Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

“کس کو پتہ تھا پہلو میں رکھا دل ایسا پا جی بھی ہوگا۔۔۔
ہم تو ہمیشہ سمجھتے تھے کوئی ہم جیسا حاجی ہی ہوگا۔۔۔”
وہاب نے فہاج کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی سینٹر میں لا کھڑا کیا تھا۔۔۔
“کمینے میں نے تجھے دیکھ لیا میڈم کے ساتھ اوپر کیا کررہے تھے۔۔۔؟؟”
فہاج کی آنکھیں شاکڈ سے بڑی ہوئی تھی جب وہاب نے انوشہ کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔
سگار والا لمحہ پھر سے یاد آیا تو انکے چہرے پر ایک مسکراہٹ آگئی تھی۔۔
“ہائے زور کریں۔۔۔ کتنا شور کریں۔۔۔
بے وجہ باتوں پہ ایویں غور کریں۔۔۔”
فہاج کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے انکے دوست نے جیسے ہی انکے ساتھ ڈانس کیا تھا سب کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔
اس عمر میں ان دونوں کو اس طرح سے ڈانس کرتے دیکھ
“دل سا کمینہ نہیں۔۔۔
کوئی تو روکے۔۔۔کوئی تو ٹوکے۔۔۔
ڈر لگتا ہے عشق کرنے میں جی۔۔۔”
فہاج کہتے ہوئے پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔ پورے ہال میں تالیوں کی آواز گونج اٹھی تھی بی جان کے ساتھ ساتھ اور بہت بزرگ اٹھے تھے ان دونوں کے سر پر پیسے وار کر پھینکے تھے۔۔۔
۔
“انکو دیکھ کر لگ رہا ہے دل سچ میں بچہ ہے جی۔۔۔۔بڈھے ہورہے جوانی نہیں گئی۔۔۔”
ان کے خواتین کے گروپ میں کسی نے سرگوشی کی تو باقی سب بھی ہنسنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
انوشہ کے چہرے پر ابھی بھی وہی شرم جھلک رہی تھی جس سے وہ اوپر سے نیچے آگئی تھی ایکسکئیوز کرکے۔۔۔
۔
“فہاج بھائی تو بڈھے نہیں لگ رہے۔۔۔ آپ لوگ دوسری شادی کا کیوں نہیں کہتے۔۔؟؟”
نیہا نے ہنستے ہوئے پوچھا تو نازنین بھی سنجیدہ ہوگئی تھی
“انہوں نے عنبر بھابھی۔۔۔کے سوا کبھی کچھ نہیں سوچا۔۔۔ میں بھی حیران ہوں فہاج بھائی کو آج اتنا مسکراتے دیکھ کر۔۔۔”
نازنین کی نظریں انوشہ سے ٹکرائی تھی جو فہاج کے متعلق باتوں کو پوری توجہ سے سن رہی تھی۔۔۔
۔
“ہماری انوشہ والا حساب۔۔۔”
“افف نیہا ہر بات میں میرا ذکر کرنا ضروری ہے۔۔۔”
“اوکے بابا سوری۔۔۔۔ مجھے بہت خوشی ہوئی تم سب کام ختم کرکے آگئی۔۔۔”
۔
نیہا نے اگین انوشہ کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔ اسکی خوشی کا کوئی سما نہیں رہا تھا انوشہ کو آج اس فنکشن میں آتے دیکھ وہ خوب جوش و خروش سے سب سے ملوا رہی تھی دولہے کی خالہ کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم جانتی بھی ہو میں کتنا پریشان ہوگیا تھا انوشہ۔۔ تم پھر سے مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔۔”
احلام نے ایک ڈارک کارنر پہ انوشہ کو اپنے ساتھ کھینچ لیا تھا جہاں سے باہر گارڈن تھا جن کی روشنیاں اندر تک آرہی تھی۔۔۔وہ اس اندھیرے سے ڈری نہیں تھی جتنا احلام کی جرات پر اسے غصہ آرہا تھا۔۔۔
۔
“تم باز نہیں آؤ گے ایسے۔۔؟؟ یہاں فنکشن چل رہا ہے اور تم اپنی حرکتوں سے مجھے پانے کی کوشش میں ہو۔۔؟؟ کچھ شرم کریں احلام فرہاد کا سسرال ہے یہ۔۔۔”
“یہی وجہ ہے کہ میں تمہیں بار بار اپروچ کررہا ہوں میرے پاس یہ آخری موقع ہے انوشہ
تمہیں منانے کا۔۔۔”
انوشہ کی ویسٹ پر جیسے ہی احلام نے اپنا ہاتھ رکھا تھا وہ کچھ قدم دور ہوگئی تھی
“احلام مجھے منانے کا بھی حق کھو چکے ہو۔۔۔ سمجھ کیوں نہیں آتی اب میں تمہاری نہیں ہوسکتی۔۔۔ کچھ بھی نہیں رہا میرے دل میں نہ تمہارے لیے نفرت نہ ہی محبت۔۔۔”
“اچھا۔۔۔تو پھر کیوں آج بھی میرے قریب آنے میں تمہارا وجود کانپ جاتا ہے انوشہ۔۔؟؟ کیوں تم نے کسی اور کو اپنے قریب نہیں آنے دیا اگر مجھ سے محبت نہیں رہی تو۔۔۔؟؟”
احلام کی انگلیاں بازو سے ہوتے ہوتے گردن کی لو تک جیسے ہی گئی تھی انوشہ کی آنکھوں میں وہی جذبات اُبھرے تھے جو شادی کے ان دنوں دیکھنے کو ملتے تھے
“کہہ دو میری نزدیکیاں تمہیں بہکنے پر مجبور نہیں کررہی۔۔؟؟ تمہارا یہ وجود اب بھی منتظر ہے میری بانہوں میں ٹوٹنے کے لیے بولو جان۔۔۔”
احلام جیسے ہی انوشہ کی جانب جھکا تھا اس سائیڈ کے دوسرے کونے سے آتی آوازوں نے انوشہ کو اپنی کھوئی دنیا سے باہر لا کھڑا کیا تھا۔۔۔
ایک بار پھر وہ اس شخص کے مکر وفریب کا نشانہ بننے والی تھی۔۔۔
وہ جیسے ہی حیران نظروں سے احلام کو دیکھتی ہے احلام کے چہرے پر ایک چمک تھی جیسے وہ اپنا پوائنٹ ظاہر کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔
“تم بھی یہی چاہتی ہو جو میں چاہتا ہوں۔۔۔ اسی لیے تم نے کسی اور کو اپنی زندگی میں آنے نہیں دیا انوشہ۔۔۔”
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔ میری زندگی میں آلریڈی کوئی ہے۔۔۔ جو میری پسند ہے۔۔۔
اور کردار میں تم سے بہتر نہیں بہترین ہے وہ۔۔۔”
وہ بھی چوٹ دے کر اسی طرف واپس جانے لگی تھی۔۔۔ مگر دوسری طرف سے آتی آواز نے اسے رکنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
“تم کس طرح کے باپ ہو فہاج اپنی اولاد کی خوشیوں کا اندازہ نہیں ہے تمہیں۔۔۔”
“یو مسٹر فرحان سٹے آؤٹ آف دس۔۔۔”
“اگر میرا کوئی تعلق نہ ہوتا تو ضرور دخل نہ دیتا۔۔۔ مگر اب وہ میری فیملی ہے۔۔۔
مجھے مجبور نہ کرو کہ ان دونوں بچوں کو منع کردوں تم سے ملنے کو۔۔۔”
فہاج اس سے پہلے کچھ کہتے فرحان کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھ دیا تھا
“رہنے دو فرحان۔۔۔ یہ شخص جب تک اپنے بچوں سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے اسے قدر نہیں ہوگی۔۔۔یہ خودی میں مگن رہ کر ہی آج تنہا ہے۔۔۔”
انوشہ کی نظر اس لیڈی پر پڑی تھی جو اپنی تلخ باتوں سے اس خاموش انسان کو اور ڈی گریڈ کررہی تھی اور وہ خاموش تھا وہاں۔۔۔
“عنبر ایسے نہیں چلے گا۔۔۔ اس دن بھی وہ بچی رو رہی تھی تم کیسے باپ ہو۔۔؟؟”
“میں کیسا باپ ہوں۔۔۔ یا نہیں ہوں یہ آخری بار تھا تم نے مجھ سے دوٹوک بات کی ہے۔۔ میرے بچوں کے معاملات میرے ذاتی ہیں۔۔”
“تم اس طرح سے فرحان سے بات نہیں کرسکتے ۔۔۔مجھے مجبور نہ کرو کہ میں بچوں سے بات کروں۔۔۔وہ تمہیں چھوڑ دیں گے مکمل۔۔۔ پھر اکیلے رہ جاؤ گے۔۔”
“کیا میں ابھی اکیلا نہیں ہوں بقول تمہارے۔۔؟؟”
فہاج کی بات سن کے وہ جاتے جاتے رک گئی تھی۔۔۔
“میں تو تمہارے میری زندگی میں ہوتے ہوئے بھی اکیلا تھا عنبر۔۔۔
اب میں اور تب میں فرق اتنا ہے تب میں فریب میں تھا۔۔۔ اب میں سچ جان کر اکیلا ہوں مگر میں خوش ہوں۔۔۔”
۔
۔
“اور پھر میں نے وہاں صبر کرلیا۔۔۔۔
جہاں لوگوں کے لہجوں کو ان کے منہ پر مارنا تھا”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہاں سوچتی ہوں کہ ہم ہی محبت کے ڈسے ہوئے ہیں۔۔ محبت نے تو سب کو ستایا ہوا ہے۔۔۔
کہاں یہ انوشہ تو کہاں وہ فہاج۔۔۔۔”
انوشہ نے گلاسز اتار کر رکھ دی تھی اور لیپ ٹاپ کی سکرین بھی بند کردی تھی۔۔۔
ہلکی سی دستک پر انوشہ نے دروازے کی جانب دیکھا تک نہیں تھا
“دروازہ نہیں کھلے گا احلام جسٹ لئیو مئ آلون۔۔۔۔”
اور کچھ دستک ہونے کے بعد قدموں کی آہٹ ہوئی تھی اور باہر خاموشی ہوگئی تھی۔۔۔
“تمہاری اس خاموشی نے مجھے بہت بےچین کردیا ہے پروفیسر صاحب۔۔۔جو لیکچر دیتےہوئے ہزار لوگوں کو خاموش کردیتا ہو وہ آج کیوں خاموش تھا ان دو لوگوں کے سامنے۔۔۔؟؟
کیوں اتنی خاموشی سے چلے گئے وہاں سے ان دونوں کو جواب دے کر جاتے اپنی پوزیشن اپنے بچوں کی زندگی میں بتا کر جاتے وہاں سے۔۔۔”
۔
آج سائیڈ ٹیبل پر اسکے سگار موجود نہیں تھے وہ فنکشن سے آنے کے بعد اتنا تھک چکی تھی کہ اٹھنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
مگر پچھلے ایک گھنٹے سے وہ پروفیسر فہاج کی پروفائل انٹرنیٹ پر دیکھ رہی تھی انکی قابلیت سے بھرے انٹرویوز پڑھ کر اسے احساس ہوا تھا جو ساری دنیا کے سامنے مسٹر پرفیکٹ ہے۔۔
وہ اندر سے کتنا ادھورا ہے۔۔۔۔
۔
انوشہ نے پھر سے لیپ ٹاپ کی سکرین اوپن کی تھی اور پھر سے فہاج کی پروفائل سرچ کی تھی اب فیس بک ایپ پر وہ پروفائل دیکھی تو اس سنجیدہ تصویر کے نیچے ایک لکھے شعر نے ڈاکٹر انوشہ کی سانس کچھ پل کے لیے ساکن کردی تھی۔۔۔
۔
۔
“میں اُداسی کے ایک دفتر میں۔۔۔
مُسکرانے کا کام کرتا ہوں۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پروفیسر فہاج میں ریکویسٹ کرتا ہوں آپ کی ضرورت ہے ابھی اس یونیورسٹی کو۔۔۔
آپ کو کوئی بھی سٹوڈنٹ تنگ کررہا ہے تو بتائیے ہم خود اسکے خلاف ایکشن لیں گے۔۔۔”
فہاج نے سامنے تینوں سینئرز ٹرسٹیز کو دیکھا تھا اور وہ کوئی جواب نہیں دے سکے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کسی فی میل سٹوڈنٹ کا نام خراب ہو۔۔۔
“دیکھیں سر میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔۔۔ مگر میرے اپنے ریزن ہیں۔۔۔ ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ۔۔۔”
“پلیز پروفیسر۔۔۔ آپ یہاں کے بیسٹ لیکچرار ہیں ہم تو یہاں آپ کو ہیڈ آف مینیجمنٹ کی پوسٹ دینا چاہتے تھے ساتھ ساتھ۔۔۔اور اب ہم مایوس ہوگئے ہیں۔۔”
فہاج بھی ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تھے
“پلس آپ کی سیلری ڈبل ٹرپل کردیں گے۔۔۔ آپ کو اپارٹمنٹ اور۔۔”
وہ سہولیات کی لمبی لسٹ بتا رہے تھے اور فہاج صاحب خاموش ہو کر سن رہے تھے۔۔۔
“اوکے۔۔۔ اوکے سر۔۔۔مجھے سوچنے کا وقت دیجئے۔۔۔ میری کلاس ہے ابھی میں پھر آپ کو بتا دوں گا۔۔”
“اوکے پروفیسر۔۔ آپ کو جتنا وقت چاہیے آپ لیجئے۔۔۔”
فہاج سب سے ہاتھ ملا کر باہر جیسے ہی آئے تھے ان کا فون بجنے لگا تھا
“فہاج۔۔۔ ہم یہاں مال میں انتظار کررہے تھے تحفہ نہیں لینا تم نے۔۔؟؟ سب شاپنگ کے لیے آئے ہوئے۔۔ لو بی جان سے بات کرو۔۔۔
فہاج پتر سب انتظار کررہے تھے ساتھ میں کرلیتے ندیم کو تو کوئی مشورہ دینا بھی نہیں آتا اور وہ سب کڑیاں اپنی اپنی شاپنگ پر چلی گئی میں یہاں اکیلی کھپ رہی ان نکموں کے ساتھ۔۔”
“بی جان میری کلاس ہے ابھی۔۔۔ ایک گھنٹہ تو لگ جائے گا آپ لوگ کرلیجئے نہ۔۔۔”
بی جان سے فون وہاب نے واپس لے لیا تھا اور کچھ دور چلا گیا تھا
“اوئے۔۔۔ پروفیسر۔۔۔ دولہے کی ماسی بھی آئی ہوئی ہے۔۔۔ سلوار سوٹ میں سولہ برس کی لگ رہی۔۔۔ اگر تم نہیں آرہے تو میں میں۔۔۔”
“گو ٹو ہیل۔۔۔۔ کچھ شرم کر تیری عمر دیکھ بدتمیز۔۔۔۔”
فہاج نے غصے سے فون بند کردیا تھا۔۔۔ اور ٹیچرز روم میں اپنے دوست کو اپنی کلاس اٹینڈ کرنے کی درخواست کرکے یونیورسٹی سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہیلو میڈم میں ہیلپ کردوں کپڑے خریدنے میں۔۔؟؟”
کچھ بوائز جیسے ہی شاپ میں داخل ہوئے تھے روحیل نے گرلز کو دوسری شاپ پر لے جانے کا کہہ دیا تھا
“تم ہمیں جو یہاں لے آئے ہو۔۔۔وہاں انکے ساتھ بھی تو دو چار ہاتھ کرسکتے تھے نہ۔۔؟؟”
“قرطبہ مار پیٹ میں کیا رکھا ہے۔۔؟؟ یہاں بھی اچھی شاپنگ ہے۔۔۔”
“ڈرپوک کہیں کے۔۔۔” وہ پاؤں پٹک کر دوسری جگہ چلی گئی تھی اور روحیل پیچھے پیچھے۔۔۔
“یہاں یہ سب بھی ہوتا ہے۔۔؟؟”
انوشہ نے نازنین اور نیہا کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا
“ہر روز نہیں ہوتا اگر یہ مال میں ہیں اور کوئی انہیں نکال نہیں رہا تو یقینا یہاں کے اونر کے بگڑے بچے ہوں گے۔۔۔”
“انوشہ ماسی آپ کا فون گاڑی میں بج رہا تھا۔۔۔”
فرہاد بھی وہاں آکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“شئ از رئیلی ہوٹ مین۔۔۔”
“یو۔۔۔”
پر انوشہ کو روک دیا تھا فرہاد نے۔۔
“خالہ اٹس اوکے دفعہ کریں۔۔۔”
“عجیب مرد ہو ہر کوئی اگنور کرنے کا کہہ رہا ہے انکی تو۔۔۔”
“انوشہ ان لوگوں کے منہ لگنے کا فائدہ نہیں۔۔”
نیہا بھی انوشہ کو روک رہی تھی جب شاپ میں فہاج بی جان کے ساتھ داخل ہوئے تھے۔۔۔
“کیا ہوا۔۔؟؟”
انہوں نے انوشہ کے چہرے پر غصہ دیکھتے ہی پوچھا تھا
“کچھ نہیں۔۔۔”
وہ کال پک کرکے باہر چلی گئی تھی فرہاد کو غصے سے دیکھتے ہوئے۔۔۔
انکے باہر جاتے ہی وہ بوائز پھر ہوٹنگ کررہے تھے اور سب ہی اگنور کئیے جارہے تھے انہوں۔۔۔
“بی جان آپ سلیکٹ کیجئے میں ابھی آیا۔۔۔”
فہاج صاحب وہاں چلے گئے تھے۔۔۔
اور کچھ دیر بعد جب اس مال میں ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں آنا شروع ہوگئی تھی تو بہت سے زخمی لوگوں کو لے جاتے دیکھا تھا اور سب ہی حیران اپنی فیملی کے مردوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
“تم نے کیا یہ میرے سپر مین۔۔۔”
قرطبہ نے سب کے سامنے روحیل کی گال پر بوسہ دیا تھا
“ہاہاہاہا روحیل بابو آپ ک تو نکل پڑی۔۔۔”
کچھ دیر میں سب ہی شاپنگ کرکے واپس جانے کو تھے جب بی جان نے فہاج کا پوچھا تھا
“بی جان فہاج گھر جا چکا ہے کال آئی تھی۔۔۔”
وہاب نے جواب دیا تھا اور سب ہی اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہاری نظر میں میاں بیوی کا رشتہ بس یہی ہے فہاج بتوین دا شیٹس۔۔۔
کوئی ایک موقع کوئی ایک تہوار بتا دو جب تم نے ہمیں وقت دیا۔۔ اپنے بچوں کو وقت دیا ہو۔۔۔؟؟”
اپنا دوپٹہ اوڑھے وہ بیڈ سے اٹھ گئی تھی خود کو فہاج کی گرفت سے چھڑا لیا تھا۔۔۔
“کیا کہا۔۔؟؟ پھر سے کہو۔۔؟؟ تم نے کیا نام دیا اس سب کو۔۔؟؟”
کندھے سے پکڑ کر واپس فہاج نے اپنی بیوی کو اپنی طرف کھینچا تھا
“جو تم نے سنا۔۔۔ پورا دن تمہارا کوئی آتا پتا نہیں۔۔۔ مگر رات کو تمہیں بیوی اپنے پاس چاہیے ہوتی۔۔۔ کیا رہ گیا ہے ہمارے درمیان سوائے اس انٹیمیسی کے۔۔۔؟؟”
“سیریسلی۔۔۔؟؟ یہ تہمت لگاتے ہوئے تمہیں زرا شرم نہیں آرہی ۔۔؟؟ تم ہمارے اس رشتے کو حوس کا نام دہ رہی ہو عنبر۔۔۔”
وہ غصے سے چلائے تھے۔۔۔
“ٹپیکل مردوں والا کارڈ مجھ پر نہ کھیلو فہاج۔۔۔ جب جب مجھے میرے بچوں کو تمہاری ضرورت محسوس ہوئی تم نہیں تھے ہمیشہ آفس کے کام۔۔۔ کبھی سوچا ہے میری محرومیوں کے بارے میں۔۔؟؟”
“ہم صبح بات کریں گے اس بارے میں۔۔۔”
مگر جس طرح عنبر نے فہاج کو واپس اپنی طرف متوجہ کیا تھا انکی شرٹ کے بٹن ٹوٹ گئے تھے
“آج بات ہماری لڑائی اس بستر پر ختم نہیں ہوگی۔۔۔”
“میں شوہر ہوں تمہارا۔۔۔۔ میرا حق ہے تم پر چاہوں تو سب کچھ کرسکتا ہوں۔۔۔ مگر میں نے کبھی تم پر زبردستی نہیں کی عنبر۔۔۔”
ان کا ہاتھ اٹھتے اٹھتے رہ گیا تھا اتنے سنگین الزامات وہ بھی اپنی شریکِ حیات کے منہ سے سن کر۔۔۔
وہ اپنا سر پکڑے بیڈ پر بیٹھ گئے تھے
“تم نے گھر والوں نے مجبور کیا مجھے یہ دو دو نوکریاں کرنے پر۔۔۔ میں اس کم تنخواہ پر خوش تھا تم سب کے ساتھ۔۔۔ مگر تمہاری شکایات کبھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔
ہمیشہ ایک نئی ڈیمانڈ۔۔۔ یہ نوکری تم لوگوں کے لیے کی میں نے۔۔۔
ضروری نہیں رشتے میں صرف بیوی مظلوم ہو۔۔۔ مرد بھی مظلوم ہوتا ہے۔۔۔
وہ مرد جو دن بھر دنیا سے لڑ کر گھر داخل ہوتا ہے۔۔۔ بیوی کی آغوش میں وہ اپنی حوس پوری کرنے نہیں آتا۔۔۔ یہ آغوش اسے سکون دیتی ہے۔۔۔ ایک مکمل دنیا کی یقین دہانی دلاتی ہے۔۔۔
کہ اسکی جنگ خود سے دنیا سے رائیگاں نہیں گئی۔۔۔ وہ باہر محنت کرتا ہے تو گھر میں کوئی اس کا بہت بے صبری سے انتظار بھی کررہا ہوتا ہے جس نے اسکے گھر کو جنت بنا دیا ہے اگر باہر اسکے لیے زندگی عذاب بنی ہوئی ہے تو جنت جیسا گھر اسکا منتظر بھی ہے۔۔۔
عنبر۔۔۔ میں دن بھر کی تھکن کے بعد راحت کے لیے اپنی بیوی کا طلبگار ہوں۔۔۔
ورنہ حوس کے لیے مردوں کو جسم بازاروں میں بھی مل جائیں۔۔۔”
۔
عنبر کی آنکھیں شاکڈ سے بڑی ہوگئی تھی فہاج نے آج جو باتیں کردی تھی وہ شادی کے اتنے سالوں میں کبھی نہیں کی تھی۔۔۔
۔
“میں نے تمہیں ہمیشہ پیار کیا ہے۔۔۔ اور اللہ جانتا ہے میں یہ دن رات کی محنت بھی تمہارے لیے کررہا ہوں تاکہ تمہیں خوش رکھ سکوں۔۔۔
یہ جو تم نے طعنہ دیا ہے نہ بٹوین شیٹس۔۔۔ اگر میری محبت حوس ہے تو میں آج کے بعد اپنی بیوی کو چھواں گا بھی نہیں۔۔۔
مگر میری درخواست ہے رات سونے کے لیے مجھے پھر بھی تمہاری آغوش کا سہارا چاہیے۔۔۔
یہ کچھ گھنٹے ہوتے ہیں میرے سکون کے عنبر۔۔۔ صبح پھر ایک نئی جنگ لڑتا ہوں باہر کی دنیا کے ساتھ۔۔۔
کم سے کم گھر کوگھر رہنے دو۔۔۔ دنیا نہ بناؤ۔۔۔ورنہ گھر میں بھی جینا چھوڑ کر گزارا کیا کروں گا جیسے باہر کرتا ہوں تم سب کے بغیر پورا پورا دن۔۔۔۔”
۔
فہاج کی آواز بھاری ہوگئی تھی۔۔۔
۔
“بی جان کہتی ہیں کسی بھی عورت کی زندگی میں بہار اسکے شوہر سے ہوتی ہے۔۔۔
مگر میری تو زندگی کی بہار ہی تم ہو عنبر۔۔۔”
۔
کوٹ اتار کر رکھ دیا تھا انہوں نے زخمی ہاتھ اور تھکن سے چُور جسم انہیں اس کمرے سے ماضی کے گھنے اندھیروں میں لے گیا تھا۔۔۔
۔
“سر آپ سے ملنے کوئی آیا ہے۔۔۔”
فہاج کچھ دیر پہلے ہی اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے کہ ملازم نے بیڈروم ڈور پر ناک کردیا انکو ماضی سے نکال کر حقیقت سے آشنا کروایا تھا ملازم کی آواز نے اور جب وہ نیچے گئے تو وہ حیران رہ گئے تھے انوشہ کو دیکھ کر۔۔۔ جن کے ہاتھ میں بینڈ ایج باکس تھا۔۔۔
“میں نے سوچا زخم زیادہ ہوں گے پٹی کے لیے ڈاکٹر کی ضرورت پڑے گی۔۔۔”
انوشہ نے ٹائلز پر گرے خون کے قطروں کی طرف اشارہ کیا تھا اور جب فہاج صاحب کے سیدھے ہاتھ پر انکی نظر پڑی تو وہ ہاتھ پیچھے چھپا چکے تھے
“مجھے کیوں زخم آنے۔۔؟؟ یہ تو ملازم کا ہوگا رکیں میں ابھی بلاتا ہوں۔۔۔”
“کٹ دا کریپ۔۔۔ یہاں آکر بیٹھیں۔۔۔ زخم گہرے ہوئے تو سٹیچز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔”
ڈاکٹری ٹون میں سخت لیجے میں جیسے ہی کہا تھا فہاج صاحب کسی معصوم بچے کی مانند سامنے صوفہ پر آکر بیٹھ گئے تھے
“دیکھیں ڈاکٹر انوشہ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں گاڑی کے دروازے میں ہاتھ آگیا تھا۔۔”
“اور منہ بھی آگیا تھا۔۔؟؟ یہاں بھی زخم آیا ہوا۔۔۔”
ہونٹوں کے قریب اشارہ کیا تو فہاج صاحب نے غصے سے منہ پیچھے کرلیا تھا
“کمینے کہیں کے۔۔۔”
“اچھا کون کمینے۔۔۔؟؟”
ہاتھ کو جیسے ہی چہرے کے سامنے رکھا تھا زخم دیکھنے کے لیے خون کو دیکھ کر انہوں نے فہاج صاحب کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔
“کم سے کم ہاتھ تو دھو لیتے خون جم گیا تو زیادہ درد ہوگی صاف کرنے میں آپ کو پتہ نہیں۔۔؟؟”
مگر وہ چپ چاپ دیکھ رہے تھے انوشہ کو۔۔۔
“میم آپ کے لیے جوس لیکر آؤں۔۔؟؟”
“آؤں کیا۔۔؟؟ لیکر آؤ۔۔۔جلدی۔۔۔”
فہاج نے ملازم کو واپس بھیج دیا تھا
“ویسے یہ عمر نہیں آپ کی کہ آپ مار پیٹ کریں۔۔۔”
“مار پیٹ۔۔؟؟ میں پروفیسر ہوں۔۔ کوئی سڑک چھاپ غنڈہ نہیں ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔”
انوشہ نے کاٹن کو جیسے ہی چہرے پر لگایا تھا پروفیسر صاحب کی چیخ نکل آئی تھی
“آؤچ۔۔۔ آہستہ سے۔۔۔”
“سو۔۔۔؟؟ آپ ہی تھے میں نے دیکھ لیا تھا آپ کو مال سے نکلتے ہوئے۔۔۔
ویسے یہ کم آپ کی عمر پر سوٹ نہیں کرتا۔۔۔”
ہاتھ کا خون صاف کرکے انہوں نے پٹی کردی تھی۔۔۔
“یہ کام کرنے کے لیے غیرت کا ہونا ضروری ہے عمر چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔
وہاں فیملی کے اتنے مرد تھے اور خاموش۔۔۔ میں غلط کو غلط ہی پڑھاتا ہوں درگزر کرنا ہوتا تو کرکے فارغ ہوجاتا۔۔۔ عورت کی عزت نہ کرنے والوں کو مار پیٹ کی اشد ضرورت ہے۔۔۔”
انکی پٹی جیسے ہی مکمل ہوئی تھی ڈاکٹر انوشہ کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
“اوکے۔۔۔ پروفیسر صاحب۔۔ اب میں چلتی ہوں میری کانفرنس میٹنگ ہے ہاسپٹل سٹاف کے ساتھ۔۔۔ مہندی کے فنکشن پر ملاقات ہوگی۔۔۔”
لہجہ بہت سیریس تھا مگر انکی آنکھوں میں عزت بھی دیکھی تھی اس وقت فہاج نے اپنے لیے۔۔۔
“ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔”
وہ جاتے جاتے رک گئی تھی
“مہندی کے فنکشن کے لیے کپڑوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔۔۔”
“تو۔۔۔؟؟”
“تو آج تو میں شاپنگ نہ کرسکا۔۔۔ بنا کپڑوں کے فنکشن اٹینڈ کرنے سے رہا۔۔۔”
“تو۔۔۔؟؟”
انوشہ انکی طرف ایک قدم بڑھی تھی جب فہاج نے دو قدم بڑھائے تھے۔۔۔
“تو کل شاپنگ پر چلیں گی میرے ساتھ۔۔؟؟ کیونکہ بی جان تو اب جائیں گی نہیں۔۔
اور میری بیٹی اپنی ماں کی طرف گئی ہے۔۔۔ اور۔۔۔ میں نے کبھی خود سے شاپنگ نہیں کی۔۔۔اور۔۔۔ نازنین کو کہہ نہیں سکتا وہ آگے ہی۔۔۔”
چہرے پر پڑتی بالوں کی لٹ کو انہوں نے کان کی لو تک لے جاکر چھوڑا تھا اور نظریں اٹھا کر فہاج کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔۔”
انوشہ کہہ کر دروازے کی جانب بڑھنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔ کچھ تو ہوا تھا اس پل کہ جس نے انوشہ کو رک جانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔وہ جو ایموشنز کو کنٹرول میں رکھتی آئی آج فہاج کے چہرے پر مایوسی دیکھ کر اسکے جذبات آؤٹ آف کنٹرول ہو گئے تھے
فہاج کو جو مایوسی محسوس ہوئی تھی انوشہ کی ری جیکشن پر وہ انہیں کاٹ رہی تھی
وہ بھی واپس اوپر جانے کے لیے مڑے تھے
“شاپنگ سے پہلے اچھا سا کھانا کھلائیں گے تو ڈن کریں۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
“ہممم اوکے۔۔۔ ڈاکٹر انوشہ۔۔۔۔”
“گڈنائٹ پروفیسر فہاج۔۔۔۔”
وہ جیسے ہی گئی تھی انکے سنجیدہ چہرے پر مسکان چھا گئی تھی مکمل۔۔۔۔
۔
“انوشہ۔۔۔۔”
انہوں نے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“انہوں نے گفتگو کیا کرلی ہم سے۔۔۔۔
ہائے دھڑکنوں نے تو اُدھم مچا دی۔۔۔۔”
۔