Humsafar By Sidra Sheikh readelle50019 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
“یو آر رؤنگ موم۔۔۔ آپ کیوں کررہی ہیں یہ سب۔۔؟؟ اریبہ اور مجھے بدگماں کرنے کے لیے ڈیڈ سے۔۔؟؟ وہ جنہوں نے کبھی یہ سب کرنے کا سوچا نہیں اب وہ کسی عورت کے پیچھے چلے گئے سیریسلی۔۔۔؟؟ “
روحان کی بات سن کر اریبہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بھی کھلکھلا کر قہقے لگاتی ہوئی صوفہ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“اریبہ تم بھی یقین نہیں کررہی مجھ پر۔۔؟”
عنبر نے آرام سے پوچھا تھا
“ہاہاہا۔۔۔ موم۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔ او گاڈ۔۔۔۔ ڈیڈ اور کسی اور کے چکر میں۔۔؟؟
ای از ون اینڈ اونلی پرسن کہ جن کی میں قسم کھا سکتی ہوں کہ انہوں نے ہم دونوں کے لیے کبی دوسری شادی نہ کی۔۔۔”
“اووکے۔۔۔عنبر میں ابھی ضروری میٹنگ کر لیے جارہا ہوں تم بات کرکے گھر چکی جانا۔۔”
فرحان صاحب جاتے جاتے اس ٹیبل کے ساتھ ضرور ٹکرائے تھے جہاں فہاج کا فوٹو فریم نیچے گر گیا تھا اچانک سے۔۔۔
وہ اس شیشے کے ٹکڑوں پر سے گزر گئے تھے اپنی مسکان چھپا کر۔۔۔
“بچوں پلیز۔۔۔”
عنبر ے پھر سے التجا کی تھی مگر وہ دونوں تو سچ ماننے کو تیار ہی نہیں تھے کہ انکے ڈیڈ کسی کے ساتھ انوالوو بھی ہوسکتے۔۔۔
“تمہاری موم ٹھیک کہہ رہی ہے بچوں۔۔۔ فہاج اسی چکر میں پاکستان گیا ہے۔۔۔”
“وٹ ربیش۔۔؟ لاسٹ ٹائم آئی چیک آپ میرے ڈیڈ کے بیسٹ فرینڈ تھے انکل وہاب۔۔”
روحان جیسے ہی کھڑا ہوا وہاب اور قریب ہوئے تھے
“میں جانتا ہوں۔۔ مگر وہ عورت فہاج کو پوری طرح اپنے جال میں پھنسانا چاہتی ہے۔۔
اس نے جھوٹ بول کر اپنے پاس تو بلا لیا مگر تم لوگ جانتے ہو نہ اپنے ڈیڈ کو۔۔؟ کتنے نرم دل ہوجاتے ہیں۔۔۔انکی یہ دولت عیش عشرت کی وجہ سے۔۔”
“کون ہے وہ۔۔؟ نام بتائیں اس کا۔۔؟”
اریبہ نے جیسے ہی پوچھا تھا وہاب صاحب نے انکار کردیا تھا نام بتانے سے۔۔۔
“ایم سوری عنبر ۔۔۔ بس میں اتنا چاہتا ہوں کہ کسی طرح فہاج کو واپس بلا لیں۔۔ اور
بچوں تم دونوں ۔۔۔”
وہاب نے دونوں کو اپنے سامنے کھڑا کرلیا تھا ایک ہاتھ اریبہ اور دوسرا ہاتھ روحان کے کندھے پر رکھ کر
“تم دونوں کی محبت فہاج کو اس دلدل سے باہر لے آئے گی جس میں وہ لوگ اسے کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔”
“کون لوگ انکل۔۔۔؟ کیا بات کررہے ہیں آپ۔۔؟؟”
“اریبہ بیٹا ابھی کے لیے اتنا جان لو کے تمہارا ڈیڈ کو پھنسایا جارہا ہے اپنی جھوٹی محبت میں۔۔
یہ عمر تم لوگوں کی ہے۔۔ پلیز اپنے ڈیڈ کو واپس نکال لاؤ۔۔۔”
۔
وہ انکے سامنے اپنی آنکھیں دیکھا کر صاف کررہے تھے۔۔اور کچھ ہی دیر میں ان دونوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ چلے گئے تھے
“ڈیڈ ہمارے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔”
“وہ شخص اتنے سال کی رفاقت کے بعد اگر مجھے بےسہارا چھوڑ سکتا ہے تو تم دونوں کو کیوں نہیں۔۔؟؟”
۔
وہ بھی اس پارٹمنٹ سے چلی گئیں تھیں۔۔۔ آج وہ لوگ الگ الگ ملنے آئے تھے فہاج سے۔۔ اور آج ہی موقعہ کا فائدہ اٹھا کر وہاب صاحب نے اپنا پتہ پھینکا تھا فہاج کو واپس بلانے کا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سمندر سے آتی لہریں مجھے اس امید کا یقین دلا رہی ہیں کہ وہ آئے گا۔۔۔ میرا انتظار رائیگاں نہیں جائے گا۔۔۔ اس نے آنے کا وعدہ کیا تھا
اے دلِ ناداں۔۔۔۔
مگر۔۔۔۔ شام کے ڈھلتے سائے مجھ پر ایک اور سچ بھی آشنا کر رہے ہیں کہ دل سچ میں نادان ہی رہا۔۔”
انوشہ نے نظریں دور تک دہرائی تھی۔۔۔بہت دور تک۔۔۔ مگر وہ شخص انہیں نظر نہ آیا تھا اتنے گھنٹے انتظار کرنے کے بعد بھی۔۔
انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ مایوس ہوں یا غصہ۔۔؟؟
احلام کے بعد فہاج وہ دوسرے مرد تھے جن پر انہیں یقین ہونا شروع ہورہا تھا۔۔۔مگر چوبیس گھنٹے میں ہی اس شخص کا اصل روپ بھی واضح ہوگیا ان پر۔۔۔
“میں ہی پاگل تھی جو کیا وعدہ عفا کرنے آگئی۔۔۔”
انہوں نے وہ نمبر پھر سے ڈائل کیا تھا جو اب آف جارہا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“اٹلی ۔۔۔۔”
۔
“ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔۔۔مگر بہو اور بیٹی میں فرق تو تب بھی کیا جاتا تھا۔۔”
بی جان کی باتیں بہت لطف لے کر انکی بہوؤں اور بچیاں سن رہی تھی۔۔۔۔ گھر کا یہ حصہ مخصوص تھا جہاں گھر کی خواتین ایک ساتھ بیٹھتی تھی آکر۔۔۔
نازنین بیگم نے سبزیاں اور نائف لاکر وہاں رکھ دی تھی اور شروع ہوگیا تھا کچن کے کام کے ساتھ ساتھ بی جان کی باتوں کا ٹرکا۔۔۔
“ہاہاہاہا پر مجھے ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا بی جان۔۔۔ آپ تو میری ساس نہیں ماں بن کر مجھے سمجھاتی آئی۔۔۔”
“مگر میری ساس تو توبہ ہے۔۔۔ اپنی بیٹیوں کو تو سارا دن سلائے رکھتی تھی پر مجھے ہر کام کرنا پڑتا تھا۔۔۔ شادی کے پہلے سال تو میں نے عذاب میں گزاریں۔۔۔ “
“ہاہاہاہا اور جب رضیہ مجھے شکایت لگاتی تو الٹا میں ڈانٹ دیتی تھی۔۔۔یہ کہہ کر کہ تم تو آلسی ہو تمہیں بہانہ چاہیے اپنی ساس جیسی نیک خاتون کی برائی کرنے کا ۔۔۔حالانکہ وہ تھی بہت۔۔۔”
بی جانتی چپ ہوئی تو کچھ لمحے پھر خود ہی قہقہ لگا دیا تھا باقی سب کے ساتھ۔۔۔جب تک انہیں آواز نہیں سنائی دی تھی۔۔۔
“بی جان۔۔۔؟؟؟ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟ میں کتنا ڈر گیا تھا۔۔۔”
فہاج اپنا بیگ دروازے پر ہی چھوڑ کر بی جان کی طرف بڑھے تھے اور پاس آتے ہی بی جان کے گلے سے لگے تھے وہ۔۔۔
“مجھے کیا ہونا تھا پُتر۔۔۔؟؟ تو بتا کہاں غائب تھا۔۔؟؟ زرا میری چھڑی لیکر آؤ کوئی۔۔۔”
“بی جان میری جان نکال دی تھی آپ کے فون کال نے۔۔۔”
فہاج نے انکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا
“فہاج بھائی بی جان ٹھیک ہیں اب آپ بتائیں کے آپ کہاں تھے آپ بیٹھیں جاؤ بچوں ماموں کے لیے جوس لیکر آؤ۔۔۔ کھانا لگواؤ۔۔۔”
نازنین جیسے ہی اپنی سیٹ سے اٹھی تھی انہوں نے فہاج کو وہاں بٹھا دیا تھا۔۔
“میں دراصل ایک ضروری کام کے لیے گیا تھا۔۔پھر روحان کی کال آگئی وہ بتا رہا تھا کہ آپ کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اور۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔ڈیڈ۔۔۔ ایم سوری میں نے جھوٹ بولا میں پریشان تھا اور۔۔۔”
فہاج صاحب نے اپنے بیٹے کو غصے سے دیکھا تھا جو باقی سب کے ساتھ کھڑا ہوکر ایسے بتا رہا تھا جیسے نارمل بات ہو اتنا بڑا جھوٹ بولنا
“روحان۔۔۔”
وہ اونچی بولے تھے۔۔۔
“تم نے جھوٹ بولا۔۔؟؟”
“جی ڈیڈ آپ کا کچھ پتا نہیں تھا تو۔۔”
“تو تم نے بی جان کی طبیعت کا جھوٹ بولا۔۔؟؟ یو۔۔۔جھوٹ بولنے والی تربیت میں نے نہیں کی تمہاری۔۔۔
تمہاری ماں نے کیا بنا دیا ہے تم دونوں کو۔۔؟؟”
وہ طیش سے کہہ کر جس رستے آئے تھے اسی رستے واپس چلے گئے تھے۔۔
اپنے روئے سے ششدر کر کے سب کو۔۔جوس لئیے انکی بھانجی وہیں کھڑی رہ گئی تھی
نازنین اور بی جان کی آواز سن کر بھی وہ نہیں رکے تھے وہاں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“پاکستان۔۔۔۔۔۔”
۔
“مجھے معلوم تھا یہیں ملو گی میڈم۔۔۔بٹ مارگ میں۔۔؟”
انوشہ نے دوسری طرف اشارہ کرتےہوئے چپ رہنے کا کہا تو کچھ ڈاکٹرز ماسک اتارتے ہوئے انہی کی طرف بڑھے تھے
“آپ کا شک ٹھیک نکلا ڈاکٹر پوسٹ مارٹم رپورٹ کو چینج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔۔۔
گردن پر نشان رسی کے ہیں جو کہ ان کیس کو خود کشی تو ثابت کرہی رہا تھا۔۔۔
مگر فورینسک رپورٹ میں فنگر پرنٹ کے نشانات۔۔۔”
“ایک منٹ۔۔۔یہ انکشاف ہے یا ثبوت۔۔؟؟ کیونکہ جو رپورٹ میں نے وکٹم کی فائل میں دیکھی اس میں ایسا کچھ نہیں تھا۔۔۔”
انوشہ اپنی بات سے ڈاکٹر کی بات تو کی بات تو کاٹ چکی تھی اور ساتھ ہی وہ موو کررہی تھی اس ڈیسک کی طرف وہاں سے فائلز سرچ کرنے کے بعد انہوں نے وہ فائل سامنے رکھی تھی
“ایم سوری میم۔۔۔ مگر جو فائل آپ کو دی گئی وہ فیک تھی اور،،”
“آپ جانتے ہیں کیا بات کررہے ہیں اپ۔۔۔۔؟؟ پولیس کو سٹیٹمنٹ دیا جا چکا ہے اور اب آپ یہ بتا رہے ہیں۔۔ کس ن مجھ تک فیک فائل پہنچائی۔۔؟؟”
انوشہ نے باقی فائل جیسے ہی نیچے پھینکی تھی غصے سے باقی سب بھی اپنا اپنا کام روک چکے تھے۔۔
“انوشہ۔۔ ڈاکٹر ریلیکس۔۔۔”
“ریلیکس۔۔؟؟ ڈاکٹر پلوشہ ہمارے ہاسپٹل میں کوئی ہے جو یہ سب کررہا ہے اور آپ کہہ رہی ہیں ریلیکس۔۔؟؟”
۔
انوشہ وہاں سے جانے لگی تھی جب وہ دروازے پر رکی تھی۔۔۔
“ڈاکٹر ادریس۔۔۔ یہ جس کسی نے بھی کیا ہے وہ ہمارے ہی درمیان رہا ہے اور میں چاہتی ہوں اس پورے مسئلے پر انکوائری بیٹھے۔۔۔ مکمل جانچ پرٹال کی جائے۔۔۔”
“مگر اس سے ہسپتال کی بدنامی ہوگی ڈاکٹر۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم اسے سزا بھی دیں مگر بند کمروں میں۔۔؟”
“آج اسے خاموشی سے سزا دیں تاکہ اورجرم سر اٹھائیں۔۔؟؟ ڈاکٹر پلوشہ آپ ہیڈ ہوں گی اس انکوائری کی۔۔۔”
۔
“او۔۔۔اوکے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انوشہ۔۔۔کیا بات ہے ۔۔؟؟ تم کل سے ڈسٹرب لگ رہی ہو۔۔ اور اب لیٹ نائٹ اس کیس کو سٹڈی کررہی ہو جس کی زمہ داری آلریڈی مجھے دہ چکی ہو۔۔”
پلوشہ نے مگ انوشہ کی ڈیسک پر رکھ دیا تھا
“انوشہ۔۔۔”
مگر انوشہ کی نظریں نہیں ہٹ پائی تھی فائل سے۔۔۔
پلوشہ کی بات سن کر انکے وجود میں غصہ ضرور آگیا تھا۔۔۔
“پہلی بار کسی کی بات سنی اور پہلی بار پچھتائی ہوں۔۔ کل کا پوچھنا چاہتی ہو تو سنو کل میں پورے تین گھنٹے وہاں انتظار کرکے واپس لوٹ آئی ہوں۔۔۔”
“اووووہ۔۔۔۔مائی گرل۔۔۔”
پلوشہ نے اپنا مگ جلدی سے ٹیبل پر رکھ دیا تھا اور اگے بڑھ کر انوشہ کے گلے لگی
“لئیو مئ پلوشہ۔۔۔ میں کوئی ٹین ایجر نہیں ہوں اور نہ ہی میرا دل ٹوٹا ہے اس بات پر۔۔۔
مجھے غصہ نہیں نفرت ہورہی ہے اس شخص پر جو اپنی کمٹمنٹ پوری نہ کرسکا۔۔۔”
وہ بولی جارہی تھی۔۔۔ مگر پلوشہ ہر بار اپنی مسکان کو کنٹرول کررہی تھی جب جب انوشہ بات کرتے اسے دیکھتی
“مجھے اسکے نہ آنے پر دکھ نہیں ہے ۔۔۔ مجھے اس بات پر افسوس ہورہا ہے کہ بتا دینا چاہیے تھا۔۔۔”
۔
“انوشہ۔۔۔ کیا پتہ کوئی ایمرجنسی آگئی ہو۔۔۔”
“ہم۔۔؟؟ یا سیریسلی۔۔؟؟ بہت بڑی غلطی کی تم لوگوں کی مان کرجو وہاں چلی گئی تھی۔۔۔”
۔
“انوشہ۔۔۔”
“پلوشہ اب نہیں یار۔۔۔ ب مجھے لوو گرو نہیں چاہیے۔۔۔ نہ ریلیشنشپ کنسلٹنٹ۔۔۔ابھی آپ میرے کیبن سے جارہی ہیں۔۔۔”
اور پلوشہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گئی تھی انوشہ اسے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اٹلی۔۔۔۔”
۔
“تو تم کیا کہنا چاہتے ہو۔۔؟؟”
“آپ اس عمر میں کس کے لیے گئے تھے ملک سے باہر ڈیڈ۔۔؟؟”
“ڈنر ٹائم بھی انہیں سکون میسر نہیں تھا اپنے اپارٹمنٹ میں عنبر دونوں بچوں کے ساتھ فہاج کے سامنے ایسی کھڑی تھی جیسے سارے سوال جواب آج ہی لینے ہوں۔۔۔
“اریبہ مائنڈ یور لینگوئج ۔۔۔”
“پر ڈیڈ یہاں بات ہمارے فیوچر کی ہے یہ عمر ہماری ہے آپ کی نہیں۔۔۔”
وہ دونوں بچے سامنے کھڑے تھے اور پیچھے ماں فہاج کو اپنی نظروں سے چیلنج کررہی تھی
جن کے ہاتھ میں نوالہ پکڑا رہ گیا تھا اپنے بچوں کی بلنٹ باتیں سن کر
“کونسی عمر اور کیا جرم کردیا جو تم دونوں ایسے بدتمیزی کررہے ہو۔۔؟؟”
“وہاب انکل نے بتا دیا تھا۔۔آپ کس سے ملنے گئے تھے ڈیڈ۔۔؟؟”
“بتاؤ اپنے بچوں کو اب چپ کیوں ہو فہاج۔۔؟؟ اس عمر میں کیا گُل کھلا رہے ہو تم
شرم نہیں آتی تمہیں۔۔؟؟”
“ایک اور لفظ نہیں۔۔۔ میری خاموشی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ۔۔ اس طرح کے الفاظ میری اولاد کے سامنے بول کر تم اپنی تہذیب ظاہر کر رہی ہو مگر میری چھت کے نیچے یہ سب نہیں چلے گا۔۔۔
تم تینوں سن لو۔آج کے بعد میرے سامنے اونچی آواز میں بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ناؤ گیٹ لاسٹ۔۔۔”
اپنا کھانا انہوں نے وہیں چھوڑ دیا تھا۔۔۔
“ڈیڈ جانے سے پہلے ایک بات سن لیجئے۔۔۔ ہم سوسائٹی کے طعنے برداشت نہیں کریں گے۔۔۔ آپ جانتے ہیں ڈیڈ میں اور روحان نے بہت سفر کیا ہے آپ کی اور موم کی ڈائیورس کے بعد۔۔۔”
اریبہ نے کی روتی ہوئی آواز نے فہاج کےقدم روک دئیے تھے۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے میری جان۔۔۔ کچھ نہیں ہے۔۔۔بےفکر رہو۔۔۔”
اپنی بیٹی کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ کمرے میں بہت خاموشی سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
انہیں سمجھ آگئی تھی کہ جو خواب وہ دیکھ رہے تھے انکی کوئی حقیقت نہیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد ۔۔۔۔پاکستان۔۔۔”
۔
۔
“موم۔۔۔ جسٹ ون منتھ وکیشن ہیں ہماری یونیورسٹی کلاس کے سب سٹوڈنٹ جارہے ہیں۔۔”
“ویل ینگ لیڈی آپ نہیں جارہی۔۔۔”
ٹوسٹ کو جیم لگا کر انوشہ نے ابیہا کی پلیٹ میں رکھ دیا تھا معمول کے مطابق مبشر صاحب کھانے کی میز پر نہیں تھے۔۔۔اور باقی رہ گئی تھی گھر کی تین لیڈیز۔۔۔
انوشہ کی موم اور نانی مکمل چپ تھی اس معاملے میں
“ویل موم پلیز۔۔۔ نانو آپ کچھ کہیں نہ آپ دونوں تو ماماکو منا سکتی ہیں۔۔”
“اس بات پر میں ایگری کرتی ہوں تمہاری موم ٹھیک کہہ رہی ہیں ون منتھ۔۔؟ انجان ملک میں۔۔اتنی دور کا سفر۔۔۔”
“سیریسلی نانو۔۔۔؟؟ امریکہ اتنی دور بھی نہیں ہے۔۔ہم جاتے رہے ہیں۔۔۔ آپ تو جانتی ہیں نہ۔۔”
بہت معصوم سا منہ بنا کر ابیہا نے ہاتھ پکڑا تھا انوشہ کا۔۔
“بریک فاسٹ ختم کرو جلدی سے میں ہاسپٹل جاتے ہوئے تمہیں ڈراپ کردوں گی۔۔
اور مجھے لگتا ہے اٹلی سے تمہیں اپنا کورس یہاں پاکستان میں شفٹ کروا لینا چاہیے۔۔”
ابیہا اتنی شاکڈ ہوگئی تھی انوشہ کی اس بات پر اور زیادہ شاک وہ پیچھے سے آتی آواز پر ہوئی تھی۔۔
“اس ب ات پر میں بھی تمہاری موم سے ایگری کرتا ہوں۔۔۔ وہاں کے پروفیسر دیکھ لو کیا گُل کھلا رہے۔۔۔ ارے۔۔۔ یہ تو صبیحہ کے مامو ہیں نہ۔۔؟؟
لک انوشہ۔۔۔؟؟”
انہوں نے وہ نیوز پیپر سامنے ٹیبل پر انوشہ کے سامنے رکھ دیا تھا وہ نیوز پیپر جو تھا بھی اٹلی کا۔۔۔
جس میں ایک آرٹیکل پرنٹ پیج پر تھا جہاں اس سکینڈل کے بارے میں برائیفلی تفصیل میں لکھا گیا تھا
“نو ڈاؤٹ کہ پروفیسر فہاج کی وائف نے انہیں کیوں چھوڑ دیا تھا۔۔۔
ریڈ۔۔۔ ٹیچر سٹوڈنٹ ریلیشنسپ۔۔۔ ہریسمنٹ کا کیس کیا ہے ۔۔۔چ چ چ۔۔۔چھی۔۔۔”
وہ پیپر انوشہ کے سامنے سے مسز مبشر نے اٹھا لیا تھا۔۔۔ وہ پڑھتے ہوئے اتنا شاکڈ ہورہی تھی۔۔۔
اور پھر ابیہا۔۔۔
مگر انوشہ کی طرف سے کوئی ری ایکشن نہیں تھا اس نے اپنے ٹوسٹ کو جام لگا کر پہلی بائٹ لی تھی احلام کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
وہ تاثر جو احلام دیکھنا چاہتے تھے انوشہ کا غصے وہ انہیں دیکھنے کو نہیں ملا تھا انوشہ تو اتنی ایزی ہوکر اپنا ناشتہ کررہی تھی۔۔۔
“انوشہ۔۔۔ مجھے لگتا ہے نیہا نے جلد بازی میں غلط گھر میں۔۔”
“اننف موم۔۔۔ نیہا نے کیا کیا اور کیا نہیں وہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ یہ انکا پرسنل میٹر ہے۔۔۔ سپیشلی پروفیسر فہاج۔۔۔ وہ اس طرح کے مرد نہیں جو کم عمر لڑکیوں کو دیکھ کر اپنے ہوش و حواس کھو دیں۔۔۔”
احلام نے غصے سے دوسری چئیر کو پیچھے کردیا تھا انہیں محسوس ہوگیا تھا یہ بات انہیں کی گئی
“تم اتنی شئور کیسی ہو سکتی تم اسے نہیں جانتی ۔۔۔ جانتی ہو کیا۔۔؟؟ تم اسکے کردار کی کیسے گواہی دے سکتی ہو۔۔؟؟”
انوشہ کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی اپنی اپنی سیٹ سے کھڑے ہوئے تو ابیہا نے اپنی موم کا بازو پکڑ کر اپنے ڈیڈ سے دور کرنے کی کوشش کی تھی بہت سال پہلے کی لڑائیاں اسے پھر سے یاد آگئی تھی آج۔۔۔
“موم پلیز۔۔”
“میں نے کسی کے کردار کی گواہی نہیں دی۔۔ یہاں جن کو سالوں سے جانا جن کے ساتھ ایک زندگی گزار دی۔۔۔ میں تو اسکے کردار کی گواہی نہ دے سکی مسٹر احلام۔۔۔
کردار کی سچاہی گواہی سے نہیں سامنے والی کی آنکھوں میں اسکی غیرت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔۔۔
اینڈ فور پروفیسر فہاج۔۔۔ ہی از انوسنٹ۔۔۔ میں گارنٹی سے کہہ سکتی ہوں۔۔۔
ناؤ ایکسکئیوز مئ۔۔۔”
۔
اور وہ اپنی چیزیں پکڑے وہاں سے چلی گئی تھی باہر اس بار انہوں نے اپنی بیٹی کو ساتھ جانے کا نہیں کہا تھا مگر جانے سے پہلے وہ نیوز پیپر کو اپنے ساتھ لے گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اٹلی۔۔۔۔”
۔
“انوشہ ہم سب بھی پریشان تھے پچھلے ہفتے سے پوچھ گچھ جاری ہے۔۔۔ فہاج بھائی پر تو ایلیگیشن بہت سنگین لگائے ہیں انکی سٹوڈنٹ نے۔۔۔”
“مجھے کسی طرح نمبر لے کر دے سکتی ہو۔۔؟؟”
“مگر تمہیں فہاج بھائی کا نمبر کیوں چاہیے انوشہ۔۔۔”
انوشہ نے موبائل کان سے ہٹا کر دیکھا تو انویسٹی گیشن آفیسر کی کال بھی آرہی تھی
“بس مجھے نمبر سینڈ کردو۔۔۔۔بائے۔۔”
انوشہ نے فون بند کرکے کال پک کی تھی
“آپ کا شک سہی تھا۔۔ میں نے کچھ ثبوت اکھٹے کرلئیے ہیں۔۔۔ جو اس لڑکی کا کیس کمزور کردیں گے۔۔ مگر مکمل طور پر پروفیسر فہاج کو بےقصور ثابت کرنے میں وقت لگ جائے گا۔۔۔”
“ہممم آپ ایک ہفتہ لے لیجئے۔۔۔ اور جس نیوز پیپر نے یہ سب کیا ہے آپ اسے کب نوٹس بھیج رہے ہیں۔۔؟؟”
“آج شام تک چلا جائے گا یہ ڈاکومنٹس جیسے ہی کورٹ میں سبمٹ ہوں گے۔۔۔”
۔
فون بند ہونے کے بعد انوشہ نے اسی نمبر پر کال ملائی تھی جو نمبر میسج میں سینڈ کیا تھا نیہا نے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کس بات کی معافی۔۔؟؟ میں غلط نہیں ہوں۔۔۔”
اپنے سینئرز کے سامنے انہوں نے ڈیسک پر جیسے ہی ہاتھ مارا تھا ان کو بھی غصہ آگیا تھا
جو پچھلے آدھے گھنٹے سے فورس کررہی تھے فہاج کو آپولوجی لیٹر کے لیے۔۔۔
“تو پھرہم بھی آپ کو اس یونیورسٹی میں اور برداشت نہیں کرسکتے۔۔۔”
“آپ وہی لوگ ہیں جو م،جھے یہاں رکھنے کے لیے میرے پاؤں پڑنے تک تیار تھے۔۔؟؟
مجھے بھی یہاں نہیں رہنا۔۔ مگر میں سسپنڈ ہو کر نہیں جاؤں گا جب تک اپنی بےگناہی ثابت نہ کردوں۔۔۔”
۔
فہاج وہاں سے باہر آگئے تھے۔۔۔ ہر سٹوڈنٹ انہیں دیکھ کر عجیب شک بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
پچھلے ایک ہفتے سے وہ عادی ہوگئے تھے۔۔۔
کیونکہ یہی شک کی نظروں سے انہیں انکے اپنے بھی دیکھ رہے تھے انکے بچے بھی دیکھ رہے تھے۔۔۔
اور وہ سابقہ بیوی بھی جو جانتی تھی کہ وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتے۔۔۔
“وہ یونیورسٹی سے چلتے چلتے ایک پارک کے باہر بنچ پر بیٹھ گئے تھے جب انہیں ایک انجان نمبر سے کال ریسیو ہوئی تھی۔۔۔
“ہیلو۔۔۔”
“فہاج۔۔۔۔”
اس جانی پہچانی آواز نے ایک ہلچل مچا دی انکی خاموش سانسو ں میں۔۔۔
“ان۔۔۔”
“فون بند کرنے سے پہلے میری بات سن لیں۔۔۔ میں نے دوسرے نمبر سے اس لیے فون کیا کیونکہ آپ میرا نمبر شاید بلاک لسٹ میں ڈال چکے ہیں۔۔خیر۔۔۔”
انکی لب ہلے تھے وضاحت دینے کے لیے وہ بتانا چاہتے تھے کہ انہوں نے اپنی خواہشات مار دی اپنی اولاد کے لیے ایک بار پھر سے۔۔۔وہ خود کو بےگناہ بتانا چاہتے تھے مگر ساتھ نہیں دیا تھا انکے وجود نے جسم ایک دم سے نڈھال ہوگیا تھا۔۔
اس سوچ پر کہ وہ ایک موقع گنوا چکے تھے۔۔۔اور چپ ہوکر ٹیک لگا لی تھی انہو ں نے۔۔۔
“میں نے ایک نمبر سینڈ کیا ہے انویسٹی گیشن آفیسر کا۔۔۔ انہوں نے پچاس فیصد کیس حل کرلیا ہے۔۔ ان سے رابطہ کیجئے اور وہ سب پیپرز عدالت بھیجیں۔۔۔
اور جب با عزت بری ہوجائیں تو اس لڑکی کو ہرجانے میںاتنی سزا دلوائیے گا کہ پھر کسی شریف کو پھنسا نہ سکے۔۔۔بائے۔۔”
“ایک منٹ۔۔۔انوشہ۔۔۔۔”
آواز بہت بھاری ہوگئی تھی انکی۔۔۔ آنکھیں بھر آئی تھی۔۔۔
“ہم۔۔۔”
“تم جانتی تھی کہ میں بےقصور ہوں۔۔؟؟ کیا پتہ میں گناہ گار ہوں کیا پتہ میں نے اسے ہراساں کیا ہو۔۔۔یہاں سب کو میں جھوٹا لگ رہا۔۔۔”
بات کرتے کرتے ٹائی کھینچ کر اتار دی تھی انہوں نے۔۔۔سر پیچھے پھینک دیا تھا۔۔۔ اب وہ ٹھہر کر سانس لینا چاہتے تھے ایک ہفتے کی بےسکونی کے بعد۔۔۔۔
“ہونے کو سب کچھ ہوسکتا ہے۔۔ مگر بات دلوں پر آکر رک جاتی ہے اسے کس پر یقین کرنا ہے اور کس پر نہیں۔۔۔اور یہاں میرے دماغ میں بھی شک نہیں ابھرا تھا۔۔۔
اگر ایسی بات ہوتی تو آپ اتنے سال انتظار نہیں کرتے۔۔۔”
انکے جواب نے لاجواب کردیا تھا فہاج کو۔۔۔
“انوشہ۔۔۔”
“خدا حافظ۔۔۔۔”
۔
اور وہ فون بند کرگئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔پاکستان۔۔۔۔”
۔
“بی جان۔۔۔ میں ایک دوست سے ملنے جارہا ہوں۔۔۔”
ائر پورٹ سے باہر آتے ہی انہوں نے پہلی بات یہی کہی تھی
“نہیں تم ہمارے ساتھ چل رہے ہو۔۔۔ ہماری دعوت ہے۔۔۔چلو۔۔۔”
بی جان اپنا کا ہاتھ پکڑے انہیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا چکی تھی
“میں اس شرط پر آیا تھا کہ آپ لوگ مجھے ہر جگہ جانے پر مجبور نہیں کریں گے۔۔۔”
“پلیز ڈیڈ آپ نے وعدہ کیا تھا۔۔۔”
“پلیز ڈیڈ۔۔۔۔”
اریبہ اور روحان نے ایک ساتھ کہا تھا۔۔۔
“اوکے۔۔۔”
وہ ونڈو سے باہر دیکھنے لگے تھے دل جیسے تیز دھڑک رہا تھا اسی سوچ پر کہ وہ بہت جلدی ملاقات کریں گے جس سے وعدہ وفا نہ کرسکے تھے وہ ملنے کا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہمیں بہت اچھا لگا آپ لوگ آئے۔۔مجھے تو نیہا بار بار کہہ رہی تھی فرہاد کا سسرال ہے نانو خیال رکھنا میں نے بھی ڈانٹ دیا اسے کہ بی جان سے رشتہ ہمارا فرہاد کی شادی سے پہلے کا ہے۔۔۔”
انوشہ کی نانی بی جان کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئی تھی نازنین اور باقی لوگ تو اندر چلے گئے تھے۔۔۔
مگر فہاج صاحب کے پاؤں وہیں اٹک گئے تھے۔۔۔۔
“فہاج انکل پلیز اندر آئیے۔۔۔”
ابیہا نے سلام کرنے کے بعد جیسے ہی کہا فہاج ابیہا کے سر پر پیار دے کر اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
اور انظر انکی انوشہ پر گئی تھی جو سب سے مل رہی تھی۔۔۔
۔
“السلام وعلیکم ۔۔۔”
فہاج نے انکی طرف دیکھ کر سلام کیا تھا
“وعلیکم سلام۔۔۔”
انوشہ بنا دیکھے جواب دے کر کچن میں چلی گئی تھی۔۔۔
اور ملازمہ کے ہاتھوں پیغام بھی بھجوا دیا تھا اپنی والدہ اور نانی کو کچن میں بلانے کا۔۔۔
“انوشہ ابھی گیسٹ آئے ہیں اور تم نے ساتھ ہی ہمیں بلا لیا۔۔”
“کس سے پوچھ کر آپ نے ان لوگوں کو دعوت دی۔۔؟ مجھے بتانا ضروری نہ سمجھا۔۔؟؟”
“ایکسکئیوزمئ۔۔؟؟ وہ مہمان ہیں اس میں پوچھنے والی کیا بات۔۔؟؟”
والدہ نے اتنے ہی غسے سے جواب دیا مگر نانی نے پیار سے انوشہ کے گال پر ہاتھ کر اپنی طرف متوجہ کیا تھا
“انوشہ میں جانتی ہو انجان لوگوں سے گھلنا ملنا تمہیں پسند نہیں مگر بیٹا وہ رشتے دار ہیں اب۔۔۔ وہ پاکستان کچھ دن رہنے آئے ہیں اور نیہا نے خاص کر ہماری طرف سے انہیں دعوت دی تھی۔۔۔”
“اوکے۔۔۔ پر مجھے اب مہمان نوازی کے لیے مجبور مت کیجئے گا۔۔ میں روم میں جارہی ہوں جب وہ لوگ چلے جائیں تو بتا دیجئے گا۔۔۔”
۔
انوشہ وہاں سے اوپر چلی گئی تھی دو نگاہیں انکا تعاقب کررہی تھی جنہیں احساس ہورہا تھا انوشہ کے غصے کا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پروفیسرصاحب یہ نوکری اتنی خاص بھی نہیں اور بدنامی فری کی۔۔۔آپ کسی چھوٹے بزنس میں انویسٹ کریں اگر کوئی لان چاہیے ہو تو۔۔۔”
“میرے ڈیڈ کا اپنا بزنس بھی ہے۔۔۔ بزنس پارٹنر بھی ہیں وہ یہاں پاکستان میں چند مشہور کمپنیوں کے۔۔۔”
روحان نے مبشر صاحب کی بات کا جواب خود دیا تھا وہ برداشت نہیں کرپایا تھا اپنے والد کی زرا سی بھی انسلٹ۔۔۔
“اوو آئی سی۔۔۔ویری گڈ۔۔۔”
وہ جیسے ہی چپ ہوئے تھے فہاج نے باتھروم کی ڈائریکشن پوچھ کر ایکسکئیوز کیا تھا۔۔۔
۔
وہ جانتے تھے کچھ لمحے رہ گئے تھے اور جانے سے پہلے وہ انوشہ سے بات کرنا چاہتے تھے ۔۔۔
اور وہ ٹھیک اسی روم کے سامنے کھڑے تھے جہاں انہوں نے انوشہ کو جاتے دیکھا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں کہہ چکی ہوں اس انٹرن کو اب اس ہاسپٹل میں کوئی انٹرنشپ نہیں مل سکتی پلوشہ تم کیوں بار بار۔۔۔”
“انوشہ۔۔۔”
“فہاج۔۔۔”
“اوووہ اب تم نے نام بھی لینا شروع کردیا ۔۔۔؟؟”
پلوشہ نے فون پر ہنستے ہوئے پوچھا تھا
“ایڈیٹ سامنے کھڑے ہیں۔۔۔ میں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔”
“انوشہ میں۔۔۔”
“آپ جائیں یہاں سے کوئی دیکھ لے گا تو خود سے کہانیاں گڑ لے گا۔۔۔”
“میں یہاں شکریہ ادا کرنے آیا تھا۔۔۔”
اوکے۔۔۔یو یلکم۔۔ اب جائیے یہاں سے۔۔۔”
انوشہ نے دروازہ جیسے ہی کھولا تھا فہاج نے شوز سے پھر سے بند کردیا تھا۔۔۔
“میری بات سن لو۔۔۔”
“بات سے مکر جانے والے وعدہ خلافی کرنے والے لوگوں کی بات میں دوبارہ نہیں سنتی یہ میرا اصول ہے۔۔۔”
“اس کا مطلب تمہارا یہ اصول توڑنا پڑے گا۔۔؟؟”
انوشہ جیسے ہی دروازے کے ساتھ لگی تھی انہوں نے ایک قدم اور آگے بڑھایا تھا
“فہاج۔۔۔”
“میں بہت سیریس تھا اس ملاقات کے لیے تم بھی جانتی ہو۔۔۔میں اب بھی سیریس ہوں۔۔۔
انوشہ ایک بار پھر سے ٹرائی کرتے ہیں۔۔۔
میں اس بار تیاری کے ساتھ نہیں آیا۔۔۔تمہاری آنکھوں میں مایوسی دیکھی میں نے میرا چہرہ دیکھ کر میرے کمزور پڑتے ارادے بھی مظبوط ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔
اور۔۔۔پلیز ساڑھی پہن کر مت آنا۔۔۔ میں چار پانچ ملاقاتوں کا سسپنس ایک ملاقات میں ختم نہیں کرنا چاہتا۔۔۔”
اور ٹاکنگ تو بولڈ کررہے تھے مگر چہرے پر سے آتے بال کان کی لو میں کرنے کے بعد انہوں نے اپنے ساتھ ساتھ انوشہ کو بھی حیران کردیا تھا۔۔۔
فہاج کے باہر جانے کے بعد بھی وہ وہی وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔۔۔
اور انہیں روم سے باہر جاتے دیکھ بی جان بھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“کچھ دیر بعد۔۔۔۔”
۔
۔
“ڈیڈ میں محبت کرتا ہوں ابیہا سے۔۔۔ اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔
اس لیے تو میں آپ کو انوشہ آنٹی کے گھر لیکر گیا تھا تاکہ آپ ہمارے رشتے کی بات کریں۔۔”
فہاج کے ہاتھ میں پکڑا پانی کا گلاس ٹوٹ گیا تھا
“شٹ شٹ ڈیڈ۔۔۔ آپ کے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے۔۔۔”
“اسے چھوڑو یہ کیا بکواس کی ابھی۔۔؟؟ ڈاکٹر انوشہ کی بیٹی۔۔؟؟”
“جی ڈیڈ ہم دونوں ۔۔۔
آنٹی انوشہ کی بیٹی ابیہا۔۔۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔”
“تم نے آج تو بات کردی آج کے بعد میں یہ بات دوبارا نہ سنوں۔۔
نہیں کررہے تم شادی وہاں۔۔”
انہوں نے اپنے بیٹے کو پیچھے پش کردیا تھا اور خود اپنے غصے پر قابو کرنے کی کوشش کی تھی
“ڈیڈ میں نے موم سے بات کی تھی اگر آپ نہیں جائیں گے تو میں موم اور۔۔۔”
“اب اسکا وہ دو ٹکے کا شوہر میرے گھر کے فیصلے کرے گا۔۔؟؟ اسکی حیثیت کیا ہے میرے سامنے۔۔۔؟؟ نہیں کرے گا کوئی بھی انوشہ کی بیٹی سے رشتہ۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔ڈیڈ۔۔۔۔”
وہ روم سے باہر جانے کو تھے جب بیٹے نے راستہ روکا۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔ میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہی آپ اس دن کی لڑائی کو بھول کیوں نہیں جاتے انوشہ آنٹی بہت اچھی ہیں۔۔ اور ابیہا وہ تو ان سے بھی زیادہ اچھی ہے
آپ پلیز آپس کی تلخیاں بھلا کر اپنے بچوں کے لیے ایک ہو جائیں۔۔
میرا مطلب ہے ہمارے رشتے کی بات کریں۔۔۔”
فہاج صاحب نے سر پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔وہ یہاں ماں کو امپریس کرنے کے لیے تگ دو کررہے تھے
وہاں انکا بیٹا ان سے دس قدم آگے کی سوچ کر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
“ایم سوو سوری۔۔۔ روحان بیٹا۔۔۔اس گھر میں تمہارا رشتہ نہیں ہوسکتا۔۔۔”
اور پروفیسر فہاج نے آج پہلی بار اپنی اولاد کی خوشیوں کی جگہ اپنی خوشیوں کو اہمیت دہ دی تھی۔۔۔۔
۔
جب انہوں نے موبائل نکال کر انوشہ کو میسج کیا تھا ۔۔۔۔
۔
“میں اب پوری کوشش کروں گا انوشہ۔۔۔ اب کے اپنی خوشیوں کو آگے رکھنا چاہتا ہوں میں۔۔۔”
روحان تو وہاں سے چلا گیا تھا اور بی جان نم آنکھوں سے فہاج کو غمزدہ دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اور میں ساتھ ہوں تمہارے بیٹا۔۔۔تم جس سے بھی شادی کرنا چاہتے ہو میں ساتھ ہوں۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ بی جان وہ ملنے کو بھی راضی نہیں۔۔۔اور شادی۔۔؟؟”
“تم کیا رشتہ ملاقاتوں تک رکھنا چاہتے ہو بیٹا۔۔؟؟ کیا یقین نہیں ہے تمہیں”
“نہیں بی جان۔۔۔اسی رشتے پر تو یقین ہے اب۔۔۔ اس نے مجھ پر تب یقین کیا جب سب ہی خلاف تھے۔۔ وہ اکڑو ہے مغرور ہے۔۔۔ کھڑوس بھی ہے۔۔۔
مگر جیسے جیسے اسے سمجھتا جارہا ہوں۔۔۔ ایک نئی سائیڈ دیکھنے کو ملتی ہے مجھے۔۔۔
وہ ایک پہیلی الجھی ہوئی سی۔۔۔ جسے میں سلجھانا چاہتا ہوں۔۔۔”
۔
