Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
“جی فہاج مامو آپ فکر مت کیجئے میں بات کرتا ہوں۔۔۔”
فرہاد نے بیڈروم میں داخل ہوتے ہی فون بند کردیا تھا فہاج صاحب کا جو اب پریشان ہورہے تھے صبیحہ پر ہاتھ اٹھا کر۔۔۔
“صبیحہ۔۔۔۔؟؟”
لائٹس آن کی تو اپنی بیوی کو بیڈ روتے ہوئے دیکھ فرہاد نے لائٹس پھر سے آف کردی تھی اور سائیڈ لمپ آن کرلیا تھا مدھم مدھم روشنی میں وہ دبے پاؤں بیڈ کی جانب بڑھا تھا
“صبیحہ۔۔۔”
“تمہاری خالہ وہ نہیں ہیں جو ہم سمجھتے آئے فرہاد شئ از چیٹر انہوں نے۔۔۔”
“صبیحہ انہوں نے شادی کی ہے کوئی گناہ نہیں۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ تم جانتے ہو۔۔۔؟ کب سے جانتے ہو۔۔۔؟ ہمیں ہی نہیں پتہ میں ابھی سب کو بتاتی ہوں موم ڈیڈ بی جان سب کو۔۔۔
کہ کیسے ایک آؤٹ سائیڈر نے آکر کیا کردیا۔۔۔انہیں شرم نہ آئی۔۔۔؟؟”
فرہاد نے غصے میں مٹھی بند کرلی تھی وہ بھی اپنا ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔۔۔
مگر صبیحہ کا بدتمیز لہجہ مجبور کررہا تھا اسے۔۔۔۔
“میری خالہ غلط ہیں بدکردار ہیں۔۔۔؟ وٹ اباوٹ یور ریسپیکٹڈ مامو۔۔۔؟؟
تمہارے مامو گئے تھے میری خالہ کو راضی کرنے کے لیے نکاح کے لیے منانے گئے تھے پاکستان۔۔۔
اور جہاں تک رہی بات کردار کی تو میں اپنی خالہ کے کردار کی گواہی قسم اٹھا کر دے سکتا ہوں۔۔۔”
“اور میں اپنے مامو کی۔۔۔ سنا آپ نے۔۔۔۔”
فرہاد کو پیچھے دھکیل کر وہ دروازے کی جانب بڑھنا چاہتی تھی جب فرہاد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر واپس بٹھا دیا تھا
۔
“جب ہم دونوں ان دونوں کی گواہی دے سکتے ہیں تو یقین کرو انہوں نے بھی ہمیں مایوس نہیں ہونے دیا نکاح کیا ہے کوئی افیئر نہیں چلایا۔۔۔
صبیحہ جب سے شادی ہوئی ہے میں تمہاری وہ منفی سائیڈ دیکھ رہا ہوں۔۔۔
کبھی خالہ کے خلاف تو کبھی انکے کردار کے۔۔۔”
فرہاد سائیڈ پر جیسے ہی بیٹھا تھا اسکا لہجہ مایوس کن تھا
“فرہاد”
“صبیحہ۔۔۔ میں نے تمہاری فیملی میں ہر ایک کو عزت دی یہ جانتے ہوئے بھی کہ کیسے میرے کردار پر انگلی اٹھائی گئی تھی۔۔۔
وہ خالہ ہی تھی جنہوں نے مجھے شادی کے لیے قائل کیا تھا ہماری لڑائی ہوئی تب بھی خالہ نے تمہاری سائیڈ لی۔۔۔
مگر یار تم ہر موڑ پر مجھے مایوس کررہی ہو۔۔۔۔ میں نے تم سے نہ کبھی کچھ مانگا نہ کوئی ڈیمانڈ کی۔۔۔
میں تمہیں پوزیٹو دیکھنا چاہتا ہوں ہر لمحہ۔۔۔۔ تم منفی رہو گی تو اثر ہمارے رشتے پر پڑے گا۔۔۔”فرہاد اٹھ کر چلا گیا تھا واشروم میں صبیحہ پر اسکی باتوں نے اتنا گہرا اثر چھوڑا تھا کہ وہ نیچے بتانے کے بجائے دروازہ لاک کرلیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ابھی تو شروعات تھی زندگی کی اور ابھی سے یہ آزمائش۔۔؟؟ میں کیسے کوئی بھی فیصلہ لت سکتی ہوں۔۔؟؟”
انوشہ نے جلتے بجھتے اس سگار کو انگلیوں میں لئیے بالکونی کا رخ کیا تھا۔۔۔۔
اس نے فہاج کی کسی بات کو خاطر خواہ نہ لا کر آج اپنا پوائنٹ تو ثابت کردیا تھا۔۔۔
“ابھی تک مجھے اپارٹمنٹ میں نہ پاکر وہ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ۔۔۔”
وہ ابھی خود سے بات کررہی تھی کہ روم کا دروازہ کھل کر بند ہونے کی آواز آئی تھی
۔
“انوشہ۔۔۔۔”
احلام کی آواز سن کر اسکے ہاتھ سے وہ سگار تو گر گیا تھا مگر اس نے اس وقت نائٹ ڈریس کا کالر ٹھیک کیا تھا وہ اس وقت ڈیسنٹ حالت میں نہیں تھی اور اب تو وہ بیوی تھی کسی کی اس طرح نائٹ ڈریس میں کسی غیر کے سامنے ایسے کھڑے ہونا بھی اسکے لیے گناہ تھا۔۔۔
“انوشہ۔۔۔ تم سے ہی بات کرنے کا موقع ڈھونڈ رہا تھا شام سے کیسی ہو۔۔؟؟”
احلام بےتکلفی سے آگے بڑھے تھے اور انوشہ کچھ قدم پیچھے۔۔۔
“جہاں ہیں وہیں کھڑے رہیں احلام آپ کو اس وقت یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔”
اس نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
“کیوں۔۔۔؟ کیوں نہیں آسکتا انوشہ۔۔۔؟ مجھے حق ہے آنے کا۔۔۔ میں ایک ہی بات کہنے آیا ہوں۔۔۔۔
پلیز شادی کرلو۔۔۔ حلالہ کرلو انوشہ۔۔۔ میں اور جدا نہیں جی سکتا تمہارے بغیر۔۔۔۔”
انوشہ کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے اور پاس جانے کی کوشش کی جب انوشہ انہیں پیچھے دھکیل کر دروازے تک جا پہنچی تھی۔۔۔
“حلالہ۔۔۔؟ اور وہ بھی تم جیسے بےوفا شخص کے لیے احلام۔۔۔۔؟ بھول ہے تمہاری۔۔۔۔
اور ایک بھول مجھ سے بھی ہوئی ہے مجھے یہاں رکنا نہیں چاہیے تھا۔۔۔”
وہ بیڈ پر پڑے سکارف کو گلے میں اوڑھے روم سے باہر نکلی تھی اور تیز قدموں سے جیسے ہی گھر سے باہر آئی تھی وہی گاڑی اسے نظر آئی تھی اور وہی شخص جو ہاتھ باندھے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا
“فہاج۔۔۔۔۔”
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔کچھ یاد آیا۔۔۔؟؟؟”
انوشہ کو وہ رات یاد آگئی تھی جب وہ ایسے ہی احلام سے بچتے بچاتے باہر آئی تھی۔۔۔۔
“نہیں مجھے یاد نہیں آیا۔۔۔میری یاداشت بہت کمزور ہے پرفیسر فہاج۔۔۔”
فہاج کے بازو سے پکڑ کر انوشہ نے انہیں دروازے سے پیچھے کردیا تھا اور دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔
“سیریسلی ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔؟ بیمار مریضوں کا علاج کرتے ہوئے پریشانی تو ہوتی ہوگی نہ اس کمزور یاداشت کی وجہ سے۔۔۔؟؟”
فہاج نے گاڑی سٹارٹ کرنے کے بعد پوچھا تھا۔۔۔
“میں بہت مخصوص مریضوں کا علاج کرتی ہوں جیسے کہ۔۔۔۔”
انوشہ نے اپنی مسکان چھپاتے ہوئے کہا تھا وہ دونوں ہی ٹین ایجرز کی طرح باتیں کرنے لگے تھے اس وقت۔۔۔۔
احلام نام تو بھول گیا تھا انوشہ کو۔۔۔۔۔
“جیسے کہ۔۔۔۔؟؟؟”
“جیسے کے نقلی ہارٹ پیشنٹ۔۔۔۔؟؟؟”
فہاج نے ایک دم سے بریک لگا دی تھی۔۔۔۔
جب انوشہ کی ہنسی پوری کار میں گونج رہی تھی
“ویری فنی مس ڈاکٹر۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا اپنا چہرہ دیکھیں زرا۔۔۔۔ ڈرامے بازی اچھی کی تھی اس رات۔۔۔”
“اس رات دل نہیں رکا تھا مگر تم نے چھوا تو دھڑکنیں ضرور رک گئیں تھیں”
انوشہ لاجواب ہوگئی تھی۔۔۔ بالوں میں منہ چھپائے انہوں نے چہرہ ونڈو کی طرف کرلیا تھا۔۔۔۔
فہاج ڈرائیو کرتے ہوئے بار بار انکے بلش کرتے چہرے کو دیکھ رہے تھے اور دل ہی دل میں مسکرا رہے تھے وہ لمحات بہت قیمتی تھے انکے لیے۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے وہ بہت مایوس تھے جب انوشہ کا انتظار کررہے تھے مگر
ڈاکٹر انوشہ کے آنے کے بعد انکی مایوسیاں جھڑنا شروع ہوگئیں تھیں۔۔۔
۔
“درد میرے وہ بھلا ہی گیا۔۔۔
کچھ ایسا اثر ہوا۔۔۔۔
جینا مجھے۔۔۔پھر سے وہ سیکھا رہا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہم پہنچ گئے منزل پر۔۔۔میڈم۔۔۔”
فہاج نے جولی موڈ میں کار ڈور اوپن کیا تھا۔۔۔
“منزل پر پہنچنا اتنا آسان کب سے ہوگیا پروفیسر فہاج۔۔؟؟
عمریں گزر جاتیں ہیں۔۔منزلوں کو ڈھنڈتے ڈھونڈتے۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر جیسے ہی اندر جانے کو تھی فہاج نے راستہ روک لیا تھا
“ایسا ضروری نہیں ہے ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔ کبھی کبھی منزلیں ہمیں ڈھونڈ لیتیں ہیں۔۔۔
کبھی کبھی ضرورت نہیں پڑتی انہیں کھوجنے کی کبھی کبھی بنا محنت کے بھی منزلیں مل جاتی ہیں۔۔۔”
انہوں نے وہ باقی کا فاصلہ بھی ختم کردیا تھا۔۔۔
“اور ایسی کونسی منزل بنا محنت کے پا لی آپ نے پروفیسر صاحب۔۔۔؟؟’
“تمہیں پا لیا میں نے ہر منزل پا لی۔۔۔”
اور ایک قدم کے فاصلے کو ختم کئیے جب وہ اور پاس ہوئے تھے انوشہ گاڑی کے ساتھ پنڈ تھی۔۔۔
“فہاج۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔”
تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے انہوں نے انوشہ کا چہرہ اوپر اپنے چہرے کے برابر کیا تھا
“فہاج۔۔۔بارش ہونے والی ہے بھیگ جائیں گے۔۔۔”
“آہاں۔۔؟؟ مجھے لگتا ہے بھیگ چکے ہیں ہم۔۔۔”
چہرے کو اور پاس لے جا کر سرگوشی کی تھی جس پر انوشہ نے آہستہ سے پیچھے کئیے اندر بھاگنے کی کی تھی جب بارش کی گرتی بوندیں محسوس کی تھی خود پر۔۔۔
“دیکھا میں نے کہا تھا نہ۔۔۔”
ابھی وہ کہتے ہوئے دروازے تک پہنچی تھی کہ زرا سی سلپ ہونے پر تکلیف سے انکی چیخ نکل آئی تھی۔۔۔
“ہیلز پہن کر کون بھاگتا ہے ایسے۔۔؟؟”
فہاج نے غصہ کیا تھا کمر پر ہاتھ رکھے انہوں نے انوشہ کو سہارا دیتے ہوئے اٹھایا تھا۔۔
“دیکھا لگ گئی۔۔۔”
“بہت۔۔درد ہورہا ہے۔۔۔”
مگر اگلے لمحے فہاج نے انہیں اٹھا لیا تھا۔۔۔
“فہاج۔۔۔ نیچے اتارئیے۔۔۔ ملازم دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے۔۔۔”
“مگر اندر لے جانے کے بجائے گرتی بارش میں لے گئے تھے اپنی بانہوں میں اٹھائے۔۔۔”
“آہ۔۔۔فہاج۔۔۔۔۔”
تیز بارش کی بوندیں جیسے جیسے چہرے پر پڑ رہی تھی انہوں نے اپنے منہ کو فہاج کی گردن کے قریب کرکے چھپانے کی کوشش کی تھی
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔بارش اینجوائے کریں ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔”
وہ اور باہر گاڑی کے سامنے چلے گئے تھےاور جیسے ہی تیز بارش میں وہ انوشہ کو اٹھائے گھومے تھے۔۔انوشہ بھی ہنستے ہوئے سینے پر تھپڑ مار کر روک رہی تھی فہاج کو مگر وہ تو اور ہنس دئیے تھے
“ہاہاہاہا۔۔۔ فہاج۔۔۔ بھیگ چکے ہیں اب تو۔۔۔ کچھ لحاظ کریں۔۔۔شرم کریں۔۔۔”
فہاج کی ہنسی بند ہوگئی تھی جب انوشہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ گاڑی کے بونٹ پر آہستہ سے انہوں نے جیسے ہی انوشہ کو بٹھایا تھا خود بھی انوشہ کی طرف جھکے تھے جیسے کسی جادو کے اثر میں ہوں۔۔۔
اپنی بیوی کے بھیگے ہوئے وجود نے ان سے انکا سارا کنٹرول جیسے چھین لیا تھا۔۔۔
۔
“لحاظ کررہا تھا۔۔۔ اور شرم۔۔؟؟ سب چلی گئی ہے۔۔ تم اس طرح بھیگی ہوئی لاچار سی میری گاڑی پر ایسے بیٹھی جتنی ہوٹ لگ رہی ہو مجھے لگ رہا ہے میں سارا کنٹرول کھو دوں گا۔۔”
انوشہ کی انگلیوں نے فہاج کے کوٹ کو کالر کو مظبوطی سے پکڑ لیا تھا فہاج کی وہ نشیلی نگاہیں اور وہ بولڈ ٹاکنگ ان پر بجلیاں گرا رہی تھی۔۔۔
“آہمم۔۔ فہاج۔۔۔”
وہ کبھی سمٹ رہی تھیں تو کبھی نظریں چُرا رہی تھی یہ پہلی بار تھا انکے لیے اتنے سال کے بعد یہ انٹیمیسی نئی تھی ۔۔۔ وہ خود کو شاید ان چیزوں سے باہر نکال لائی تھی اتنے سالوں میں۔۔۔
مگر فہاج کی ایک نظر نے انکے چہرے کو سرخ کردیا تھا وہ آج خود کو اتنا ہی حسین اور اتنا ہی ینگ سمجھ رہی تھی۔۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔میں جو کرنے جارہا ہو۔۔۔ قسم سے میں خود کو روک نہیں پا رہا۔۔۔”
انوشہ کو سمجھ نہیں آئی تھی جب فہاج کا ہاتھ جو انکی ویسٹ پر سے ہوتے ہوئے انکی گردن تک آپہنچا تھا۔۔۔ اور انہوں نے ان بولتے ہوئے ہونٹوں کو خاموش کردیا تھا اپنے لبوں سے۔۔۔
بارش کی گرتی بوندیں۔۔۔ جیسے خاموش ہوگئیں تھیں۔۔۔
انوشہ کے انگلیوں کالر سے ہوتے ہوئے فہاج کے بالوں تک جیسے ہی گئیں تھیں گہری سانس بھرے انہوں نے اپنی آنکھوں بھی بند کرلی تھی۔۔
وہ اینجوائے کرنا چاہتے تھے اپنی بیوی کے ساتھ محبت کے چاہت بھرے اس پل کو۔۔جہاں وہ دونوں کے درمیاں کوئی نہ تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کبھی کبھی مجھے روحیل پر غصہ آتا ہے۔ اور کبھی کبھی اتنا پیار بھی اب یہی دیکھ لو بیچارا صبح سے میرے لیے ناشتہ بنا رہا اور چائے بھی بنائی ہے۔۔۔”
“ہاہاہا بھابھی ہمارے بھائی کی برائی آپ ہی کرتی ہیں ہم تو جانتے ہیں وہ بہت پیار کرتے آپ سے۔۔۔”
“ابھی فوٹوز لیکر ممی کو سینڈ کرتی ہوں۔۔۔”
قرطبہ نے ناشتے سے بھری ٹرے کی تصاویر اتارنا شروع کی۔۔اور نیچے کچن میں روحیل کی حالات ہی اور تھی
“اب باہر آکر بتاؤ گے مجھے۔۔؟؟”
کچن میں سینٹر ٹیبل کے نیچے چھپے ہوئے روحیل کو بی جان نے باہر نکالنے کی کوشش کی تھی
“نہیں آسکتا باہر بی جان۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ سائرن بجنے ہی والا ہے۔۔بس۔۔”
بی جان ابھی روحیل کی بات پر حیران ہورہی تھی کہ اوپر روم سے قرطبہ کے چلانے کی آواز نیچے تک آئی تھی
“روحیل۔۔۔۔۔۔ “
“ہاہاہاہا اب کیا کردیا تم نے۔۔؟؟ صبح سے تو کچن میں لگے ہوئے تھے۔۔؟؟”
نازنین بیگم نے کان سے پکڑ کر اپنے بیٹے کو ٹیبل کے نیچے سے باہر نکالا تھا
“وہ میں امی۔۔۔ ناشتہ بنا رہا تھا۔۔۔”
“وہ تو پورا گھر جانتا ہے بیٹا آگے بتاؤ۔۔۔؟؟”
والد صاحب بھی کچن میں داخل ہوئے تھے
“تو کیا ابو۔۔۔ جہاں چینی ڈالنی تھی وہاں نمک ڈال دیا۔۔۔ “
سر پر ہاتھ رکھے روحیل چئیر پر بیٹھ گیا تھا
“اور تمہیں زرا سا اندازہ نہیں ہوا کہ کیا چینی اور کیا نمک۔۔؟؟”
وقاص نے اور ٹیز کرتے ہوئے پوچھا تھا
“میں نے تو چینی ہی رکھی تھی۔۔۔ کوئی تو آیا۔۔۔ وقاص کے بچے۔۔۔”
روحیل وقاص کے پیچھے باہر بھاگا تھا کہ سامنے قرطبہ کھڑی تھی
“قرطبہ وہ ۔۔۔”
“تم نہ ایک کام ڈھنگ کا نہیں کرسکتے۔۔۔ کوئی ایک کام بتا دو روحیل۔۔۔”
“ایکسکئیوز مئ۔۔؟؟ میں ڈیڈ بننے والا ہوں اور تم ماما۔۔۔ اتنا پرفیکٹ کام تو کردیا۔۔۔”
روحیل نے جیسے ہی بات مکمل کی قرطبہ تو بلشنگ کررہی تھی باقی سب بھی ہنس ہنس کے پاگل ہورہے تھے روحیل کے جواب پر۔۔۔
“یو ایڈیٹ۔۔۔”
وہ پاؤں پٹک کر باہر چلی گئی تھی۔۔۔
“اچھا سوری نہ۔۔پھر سے پھر سے ناشتہ بناتا ہوں۔۔۔”
“زہر ملا دینا اس دفعہ۔۔نہیں چاہیے کچھ بھی۔۔۔ چار گھنٹے کے انتظارکے بعد یہ کھانا دیا۔۔”
“وہ اونچی بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہاہ۔۔۔ڈیڈ بس۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔”
ہادی کی ہنسی گونج رہی تھی لیونگ روم میں جہاں رامین کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی اور وہاں موجود سب کے چہروں پر۔۔۔
پر دروازے پر کھڑی ابیہا کے چہرے پر کوئی ہنسی نہیں تھی دُکھ تھا غم تھا۔۔۔ اپنے والد کو اپنی الگ فیملی کے ساتھ اتنا خوش دیکھ کر
“ڈیڈ۔۔۔”
آواز میں اتنا درد تھا جب اس نے آہستہ آواز میں کہا تھا احلام کی ہنسی مسکراہٹ سب چلی گئی تھی بیٹی کو افسردہ کھڑا دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اپنی سیٹ سے۔۔
“ابیہا بیٹا۔۔۔”آگے بڑھ کر بیٹی کو اپنے گلے سے لگایا تھا انہوں نے
“بیٹا اندر آؤ۔۔ ناشتہ ساتھ کریں۔۔”
“ڈیڈ مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔پلیز۔۔۔”
“پلیز۔۔ کیوں بیٹا۔۔؟؟ چلو۔۔۔”
ابیہا کا ہاتھ پکڑے وہ دوسرے خالی روم میں لے جارہے تھے جب نیہا نے دونوں کا راستہ روکا تھا
“پہلے ناشتہ کرلیں آپ دونوں۔۔۔”
“بس میں اور ابیہا ابھی آئے۔۔۔آپ لوگ شروع کریں۔۔۔”
روم میں جیسے ہی لے کر گئے تھے ابیہا خاموشی سے بیٹھ گئی تھی
وہ بات کچھ اور کرنا چاہتی تھی مگر منہ سے الفاظ کچھ اور نکلے تھے
“آپ کیسے مکمل ہوگئے ڈیڈ مجھے اور موم کو ادھورا چھوڑ کر۔۔؟؟ کتنا خوش ہیں نہ آپ اپنی زندگی میں۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کے بغیر ہم زندگی کیسے گزاری ہے۔۔؟؟”
جوان بیٹی کے اس سوال پر احلام صاحب کچھ دیر کو ہل نہیں پائے تھے اپنی جہ سے وہ جو ابھی اتنی پرجوش تھے اپنی بیٹی سے بات کرنے کے لیے۔۔ اب اداسی چار سو تھی انکے۔۔۔
“جب تک تم دونوں کو علم نہیں تھا میری دوسری شادی کا تب میں بہت خوش تھا۔۔ ایک الگ دنیا میں ایک الگ رشتے میں۔۔۔ چھپتے چھپاتے۔۔۔”
بیٹی کے پاس بیٹھے تو وہ کچھ دور ہوگئی تھی اس پر بھی احلام کے چہرے پر درد بھری مسکراہٹ تھی
“آج اگر میں اپنی غلطی کا اعتراف کروں تو تم یقین نہیں کرو گی بیٹا۔۔۔
میں نےسب سے بڑی غلطی کی تھی دوسری شادی کرکے۔۔ تمہاری موم کو دھوکا دے کر۔۔
وہ جو اس وقت مجھے خوشیاں نظر آرہی تھی وہ پتھر تھے جو میں بچھاتا چلا گیا تمہاری موم اور اپنے رشتے میں۔۔۔
آج تمہاری موم میری دسترس میں نہیں تو میں ہی جانتا ہوں کہ کیسے گزار رہا ہوں زندگی۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔ ڈونٹ مائنڈ مگر مجھے آپ کہیں بھی ریگریٹ کرتے ہوئے نظر نہیں آئے۔۔ باہر کتنے خوش تھے آپ۔۔
ڈیڈ آپ اپنی دوسری فیملی اور بچے کے ساتھ خوش ہیں۔۔ آپ کو پچھتاؤا تب ہوتا ہے جب میں یا موم آپ کے سامنے ہوں۔۔۔ نوووو ڈاؤٹ۔۔ موم نے ڈائیورس کیوں لی تھی۔
وہ پہچان گئی تھی آپ کو۔۔ وہ جان گئی تھی کہ آپ کے ساتھ رہ کر انکی زندگی اسی عذاب میں گزرے گی۔۔۔”
ابیہا ایک دم سے غصہ کرتے ہوئے اٹھی تھی اپنے ڈیڈ کے سامنے پہلی بار اس نے اتنی اونچی آواز میں بات کی تھی
“ابیہا بیٹا۔۔۔”
“میں کن بیکار کی باتوں کو لیکر بیٹھ گئی۔۔۔؟؟ آپ خوش ہیں موم نے خوش رہنا سیکھ لیا ہے میں بھی خوش ہوں۔۔۔ انفیکٹ آپ سے الگ ہوکر ہم متوازن زندگی گزار رہیں ہیں ڈیڈ۔۔۔ بس ایک ریکویسٹ کرنے آئی تھی۔۔۔
پلیز۔۔۔۔ موم کو کسی طرح راضی کرلیں۔۔”
“راضی۔۔؟؟ کس لیے بیٹا۔۔؟ اور ریکویسٹ کیوں۔۔؟ حکم کرو ابھی پورا کروں گا۔۔”
اپنی مایوسی بےعزتی شرمندگی کو چھپاکر انہوں نے چہرے پر مسکان سجائے پھر سے ابیہا کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا۔۔۔
“ڈیڈ میں شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
“واہ۔۔۔سچی۔۔۔؟؟ بیٹا اس بات کو اتنا اداس ہوکر کیوں بتا رہی ہو۔۔؟؟”
انہوں نے بیٹی کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے پوچھا تھا
“ڈیڈ۔۔۔ میں جس لڑکے کو پسند کرتی ہوں۔۔۔وہ۔۔صبیحہ بھابھی کا کزن ہے۔۔۔
فہاج انکل کا بیٹا روحان۔۔۔
ڈیڈ نہ موم مان رہی ہیں۔۔۔ اور نہ ہی روحان کے ڈیڈ۔۔۔ پلیز آپ بات کیجئے۔۔۔”
“موم نہیں مان رہی تو سمجھ آتی ہے مگر روحان کے ڈیڈ کیوں نہیں مان رہے۔۔؟؟”
انہیں تشویش ہوئی تھی۔۔۔
اور کچھ ہی دیر میں بات جیسے انہیں سمجھ آنے لگی تھی انہوں نے اپنا ہاتھ غصے سے بند کرلیا تھا۔۔۔
“تم جس سے چاہو گی اسی سے تمہاری شادی ہوگی میری بچی۔۔۔ اس لڑکے سے کہو مجھے آکر ملے۔۔”
“سچ میں ڈیڈ۔۔؟؟ تھنک یو سووو مچ پاپا آئی لوو یو۔۔۔۔۔”
احلام خوشی سے پھولے نہیں سمائے تھے ابیہا کے چہرے پر اتنی خوشی دیکھ کر۔۔۔
“اسے کہو آج شام ہی ملے مجھ سے۔۔۔”
وہ احلام سے پیار لیکر جلدی سے بھاگ گئی تھی روحان کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے۔۔۔
“میں اب یقین سے کہہ سکتا ہوں اس شخص کی نظریں انوشہ پر ہیں۔۔ اس لیے نہیں چاہتا کہ بچوں کا رشتہ ہو۔۔۔ مگر وہ مجھے جانتا نہیں ہے۔۔۔
انوشہ کے دل و دماغ پر میں نے راج کیا اتنے سالوں سے۔۔۔ اب وہ جگہ نہیں لے سکتا۔۔
آج نہیں تو کل انوشہ کو میں منا ہی لوں گا۔۔ نکاح نہ سہی میری محبت میں وہ میرے ساتھ نکاح کے بغیر بھی رہ لے گی میں اس قدر پاگل کردوں گا اپنے پیار میں اسے۔۔۔
میں جانتا ہوں اسکی کمزوری میں ہوں۔۔۔اسکی پہلی محبت۔۔۔”
۔
