Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 01
No Download Link
Rate this Novel
Episode 01
“میری بیٹی یہاں اس ہاسپٹل میں انٹرن شپ کرنے آئی ہے کسی کی غلامی کرنے نہیں
جس ڈاکٹر نے اسکی انسلٹ کی ہے وہ پورے سٹاف کر سامنے معافی مانگے گی میری بیٹی سے۔۔۔”
ہاسپٹل کے کوریڈوڑ میں وہ ایسے چلا رہے تھے جیسے یہ ہسپتال انکے باپ دادا کا ہو۔۔۔
“یہ اپنی موت کو بلا رہے ہیں شاید۔۔۔ “
وارڈ بوائے اور پیرا میڈک سٹاف سب کی توجہ ان صاحب اور انکی بیٹی نے حاصل کر لی تھی
“ڈیڈ آپ اپنے دوست کو فون کریں مجھے معافی نہیں چاہیے اس ڈاکٹر کو آپ اس ہسپتال سے باہر نکلوائے اور انکا لائسنس کینسل کروائیں۔۔۔”
وہ دونوں یہاں سب ڈیوٹی ڈاکٹرز کے درمیان تھے وہاں جن کے بارے میں یہ سب کہا جارہا تھا وہ بےخبر ہمیشہ کی طرح اپنی ڈیوٹی میں مگن تھی
“ڈاکٹر میری بیوی سیڑھیوں سے گر گئی تھی پلیز اسے بچا لیں۔۔۔ یہ زخم۔۔۔”
“سسٹر آپ نے پولیس کا انفارم کردیا ہے۔۔؟؟”
ڈاکٹر نے اس شخص کو اگنور کرتے ہوئے نرس کو پوچھا تھا اور واپس اندر چلی گئی تھی
“انٹرنل بلیڈنگ نہیں رک رہی ڈاکٹر ہمیں انکا آپریشن۔۔۔”
“وہ رسک ابھی نہیں لے سکتے انکی ڈیلیوری جب تک نہیں ہوجاتی ۔۔آپ ڈاکٹر پلوشہ کو امیجیٹلی بلائیے۔۔۔”
“ڈاکٹر میریض کی پلس ریٹ سنک ہورہی ہے۔۔۔”
وہ تمام ڈاکٹرز کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے مگر وہ ڈاکٹر اپنے گلووز پہنے اپنی ڈیوٹی پر لگ گئی تھیں ایک اور ڈاکٹر کے آنے کے بعد انہوں نے اپنا کام شروع کردیا تھا
۔
“ڈیلیوری تو ہوگئی یہ آپریشن کامیاب نہیں ہوسکے گا جس طرح سے انکی بلیڈنگ ہوئی ہے۔۔”
انٹرنز کی گفتگو آپریشن کے ساتھ ساتھ اور سنسنی ہورہی تھی
“یہ ڈاکٹر انوشہ ہے۔۔۔کوئی بھی آپریشن ناکام نہیں ہوا انکا۔۔۔ یہ بیسٹ ڈاکٹر ہیں۔۔۔
باقی ڈاکٹر نروس ہوبھی جائیں مگر یہ نہیں ہوں گی۔۔۔”
“تمہیں بہت پتہ ہے۔۔۔؟؟ تمہاری انٹرن شپ بھی ہمارے ساتھ سٹارٹ ہوئی تھی۔۔”
“میری مدر اسی ہاسپٹل سے ٹرانسفر کروا کر گئی ہیں۔۔۔ انہی ڈاکٹر کی باتیں بتاتی ہیں۔۔۔
ہٹلر ہیں یہاں کی یہ ڈاکٹر۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“امیزنگ جاب ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
تمام انٹرن سامنے کھڑے ہوگئے تھے
“آپ میں سے کتنے انٹرنز کو لگا تھا یہ آپریشن کامیاب نہیں ہوگا وہ اس سائیڈ پر آجائیں۔۔
آپریشن ناکام ہونے کی وجہ بھی بتائیے گا۔۔۔”
باہر جانے کے بجائے وہ اس پرائیویٹ روم میں گئی تھی جہاں وہ ڈاکٹرز موجود تھے
“مجھے نہیں لگا تھا انٹرنل بلیڈنگ کی وجہ سے ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
تقریبا سب ہی انٹرن ایک سائیڈ پر تھے سوائے 2 کے
“ڈاکٹرز جب آپریشن ٹھیٹر میں جاتے ہیں تو وہ اگر مگر پرانے تجربات کو سائیڈ پر رکھ کر ایک نئی جنگ فتح کرنے اندر جاتے ہیں۔۔۔
انٹرنل بلیڈنگ پر آپ لوگوں نے سوچ لیا تھا کہ یہ آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا ایک جنگ لڑنے سے پہلے اپنی ہار کی نوید سنا دی تھی ایم آئی رائٹ ڈاکٹرز۔۔؟؟”
انکی کی سٹرکٹ وائس نے ان سب کو الرٹ کردیا تھا۔۔
“یس ڈاکٹر۔۔۔”
“گڈ۔۔۔ آپ سب یہاں ڈبل ڈیوٹی دیں گے پورے ایک ہفتے کے لیے۔۔۔
ریسٹ کے لیے صرف کچھ گھنٹے دئیے جائیں گے آپ کو۔۔۔
آپ لوگ رپورٹ ڈاکٹر انابیہ کو کریں گے۔۔۔ایم آئی کلئیر۔۔۔؟؟”
“پر ڈاک۔۔۔”
“ایم آئی کلئیر۔۔۔؟؟”
“یس۔۔۔ یس ڈاکٹر۔۔۔”
وہ جیسے ہی وہاں سے گئیں تھی ان سب کے ماتھے پر پسینہ آچکا تھا۔۔۔
“یہ تو سچ میں ہٹلر ہیں۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈاکٹر انوشہ یہ دیا کے فادر ہیں یہ یہاں پر”
“آپ اتنا ڈر ڈر کرکیوں بات کررہے ہیں آپ یہاں کے ٹرسٹی ہیں اور یہ ایک ڈاکٹر۔۔۔”
دیا کے فادر نے بنا دیکھے بہت باتیں سنانا شروع کردی تھی اس وقت دیا ڈاکٹر انوشہ انکے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی تھی
“تم نے تو کہا تھا وہ۔۔۔ اتنی ینگ ڈاکٹر۔۔۔؟؟ شئ از بیوٹی فل۔۔۔”
انہوں نے اپنی بیٹی ے کان میں پوچھا تھا
“ڈیڈ۔۔۔ مجھے یہاں شرمندہ مت کیجئے گا۔۔۔انکی ایج 39 یئرز ہے۔۔۔”
“آہمم۔۔۔۔ مس انوشہ۔۔۔”
“ڈاکٹر انوشہ فار یو مسٹر۔۔؟؟”
“اعتزاز امین۔۔۔”
ہینڈ شیک کے لیے اپنا ہاتھ جیسے ہی آگے بڑھایا تھا ڈاکٹر انوشہ نے انکی طرف نہیں دیکھا تھا اور ایک لیٹر ان دونوں باپ بیٹی کے سامنے رکھ دیا تھا
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔ میں بات کو یہاں روک دوں گا اگر آپ میری بیٹی سے ایکسکئیوز کرلیں معافی مانگ لیں جو آپ نے کل کیا ۔۔۔”
“کل کیا کیا تھا میں نے۔۔؟؟ مس دیا۔۔۔؟؟”
“ڈاکٹر دیا فار یو داکٹر انوشہ۔۔۔”
دیا نے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا اور اسی وقت ڈاکٹر انوشہ کے چہرے پر ایک ہنسی آگئی تھی
“اب نہیں رہی ڈاکٹر۔۔۔ جو آپ نے سینئر داکٹرز کی غیر موجود میں ایک پئشنٹ کے ساتھ کیا۔۔
یہ وہی لیٹر ہیں آپ کی انٹرنشپ کینسل کردی گئی ہے۔۔ اور آگے ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ بھیج دی گئی ہے۔۔۔ ڈاکٹری میڈیکل کرنے پر ہی مکمل نہیں ہوتی مس۔۔۔
ایند یو مسٹر دوبارہ پھر سے پروسیجر سٹارٹ کرووائیں۔۔۔آپ کی بیٹی ابھی اس قابل نہیں کہ یہ اس فیلڈ میں آسکے۔۔۔ اپنی بچی کو کوئی بیوٹی پارلر یا سالون کھول دیں۔۔۔
یہ میک اپ کی دوکان بن کر علاج نہیں سیکھ سکتی کرنا تو دور کی بات ہے۔۔۔”
وہ بات کرکےجیسے ہی اٹھے تھے اعتزاز صاحب نے دونوں ہاتھ غصے سے ٹیبل پر مارے تھے
“تم۔۔۔ جانتی نہیں ہو مجھے ایک فون کال پر تمہاری ڈاکٹری ختم کروا سکتا ہوں اتنی پاور ہے۔۔”
“اوکے۔۔۔ کوشش کرلیں۔۔۔ جب ختم کروا دیں تو بتا دیجئے گا۔۔۔۔ فلحال اپنی بیٹی کو لے جائیں اس ہسپتال میں ہم مریضوں کا علاج کرتے ہیں پاگلوں کا نہیں۔۔۔”
۔
وہ اپنا لیب کوٹ اٹھائے روم سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“روم، اٹلی۔۔۔۔”
۔
“کم آن پروفیسر فہاج ایم آ ویری بیڈ گرل پنش مئ ۔۔۔”
وہ سٹوڈنٹ پروفیسر کے آفس کا دروازہ بند کر کے ٹیک لگا چکی تھی
“مس ریٹا ڈونٹ ٹیمپٹ مئ ٹو کال یور ڈیڈ جسٹ گیٹ آؤٹ۔۔۔”
ابھی وہ غصے سے بولے تھے جب آفس کے دروازے پر ناک ہوا تھا اگین۔۔۔
“لاسٹ چانس پروفیسر۔۔۔”
پروفیسر فہاج نے ایک نظر سامنے رکھی فائل کو دیکھا تھا اور پھر اس سٹوڈنٹ کو جو شارٹ دریس میں کھڑی انہیں سیڈیوس کرنے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔
“جسٹ گیٹ آؤٹ۔۔۔رائٹ ناؤ۔۔۔”
“
وہ جیسے ہی غصے سے باہر گئی تھی دوسرے ٹیچر اندر داخل ہوئے تھے
“ہاہاہا اگین وہی ڈرامہ۔۔؟؟ فہاج ۔۔؟؟ ہاہاہا”
” ان ٹین ایجرز کے وہی تماشے رہنے ہیں۔۔۔ میں نے ٹرانسفر لیٹر بھیج دیا ہے۔۔۔ یہ سٹوڈنٹ کچھ زیادہ ہی دماغ خراب کررہی ۔۔۔”
“ہاہاہا ویسے فل پیکج ہے ٹرائی کرلو۔۔۔سیکرٹ ہی رہے گا۔۔۔ اور تم بھی تو ڈائیورس کے بعد سے۔۔۔جسٹ امیجن ایک چالیس سال کا ڈیشنگ پروفیسر اور یہ ینگ سٹوڈنٹ۔۔؟؟”
وہ فہاج کو ٹیز کررہے تھے اس وقت۔۔۔جو کام کربھی رہا تھا جیسے انکی مٹھی غصے سے بند ہوئی تھی
“اننف۔۔۔پلیز مجھے ایسی کوئی امییج اپنے دماغ میں نہیں بنانی۔۔۔ میں ایسے سنگل سہی ہوں۔۔۔
جو غلط ہے وہ غلط ہی رہے گا۔۔۔اور تم نے مجھے ڈیشنگ کہا۔۔۔؟؟”
اس بار وہ ہنس رہے تھے
“ہاہاہا یونیورسٹی کا سروے کرلو۔۔۔۔ باہر ریٹا کی ریجیکشن دیکھ کر باقی سب پارٹی کررہی ہوں گی۔۔۔”
“بس اسی لیے مجھے ٹرانسفر کروانا ہے یہاں سے۔۔۔ مجھ سے ایسے ماحول میں پڑھایا نہیں جا سکتا۔۔۔ایم فیڈ اپ۔۔۔”
“فہاج۔۔۔ ایک بات تو بتاؤ۔۔۔ تم موو آن کرنا نہیں چاہتے یا ڈرتے ہو۔۔۔؟؟”
“میں ڈرتا نہیں ہوں۔۔۔ مجھے اب ان سب چونچلوں میں دلچسپی نہیں رہی۔۔۔
میں سنگل ہُڈ میں خوش ہوں۔۔۔”
کچھ دیر اور باتیں کرنے کے بعد وہ نیکسٹ کلاس کو لیکچر دینے چلے گئے تھے۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شادی کا گھر ہے اور یہ مسٹنڈے یہاں گپے لڑا رہے ہیں جلدی سے کام کرو رشتے داروں نے آنا شروع ہوجانا ہے۔۔۔”
“اففف بی جان شادی کونسا آج ہے ایک مہینہ پہلے ہی اپ نے ساری دنیا کو مدعو کرلیا ہے۔۔”
اور ایک جوتی ہوا میں لہراتی ہوئی دیکھائی دی تھی اور پھر روحیل کی کمر پر پڑی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا بی جان منہ پر مارنی تھی۔۔۔یہ آپ کی نقلیں اتار رہا تھا”
“اچھا۔۔؟؟”
بی جان نے دوسری جوتی بھی اٹھا کر روحیل کی طرف پھینکی تھی۔۔۔
۔
“رابیعہ بیٹا ابھی تک گلفام کی فیملی کیوں نہیں آئی۔۔؟؟ فہاج پتر کو فون کیا کسی نے ابھی تک کہ نہیں۔۔؟؟”
“بی جان کردیا ہے فہاج بھائی کا فون کبھی اٹھایا بھی ہے انہوں نے۔۔؟؟ اس بار بھی یہ شادی اٹینڈ نہیں کریں گے۔۔۔”
“خود جانا پڑۓے گا۔۔۔ وہ وڈا آدمی بن گیا ہے نہیں فون پر بات سنے گا ہماری۔۔۔”بی جان بول کر ہال میں چلی گئی تھی۔۔
“ہاہاہا روحیل۔۔۔ اب بتا ساری بات کیا ہوا کل رات۔۔؟؟”
“چھر کھائے گا یا ایسے بتائے گا۔۔۔”
“نہیں بولا کچھ تو بلا لیں گے بی جان کو۔۔۔”
روحیل کو ہر طرف سے پکڑ کر واپس بٹھا لیا تھا ان لوگوں نے
“کیا بتاؤں۔۔؟؟ تم کتے کمینے منحوس لوگوں کی پلاننگ گٹر پلاننگ تھی۔۔۔
دو منٹ بھی امپریس نہیں کرسکا اپنی بیگم کو۔۔۔”
“جتی لا لو یاروں۔۔۔”
“جتی تو اس نے اتاری تھی رات کو۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔۔ ایک جگہ بی جان کی جوتی لگی اور ایک یہ کل رات کو تمہاری بھابھی نے ٹھکائی کی۔۔۔”
“روحیل نے جیسے ہی شرٹ اتاری ملازمہ دانت نکالتے ہوئے شرما کر بھاگ گئی۔۔
“ہاہاہاہا یہ اسکا لکا کرش ہے تجھ پر بھائی۔۔۔۔”
وہ اور ہنس پڑے تھے۔۔۔ مگر روحیل کی بیک پر نشان دیکھ کر سب نے حیرانگی سے دیکھا تھا
اسے
“تو میرے بھائی کل رومینٹک ڈیٹ پلان کی تھی اسکا کیا بنا۔۔؟؟””
“کمینوں تمہارے اندر جو آگ لگی ہوئی تھی نہ میری ڈنر ڈیٹ کی۔۔۔ جو میرے بیڈروم میں گھس کر یہ کینڈل جلا کر آئے تھے”
“تو۔۔۔؟؟””
روحیل شرٹ پہن کر واپس صوفہ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“تو کیا۔۔۔۔سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا گلاب کا پھول بھی دیا۔۔۔ پرپوز بھی کیا بیڈ پر بٹھا کر اچھی رومینٹک باتیں بھی کی۔۔۔
پھر ایک موم بتی اس سائیڈ سے نیچے گری اور تمہاری بھابھی کے نئے والے ڈریس کو کچھ سیکنڈ میں آگ لگ گئی۔۔۔۔”
“پھر۔۔۔؟؟”
روحیل سنسنی پوری پھیلا چکا تھا درد میں آہیں بھرتے ہوئے بتا رہا تھا
“پھر کیا۔۔۔ اس لگی آگ نے میرے اندر کی آگ تو بجھا دی۔۔۔”
“پھر۔۔۔؟؟”
“پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔۔۔ اس نے جلا ہوا ڈریس دیکھ کر مجھے اٹھا اٹھا کر پٹکا۔۔۔
ہائے ماں میری کمر۔۔۔
اس سے پہلے وہ میری بتی گل کرتی۔۔۔ میں تو جان بچا کر بیڈروم سے بھاگا اور ابھی تک اس سے چھپتا پھیر رہا ہوں۔۔۔”
۔
۔
کچھ دیر تک خاموشی چھائی رہی۔۔۔ وہ سب کزن ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر قہقوں کی آوازیں گونجنے لگی تھی ہر طرف
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
