Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 27)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

ہانی کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔اس نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی لیکن احسن کی گرفت مظبوط تھی۔۔۔۔!!!!

ہانِی کی حالت خراب ہوتے دیکھ احسن نے اسے چھوڑ دیا۔۔۔ہانی زور سے کھانستے ہوئے وہی زمین پر بیٹھ کر اپنا سانس بحال کرنے لگ پڑی۔۔۔۔!!!!

میں نے تمہیں پہلے بھی منع کیا تھا لیکن تم باز نہہی آئی۔۔۔۔اب یہ لاسٹ وارننگ ہے تمہیں۔۔۔احسن اس کے بالوں سے پکڑتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!

یہ تو بس ایک چھوٹا سا ٹریلر تھا۔۔۔اگر تم باز نہہی آئی۔۔تو پوری مووی دکھاوں گا میں تمہیں اینڈ تک۔۔۔کہ کر احسن اسے چھوڑتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔!!!!!

اس دن والا تھپڑ۔۔۔اور یہ ٹریلر بہت مہنگا پڑے گا تمہیں ڈاکٹر احسن۔۔۔۔وہ بھی بہت جلد۔۔۔یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔ہانی اٹھ کر گلاس میں پانی ڈال کر پورا گلاس ایک ہی سانس میں گلے میں اتار گئی۔۔۔۔!!!!!

بہت جلد تم سب کی خوشیوں کو گرہن لگنے والا ہے ڈاکٹر احسن۔۔۔تمہاری اس جان سے پیاری بہن اور جان سے پیارے بھائی حیدر کو۔۔۔جس پر تم اپنی جان چھڑکتے ہو۔۔۔۔!!!!!

ایسی جگہ پہنچاوں گی جہاں پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے یہ لوگ۔۔۔اور جس گھٹن کا احساس تم نے آج مجھے دلایا ہے نا۔۔۔ایسی موت پل پل دوں گی میں تمہارے ان دو جان سے پیاروں کو۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!

ابھی تم مجھے جانتے نہی ڈاکٹر احسن۔۔۔تم مجھے ایزی لے رہے ہو۔۔۔یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے کہ میں تمہاری ان چھوٹی موٹی دھمکیوں سے ڈر جاوں گی۔۔۔!!!!!!

میں ہانی ہی ہانی۔۔۔۔دشمن بھی مجھ سے پناہ مانتے ہیں۔۔۔۔ابھی تم نے میرا اصلی روپ دیکھا نہی۔۔بہت جلد دکھاوں گی میں تمہیں۔۔۔ہانی کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے فون اٹھا کر کان سے لگا کر کسی سے بات کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔!!!!!

حنان مطلوبہ جگہ پر پہنچا تو دو آدمی گیٹ کھولتے ہوئے اسے اندر لے گئے۔۔۔حیدر نے ایک ایک پیکٹ دونوں کو پکڑا دیا۔۔۔ویری گڈ۔۔۔باقی کے پیسے ادھوارا کام ختم ہونے پر مل جائیں گے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

کہاں ہے وہ۔۔۔۔حنان بولا تو وہ دونوں ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہیں رک گئے۔۔۔۔حنان کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!

سامنے کرسی پر ایک خوش شکل پچیس سالہ نوجوان کرسی پر باندھا ہوا تھا۔۔۔حنان کو دیکھتے ہی وہ غرایا۔۔۔۔کیوں باندھ کر رکھا ہے مجھے یہاں۔۔۔میرا قصور کیا ہے آخر۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

اسے دیکھتے ہی حنان کے چہرے پر تلخی کے آسار چھا گئے۔۔۔حنان اس کی طرف بڑھا اور اس کےجبڑے کو دبوچ لیا۔۔۔۔قصور۔۔۔۔سب تمہارا ہی تو قصور ہے۔۔۔کیا قصور ہے تمہارا ابھی پتہ چل جائے گا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!

پہلے تمہاری خدمتیں تو کر لیں۔۔۔بہت مشکل سے ہاتھ لگے ہو۔۔۔اتنی آسانی سے تو نہی جانے دیں گے تمہیں۔۔۔۔حنان نے آواز دی تو دونوں بندے اندر آ گئے۔۔۔جِی باس۔۔۔دونوں ہم آواز ہو کر بولے۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

اس کی اتنی خاطر تواضع کرو کہ آواز مجھے باہر تک آنی چاہیے۔۔۔۔کہتے ہوئے حنان کمرے سے باہر نکل کر فون کان سے لگاتے ہوئے۔۔صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔!!!!!

منال کے فون کی رِنگ ٹون بجی تو جلدی سے فون کی طرف بڑھی۔۔۔حنان کالنگ دیکھا تو اس کے دل کو سکون ہوا۔۔۔جلدی سے کال پک کر لی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

منال کہاں ہو۔۔۔۔منال کے فون اٹھاتے ہی حنان بول پڑا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

مِیں اوپر کمرے میں ہوں۔۔۔۔آپ کہاں ہیں۔۔۔اتنی جلدی میں گھر سے باہر نکل گئے آپ پریشان ہو گئی تھی میں۔۔۔۔۔!!!!!!

پریشان مت ہوا کرو یار یہیں ہوں میں۔۔۔میں نے یہی کہنے کے لیے فون کیا تھا کہ اوپر چلی جاو اور آرام کر لو۔۔۔تھکی ہوئی ہو۔۔۔۔۔!!!!!!!!

میں کچھ دیر تک واپس آ جاوں گا۔۔۔پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے ایک ضروری کام ختم کرنے آیا ہوں۔۔۔دعا کرو کامیابی ملے آج مجھے۔۔۔۔۔۔حنان اپنی بات ختم کرتے ہی فون بند کر دیا۔۔۔۔!!!!!!

کیونکہ اندر سے اس شخص کے چلانے کی آوازیں آنی شروع ہو گئی تھیں۔۔۔۔حنان نہی چاہتا تھا کہ منال تک وہ آواز پہنچے۔۔۔اگر منال سن لیتی تو پریشان ہو جاتی۔۔۔!!!!!

فون بند کر کے حنان وہیں بیٹھ گیا۔۔۔کچھ دیر بعد ایک آدمی واپس آیا حنان کے پاس۔۔۔سر بہت مار مار لی اس کو لیکن یہ ایک بھی لفظ اگلنے کو تیار نہی ہے۔۔۔۔اب کیا کریں اس کا۔۔۔۔!!!!!

مارتے رہو تب تک جب تک یہ منہ نہی کھولتا۔۔۔اس کا منہ کھلوانا بہت ضروری ہے۔۔۔آج رات اس کا منہ کھلوانا بہت ضروری ہے۔۔پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔۔۔۔جلدی اس کا منہ کھلواو اس سے پہلے کہ اس کے محافظ یہاں پہنچ جائیں۔۔۔۔۔!!!!!!

میں اب گھر جا رہا ہوں۔۔۔صبح چکر لگاوں گا۔۔۔مجھے انفارمیشن دیتے رہنا۔۔۔کہ کر حنان وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔!!!!!!

حنان گھر پہنچا تو حیدر ٹی وی لاونج میں بیٹھے اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔!!!!!!

کہاں تھے تم۔۔۔کب سے انتظار کر رہا تھا میں تمہارا۔۔۔اتنی دیر تک کہاں تھے تم۔۔۔۔جواب دو مجھے حیدر حنان کے آتے ہی اٹھ کھڑا ہو۔۔۔اور سوال پے سوال کرتا گیا۔۔۔۔!!!!!!!

حنان ہنسنے لگ پڑا۔۔۔بجائے حیدر کے سوالوں کے جواب دینا کہ۔۔۔حنان کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا۔۔۔ہنسی کنٹرول نہی کر پا رہا تھا وہ اپنی۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!

حنان کو ہنستے دیکھ کر حیدر نے تیوری چڑھائی۔۔۔ہنسنے والی تو کوئی بات نہی کی میں نے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

حنان پھر بھی ہنسی جا رہا تھا۔۔۔۔۔!!!!!

اچھا ٹھیک ہے ہنستے رہو تم میں جا رہا ہوں۔۔۔حیدر وہاں سے جانے لگا تو حنان کی ہنسی کو بریک لگی۔۔۔۔اچھا سوری یار مزاق کر رہا تھا۔۔۔حنان اسے روکتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!

یہ بتاو اتنا ہنس کیوں رہے تھے تم۔۔۔حیدر منہ بناتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!!!

وہ اس لیے کیونکہ تم عورتوں کی طرح سوال پوچھ رہے تھے۔۔۔ایسے سوال تو بیوی کرتی ہے جیسے سوال تم مجھ سے کر رہے تھے گھر میں داخل ہوتے ساتھ ہی۔۔۔اسی لیے مجھے ہنسی آ گئی۔۔۔۔!!!!!

حیدر نے کندھے اچکا دئیے۔۔۔۔لیں جی اب محترم کو ہر کسی میں اپنی بیوی نظر آنے لگ پڑی ہے۔۔۔۔کہ کر حیدر نے قہقہ لگایا۔۔۔۔!!!!

حنان مسکرا دیا۔۔۔اب ایسی بات بھی نہی ہے۔۔۔خیر یہ بتاو۔۔میرا انتظار کیوں کر رہے تھے تم اتنی دیر تک۔۔۔۔حنان مطلب کی بات پر آیا۔۔۔۔۔!!!!!!

وہ اس لیے کہ مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی ہانی کے بارے میں۔۔۔۔۔حیدر نے جواب دیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

ہانِی کے بارے میں کیا بات کرنی ہے تمہیں۔۔۔۔حنان ہانی کے نام پر چونکا۔۔۔۔!!!!!

یہی کہ یہ کب تک یہاں رہے گی یار۔۔۔اب اسے چلی جانا چاہیے یہاں سے۔۔۔آج اس کی وجہ سے میری اور ماہم کی لڑائی ہو گئی۔۔۔یہ دونوں آہستہ آواز میں کوئی بات کر رہی تھیں۔۔۔۔!!!!!!

اور وہ بھی تمہارے بارے میں کوئی خفیہ ڈسکسنگ چل رہی تھی ان دونوں کے درمیان۔۔۔میں نے پوچھا تو صاف مکر گئیں۔۔۔ہانی کہتی تمہیں کیا میں جو مرضی بات کروں۔۔۔تم اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔۔۔!!!!!!!!

اس کے بعد ماہم مجھ سے جھگڑنے لگ پڑی۔۔۔ہانی مہمان ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔مجھے تو یہ سمجھ نہی آ رہی کہ ان دونوں کی دوستی کیسے ہو گئی۔۔۔پہلے کبھی دونوں کو اتنا فرینک نہی دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

اس ہانی کو بولو یار کہ یہاں سے دفعہ ہو جائے ورنہ اچھا نہی ہو گا کسی دن مر جائے گی میرے ہاتھ سے۔۔پہلے تو بس مجھے تنگ کرتی تھی۔۔۔اور اب ہم دونوں بہن بھائی میں لڑائیاں کروا رہی ہے۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

حیدر بول رہا تھا۔۔۔لیکن حنان تو کہیں اور ہی گم ہو چکا تھا۔۔۔۔اس کی سمجھ میں آ گیا تھا کہ ہانی ہی ہے جو ماہم کو ایسے آئیڈیاز دے رہی ہے۔۔۔ہوں۔۔۔تو یہ بات ہے۔۔۔۔۔!!!!!!

تم فکر مت کرو حیدر۔۔۔ہانی بہت جلد یہاں سے چلی جائے گی۔۔۔۔۔اس سے بات کروں گا میں۔۔۔۔تم جا کر آرام کرو۔۔۔میں بھی سونے جا رہا ہوں۔۔۔دونوں اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔!!!!

حنان کمرے میں گیا تو منال سو چکی تھی۔۔۔حنان بھی چینج کرنے کے بعد سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔۔صبح دوبارہ جانا تھا اسے وہاں۔۔۔۔!!!!!!

صبح حنان نماز پڑھنے کے بعد مارننگ واک کے لیے گیا تو حیدر اور احسن بھی مل گئے ان کو۔۔۔۔تینوں مل کر واک کرنے لگ پڑے گارڈن میں ٹریک پر۔۔۔۔حنان اور حیدر کی بہت اچھی دوستی تھی۔۔۔!!!!!!!!!!!

دونوں کے مزاج ملتے جلتے تھے۔۔یہ دونوں ہنسی مزاق کرتے ٹائم پاس کر لیتے تھے۔۔۔جبکہ احسن ہمیشہ سنجیدہ رہتا تھا۔۔۔بس کام سے کام رکھتا یا پھر اپنی سٹڈی میں مصروف رہتا۔۔۔۔۔یہی بات اسے سب سے دور رکھتی تھی۔۔۔۔!!!!

اور کچھ پڑھائی کی وجہ سے فیملی سے بہت سال دور رہنے کی وجہ سے اسے اکیلے رہنے کی عادت سی ہو چکی تھی۔۔۔۔مگر اب وہ آہستہ آہستہ خود کو چینج کر رہا تھا۔۔۔!!!!!!

فیملی کے ساتھ وقت گزارنا اسے اچھا لگنے لگ ہڑا تھا۔۔۔آج وہ زبردستی حیدر کو اپنے ساتھ لے آیا تھا۔۔۔پہلے نماز پڑھنے گئے مسجد اور اس کے بعد ٹریک سوٹ پہن کر واک کے لیے نکل پڑے۔۔۔۔۔!!!!!

حیدر بہت اکتایا اکتایا سا لگ رہا تھا۔۔۔حنان بہت دیر سے نوٹ کر رہا تھا۔۔۔آخر بول پڑا۔۔۔۔تمہیں کیا ہوا۔۔۔صبح صبح کسی سے جھگڑا ہو گیا کیا۔۔۔حنان ٹریک پر دوڑتے دوڑتے بولا۔۔۔۔۔۔!!!!!!

نہی یار۔۔۔احسن بھائی نے صبح صبح اٹھا دیا۔۔۔حیدر رکتے ہوئے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھکتے ہوئے بولا۔۔۔۔دونوں رک گئے تھے۔۔۔۔!!!!!

احسن ان دونوں سے آگے نکل چکا تھا۔۔۔۔احسن نے دونوں کو باتیں کرتے دیکھا تو واپس آ گیا۔۔۔۔ایک ایک ریس ہو جائے۔۔کیا خیال ہے۔۔۔۔احسن کی بات پر حیدر اور حنان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پہلے۔۔۔۔۔!!!!!

اور پھر احسن کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے دوڑ لگا دی۔۔۔احسن جو ابھی ان کے جواب کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ان کو ایسے اچانک بھاگتے دیکھ حیران رہ گیا۔۔۔۔۔جب سمجھ آئی تو مسکراتے ہوئے ان کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

تینوں دوڑتے دوڑتے تھک گئے تو رک گئے۔۔۔اور ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے ہنس پڑے۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

احسن بھائی میں بہت تھک گیا ہوں۔۔۔۔آپ ڈاکٹر ہیں۔۔۔خود فٹ رہیں مجھے کیوں صبح صبح تنگ کیا آپ نے۔۔۔میں جا رہا ہوں سونے۔۔۔حیدر جمائی لیتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!!!

کیسے جاو گے۔۔۔پہلے فریش تو ہو جاو۔۔۔احسن آنکھ دباتے ہوئے بولا۔۔۔اور حیدر کو سوئمنگ پول میں دھکا دے دیا۔۔۔۔حنان جو اس کاروائی پر ہنس رہا تھا۔۔۔احسن نے اسے بھی دھکا دیا۔۔۔۔!!!!!

لیکن یہ کیا۔۔۔۔حنان کے ساتھ احسن بھی سوئمنگ پول میں گر گیا۔۔۔۔حنان نے احسن کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ لیا تھا۔۔۔اس نے گرتے گرتے احسن کو بھی ساتھ کھینچ لیا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!

یہ تو وہی بات ہو گئی۔۔۔۔خود تو ڈوبیں گے۔۔۔صنم تم کو بھی ساتھ لے ڈوبیں گے۔۔۔۔حیدر کی بات پر تینوں مسکراتے ہوئے پانی سے باہر نکل آئے۔۔کچھ دیر رکے اور پھر اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔!!!!!!!

ارے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم تینوں نے صبح صبح۔۔۔دادو کی ان تینوں پر نظر پڑ چکی تھی۔۔۔۔یہ کپڑے کہاں سے گیلے کئے ہیں تم تینوں نے۔۔۔۔ضرور صبح صبح ٹھنڈے تالاب میں ڈبکی لگا کر آئے ہو تم تینوں۔۔۔۔!!!!!

دادو کی بات پر تینوں گھبرا گئے۔۔۔۔وہ دادو میرا پاوں پھسل گیا۔۔۔غلطی سے گر گیا تھا میں۔۔۔حیدر جلدی سے اپنی جان بچاتے ہوئے بول پڑا۔۔۔۔جبکہ حنان اور احسن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔!!!!!!

تمہارا تو پاوں پھسل گیا تھا۔۔۔اور یہ دونوں کیا کرنے گئے تھے تالاب میں۔۔۔۔!!!!!!

دادو تالاب نہی۔۔۔سوئمنگ پول ہوتا ہے۔۔۔حیدر نے خود اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری۔۔۔۔!!!!!!

بس کر تو انگریز کی اولاد۔۔۔اب دادی کو سکھائے گا۔۔آنے دے تیرے باپ کو ابھی بتاتی ہوں۔۔۔۔دادو کی بات پر حیدر کی سٹی گم ہوئی۔۔۔۔نہی دادو میں تو مزاق کر رہا تھا۔۔حیدر گھبراتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔!!!!!!

یہ دونوں تو بچے ہیں اور احسن تم بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔۔۔!!!!!

میں بھی تو بچہ ہوں دادو میرے کون سے بال سفید ہو گئے ہیں۔۔۔ویسے بھی یہ حنان ہم سب سےبڑا ہے اسی کا آئیڈیا تھا صبح صبح نہانے کا۔۔۔۔!!!!!

احسن کی بات پر حنان نے صدمے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔میں کیسے بڑا ہوا آپ دونوں سے احسن بھائی۔۔۔حنان جلدی سے بول پڑا۔۔۔۔۔!!!!!

کیونکہ تمہاری شادی ہو چکی ہے جواب حیدر کی طرف سے آیا۔۔۔۔تو حیدر اور احسن ہنس پڑے۔۔۔دادو بھی مسکرا دیں۔۔۔۔خبردار جو میرے بچے کا مزاق بنایا تو۔۔۔کرتی ہوں تم دونوں کا بھی بیاہ۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!

تمہارِی ماں سے کرتی ہوں بات۔۔۔تم دونوں کو بہت جلدی ہے شادی کی۔۔۔۔دادو کی بات پر حنان ہنس پڑا۔۔۔جی جی دادو۔۔۔میں بھی یہی کہنے لگا تھا۔۔۔۔۔!!!!!

احسن اور حیدر نے وہاں سے دوڑ لگا دی۔۔جبکہ دادو اور حنان دونوں ہنس پڑے۔۔۔اور پھر حنان بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!

منال کمرے سے باہر آ رہی تھی تبھی حنان سامنے سے آتا دکھائی دیا۔۔۔اور اسے بازو سے کھینچتے ہوئے واپس کمرے میں لے گیا۔۔کہاں جا رہی ہو صبح صبح۔۔۔میرے کپڑے کون نکالے گا۔۔۔۔!!!!!!!

جی میں نکال دیتی ہوں۔۔۔۔منال جلدی سے الماری کی طرف بڑھ گئی۔۔۔جبکہ حنان منال کی تابعداری پر مسکراتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا کپڑے اٹھاتے ہوئے۔۔۔منال الماری بند کر کے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔!!!!!

ڈیڈ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔ایک گھنٹے تک آفس پہنچ جاوں گا۔۔۔۔حنان ناشتہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔اور ناشتہ کرنے کے بعد خدا حافظ کہتے ہوئے گھر سے نکل گیا۔۔۔۔۔!!!!!!

رات والی جگہ پر دوبارہ پہنچا اور ان آدمیوں سے پوچھا کہ کچھ بولا ہے کہ نہی۔۔۔ان دونوں نے نا میں سر ہلا دیا۔۔۔۔تو حنان غصے سے اس کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!!

اپنے کوٹ کی جیب میں سے گن نکال کر اس کے سر پر رکھ دی۔۔۔۔۔یہ لاسٹ وارننگ ہے تمہارے لیے۔۔۔تمہیں بہت سمجھا لیا۔۔۔لیکن تم پیار کی زبان سمجھ ہی نہی رہے۔۔۔۔!!!!!

بتاو احد کہاں ہے۔۔۔۔؟؟؟؟؟ حنان نے سوال کیا۔۔۔لیکن وہ کچھ نہی بولا۔۔۔۔میں ایک بار پھر سے پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔احد کہاں ہے۔۔۔۔۔وہ پھر بھی کچھ نہی بولا۔۔۔۔۔!!!!!

اب حنان نے گن لوڈ کر کے اس کے سر پر رکھ دی۔۔۔یہ آخری بار پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔اس کے بعد تم بتانے کے لیے زندہ نہی رہو گے۔۔۔بتاو احد کہاں ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *