Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
“جب بھی جی چاہے نئی دنیا بسا لیتے ہیں
ایک چہرے پہ کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ”
۔
“تاہین اسلام آباد آرہی ہے شام کو پروگرام ہے باہر چلنے کا۔۔۔اسی جگہ ملنے کا۔۔”
“مگر میں تو بہت مصروف ہوں آج۔۔”
انوشہ نے سامنے رکھے فائلز پر نظر ڈالی اور پھر کہا تھا پلوشہ کو۔۔
“کچھ گھنٹے ہی جانا ہے اور ویسے بھی کوئی ایکسکئیوز نہیں۔۔۔ کچھ ڈھنگ کا پہن لیا ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہیں ہماری مئڈ سمجھ لے۔۔”
“یو۔۔۔ رئیلی۔۔؟؟ ٹف کمپٹیشن دیتی ہے میری ڈریسنگ تم دونوں بہن جی کو۔۔”
پلوشہ آنکھ مارتے ہوئے باہر چلی گئی تھی کیبن سے
اور کیبن ڈور پھر سے ناک ہوا تھا
“میم آپ کے کہنے پر ہم نے پولیس کو وہ کیس سبمٹ کردیاتھا۔۔ یہ پہلا قتل نہیں انکی فیملی میں انکی سابقہ بہو بھی اسی طرح سے مر ی تھی اور خود کشی کا کہہ کر بات کو رفعہ دفعہ کردیا گیا تھا۔۔۔”
وہ ڈاکٹر اجازت لیکر سامنے بیٹھ گئے تھے اور انہوں نے ابھی تک کی سب باتیں انوشہ کو بتانے کے بعد وہ دونوں ہی تشویش میں پڑ گئے تھے
“آپ ان پولیس آفیسرز کو میرے کیبن میں بھیجیں اور ورثہ کو ڈیڈ باڈی لیجانے کی اجازت بلکل نہیں ہے۔۔”
“پر وہ لوگ بہت تماشہ کررہے ہیں ریسیپشنسٹ پر آئی تھنک اب پولیس کا اور ان کا اپنا مسئلہ ہے ہمیں کیا ضرورت کہ انکی وجہ سے امیج خراب کریں”
پانی کا گلاس انوشہ نے انکے سامنے کیا تھا
“بات امیج خراب ہونے کی نہیں مرنے والے کو انصاف دلوانے کی ہے۔۔۔آپ جا سکتے ہیں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
صدقے کی طرح سر سے اتارا ہوا دن ہے
ہر دن یہی لگتاہے گزارا ہوا دن ہے۔۔۔”
۔
“وہ آئے گی وہ نہیں آئے گی۔۔۔وہ آئے گی۔۔وہ نہیں آئے گی۔۔”
پاس بیٹھا شخص فہاج کو اور اری ٹیٹ کررہا تھا مسلسل گلاب کی پتیاں پھول سے الگ ہورہی تھی
“ویل یو شٹ اپ پلیز۔۔؟؟”
“اوکے سوری۔۔۔”
اس ن دوسرا پھول کھنچ لیا تھا فہاج کے ہاتھ سے۔۔۔۔
“یہ کیسا رہے گا۔۔؟؟ ہونے والی بھابھی آئے گی۔۔؟؟ ہونے والی بھابھی نہیں آئے گی۔۔”
“شٹ اپ ڈاور۔۔۔”
“اوکے اوکے۔۔۔”ایک اور گلا ب کا پھول کھینچ کر وہ کچھ دور جا بیٹھا تھا فہاج سے
“ڈاکٹر انوشہ آئیں گی ڈاکٹر انوشہ نہیں آئیں گی۔۔۔”
اور اس بار فہاج نے غصے سے اپنے دوست کو پیچھے پھینک دیا تھا جو سیدھا پانی میں جا گرے تھے
“ہائے میری کمر گئی۔۔۔۔ تیرے والی آئے گی یا نہیں میرے زخم دیکھ کر میرے والی نے لازمی بھاگ جانا دیوداس پچھلے 3 گھنٹے سے انتظار کررہا ہے اب فون ملا لے۔۔”
اپنے کپڑۓے جھاڑتے ہوئے انہوں نے پھر سے کہا تھا
“آج کا دن تو گیا یار۔۔۔”
“ہمممم۔۔۔۔”
باقی کے پکڑے پھول بھی ساتھ بیٹھے دوست کو پکڑا دئیے تھے انہوں نے
“چل پھر وہاب کے ساتھ ڈنر کا پروگرام بناتے ہیں وہ جناب آپ اسکا فون بھی نہیں اٹھاتے۔۔؟؟”
“اتنا سب کرنے کے بعد بھی اس میں اتنی ہمت ہے کہ مجھ سے بات کرسکے۔۔؟؟”
انہوں نے غصے سے پوچھا تھا
“ہوا کیا ہے فہاج۔۔؟؟ وہا ب تو بھائیوں جیسا تھا”
“مگر بھائی نہیں تھا یار۔۔۔”
انہوں نے سارا قصہ جیسے ہی سنایا تھا وہ فہاج کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے اور سیدھا وہاب کے آفس میں گئے تھے اور میٹنگ روم میں جاتے ساتھ ہی ایک زور دار تھپڑ مارا تھا وہاب کو۔۔ دوسرے تھپڑ پر فہاج نے ہاتھ پکڑ لیا تھا
“”بس مہران۔۔۔یہ اس قابل نہیں ہے۔۔۔”
“فہاج یار میں معافی مانگ چکا ہوں تم دونوں کا غصہ۔۔”
“پھر سے جھوٹ۔۔۔؟؟ معافی مانگ کر بھی میری پیٹھ پیچھے میرے بچوں کو میرے خلاف ورغلا کر واپس آیا اور اب یہ ڈھونگ۔۔؟”
میٹنگ روم خالی ہوچکا تھا وہ تینوں دوست آمنے سامنے تھے
مہران کا غصہ دونوں کے لیے حیران کن تھا
“مہران میرے بھائی۔۔۔”
“بھائی۔۔؟؟ تجھے مطلب بھی پتہ ہے۔۔؟ وہ تیری ہونے والی بھابھی ہے جو تو چانس ڈھونڈ رہا ہے وہ بھول جا۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ بھابھی۔۔؟؟”
وہاب ہنستے ہوئے پیچھے ہوگیا تھا
“یہ شادی تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔۔۔ اسکے بچے عنبر اسکے خاندان والے اسے کبھی دوسری شادی کرنے نہیں دیں گے اور بی جان۔۔؟؟
بی جان تو کبھی نہیں۔۔۔اور ڈاکٹر انوشہ۔۔؟ وہ اگر ہنس کر اس سے بات کر گئی تو ان کے درمیان رشتے داری کی وجہ سے۔۔۔لک ایٹ ہم۔۔؟؟
یہ بندے عنبر کے جانے کے بعد کسی کے لیے سیریس نہیں ہوسکتا یہ بس اپنے بارے میں سوچ۔۔۔”
اس بار فہاج نے ہاتھ اٹھایا تھا اور منہ پر مکا مار کچھ ایسا کہا تھا کہ دونوں کو حیران کرکے وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔
“وہ میری ‘قدر’ میں لکھی جا چکی ہے۔۔ مجھے یقین ہے اس بات پر کہ انوشہ مبشر میری محرم بنے گی میری زندگی میں شامل رہے گی میری آخری سانس تک۔۔۔کیونکہ اتنا یقین تو مجھے عنبر کے ہونے پر بھی کبھی نہیں تھا جتنا حوصلہ مجھے انوشہ کی موجودگی نے دیا ہے۔۔
نئی زندگی ایک بار پھر جینے کا۔۔۔
۔
“تم نے آج ساری حدیں پار کردی ہیں۔۔ دوست اس لیے نہیں ہوتے کہ خنجر کھونپ دیں دوست اس لیے ہوتے ہیں کے اچھے برے وقت میں ساتھ دیں۔۔۔
اور فہاج کے نصیب میں اگر دوسری شادی ہے تو فہاج کی پسند سے ہی ہوگی۔۔
بس تم پیپرز تیار کروا میں اور فہاج تمہارے ساتھ سارے بزنس کی پارٹنرشپ توڑ رہےہیں۔۔۔”
وہ جو خون صاف کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا اس شخص کے چہرے کی مسکان اڑا دی تھی مہران کی بات نے۔۔
“نووو۔۔۔ تم ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔ بزنس ایسے نہیں چلتے میں نے انویسٹمنٹ کی ہوئی پراجیکٹ شروع کئیے ہوئے۔۔ایسے نہیں چلتے۔۔۔”
وہ پاگلوں کی طرح بڑبڑا رہے تھے۔۔اور مہران صاحب کے چہرے پر اب وہ ہنسی تھی
“یو رائٹ۔۔ بزنس زبان پر چلتے ہیں۔۔۔ مظبوط شخصیت پر۔۔۔
پچھلے دس سالوں کا ریکارڈ منافع سمیت مجھے حساب کتاب شام تک پہنچا دو۔۔۔”
“تم ایسا نہیں کرسکتے میں فہاج سے بات کروں گا وہ ایسا نہیں ہونے دے گا۔۔”
“ہاہاہاہا اسکے بچوں کو اسکے خلاف کرکے اسکی تذلیل کروا کر تمہیں کتنا بھرم ہے اپنی دوست پر۔۔؟ سوچو اسکا جب بھرم ٹوٹا ہوگا تو وہ بھی ایسے تمہاری طرح مایوس ہوا ہوگا نہ۔۔۔؟؟” بات کرتے کرتے کالر پکڑ لیا تھا مہران نے وہاب کا۔۔۔
“وہ جس نے ابھی ہاتھ اٹھایا۔۔۔ وہ ایسا شخص ہے کہ کبھی ہاتھ نہیں اٹھاتا آج ہاتھ اٹھا کر اس نے تمہیں اپنی نظروں سے گرا دیا ہے۔۔۔
میرا فیصلہ اور اسکا فیصلہ ایک ہی سمجھو اور تیاری کرو۔۔۔”
۔
اپنے کوٹ کو ٹھیک کرکے
وہاں شاکڈ چھوڑ گئے تھے۔۔۔
“میں تو برباد ہوجاؤں گا۔۔ میں نے کیا کردیا۔۔۔”
وہ جو دوست کے بچوں کو دوست کے خلاف کرتے ہوئے شرمندہ نہیں ہوئے تھے اب بزنس کے جاتے دیکھ پچھتا رہے تھے اپنے کئیے پر۔۔۔۔
۔
یہ مانا شیشۂ دل رونق بازار الفت ہے
مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے۔۔۔”
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ بیٹا اندر آؤ بی جان تمہارے بارے میں ہی پوچھ رہیں تھیں۔۔” انوشہ جو پہلے ہی بی جان کر دیکھ چکی تھی پھر بھی انجان بن کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف رواں دواں تھی جب نانی نے پیچھے سے آواز دی
“آپ کو کیسے پتہ چل جاتا کہ میں گھر میں داخل ہوگئی..؟”
اس نے ملازمہ کو اپنے چیزیں کمرے میں رکھنے کو دہ دی تھی اور خود الٹے پاؤں نانی کے پیچھے پیچھے لیونگ روم میں داخل ہوگئی تھی
بی جان کو سلام کرنے کے بعد وہ واپس آنا چاہتی تھی مگر بی جان نے تو گلے سے لگا کر اپنے ساتھ ہی بٹھا لیا تھا
“آپ باتیں کریں میں ابھی آئی۔۔۔”
نانی جیسے ہی باہر گئیں تھیں بی جان نے انوشہ کے ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف متوجہ کیا تھا اسے۔۔۔۔
“انوشہ بیٹا ہم لوگوں کو ٹھیک سے موقع ہی نہیں ملا کہ تم سے معافی مانگ سکے صبیحہ کی طرف سے ہم سب کی طرف سے۔۔۔”
بی جان کا لہجہ جیسے ہی نرم ہوا تو انوشہ نے بھی اپنے سخت تاثرات کو نرم کرلیا تھا
وہ فرہاد کے سسرال والوں کو پہلے دن سے ہی اتنا پسند نہیں کرتی تھی مگر ایک شخص اسکا نظریہ مسلسل بدل رہا تھا
اور پھر بی جان۔۔۔
“بیٹا فرہاد تمہیں لیکر بہت حساس ہے شاید اس لیے وہ صبیحہ کی بدتمیزی کو آج بھی نہیں بھلا پایا اور ان دونوں کی شادی شدہ زندگی ویسی خوشحال نہیں چل رہی۔۔۔”
انوشہ کی خاموشی کو سمجھتے ہوئے بی جان نے بات شروع کی تھی
جسے سن کر انوشہ کی بڑی ہوئی تھی سچائی جان کر۔۔۔
“مجھے نیہا نے کچھ بھی نہیں بتایا اس بارے میں اور فرہاد اس سے تو میری کچھ دن پہلے ہی بات ہوئی تھی۔۔۔۔”
“انوشہ بیٹا۔۔۔ ہمیں بھی صبیحہ نے کچھ نہیں بتایا مگر میری یہ بوڑھی آنکھیں اتنا تو پہچان گئی ہے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کسی کی آنکھیں جھوٹ بول جاتی ہیں۔۔
“اوووہ۔۔۔۔ مجھے علم نہیں تھا۔۔۔ آپ زرا تفصیل سے بتائیں گی۔۔؟؟”
اب کے انوشہ نے پریشان حال بی جان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر پوچھا تھا
“بیٹا شادی کے اتنے ماہ بعد بھی انکا رشتہ ویسا نہیں فرہاد ہمیشہ اکھڑا اکھڑا رہتا ہے۔۔
وہ دونوں بھرپور جھوٹ بولتے ہی مسکراہٹیں چہرے پر بنائے رکھتے ہیں مگر میں جانتی ہوں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ میں تمہیں اس لیے نہیں بتا رہی کہ تم اسے شکایت سمجھو فرہاد کے خلاف۔۔۔”
انوشہ کی گرفت مظبوط ہوئی تھی وہ بی جان کو بات مکمل کرنے کا سائن دے رہی تھی اور بی جان نے بھی اداس بھری سوال کرتی آنکھوں سے انوشہ کو دیکھا تھا
“بیٹا ایک بار بات کرو فرہاد سے۔۔ وہ دونوں جیسے ہیں کہیں انکی شادی۔۔”
“بی جان میں نے فرہاد کو بہت زیادہ سمجھایا تھا۔۔میں پھر اس سے بات کرتی ہوں۔۔۔
اور شکایات کی کوئی بات نہیں آپ بڑی ہیں گھر کی۔۔۔ آپ کی بات شکایت نہیں ہوسکتی مشعل راہ ضرور ہوسکتی۔۔”
انوشہ کے دل میں کیا آیا تھا کہ اس نے بی جان کے ہاتھوں پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
بی جان کو تو حیران کیا تھا مگر دروازے پر کھڑی انوشہ کی موم اور نانی بھی حیران رہ گئی تھی۔۔
“جیتی رہو بیٹا۔۔۔ فہاج بھی بلکل ایسے ہی کرتا ہے مجھے بہت خوشی ہوئی میرے بات مکمل ہونے سے پہلے ہی تم سمجھ گئی ہو۔۔۔”
اب کے انوشہ کے چہرے پر ہلکا ہلکا سا بلش ظاہر ہونے لگا تھا۔۔
اور اسے یاد بھی آیا تھا وقت آج کا اور اسے یقین تھا وہ شخص آج انتظار میں ہوگا۔۔۔
۔
میں ایک عمر جلی زندگی کی آتش میں
جو ایک رات ہیں روئے بھلا وہ کیا تڑپے۔۔۔”
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“خالہ آپ فیس ٹائم اس وقت۔۔؟؟”
فرہاد نے ویڈیو کال ریسیو کرتے ہوئے پوچھا تھا سلام کرنے کے بعد۔۔
“تاکہ دیکھ سکوں کہ تم اس وقت گھر ہو یا آفس۔۔؟ تھنکس ٹو یو فرہاد بیٹا مجھے سہی ثابت کرنے کے لیے۔۔۔ اس وقت آفس ہو۔۔۔”
“خالہ ایکچولی میں بس جانے والا تھا۔۔۔فرہاد نے لیپ ٹاپ کی سکرین سے چہرہ پیچھے کرلیا تھا
فرہاد یہ سب کیا چل رہا ہے۔۔؟؟”
انوشہ نے سیدھا سوال پوچھا تھا بنا ادھر اُدھر کی بات کئیے
“خالہ میں بس۔۔”
“فرہاد اننف۔۔ کب تک چلےگا یہ سب۔۔؟؟ کتنے ماہ ہوگئے ہیں۔۔؟؟ تم سچ میں میری عزت نہیں کرتے
اگر کرتے تو کبھی ایسا موقع نہ آںے دیتے کہ جس پر مجھے خود سے شرمندہ ہونا پڑتا۔۔
“خالہ پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔”
“نوو فرہاد۔۔۔ جب اپنا شادی شدہ رشتہ ٹھیک کرلو تو مجھ سے بات کرنا اس سے پہلے نہیں۔۔۔”
انوشہ فون بند کرکے بیڈ پر پھینک چکی تھی۔۔۔
۔
موبائل پھر سے بجا تھا۔۔۔ وہ سمجھی تھی کہ ہاسپٹل سے کوئی ضروری میسج ہوگا مگر وہ میسج کسی انجان نمبر سے تھا
“آج میں تقریبا چار بجے سے شام آٹھ بجے تک وہاں موجود تھا۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ کل پھر سے جاؤں گا اورن انتظار کروں گا۔۔۔ اور تب تک کروں گا جب تک تم آ نہیں جاتی۔۔”
وہ حیران ہوئی تھی مگر بیڈ پر بیٹھے جب سامنے لگے مرر میں اپنا چہرہ دیکھا تو ایک لائٹ سی مسکان بھی دیکھی اس نے۔۔۔
“گڈ فور یو پروفیسر فہاج۔۔۔”
انگلیوں پر جیسے اسکا کوئہ زور نہیں رہا تھا ریپلائی کرنے کے بعد موبائل اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔اور سونے سے پہلے ونڈو بند کرنے لگی تھی جب باہر لان میں بیٹھے سب لوگوں کو دیکھا تھا۔۔۔ جن کی دعوت کی تھی گھر والوں نے۔۔
اور احلام کی پوری فیملی کو بھی سپیشلی بلایا گیا تھا۔۔۔
اسے پہلے اپنی فیملی پر غصہ آتا تھا مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ جن کی نظروں میں غلط ہے وہ غلط ہی رہے گی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“اٹلی۔۔۔”
“کھانا کھا کر آئے ہوں گے آج بھی۔۔؟؟”
“نہیں کھانا نہیں کھایا بہت بھوک لگی ہوئی ہے کھانا گرم کرکے کمرے میں ہی لے آنا۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟”
فرہاد صبیحہ کو شاکڈ چھوڑ کرواشروم چلا گیا تھا فریش ہونے کے لیے۔۔
۔
وہ جیسے ہی ٹال سے بال صاف کرتے ہوئے آیا تھا صبیحہ بیڈ پر کھانا رکھے روم سے باہر جانے لگی تھی جب فرہاد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر روک لیا تھا
“کھانا نہیں کھایا ہوگا۔۔؟؟ میرے ساتھ بیٹھ کر کھاؤ۔۔۔”
“وہ۔۔میں۔۔۔”
“ہاہاہا تم کب سے نروس ہونے لگی۔۔؟؟ منہ کھولو۔۔۔؟؟”
فرہاد نے بہت پیار سے اپنے ہاتھوں سے پہلا نوالہ صبیحہ کے ہونٹ کے پاس لے جاکر کہا تھا۔۔۔
اس نے جیسے ہی منہ کھولا تھا آنکھوں سے اشک بہنا شروع ہوئے تھے
“شش۔۔۔ بس۔۔۔۔”
آنسو صاف کرتے ہی اس نے دوسرا نوالہ بھی صبیحہ کوکھلایا تھا جو سر جھکائے کھا رہی تھی
۔
کچھ دیر بعد جب فرہاد واپس روم میں آیا تو صبیحہ روم کی لائٹس بند کرکے اپنی سائیڈ پر لیٹ چکی تھی مگر اسکے چپ چپ کر رونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔۔۔
فرہاد میں ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ کیسے بات کرنے صبیحہ سے۔۔اسے آج احساس ہورہا تھا صبیحہ کی یہ حالت دیکھ کر۔۔۔
وہ بھی اپنی سائیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔ وقت ٹھہر گیا تھا مگر صبیحہ کا رونا نہیں ۔۔۔
“کم ہیر۔۔۔”
اندھیرے سے بھرے کمرے میں وہ سرگوشی ایسے گونجی تھی اور ساتھ روتی بیوی جیسے اس لمحے کے انتظار میں تھی۔۔۔ فرہاد کے سینے میں سرچھپائے وہ اور رونا شروع ہوگئی تھی
“ایم سو سوری۔۔۔پلیزصبیحہ۔۔۔”
بالوں کو سہلاتے ہوئے آہستہ سے کہا تھا اس نے۔۔۔
“آئی ہیٹ یو فرہاد۔۔۔”
“آئی لوو یو ٹو مسز فرہاد۔۔۔”
“فرہاد میں۔۔۔”
“ایم سوری۔۔۔ایم سوری ایم سوری میری جان۔۔۔پھر کبھی ان آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا۔۔۔”
فرہاد نے ہر معافی کے ساتھ اسکے چہرے پر بوسہ دیا تھا اور پھر ان دو آنکھوں پر جو اور بھیگ چکی تھی
“میں نے ہمت چھوڑ دی تھی فرہاد۔۔۔ میں سمجھ رہی تھی کہ یہ ہماری شادی کا آخری ماہ ہوگا میں سچ میں۔۔۔”
فرہاد نے ہونٹوں کے پاس جیسے ہی بوسہ لیا تھا صبیحہ بات کرتے کرتے رک گئی تھی۔۔۔
“بولتی رہو میں ابھی تمہیں ڈسٹرب نہیں کروں گا۔۔۔” رخصار پر بوسہ لینے کے بعد فرہاد نے پھر سے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا جو شرم سے جھکی جارہی تھی
“ہمارا رشتہ تب تک ختم نہیں ہوسکتا جب تک ہم نہ چاہیں صبیحہ۔۔ یہ ہم پر ڈیپینڈ کرتا ہے ہم کیسے رشتے کو لیکر چلتے ہیں۔۔۔”
فرہاد نے باقی کا فاصلہ بھی ختم کردیا تھا صبیحہ کی تھوڑی پر اپنی انگلیاں رکھ کر جب اسکا چہرہ واپس اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
۔
درد دل کیا ہے کھلا آج تیرے لڑنے پر
تجھ سے اتنی تھی محبت مجھے معلوم نہ تھا۔۔”
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
آج دوسرا دن تھا اور فہاج نے پھر سے انتظار کیا تھا سمندر کنارے۔۔۔
۔
دوسرا دن کب تیسرے دن میں تبدیل ہوا اور ایک ہفتہ وہ ایسے ہی وہاں جاتے تھے انتظار کرتے تھے اور مایوس لوٹ آتے تھے۔۔۔
گھر جا کر وہ انوشہ کو میسج ضرور کرتے تھے۔۔۔
۔
“ڈاکٹر انوشہ میں بھی کتنا پاگل ہوں نہ۔۔؟؟ اگر تم نہیں آئی تو مجھے تمہارے پاس جانا چاہیے تھا نہ۔۔؟؟”
اور اپنی گاڑی ہاسپٹل کی طرف گھما دی تھی آج وہ کچھ زیادہ ہی تیار ہوئے تھے۔۔۔اور ہسپتال کے بلکل سامنے جاتے ہی انہو ں نے ایک درخت کے ساتھ گاڑی مار دی تھی۔۔۔
۔
“وفا کے باب میں کارِ سخن تمام ہوا
مری زمیں پہ اک معرکہ لہو کا بھی ہو۔۔۔”
“شٹ۔۔۔۔”
ماتھے سے نکلتے خون کو دیکھ کر گاڑی کے ہارن پر ہاتھ رکھ دیا تھا اور کچھ پل میں ہاسپٹل سے عملہ سٹریچر کے ساتھ آگیا تھا ور انہوں اٹھا کر اندر لے جایا گیا تھا۔۔
۔
“مریض کے سر پر چوٹ آئی ہے بےہوش ہیں آپ ڈاکٹر عثمان کو بلائیے۔۔۔”
فہاج کی آنکھیں جھٹ سے کھل گئی تھی
“میں بہت زیادہ سیریس ہوں پلیز مجھے یہاں کے بیسٹ ڈاکٹر سے علاج کروانا ہے۔۔”
وہ لوگ سٹریچر لے جاتے ہوئے رکے تھے۔۔۔
“آپ تو ہوش میں ہیں۔۔ سسٹر آئی تھنک انہیں زیادہ چوٹ نہیں آئی۔۔۔”
“نووو نووو پلیز۔۔۔ مجھے بہت چوٹ آئی ہے۔۔۔ سانس نہیں آرہا ڈاکٹر انوشہ کو کہیں میرا ٹریٹمنمٹ کردیں۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟”
وہ چاروں لوگ حیران ہوگئے تھے
“آپ انہیں ایمرجنسی لے جائیں میں ڈاکٹر انوشہ کو بلا لاتی ہوں۔۔۔”
پیچھے پلوشہ نے جیسے ہی آرڈر دیا تھا ان لوگوں نے وہی کیا تھا
“تھینک یو۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔؟؟”
“ڈاکٹر پلوشہ۔۔۔”
پلوشہ نے جیسے ہی کہا تھا فہاج نے سٹریچر سے اٹھ کر پلوشہ کا ہاتھ پکڑ کر ہاتھ ملایا تھا
“تھینک یو ڈاکٹر انہیں جلدی سے بھیج دیجئے گا۔۔۔ مریض کی زندگی کا سوال کا۔۔۔
آپ لوگ چلیں۔۔۔”
وہ واپس لیٹ گئے تھے۔۔۔پلوشہ ہنستے ہوئے انوشہ کے کیبن میں چلی گئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایسا کیا ضروری کیس تھا یہاں سب ڈاکٹرز۔۔۔”
انوشہ کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب اس نے فہاج کے ماتھے سے نکلتے خو ن کو دیکھا تھا وہ ایک پل کو بہت زیادہ پریشان ہوگئی تھی
“آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟ پروفیسر۔۔؟؟”
فہاج نے مظبوطی سے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
“آپ سب جائیں میں کرلوں گی۔۔۔”
“پر ڈاکٹر انکی سٹیچز۔۔۔”
“آپ جائیں۔۔۔”
انوشہ نے گلووز پہن کر فہاج کے ماتھے سے جیسے جیسے بلڈ صاف کرنا شروع کیا تھا فہاج کی ایکٹنگ اسے ایک الگ غصہ دلا رہی تھی
“آپ جانتے ہیں نہ مجھے پتہ لگ جاتا ہے آپ کب ایکٹنگ کر رہے۔۔”
“اووہ۔۔۔۔تھنک گاڈ پتہ لگ گیا۔۔۔۔ زرا آہستہ سے جلن ہورہی۔۔۔”
انوشہ نے اور زور سے کاٹن لگائی تھی۔۔۔
“آہ۔۔۔ پتہ ہوتا تو کسی اور ڈاکٹر کا کہہ دیتا۔۔۔”
“فہاج سیریسلی۔۔۔؟؟”
انوشہ نےچوٹ کر صاف کرتے ہی آہستہ سے پوچھا تھا وہ سمجھ تو گئی تھی
پلوشہ کی مسکراہٹ اور اسکا یہاں بھیجنے پر انسسٹ کرنا۔۔
“آپ تو آئی نہیں ڈاکٹر صاحبہ مجھے ہی آنا پڑا۔۔۔”
فہاج نے انوشہ کے ہاتھ کو پکڑا تو اس نے ہاتھ چھڑا کر سٹیچز کرنا شروع کردیا تھا کوشش کررہی تھی کہ درد نہ ہو اور درد کو دیکھنے کے لیے انوشہ نے جب جب فہاج کے چہرے کی طرف دیکھا فہاج کی آنکھوں کو خود پر ہی پایا۔۔۔
“لیٹ مئ کنسنٹریٹ۔۔۔”
وہ جھکتے ہوئے بولی تھی اور فہاج نے گہرا سانس لیکر آنکھیں بند کرلی تھی۔۔
۔
تری مرہم نگاہی اے مسیحا!
خراشِ دل پہ واری جا رہی ہے۔۔۔”
۔
“درد ہورہی ہے۔۔۔؟؟”
انوشہ نے آہستہ سے پوچھا تھا۔۔۔
“ہاں۔۔۔ اتنی نہیں جتنی وہاں تمہارے انتظار میں ہوئی تھی تکلیف۔۔”
اسکے ہاتھ رکے تو فہاج نے آنکھیں بھی کھول لی تھی اور سیدھا انوشہ کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“میں جانتا ہوں مجھے اس دن بنا بتائے نہیں جانا چاہیے تھا میں یہ بھی جانتا ہوں تم کتنی خوددار ہو۔۔۔اس لیے میں ہر روز انتظار کرتا تھا تاکہ تم سمجھ سکو کہ میں نے سزا میں وہ سب کرنے کی کوشش کی۔۔۔
اب جب برداشت نہیں ہوا تو آگیا۔۔۔”
فہاج کی بات مکمل ہوئی تو انوشہ کی پٹی بھی مکمل ہوگئی تھی۔۔۔
“آپ کو ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا یہ غلط ہے۔۔۔”
“اوکے ایم سوری۔۔۔ میں واپس چلا جاؤں گا۔۔۔”
فہاج جیسے ہی غصے سے اٹھے تھے انوشہ پیچھے ہوگئیں تھی انکے چہرے اتنے قریب تھے اس وقت۔۔۔
“ایم سوری۔۔ میں سب چھوڑ چھاڑ کر یہاں نئی زندگی نئی خوشیاں تلاش کرنے چلا آیا اور خوامخواہ آپ کو بھی تکلیف دی۔۔آپ پھر کبھی مجھے نہیں دیکھیں گی۔۔۔
ٹیک کئیر۔۔۔”
فہاج نے انوشہ کی نگاہ میں نگاہ ڈالے جیسے ہی دیکھا تھا وہ کوٹ اٹھائے کتنے قدم آگے بڑھا چکے تھے
کہ جب پیچھے سے انکا ہاتھ انوشہ نے پکڑا تھا۔۔
“میری ڈیوٹی کچھ دیر میں ختم ہوجائے گی تب تک آپ یہاں ریسٹ کرلیں۔۔۔”
“اووہ۔۔۔۔ سچی۔۔۔؟؟”
وہ واپس انوشہ کی طرف بڑھے تھے چہرے پر اتنی مسکان تھی انہوں کے انوشہ کے ماتھے پر آتے بالوں کو جیسے ہی ہٹایا تھا روم ڈور اوپن ہوگیا تھا۔۔۔ْ
۔
کاجل بھری آنکھوں کو جب مُوند لیا اُس نے
میں نے دیکھا تھا اک رات کو عین سحر میں۔۔۔”
۔
“ڈاکٹر انوشہ۔۔۔اوپپس۔۔۔ سوری میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا۔۔۔؟”
پلوشہ نے انوشہ کو آنکھ مارتے ہوئے پوچھا تھا نہیں۔۔
“نہیں آپ پروفیسر فہاج کے لیے یہ میڈیسن منگوا دیں اور یہاں ایک نرس کی ڈیوٹی بھی لگوا دیں یہ شام تک یہیں ہیں۔۔۔”
انوشہ نظریں چُراتے ہوئے جیسے ہی باہر گئی تھی فہاج کی ہنسی نے پلوشہ کو اور مسکرانے پر مجبور کردیا تھا۔۔
“ڈاکٹر پلوشہ کیا میں ڈاکٹر انوشہ کے کیبن میں ریسٹ کرسکتا ہوں۔۔؟؟”
“وٹ وائے۔۔؟؟”
“کیونکہ مجھے یقین نہیں ہے وہ ابھی ابھی ڈیٹ پر جانے کے لیے مانی ہے کہیں انکار نہ کر دیں۔۔
یو نو چینج آف مائنڈ۔۔؟؟”
“وٹ دا ہیل ڈیٹ۔۔؟؟ انکی بچی۔۔۔”
پلوشہ غصے سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر انوشہ۔۔۔آؤچ۔۔۔”
بات کرتے کرتے اپنا ہاتھ سر پر لگا تو درد سے انکی چیخ بھی نکلی تھی ۔۔۔
۔
۔
“آج کی شام بہت یاد گار بنا دوں گا ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔۔ کہ تم انکار نہیں کر پاؤ گی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اٹلی۔۔۔۔”
کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“لوگ کیا کہیں گے۔۔؟؟ اس عمر میں شادی فہاج۔۔؟؟”
“میں پہلے سوچتا تھا لوگ کیا کہیں گے ایک عمر لوگوں کا سوچ کر گزار دی۔۔۔جب پہلی شادی ناکام ہوئی تو سوچنا چھوڑ دیا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے انوشہ۔۔۔
فکر تھی تو یہ کہ تم کیا کہو گی۔۔۔؟”
“ہمارے بچے کیا کہیں گے ۔۔؟ یہ انکی عمر ہے شادی کی نہ کہ ہماری ۔۔۔”
“سارا دن مصروف گزرتا ہے دنیا کی رونق میں رات کا ایک پہر ایسا ہوتا ہے جب تنہائی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔۔ تب بچے نہیں ہوتے تب میں کوئی پروفیسر نہیں ہوتا کوئی فلاسفر نہیں تب میں بھی سوچتا ہوں کہ میرا کوئی ہمسفر کیوں نہیں۔۔؟ رات نہیں کٹ رہی تو زندگی آگے کی کیسے گزاروں گا۔۔؟؟”
انوشہ کا ہاتھ انہوں نے جیسے ہی اپنے ہاتھ میں لیا تھا ۔۔۔
“فہاج۔۔۔ اس سفر پر ایک بار چل کر دیکھ لیا اور خوب دیکھا۔۔۔ لمبی مسافت کے بعد جب مڑ کر دیکھا تو خود کو تنہا پایا میں نے۔۔۔”
انوشہ نے فہاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا تھا۔۔۔
“تم نے اس دن شادی میں ایک بات کہی تھی انوشہ تمہیں یاد ہے۔۔؟ اس دن پہلی بار میرا یہ دل ڈبل سپیڈ سے دھڑکا تھا تم نے کہا تھا
‘کہاں پوری ہوتی ہیں، دل کی ساری خواہشیں۔۔
بارش بھی ہو۔۔ یار بھی ہو اور چائے بھی۔۔۔’
آج دیکھ لو باہر بارش بھی ہے یہاں چائے بھی ہے اور میرے پہلو میں میرا یار بھی”۔
۔
“انگلی پکڑ کے چلنے کی عادت سی پڑ گئی۔۔۔
اٹھتے نہیں ہیں اب۔۔میرے پاؤں تیرے بغیر۔۔۔”
۔
اسی ریسٹورنٹ میں دور کارنر پر پڑے ٹیبل پر بیٹھے چار ینگ لوگوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی اور ایک کے منہ سے تو ڈرنک باہر نکل آئی تھی۔۔۔
“وٹ دا ف۔۔۔ہیل۔۔۔ ڈاکٹر انوشہ اور پروفیسر فہاج۔۔۔؟؟”
“کیا۔۔؟؟ روحان کے پاپا ابیہا کی موم۔۔؟؟ سیریسلی۔۔۔؟؟ اس عمر میں۔۔؟؟”
“اس عمر میں۔۔؟؟ وہ پاکستان کی ٹاپ کی ڈاکٹر ہیں اور یہ یہاں کے ٹاپ کے پروفیسر
ہوٹ کپل لگ رہا ہے۔۔۔”
“شئ از یادہ والی ہوٹ۔۔۔ ویسے روحان کے ڈیڈ اتنے اکڑو تھے انہیں ہوا کیا۔۔؟؟”
“عشق کا بخار گائیز۔۔۔ہاہاہا اب زرا سپائیسی بناتے ہیں کچھ پکس تو کھینچو روحان اور ابیہا کو بھی انکے پرفیکٹ آئیڈیل موم دیکھائیں اور روحان کو اسکے ڈیڈ۔۔۔۔”
“دس از رونگ انکی فیملیز ابھی اکٹھی ہوئی ہیں۔۔”
“کیا پتہ فیملی مان جائے ویسے بھی دونوں ہی تو ڈائیورس کے بعد سنگل ہیں۔۔۔”
“تم لوگ انکی فیملیز کو نہیں جانتے۔۔۔ آنٹی انوشہ کے بچے سٹیٹس سوسائٹی کو بہت ویلیو دیتے ہیں وہ کبھی ایگری نہیں کریں گے۔۔۔”
“بیٹا جب عشق کا بخار اس عمر میں چڑھ جائے نہ تو کوئی نہ کوئی چند چڑھا کر ہی اترتا ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔چلو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے انکی لو سٹوری کا انجام۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
