Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 33)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

وہاں سے نکلنے کے بعد حنان یونہی سڑکوں پر گاڑی بھگاتا رہا۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا کہاں جائے۔۔کہاں ڈھونڈے منال کو۔۔۔کاش میں آج گھر سے باہر آتا ہی نا۔۔۔منال کہاں ڈھونڈوں میں تمہیں۔۔۔!!!!!!!

کہاں چلی گئی ہو تم منال۔۔۔واپس آ جاو پلیز۔۔۔نہی رہ سکتا میں تمہارے بغیر۔۔۔حنان سٹیرنگ وہیل پر سر ٹکائے منال کو پکار رہا تھا۔۔۔!!!!!

اگر مجھے پتہ ہوتا میری چھوٹی سی غلطی تمہیں مجھ سے اتنا دور کر دے گی تو میں کبھی ماہم کے کمرے میں نہی جاتا۔۔۔بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے منال۔۔۔واپس آ جاو۔۔۔کہاں ہو تم۔۔۔۔۔!!!!!!

کہاں تم۔۔۔۔اتنی ہمت کہاں سے لے آئی تم۔۔منال تم تو بہت ڈرپوک تھی نا۔۔۔اکیلی باہر جانے سے گھبراتی تھی نا۔۔اب کیسے گھر سے نکل گئی میرے بغیر۔۔۔کیسے منال۔۔؟؟؟؟؟؟

اندھیرا ہو چکا ہے۔۔تمہیں تو اندھیروں سے ڈر لگتا تھا نا۔۔تو پھر تم نے کیوں اندھیروں کو چن لیا اپنے لیے۔۔۔کاش تم ایک بار میرے بارے میں سوچ لیتی منال۔۔۔۔کاش۔۔۔تم سوچ لیتی کہ کیسے جیو گا میں تمہارے بغیر۔۔۔۔!!!!!!!

فون کی رنگ ٹون بجی تو حنان سوچوں کے سمندر سے باہر نکلا۔۔۔حیدر کا فون آ رہا تھا۔۔۔حنان نے بے دلی سے فون کان سے لگا لیا۔۔۔!!!!!!

حنان کہاں ہو تم۔۔۔؟؟؟ کچھ پتہ چلا بھابی کا۔۔۔کچھ بول کیوں نہی رہے یار۔۔۔تم ٹھیک تو ہو نا حنان۔۔کچھ بولو تو سہی۔۔۔۔!!!!!!!!!!

ہاں ٹھیک ہوں میں۔۔۔۔زندہ ہوں ابھی۔۔۔حنان کی آواز درد میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔!!!!!!!!

بڈِی تم ہو کہاں مجھے بتاو۔۔۔میں آ رہا ہوں تمہارے پاس۔۔۔حیدر کو سمجھ نہی آ رہا تھا کیسے اپنے جگری دوست کا دکھ کم کرے۔۔۔!!!!!!!!

مجھے نہی پتہ یار میں کہاں ہوں۔۔۔حنان کھوئی کھوئی سی آواز میں بولا۔۔۔!!!!!

حنان سنبھالو خود کو یارر کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔۔ایسے تو تم پاگل ہو جاو گے۔۔۔۔ہم سب مل کر ڈھونڈیں گے نا بھابی کو۔۔۔وہ جلدی مل جائیں گی ہمیں۔۔۔ایسے ہمت تو نا ہارو۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

تم ایڈریس سینڈ کرو مجھے کہاں ہو اس وقت۔۔یا پھر ایسا کرو۔۔۔جہاں ہو وہی رہو۔۔۔بس لوکیشن آن کر دو اپنے فون کی۔۔۔!!!!!!

ٹھیک ہے حنان بس اتنا ہی بول سکا۔۔۔کال ڈسکنیکٹ کر کے فون سیڈ پر رکھ دیا۔۔۔اور پھر سے سر سٹیرنگ وہیل پر رکھ دیا۔۔۔۔وہ تھک چکا تھا گاڑی چلا چلا کر۔۔۔۔رات کے نو بج چکے تھے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!

گھر سے نکلے ہوئے اسے چار گھنٹے ہو چکے تھے۔۔۔پتہ نہی منال کب سے گھر سے نکلی تھی۔۔۔اب تک کہاں ہو گی۔۔۔اگر اس کے گھر والے وہاں سے نا گئے ہوتے تو شاید منال اپنے گھر ہوتی اس وقت۔۔۔!!!!!!!!

اگر منال وہاں ہوتی تو کوئی مسلہ نہی تھا۔۔۔مگر یہی تو مسلہ تھا اب کہ منال وہاں نہی تھی۔۔۔نا جانے وہ کہاں تھی۔۔۔حنان کو یہی ڈر تھا کہ وہ کسی غلط انسان کے ہاتھ نا لگ جائے۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

منال تھی بھی بہت بھولی۔۔۔اسے ڈر تھا کہ کہیں کسی کی باتوں میں نا آ جائے وہ۔۔۔وہ کبھی اکیلی گھر سے باہر بھی نہی گئی تھی۔۔۔اکیلی کیسے مقابلہ کرے گی اس ظالم دنیا کا۔۔۔۔!!!!!!!

کچھ دیر بعد حیدر وہاں آ پہنچا۔۔۔آ کر اس نے گاڑی کا شیشہ ناک کیا۔۔۔حنان دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔تو اسے سہی سلامت دیکھ کر حیدر کی جان میں جان آئی۔۔۔۔!!!!!!!!!

حنان چلو گھر چلتے ہیں۔۔۔حیدر اسے اپنی گاڑی کی طرف کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔لیکن حنان نے ہاتھ چھڑوا لیا۔۔۔نہی مجھے گھر نہی جانا حیدر تم جاو یار۔۔۔مجھے نہی جانا گھر۔۔۔۔۔!!!!!!!!

لیکن کیوں نہی جانا گھر۔۔۔حنان آخر کب تک سڑکوں پر گاڑی بھگاتے رہو گے۔۔۔۔میں ہر جگہ تلاش کر چکا ہوں۔۔۔پارکس میں۔۔۔ہاسپٹلز میں۔۔۔اردگرد کے لوگوں سے پوچھ چکا ہوں۔۔۔مجھے کہی نہی نظر آئیں بھابی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

پولیس سٹیشن بھی گیا تھا میں۔۔۔انہوں نے کہا کہ چوبیس گھنٹوں سے پہلے کچھ نہی کر سکتے وہ لوگ۔۔۔ابھی ہم گھر چلتے ہیں۔۔۔تم آرام کر لو کچھ دیر۔۔۔صبح پولیس سٹیشن چلیں گے۔۔۔۔پولیس کی مدد سے ڈھونڈ لیں گے ہم ان کو۔۔۔۔۔!!!!!!!!

ابھِی تم چلو میرے ساتھ۔۔۔گھر پر سب بہت پریشان ہیں۔۔۔کب سے فون کر رہے ہیں سب تمہیں۔۔۔۔اور میں پچھلے دو گھنٹوں سے تمہارا نمبر ٹرائی کر رہا تھا۔۔لیکن تم کال پک ہی نہی کر رہے تھے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

تم گاڑی میں بیٹھو میں تمہاری گاڑی لوکڈ کر کے آتا ہوں۔۔۔ڈرائیور سے کہ دوں گا آ کر لے جائے گا ابھی۔حنان نا چاہتے ہوئے بھی جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

حیدر حنان کا فون اٹھاتے ہوئے گاڑی اچھی طرح لاک کر کے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے گھر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!!!

حنان ہوا کیا ہے آخر۔۔۔جو بھابی نے اتنا بڑا قدم اٹھا لیا۔۔۔۔کوئی جھگڑا ہوا تھا کیا تم دونوں کے درمیان۔۔۔۔حیدر ڈرائیونگ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

حنان سر سیٹ پر ٹکائے آنکھیں موند گیا۔۔۔۔اور سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔نہی کوئی جھگڑا نہی ہوا ہمارے درمیان۔۔۔سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!

شاید اسے میری محبت پر یقین نہی تھا۔۔۔یا پھر میری محبت خالص نہی تھی۔۔۔میری محبت میں کوئی کھوٹ تھی۔۔۔یا پھر میں اسے وہ محبت نہی دے سکا جس محبت کے وہ قابل تھی۔۔۔۔!!!!!!

ہاں میری محبت میں ہی کچھ کمی تھی۔۔۔میں ہی اس کے قابل نہی تھا۔۔۔میں نے اسے اس کے اپنوں سے دور کیا۔۔اسی لیے خدا نے میرے دل میں اس کے لیے محبت پیدا کر کے اسے مجھ سے دور کر دیا۔۔۔۔!!!!!

تا کہ میں یہ جان سکوں کہ اپنوں سے جدائی کا غم کیا ہوتا ہے۔۔۔کیسا محسوس ہوتا ہے۔۔جب کوئی جان سے پیارا اچانک آپ کی زندگی سے چلا جائے۔۔۔وہ بھی کبھی نا واپس آنے کے لیے۔۔۔۔!!!!!!!

جب اس کے واپس آنے کی کوئی امید باقی نا رہ جائے۔۔۔۔وہ درد۔۔۔وہ درد کیسا ہوتا ہے۔۔۔شاید مجھے میرا خدا وہ درد محسوس کروانا چاہتا ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

نہی حنان۔۔۔ہمیں امید نہی چھوڑنی چاہیے۔۔۔امید پر ہی یہ دنیا قائم ہے۔۔۔بس دعا کرو کہ بھابی جہاں کہی بھی ہو۔۔۔اللہ ان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔۔!!!!!!!

اور اللہ کبھی اپنے بندوں کو دکھ نہی دیتا۔۔۔وہ تو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔۔۔اور ستر ماووں سے زیادہ پیار کرتا ہے اپنے بندوں سے۔۔۔۔!!!!!!!!!

یہ ہمارے گناہ ہی ہوتے ہیں۔۔۔جو ہماری آزمائیشوں کا سبب بنتے ہیں۔۔۔اسی لیے ہمیں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔۔۔تا کہ ہم ہر آزمائش میں پورا اتر سکیں۔۔۔!!!!!!

نا امیدی بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔۔اتنی جلدی مایوس نہی ہونا چاہیے۔۔۔جو ہوتا ہے ہمارے اچھے کے لیے ہی ہوتا ہے۔۔۔اس میں بھی اللہ کی کوئی حکمت ہو گی۔۔۔تم اچھے کی امید رکھو۔۔۔۔!!!!!!!

باقی سب اللہ پر چھوڑ دو۔۔۔اللہ ساری آسانیاں پیدا کر دے گا۔۔۔میری دعا ہے کہ اللہ جلد از جلد تمہیں منال بھابی سے ملا دے۔۔آمین۔۔۔!!!!!!

چلو باہر نکلو گاڑی سے گھر آ گیا ہے۔۔۔حنان اس قدر گم تھا اپنے خیالوں میں کہ اسے پتہ ہی نہی چلا کہ کب گھر آ گیا۔۔۔۔!!!!!!!!!

گاڑی سے باہر نکلا تو۔۔۔مسز ملک جلدی سے اس کے پاس آ کر اسے گلے سے لگا لیا اور اس کا ماتھا چوما۔۔۔حنان کہاں تھے تم۔۔۔پتہ ہے کتنا ڈر گئی تھی میں۔۔۔۔!!!!!!!!

حنان نے ان کے ہاتھ چوم لیے۔۔۔میں بلکل ٹھیک ہوں مام آئیں اندر چلتے ہیں۔۔۔حنان ان کو ساتھ لیے اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!

حیدر گاڑی پارک کر کے ڈرائیور کو حنان کی گاڑی کا ایڈریس سمجھاتے ہوئے۔۔۔اسے گاڑی کی چابیاں تھماتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

ماہم نے حنان کو اندر آتے دیکھ کر فوراً اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔وہ بھی سمجھ نہی پا رہی تھی کہ آخر اچانک منال کہاں چلی گئی۔۔۔کل تک تو سب ٹھیک تھا۔۔۔پھر ایسا کیا ہوا جو منال گھر سے ہی چلی گئی۔۔۔۔!!!!!!!

ماہم کو ڈر تھا کہ کہی وہ تو نہی وجہ منال کے گھر چھوڑنے کے پیچھے۔۔۔۔کہیں ہانی نے منال کو بتا نا دیا ہو سب کچھ میرے بارے میں۔۔۔۔اور اسی لیے منال یہاں سےچلی گئی ہو۔۔۔۔!!!!!!!!!!

اگر ایسا ہوا نا۔۔۔تو حنان مجھے زندہ نہی چھوڑے گا۔۔۔اور اگر سب گھر والوں کو پتہ چل گیا تو۔۔۔پتہ نہی کیا بنے گا میرا۔۔۔۔یا اللہ میری مدد کر۔۔۔اور منال جہاں کہی بھی ہے اسے واپس بھیج دے۔۔آمین۔۔۔!!!!!!!

ماہم دل ہی دل میں منال کی سلامتی کی اور اس کی گھر واپسی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر منال اس کی وجہ سے گھر چھوڑ کر گئی ہوئی۔۔۔تو حنان اسے زندہ نہی چھوڑے گا۔۔۔۔!!!!!!!!!

اسی لیے وہ دعائیں مانگ رہی تھی منال کے لیے۔۔۔ورنہ دشمن کے لیے کون دعائیں مانگتا ہے۔۔بات جب اپنی عزت پر آئے تو۔۔۔دشمن بھی سجن لگنے لگتا ہے۔۔۔!!!!!!!!!!

اب ماہم کو فکر لگی ہوئی تھی کہ ماہم مل جائے جلد از جلد حنان کو۔۔۔کاش یہ بات اسے پہلے ہی سمجھ آ جاتی کہ جو لوگ ایک دوسرے کے لیے بنے ہو۔۔۔اللہ ان کو ملا دیتا ہے۔۔۔۔!!!!!!

اور جو لوگ زبردستی کسی کی زندگی میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔۔۔یا زبردستی کسی کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ان کے حصے میں بس زلت و رسوائی ہی آتی ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!

کاش اگر یہ بات ہم انسان سمجھ جائیں تو بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ جائیں۔۔۔۔جو چیز ہمارے پاس ہوتی ہے۔اس کی ہم قدر نہی کرتے اور لا حاصل کو حاصل کرنے کی کوشش میں زندگی گزار دیتے ہیں۔۔۔۔!!!!!!!!!

جو پاس ہے اس کی قدر کرو۔۔۔ورنہ جو پاس ہے وہ تم سے چھین لیا جائے گا۔۔۔۔اور لا حاصل تو لا حاصل ہی رہے گا۔۔۔وہ کبھی نہی ملے گا تمہیں۔۔۔اسی لیے حاصل کی قدر کرو۔۔۔اے انسانوں۔۔۔اور لا حاصل کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو۔۔۔۔۔

ہانِی جیل میں قید میں بھی بیٹھی مسکرا رہی تھی۔۔کیونکہ وہ خود تو بے سکون ہو چکی تھی۔۔لیکن دو زندگیوں کو بھی بے سکون کر آئی تھی وہ۔۔۔۔

آج صبح جب ہانی کو اپنے پیرنٹس کی گرفتاری کا پتہ چلا تو۔۔۔اسے پتہ چل چکا تھا کہ اب اسےیہاں سے بھاگنا پڑے گا۔۔۔حنان کسی بھی وقت گھر پہنچ سکتا تھا۔۔۔اسے حنان کے آنے سے پہلے گھر سےنکلنا تھا۔۔۔۔۔

اپنا بیگ پیک کرتے ہوئے خیال ہوا کیوں نا جاتے جاتے ایک آخری کام پورا کرتی جاوں۔۔۔جلدی سے بیگ بند کرتے ہوئے اپنا فون اٹھا کر منال کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!!!!!

منال ابھی ابھی آئی تھی کمرے میں۔۔۔ہانی کو کمرے میں آتے دیکھ مسکرا دی۔۔۔۔آو ہانی بیٹھو۔۔۔منال مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!!

لیکن ہانی بیٹھنے کی بجائے منال کے گلے لگ کر رونے کی ایکٹنگ کرنے لگ پڑی۔۔۔۔منال میں جا رہی ہوں یہاں سے ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔اپنا اور حنان کا خیال رکھنا۔۔۔!!!!!!

ہانِی منال سے الگ ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔منال تو گھبرا ہی گئی تھی ہانی کی اس حرکت پر۔۔۔اسے لگا شاید کچھ ہو گیا ہے ہانی کو۔۔۔۔!!!!!!!

دیکھو منال میں تو جا رہی ہوں یہاں سے لیکن تم اپنا اور حنان کا خیال رکھنا۔۔۔اور اس ماہم سے حنان کو بچا کر رکھنا۔۔۔۔!!!!!!!!!

کیا مطلب میں کچھ سمجھی نہی۔۔۔منال نے ہانی کی آخری بات پر چونک کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

ہانِی جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔دروازہ بند کر کے منال کے پاس آئی۔۔۔اور رازدانہ انداز میں بولی۔۔۔دیکھو منال میں تو بس تمہارا بھلا چاہتی ہوں۔۔۔!!!!!؛؛!!!!

میں بتانا نہی چاہتی تھی۔۔۔مگر اب جب میں یہاں سے جا رہی ہوں۔۔۔تو سوچا تمہیں آگاہ کر دوں۔۔۔۔دراصل تمہارے حنان سے نکاح سے پہلے ماہم اور حنان ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!

حنان شادی کرنے والا تھا ماہم سے۔۔۔لیکن پھر اس نے زبردستی تم سے نکاح کر لیا۔۔۔تمہارے بھائی سے بدلہ لینے کے لیے۔۔۔پھر تم حنان کی زندگی میں شامل ہو گئی۔۔۔۔!!!!!!!!!

لیکن جیسے ہی ماہم کو پتہ چلا اس بارے میں تو چلی آئی یہاں۔۔۔وہ تم دونوں کو الگ کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔اور اتنا ہی نہی۔۔۔حنان بھی اس سے اب تک محبت کرتا ہے۔۔۔!!!!!!!

تم نے نوٹ نہی کیا۔۔۔وہ کتنی فکر کرتا ہے اس کی۔۔اسی کے کہنے پر ہی تو وہ یہاں رکی ہے۔۔۔کیسے کہ رہی تھی کہ مجھے گھر واپس جانا ہے۔۔یہاں دل نہی لگ رہا۔۔۔لیکن جیسے ہی حنان اس کے کمرے میں گیا۔۔۔!!!!!!!!!!

وہ یہاں رہنے کے لیے مان گئی تمہیں یاد نہی کیا کل جو ہوا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!

منال کے دماغ میں دھماکا سا ہوا۔۔۔کل جب وہ ماہم کے کمرے میں گئی حنان کو دیکھنے تو جب وہ وہاں گئی تو حنان وہاں نہی تھا اور نا ہی منال۔۔۔۔پھر اس نے دیکھا تو حنان کمرے میں تھا۔۔۔!!!!!!!

اور حنان کا ماہم کے نام پر گھبرانا اور برش گر گیا ہاتھ سے۔۔۔منال کو کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا۔۔۔اس نے سر جھٹکتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔نہی ہانی ایسا کچھ نہی ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

حنان اور ماہم کے درمیان ایسا کچھ نہی ہے۔۔۔تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔منال اسکی باتوں کو جھٹلاتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!

ہانی مسکرا دی منال تم بہت بھولی ہو۔۔۔بہت یقین کرتی ہو حنان پر۔۔۔لیکن وہ ویسا نہی ہے جیسا تمہیں نظر آتا ہے۔۔۔دیکھنا بہت جلد ماہم تمہیں اس کی زندگی سے باہر نکال پھینکے گی۔۔اور تمہاری جگہ لے لی گی۔۔۔۔

ان دونوں کو لگتا ہے کہ تم ان دونوں کے درمیان آ گئی ہو۔۔۔۔حنان سمجھتا ہے کہ اب وہ مجبور بن چکا ہے۔۔۔تمہیں اپنی زندگی سے نکال نہی سکتا وہ۔۔۔کیوں کہ اسے ڈر ہے کہ کہیں تمہارا بھائی بھی اس کی بہن کو گھر سے نا نکال دے۔۔۔۔۔

وہ مجبوری میں یہ رشتہ نبھا رہا ہے۔۔اور کچھ نہی۔۔۔وہ خود کو تمہارے سامنے ایسے ظاہر کر رہا ہے کہ جیسے وہ بہت خوش ہے تمہارے ساتھ۔۔لیکن دراصل وہ سب دکھاوا کر رہا ہے۔۔۔۔

اس کی خوشیاں تو ماہم سے جڑی ہیں۔۔۔مجھے پتہ ہے تم میری بات پر یقین نہی کرو گی۔۔۔میں کوئی بھی بات ایسے ہی نہی کرتی۔۔۔ثبوت ہے میرے پاس۔۔۔اپنا فون دکھاو۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

ہانی نے اس کے فون میں اپنا نمبر سیو کیا اور ایک ویڈیو منال کو واٹس ایپ کی۔۔۔۔میں چلتی ہوں۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔تم یہ ویڈیو دیکھ لینا۔۔۔سارے ثبوت مل جائیں گے تمہیں۔۔۔۔۔

فون منال کو تھماتے ہوئے ہانی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

منال ویڈیو دیکھتے ہی وہیں بیڈ پر گر سی گئی۔۔۔یہ وہی ویڈیو تھی جب حنان ماہم کے کمرے میں گیا تھا۔۔۔اور ماہم حنان کے گلے لگ گئی تھی۔۔۔۔بس ویڈیو یہاں تک ہی تھی۔۔۔جہاں حنان ماہم کے گرد بازو پھیلاتا ہے۔۔۔۔

اس سے آگے کی ویڈیو ریکارڈ نہی تھی شاید۔۔۔یا پھر جان بوجھ کر ایڈیٹ کر دی گئی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *