Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

انوشہ کے ہاتھ کو اب ٹھیک سے دیکھا تھا جس سے انہوں نے سوٹ کیس کا ہینڈل پکڑا ہوا تھا۔۔۔
“انوشہ۔۔۔میں تمہیں تمہاری بیٹی۔۔۔ تمہارے ہاسپٹل تمہارے اپنوں سے دور نہیں کرنا چاہتا۔۔۔”
“اتنے بہانے نہ لگائیں صاف صاف کہیں کہ بس دل بھر گیا۔۔۔؟؟”
انوشہ کا لہجہ غم سے بھر گیا تھا اور فہاج کی آنکھیں۔۔۔
“اگر دنیا خوشیاں سانسیں سب گنوا کر بھی تم ملو تو میں تمہیں چُنوں گا۔۔۔ انوشہ۔۔۔”
“اور میں۔۔۔ نے آپ کو چُن لیا ہے سب کو چھوڑ کر۔۔۔ ہمارے رشتے کو چن لیا ہے فہاج۔۔۔”
وہ ہاتھ بڑھائے جیسے ہی آگے بڑھی تھی۔۔۔تو پیچھے سے آتی تیز رفتار گاڑی کی ٹکر نے انوشہ کے وجود کو دوسری طرف پھینک دیا تھا۔۔۔
فہاج کا بڑھا ہوا ہاتھا ہوا میں خالی رہ گیا تھا جیسے انوشہ کے وجود کو خون سے لت پت دیکھ انکی روح جسم سے چلی گئی ہو۔۔۔۔
۔
۔
“میری بیوی کو مجھ سے دور کیا تھا۔۔۔”
وہ جو شخص شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے پیچھے دیکھ رہا تھا اسکی گاڑی بھی آگے ٹرک کے ساتھ ٹکرا کر چکنا چور ہوگئی تھی۔۔۔
۔
۔
“انوشہ۔۔۔۔انوشہ۔۔۔”
وہ بھاگتے ہوئے روڈ کے اس پار گئے تو انوشہ کی آنکھیں بند ہوچکی تھی۔۔۔۔
“انوشہ۔۔۔۔” انوشہ کے سر کو اپنی گود میں رکھ کر انکے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بہت پیار سے پوچھا تھا انہوں نے۔۔۔انہیں سمجھ نہیں آئی اس وقت وہ کریں کیا نہیں۔۔۔
بھیگی آنکھوں کو بند کئیے انہوں نے جیسے ہی انوشہ کی بند پلکوں کو چوما تھا۔۔۔ کتنے لمحے وہ ایسے ہی جھکے رہے تھے۔۔۔
“سر ایمبولینس آگئی ہے۔۔۔”
“تمہیں کچھ نہیں ہوگا انوشہ۔۔۔”
انوشہ کو اپنی بانہوں میں اٹھائے وہ جلدی سے انہیں لے گئے تھے ایمبولینس میں۔۔۔
۔
۔
“اگر تم یہ دل مانگ لیتے۔۔۔ جانِ من ہم تمہیں جان دیتے۔۔۔
تمہیں کیسے ہم بھول جاتے۔۔ مرکے بھی تم ہمیں یاد آتے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔؟”
مولوی صاحب کے دوسری بار بھی پوچھنے پر جب ابیہا کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو۔۔۔ہال میں خوشی سے چہکتے ہوئے چہرے حیرانگی میں گم ہونا شروع ہوگئے تھے
خاص کر روحان ۔۔۔
“مجھے قبول نہیں ہے۔۔۔ایم سوری۔۔۔”
وہ جیسے ہی پردے کے اس پار سے اٹھی تھی درمیان میں لگے اس پردے کو توڑ کر روحان ابیہا کی جانب بڑھا تھا
“ابیہا یہ کیا بچپنا ہے۔۔”
“میں یہ شادی نہیں کرسکتی ایم سوری۔۔”
“یہ سب کیا بکواس کررہی ہو۔۔؟؟”
مبشر صاحب نے غصے سے پوچھا تھا۔۔۔ جن کی آواز پر سب ڈر گئے تھے مگر ابیہا نہیں
“میری ماں کا دل دکھا کر میں کونسی خوشیاں حاصل کرنے چلی تھی۔؟؟ انکو رد کرکے کیا پانے چلی تھی میں۔۔؟؟ تمہیں۔۔؟؟ جسے اس بات کی بھی فکر نہیں کہ اسکے ڈیڈ کہاں ہیں اسکے اتنے بڑے دن میں۔۔؟؟”
“ڈیڈ راضی ہے ابیہا شادی کے بعد تمہاری موم بھی مان جائیں گی۔۔۔پلیز ابیہا۔۔۔”
وہ التجا کررہا تھا بار بار ابیہا کے ہاتھ پکڑ کر۔۔۔ احلام صاحب غصے سے ابیہا کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس وہیں بٹھا چکے تھے
“مولوی صاحب آپ شروع کیجئے۔۔۔”
“ڈیڈ آپ یہ سب کیوں کررہے ہیں۔۔؟؟ تاکہ موم موو ان نہ کرسکیں۔۔؟؟
کس بات کا ڈر ہے آپ کو۔۔؟؟”
“جسٹ شٹ اپ۔۔ اپنی ماں کے انفلوئنس میں رہ کر تم بھی ویسی ہوگئی ہو۔۔۔”
“اچھی بات ہے میں آپ کی طرح ہارٹ لیس نہیں ہوئی۔۔ اس لیے میری آنکھیں کھل گئی سچ بات تو یہ ہے کہ میں نے آج اپنی ماں کی قدر اپنی زندگی میں جانی ہے۔۔۔
دیکھیں میں اپنی محبت وار چکی ہوں اپنی ماں پر۔۔۔
اور ڈیڈ۔۔۔۔ وہ بہت پہلے ہی موو آن کرچکی ہیں۔۔۔ وہ بھی ایک میریڈ وومن ہیں۔۔۔”
ابیہا لہنگا اٹھائے اوپر جانے کے بجائے دروازے تک چلی گئی تھی عنبر سے لیکر رامین
نانی سے لیکر بی جان سب نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی تھی
“ایک اور بات سر مبشر۔۔ میری موم پراؤڈ ڈاٹر مدر اینڈ وائف ہونے کے ساتھ ساتھ
پراؤڈ ڈاکٹر بھی ہیں آپ نے ہسپتال کی اونرشپ چھین لی توکیا ہوا انہوں نے اپنی سیٹ کو ہی دہ دیا اس بار انہوں نے اپنی خوشیوں آگے رکھی ورنہ آپ تو اپنی عزت کی وجہ سے اپنی بیٹی کی زندگی کو پہلے ہی برباد کرچکے تھے مگر مجھے خوشی ہے میری ماں نے اب اپنا جیون ساتھی خود چنا ہے۔۔۔”
ابیہا دہلیز سے باہر قدم رکھ چکی تھی وہاں کھڑے ان سب مردوں کو خاموش کرکے وہ خود بھی بہت خاموشی کے ساتھ اپنی دوست کی گاڑی میں بیٹھی وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
مگر روحان۔۔۔ اسکی انکھوں میں ایک جلتی ہوئی اگ دیکھی تھی ابیہا نے جانے سے پہلے جو شاید اب اسے حاصل کئیے بغیر بدلہ لئیے بغیر بجھنے والی نہیں تھی۔۔۔وہ اس جنون میں شیروانی کو اتار کر وہاں پھینک کر سر سے سہرا اتار کر دور پھینک چکا تھا۔۔۔ اور چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔۔ باسٹرڈ۔۔۔ فہاج کو میں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
“اپنی گن نکالیں احلام سب کے سامنے کہتے ہوئے چلے گئے تھے
“یا اللہ۔۔۔ بیٹا۔۔۔ صہیب۔۔۔ندیم۔۔۔”
“میں کچھ نہیں ہونے دوں گا امی میں دیکھتا ہوں۔۔۔”
نازمین بیگم کو اپنی والدہ کے پاس چھوڑے وہ لوگ دوسرے گھر میں اپنی فیملی اور رشتے داروں کو لے گئے تھے۔۔۔
۔
“وہاں صرف مبشر صاحب اور انکی فیملی تھی
“آج اس نے پھر سے رسوا کروا دیا۔۔۔ آپ لوگوں نے دیکھا کیا کہا اسکی بیٹی نے۔۔۔
اس نے شادی کرلی ہوئی ہے۔۔”
مبشر صاحب کرسی پر بیٹھ گئے تھے
“مبشر آپ پریشان نہ ہوں میں خود بات کروں گی۔۔”
“بس اب کوئی بات نہیں کرے گا وہ میرے خلاف گئی ہے اب میں اسکے خلاف جاؤں گا۔۔۔
دیکھ لینا۔۔۔میں پہلے اس ہسپتال کو بند کرواؤں گا پھر آگے دیکھنا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میری انوشہ سے شادی کرنے کی تیری ہمت کیسے ہوئی میں تجھے جان سے مار دوں گا۔۔۔”
فہاج داکٹر سے بات کررہے تھے جب انہیں آتی ہوئی احلام کی آواز سنائی دی جو گن تانے انہی کے پاس آرہے تھے
“وٹ دا ہیل انہیں اندر کس نے انے دیا۔۔۔؟؟ سیکیورٹی۔۔؟؟’
ڈاکٹر صاحب نے جیسے ہی کہا وہ اسے بھی دھکا دے کر فہاج کا گریبان پکڑ چکے تھے۔۔
“تیری ہمت کیسے ہوئی اس سے شادی کرنے کی۔۔۔ خدا کی قسم اگر یہ سچ ہے تو میں آج تیرےساتھ اسے بھی مار دوں گا۔۔۔”
“تو مارے گا اسے۔۔؟؟ مار کر دیکھا وہ اس کمرے میں ہے۔۔”
گن پکڑے ہاتھ کو مڑور کر انہوں نے احلام کو ایک ہی مکا مار کر دیوار کے ساتھ لگا دیا تھا
“اس دن اس لیے تیرا اٹھا ہوا ہاتھ برداشت کیا کیونکہ وہ چپ تھی۔۔۔مگر اب نہیں۔۔
اب نہیں۔۔۔”
ایک اور مکا مارا پھر ایک اور۔۔۔ انوشہ کی حالت کا سارا غصہ وہ احلام پر نکال کر زخمی کرچکے تھے انہیں اور پھر سیکیورٹی ان دونوں کو الگ کرچکی تھی
“دفعہ ہوجاؤ اس سے پہلے کہ میں تمہیں مار دوں۔۔۔”
“میں دیکھ لوں گا تم دونوں کو۔۔۔ یاد رکھنا۔۔۔”
“پہلے اپنی حالت دیکھ لے کر جائیں اسے۔۔۔”
وہ احلام کے جانے کے بعد انوشہ کے روم میں چلے گئے تھے جن کے ماتھے پر بیڈایج دیکھ کر انکی آنکھیں نم ہوگئیں تھی۔۔۔
“ڈاکٹر میں اپنی وائف کو یہاں سے شفٹ کرنا چاہتا ہوں۔۔”
“بٹ سر۔۔۔”
“پلیز۔۔۔ میں یہاں اور نہیں رکھ سکتا میری بیوی کو۔۔ میرا جیٹ ایک گھنٹے میں یہاں آجائے گا۔۔۔ آپ کی مدد چاہیے وہاں جاکر آپ اور آپ کی ٹیم واپس اسی میں واپس آجائیں گے۔۔ میں ڈبل چارجز پئے کروں گا۔۔۔ مگر مزید علاج یہاں نہیں ہوگا میری وائف کا پلیز۔۔۔۔”
۔
“ہمم۔۔۔ اوکے سر۔۔۔۔”
۔
۔
کچھ گھنٹے میں انکی فلائٹ وہاں سے چلی تھی۔۔۔ اور انوشہ کی آنکھ اس وقت کھلی تھی جب انہوں نے خود کو فہاج کے اپارٹمنٹ اور پھر انکے بیڈروم میں پایا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کا کام ہوجائے گا سر کچھ فوٹوز کے ساتھ آپ کو ایڈریس بھیج دوں گی۔۔۔”
انوشہ کے بستر کے پاس کھڑی اس نرس کو فون پر بات کرتے دیکھ فہاج نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔۔
“کونسا کام ہوجائے گا۔۔؟؟”
اسکے فون بند کرتے ہی فہاج نے پیچھے سے پوچھا تو وہ ڈر کر اپنا فون گرا چکی تھی
“سر وہ۔۔ کچھ نہیں ڈاکٹر صاحب کو میں۔۔۔”
“میری مسز کی تصاویر میری اجازت کے بغیر لیکر کسی بھیجنے والی ہیں آپ۔۔؟؟ اور آپ باقی ٹیم کے ساتھ واپس نہیں گئی اسی کام کے لیے۔۔؟؟ “
“سر ۔۔۔ نہیں دراصل۔۔۔”
وہ گھبراتے ہوئے موبائل اٹھا چکی تھی اب بہانے بناتے ہوئے کمرے سے باہر جانا چاہتی تھی جب فہاج نے موبائل فون کی طرف اشارہ کیا۔۔
“سر۔۔۔”
“فون۔۔۔”
اور جب اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑایا وہ فون دیوار پر مار کر توڑ دیا تھا
“اگر ایڈریس یا کچھ بھی کسی کو بتانے کی کوشش کی تھی یاد رکھنا یہاں کا قانون مجرم پکڑنے میں لاپروائی نہیں کرتا اب جاؤ یہاں سے۔۔۔”
۔
کچھ دیر معافیاں مانگنے پر بھی فہاج نے اسے نہیں رکھا اور سیکیورٹی سے کہہ کر بلڈنگ سے باہر بھجوا دیا ۔۔۔
اسکے جانے کے بعد انوشہ کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہوئی تو فہاج کو بلکل پہلو میں پا کر انوشہ نے مسکراتے ہوئے دوبارہ آنکھیں بند کرلی۔۔۔
“اگر تم سوچ رہی ہو کہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو تو سوچ لو اتنا خوبرو نوجوان خواب میں نہیں ملتا محترمہ۔۔”
فہاج نے جھک کر لبوں پر جیسے ہی بوسہ لیا انوشہ ایک جھٹکے سے اٹھ گئیں تھیں۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے روم سے گئے اور کچھ دیر میں کھانے کی ٹرے لیکر آگئے تھے
“فہاج۔۔۔”
اچانک اٹھنے پر انوشہ ک سر میں جو درد شروع ہوا وہ واپس لیٹنا چاہتی تھی جب فہاج ساتھ بیٹھ گئے۔۔۔
“تھوڑا سا کھا لو کب تک بےہوش رہ کر مجھے سزا دو گی ۔۔؟؟”
اداس لہجے میں پوچھا تو انوشہ بھی حیران ہوئی تھی۔۔اور انہیں وہ ایکسیڈنٹ یاد آیا۔۔۔
“میرا۔۔ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔؟؟ ہم کہاں ہے۔۔؟؟ یہ میرا فلیٹ تو نہیں۔۔”
“ہم پاکستان سے آگئے ہیں۔۔۔ یہ ہمارا گھر ہے میری چھوٹی سی جنت تمہارے ساتھ۔۔”
کہتے کہتے جوس کا گلاس انوشہ کے ہونٹ تک لے گئے تھے جسے انہوں نے گھونٹ گھونٹ پینا شروع کردیا تھا۔۔۔۔
“اب یہ سب جلدی سے ختم کرلیں ڈاکٹر صاحبہ ایسے مت دیکھیں۔۔”
“یہ بھی کھلائیں گے تو کھاؤں گی پروفیسر صاحب دیکھ نہیں رہے میرے ہاتھ درد ہورہے ۔۔”
فہاج کے کندھے پر سر رکھے آنکھیں بند کرلی تھی انہوں نے۔۔۔
ابھی بھی جسم میں طاقت نہیں تھی وہی حال فہاج کا بھی تھا مگر وہ دونوں ایک دوسرے کی ہمت بن رہے تھے پھر سے۔۔۔
کیونکہ ابھی تو انکی جنگ شروع ہوئی تھی معاشرے سے خاندان سے اپنوں سے۔۔۔
“انوشہ۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔”
جواب دیتے ہوئے انوشہ کے ہونٹ فہاج کی گردن کو جیسے جیسے چھو رہے تھے انکی گرفت انوشہ کی ویسٹ پر اور مظبوط ہورہی تھی۔۔۔
“مجھے یقین نہیں تھا تم آؤ گی۔۔یہ سب خواب سا لگ رہا ہے۔۔۔”
“مجھے تو آنا تھا۔۔۔ کیا جلدی اور کیا لیٹ فہاج۔۔۔ میں بھی خود کے لیے جینا چاہتی ہوں۔۔
اور پھر پتہ چلا چاہت تو آپ کے ساتھ جینے کی ہے۔۔۔”
فہاج کی بئیرڈ پر انگلیاں پھیرتے ہوئے انوشہ نے آنکھوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے فہاج کے بالوں کی لو تک لے گئی تھی۔۔۔
“کب سے نہیں سوئے۔۔۔؟؟ کتنے گہرے حلقے پڑ گئے ہے۔۔۔اب یہیں لیٹے رہیں۔۔”
کمفرٹ کوفہاج پر دئیے انہیں بھی اپنے ساتھ لیٹا لیا تھا جو بلکل چپ چاپ مان رہے تھے
“یہ گہرے حلقے تھکان کے نہیں ہے تمہیں کھونے کے ڈر نے آنکھ جھپکنے کا موقع نہیں دیا بہت قریب سے اپنے ڈر کو دیکھا تمہیں خون میں دیکھ کر۔۔۔ تب سے ایک ہی وعدہ کررہا ہوں کہ ایک تمہیں ہوش آجائے پھر کبھی کچھ نہیں ہونے دوں گا تمہیں۔۔۔میں بتا نہیں سکتا۔۔۔”
“شش۔۔۔۔ اب آرام کریں۔۔۔”
فہاج کےسینے پر سر رکھے انہوں نے بھی آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
“آئی لوو یو ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔”
انوشہ کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“جانتی ہوں پروفیسر صاحب۔۔۔کچھ نئی بات بتائیں۔۔۔؟”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
۔
انکی ٹیزنگ میں کب وہ ایک دوسرے کی آغوش میں سکون کی نیند سو گئے تھے۔۔۔
باہر کی دنیا سے بےخبر۔۔۔ آنے والی اپنوں کی سازشوں سے بے خبر۔۔۔
اب دیکھنا یہ تھا کہ وہ اتنی ہی سمجھداری سے اپنے رشتے کو بچا پائیں گے آگے چل کر یا نہیں۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔