Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Last Episode)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
آج منال سب کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی تھی۔۔سب اپنوں کے ساتھ۔۔جو واقعی اس کے اپنے تھے۔۔آج اس کو سمجھ آ رہا تھا کہ اپنے فیملی اور اپنا شوہر دنیا کی سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔۔!!!!!!!!!!
کوئی جتنا مرضی آپ کا خیال رکھ لے اپنوں کی کمی پوری نہی کر سکتا۔۔۔منال پھر سے جی اٹھی تھی حنان کی محبت کا رنگ اس پر چڑ چکا تھا۔۔اور یہ رنگ ماہم سے چھپے نہی تھے۔۔!!!!!!!
حنان کی ناشتے کی بجائے منال پر جمی نظریں۔۔اور منال کا شرما کر بلش کرنا اس سے برداشت نہی ہو سکا۔۔وہ بنا کچھ کھائے پاوں پٹختی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔اس کے وہاں سے اٹھ کر جانے پر کسی کو کوئی فرق نہی پڑا۔۔۔۔!!!!
حنان بیٹا آفس سے جلدی آ جانا آج پری کے گھر جانا ہے حیدر اور پری کو لینے۔۔۔مسز ملک بولیں تو حنان حیرانگی سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔!!!!!!
حیدر خود ہی آ جائے گا مام۔۔۔یہ ساتھ ہی تو گھر ہے۔۔اور یہ حیدر اور پری وہاں کیوں گئے ہیں۔۔۔ابھی کل ہی تو ان کی شادی ہوئی ہے۔۔۔اب پری کو یہاں ہی رہنا چاہیے ناں۔۔۔!!!!!!
حنان کے جواب پر مسز ملک نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا اور پھر مسکرا دیں۔۔۔بیٹا یہ رسم ہوتی ہے۔۔شادی سے اگلے دن دلہے کو اپنے سسرال میں ایک رات گزارنی پڑتی ہے۔۔یہ رسم برسوں سے چلتی آ رہی ہے۔۔۔!!!!!!
کیا مام یہ کیسی رسم ہے میں نے پہلے تو کبھی نہی سنا اس رسم کے بارے میں۔۔۔خیر جو بھی ہو۔میں آ جاوں گا جلدی گھر۔۔حنان اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!!
کچھ دیر بعد منال کو آواز دی کہ گاڑی کی چابی نہی مل رہی آ کر ڈھونڈ دو۔۔۔منال مسکراتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گئی۔۔کمرے میں گئی اور چابی ڈھونڈنی شروع کر دی۔۔۔!!!!!!!!
حنان چپ چاپ کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔منال کی نظر جب حنان کے ہاتھ پر پڑی تو ہنس دی۔۔چابی آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ کہ رہے ہیں کہ مل نہی رہی۔!!!!!!!!!!
ہممممم مجھے پتہ ہے چابی میرے پاس ہے۔اگر چابی کا بہانہ نا بناتا تو تم اوپر آتی کیا؟؟۔حنان منال کی طرف بڑھا اسے اپنے قریب کیا۔۔اور اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔خدا حافظ مسز حنان۔۔شام کو ملتے ہیں۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
منال کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔حنان مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔منال بھی مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔!!!!
وہ دادو کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔کل دادو سے ملاقات نہی ہو سکی اس کی کیونکہ ان کی طبیعت ٹھیک نہی تھی۔۔اسی لیے وہ گھر پر ہی تھیں۔۔۔!!!!!!!
منال کمرے میں گئی تو دادو آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھیں۔۔۔منال آہستہ سے چلتی ہوئی ان کے پاس پہنچی اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ان کا ہاتھ چوم لیا۔۔!!!!!!!
دادو کی آنکھ کھلی تو سامنے منال کو دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھیں۔۔۔منال میری بچی تم آ گئی۔۔منال کو گلے سے لگا لیا انہوں نے۔۔۔۔منال رو پڑی۔۔مگر جلدی سے اپنے آنسو صاف کر لیے۔۔کہ کہیں دادو نا دیکھ لیں۔۔۔!!!!!!!!!!
اب کیسی طبیعت ہے تمہاری امی کی۔۔دادو منال کو خود سے الگ کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!!!!!!!
منال کو ان کے سوال پر تھوڑی حیرانگی ہوئی۔وہ سوچ میں پڑ گئی۔۔!!!!!!
ارے بھئی کیا ہوا میں نے پوچھا کیسی طبیعت ہے اب تمہاری امی کی۔۔ان کی طبیعت خراب تھی نا۔۔اسی لیے تو تم اتنے مہینوں سے اپنے گھر گئی ہوئی تھی۔۔۔منال کو سوچ میں پڑتے دیکھ دادو بول پڑیں۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
منال سمجھ گئی کہ گھر والوں نے دادو کو یہی بتایا تھا کہ میں اپنے مائیکے گئی ہوں۔۔۔۔جی دادو اب امی بلکل ٹھیک ہیں۔۔آپ کی طبیعت کیسی ہے اب۔۔آپ اپنا بلکل خیال نہی رکھتیں۔۔۔دیکھیں نا پھر سے بیمار ہو گئیں آپ۔۔۔!!!!!!!!!
اے رہنے دے۔۔بڑی فکر ہے تجھے دادی کی مائیکے جا کر بیٹھ گئی۔ایک بار فون کر کے دادی کا حال پوچھنے کا خیال بھی نہی آیا تجھے۔۔۔دادو منال کی کلاس لگانے بیٹھ گئیں۔۔۔۔!!!!!!!!
نہی دادو ایسی کوئی بات نہی میں نے بہت یاد کیا آپ سب کو۔۔حنان جب بھی ملنے آتے تھے آپ کے بارے میں پوچھتی رہتی تھی۔۔آپ سب کو بھلا بھول سکتی ہوں میں۔۔۔منال دادو کے گلے لگتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!!
دادو بھی مسکرا دیں۔۔۔اچھا چلو مان لیتی ہوں۔۔آئیندہ مائیکے جانا ہو تو مجھ سے پوچھ کر جانا۔۔۔وہ منال پر حکم صادر کرنے کے انداز میں بولیں۔۔۔منال مسکرا دی۔۔جی دادو آئیندہ دھیان رکھوں گی۔۔۔!!!!!!!!!
دونوں باتوں میں مصروف ہو گئیں۔۔کچھ دیر منال یونہی باتیں کرتی رہی پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔کمرے میں گئی تو ماہم پہلے سے اس کے کمرے میں موجود تھی۔۔!!!!!!!!!
اسے سامنے دیکھ کر منال کو تھوڑی حیرانگی ہوئی۔۔۔تم یہاں کیا کر رہی ہو میرے کمرے میں منال اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولی۔۔!!!!!!!!
کیا مطلب تمہارا۔۔۔؟؟؟ یہ تمہارا کمرہ نہی میرا ہے۔۔تم جاو یہاں سے سمجھی۔۔بس بہت دیکھ لیا میں نے یہ سب۔۔اب مزید برداشت نہی کروں گی میں۔۔حنان میرا بھی شوہر ہے۔۔۔۔ماہم ہٹ دھرمی سے بولی۔۔۔۔!!!!!!!!
منال اس کی بات پر مسکرا دی۔۔اچھا۔۔تو یہ بات ہے۔۔ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔۔دیکھتے ہیں تمہارا شوہر تمہں یہاں رہنے دیتا ہے یا نہی۔۔۔کمرے میں رہنے کی جگہ تو شاید تمہے مل بھی جائے۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
مگر حنان کے دل میں کبھی جگہ نہی بنا پاوں گی تم۔۔حنان پر بس میرا حق ہے۔۔بس منال کا۔۔۔یقین نہی تو آزما کر دیکھ لو۔۔بہت بڑی غلطی کر دی میں نے جو تمہیں مظلوم سمجھ بیٹھی تھی میں۔۔۔!!!!!!!!!!!
مگر تم تو آستین کا سانپ نکلی۔۔۔تم اور ہانی دونوں نے مل کر مجھے بے وقوف بنایا۔۔۔اور میں بن گئی۔۔مگر اب اور نہی اب میں تمہیں حنان کو مجھ سے دور نہی ہونے دوں گی۔۔۔!!!!!!!!
بہت بڑی غلطی کر دی میں نے تم دونوں کی باتوں میں آ کر۔۔۔اور دیکھوں جو کچھ تم نے میرے ساتھ کیا۔۔میرا کیا بگاڑ لیا تم نے۔۔حنان کل بھی میرے ساتھ تھے۔۔اور آج بھی۔۔۔!!!!!!!!!
اور تم۔۔۔؟؟؟ دیکھوں خود کو۔۔۔تم کل بھی خالی ہاتھ تھی اور آج بھی۔۔نا حنان کل تمہارا تھا اور نا آج۔۔خود کو سنبھالو تمہارے لیے یہی بہتر ہو گا۔۔پہلے ہی تم اپنی ضد،انا میں بہت کچھ اپنے ہاتھوں سے گنوا بیٹھی ہو۔۔۔!!!!!!!!!!
ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاو۔۔اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاو۔۔۔ہم اپنی زندگی میں خوش ہیں۔۔اور تم بھی خوشیاں تلاش کرنے کی کوشش کرو اپنی زندگی میں۔۔۔یونہی رہا تو تمہارے لیے جینا مشکل ہو جائے گا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
منال اسے سمجھانے کے انداز بولی۔۔وہ عمر میں ماہم سے چھوٹی ہوتے ہوئے بھی اسے بہت اچھے انداز میں سمجھا رہی تھی۔۔۔۔!!!!!!!!
ماہم بس چپ چاپ اس کی باتیں سن رہی تھی۔منال جب اپنی بات ختم کر چکی تو ماہم بول پڑی۔۔بس ہو گیا ختم تمہارا لیکچر۔۔یا ابھی باقی ہے۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مجھے مت سکھاو تم سمجھی۔۔۔خود تم آوارہ، بدچلن۔۔بس اتنا ہی بولی تھی کہ ماہم کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ پڑا۔۔اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر جا گری۔۔۔!!!!!!!!
یہ تھپڑ حنان نے مارا اسے۔۔اور بازو سے کھینچتے ہوئے باہر لے گیا اسے۔۔۔کیا کہا تم نے دوبارہ کہنا۔۔حنان چلایا۔۔۔ماہم ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔۔میں نے کہا پھر سے بولو سب کے سامنے۔۔۔۔!!!!!!!!
حنان اور ماہم کی ماما حنان کی آواز سن کر وہاں آ پہنچیں۔۔۔کیا ہو رہا ہے یہ سب کچھ۔۔ماہم کی ماما بیٹی کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھیں۔۔۔اور حنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔!!!!!!!
یہ آپ اسی سے پوچھیں بڑی ماما یہ کیا کہ رہی تھی منال سے۔۔۔۔ماہم نے ماں کو دیکھا تو جلدی سے ان کے پیچھے چھپ گئی۔۔۔اور پھر سے بولی۔۔۔!!!!!!!!!!!!
ہاں تو میں کچھ غلط کہ رہی ہوں کیا۔۔۔تم پوچھوں اس سے کہاں تھی یہ اتنے دنوں سے۔۔کس کے ساتھ تھی یہ۔۔۔اور تم نے اتنی آسانی سے اسے اپنا لیا پتہ نہی کس کے ساتھ منہ کالا کروا کے آئی ہے یہ۔۔۔!!!!!!!!!
ماہم۔۔۔حنان چلایا۔۔۔بس اب ایک اور لفظ نہی۔۔ورنہ جان لے لوں گا میں تمہاری۔۔۔حنان ماہم کی طرف بڑھا۔۔۔لیکن جب اوپر نظر سیڑھیوں پر کھڑی آنسو بہاتی منال پر پڑی تو رک گیا۔۔۔!!!!!!!
میری منال پاکدامن ہے۔۔یہ میں جانتا ہوں اور میرا خدا جانتا ہے۔۔تمہیں صفائی دینا میں ضروری نہی سمجھتا۔۔۔آئیندہ سوچ سمجھ کر بات کرنا ورنہ انجام کی زمہ دار تم خود ہو گی۔۔۔!!!!!!!!
حنان بس اتنا بول کر اوپر کی طرف بڑھا۔۔اور منال کو ساتھ لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔منال کا بہت دل دکھا تھا ماہم کے بولے گئے جملوں سے۔۔وہ آنسو بہائے جا رہی تھی۔۔۔۔!!!!!!!
حنان نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور خود اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے آنسو صاف کرنے لگ پڑا منال کے۔۔۔بس کر دو منال اب بند کر دو رونا۔۔میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔۔۔تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔۔۔!!!!!!!
مجھے پورا یقین ہے تم پر۔۔۔تم پاکدامن ہو یہ میں جانتا ہوں۔۔۔اور مجھے کسی کو صفائی دینے کی ضرورت نہی ہے۔۔۔تم بس مجھ پر بھروسہ رکھنا میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ رہوں گا۔۔۔!!!!!!!!!
کتنی محبت ہے تم سے کوئی صفائی
نہی دینگے۔۔۔۔۔۔سائے کی طرح
تیرے ساتھ رہینگے پر
دکھائی نہی دینگے
ہمممم منال نے سر ہاں میں ہلا دیا۔حنان نے مسکراتے ہوئے اپنے ساتھ لگا لیا اسے۔۔۔۔اوہ۔۔میں تو بھول ہی گیا۔۔۔کہ میں ایک ضروری کام سے آیا تھا گھر۔میٹنگ کے لیے جانے والی فائل تو میں گھر پر ہی بھول گیا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!
میں چلتا ہوں پھر میں لیٹ ہو رہا ہوں۔۔۔شام کو جب میں گھر آوں تو مجھے ریڈی نظر آو تم۔۔پری اور حیدر کو لینے جانا ہے۔۔۔یہ حیدر بھی لڑکیوں کی طرح بیٹھ گیا سسرال۔۔۔اب اس کو مائیکے واپس لانے کے لیے جانا پڑے گا ہمیں۔۔۔۔!!!!!!!
حنان کی بات پر منال مسکرا دی۔۔۔حنان اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر الماری سے فائل نکالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!!!!!
ماہم کی ماما اسے ساتھ لیے اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔ماہم بیٹا کیا تھا یہ سب۔۔۔کیوں تم حنان سے جھگڑا کر رہی تھی۔۔ہم سب بہت دکھی ہیں تمہارے لیے۔۔!!!!!!
حنان نے تم سے شادی تو کر لی۔۔مگر ایسے لگتا ہے جیسے شادی کر کے بھول گیا ہے تمہیں۔۔۔اگر تم چاہو تو اس سے خلا لے لوں۔۔۔میں نے اور تمہارے بابا نے یہی سوچا ہے تمہارے لیے۔۔۔!!!!!!!!!!
مِیں مزید تمہیں اس حال میں نہی دیکھ سکتی۔۔حنان تو خوش ہے منال کے ساتھ۔۔مگر تم اس کی زندگی میں کوئی معنی نہی رکھتی۔۔تم سوچ لو اچھی طرح۔۔اب بھی وقت ہے۔۔یہ نا ہو تم اسی طرح زندگی گزارنے کی عادت پڑ جائے۔۔۔۔!!!!!!!!!
نہہی۔۔ماما میں حنان سے طلاق نہی لے سکتی۔۔۔اس سے بہت محبت کرتی ہوں میں۔۔۔وہ چاہے مجھے زندگی بھر نا اپنائے۔۔مگر میں اس کے نام پر زندگی گزار دوں گی۔۔۔۔!!!!!!!!!!
بس کر دو ماہم یہ کیسی محبت ہے تمہاری جس محبت کا حنان کو کوئی احساس نہی۔۔اس یکطرفہ محبت کے سہارے یہ پہاڑ جیسی زندگی نہی گزرتی بیٹا۔۔کچھ سوچو اپنے لیے۔۔۔ختم کر دو اس رشتے کو اور آگے بڑھ جاو اپنی زندگی میں۔۔۔!!!!!!!
امید ہے میری باتوں کا اثر ہو گا تم پے۔۔چلتی ہوں تم اچھی طرح سوچ کر بتا دینا مجھے۔۔۔وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔جبکہ ماہم سوچ میں پڑ گئی۔۔اور سر گھٹنوں پر رکھے آنسو بہانے لگی۔۔۔!!!!!!!
شام کو حنان ملک صاحب کے ساتھ گھر آیا تو سب لوگ تیار بیٹھے تھے۔۔حنان اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔منال بلیک ڈریس پہنے تیار بیٹھی تھی۔۔۔حنان سلام کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔!!!!!!!
منال نے کپڑے حنان کی طرف بڑھا دئیے۔۔۔یہ کیا شلوار قیمض۔۔۔۔حنان حیرانگی سے منال کی طرف دیکھنے لگ پڑا۔۔۔؟؟؟؟؟
جی شلوار قمیض۔۔۔منال نے مسکراتے ہوئے حنان کی بات کا جواب دیا۔۔۔!!!!!
ہمممم شلوار قمیض اور وہ بھی بلیک۔۔۔۔مسز حنان آپ کی انفارمیشن کے لیے بتا دوں کہ میں شلوار قیمض نہی پہنتا۔۔۔!!!!!!!
لیکن۔۔۔۔۔آج ضرور پہنوں گا۔۔منال کا اداس ہوتا چہرہ دیکھ حنان جلدی سے بول پڑا۔۔۔لیکن یہ بتاو یہ سوٹ آیا کہاں سے۔۔اگلے ہی لمحے یاد آنے پر بول پڑا۔۔۔۔!!!!!!!!!
منال مسکرا دی۔۔اور فون کی طرف اشارہ کیا۔۔آن لائن منگوایا ہے۔۔ممی کی ہیلپ سے۔۔۔۔!!!!!!
ہممممم چلیں دیکھتے ہیں۔۔حنان ڈریس تھامتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!!!
واش روم سے باہر آیا تو منال نیچے جا چکی تھی۔حنان نے جلدی سے بال سیٹ کیے،گھڑی پہنی،پرفیوم چھڑکا خود پر۔۔اور واسکٹ پہنی، سینڈل پہنی اور فون اٹھاتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔!!!!!!!!
نیچے کھڑے سب گھر والوں کی نظر جب حنان پر پڑیں تو سب دیکھتے ہی رہ گئے۔۔۔سب کی نظریں حنان پر جم سی گئیں۔۔حنان مسکراتے ہوئے نیچے آ رکا۔۔چلیں۔۔۔مسز ملک کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!!!!!
وہ مسکرا دیں۔۔ہاں بھئی چلو سب دیر ہو رہی ہے۔۔مسز ملک منال کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا دیں۔کیونکہ یہ آئیڈیا منال کا تھا۔۔حنان بہت اچھا لگ رہا تھا اس ڈریس میں۔۔۔۔!!!!!!!!!
احسن ہاسپٹل تھا۔۔جبکہ ماہم اپنے کمرے میں طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بنا کر جانے سے انکار کر دیا اس نے۔۔باقی سب گھر والے چل پڑے۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!
منال دادو کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی اور اس کےساتھ حنان۔۔پری کے گھر والوں نے بہت خوشدلی سے ویلکم کیا ان سب کا۔۔کھانا کھانے کے بعد احسن اور نور کے رشتے کی بات چلی۔۔۔اور اگلے مہینے ان کی شادی کی ڈیٹ بھی فائنل کر دی گئی۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!
پری اور حیدر کو ساتھ لیے سب گھر واپس آ گئے۔سب ہنستے مسکراتے اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔۔سوائے حیدر اور حنان کے۔۔۔!!!!!!
اب بتاو بھی کیوں روکا مجھے۔۔حنان حیدر کو گھورتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!
کیا ہو گیا کچھ دیر میرے ساتھ بھی ٹائم سپینڈ کر لو۔۔۔اچھا یہ آج خیر تو شلوار قمیض۔۔وہ بھی بلیک۔جب میں کہتا تھا پہن لو تب تو نہی پہنتے تھے۔اور آج کس کے کہنے پر پہنی ہے۔۔بتاو زرا۔۔حیدر ہنسی دباتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!
وہ کیا ہے ناں یہ میری مسز نے گفٹ دیا ہے مجھے۔اگر نا پہنتا تو ناراض ہو جاتی منال۔۔بس اس کی ناراضگی کے ڈر سے پہن لیا۔۔۔حنان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!!!
ہمممم۔۔۔۔ویسے حنان مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔ماہم کے بارے میں۔۔بھابی واپس آ گئیں۔۔تم دونوں خوش ہو اپنی زندگی میں۔۔مگر ماہم بھی تمہاری بیوی ہے۔میں تو بس اتنا کہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے بعد میں بات کروں گا۔۔حنان جان بوجھ کر فون کان سے لگائے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔۔۔حیدر کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے۔۔۔!!!!!!!!!
حیدر کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔میں تو بس یہ کہ رہا تھا کہ ماہم کو طلاق دے دو۔۔۔جب تم اپنی زندگی میں خوش ہو تو۔۔۔اسے کس بالت کی سزا دے رکھی ہے۔۔۔خیر کوئی بات نہی پھر کبھی سہی۔۔حیدر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!!!
کمرے میں گیا تو پری بڑے مزے سے بیڈ پر لیٹی آرام کر رہی تھی۔۔حیدر نے اس کو آواز دی۔۔مگر پری اپنی جگہ سے نہی ہلی۔۔۔حیدر نے اس کے چہرے پر آتے بال پیچھے ہٹا کر اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔!!!!!!
پری زرا سا ہلی مگر اٹھی نہی۔۔گہری نیند میں لگ رہی تھی وہ۔۔۔حیدر مسکراتے ہوئے کھڑکی کے پاس جا رکا۔۔اس کو آج بھی یہ سب ایک خواب سا لگ رہا تھا۔۔پری اتنی آسانی سے اسے مل جائے گی اس نے سوچا نہی تھا۔۔۔!!!!!!!!!
پری کی سالگرہ کا دن جب اس کا نکاح ہوا۔حیدر کے لیے بہت ازیت بھرا دن تھا۔۔ساری امیدیں دم توڑ گئیں تھیں اس دن۔۔حیدر کو لگا اس نے پری کو کھو دیا۔۔مگر خدا کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
آج پری اس کے ساتھ ہے اس کی ہمسفر بن کر۔۔یہ احساس ہی بہت خوشگوار ہے حیدر کے لیے۔۔مسکراتے ہوئے وہ بھی آ کر لیٹ گیا۔۔پری کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے نیند کی وادی میں اتر گیا۔۔۔!!!!!!!!!
حنان کمرے میں گیا تو منال کھڑکی کے پاس سوچوں میں گم کھڑی تھی۔۔۔حنان اس کے پاس جا رکا۔۔کیا ہوا مسز حنان کن سوچوں میں گم ہو۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!!!!!
میں ماہم کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔کیا وہ ایسے ہی زندگی گزار دے گی۔۔۔آپ اس کے پاس بھی چلے جایا کرے کچھ دیر۔۔وہ بھی تو آپ کی بیوی ہے۔۔اس کا بھی حق ہے آپ پر۔۔۔منال اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!!!!!!
حنان منال کے اس جواب پر جی بھر کر بدمزہ ہوا۔۔منال کو غصے سے دونوں کندھوں سے سختی سے تھامتے ہوئے اپنی طرف کھینچا۔۔آج تو یہ بات کر دی مگر آئیندہ مت کرنا منال۔میری زندگی پر صرف اور صرف تمہارا حق ہے اور میری آخری سانس تک تمہارا ہی رہے گا۔۔۔!!!!!!!!!!
پھر کبھی دوبارہ ایسا بات مت کرنا۔۔ورنہ میرے غصے سے تو تم واقف ہو۔۔ماہم کی یہی سزا ہے۔۔زندگی بھر یونہی بھگتے گی وہ۔اور ماہم سے میرا رشتہ بس کاغذات کی حد تک ہے۔۔۔حنان منال کو چھوڑتے ہوئے چینج کرنے چلا گیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
واپس آیا تو تو منال کمبل میں منہ چھپائے لیٹی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔آج بہت دن بعد حنان کو اتنے غصے میں دیکھا اس نے تو ڈر گئی۔۔۔حنان لمبی سانس بھرتے ہوئے لائٹ بند کرتے ہوئے بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔۔۔!!!!!!!!
منال کا منہ اپنی طرف کیا۔اور اس کے آنسو صاف کر کے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔آئی ایم سوری مسز حنان آج کے بعد کبھی غصہ نہی کروں گا تم پر۔۔منال کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔منال خود کو حنان کے حصار میں پا کر سکون محسوس کرتے ہوئے سو گئی۔۔۔!!!!!!!
کچھ دیر بعد حنان بھی منال کو سوتے دیکھ مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کیے سو گیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!
اگلے دن ملک صاحب آفس سے گھر آئے تو اکیلے نہی آئے تھے۔۔۔ان کے ساتھ سانیہ اور فہیم بھی تھے۔۔مسز ملک بیٹی کو سامنے دیکھ کر یقین ہی نہی کر پا رہی تھیں۔۔۔دونوں ماں بیٹی کچھ دیر آنسو بہاتی رہیں۔۔پھر مسز ملک نے ملک صاحب کی طرف دیکھا۔۔۔!!!!!!!!!!!
وہ مسکرا دئیے۔۔تو وہ فہیم کی طرف بڑھیں۔۔اور اسے بھی گلے لگا لیا۔۔۔سانیہ باقی سب گھر والوں سے بھی ملی۔۔اس کے بعد فہیم کو ساتھ لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔!!!!!!!!!!
سانیہ بہت خوش تھی کہ اس کے بابا نے معاف کر دیا اسے۔۔۔وہ فہیم کو اپنے کمرے میں لگیں بچپن کی تصویریں دکھا رہی تھی۔۔سانیہ کو خوش دیکھ کر فہیم کو ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔!!!!!!!!!!!
فہیم نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔آئی ایم سوری میری وجہ سے تمہیں اپنے گھر اور گھر والوں سے دور ہونا پڑا۔۔۔سانیہ مسکرا دی۔۔اور فہیم سے الگ ہوتے ہوئے بولی۔۔۔نہی۔۔صرف آپ کی وجہ سے نہی ہماری وجہ سے۔۔!!!!!!!!!
جو ہوا اسے بھول جائیں۔۔اور آنے والی خوشیوں کا استقبال کریں۔۔سانیہ کی بات پر فہیم مسکرا دیا۔۔جی ہاں بلکل۔۔۔آنے والی خوشی بہت عزیز ہے ہمیں۔۔۔!!!!!!!!
یہ سب کچھ حنان کی بدولت ہوا تھق۔۔پچھلے کئی مہینوں سے وہ ملک صاحب کو منانے میں لگا تھا کہ سانیہ کو معاف کر دیں۔۔مگر وہ اس کی بات کو نظر انداز کر دیتے۔۔۔لیکن آخر کار وہ حنان کی بات مان گئے۔۔۔اور حنان کے ساتھ سانیہ کے گھر چلے گئے۔۔!!!!!!!!!
سچ تو یہ تھا کہ ان کا اپنا دل بھی بہت تڑپتا تھا بیٹی کے لیے۔۔مگر ظاہر نہی کرواتے تھے۔۔ملک صاحب حنان کے ساتھ سانیہ کے گھر میں داخل ہوئے تو سانیہ بھاگتے ہوئے باپ کے سینے سے جا لگی۔۔کچھ دیر آنسو بہاتی رہی۔۔پھر ملک صاحب نے اسے خود سے الگ کیا۔۔اور سانیہ کے آنسو صاف کیے۔۔!!!!!!!!!!!!
اور پھر فہیم سے بھی گلے ملے۔۔فہیم سے مل کر ان کو احساس ہوا کہ سانیہ کی پسند بہت اچھی ہے۔۔سانیہ کہتی رہی ان سے۔۔ڈیڈ پلیز ایک بار مل لیں آپ فہیم سے۔۔۔مگر ملک صاحب نے اس کی ایک نہی سنی۔۔۔اور سانیہ کی شادی طے کر دی۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
جو کچھ ہوا اس میں کہیں نا کہیں وہ خود زمہ دار تھے۔۔۔آج ان کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔۔۔فہیم کے والدین سے مل کر وہ دونوں کو ساتھ لیے گھر چلے آئے۔۔۔!!!!!!!!!!!
سانیہ کچھ دیر سب کے ساتھ بیٹھی رہی پھر۔۔کھانا کھانے کے بعد اپنے گھر چلی گئی۔۔مسز ملک آج بہت خوش تھیں۔۔ان کے دونوں بچے خوش تھے اپنی اپنی زندگی میں۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
ملک صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے تھے تب ہی مسز ملک ان کے پاس آ بیٹھیں۔۔۔سمجھ نہی آ رہا کیسے آپ کا شکریہ ادا کروں ملک صاحب۔۔آپ نے بہت بڑی خوشی دے دی مجھے آج۔۔سانیہ کو معاف کر کے۔۔بچوں سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔۔ماں باپ کو اپنا دل بڑا کر کے معاف کرنا پڑتا ہے۔۔۔!!!!!!!!
اس میں شکریہ ادا کرنے والی کونسی بات ہے۔سانیہ میری بھی تو بیٹی ہے۔۔مجھے احساس ہو چکا ہے اپنی غلطی کا۔۔اگر میں اپنی بیٹی کی بات مان جاتا اس وقت تو ایسا نا ہوتا۔۔سب میری غلطی ہے۔۔ملک صاحب افسردہ سے بولے۔۔۔۔!!!!!!!!
نہی ملک صاحب آپ افسردہ نا ہو۔۔اس میں آپ کی کوئی غلطی نہی تھی۔۔ماں باپ تو بچوں کا بھلا ہی سوچتے ہیں۔۔۔چلیں چھوڑیں ان سب باتوں کو میں آپ کے لیے چائے لے کر آتی ہوں۔۔وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
ملک صاحب بھی مسکرا دئیے۔۔۔یہ سب آپ کے صاحبزادے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔۔اگر وہ مجھے نا کہتا تو شاید زندگی بھر بیٹی سے دور رہتے ہم لوگ۔۔۔!!!!!!!!!!
ایک ماہ بعد احسن اور نور کی شادی کر دی گئی دھوم دھام سے۔۔۔اس شادی میں سانیہ، فہیم۔۔اور ان کے گھر والے بھی شامل ہوئے۔۔۔!!!!!!!!!
نور دلہن بنی احسن کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سو گئی۔۔۔احسن کمرے میں آیا تو نور کو سوتے دیکھ اسے ایسا لگا جیسے اس کے ارمانوں پر پانی پھر گیا ہو۔۔۔اب ڈاکٹر سے شادی کی ہے تو ایسا ہی ہونا تھا احسن بیٹا۔۔۔۔آٹھ گھنٹے کی نیند لازمی ہوتی ہے۔۔احسن مسکراتے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!!!!
الماری کھلنے کی آواز پر نور جلدی سے اٹھ بیٹھی۔۔احسن مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔۔اوہ آئی ایم سوری ڈاکٹر نور۔۔مممم میرا مطلب ہے۔۔مسز احسن۔۔میری وجہ سے آپ کی نیند خراب ہوئی۔۔۔!!!!!!!!!
احسن کی بات پر نور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔وہ مجھے پتہ نہی چلا کب میری آنکھ لگ گئی۔۔نور شرمندگی سے سر جھکائے بیٹھی رہی۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
احسن آگے بڑھ کر اس کے پاس جا بیٹھا۔۔نور کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔اور دوسرے ہاتھ سے تھوڑی سے پکڑتے ہوئے نور کا چہرہ اوپر کیا۔۔۔!!!!!!!!!
آج کے بعد یہ نظریں مت جھکانا نور۔۔۔مجھے میری وہی دوست چاہیے بیوی کے روپ میں جو ہمیشہ نظریں ملا کر بات کرتی ہے۔۔۔یہ شرماتی گھبراتی نور مجھے اچھی نہی لگتی۔۔!!!!!
نور نے نظریں اٹھا کر احسن کی طرف دیکھا۔۔اور پھر سے نظریں جھکا گئی۔۔۔اور احسن کے سینے میں منہ چھپائے ہنس دی۔۔۔احسن بھی ہنس دیا۔۔اور اس کے گرد اپنے بازو پھیلا دئیے۔۔۔۔!!!!!!!!
احسن اور نور دونوں نے اس رشتے کو دل سے قبول کر لیا۔۔۔سب اپنی اپنی زندگی میں خوش تھے۔۔سوائے پری کے۔۔۔۔سب نے اسے سمجھایا کہ حنان سے خلا لے کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے۔۔مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہی۔۔۔!!!!!!
منال کی طبیعت کچھ ٹھیک نہی تھی آج۔۔حنان گھر آیا تو منال کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔۔حنان پریشان ہو گیا منال کو اس حال میں دیکھ کر۔۔۔منال کیا ہوا۔۔تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں حنان بے چینی سے منال کی طرف بڑھا۔۔۔!!!!!!!!!
جی میں ٹھیک ہوں بس چکر سے آ رہے ہیں آنکھیں بند ہو رہی ہیں صبح سے۔۔۔حنان پریشان ہو گیا۔۔اور منال کو ہاسپٹل لے گیا۔۔۔۔کچھ دیر باہر بیٹھا منال کا انتظار کرتا رہا۔۔پھر ڈاکٹر نے اسے اندر بلایا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!
حنان سچ میں پریشان ہو چکا تھا اب۔۔کیا ہوا کوئی پریشانی والی بات ہے ڈاکٹر۔۔منال کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!
ڈاکٹر مسکرا دیں۔۔۔نہی نہی کوئی پریشانی والی بات نہی۔۔بلکہ خوشی کی بات ہے۔۔شی از ایکسپیکٹنگ۔۔۔!!!!!!!
واٹ۔۔حنان کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہی آیا۔۔اس نے منال کی طرف دیکھا تو منال شرما کر نظریں جھکا گئی۔۔۔!!!!!!!
جی جی شی از ایکسپیکٹنگ۔۔آپ ان کا اچھے سے خیال رکھیں۔۔اب آپ لوگ جا سکتے ہیں۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!
حنان مسکراتے ہوئے منال کو ساتھ لیے کمرے سے باہر آ گیا۔۔۔تھینک یو سو مچ مسز حنان تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی۔۔مجھے تو یقین نہی آ رہا میں ڈیڈ بننے والا ہوں۔۔۔حنان خوشی سے پاگل ہوئی جا رہا تھا۔۔۔!!!!!!!!!!!
منال مسکرا دی۔۔نہی یہ خوشی ہمیں اللہ نے عطا کی ہے۔۔اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے ہمیں۔۔!!!!!
ہمممممم بے شک۔۔الحمدللہ۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔!!!!!!!!!!
مسز ملک کو جب حنان نے گھر آ کر یہ خبر سنائی تو وہ بھی خوشی سے نڈھال ہو گئیں۔۔ماہم کو جب پتہ چلا تو بس وہ مزید برداشت نا کر سکی۔۔اس کا ظبط بس یہیں تک تھا۔۔۔!!!!!!!!
ڈیڈ مجھے حنان سے خلا چاہیے۔۔سب ٹی وی لاونج میں بیٹھے تھے جب ماہم ملک صاحب کے پاس آ کر بولی۔۔۔!!!!!!!!!
یہ کیا بات ہوئی ماہم۔۔۔جب ہم سب تمہیں کہتے رہے کہ خلا لے لو۔۔تب تم نے ہماری ایک نہی سنی۔۔اور اب کہ رہی ہو کہ خلا چاہیے۔۔۔اتنے مہینوں بعد اب یاد آیا تمہیں۔۔۔ماہم کی ماما بول پڑیں۔۔۔!!!!!!!
جی ماما میں سہی کہ رہی ہوں۔۔۔میں نے ہانی کی باتوں میں آ کر حنان اور منال کے ساتھ بہت برا کیا۔۔میری وجہ سے منال حنان سے دور ہوئی۔۔اسی بات کی سزا مل ہے مجھے۔۔۔۔!!!!!!!!!!
مگر اب اور نہی۔۔۔میں تھک چکی ہوں۔۔پلیز حنان مجھے معاف کر دو۔۔اور آزاد کر دو اس بے معنی رشتے سے۔۔۔۔ماہم سب کے سامنے حنان کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے اعترافِ جرم قبول کر رہی تھی۔۔۔!!!!!!!!!!!!!
تم دونوں مجھے معاف کر دو۔۔منال میں تمہاری بھی گناہگار ہوں۔۔۔ماہم منال کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔۔حنان نے بڑے پاپا کی طرف دیکھا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!
انہوں نے آگے بڑھ کر ماہم کو سینے سے لگا لیا۔۔تم جیسا چاہوں گی ویسا ہی ہو گا۔۔۔وہ ماہم کو وہاں سے لے کر اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!
دو دن بعد طلاق کے کاغذات تیار ہو کر آ گئے۔۔حنان نے ان کاغذات پر سائن کر دئیے۔۔۔ماہم نے بھی سائن کر دئیے۔۔!!!!!!!!!!!
ان دونوں کے رشتہ ٹوٹنے پر دونوں فیملیوں میں کوئی دراڑ نہی آئی۔۔اس میں غلطی ماہم کی تھی۔۔اسی لیے حنان کو کسی نے کچھ نہی کہا۔۔۔ماہم بس اپنے کمرے میں ہی رہتی بہت کم باہر نکلتی۔۔۔!!!!!!!!!!!!
اپنی زندگی کو بس اس نے اپنے کمرے تک محدود کر لیا تھا۔۔۔حنان اور منال دونوں اسے معاف کر چکے تھے۔۔۔۔وہ دونوں اپنی زندگی میں خوش تھے۔۔۔!!!!!!!!!!!!
آج منال کے گھر اللہ کی رحمت آئی۔۔اللہ پاک نے دونوں کو ایک خوبصورت بیٹی سے نوازا۔۔حنان کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا نہی تھی۔۔وہ اپنی پھول سی نازک بیٹی کو بازوں میں اٹھائے بیٹھا تھا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
یہ بلکل تمہارے جیسی ہے منال۔۔اس کا نام ہم جنت رکھیں گے۔۔۔منال مسکرا دی۔۔بہت خوبصورت نام ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
حنان نے مسکراتے ہوئے اسے جھولے میں لٹا دیا۔۔اور منال کی طرف بڑھا۔اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔آج میں بہت خوش ہوں۔۔تھینکس میری زندگی میں آنے کے لیے۔۔۔!!!!!!!
اس سے پہلے کہ حنان کچھ اور بولتا۔۔جنت کے رونے کی آواز پر پیچھے ہٹا اور مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔۔اور اسے اٹھاتے ہوئے منال کو تھما دیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
کچھ دن بعد ماہم جنت کو دیکھنے منال کے کمرے میں گئی تو سامنے کچھ مہمان بیٹھے تھے منال کے کمرے میں۔۔ماہم واپس جانے لگی تو منال نے اسے آواز دی۔۔ماہم آ جاو۔۔ان سے ملو۔۔!!!!
یہ شمائلہ آپا ہیں۔۔اور یہ ان کا بیٹا احمد۔۔آو بیٹھو۔۔ماہم بس ان کو سلام کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔!!!!!!!
شمائلہ آپا اور احمد منال ست ملنے آئے تھے۔۔حنان نے ان کو گھر کا ایڈریس سینڈ کر دیا تھا۔۔مگر خود ابھی آفس تھا۔۔۔شمائلہ آپا سپیشلی جنت کو دیکھنے کراچی سے اسلام آباد آئی تھیں۔۔۔۔!!!!!!!!!
یہ ماہم آپ کی وہی کزن ہے ناں۔۔احمد منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!!!!!
جی۔۔۔منال احمد کی بات کا مطلب سمجھ چکی تھی۔۔بس مختصر سا جواب دیا۔۔۔۔!!!!!!!!
حنان گھر آیا تو سب نے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔۔کچھ دیر بعد احمد حنان کو ساتھ لیے باہر چلا گیا۔۔وہ مجھے ضروری بات کرنی تھی حنان تم سے۔۔احمد ہچکچاتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!
جی کہوں کیا کہنا ہے۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔!!!!!!!!!!
احمد بھی مسکرا دیا۔۔وہ دراصل بات یہ ہے کہ میں آپ کی کزن ماہم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!
حنان کو حیرانگی ہوئی احمد کی بات پر۔۔تم کب ملے ماہم سے۔۔اور تم یہ جانتے ہسئے بھی کہ وہ طلاق یافتہ ہے اس سے شادی کرنا چاہتے ہو۔۔بہت خوشی ہوئی مجھے جان کر۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!!!!
بس آج ہی ملاقات ہوئی چھوٹی سی۔۔بس مجھے اچھی لگی ماہم۔۔اور ماما کو بھی۔۔مجھے کوئی فرق نہی پڑتا کہ وہ طلاق یافتہ ہے۔۔اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو چکا ہے میرے لیے یہی کافی ہے۔۔اگر آپ کی اجازت ہو تو ماما بات کر لیں ماہم کے پیرنٹس سے۔۔۔۔؟؟؟؟
احمد کی بات پر حنان مسکرا دیا۔۔۔ہاں ضرور۔۔حنان نے پہلے سب کو ایک ساتھ ڈرائینگ روم میں بٹھایا اور پھر احمد اور اس کی ماما کو ڈرائنگ رووم میں لایا ان کا تعارف کروایا۔۔۔بڑے پاپا، ڈیڈ یہ میرا دوست ہے احمد۔۔اور یہ ان کی ماما ہیں۔۔یہ ماہم کے رشتے کے سلسلے میں آئے ہیں۔۔۔!!!!!!!
جی بھائی صاحب مجھے آپ کی بیٹی پسند ہے۔۔ہمیں انکار مت کیجئیے گا۔۔بہت امید لے کر آپ کے پاس آئی ہوں۔۔یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے احمد۔۔جو کچھ ہے سب کچھ اسی کا ہے۔۔۔میں ماہم کو اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہوں۔۔۔!!!!!!!!!!
سب نے حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔ملک صاحب نے ہاں کر دی اا رشتے کے لیے۔۔کیونکہ وہ خود بھی یہی چاہتے تھے کہ ماہم اپنی زندگی میں آگے بڑھے۔۔۔!!!!!!!!!!
سب گھر والوں کو احمد بہت پسند آیا۔۔۔اور ماہم اور احمد کا رشتی طے کر دیا گیا۔۔!!!!!
دو ہفتے بعد ماہم مسز احمد بن کر دھوم دھام سے رخصت ہو کر کراچی آ گئی۔۔۔احمد مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔اور ماہم کے پاس آبیٹھا۔۔میں جانتا ہوں بہت غلطیاں ہوئیں ہیں تم سے اور بہت دکھ بھی دیکھے ہیں تم نے۔۔۔۔!!!!!!!!
مگر اب میں چاہتا ہوں کہ تم سب کچھ بھلا کر نئی زندگی شروع کرو۔۔ماہم نے نظریں اٹھا کر احمد کی طرف دیکھا۔۔اور پھر نظریں جھکا گئی۔۔احمد مسکرا دیا۔۔۔۔!!!!!!!
اٹھا لو پلکیں۔۔
دیکھ لو جی بھر کے۔۔
کہ اب زندگی بھر۔۔
انہی آنکھوں میں تم کو چمکنا ہے۔۔
ماہم بس ہلکا سا مسکرا دی۔احمد نے جیب میں سے ایک ڈبیا نکال کر اسمیں سے خوبصورت ڈائمنڈ رِنگ نکال کر ماہم کو پہنا دی۔۔اور اس کے ماتھے پر اپنےہونٹ رکھ دئیے۔۔۔!!!!!
سب اپنی زندگی میں خوش ہو گئے۔۔سانیہ اور فہیم کے ہاں بھی بیٹی نے جنم لیا۔۔جس کا نام انہوں نے دعا رکھا۔۔۔!!!!!!!!!!
حنان کی محبت منال کے دل میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہے۔۔اور منال حنان جیسا جیون ساتھی پا کر بہت خوش ہے۔دن بھر جنت کو سنبھالنے میں مذروف رہتی۔۔۔جنت نے ان دونوں کی زندگی کی خوشیاں دوبالا کر دیں۔۔۔!!!!!!!!!!!
