Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
“وہ شخص اپنے بچوں سے بھی جدا ہے اور فیملی سے بھی الگ ہے اس شخص نے کچھ ہفتوں میں اپنی جمع پونجی میرے ایک خواب کو پورا کرنے پر لگا دی۔۔۔ اس ہسپتال کو کھڑا کرکے۔۔۔ پلوشہ میں اس قدر حیران ہوں سٹنڈ ہوں کہ میرا دماغ کچھ بھی فنکشنڈ نہیں کرپارہا۔۔۔”
“انوشہ ۔۔۔ یہی میریڈ لائف ہے۔۔ اور میاں بیوی یہی کرتے ہیں ایک دوسرے کے لیے۔۔۔ فہاج بھائی نے کچھ نیا نہیں کیا۔۔ اگر تم ہوتی انکی تم بھی یہی کرتی نہ۔۔؟؟”
تہیم نے انوشہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا
۔
“جس یونیورسٹی سے انوشہ کو آفر ہوئی تھی انوشہ نے وہ ٹھکرا کر اس رشتے کی ورتھ کو ثابت کیا ہے۔۔۔”
پلوشہ نے آہستہ آواز میں کہا تھا اور انوشہ کے چہرے پر اداسی چھا گئی تھی۔۔۔ اس نے نظریں اٹھا کر کوریڈور کی طرف دیکھا تھا جہاں فہاج صاحب بہت سے ادھورے کام کروا رہے تھے ورکرز سے۔۔۔ انکے چہرے پر کبھی نہ ختم ہونے والی خوشی جھلک رہی تھی
۔
“جس یونیورسٹی میں میرے شوہر کی کوئی عزت نہیں وہاں میں کروں گی۔۔؟؟ انہوں نے میرے انکار پر فہاج سے بھی معافی مانگی مگر مجھے اب منظور نہیں ہے فہاج کا ایسی جگہ کام بھی کرنا۔۔۔”
“تو اب کیا کریں گ فہاج بھائی۔۔؟؟”
“کہہ رہے تھے واپس بزنس میں جائیں گے انکے دوست کے ساتھ انکی پارٹنرشپ ہے پہلے سے۔۔۔”
“میم یہ آپ کے لیے۔۔۔”
انوشہ کے سامنے ایک گلاب کا پھول رکھے وہ نرس وہاں سے چلی گئی تھی اور سامنے فہاج بھی موجود نہیں تھے۔۔۔انوشہ کے چہرے پر بلش جیسے ہی آیا تھا دونوں دوست اور ٹیز کرنا شروع ہوگئیں تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مس سندس اس دن تو آپ بہت باتیں کررہی تھی کیرئیر خراب ہوگیا امیج خراب ہوگئی ہسپتال بھی گیا اور پتہ نہیں کیا کیا۔۔۔ آپ شکر کیجئے کہ میں اچھے موڈ میں تھی اس لیے آپ کی بدتمیزی کو درگزر کرگئی۔۔۔”
سندس کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر کر ٹوٹ چکا تھا جیسے ہی اس نے وہ کال ریسیو کی تھی
“مس۔۔۔ ڈاکٹر انوش۔۔۔ایم سو سوری میم اس دن میں بہت ڈس ہارٹ تھی ۔۔ ہمارا ہاسپٹل تباہ و برباد کردیا گیا۔۔ مجھے بعد میں پتہ چلا تھا کہ آپ کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی کرسی سے ہٹانے کے بعد یہ سب کیا گیا۔۔۔مجھے معاف۔۔۔”
“ایک ہفتے کا وقت دے رہی ہوں انٹرنشپ پوری کرنی ہے تو پیکنگ شروع کردیں۔۔۔ یہاں کچھ سیٹ ابھی بھی خالی ہیں۔۔ اور مجھے محنتی ڈاکٹرز چاہیے۔۔”
“وٹ۔۔۔ سیریسلی۔۔۔؟؟ امی ابو۔۔۔ رمشا۔۔۔”
موبائل کو کانوں سے ہٹا کر وہ چلانے لگی تھی کچن سے بھاگتے ہوئے لیونگ روم میں چلی گئی تھی اور سب کو اونچی اونچی اپنی خوشی کا بتانا شروع ہوگئی تھی
“انوشہ میم آپ نے تو مجھے سب سے زیادہ خوشی دہ دی۔۔۔”
مگر فون بند ہوچکا تھا۔۔۔
“امی۔۔۔”
والدہ کے گلے لگ کر سندس نے اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا۔۔۔اور دوسری طرف انوشہ نے کال کاٹ کر جیسے ہی موبائل ڈیسک پر رکھا میٹنگ کے لیے سینئر ڈاکٹرز بھی روم میں آچکے تھے
“سلی گرل۔۔۔”
انوشہ کے ہونٹوں پر لائٹ سی مسکان تھی سندس کی چیختی ہوئی آوازیں سن کر۔۔۔
وہ جانتی تھی اس ہسپتال کے نہ رہنے سے جتنی اذیت اسے ملی جتنا نقصان اسکا ہوا اتنا ہی وہاں اسکے عملے کا ہوا وہاں کے ڈاکٹرز کا میڈیکل سٹاف اور وہاں کے ایڈمٹ مریضوں کا ہوا۔۔وہ جانتی تھی وہ سب ٹھیک نہیں کرسکتی۔۔ ،گر جو وہ ٹھیک کرسکتی تھی اس نے وہ ٹھیک کرنا شروع کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں یہی پہن کر اس پارٹی میں جاؤں گی مسٹر فہاج۔۔۔”
“میں بھی دیکھتا ہوں کیسے۔۔۔؟ یہ ساڑھی میں کیا لگ رہی ہو۔۔۔ اگر کسی نے ایسی نظروں سے دیکھا تو میں اسے بہت ماروں گا۔۔۔
اور وائلنس شو کرنے سے اچھا ہے بندہ فساد کی جڑ ختم کرے۔۔۔”
انوشہ کا منہ کھلا رہ گیا تھا فہاج کی بلنٹ باتوں پر۔۔۔
فہاج جیسے ہی آگے بڑھے تھے وہ ساڑھی کو ٹھیک کرتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
“آپ پاگل ہوگئے ہیں پروفیسر صاحب۔۔۔” وہ کہتے ہوئے دروازے کے باہر قدم رکھ چکی تھیں جب فہاج نے بازو سے پکڑ کر واپس اندر کھینچ لیا تھا اور بیڈروم ڈور کے ساتھ پن کردیا تھا
“ابھی میں اپنے ہوش و حواس میں ہوں وائفی۔۔۔ اگر کسی نے ان نظروں سے تمہیں دیکھا تو ضرور پاگل ہو جاؤں گا۔۔۔۔ اب جلدی سے اتارو اسے۔۔۔”
۔
وہ دونوں بچوں کی طرح لڑ رہے تھے پچھلے آدھے گھنٹے سے۔۔۔
فہاج نہیں چاہتے تھے انوشہ ایسی ڈریسنگ کرکے کسی غیر مرد کے سامنے جائے اور انوشہ ٹھہری انوشہ وہ بھی ضد پر اڑ گئی تھی
“فہاج ابھی ہم لیٹ ہورہے ہیں پلیز۔۔۔”
“نو تم ابھی یہ ساڑھی بدل رہی ہو۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔ آپ کیوں بچوں کی طرح۔۔۔”
فہاج کو پیچھے دھکیل کروہ پھر سے دروازہ کھولنے لگی تھی فہاج صاحب نے واپس اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی تھی جب کچھ پھٹنے کی آواز پر وہ دونوں ہی شاکڈ ہوگئے تھے۔۔۔
فہاج ڈر کر دس قدم دور ہوئے تھے۔۔۔
“یو۔۔۔۔اتنی مہنگی خریدی تھی میں نے۔۔۔فہاج۔۔۔”
انوشہ نے غصے سے ساڑھی کا پلو دیکھا تھا اور باقی کا کپڑا غصے سے اتار کر فہاج کی طرف پھینکا تھا۔۔۔
“مجھے مارنے کا ارادہ ہے۔۔۔؟؟”
وہ کپڑا جیسے ہی فہاج کے قدموں پر گرا تھا انوشہ کو اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا تھا۔۔۔ وہ جیسے ہی اپنا آپ چھپائے مڑ گئی تھی انوشہ کی بیک دیکھ کر فہاج نےسرد آہ بھری تھی
“اب تو سچ میں مرجاؤں گا۔۔۔”
وہ آہستہ قدموں سے انوشہ کی طرف بڑھے تھے۔۔۔
“پارٹی میں جانا کا پلان کیا کینسل نہیں ہو سکتا۔۔۔؟؟”
پیچھے سے انوشہ کو جیسے ہی اپنے حصار میں بھرا تھا انوشہ نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
“ہمم۔۔۔؟؟”
کندھے پر بوسہ دینے کے لیے بالوں کو جیسے ہی ہٹایا تھا وہ دوسر جانے کے لیے مچل اٹھی تھی مگر فہاج کی گرفت اور مظبوط ہوئی تھی انوشہ کی ویسٹ پر
“یو نو وٹ۔۔؟؟ تم بہت خوبصورت ہو۔۔ اور مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا کہ تم میری ہو۔۔”
انوشہ کی گردن پر جیسے ہی لب رکھ کر سرگوشی کی تھی وہ پلٹ کر فہاج کے سینے سے لگی تھی شرما کر۔۔۔
“اور جب تم ایسے خاموش ہوجاتی ہو تو اور بھی زیادہ اچھی لگتی ہو۔۔”
یہاں انکی باتیں اور ہونٹ انوشہ کو ٹیز کررہے تھے۔۔۔
“آج باہر جانے کا پروگرام کینسل۔۔۔”
“فہاج۔۔۔”
انوشہ نے نظریں اٹھا کر جیسے فہاج کی آنکھوں میں دیکھا تھا وہ اور زیادہ شرما گئی تھی
خود کر بشمکل ہی فہاج کی گرفت سے چھڑا پائی تھی جب فہاج نے کوٹ اتار کر پیچھے پھینک دیا تھا اور انوشہ کی طرف جھکے تھے جوپیچھے جھکتی جھکتی بیڈ پر گر گئی تھی
“مسز فہاج۔۔۔لیٹس کمپلیٹ آور میریج پروپرلی۔۔۔”
انوشہ کے دونوں ہاتھوں کو سر کی طرف پن کر کے جیسے ہی انہوں نے کہا تھا انوشہ نے دوسری طرف منہ کرکے اٹھنے کی کوشش کی تھی
“انوشہ۔۔۔اب کہیں بھاگنے نہیں دوں گا بہت بھاگ لیا تم نے اور بہت بھگا دیا مجھے۔۔
اب ہمارے وجود ایک ہوجانے چاہیے۔۔ ہمارے ناموں کی طرح۔۔۔”
وہ جانتے تھے وہ بہت بڑا قدم اٹھانے جارہے تھے مگر وہ اب زرا سا فاصلہ بھی ان دونوں میں رہنے نہیں دینا چاہتے تھے۔۔۔
انوشہ کو واپس بیڈ پر لٹا کر وہ جیسے ہی اوپر جھکے تھے انہوں نے دونوں ہاتھوں کو پھر سے پن کردیا تھا۔۔۔
“آج میں پورا کنٹرول چاہتا ہوں تم پر۔۔۔ وائفی۔۔۔ میں چاہتا ہوں ہماری محبت کی داستان میرے ہونٹوں سے بیان کروں اور تمہارے اس وجود کے ہر حصے پر میرا نام لکھ دوں۔۔۔
کیا مجھے اجازت ہے۔۔؟؟”
وہ سمٹ گئی تھی فہاج کی بولڈ ٹاکنگ اور اس نزدیکی پر۔۔۔اور انوشہ کی گھبراہت فہاج کو مایوس کررہی تھی وہ پیچھے ہونے کو تھے جب انوشہ نے فہاج کے ماتھے پر بوسہ دے کر بنا کچھ کہے اپنا جواب دہ دیا تھا۔۔۔
۔
“اک بار اجازت دے۔۔تیری روح میں بس جاؤں
میں بن کے تیری سانسیں۔۔ دھڑکن میں ٹھہر جاؤں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“موم کیسی لگ رہی تھی خالہ۔۔؟؟ اور روح۔۔۔ “
“اٹس اوکے بیٹا۔۔۔”
ابیہا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھالیا تھا نیہا نے
“مجھے سمجھ نہیں آرہی موم کا نیا رشتہ روحان کے فادر کے ساتھ ہونے کے بعد کیا کہوں۔۔؟؟ انکل کہوں تو کچھ بدتمیزی تو نہیں ہوگی۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہ اوہ ابیہا میری بچی۔۔۔”
نیہا جیسے ہی کھلکھلا کر ہنسی تھی ابیہا بھی ہنسنے لگی تھی
“ویسے تمہاری موم ہیں بہت خوش۔۔۔”
“ہاہاہاہا اور نہیں تو کیا خالہ۔۔۔ وہ تو اتنی بلشنگ کررہی تھی کہ توبہ۔۔۔ عمر میں مجھ سے بھی کم لگرہی تھی بلش کرتے ہوئے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا ہاں۔۔۔ میرے پوچھنے پر ایسے گھبرا رہی تھی۔۔۔ بھلا میں نے کونسا بیڈروم حال احوال پوچھنے تھے”
“ہاہاہاہاہا خالہ۔۔۔”
ایک دوسرے کو ہائی فائی دیتے ہوئے وہ دونوں اور زیادہ ہنسی تھی جب صبیحہ سامنے آکر بیٹھ گئی تھی ان دونوں کے۔۔
۔
“کتنی حیرانگی کی بات ہے ویسے نیہا آنٹی۔۔۔ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ خوش ہے سوائے روحان کے۔۔ وہ اپنی زندگی ان لوگوں کے لیے برباد کررہا جنہیں رتی برابر فکر نہیں۔۔”
صبیحہ کی بات سن کر وہ ہنسی آنکھوں سے وہ چمک کچھ سیکنڈ میں ہی چلی گئی تھی ابیہا کی آنکھوں سے۔۔۔
صبیحہ بیٹا۔۔۔”
“اٹس اوکے خالہ۔۔ میں چلتی ہوں۔۔۔ اپنی فرینڈز سے ملنے کے بعد فلائٹ کا بھی ڈیسائیڈ کرنا ہے۔۔۔”
نیہا کے گال پر بوسہ دے کر ابیہا وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔اور پھر نیہا نے اپنی بہو کی طرف دیکھا تھا۔۔۔غصے سے بھی اور صبیحہ کی حالت دیکھ کر لہجہ نرم کرلیا تھا۔۔۔
“صبیحہ بیٹا۔۔۔ خون کے رشتے ایسے ختم نہیں ہوتے۔۔ روحان کی تکلیف کا سب کو احساس ہے۔۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ ابیہا کو کوئی تکلیف نہیں تو یہ جھوٹ بات ہے۔۔ کیونکہ رشتہ نہ ہونے پر ایک لڑکی کی عزت زیادہ ڈیمیجڈ ہوتی ہے یو نوڈیٹ۔۔۔”
“یا رائٹ۔۔۔ اس لیے اس نے انکار کردیا۔۔ روحیل بھائی سے بات ہوئی تھی آنٹی۔۔۔ روحان کی حالت دیکھیں گی تو آپ خود بھی شاک ہوجائیں گی۔۔۔”
“صبیحہ بیٹا۔۔ آؤ بیٹھو میرے پاس اور میری بات کو دھیان سے سننا بچے۔۔۔”
جہاں جس جگہ انہوں نے اپنے ساتھ کچھ دیر پہلے ابیہا کو بیٹھایا تھا اب صبیحہ کو اپنے پاس بٹھا لیا تھا
“صبیحہ بیٹا۔۔۔”
“میں جانتی ہوں آپ بھی انوشہ آنٹی کی طرف داری کریں گی۔۔ مگر انہوں نے جو کیا وہ۔”
“وہ گناہ نہیں تھا۔۔۔ وہ کوئی شرک نہیں تھا ہماری دنیا ہمارا دین اجازت دیتا ہے۔۔”
“مگر ہماری فیملی نہیں۔۔۔”
“یہی مسئلہ ہے صبیحہ ہماری فیملی اور معاشرے کا۔۔۔میں بھی معاشرے کے ساتھ مل کر سوچ رہی تھی اس لیے اپنی چھوٹی بہن کو اتنا اعتماد میں نہ لے سکی کہ اس نے اتنا بڑا قدم مجھے بتائے بغیر اٹھا لیا۔۔۔ مگر فرہاد کو سب پتہ تھا۔۔۔”
“کیا۔۔۔”
“صبیحہ بیٹا۔۔۔ ہماری فیملی میں ندیم مجھے یا فرہاد کو کوئی مسئلہ نہیں انوشہ کی اور تمہارے ماموں کی شادی سے بشرط یہ کہ وہ خوش رہے۔۔ تم اس فیملی کا حصہ ہو۔۔ روحان تمہارا کزن ہے اسکے لیے تمہارا فکر کرنا بنتا ہے۔۔ مگر ان سب میں فرہاد کی ناراضگی نہ موڑلینا۔۔
وہ برداشت نہیں کرپائے گا انوشہ کی انسلٹ۔۔۔اور ہم سب بھی۔۔۔”
صبیحہ کے سر پر پیار دے کر وہ ایک وارننگ بھی دے گئی تھی اسے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آج پھر تم پہ پیار آیا ہے۔۔۔
بےحد اور بےشمار آیا ہے۔۔۔”
۔
“فہاج۔۔۔”
“ہمم۔۔۔”
“دس بج گئے ہیں۔۔۔”
“ہممم۔۔۔”
فہاج کی پرسکون سانسیں جیسے ہیں انوشہ کی بئیر بیک سے ٹکرائی تھی انہوں نے پھر سے ناکام کوشش کی فہاج کی گرفت سے نکلنے کی جو ناممکن سا کام تھا۔۔
“آج یہاں سے کوئی بھی کہیں نہیں جارہا۔۔”
انوشہ کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے واپس اپنی اوڑھ کھینچ لیا تھا
“سیریسلی۔۔؟؟ کل کی پارٹی بھی مس ہوگئی آپ کی وجہ سے۔۔۔ اینڈ یو۔۔۔”
“شش۔۔۔ ڈونٹ ٹل مئ کہ آپ نے کچھ اینجوائے نہیں کیا مسز فہاج۔۔؟ جہاں تک مجھے یاد ہے آپ کہہ رہی تھی۔۔۔”
“بےشرم۔۔۔”
فہاج کے کندھے پر ہاتھ مار کر انکی بات تو بند کروا دی تھی مگر انکی ہنسی نہیں جو گونج رہی تھی بند کمرے میں۔۔۔
“کل رات بہت خوبصورت رات تھی میری زندگی کی۔۔ ایم سوری۔۔۔ بہت جگایا تمہیں۔۔”
انوشہ کے جھکے ہوئے چہرے کو اپنی طرف کرکے انہوں نے سرگوشی کی تھی اور انوشہ شرم سے پانی پانی ہورہی تھی
“انوشہ۔۔۔ ایسے خاموش نہ رہو۔۔۔ “
“آپ کو نہیں لگتا آپ کچھ زیادہ ہی بولڈ ہورہے ہیں مسٹر۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ اسے رومینٹک ہونا کہتے ہیں۔۔۔میڈم۔۔۔”
“اوکے ابھی تو جانے دیجئے۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔ کہا نہ آج کوئی کہیں نہیں جائے گا۔۔ویسے شاور کا آئیڈیا برا۔۔۔”
“فہاج۔۔۔۔۔”
انوشہ نے سر فہا ج کے کندھے پر چھپا لیا تھا
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بی جان۔۔ میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔آپ کے پاؤں پکڑتی ہوں۔۔”
“عنبر بیٹا اٹھ جاؤ۔۔۔ “
“عنبر پلیز اٹھ جاؤ بی جان کی طبیعت آگے ہی ٹھیک نہیں ہے تمہیں ایسے دیکھ کر انہیں اور تکلیف ہورہی۔۔”
نازنین نے آگے بڑھ کر عنبر کو اٹھا کر بیڈ پر بٹھا دیا تھا بی جان کے پاس۔۔۔
“عنبر بیٹا۔۔تمہیں یاد ہے جب تم میرے پاس روتی ہوئی آئی تھی۔۔؟؟ سب فیملی کے سامنے گھر کے ہر ایک فرد کے سامنے تم نے فہاج کے خلاف وہ وہ باتیں کی تھی جو کوئی بیوی نہ کرتی۔۔۔ اس وقت تمہیں اپنے شوہر سے اس قدر نفرت ہوگئی تھی کہ تم چھٹکارا چاہتی تھی۔۔۔ فہاج تب بھی خاموش تھا۔۔ خاندان میں کس کس نے اسے ذلیل و رسوا نہیں کیا۔۔؟؟ ہر کوئی اسے بٹھا بٹھا کر رشتوں اور شادی کی اہمیت بتاتا تھا۔۔ اور وہ خاموشی سے سنتا رہتا سب کی باتیں۔۔۔ اس نے تمہاری خوشی کے لیے وہ سب کیا۔۔۔ تم سے اتنی محبت تھی کہ وہ دوبارہ دوسری شادی نہ کرسکا۔۔ میں اور نازنین کتنے رشتے دیکھا چکی تھی مگر وہ انکار کردیتا تھا۔۔ میں سمجھ گئی تھی کہ وہ کبھی تمہاری جگہ کسی اور کو نہیں دے گا۔۔”
عنبر روتے ہوئے بی جان کی گود میں سر رکھ چکی تھی
“تو اب کیوں کیا ایسا فہاج نے۔۔؟ بی جان فہاج کی شادی نے مجھے جیتے جی مار دیا ہے۔۔ مجھے خوش ہونا چاہیے کہ وہ خوش ہے۔۔ مگر کسی اور کے ساتھ فہاج کو خوش دیکھ کر میں پل پل مررہی ہوں۔۔۔”
بی جان کا چہرہ بھی بھر گیا تھا۔۔ عنبر کے رونے نے نازنین کو بھی رلا دیا تھا اس وقت۔۔
“فہاج نے اگر کسی کو جگہ دینی ہوتی تو تمہارے جانے کے بعد ہی دے دیتا۔۔۔
یہ تو اس بچی نے جگہ بنائی ہے فہاج کے دل میں۔۔۔ بیٹا برا نہ منانا۔۔۔ مگر ان دونوں کو دیکھ کر یہی لگا مجھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں انکی پہلی شادی مجھے ایک غلطی لگی۔۔۔”
بی جان نے دل کی باتیں کہیں تو عنبر غصے سے اٹھ گئی تھی اور اپنی مٹھی کھول کر بی جان کے سامنے کی تھی
“بی جان میں اپنی جان دہ دوں گی اگر فہاج نے اس عورت کو چھوڑا نہیں تو۔۔ یہ زہر کھا لوں گی۔۔”
“آپ پاگل ہوگئی ہیں۔۔؟؟”
نازنین نے بہت کوشش کی تھی وہ شیشی کھینچنے کی مگر عنبر ایک کارنر پر کھڑی ہوگئی تھی
“بی جان۔۔۔ ایک آخری موقع۔۔۔ بس ایک بار فہاج کو واپس لے آئیں۔۔۔ نہیں تو میں روحان کو بھی یہ دہ دوں گی۔۔۔ اور ہم دونوں کی موت کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔۔”
۔
بی جان نے آنکھیں بند کرلی تھی وہ اور نازنین لاچار پڑ گئے تھے عنبر کے سامنے اسکی دھمکی کے سامنے۔۔ وہ اس قدر ڈرا چکی تھی ان دونوں کو۔۔۔
“ہمم۔۔۔ میں فہاج۔۔۔ کو مناؤں گی۔۔۔”
“انوشہ کو طلاق دلوائیں گی نہ آپ وعدہ کیجئے۔۔۔”
“ہممم۔۔۔”
آنکھیں صاف کئیے بی جان نے ہاں میں سر ہلا کر جھکا لیا تھا۔۔۔
۔
وہ ان دونوں کو جدا کرنے کی کوشش کررہے تھے جنہیں قدرت ملا چکی تھی۔۔۔
انہیں نہیں پتہ تھا وہ سب اپنے اپنے ارادوں میں ناکام ہونے والے تھے۔۔۔
اور جیت انوشہ اور فہاج کے رشتے پر لکھی جاچکی تھی۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ؔ
