”
انہوں نے بہت آرام سے کہا تھا۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ دلہن کے مامو۔۔۔ ایکسکئیوز مئ۔۔۔”
انوشہ دوسری طرف چلی گئی تھی صبیحہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر انوشہ نے اپنی بہن کو بھی شاکڈ کردیا تھا۔۔۔
“فرہاد ایک بہت اچھا انسان ہے۔۔۔ صبیحہ۔۔۔ اپنے اس رشتے کو اعتماد کے ساتھ آگے لیکر چلنا تمہیں کبھی مایوسی نہیں ہوگی۔۔۔”
اپنی بہن کے گلے لگ کر وہ کب وہاں سے اوجھل ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چلا تھا۔۔۔
اسکی گاڑی کو ایک اور گاڑی بھی فالو کررہی تھی جب وہ اس سنسان بریج پر گاڑی روک کر اتری تھی۔۔۔
“میں دوبارا اس کنٹری میں نہیں آؤں گی۔۔۔فرہاد کو تو میں نے اس رشتے کے لیے منا لیا کیا وہ سچ میں اس قابل تھے کہ وہاں رشتہ کیا جاتا۔۔؟؟”
اس نے گاڑی سے سگار نکال کر جیسے ہی جلایا تھا وہ اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔ اور پیچھا کرتی فہاج صاحب کی گاڑی بھی رک گئی تھی لائٹس آف کردی تھی انہوں نے۔۔۔
“مجھے سمجھ نہیں آتی جوایک بار شک کرسکتا ہے وہ بعد میں نہیں کرے گا اسکی کیا گارنٹی ہے۔۔؟؟
کیا گارنٹی ہے کہ رشتوں کی اس کچی ڈور میں وہ پھر آپ کو شک کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کرے گا۔۔۔؟؟”
آج جو میں نے فرہاد کے ساتھ کیا اسے اس رشتے کے لیے قائل کیا ۔۔۔
کیا میں اپنی سگی اولاد کے ستاھ بھی ایسا ہی کرتی۔۔؟؟ کیا میں ایسے لوگوں سے رشتہ مکمل طور پر نہ توڑتی انہیں سبق سیکھانے کے لیے۔۔کہ جنہوں نے بھری محفل میں میری اولاد کی تذلیل کی۔۔۔”
سگار جیسے ہی ختم ہوا تھا خود سے انکی باتیں بھی ختم ہوگئی تھی ایک ٹھنڈی آہ بھر کر انہوں نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
“ائیر پورٹ۔۔؟؟”
فہاج انکی گاڑی کے پیچھے پیچے تھے جب انوشہ نے ائیر پورٹ کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کردی تھی اور باہر نکل کر اپنا بیگ بھی ڈکی سے نکال لیا تھا۔۔۔
“گڈ بائے اٹلی۔۔۔”
وہ اندر جیسے جیسے داخل ہوئی تھی فہاج صاحب اپنی گاڑی روڈ پر چھوڑ کر انکے پیچھے اندر گئے تھے۔۔۔۔
“انوشہ۔۔۔”
“آپ پھر سے۔۔؟؟ فرہاد کا نکاح ہوگیا ہے۔۔۔ اب آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے۔۔؟؟”
“انوشہ۔۔۔”
فہاج انکے سامنے کھڑے تھے
“میں صبیحہ کی طرف سے معذرت کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ ہماری وجہ اس طرح نہ جاؤ۔۔۔ “
“ایک منٹ پروفیسر فہاج۔۔۔ میں یہاں بس شادی تک رکی ہوئی تھی۔۔ میری زندگی یہاں نہیں ہے پاکستان میں ہے۔۔۔ مجھے اب واپس جانا ہے وعدے کے مطابق میں فہاج تک ہی چھٹی لیکر آئی تھی ہاسپٹل سے۔۔۔
اور یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی پروفیسر۔۔۔”
۔
انہوں نے کچھ قدم آگے بڑھائے ہی تھی جب انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا جس سے بیگ پکڑا ہوا تھا انوشہ نے۔۔۔
انکی انگلیاں سما گئی تھی انوشہ کی انگلیوں میں جب فہاج نے پیچھے سے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی۔۔۔ ایز پروفیسر فہاج اینڈ ڈاکٹر انوشہ۔۔۔ مگر
فہاج اور انوشہ کی ملاقات ایگزیکٹلی یہیں سے سٹارٹ ہوں گی۔۔۔”
انکے ہونٹ جیسے ہی کان کو ٹچ ہوئے تھے انوشہ کا پورا وجود کانپ اٹھا تھا۔۔۔
جس نے فہاج کی ایگو اور ہائی کردی تھی اس وقت۔۔۔
“فہاج۔۔۔؟؟”
اس بولڈ موو پر وہ خود کچھ سیکنڈ شاکڈ ر گئی تھی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔۔یہ شروعات ہے ہماری۔۔۔ اور مجھے اچھا لگا میرے ڈریس کے ساتھ میچنگ ڈریس پہنا تم نے۔۔۔ اگر ابھی تک وہاں فنکنش میں ہوتے تو گیسٹ نے ہمیں کپل سمجھ لینا تھا۔۔۔۔وہ بھی ہوٹ کپل۔۔۔”
۔
“اپنی آنکھوں کے دامن میں چھپا لو مجھ کو۔۔۔
تیری روح میں اترجانے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔”
۔
وہ کچھ قدم پیچھے ہوگئے تھے ۔۔۔ سامنے کھڑی وہ ڈاکٹر زندگی میں پہلی بار اتنی لاجواب ہوگئی تھی کہ کھلے منہ سے وہ فہاج کو واپس جاتے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر تیز سانسین لیتی رہی تھی جب انکا نام بار بار اناؤنس ہوا تو وہ اپنی منزل کی طرف گامزن تھی۔۔۔
۔
مگر ایک مکمل سفر میں بےچین دل اور بےسکون وجود کے ساتھ۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فرہاد۔۔۔ اتنی دیر لگا دی کب سے ویٹ کررہی تھی۔۔۔”
“تو میں نے کہا تھا انتظار کرو۔۔؟؟ انوشہ خالہ کو ڈھونڈنے گیا تھا۔۔۔
اب پتہ چلا کہ وہ پاکستان واپس چلی گئی۔۔۔”
“تو کیا جانا نہیں تھا انہوں نے۔۔؟؟ تم ہماری سپیشل نائٹ خراب کیوں کررہے ہو فرہاد۔۔؟؟”
“رئیلی۔۔؟؟ کونسی سپیشل نائٹ۔۔؟؟ میں نے جن کے لیے ہاں کی وہ ہی میری خوشیوں میں شامل نہیں ہوئی اور تمہیں اپنی نائٹ کی پڑی ہوئی۔۔۔؟؟”
“فرہاد۔۔۔؟؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے پہلے تم ایسے نہیں تھے۔۔۔”
صبیحہ بیڈ سے نیچے اتری تھی اپنا لہنگا پکڑے
“میں اب ایسا ہوں۔۔۔ اور تم نے مجھے ایسا بننے پر مجبور کردیا ہے۔۔ شادی کرنی تھی نہ لو ہوگئی شادی۔۔۔ اب کرو اینجوائے۔۔۔
مگر مجھ سے وہ پلے والی رفاقتیں وہ محبتیں اور وہ عزتیں مت مانگنا صبیحہ۔۔۔
اس دن اس شک نے مجھے ہی نہیں ہمارے رشتے کو بھی برباد کردیا تھا۔۔۔”
۔
“فرہاد پلیز۔۔۔۔”
سرجھکائے صبیحہ وہاں بیٹھ گئی تھی فرہاد کا ہاتھ پکڑے۔۔۔
“پلیز فرہاد ایک سوری۔۔۔۔پلیز۔۔۔”
۔
“نہیں میری غلطی ہے صبیحہ۔۔۔ مجھے سمجھ جانا چاہیے تھا کہ تمہیں محبت تھی مگر یقین کے بغیر۔۔۔”
فرہاد وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
“بعض اوقات تو ہم حد کردیتے ہیں۔۔۔
خود کو دیکھتے ہیں اور رد کردیتے ہیں۔۔۔”
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
