Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“میری دی ہوئی پازیب ابھی تک پہن رکھی ہے تم نے۔۔۔؟؟”
فہاج نے شاکڈ ہوکر پوچھا تھا جو گھبراہٹ انکے چہرے پر وہ اور مسکان میں بدل گئی تھی اور اب انوشہ کا چہرہ لال ہوگیا تھا۔۔۔۔
۔
“اس قدر پاکیزہ محبت کی ہے تم سے۔۔۔
سر اٹھا کر دیکھا بھی تو صرف پاؤں تک۔۔۔”
۔
“وہ۔۔ ہم۔۔۔ ایکچولی۔۔۔۔”
“شئ از سٹیمرنگ۔۔۔”
“ڈاکٹر انوشہ اور نروس۔۔؟؟”
وہ دور کھڑے انٹرن گوسپ کررہے تھے جن کو سن کر پلوشہ آگے بڑھی تھی
“سر آپ ویٹنگ روم میں ویٹ کیجئے اگر آپ نے ڈاکٹر انوشہ سے اپاؤنٹمنٹ لی ہے۔۔۔”
وہ اور نرس فہاج کو ویٹنگ روم کا رستہ دیکھا رہی تھی اور فہاج صاحب جو بہت مایوس ہوگئے تھے جب انوشہ ٹرن ہوئی تھی واپس۔۔۔
“اوکے۔۔۔”
فہاج نے آہستہ آواز میں کہا اور ساتھ چل دئیے تھے ان کے پیچھے۔۔۔
“انہیں میرے کیبن میں لے جائیں ڈاکٹر پلوشہ۔۔۔”
انوشہ جلدی سے ٹرن ہوگئی تھی ان ان ڈاکٹرز کے ساتھ دوسرے وارڈز میں چلی گئی تھی۔۔۔
“داکٹر انوشہ کا کیبن۔۔۔؟؟”
بچوں جیسی ایکسائیٹمنٹ کو چھپاتے ہوئے انہوں نے پوچھا تھا ڈاکٹر پلوشہ کو۔۔۔
جو کبھی انکو دیکھ رہی تھی تو کبھی ڈاکٹر انوشہ کو۔۔۔
“واااووو۔۔۔۔ڈیٹ واز ان ایکسپیکٹڈ۔۔۔۔”
“یپ۔۔۔سیریسلی۔۔۔؟؟”
” کم آن گائیز ہوں گے کوئی اولڈ پیشنٹ اس میں ایسے ہنس کیوں رہے ہو۔۔۔”
“ہو سکتا ہے۔۔۔ورنہ ڈاکٹر انوشہ کسی کو اپنے کیبن میں ویٹ کرنے کا نہیں کہتی۔۔۔”
“بیک ٹو ورک انٹرنز۔۔۔”
پلوشہ واپس آگئی تھی ۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سووو ڈاکٹر انوشہ۔۔۔؟؟ آپ کا کیبن بھی دیکھنا نصیب ہوا۔۔۔۔”
فہاج نے اپنا بیگ ساتھ کھڑا کردیا تھا صوفہ کے۔۔۔اور خود کوٹ اتار کر پورے کیبن کو دیکھنے لگے تھے۔۔۔
خاص کر سامنے وال پر لگے انکا اثاثہ۔۔۔ انکی کامیابیوں کی اسناد اور انکے آوارڈ۔۔۔
جو بتا رہے تھے ڈاکٹر انوشہ کا اب تک کا سفر۔۔۔۔
رہا نہیں گیا تو فہاج اس وال کے پاس چلے گئے تھے۔۔۔
بہت سے فوٹو فریم کو دیکھ کر وہ خود بھی بہت فخر محسوس کررہے تھے۔۔۔
۔
چلتے چلتے وہ واپس ڈیسک کے پاس آگئے تھے۔۔۔
اور نیم پلیٹ کو اٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا جب کیبن کا دروازہ اوپن ہوا تھا۔۔۔
“فہ۔۔پروفیسر فہاج۔۔۔”
انوشہ نے ڈور بند کردیا تھا
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔ کیسی ہیں۔۔۔؟؟”
وہ دو قدموں کے فاصلے کو بھی ختم کرچکے تھے
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔آپ کیسے ہیں۔۔؟؟اور یہاں خیریت سے۔۔؟؟”
وہ آگے بڑھ کر اپنی چئیر پر جا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔ فہاج صاحب لیک آف رسپانس پر ڈس اپاؤنٹ تو ہوئے تھے مگر وہ کر بھی کیا سکتے تھے اس وقت۔۔؟؟
سو وہ بھی ڈیست کے ساتھ صوفہ پر جاکر بیٹھ گئے تھے
“میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔دراصل۔۔آپ سے ملنے۔۔۔ آئی مین۔۔ میں پاکستان کسی کام سے آیا تھا۔۔۔”
“اوووہ۔۔۔۔”
انہیں کیوں مایوسی ہوئی تھی انہیں کیوں لگا تھا کہ پروفیسر فہاج ان سے ملنے آئے ہوں گے۔۔؟؟
“میں نے واپس جانا تھا تو سوچا کہ آپ سے ملاقات کروں۔۔۔ معذرت کروں اٹلی میں جو کچھ بھی ہوا۔۔۔”
“آپ سب کو کیا ہوا ہے۔۔؟؟ وہاں وہاب صاحب بھی بار بار فون کرکے ۔۔۔”
“کیا۔۔؟؟ وہاب نے فون کیا۔۔؟؟”
جگہ سے اٹھ کر بلکل ڈیسک کے قریب کھڑے تھے وہ۔۔
“جی۔۔۔انکا فون آیا تھا اور۔۔۔”
“اسکے پاس آپ کا نمبر کیسے گیا۔۔؟؟”
“یہ تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے میرا سیل نمبر آپ کی فیملی میں سے صرف آپ کے پاس تھا۔۔۔”
بات کرتے کرتے پھر سے انکا سیل رنگ ہوا تھا
“سی۔۔۔ پھر سے کال آرہی۔۔۔ایک منٹ۔۔۔”
مگر فہاج نے موبائل پر کال پک کرکے سپیکر پر لگا دیا تھا۔۔۔
“ہیلو ڈاکٹر انوشہ۔۔۔؟؟ میں جانتا ہوں ڈسٹرب کررہا ہوں۔۔۔مگر کیا ہم کہیں باہر مل سکتے ہیں۔۔؟؟ میں آج رات کی فلائٹ سے واپس آرہا ہوں۔۔۔پلیز انکار مت کیجئے گا ہم تو رشتے دار بھی ہیں۔۔۔”
انوشہ انکی بلنٹ آفر پر شاکڈ نہیں تھی جتنا فہاج کے ری ایکشن نے انہیں حیران کردیا تھا
جب انہوں نے اپنی بند مٹھی کو ڈیسک پر مارا تھا
“کونسی رشتے داری کہتی ہے کہ باہر ملنا لازم ہے مسٹر وہاب۔۔؟؟”
فہاج نے جیسے ہی کہا تھا وہاب کی طرف خاموشی تھی۔۔۔
“وٹ دا ہیل فہاج۔۔تم وہاں۔۔؟؟ او۔۔۔ لیٹ مئ ایکسپلین یار۔۔”
وہ ہڑبڑا اٹھے تھے
“وہ تو میں واپس آکر خود ہی اگلوا لوں گا تجھ سے۔۔۔ دوبارہ اس نمبر پر تمہاری کال نہ آئے۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟”
انوشہ نے موبائل واپس پکڑنے کی کوشش کی تھی جب فہاج نے واپس لے لیا تھا اور وہاب ک نمبر بلاک لسٹ پر ڈال دیا تھا
“یو نو وٹ پروفیسر فہاج فرسٹ ٹائم کسی نے اس طرح سے کنٹرولنگ کرنے کی کوشش کی ہے میری زندگی میں۔۔۔”
وہ غصے سے بولی تھی
“لُک۔۔۔ ایم سوری۔۔۔”
وہ جیسے ہی واپس بیٹھے تو دروازہ اوپن ہوا تھا وارڈ بوائے جوس کے گلاس اندر لیکر آیا تھا
“آپ یہاں آئے کیوں ہیں۔۔؟؟”
انوشہ نے اور سختی سے پوچھا تھا۔۔۔ کیبن میں پھر سے وہ دونوں تھے۔۔۔
“میرا آنا اتنا بُرا لگا ہے تمہیں۔۔؟؟ تمہاری اطلاع کے لیے ارض ہے کہ جو اس کمینے نے کہنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگایا وہ مجھے کہنے میں تین ہفتے لگ گئے۔۔
تو سنو۔۔۔ میں اٹلی سے لمبی فلائٹ لیکر سیدھا یہاں آیا تھا تاکہ تم سے پوچھ سکوں کہ کہیں باہر چل کر کھانا کھائیں یا چائے پیئں۔۔۔
کیونکہ میں گلٹ میں ہوں جب سے تم ایسے واپس آئی ہو۔۔۔ناؤ ہیپی۔۔؟؟
میں یہاں اور رک کر تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا۔۔۔”
وہ اٹھے تھے اپنے بیگ کا ہینڈل پکڑا اور دروازہ کا ہینڈل پکڑا تھا کھولنے کے لیے جب انوشہ کی
نرم و سکون بخشتی آواز انکی سماعتوں میں رس گھول گئی تھی
“اچھا بنا وعدہ پورا کئیے جارہے۔۔ڈنر ویسے بھی ادھار ہے۔۔۔
پروفیسر صاحب اتنا ادھار اچھا نہیں ہوتا۔۔۔اگر آپ یہاں انتظار کریں تو میں اپنے دو پئشنٹ کو دیکھ آؤں۔۔۔”
ابھی وہ دور تھی اور ابھی وہ پروفیسر فہاج کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے ہینڈل کھول کر باہر چلی گئی تھی
“میرا انتظار کیجئے گا اور جوس پی لیں۔۔۔”
۔
وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“اوف۔۔۔۔۔۔۔ یا اللہ۔۔۔۔”
روکا ہوا سانس انہیں نے لیاتو اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔
۔
“یہ ہارٹ کی ڈاکٹر میرا ہارٹ فیل کرو کے چھوڑے گی۔۔۔”
۔
اور انوشہ نے سچ میں دوسری بار سرپرائز کردیا تھا فہاج کو۔۔۔
پہلی بار جب شاپنگ خود سے کی تھی۔۔۔ اس وقت جب فہاج کو کوئی امید نہیں تھی۔۔۔
اور آج بھی جب وہ سب امیدیں چھوڑ چکے تھے۔۔۔
اگین ڈاکٹر انوشہ نے انہیں لوجواب کردیا تھا۔۔۔
۔
“خواہشیں انتظار اور یقین
وسوسے بے شمار اور یقین۔۔۔۔”
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فرہاد آپ آئے نہیں میں انتظار کررہی ہوں۔۔”
کال ملتے ہی صبیحہ نے کہا
“کیوں میں نے آنا تھا۔۔؟؟ مجھے پتہ نہیں تھا۔۔ میں آفس کے کسی کام میں مصروف ہوں۔۔”
“فرہاد۔۔پلیز آپ کا جو غصہ ہے وہ مجھ سے ہے میری فیملی کو اس طرح انسلٹ مت کیجئے سب انتظار کررہے۔۔”
وہ روم میں چلی گئی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی باتیں کوئی اور سنے
“”کیوں بس تم انسلٹ کرسکتی ہو میری فیملی کی میری خالہ کی۔۔؟؟”
“فرہاد میں نے ایکسکئیوز کرلیا تھا انکل آنٹی سے۔۔۔”
“مگر انوشہ خالہ سے نہیں کیا تھا۔۔ میں نے نکاح کے وقت بھی دیکھا تھا وہ تمہاری بدتمیزی کے باوجود بھی تمہیں اتنی چاہ سے ملی اور تم انکے گلے لگتے ہوئے۔۔۔
تمہارے تاثرات دیکھ لئیے تھے میں نے۔۔۔”
فرہاد نے اپنی سیکریٹری کو باہر بھیج دیا تھا
“فرہاد۔۔۔”
“میں موم سے کہتا ہوں ڈرائیور کو بھیج دیں گی۔۔ رات کو میرا ویٹ مت کرنا لیٹ آؤں گا۔۔”
فون بند ہوگیا تھا اور وہ موبائل کان پر لگائے وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔۔
“کیا ہوا بیٹا فرہاد کب آرہا۔۔؟؟”
نازنین نے روم میں داخل ہوکر پوچھا
“وہ کہہ رہے کہ کچھ امپورٹنٹ کال آگئی تھی ابھی آفس ہیں۔۔۔ کہہ رہے تھے لیٹ آئیں گے
تو میں نے منع کردیا میں خود چلی جاؤں گی ڈرائیور کے ساتھ۔۔۔”
صبیحہ کہہ کر چلی گئی تھی نازنین بیگم کو پہلے نہیں مگر اب شک ہورہا تھا۔۔
اور وہ سیدھا بی جان کے کمرے میں گئی تھی
“نازنین بیٹا۔۔ آج پہلا ماہ ہے صبیحہ کا اس نئے رشتے میں۔۔ اب بیٹی بہو بن گئی ہے
اور بہو کا بار بار پیچھا کرنا اچھی بات نہیں ہے اسے وقت دو میری بچی۔۔
یہی تو وقت ہے جب وہ سمجھے گی کہ اس نے گھر کو بسانا ہے یا بکھیرنا ہے۔۔۔”
بی جان نے اپنی تسبیح کو سائیڈ پر رکھ کر نازنین بیگم کو بہت پیار سے سمجھایا تھا۔۔۔
۔
صبیحہ کے میکے میں بہت سی باتیں ہوئیں تھی فرہاد کے نہ آنے پر بہت لوگ غصہ بھی تھے فرہاد کی اس لاپروائی پر۔۔
مگر جس طرح صبیحہ نے پردہ ڈالا اور سب کے سوالات کا مسکرا کر جواب دیا اس سے ثابت ہورہا تھا کہ وہ اپنا گھر بچانا چاہتی ہے۔۔
وہ اپنا گھر فرہاد کے ساتھ بسانا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“روحان بیٹا۔۔۔؟؟؟ کتنے دن سے دیکھ رہی ہوں تم ایسے بجھے بجھے سے ہو کیا بات ہے۔۔؟
نہ اپنے ڈیڈ کے گھر گئے ہو نہ بی جان کی طرف سب خیریت ہے۔۔؟؟”
عنبر نے روم لائٹس آن کردی تھی۔۔۔
“مووووم۔۔۔پلیز لائٹ بجھا دیں ڈسٹرب کررہی ہیں۔۔”
کشن آنکھوں پر رکھ کر روحان نے لائٹ تو بلاک کردی مگر عنبر نے وہ کشن بھی کھنچ لیا تھا
“بس کرجاؤ۔۔ اور بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔؟”
“کچھ نہیں موم۔۔۔ بس ایسے ہی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔”
عنبر نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا تو کافی گرم تھا
“تمہیں تو بخار ہے بہت تیز۔۔۔ اور تم نے بتایا نہیں۔۔؟ ایک تم اور دوسرا تمہارا باپ۔۔
کہاں غائب ہے۔۔؟؟ نہ اپارٹمنٹ میں ہے اور نہ ہی کسی کو کچھ خبر۔۔
تمہارے باپ کی عیاشیاں نہیں گئی اب تو سدھر جائے۔۔۔”
عنبر کہاں سے شروع ہوئی کہاں ختم ہوئی اسے خود نہیں پتہ تھا۔۔۔
“کس طرح کی عیاشیاں موم۔۔؟؟ انہوں نے تو زندگی اینجوائے کی ہی نہیں۔۔
آئی مین لک ایٹ یو۔۔۔آپ نے شادی کرلی اس دوسری شادی سے آپ کے دو بچے ہیں۔۔
مگر ڈیڈ۔۔۔؟؟ انہوں نے ساری زندگی تنہا گزار دی۔۔۔ اسے آپ عیاشی کہتی ہیں۔۔؟؟
میں نے انہیں نہیں دیکھا زندگی اینجوائے کرتے ہوئے۔۔۔
سو پلیز۔۔۔ انہیں بیڈ گائے بنانا بند کردیجئے۔۔۔میں یہاں صرف آپ کے ساتھ اریبہ کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنے آیا تھا۔۔۔
اپنے ڈیڈ کی انسلٹ سننے نہیں۔۔۔”
لٹرلی۔۔۔فرسٹ ٹائم روحان نے اپنے ڈیڈ کو ڈیفینڈ کیا تھا۔۔
ڈور پر کھڑی اسکی بہن اریبہ اور سٹیپ ڈیڈ فرحان اتنا ہی شاکڈ ہوئے تھے جتنی کمرے میں کھڑی عنبر۔۔۔
روحان اٹھ کر اپنا والٹ اور کار کیز اٹھا کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
مگر ایٹ لیسٹ کسی نے تو عنبر کو آئینہ دیکھایا ۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ وہاں کیسے پہنچ گیا۔۔؟؟ اسے اتنا دور تو کردیا تھا انوشہ کی سوچ سے بھی پھر یہ سب کیسے ہوا۔۔؟؟؟”
گلدان کو انہوں نے جیسے ہی دیوار پر مارا تھا فہاج کا فوٹو فریم نیچے گر گیا تھا۔۔
۔
“لڑکی تو گئی ہی گئی۔۔۔ دوست بھی گیا ہاتھ سے شٹ۔۔۔”
اور انکے سیل پر کال آگئی تھی فہاج صاحب کی۔۔۔
وہ ڈرتے ہوئے اٹھا نہیں پا رہے تھے جب انہیں میسج موصول ہوا۔۔
“فون اٹھالے۔۔۔ ابھی صرف بات کروں گا۔۔۔ مجھے مجبور مت کر کے وہاں آکر تو لگاؤں تجھے۔۔۔”
اور میسج پڑھتے ہی انہوں نے فون اٹھا لیا تھا۔۔۔
۔
“فہاج میں۔۔۔”
“انوشہ کا نمبر ڈیلیٹ کردیا۔۔۔ پھر دو ہفتے میرے اپارٹمنٹ میں میرے لیے نہیں مجھ پہ پہرہ دینے کے لیے رہ رہے تھے۔۔۔
مجھے ہر پل ہر لمحے انوشہ کے خلاف کرتے رہے تاکہ میں سالوں تک سوچ نہ سکوں۔۔۔
اور اب۔۔؟؟ مجھے پتہ چل رہا ہے تم اسی عورت کو اپپروچ کررہے ہو جس سے بات کرنے پر بھی تم نے مجھے میری فیملی اور بچوں کی عزت ریپوٹیشن اور سوسائٹی کا
طعنہ دے دے کر وہیں بٹھا دیا تھا الموسٹ۔۔۔”
فہاج نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اور لمبا سانس لیا تھا
“وہاب۔۔۔ کہہ دے جو میں سوچ رہا ہوں وہ غلط ہے جھوٹ ہے۔۔۔
تو نے مجھے اس لیے منع کیا تاکہ تو۔۔۔؟؟”
“فہاج۔۔۔میری بات سن لے۔۔۔”
“ہاں یا ناں وہاب۔۔۔؟؟”
وہ خاموش ہوگئے تھے اس وقت۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔”
“کیوں۔۔۔؟؟”
“انکا لہجہ مایوس کن ہوگیا تھا۔۔۔ طلاق کے بعد عنبر کے بعد یہ پہلا رشتہ اور انوشہ وہ دوسری عورت تھی جن کے لیے وہ ہر حد پار کررہے تھے
“کیونکہ فہاج۔۔ انوشہ۔۔۔میں انوشہ کو شادی کا کہنا چاہتا تھا۔۔ مجھے پتہ تھا تو بھی انٹرسٹد ہے۔۔۔مگر میں جانتا تھا تو کبھی اپنی پسند یا شادی کا نہیں کہے گا۔۔ کیونکہ تو عنبر اور اپنے بچوں کے سوا کبھی کسی کا سوچ ہی نہیں پایا۔۔۔
میں جانتا تھا تو آگے قدم نہیں بڑھائے گا اس لیے میں نے نمبر ڈیلیٹ کردیا کیونکہ میں خود بھی شاکڈ ہوگیا تھا جب تو نے ٹکٹ دیکھائی۔۔۔ ایم سوری یار۔۔۔”
۔
“یو نووٹ۔۔۔؟؟ وہاب ۔۔۔یہ ہماری آخری بات تھی۔۔۔ اور اگر تو نے کبھی میری عزت کی ہے تو دوبارہ انوشہ کو اپپروچ نہ کرنا۔۔۔ اور نہ ہی مجھ سے کبھی رابطہ کرنا۔۔
جب میں واپس آؤں تو اپارٹمنٹ سے چلے جانا۔۔۔
خدا حافظ۔۔۔”
۔
۔
فہاج نے غصے سے فون بند کرکے نمبر بلاک کردیا تھا۔۔۔
اور خود ہی چہرے پر غصے کے بعد مسکان آگئی تھی۔۔۔
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔ آپ کے پیچھے پیچھے سب سے جھوٹ بول کر پاکستان آگیا۔۔
دوست چھوٹ گیا برسوں پرانا۔۔۔ اب آگے کیا ہوگا میرے ساتھ۔۔؟؟”
اپنا کوٹ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا تھا۔۔۔
جوس پینے کے بعد کب وہ صوفے پر لیٹے اور کب انکو نیند آگئی انکو خبر نہ ہوئی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ۔۔۔پچھلے ایک گھنٹے سے یہیں ہو یار اتنی باتیں تو مجھ سے آج تک نہیں کی ہوں گی جتنی اب کررہی ہو۔۔۔”
تاہین نے میگزین چھین لیا تھا عین اسی وقت پلوشہ بھی آگئی تھی غصے میں۔۔
“سیریسلی انوشہ۔۔؟؟ شام ہونے کو آگئی ہے تم ابھی تک کیبن میں واپس نہیں گئی۔۔؟؟ وہ صاحب انتظار کررہے ہیں یار۔۔۔”
“اوو۔۔۔ کون شخص ۔۔۔؟؟ انوشہ۔۔۔؟؟”
“وٹ۔۔؟؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔”
انوشہ ونڈو کی طرف چلی گئی تھی اور اب ہونے احساس ہورہا تھا کہ ٹائم واقع بہت ہوگیا تھا۔۔۔
کچھ گھنٹے پہلے وہ فہاج کو کیبن میں چھوڑ کر آئی تھی
“کیا مطلب یار۔۔؟؟”
“مجھے یہی نہیں پتہ۔۔۔ ایک دل کررہا ہے کہ میں فہاج کے ساتھ باہر کہیں جاؤں مگر دماغ نہیں مان رہا۔۔۔”
“مگر کیوں۔۔۔؟؟ کیا تم جانتی ہو۔۔؟ اگر جانتی ہو تو باہر جانے میں حرج نہیں یہ ڈیٹ شیٹ ہے۔۔؟؟”
تاہین نے ٹیز کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“وہ فرہاد کے سسرال میں سے ہیں۔۔ فرہاد کی وائف کے مامو۔۔۔”
“اووووووو۔۔۔۔۔”
“واوووووووووووو”
ان دونوں کے ری ایکشن الگ الگ تھے
“مسئلہ کیا ہے۔۔؟؟ وہ اگر یہاں آئے ہیں تو تمہیں تو انکو ڈنر بریک فاسٹ وغیرہ کروانا چاہیے انوشہ۔۔۔ رشتے دار ہیں۔۔۔”
“تاہین۔۔۔ مجھے ۔۔لگتا ہے فہاج کا موٹو کچھ اور ہے۔۔؟؟ لائک جیسے انہوں نے ائرپورٹ پر کہا تھا کہ ڈاکٹر انوشہ اور پروفیسر کی ملاقات ختم ہوئی ہے۔۔۔ اسکے بعد فہاج انوشہ کی ملاقاتیں شروع ہوں گی اور۔۔۔”
“وٹ دا۔۔۔۔سیریسلی۔۔؟؟”
تاہین جیسے ہی اچھلی تھی ہنستے ہوئے پلوشہ کے بھی وہی تاثرات تھے۔۔۔
“اس عمر میں ہینکی پینکی۔۔۔؟؟ یو مین ٹو سئے ڈاکٹر اینڈ پروفیسر۔۔۔؟؟ دس ساؤنڈ ہوٹ۔۔۔”
“ہولڈ آن تاہین۔۔۔پلیز۔۔۔۔ وہ رشتے دار ہیں۔۔۔اور ایسا مجھے لگا تھا۔۔ کیا پتہ ایسا نہ ہو۔۔۔”
“ایگزیکٹلی تاہین۔۔۔ انوشہ تم انکی اچھی خاطر داری کرو۔۔ آئی تھنک تم کچھ زیادہ سوچ رہی۔۔۔”
۔
انوشہ کو بہت دیر تک سمجھایا اسے تب بھی سمجھ نہیں آرہی تھی
“کیا تم میرے کیبن میں جا کر ایکسکئیوز نہیں کرسکتی پلوشہ۔۔؟؟کہہ دینا میں آپریشن میں مصروف ہوں۔۔۔”
“نووو نووو نوو۔۔۔۔۔ پلوشہ کہیں نہیں جائے گی تم جاؤ گی اور انہیں یہاں پاکستان گھماؤ۔۔جاؤ۔ یار۔۔۔”
“ایک منٹ۔۔ یہ ہنس کیوں رہی ہو۔۔؟؟ کچھ ایسا ویسا مت سوچو۔۔۔ کم سے کم ہماری اس عمر کا لحاظ کرو۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا عمر کو گولی مارو جوان دلوں کو دیکھو۔۔۔ جاؤ جاؤ۔۔۔جلدی سے۔۔۔”
انہوں نے انوشہ کو روم سے باہر بھیج ہی دیا تھا۔۔۔جو آج اپنے کیبن میں جانے سے پہلے گھبرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
“ہر کسی سے گریز مت کیجے
ہر کوئی بے وفا نہیں ہوتا۔۔۔۔”
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پروفیسر فہاج۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گئی تھی فہاج کو یوں پرسکون سوتے دیکھ وہ بنا شور کے اندر داخل ہوئی تھی اور جب ڈیسک پر بیٹھ کر اس نے مکمل طور پر فہاج کو دیکھا اور ساتھ بیگ کو اسے وہی باتیں یاد آرہی تھی جو کچھ دیر پہلے فہاج نے کہی تھی
“مجھے کیوں لگ رہا ہے یہ یہاں کسی کام کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ۔۔۔”
اپنی بات مکمل نہ کرسکی تھی فہاج کے کھلے منہ کو دیکھ کر اسکے چہرے پر ہلکی سی مسکان آئی تھی
اور اٹھ کر فہاج کی تھوڑی کے نیچے اپنی انگلیاں رکھ کر آہستہ سے منہ بند کرنے کی کوشش کی تھی۔۔
جب انکا منہ بند ہوگیا تو وہ پیچھے ہاتھ ہٹا چکی تھی اور منہ پھر سے کھل گیا تھا۔۔۔
“افف۔۔۔”تیسری بار بھی جب منہ کھل گیا تو وہ اور جھکی تھی۔۔۔
اور اسی وقت دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
نوشہ جلدی سے پیچھے ہوکر اپنی چئیر کی طرف بڑھی تھی اورا فہاج کی آنکھیں بھی کھل گئی تھی۔۔۔
“اوہ شٹ۔۔۔”
“گلاس لگ گیا ہے۔۔۔”
فہاج نے ٹوٹے ہوئے کانچ کو پیچھے کردیا تھا۔۔۔ان دونوں کو ابھی ایک ساتھ اتنے پاس دیکھ کر وہ دروازے پر کھڑے ڈاکٹر غصے سے اندر داخل ہوئے تھے
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
“جی ڈاکٹر اسرار۔۔۔”
“ایک منٹ ڈاکٹر۔۔۔ انہیں چوٹ آئی ہے۔۔۔ پہلے جلدی سے اسے صاف کرلیجئے۔۔۔”
ڈاکٹر اسرار کو ٹوک دیا تھا فہاج نے انوشہ کا ہاتھ سٹل انکے ہاتھوں میں تھا۔۔۔
“اٹس اوکے میں ٹھیک ہوں آپ بیٹھیں “
فہاج سے اپنا ہاتھ چھڑا کر وہ واپس اپنی چئیر پر جاکے بیٹھی تھی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔ایم سوری میں نے ڈسٹرب کیا۔۔۔دراصل میں سوچ رہا تھا کہ آج کہیں باہر چلیں۔۔؟؟ “
“سیریسلی۔۔؟؟ ڈاکٹر اسرار۔۔۔؟؟”
“وہ۔۔۔ انوشہ۔۔۔ ہم سب ڈاکٹرز نے پلان بنایا تھا۔۔۔”
“اٹس ڈاکٹر انوشہ فار یو۔۔۔ ڈاکٹر اسرار۔۔۔ باقی سب ڈاکٹرز سے کہہ دیجئے گا میں پہلے ہی پلان بنا چکی ہوں۔۔۔”
انوشہ نے دانت دباتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔ نہ ہی وہ فہاج کے لیے غصہ کرنا چاہتی تھی نہ ہی فہاج کے سامنے۔۔
جس طرح ڈاکٹر اسرار نے اسے باہر جانے کا کہا اسے انکی اتنی جرات پر غصہ آرہا تھا۔۔۔
وہ بےتکلف لوگوں کو پرفیشن میں پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔
بلکل بھی نہیں۔۔۔
“چلیں۔۔۔؟؟”
انوشہ نے اپنی گاڑی کی چابی موبائل اور پرس اٹھا کر پروفیسر صاحب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
۔
چل ایسے سفر پر نکلیں
جس سے واپسی نہ ہو۔۔۔۔”
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے لگا تھا ہم کسی ہوٹل میں جارہے ڈنر کے لیے۔۔۔”
“اوہ۔۔۔ مجھے لگا تھا کہ یہاں واک کرلیتے یہاں ایک ڈھابہ ہے وہاں بہت اچھا کھانا ہوتا ہے۔۔”
“کہاں۔۔؟؟ اس سمندر کنارے۔۔؟؟ اوکے۔۔”
وہ دونوں گاڑی سے اتر گئے تھے،،، کچھ قدم چلنے پر انوشہ اور فہاج اس ڈھابے پر چلے تو گئے تھے
مگر انوشہ ایسے بی ہیو کررہی تھی جیسے پہلی بار آئی ہو۔۔۔
“کچھ آرڈر کریں۔۔۔ مجھے زیادہ پتہ نہیں۔۔۔”
“میں۔۔؟؟ ہمم۔۔۔”
ڈھابے کا ملازم جیسے ہی وہاں آیا تھا فہاج نے اس سے بیسٹ ڈش پوچھنے کے بعد خود ہی آرڈر دہ دیا تھا۔۔۔
وہ کہیں نہ کہیں سمجھ گیا تھا کہ انوشہ کیوں اس جگہ لائی جہاں پبلک بھی کم تھی اور اور روشنیاں بھی۔۔۔
“آپ کھا نہیں رہی۔۔؟؟ آپ نے سہی کہا تھا کھانا سچ میں اچھا ہے۔۔۔ یہ کباب چیک کریں۔۔۔”
فہاج نے خود سے انوشہ کی پلیٹ میں کھانا ڈالا تھا ۔۔۔
وہ جو شہر کی ملک کی ٹاپ ڈاکٹر تھی وہ جو ہائی جینک پر لیکچر دیتی آئی۔۔۔ آج وہ ایسے بیٹھی تھی۔۔۔
ہچکچاہٹ ہورہی تھی۔۔۔اور پھر انہوں نے بھی کھانا شروع کردیا۔۔۔
وہ کھانا کھا بھی رہی تھی فہاج کو دیکھتے ہوئے۔۔۔
“آپ ایسے کھانا کھا رہے جیسے دنوں سے بھوکے ہوں۔۔؟؟”
“ہاہاہا ایسا ہی سمجھ لیں۔۔۔یونیورسٹی میں جن بچوں کا لاسٹ سمسٹر ہے انکے پیپرز ورک میں رات گزر جاتی تھی۔۔۔ ابھی بھی صبح چائے کا کپ پیا تھا یا وہ جوس کا گلاس۔۔۔”
“اووہ۔۔۔۔”
وہ شرمندہ ہوئی تھی اتنی دیر انتظار کروانے پر۔۔۔
“ایم سو سوری۔۔۔”
“اٹس اوکے آپ ڈیوٹی پر تھی۔۔۔”
۔
ان دونوں نے اسکے بات خاموشی سے ہی کھانا کھایا تھا۔۔۔
“آپ کھاتے کھاتے رک گئے۔۔؟؟”
انوشہ نے سرگوشی کی تھی
“آپ ایسے دیکھ رہی ہیں مجھے۔۔۔ اور مجھے سمجھ نہیں آرہی سانس لوں یا اگلا نوالہ۔۔؟؟”
اور ایک بات جس پر انوشہ پیچھے ہوگئی تھی اور نظریں بھی جھکا لی تھی اس نے
۔
دیکھئیے ! یوں نہ دیکھئیے ہم کو!
دیکھئیے! پھر بھٹک رہے ہیں ہم۔۔۔”
۔
“بل میں پئے کروں گی آپ مہمان ہیں ۔۔۔”
“مجھ پر ایک اور ادھار چڑھانا چاہتی ہیں۔۔؟؟ نوو وے۔۔۔”
انہوں نے جلدی سے اپنا ویلٹ نکالا تھا۔۔اور جو کرنسی نوٹ نکلے تھے وہ دیکھ کر ڈھانہ اونر نے حیرانگی سے دیکھا تھا ان دونوں کو۔۔۔
“صاحب کہاں گھوم رہے ہیں۔۔؟؟ پاکستانی روپے دیں۔۔۔”
“اووووہ۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ یہ لیجئے۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے وہاں سے پیسے دے کر نکل آئی تھی پیچھے پیچھے فہاج صاحب۔۔۔۔
۔
یقیناً میرا خدا مہربان ہے مجھ پر
میری دنیا میں تیری موجودگی یونہی تو نہیں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کاش ایسا ہو تیرے قدموں سے چُن کے منزل چلیں۔۔۔
اور کہیں دور کہیں۔۔۔تم گر ساتھ ہو تو منزلوں کی کمی تو نہیں۔۔۔”
۔
وہ آگے آگے چل رہی تھی اور اس گیلی ریت پر ان قدموں کے نشان پر اپنے قدم رکھتے ہوئے فہاج انکے پیچھے پیچھے تھے۔۔۔
“میں جانتا ہوں۔۔۔ تم مجھے یہاں کیوں لائی ہو شہر کی روشنیوں سے دور۔۔۔ تاکہ کوئی پہچان نہ سکے۔۔ تمہاری ریپوٹیشن پر کوئی بات نہ آجائے انوشہ۔۔۔؟؟”
“وہ رکی تھی فہاج تو پہلے ہی رک گئے تھے انکا رخ اب سمندر کی طرف تھا وہ جانتے تھے کہ انوشہ شاکڈ کھڑی تھی
“ایسی بات نہیں ہے فہاج۔۔۔”
“ایسی ہی بات ہے انوشہ۔۔۔ پر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ ابھی تک۔۔۔ مجھے بھی اپنے ارادوں پر بھروسہ نہیں تھا۔۔۔
مگر میرے دئیے ہوئے تحفے کو تمہارے پاؤں میں دیکھ کر ارادے بہت مظبوط ہوگئے ہیں۔۔۔”
۔
“میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ ہارٹ ڈاکٹر ہو۔۔سب سمجھ رہی ہو۔۔ یقین کرو مجھ سے زیادہ سمجھ رہی ہو۔۔۔
اور جو سمجھ رہی ہو میں اسی سلسلے میں آیا ہو۔۔۔ نہ رشتے داری کے لیے آیا ہوں نہ ہی کسی دوستی یا فارمیلٹی کے لیے۔۔۔”
انوشہ جیسے ہی پیچھے ہونے لگی تھی فہاج نے انکے نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئیے تھے۔۔
“میں یہاں ہمارے لیے آیا ہوں۔۔۔ میں کوئی امیچور یا ٹین اجیر نہیں ہوں جو اپنے جذبات سمجھنے میں سال لگا دوں۔۔۔ یا گرلزفرینڈ بوائے فرینڈ والے ریلیشن کی آفر کروں۔۔۔
میں تمہیں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میں تمہیں اور سمجھنا چاہتا ہوں انوشہ۔۔۔
باتیں کرنا چاہتا ہوں وقت گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ آگے چل کر کیا ہو۔۔۔
مگر میں تمہارے ساتھ گزرے ہر لمحے کو جینا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
اور انہوں نے سٹریٹ فارورڈ کہہ دیا تھا وہ جو کہنا چاہتے تھے۔۔۔
انوشہ انکی آنکھوں میں دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔وہ شخص باتوں باتوں میں سب کہہ گیا تھا۔۔۔
ہاں جو انوشہ کو لگ رہا تھا وہ بیشک نہیں کہا تھا۔۔مگر اس سے زیادہ کہہ دیا تھا پروفیسر فہاج نے۔۔۔
“فہاج۔۔۔۔”
انوشہ بات کرتے کرتے رکی تھی جب ہوا کے جھونکے نے کان کے پیچھے اٹکی لٹوں کو بھی آزاد کردیا تھا۔۔۔فہاج صاحب بات کرنا چاہتے تھے۔۔۔مگر زبان ہلنے سے پہلے ہاتھ اٹھ گئے تھے
جب انہوں نے ایک گستاخی کردی تھی بالوں کو کان کے پیچھے پھر سے اٹکا دیا تھا۔۔۔
۔
بل کھا کے دوش ناز سے گرنا اِدھر اُدھر
وہ زُلف اور ہائے وہ کافر ادائے زُلف۔۔۔”
۔
“فہاج۔۔۔”
فہاج صاحب نے پھر سے ہاتھ پکڑ لیا تھا ان کا۔۔۔
۔
“انوشہ۔۔۔ مجھے ابھی جواب نہ دو۔۔ سوچ لو پھر جواب دہ دینا۔۔۔ میں کہیں نہیں جارہا یہیں ہوں۔۔۔۔”
۔
ایک بار پھر سے انوشہ کی انگلیا ں انکی انگلیوں میں سما گئی تھی۔۔۔
اس بار ان دونوں کا رخ سمندر کی طرف تھا۔۔۔ ان اٹھتی لہروں کی طرح انکے دلوں میں بھی ایک طوفان اٹھا تھا۔۔۔ انکی ابھی تک کی زندگی کو ہلا کر وہ طوفان بہت خاموشی سے چلا گیا تھا۔۔۔چھوڑ گیا تھا ان دونوں کو ایک دوسرے کے آسرے۔۔۔۔
۔
وہ لب و لہجہ_کاٸنات کا تسلسل ہے
کتنی دنیاٸیںاسی گفتگو میں ٹھہری ہیں ۔ وہ ہونٹہونٹ نہیں قافیہ ہیں ”غالب“ کا
وہ آنکھیں ”میر“ کے مصروں کی طرح گہری ہیں
۔
۔