Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
“محبت کرتے ہوئے جو لوگ اچھا بُرا نہیں سوچتے وہ شادی کرتے ہوئے کیوں سوچتے ہیں دنیا کا معاشرے کا۔۔؟ صرف اس لیے کہ عمر بیس پچس سال سے اوپر چلی جاتی ہے یا اس سے بھی اوپر چلی جاتی ہے۔۔؟
آپ بنا شادی کے ہر حرام کام کرنے کو اچھا سمجھ لیتے ہیں مگر شادی کرکے کسی کو اس عمر میں نام دینا گناہ ہے آپ کے لیے۔۔؟
ایسا کیوں ہے۔؟ کیا اس عمر میں شادی کرنا گناہ ہے جُرم ہے۔؟
انوشہ ایک بار ہم نے ہمارے لیے سوچنا ہے۔۔۔ بس ایک بار۔۔۔”
چلتے چلتے انہوں نے رُک کر اپنے ہاتھ کو انوشہ کے سامنے رکھ دیا تھا جو ان باتوں کے سحر میں جکڑی جا چکی تھی۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
“یہاں آئی مس انوشہ بن کر ہو۔۔میں چاہتا ہوں واپس پاکستان میرے نام کے ساتھ جاؤ۔۔۔
تمہاری واپسی ہے نہ پرسو۔۔؟؟ “
انوشہ کی آنکھیں بڑی ہوگئی تھی وہ سمجھ گئی تھیں سب کچھ ایک دم سے۔۔۔
“اتنی جلدی۔۔؟؟”
“پتہ نہیں میں اپنے گھر میں اکیلا واپس جانے سے بھی ڈرنے لگا ہوں جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو۔۔۔مجھے اپنا جواب ضرور دہ دینا۔۔۔شاید یہ ہماری آخری ملاقات ہو۔۔”
۔
گاڑی کا دروازہ کھول دیا تھا انہوں نے۔۔اور وہ خاموشی سے بیٹھ گئی تھی
نیہا کے گھر تک سفر خاموشی سے گزرا تھا۔۔۔مگر جب گاڑی گیٹ کے آگے رکی تھی تو فہاج صاحب نے انوشہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بہت بولڈ سٹیپ لے لیا تھا اس وقت۔۔۔
“انوشہ۔۔۔میں نہیں جانتا کہ میں پھر سے محبت کر پاؤں گا بھی یا نہیں پہلی شادی اور محبت نے مجھے اندر تک توڑ دیا ہے کہ پھر میں نے نہ دوسری محبت کا سوچا نہ گھر بسانے کا۔۔۔”
آواز بہت آہستہ ہوگئی تھی گاڑی میں اس قدر خاموشی تھی انوشہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچنے کی کوشش نہیں کی تھی فہاج کے لفظوں میں چھپے درد کو وہ برداشت کر چکی تھی
نظریں جھکا لی تھی اس نے جب فہاج نے آگے جھک کر اپنا سر انوشہ کے ماتھے پر رکھا تھا
“میں پہلی بار دنیا کو فیملی کو معاشرے کو چھوڑ کر اپنی خوشیوں کے بارے میں سوچ رہا ہوں
میں چاہتا ہوں تم بھی سوچو۔۔۔ میرے ساتھ نہ سہی کسی اور کے ساتھ انوشہ۔۔
ہمیں تو بہت پہلے اپنی خوشیوں کے بارے میں سوچ لینا چاہیے تھا۔۔ بہت دیر کردی ہم نے۔۔۔”
کچھ دیر وہ ایسے ہی رہے تھے۔۔اور جب انوشہ نے آہستہ سے اپنے ہاتھ چھڑائے تھے فہاج نے دوسری طرف چہرہ کرلیا تھا وہ جانتے تھے یہ آخری بار تھا اسکے بعد وہ لوگ کبھی مل نہیں پائیں گے۔۔۔
اور انوشہ اندر چلی گئیں تھیں۔۔بنا پیچھے دیکھے۔۔
اور جب انہوں نے پیچھے دیکھا تو وہ گاڑی وہاں سے جا چکی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“السلام وعلیکم فہاج بھائی۔۔۔ آج تو کچھ بانٹنا چاہیے آپ آئیں ہیں۔۔”
نازنین بڑے بھائی کو اٹھ کر ملی تھی شام کے پہر گھر میں سب ہی اکٹھے تھے سب مرد بھی آفس سے واپس آچکے تھے۔۔۔
“میں بی جان سے کچھ ضروری بات کرنے آیا تھا بس ابھی آیا۔۔۔”
سب کو مل کر وہ بی جان کے کمرے کی طرف چلے گئے تھے
“انہیں کیا ہو۔۔؟ روحان بیٹا تمہیں کچھ پتہ ہے۔۔؟؟”
“نہیں پھوپھو ڈیڈ اپنی الگ زندگی میں مگن ہیں انہیں کیا کوئی ہرٹ ہوتا ہے تو ہو۔۔”
روحان وہاں سے چلا گیا تھا
“فہاج نے اپنی پوری زندگی ان بچوں کو دہ دی دوسری شادی تک نہیں کی اور یہ قدر ہے۔؟
کس طرح کی تربیت کررہی ہے عنبر انکی۔۔؟؟”
ندیم صاحب نے غصے سے نازنین کو دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔
“فہاج بھائی بھی برابر کے قصوروار ہیں انہوں نے بھی کوئی کم لاڈ پیار نہیں کیااگر اس وقت شادی کرلیتے تو وہ بھی خوش ہوتے جیسے عنبر ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اور تم واپس آگئی۔۔؟ انوشہ اللہ پر چھوڑ دو اپنے سارے فیصلے۔۔۔ تمہارا دل مان رہا ہے تو اپنا کیوں نہیں لیتی۔۔؟”
“تم سمجھ نہیں رہی ہو۔۔؟ اگر بات صرف تنہائیوں کو ختم کرنے کی ہے تو ایسی تنہائیوں میں روشنیاں بھرنے کے بعد جی بھر بھی جاتے ہیں۔۔
کل کو فہاج نے آگے چل کر چھوڑ دیا۔۔یا کچھ۔۔۔”
ایک منٹ۔۔؟؟ تم کہنا چاہ رہی ہو کہ فہاج کا نکاح کرنے سے مطلب انٹیمیسی ہے۔؟ جسمانی تعلقات کے لیے وہ چاہتے ہیں کہ”
“اففف تاہین تم اس کو اور آئیڈیاز دے رہی ہو۔۔۔وہ جھلی ہے بھی ایسی ۔۔۔”
“ایک منٹ پلوشہ یہ بات تو میں نے سوچی ہی نہیں۔۔؟؟ اگر بات صرف جسمانی تعلقات تک رہی تو۔۔؟؟ آئی مین کہ۔۔۔”
انوشہ نے فون کو کان سے ہٹا کر دوسرے پر لگا لیا تھا جب دونوں دوستوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی
“پلوشہ تم کیسے انوشہ کو اتنا بڑا فیصلہ کرنے کا کہہ سکتی ہو۔۔؟ اتنے سالوں کے بعد بھی بہت کم لوگ سنسیئر ہوتے ہیں۔۔۔ اس عمر میں لوگ صرف اپنی تسکین کی تکمیل کے لیے بھی شادی۔۔”
“تو اس کا مطلب فہاج ان لوگوں میں سے ہے جو جسموں کی پیاس بھجانے کے لیے۔۔”
“فہاج ان لوگوں میں سے نہیں۔۔۔”
انوشہ کی بات نے دووں کو خاموش کروا دیا تھا
“اگر تم اتنا جانتی ہو تو میرا نہیں خیال کے تمہیں اب ہم سے پوچھنا چاہیے انوشہ۔۔
ضروری نہیں ہر فیصلہ تم دماغ سے کرو۔۔۔اور خبردار جو تم نے سوسائٹی کے بارے میں سوچا۔۔۔
ہر کوئی اپنی زندگی میں مو آن کرگیا ہےا اب باری تمہاری ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فہاج پتر۔۔۔”
“بی جان۔۔۔”
فہاج انکے گھٹنوں پر سر رکھ کر جیسے ہی بیڈ کے پاس بیٹھے تھے بی جان سمجھ گئیں تھیں کہ پریشانی بڑی ہے ورنہ اتنا اداس انہیں آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا سوائے انکی طلاق کے دن۔۔۔
“بی جان۔۔۔”
“کیا ہوا ہے بیٹا۔۔؟؟”
“عنبر نے جب شادی کرلی تھی تو میں کیوں نہ کرپایا۔۔؟ اس وقت کیا آپ نےزور ڈالا تھا مجھ پر۔۔؟؟”
“فہاج بیٹا۔۔۔ اس وقت تم پر ایک ہی بھوت سوار تھا ایک جنون تھا تم اپنے بچوں کی خوشیاں آگے رکھ چکے تھے۔۔۔ہم کیا کرتے۔۔؟؟ بہت زور ڈالا تھا۔۔
مگر۔۔۔”
“مگر کیا بی جان۔۔؟؟”
“تم عنبر سے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔۔۔تم سے خود کو بھول ہی گئے تھے بیٹا۔۔۔
تم نے ایک بار نہیں بار بار کہا تھا کہ تم عنبر کے بعد کسی سے شادی نہیں کرو گے۔۔”
“اور اگر میں ۔۔۔اگر میں کہوں کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔؟ بی جان اگر اب میں کہوں کہ میں اپنی وہی پرانی زندگی سے اکتا گیا ہوں اب آگے بڑھنا چاہتا ہوں کسی کا ہاتھ تھامنا چاہتا ہوں کیا آپ۔۔آپ میرا ساتھ دیں گی۔۔؟؟”
“فہاج بیٹا۔۔”
فہاج نے انکے ہاتھوں کو ماتھے کے ساتھ لگا کر بوسہ لیا تھا
“میں سمجھ گیا ہوں۔۔ آپ نہیں چاہتی کہ میں اب شادی کروں۔۔ وہ بھی نہیں چاہتی کہ ہم شادی کریں۔۔
کیا عمرخوش رہنے کا حق بھی چھین لیتی ہے بی جان۔۔؟؟ “
وہ بس اتنا ہی سوال پوچھ کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔بی جان نے اسکے بعد کوئی بات نہیں کہی تھی ان سے۔۔۔
۔
وہ مایوس لوٹے تھے اپنے سنسان اپارٹمنٹ میں۔۔۔
اور جب انہوں نے دیوار پر لگی وہ فیملی فوٹوز دیکھی تھی انکی پلکیں بھاری ہو گئی تھی پانی آنکھوں کی قید سے باہر آنا شروع ہوگیا تھا۔۔
وہ بہت مایوس ہوگئے تھے دنیا سے لوگوں سے اپنوں سے اور ۔۔۔انوشہ کے انکار سے۔۔
انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ انہوں نے ایسا کیا مانگ لیا تھا جو انہیں مل نہیں رہا تھا۔۔۔
کیا یہی مایوسی کا ڈر تھا جو پچھلے سال انہوں نے آگے بڑھنے کا سوچا نہ تھا۔۔؟
“پر ان سالوں میں اس سرپھری ڈاکٹر سے سامنا بھی تو نہیں ہوا تھا نہ۔۔”
اپنی ہی باتوں کا جواب دیتے ہوئے وہ روم میں چلے گئے تھے۔۔۔
“آج روم میں تنہائیاں تھی پر مایوسیاں بھی بلا کی تھی۔۔۔اپنی کہی باتیں انہیں سنائی دے رہی تھی اور پھر انوشہ کا انکار کردینا۔۔۔”
۔
“یہ زندگی نہیں ہے کہ جس میں اپنی خوشیوں سے پہلے آپ لوگوں کی سوچ کو اہمیت دیتے ہو
زندگی وہ بھی نہیں ہے کہ جس میں آپ ایک ہار کے بعد جینا چھوڑ دیتے ہو۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پروفیسر صاحب۔۔۔ جو ڈریس آپ نے بھجوایا تھا آپ کو نہیں لگتا کچھ زیادہ ہی ویسا ہے۔۔۔؟”
“کیسا ہے۔۔؟؟”
رات کے اس پہر فون اٹھاتے ہی فہاج کو ایک سرگوشی سنائی دی تھی
“آپ جانتے ہیں۔۔ اس طرح کا شوخ کلر اور اتنا ہیوی ڈریس۔۔۔ فہاج۔۔۔”
“ہمارا نکاح ہے ڈاکٹر انوشہ۔۔ اب اگر آپ کہیں کہ آپ کو اس ڈاکٹر یونیفارم میں آنا ہے تو نو پرابلم۔۔۔ پر میرے لیے یہ بہت سپیشل دن ہے اور میں اپنی بیوی۔۔۔ہونے والی بیوی کو اسی ڈریس میں دیکھنا چاہتا ہوں انوشہ۔۔۔”
دوسری طرف خاموشی تھی اور جب انوشہ نے ہم میں جواب دیا تو فہاج نے گہرا سانس لیا تھا
“سووووو کل انتظار کروں۔۔؟؟ میرے انتظار کو طویل مت کرنا انوشہ اس فون کال کے بعد۔۔۔”
“فہاج۔۔۔”
“تم آؤ گی۔۔ مجھے یقین ہے۔۔ اب میں شکرانے کے دو نوافل ادا کر لوں۔۔۔ پھر بہت سی تیاریاں کرنی ہیں۔۔۔”
۔
اور انہوں نے فون بند کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اگلی صبح۔۔۔”
۔
۔
“کیا دیکھانا تھا ہمیں۔۔؟؟”
روحان اور ابیہا نے ایک ساتھ پوچھا تھا۔۔۔
وہ دونوں جیسے ہی کیفے میں داخل ہوئے تھے تو ان چار دوستوں کی ٹیبل پر جا کر ایک ہی بات کہی تھی روحان نے
“تم دونوں اس سے بھی بڑے بیوقوف ہو۔۔ اس نے کال کی اور تم دونوں آگئے۔۔؟؟”
“سحرش بات کال کی نہیں اس نے موم کے بارے میں بات کرنی تھی۔۔۔ ناؤ بتاؤ احسن۔۔”
“بتانا کچھ نہیں دیکھانا ہے گائیز۔۔۔ روحان ابیہا میں نے کہا تھا نہ کہ کوئی سین چل رہا تم دونوں یہ دیکھو۔۔۔”
“کیسا سین کس کا سین۔۔؟؟”
“ابیہا کی موم کا آفئیر۔۔۔”
موبائل کھینچ کر ابیہا نے دیکھا تھا مگر وہاں کچھ بھی نہیں تھا سوائے بلینک سکرین کے۔۔۔ابیہا نے ایک زور دار تھپڑ مار کر ان سب کو شاکڈ کردیا تھا
“تمہاری جرات کیسے ہوئی میری موم کے بارے میں ایسی بات کرنے کی گھٹیاانسان۔۔۔”
وہ غصے سے وہاں سے چلی گئی تھی
“ابیہا میں قسم کھاتا ہوں تمہاری موم۔۔”
“ایک اور لفظ ابیہا کی موم کے بارے میں کہا تو یہیں منہ توڑ دوں گا۔۔۔”
روحان نے وہ موبائل دیکھنے کے بعد اس دوست کو پیچھے دھکا دہ دیا تھا
“یار یہیں تھیں وہ فوٹوز ارے تم لوگ ہی کچھ بولو۔۔۔”
“ہم کیا بولیں۔۔ کیا کچھ تھا بولنے والا۔۔؟؟”
باقی کے تینوں دوستوں نے پوری طرح سے جھوٹ بول دیا تھا
“تم لوگ کیا بات کر رہے ہو۔۔؟ روحان۔۔ یار تمہارے ڈیڈ کو رنگے ہاتھوں۔۔”
روحان کے ایک مکے سے وہ دور جا کر گرا تھا۔۔۔
“ابیہا نے سہی کہا تمہیں گھٹیا شخص وہ لوگ ہمارا اونر ہے جن کا نام لیکر تم بدتمیزی کررہے ہو
زبان سنبھال کربات کرو۔۔۔”
روحان ابیہا کے پیچھے پیچھے بھاگا تھا سب دوستوں کو لاسٹ وارننگ دے کر۔۔۔
“تم لوگوں نے جھوٹ کیوں بولا۔۔۔؟؟ تم لوگ جانتے ہو کہ وہ دونوں کا آفئیر۔۔”
“آفئیر تھا تو۔۔؟ کچھ غلط نہیں ہے۔۔۔اور تمہارے موبائل سے وہ ویڈیو اور فوٹوز میں میں نے ڈیلیٹ کی تھی سحرش تم نے ٹھیک کہا تھا ہم انکے بچوں کے سامنے انکے ماں باپ کو ایسا پیش کرکے بہت غلط کریں گے۔۔ایم سوری بٹ ایم آؤٹ۔۔ میں ایسے فن میں کسی کے رشتہ خراب نہیں کرسکتی۔۔۔”
ایک دوست تو وہاں سے چلی گئی تھی۔۔ اور باقی دونوں نے بھی احسن کو دیکھ کر وہاں سے باہر جانے کی کی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم دونوں کو کتنی جلدی تھی۔۔؟؟ کیا تمہیں پتہ تھا میں ہاں کروں گی۔۔؟؟”
انوشہ جیسے ہی ڈریس پہن کر باتھروم سے باہر آئی تھی دونوں دوستوں کی بولتی بند ہوگئی تھی
“واااووووووو انوشہ۔۔۔۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔ یہ مہرون سلوار سوٹ میں۔۔ اور یہ ایمبرائڈری اٹس اوسم یار۔۔۔”
تاہین کی تعریف سن کر پلوشہ کی آنکھیں بھی بھر آئی تھی لوکل مسجد میں جانے سے وہ لوگ اس ہول روم میں ٹھہرے تھے جس کی بکنگ فہاج نے خود کی تھی ڈرائیور انکا ویٹ کررہا تھا ہوٹل کے سامنے بیڈ پر پڑی جیولری سے لیکر جوتی تک فہاج نے بھجوائی تھی۔۔۔
جس نے انوشہ کو ہی نہیں باقی سب کو بھی امپریس کردیا تھا۔۔۔
“وہ اپنی حرکتوں سے ینگ لگ رہے ہیں اور تم اپنی خوبصورتی سے یار۔۔ تم دونوں کترا کیوں رہے تھے عمریں زیادہ ہوں تو ہوں دل تو جواں ہیں دونوں کے اور یہ دیکھو ماشاللہ ہماری دلہن کو۔۔۔”
انوشہ کے سر پر جیسے ہی دوپٹہ رکھا تھا انہوں نے روم کا دروازہ کھل گیا تھا جہاں فرہاد نانی کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔
و ہ تینوں شاکڈ ہوگئی تھیں فرہاد اور انوشہ کی نانی کو وہاں دیکھ کر۔۔
“مجھے لگا تھا کہ میں کچھ اہمیت رکھتی ہوں تمہاری زندگی میں انوشہ۔۔ مگر تم نے آج ثابت کردیا کہ تم بھی مجھے۔۔”
“پلیز نانو آپ۔۔”
“پلیز وٹ خالہ۔؟؟ اور میں۔۔ مجھے بھی اتنا پرایا کردیا آپ نے۔۔؟”
“آپ دونوں میری بات۔۔۔”
“انوشہ جیسے جیسے آگے آرہی تھی نانی پیچھے ہورہی تھی
“تم نے جو رشتے ختم کرنے ہیں نہ بعد میں ختم کرلینا پہلے میں اپنا آخری فرض پورا کردوں۔۔ تیار ہوکر جلدی آجاؤ ہم دونوں گاڑی میں انتظار کررہے ہیں۔۔”
نانی فرہاد کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے چلی گئی تھیں۔۔۔
“اووہ۔۔۔۔شٹ۔۔۔”
“ابھی نکاح کی تیاری کرو گی یا نانی کو منانے کی۔۔؟؟”
وہ تینوں ہی بیڈ پر بیٹھ گئی تھیں۔۔۔
“دونوں ہی نہیں کرت واپس پاکستان چلیں۔۔۔؟؟”
انوشہ نے ان دونوں کو آہستہ سے پوچھا تھا
“ہاں تاکہ وہ مریض تمہارا انتظار کرتے کرتے سچ مچ ہارٹ اٹیک کا شکار ہوجائے نہ۔۔؟؟
چلو اٹھو۔۔۔ تم بہانے نہ ڈھونڈو۔۔”
انوشہ کو زبردستی اٹھا لیا تھا انہوں نے اور ادھوری تیاری کچھ ہی دیر میں مکمل ہوگئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بی جان۔۔۔”
فہاج انکے گلے لگ گیا تھا بی جان جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تھی
“تمہارے ہر اچھے کام میں میں ہمیشہ تمہارے ساتھ کھڑی رہی فہاج آج جب تم نے اپنے بارے میں سوچا ہے تو میں بھی سب کی فکر چھوڑ کر تمہارا ساتھ دوں گی بیٹا۔۔۔”
ماتھے پر بوسہ دے کر وہ ساتھ بیٹھ گئیں تھی۔۔۔
“بی جان وہ ابھی تک نہیں آئی بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔”
ماتھے سے بار بار پسینہ صاف کئیے وہ دوازے کی طرف دیکھ رہے تھے
“ہاہاہاہا وہ آجائے گی میں بھی دیکھوں اپنے پتر کی پسند کو۔۔۔”
بی جان کی بات سنتے ہی فہاج کے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے۔۔۔
“بی جان آپ کو نہیں پتہ میں جس سے شادی کرنے جا رہا اس کا نام۔۔؟؟”
“نہیں بیٹا۔۔۔میں۔۔۔”
اور وہ لوگ دوسری طرف جیسے ہی داخل ہوئے تھے مہران اور فہاج کے دوسرے دوست اور انکی وائف نے بہت احترام سے ان سب کو ویلکم کیا تھا۔۔۔
بی جان فرہاد کو وہاں دیکھ کر حیران ہوئی تھی مگر کچھ بولی نہیں تھی۔۔۔
مولوی صاحب کے آنے کے بعد سب خاموش ہوگئے تھے۔۔۔۔
۔
پردے کے اس طرف نظریں اٹھ رہی تھی اور دھڑکنیں تیز ہورہی تھی۔۔۔
اور جب انوشہ نے وہ الفاظ بول کر انہیں قبول کرلیا تھا پھر کہیں جا کر فہاج کی سانسوں میں سانس آئی تھی۔۔۔
وہ بی جان کے گلے لگ گئے تھے جو انوشہ کو بنا پیار دئیے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“بی جان۔۔”
“فہاج۔۔۔ اب نہیں۔۔ تم نے اپنا فرض پورا کردیا میرے دوست اب اپنی خوشیوں کی فکر کرو۔۔۔جاؤ بھابھی جی کو نکاح کی مبارک باد دے کر آؤ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“موسٹ ویلکم۔۔۔ ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔”
انوشہ نے مسکراتے ہوئے فہاج کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دیا تھا گھر کی دہلیز سے وہ انکا ہاتھ پکڑ کر اندر لیکر آئے تھے۔۔۔ اپارٹمنٹ کے ہر کارنر پر کینڈل لائٹس کی روشنیاں تھی اور درمیان میں پھولوں کا کارپٹ۔۔۔ جس پر چلتے ہوئے اور سینٹر میں لے گئے تھے۔۔۔
“یہ میرا۔۔۔ ہمارا گھر۔۔۔ دراصل مجھے موقع نہیں ملا۔۔ اگر تم کہو گی تو ہم کہیں اور گھر۔۔”
“ریلیکس۔۔۔پروفیسر صاحب۔۔ ۔۔دراصل میں یہاں گھر بسانے نہیں آئی تھی۔۔۔ آپ نے اتنی جلدی سب کروا دیا ہے مجھ سے کہ۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا ایم سووو سوری۔۔۔ پلیز اب کہیں مجھے شاکڈ نہ کردینا کچھ ایسا ویسا کہہ کر۔۔یو نو یہ رات بہت سپیشل ہے۔۔۔”
وہ ہاتھ پکڑے اوپر روم کی طرف لے گئے تھے گھر کا ہر کارنر ہر روم دیکھا رہے تھے۔۔۔
وہ دونوں جانتے تھے کہ بہت جلدی انہوں نے اپنی الگ زندگی کو لیکر بہت سی ارینجمنٹ کرنی تھی مگر آج کی رات وہ دونوں ہی دنیا داری کی باتوں کو بھول کر کچ نئی یادیں بنانا چاہتے تھے۔۔۔
اور جب وہ اپنے بیڈروم میں لیکر گئے تو اندر کا رومنٹک ماحول دیکھ کر وہ خود بھی شرما گئے تھے۔۔
“ایم سو سوری۔۔۔یہ سب۔۔۔میرے دوست بھی نہ۔۔”
بیڈ سے گلاب کے پھولوں کا بنا ہوا دل مٹا کر انہوں نے گھبراہٹ میں سائیڈ ٹیبل کا لمپ نیچے گرا دیا تھا اسے اٹھاتے اٹھاتے دودھ کا گلاس نیچے گر کر انکے کوٹ کو خراب کردیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
انوشہ کھل کر ہنس دی تھی اور بیٹھے ہوئے فہاج کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اٹھایا تھا
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ آپ فریش ہوجائیں۔۔میں کردیتی ہوں۔۔۔”
“نووو نووو میں یہ کرتا ہوں بس ایک منٹ۔۔۔”
اور پھر سے انکی بیک لگنے سے ایک اور گلدان ڈریسنگ ٹیبل سے نیچے گرا تھا
“ہاہاہاہا پلیززز۔ز۔۔۔۔ ہاہاہا آپ جائیں فریش ہوکر آئیں کپڑے خراب ہوگئے ہیں۔۔۔”
فہاج شرمندہ ہوکر جلدی سے کپڑے نکال کر باتھروم میں چلے گئے تھے انوشہ کے قہقوں کی آوازیں انہیں اندر تک سنائی دے رہی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا سیریسلی۔۔؟؟”
وہ ہنستے ہوئے جھکی تھی کانچ کے ٹکڑے اٹھا کر ڈسبن میں ڈال کر انوشہ نے دوسرے چیزیں اٹھا کر جگہ پر رکھی تھی اور روم سے باہر آگئی تھی۔۔۔
“واال پر لگی فوٹوز کو دیکھتے ہوئے وہ سیڑھیوں سے نیچے آئی اورپھر کچن کی طرف چلی گئی تھی۔۔۔”
“اس وقت کیا بناؤں۔۔؟؟ کیا ہوگا۔۔؟؟”
کیبنیٹ آلموسٹ خالی تھے کچھ زیادہ نہیں تھا ایسا تھا جیسے یہاں کوئی رہتا نہ ہو کھانے کی چیزیں نہ ہونے کے برابر تھی۔۔۔
انوشہ نے جو تھا اس میں کچھ بنا کر ساتھ چائے بنا لی تھی اور جب وہ ٹرے لیکر مڑی تو فہاج ٹیک لگائے کچن ڈور کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔
“اووہ۔۔۔آپ نے ڈرا دیا تھا۔۔۔”
وہ پاس سے گزری تھی اور ڈائننگ ٹیبل پر ٹرے رکھ دی تھی۔۔۔
“میں نے سوچا کہ کچھ بنا لوں بھوک لگی ہوگی۔۔۔ اور کچھ تھا بھی نہیں آپ۔۔۔”
وہ باتیں کرتے ہوئے سٹاپ ہوئی تھی جب فہاج کی انگلیوں نے ماتھے پر آتے بالوں کو پیچھے کیا تھا
“تمہیں دلہن کے جوڑے میں کچن میں اس طرح کھانا بناتے دیکھنا دیوانے کا خواب تھا۔۔۔
کسی صحرا میں برسوں پیاسے چلتے مسافر کے سامنے یہ حیقیت کسی کنویں سے کم نہ تھی۔۔۔پلیز سٹ۔۔۔”
کرسی پیچھے کرکے انوشہ کو بیٹھنے کا کہا تھا انہوں نے۔۔۔
“وہ میں چینج کرآتی پھر آرام سے۔۔”
“کیا آج یہ ڈریس پہنے نہیں رکھ سکتی۔۔؟ ابھی جی بھر کر دیکھا نہیں۔۔۔”
بیک ٹو بیک لاجواب کررہے تھے فہاج صاحب اپنی رومنٹک ٹاک سے ڈاکٹر صاحبہ کو جو
خود میں سمٹی جارہی تھی آج وہ دبنگ ہونے کی لاکھ کوشش کے بعد بھی ناکام ہورہی تھی فہاج کا دیکھنا انہیں بلش کرنے پر مجبور کررہا تھا جو اتنے سالوں میں یہ سب کرنا ہی بھول گئی تھی
“فہاج میں۔۔۔”
“انوشہ تھینک یو سو مچ۔۔۔۔ میرے لیے آج تم میری زندگی میں بہت بڑے مقام پر ہو۔۔۔ تم وہ پہلی انسان ہو کہ جس نے میرے لیے اتنا بڑا فیصلہ لیا بنا کسی شرط کسی ڈیمانڈ کے۔۔ کسی انسیکیورٹی کے انوشہ۔۔۔ آج اس کمرے میں میں تنہا نہیں گیا تم میری محرم بن کر وہاں میرے ساتھ گئی۔۔”
انوشہ کے ہاتھوں کو ہونٹوں تک لے جاکر انہوں نے جیسے ہی چوما تھا انوشہ نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔
“اور آج کے بعد میں اپنی پوری کوشش کرو ں گا کہ ایک آئیڈیل ہسبنڈ بن سکوں۔۔ جو میں پہلے نہ بن سکا۔۔میں۔۔۔”
انوشہ نے دوسرا ہاتھ فہاج کے منہ پر رکھ کر خاموش کروادیا تھا۔۔
“مجھے نہیں لگتا کہ آپ میں کہیں کوئی کمی رہی ہوگی فہاج۔۔۔رشتے ناکام ہوئے تو ضروری نہیں کہ وجہ ہم ہی ہوں۔۔۔”
“وجہ ہم ہی رہے ہوں گے انوشہ کیونکہ وہ لوگ تو ہمیں چھوڑنے کے بعد موو آں کرگئے تھے۔۔۔”
آنکھوں میں درد ابھرا تھا جب انہوں نے یہ بات کہی تھی
“ایسی بھی بات نہیں ہے تب آپ کا پالا اس ڈاکٹر سے نہیں پڑا ہوگا ورنہ تب ہی آپ نے میرے پیچھے گھومنا شروع کردینا تھا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
ہنستے ہنستے پھر سے بوسہ لیا تھا انوشہ کے ہاتھوں کا،،،،
“ہم میں کیا بدل گیا ہے۔۔؟؟ تمہارا ہاتھ پکڑتے ہوئے ایک فخر محسوس کررہا ہوں ایک سکون مل رہا ہے یہ لمحے راحت بخش رہے ہیں انوشہ ایسا کیا بدل گیا ہے۔۔۔”
انہوں نے انوشہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“ہم میں کچھ بھی نہیں بدلا بس تعلق اس رشتے میں بدل گیا ہے” انہوں نے ہاتھوں میں پہنی ہوئی رنگ دیکھائی تھی
“اور یقین ۔۔۔یقین آگیا ہے رشتے میں فہاج۔۔۔محرم بن گئے ہیں آپ میرے۔۔۔
پروفیسر صاحب۔۔۔”
“”ڈاکٹر صاحبہ اگر ابھی بھی ہاں نہ کرتی تو میں نے سوچ لیا تھا سچ مچ کا ہارٹ اٹیک کروا کر تمہارے ہاسپٹل میں شفٹ ہوجاؤں گا۔۔۔”
انکی بات پر دونوں نے قہقہ لگایا تھا
“اور پھر پروفیسر صاحب یہاں کی ذمہداریوں کا کیا کرتے۔۔؟ آپ کی یونیورسٹی آپ کی جاب۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔۔ساری زندگی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے گزار دی۔۔۔ اب میں اپنے لیے جینا چاہتا ہوں۔۔ پتہ نہیں کیوں اتنا خود غرض ہوگیا ہوں۔۔ مگر اب میں آزاد جینا چاہتا ہوں۔۔۔ تمہارے ساتھ۔۔۔ بنا کسی پرواہ کے بنا کسی کی فکر کے۔۔۔”
۔
انکی بات نے انوشہ کی آنکھیں بھگو دی تھی جو انہوں نے جلدی سے نیچے کرکے صاف کی تھی۔۔۔ وہ شخص ابھی سے کمزور کررہا تھا اسے کہ جو پتھر سمجھتی تھی خود کو۔۔۔
آگے کا پتہ نہیں تھا انہیں مگر وہ جانتی تھی کہ وہ بھی وہی چاہتی تھی۔۔ ہر ذمہ داری سے آزادی۔۔۔ ایک الگ آزاد زندگی اس شخص کے ساتھ جس نے اتنا یقین کرلیا تھا کہ وہ حیران تھی اس شخص کی دی ہوئی عزت پر احترام پر اپنائیت اور احساس پر۔۔۔
“میرا ساتھ دو گی نہ۔۔؟؟”
انوشہ نے انکے گال پر ہاتھ رکھ کر ہاں میں سر ہلایا تھا وہ جانتی تھی کہ اگر کچھ بولیں گی تو رو دیں گی وہ۔۔۔
ٹیبل پر انکے ہاتھ پہلے ہی ایک دوسرے کی گرفت میں تھے۔۔۔
۔
“یہ ہاتھوں کو تھام کر میں۔۔۔
ہمیشہ تمہارے ساتھ چلنا چاہتا ہوں
۔
