Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 06)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 06)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
منال حنان کے ساتھ کھینچتی چلی گئی۔۔۔یہ رہی مسز حنان جب آپ لوگوں کو سب پتہ چل ہی گیا ہے تو اب چھپانا کیسا۔۔۔حنان اپنے پیرنٹس کے سامنے منال کو روکتے ہو بولا۔۔۔!!
میرے خدایا۔۔۔حنان یہ تم نے کیا کر دیا کیوں کیا اس بچی کے ساتھ ایسا بھلا اس کا کیا قصور تھا اس سب معاملے میں جو کچھ ہوا اس میں تمہاری بہن بھی برابر کی شریک تھی۔۔بس اس کا بھائی ہی شریک نہی تھا۔۔۔!!
پھر تم نے اسے کس بات کی سزا دی۔۔اسے کالج سے اغوا کر کے لے آئے اور پھر زبردستی نکاح۔۔۔میری تو سمجھ سے باہر ہے یہ سب کیا کر ڈالا ہے تم نے۔۔۔حنان کی ماما صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔!!
سانیہ نے جو کچھ بھی کیا اس کے بھائی کی خاطر کیا ہے موم۔۔۔جس طرح اس نے سانیہ کو ہم سے دور کیا ہے اسی طرح میں نے بھی اس کی بہن کو دور کیا ہے اس سے اور اب مزید کوئی بات نہ کریں میرے ساتھ اس معاملے میں پلیز۔۔۔!!
اب یہ یہی رہے گی اور جب تک زندہ رہے گی میں اسے درد پہنچاتا رہوں گا اسے ہر اس تکلیف سے واقف کرواوں گا جن جن تکلیفوں سے ہم گزریں ہیں۔۔۔حنان کا لہجہ دکھ بھرا تھا۔۔۔!!
یہ تم ٹھیک نہی کر رہے حنان اس لڑکی کو اس کے گھر واپس چھوڑ کر آو۔۔اس کے گھر والوں پر کیا بیت رہی ہو گی۔۔۔اور اس کی حالت تو دیکھو کیا بنا دی ہے تم نے۔۔۔حنان کے پاپا منال کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔۔۔!!
سوری ڈیڈ یہ اب کہی نہہی جائے گی یہی رہے گی۔۔۔میری بیوی ہے یہ اب میری ملکیت ہے میں جو چاہے اس کے ساتھ سلوک کروں آپ میرے معاملات سے دور رہیں تو بہتر ہے۔۔۔!!
حنان اپنے ڈیڈ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔!!
چٹاخ۔۔۔۔ملک صاحب نے ایک زور دار تھپڑ حنان کے چہرے پر لگایا۔۔۔کیا مزاق سمجھ رکھا ہے تم ہر بات میں اپنی مرضی کرتے ہو تم۔۔۔تمہاری ہر ضد مانی ہم نے اس کا یہ صلہ دے رہے ہو تم ہمیں۔۔۔!!
جو کچھ ہونا تھا ہو چکا اس سے بدلے لے کر کیا کر لو گے تم۔۔۔اس معصوم لڑکی نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔۔۔بس کرو اب بہت ہو گیا اس کے گھر کا ایڈریس دو مجھے واپس چھوڑ کر آوں میں اسے۔۔۔!!
ان کی بات پر منال کی آنکھوں میں خوشی کی چمک سی آ گئی۔۔۔ایک امید سی جاگی گھر واپس جانے کی۔۔۔لیکن اگلے ہی پل وہ امید دم توڑ گئی۔۔۔جب حنان بولا۔۔۔!!
اب یہی اس کا گھر کا ہے ڈیڈ یہ یہاں سے کہی نہی جائے گی۔۔۔اور اگر آپ نے اسے یہاں سے بھیجنے کی کوشش بھی کی تو۔۔۔میں بہت برا کرو گا اس کے ساتھ بھی اور اس کے گھر والوں کے ساتھ بھی۔۔۔!!
اور اگر آپ لوگوں کو گوارا نہی میری بیوی کا یہاں رہنا تو میں اسے یہاں سے لے کر چلا جاتا ہوں کہی اور۔۔۔لیکن یہاں سے جانے سے پہلے آپ سے سارے رشتے ختم کر کے جاوں گا میں۔۔۔!!
حنان کی بات سن کر ملک صاحب سکتے میں آ گئے۔۔۔ہر بات کا غلط مطلب نکالتے ہو تم کبھی میری بات نہ ماننا۔۔۔!!ملک صاحب ہار مانتے ہوئے بولے۔۔۔!!
نہی حنان بیٹا ہمیں منال سے کوئی مسلہ نہی ہے جیسے تم خوش رہو تمہاری خوشی میں ہی ہماری خوشی ہے۔۔۔۔ہم تو بس یہ کہ رہے تھے کہ غلط طریقہ استعمال کیا ہے تم نے اس طرح کسی کی بیٹی سے زبردستی نکاح کرنا اچھی بات تو نہی ہے۔۔۔!!
خیر اب جب نکاح ہو ہی گیا ہے تو ہم کیا کہ سکتے ہیں جیسے تمہاری مرضی خوش رہو۔۔۔ریلیکس ہو جاو اب جاو اپنے کمرے میں۔۔۔مسز ملک نے نرم لہجے میں کہا تو حنان منال کو بھی اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا اپنے کمرے کی طرف۔۔۔!!
کمرے میں جاتے ہی منال نے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا حنان کے ہاتھ سے۔۔۔چھوڑیں مجھے ہر وقت آپ مجھے کھینچتے رہتے ہیں میں کوئی بھیڑ بکری ہوں کیا۔۔۔؟؟ آپ مجھے منہ سے بھی کہ سکتے ہیں۔۔۔!!
منال کی بات پر حنان منال کی طرف بڑھا اسے بازو سے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا۔۔۔اور منال کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔تم میری غلام ہو جیسے میرا دل چاہے گا ویسے ہی رکھوں گا میں تمہیں۔۔۔!!
آئیندہ میرے سامنے آواز نکالنے کی کوشش مت کرنا ورنہ زبان کاٹ دوں گا تمہاری۔۔۔میری بات اچھی طرح یاد رکھنا۔۔۔جاو اب اپنے کمرے میں۔۔۔اور بھاگنے کی کوشش بھی مت کرنا کیوں کہ تمہاری کوشش بے کار ہے۔۔۔!!
اب تم یہاں سے کہی نہی جا سکتی۔۔۔کہتے ساتھ ہی اس نے منال کو چھوڑ دیا۔۔۔!!
آپ نے یہ ٹھیک نہی کیا۔۔۔منال اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی۔۔۔اپنے پیرنٹس سے کوئی ایسے بات کرتا ہے۔۔۔جیسے آپ کر رہے تھے۔۔۔!!
حنان غصے سے منال کی طرف بڑھا۔۔۔خبردار جو آئیندہ میرے کسی معاملے میں دخل اندازی کی تو جان نکال دوں گا میں تمہاری۔۔۔جاو یہاں سے۔۔۔حنان چلایا تو منال بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔۔۔!!
منال کمرے میں گئی تو شبانہ وہاں پہلے سے موجود تھی کھانے کی ٹرے اٹھائے۔۔۔!!
مجھے ایک کام ہے آپ سے کھانا میں بعد میں کھا لوں گی۔۔۔مجھے اس کمرے کی صفائی کرنی ہے۔۔اور جائے نماز بھی چاہیے۔۔۔اور ایک جوڑا بھی منال تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔۔!!
جی۔۔۔شبانہ کو لگا اس نے غلط سنا ہے تو تصدیق کے لیے بول پڑی۔۔جوڑا کس لیے۔۔!!
وہ میں نے نماز پڑھنی ہے نہ اسی لیے۔۔۔میرے کپڑے گندے ہو چکے ہیں میں اپنے کپڑے دھو کر جب خشک ہو جائیں گے تو واپس کر دوں گی آپ کو جوڑا۔۔۔!!
شبانہ کو بہت ترس آیا منال پر اس گھر کی بہو ہوتے ہوئے وہ ملازمہ سے جوڑا مانگ رہی تھی۔۔۔نہی نہی اگر کسی نے دیکھ لیا آپ کو میرے جوڑے میں تو میری شامت آ جائے گی منال بیٹا۔۔۔میں صاحب جی سے کہ دیتی ہوں کہ آپ کو کپڑے دلا دیں۔۔۔!!
نہی نہی مجھے ان کی کوئی چیز نہی چاہیے۔۔۔میں نے آپ سے کہا ہے اگر لا سکتی ہیں تو ٹھیک ہے نہی تو کوئی بات نہی۔۔منال نے جواب دیا۔۔۔!!
نہی نہی میں لا دیتی ہوں۔۔۔میں زرا یہ کھانا واپس رکھ آوں پھر لاتی ہوں۔۔۔کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔!!
کچھ دیر بعد واپس آئی ہاتھ میں ایک نیا جوڑا جو کہ ہینگ کیا ہوا تھا اٹھاتے ہوئے۔۔۔یہ میری بیٹی کا ہے ۔۔اب اس کی شادی ہو گئی ہے۔۔یہ جوڑا میڈم جی نے دیا تھا اسے لیکن اسے لے کر جانا یاد نہی رہا۔۔۔!!
یہ بلکل نیا ہے اسی لیے میں یہ لے آئی۔۔۔نہی آپا میں یہ جوڑا نہی لے سکتی یہ تو آپ کی بیٹی کا ہے۔۔۔منال نے جوڑا لینے سے انکار کر دیا۔۔۔آپ مجھے اپنا کوئی پرانا سا جوڑا لا دیں۔۔۔!!
نہی یہی پہننا پڑے گا آپ کو نہی تو میں اور نہی لا کر دوں گی۔۔۔شبانہ بھی ضد پر اٹک گئی تھی۔۔۔مجبوراً منال کو وہ جوڑا تھامنا پڑا۔۔۔ٹھیک ہے اب آپ جائیں اور مجھے صفائی کا سامان لا دیں۔۔۔!!
کچھ دیر بعد شبانہ صفائی کا سامان لے آئی۔۔۔اور دونوں نے مل کر کمرے کی صفائی کی۔۔۔اس کے بعد منال نہانے چلی گئی۔۔۔۔واپس آئی تو شبانہ نے اسے جائے نماز لا کر دی اور منال نماز ادا کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔!!
نماز پڑھ کر ابھی دعا ہی مانگ رہی تھی کہ شبانہ دوبارہ کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں آئی۔۔۔منال دعا مانگ کر اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔اور جائے نماز اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دی۔۔۔!!
بہت پیاری لگ رہی ہو ماشااللہ۔۔شبانہ اس کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکی۔۔۔ان کی بات پر منال مخض ہلکا سا مسکرا دی۔۔۔!!
آئیں آپ بھی میرے ساتھ کھانا کھائیں۔۔۔منال نے شبانہ سے کہا تو وہ بولی نہ نہ میں نے تو شام کو ہی کھا لیا تھا کھانا۔۔۔تم کھاو بیٹا۔۔۔اور ڈوپٹے کے نیچے سے کریم نکالتے ہوئے منال کے پاوں پر لگانی شروع کر دی۔۔۔!!
منال نے جلدی سے پاوں پیچھے کیے۔۔۔آپا یہ کیا کر رہی ہیں آپ مجھ سے بڑی ہیں میرے پاوں کو کیسے ہاتھ لگا سکتی ہیں۔۔۔!!
نہی بیٹا کچھ نہی ہوتا تمہارے پاوں پر چھالے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔کوئی بات نہی۔۔۔وہ زبردستی منال کے پاوں پر کریم لگاتی گئی۔۔۔!!
منال کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگ پڑے۔۔۔اسے اپنی ماما یاد آ گئیں۔۔۔!!
نہی بیٹا رونا مت بس صبر کرو۔۔۔اللہ صبر کرنے والوں کو صبر کا پھل عطا کرتا ہے۔۔۔تم پریشان مت ہوا کرو اب جو ہونا تھا ہو گیا۔۔۔اللہ کی مرضی سمجھ کر اس فیصلے کو قبول کر لو اب۔۔۔!!
حنان بیٹا دل کا برا نہی ہے۔۔۔بس غصے کا زرا تیز ہے وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔دیکھنا تم۔۔۔!!
ہممم منال آہستہ سے سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔اچھا تم کھانا کھاو میں آتی ہوں۔۔۔شبانہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔کچھ دیر بعد واپس آ گئی۔۔اور برتن اٹھاتے ہوئے واپس چلی گئی۔۔۔!!
منال وہی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی۔۔۔نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔یونہی سوچوں میں گم وہ وہی بیٹھی رہی۔۔۔!!
حنان کمرے میں سو رہا تھا۔۔۔مسز ملک کمرے میں داخل ہوئیں تو حنان کی آنکھ کھل گئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔اب کیا ہوا مام آپ اس وقت یہاں۔۔۔؟؟
کیوں میں تمہارے کمرے میں نہی آ سکتی۔۔۔وہ تھوڑا سا ناراض ہوتے ہوئے بولیں۔۔۔!!
کم آن مام میرا وہ مطلب نہی تھا۔۔۔حنان ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے بولا۔۔۔آپ کو میری وجہ سے شادی چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔۔۔سوری مام۔۔۔!!
اور یہ سب کچھ اس اسد کی وجہ سے ہوا ہے۔۔ہر وقت میری جاسوسی میں لگا رہتا ہے اور میرے بارے میں سب کچھ بتاتا رہتا ہے۔۔۔اب زرا میرے سامنے آ جائے۔۔۔شوٹ کر دینا ہے میں نے اسے۔۔۔!!
اس نے کچھ غلط بھی تو نہی بتایا نہ۔۔۔تم شکایت کا موقع نہ دیا کرو اسے۔۔۔پتہ بھی ہے کہ وہ سب کچھ بتاتا ہے تمہارے ڈیڈ کو پھر بھی تم باز نہی آتے اپنی حرکتوں سے۔۔۔!!
اور بڑی جلدی سوری یاد آ گئی جناب کو۔۔۔یہ سوری اگر تم ڈیڈ سے بھی کر لو تو اچھا لگے گا مجھے۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے حنان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔!!
نو۔۔۔ان کو تو میرا ہر کام ہی برا لگتا ہے۔۔۔مجھے کوئی ضرورت نہی ان سے سوری بولنے کی آپ سمجھائیں ان کو۔۔۔!!
حنان۔۔۔۔میں سمجھاوں ان کو۔۔۔؟؟ حد ہے ویسے سہی کہتے ہیں وہ میرے لاڈ پیار نے ہی بگاڑ رکھا ہے تمہیں۔۔۔۔بس کرو اب یہ سب کچھ اور کل جا کر سوری کہو اپنے ڈیڈ سے۔۔۔وہ بہت ہرٹ ہیں تمہاری باتوں سے۔۔۔!!
منال کہاں ہے۔۔۔نظر نہی آ رہی کچھ دیر بعد یاد آنے پر وہ بولیں۔۔۔!!
وہ یہاں کیوں ہو گی مام۔۔۔سٹور روم میں بند ہے وہ حنان لا پرواہی سے بولا۔۔۔!!
واٹ۔۔۔۔؟؟؟ وہ چلائی۔۔۔وہ وہاں کیوں بند ہے اسے تو یہاں ہونا چاہیے تمہارے کمرے میں۔۔۔!!
وائے مام۔۔۔؟؟ اس کا میرے کمرے میں کیا کام۔۔۔؟؟ وہی ٹھیک ہے وہ۔۔۔،حنان لا پرواہی سے بولا۔۔۔!!
کیا مطلب ہے تمہارا حنان۔۔۔کبھی تم سب کے سامنے دعوٰی کرتے ہو کہ وہ بیوی ہے تمہاری اور کبھی کہتے ہو کہ اس کا کیا کام تمہارے کمرے میں۔۔۔سمجھ سے باہر ہو تم میری۔۔۔!!
وہ تمہاری بیوی ہے۔۔۔اس کمرے میں رہنا اس کا حق ہے۔۔۔تم اسے محروم کر رہے ہو اسے اس کے حق سے۔۔لا وارثوں کی طرح اسے اس کمرے میں پھینکا ہوا ہے۔۔۔!!
اب تمہاری زمہ داری ہے وہ تمہارا فرض ہے کہ اس کی ضرورتوں کا خیال رکھو۔۔۔یہ نہی کہ بس نکاح کر لیا تو بیوی بن گئی۔۔۔اور گھر لے آئے بس۔۔۔مجھے تم سے اس حرکت کی امید نہی تھی۔۔۔!!
مام تو کیا کروں۔۔۔اسے اپنے سر پر بٹھا کر رکھوں۔۔۔میں نے یہ نکاح اپنی خوشی سے نہی کیا۔۔صرف فہیم سے بدلہ لینے کے لیے کیا۔۔۔جیسے اس نے ہمارے گھر کی عزت خراب کی۔۔۔ویسا ہی میں نے اس کے ساتھ کیا۔۔۔!!
وہ جو کچھ بھی ہوا تھا۔۔۔سانیہ برابر کی شریک تھی۔۔تالی ایک ہاتھ سے نہی بجتی حنان۔۔۔سانیہ اپنی مرضی سے گئی تھی فہیم کے ساتھ۔۔۔اس میں اس بیچاری کی کیا غلطی تھی۔۔۔!!
اس کا بس یہی قصور ہے کہ وہ فہیم کی بہن ہے۔۔۔یہ تو کوئی جواز نہی ہوا بدلہ لینے کا تم جاو ابھی کہ ابھی اور منال کو لے کر آو یہاں۔۔۔!!
نہی مام میں نہی جانے والا۔۔۔میں جب بھی اس کو دیکھتا ہوں مجھے فہیم کا چہرہ نظر آتا ہے اس کے چہرے میں۔۔۔اور مجھے غصہ آ جاتا ہے۔۔۔!!
تو ٹھیک ہے مت جاو۔۔۔میں لے آتی ہوں اسے یہاں اگر تم نہی جا سکتے اسے لینے۔۔۔۔وہ اب یہی رہے گی۔۔۔ضروری نہی کہ ہر بات مانی جائے تمہاری۔۔۔کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔!!
سانیہ اور فہیم ادھر شفٹ ہو گئے اگلے ہی دن۔۔۔فہیم خوش تھا اپنے گھر واپس آنے پر لیکن اسے رہ رہ کر منال کی یاد آتی تھی تو اسے اپنے گھر آنے کی خوشی بھول جاتی تھی۔۔۔!!
محلے والے طرح طرح کی باتیں کرنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔کوئی کہتا منال بھاگ گئی۔۔۔کوئی کہتا ایک لڑکے کے ساتھ آئی تھی گاڑی میں کالج گئی تھی۔۔۔پہلے ہی دن وہاں سے بھاگ نکلی۔۔۔!!
لگتا ہے پہلے سے ہی چکر تھا اس کا کسی کے ساتھ تب ہی تو موقع دیکھتے ہی بھاگ نکلی اور رات کو ایک لڑکے کے ساتھ آئی تھی واپس لگتا ہے شادی کر لی اس نے۔۔۔!!
آج جب منال کے ابو دکان سے واپس آئے تو دو تین عورتیں سر جوڑے ان کو دیکھتے ہوئے باتیں کرنے لگ پڑیں۔۔وہ کچھ نہی بولے سر جھکاتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔۔۔!!
لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے ان کی بیٹی کے بارے میں۔۔۔ان کو بہت تکلیف ہوئی یہ باتیں سن کر ان کی بیٹی گناہگار نہ ہوتے ہوئے بھی مجرم بن چکی تھی۔۔۔!!
منال دروازے کھلنے کی آواز کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اسے لگا حنان آ گیا پھر سے۔۔۔!!
لیکن سامنے حنان نہی اس کی ماما کو دیکھ کر منال نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔وہ منال کی طرف بڑھیں۔۔۔چلو بیٹا میرے ساتھ۔۔۔وہ بولیں تو منال سر ہلاتے ہوئے ان کے ساتھ چل پڑی۔۔۔!!
وہ منال کو ساتھ لیے۔۔۔حنان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔تب ہی ان کی نظر منال کے کپڑوں پر پڑی۔۔یہ تو میں نے شبانہ کی بیٹی کو دیا تھا سوٹ۔۔۔دل ہی دل میں سوچا لیکن بولی کچھ نہی۔۔۔ان کو ساری بات سمجھ جو آ چکی تھی۔۔۔!!
منال کو اندر جانے کا اشارہ کیا انہوں نے تو منال نے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔!!
انہوں نے منال کا گال تھپتپایا۔۔۔منال جاو اندر اب تم یہی رہو گی۔۔۔حنان کو سمجھا دیا ہے میں نے کچھ نہی کہے گا وہ تمہیں۔۔۔جاو اندر۔۔۔!!
نہی آنٹی۔۔۔وہ ناراض ہو جائیں گے۔۔۔غصہ ہو گے مجھ پر انہوں نے مجھے منع کیا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر میں کمرے سے باہر نہ آوں۔۔۔!!
لیکن میں آپ کے ساتھ آ گئی اگر ان کو پتہ چل گیا تو بہت ڈانٹیں گے وہ مجھے منال ڈرتے ڈرتے بولی۔۔۔!!
آو میرے ساتھ۔۔۔وہ منال کو ساتھ لے کر کمرے میں آ گئی۔۔۔حنان کی نظر منال پر پڑی تو پلٹنا بھول گئی۔۔منال مہرون جوڑے میں نکھری نکھری سی اسے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی۔۔۔!!
حنان یہ رہی منال اب یہ یہی رہے گی۔۔۔دوبارہ ایسی حرکت نہ ہو۔۔۔کہتے ہوئے وہ دروازہ بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔منال بت بنی وہی کھڑی رہی سر جھکائے۔۔۔!!
اس میں ہمت ہی نہی تھی آگے بڑھنے کی وہ ڈر رہی تھی کہ پتہ نہی اب کیا سلوک کرے گا اب اس کے ساتھ۔۔۔!!
حنان بیڈ سے اتر کر اس کے پاس آیا۔۔۔اور بازو سے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔منال کھینچتی ہوئی حنان کے سینے سے جا ٹکرائی۔۔۔!!
مام تمہیں یہاں لے آئیں ہیں اس کا یہ مطلب نہی کہ تم میرے سر پر سوار ہو جاو۔۔۔اپنی اوقات مت بھولنا تم صرف میری بیوی ہو۔۔۔بیوی کا مقام نہی ملے گا تمہیں کبھی۔۔۔!!
یہ اتنا سجھ سنور کے کیوں پھر رہی ہو۔۔۔ اور یہ کپڑے کہاں سے آئے تمہارے پاس۔۔۔حنان کی بات پر منال نے سر اٹھا کر حنان کی طرف دیکھا۔۔۔وہ وہ۔۔۔میں نے یہ شبانہ سے لیے ہیں۔۔۔!!
ممجھے نماز پڑھنی تھی تو اسی لیے۔۔۔منال کی بات پر حنان کی آنکھیں غصے سے لال ہو گئی۔۔۔منال اس کی آنکھوں کو دیکھ کر ڈر گئی۔۔۔ممجھ سے غلطی ہو گئی۔۔۔میں صبح واپس کر دوں گی۔۔۔!!
منال تمہیں کپڑے چاہیے۔۔۔تم مجھے بھی تو کہ سکتی تھی۔۔۔حنان غصے سے بولا۔۔۔اور منال کو چھوڑ دیا۔۔۔!!
اب کیا کہتی منال اس سے یہ خیال تو حنان کا خود رکھنا چاہیے تھا۔۔۔الٹا اسی پر چلا رہا تھا۔۔۔!!
آئندہ جو چیز چاہیے ہو مجھ سے کہنا۔۔۔کہتے ہوئے حنان بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔۔۔!!
منال وہی کھڑی رہی۔۔۔!!
حنان کو اور غصہ آ گیا۔۔۔اب وہاں کیوں کھڑی ہو۔۔لائٹ بند کر کے لیٹو آ کر صبح مجھے آفس جانا ہے۔۔۔!!
میں صوفے پر سو جاتی ہوں۔۔۔منال ڈرتے ڈرتے بولی۔۔۔!!
جہاں بھی سونا ہے سو جاو۔۔۔لیکن یہ لائٹ بند کر دو پلیز۔۔۔۔حنان غصے سے بولا تو منال تیزی سے لائٹ بند کر کے صوفے پر لیٹ گئی۔۔۔!!
باقی اگلی قسط میں امید ہے آپ کو پسند آئے گی یہ ایپیسوڈ۔۔۔دیر سے پوسٹ کرنے کے لیے معزرت۔۔۔میری آئی۔ڈی میں کچھ مسلہ ہوا ہے۔۔لاگ ان نہی ہو رہی تھی۔۔۔!!
دل سنبھل جا زرا
قسط نمبر 6
از
خانزادی
منال حنان کے ساتھ کھینچتی چلی گئی۔۔۔یہ رہی مسز حنان جب آپ لوگوں کو سب پتہ چل ہی گیا ہے تو اب چھپانا کیسا۔۔۔حنان اپنے پیرنٹس کے سامنے منال کو روکتے ہو بولا۔۔۔!!
میرے خدایا۔۔۔حنان یہ تم نے کیا کر دیا کیوں کیا اس بچی کے ساتھ ایسا بھلا اس کا کیا قصور تھا اس سب معاملے میں جو کچھ ہوا اس میں تمہاری بہن بھی برابر کی شریک تھی۔۔بس اس کا بھائی ہی شریک نہی تھا۔۔۔!!
پھر تم نے اسے کس بات کی سزا دی۔۔اسے کالج سے اغوا کر کے لے آئے اور پھر زبردستی نکاح۔۔۔میری تو سمجھ سے باہر ہے یہ سب کیا کر ڈالا ہے تم نے۔۔۔حنان کی ماما صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔!!
سانیہ نے جو کچھ بھی کیا اس کے بھائی کی خاطر کیا ہے موم۔۔۔جس طرح اس نے سانیہ کو ہم سے دور کیا ہے اسی طرح میں نے بھی اس کی بہن کو دور کیا ہے اس سے اور اب مزید کوئی بات نہ کریں میرے ساتھ اس معاملے میں پلیز۔۔۔!!
اب یہ یہی رہے گی اور جب تک زندہ رہے گی میں اسے درد پہنچاتا رہوں گا اسے ہر اس تکلیف سے واقف کرواوں گا جن جن تکلیفوں سے ہم گزریں ہیں۔۔۔حنان کا لہجہ دکھ بھرا تھا۔۔۔!!
یہ تم ٹھیک نہی کر رہے حنان اس لڑکی کو اس کے گھر واپس چھوڑ کر آو۔۔اس کے گھر والوں پر کیا بیت رہی ہو گی۔۔۔اور اس کی حالت تو دیکھو کیا بنا دی ہے تم نے۔۔۔حنان کے پاپا منال کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔۔۔!!
سوری ڈیڈ یہ اب کہی نہہی جائے گی یہی رہے گی۔۔۔میری بیوی ہے یہ اب میری ملکیت ہے میں جو چاہے اس کے ساتھ سلوک کروں آپ میرے معاملات سے دور رہیں تو بہتر ہے۔۔۔!!
حنان اپنے ڈیڈ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔!!
چٹاخ۔۔۔۔ملک صاحب نے ایک زور دار تھپڑ حنان کے چہرے پر لگایا۔۔۔کیا مزاق سمجھ رکھا ہے تم ہر بات میں اپنی مرضی کرتے ہو تم۔۔۔تمہاری ہر ضد مانی ہم نے اس کا یہ صلہ دے رہے ہو تم ہمیں۔۔۔!!
جو کچھ ہونا تھا ہو چکا اس سے بدلے لے کر کیا کر لو گے تم۔۔۔اس معصوم لڑکی نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔۔۔بس کرو اب بہت ہو گیا اس کے گھر کا ایڈریس دو مجھے واپس چھوڑ کر آوں میں اسے۔۔۔!!
ان کی بات پر منال کی آنکھوں میں خوشی کی چمک سی آ گئی۔۔۔ایک امید سی جاگی گھر واپس جانے کی۔۔۔لیکن اگلے ہی پل وہ امید دم توڑ گئی۔۔۔جب حنان بولا۔۔۔!!
اب یہی اس کا گھر کا ہے ڈیڈ یہ یہاں سے کہی نہی جائے گی۔۔۔اور اگر آپ نے اسے یہاں سے بھیجنے کی کوشش بھی کی تو۔۔۔میں بہت برا کرو گا اس کے ساتھ بھی اور اس کے گھر والوں کے ساتھ بھی۔۔۔!!
اور اگر آپ لوگوں کو گوارا نہی میری بیوی کا یہاں رہنا تو میں اسے یہاں سے لے کر چلا جاتا ہوں کہی اور۔۔۔لیکن یہاں سے جانے سے پہلے آپ سے سارے رشتے ختم کر کے جاوں گا میں۔۔۔!!
حنان کی بات سن کر ملک صاحب سکتے میں آ گئے۔۔۔ہر بات کا غلط مطلب نکالتے ہو تم کبھی میری بات نہ ماننا۔۔۔!!ملک صاحب ہار مانتے ہوئے بولے۔۔۔!!
نہی حنان بیٹا ہمیں منال سے کوئی مسلہ نہی ہے جیسے تم خوش رہو تمہاری خوشی میں ہی ہماری خوشی ہے۔۔۔۔ہم تو بس یہ کہ رہے تھے کہ غلط طریقہ استعمال کیا ہے تم نے اس طرح کسی کی بیٹی سے زبردستی نکاح کرنا اچھی بات تو نہی ہے۔۔۔!!
خیر اب جب نکاح ہو ہی گیا ہے تو ہم کیا کہ سکتے ہیں جیسے تمہاری مرضی خوش رہو۔۔۔ریلیکس ہو جاو اب جاو اپنے کمرے میں۔۔۔مسز ملک نے نرم لہجے میں کہا تو حنان منال کو بھی اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا اپنے کمرے کی طرف۔۔۔!!
کمرے میں جاتے ہی منال نے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا حنان کے ہاتھ سے۔۔۔چھوڑیں مجھے ہر وقت آپ مجھے کھینچتے رہتے ہیں میں کوئی بھیڑ بکری ہوں کیا۔۔۔؟؟ آپ مجھے منہ سے بھی کہ سکتے ہیں۔۔۔!!
منال کی بات پر حنان منال کی طرف بڑھا اسے بازو سے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا۔۔۔اور منال کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔تم میری غلام ہو جیسے میرا دل چاہے گا ویسے ہی رکھوں گا میں تمہیں۔۔۔!!
آئیندہ میرے سامنے آواز نکالنے کی کوشش مت کرنا ورنہ زبان کاٹ دوں گا تمہاری۔۔۔میری بات اچھی طرح یاد رکھنا۔۔۔جاو اب اپنے کمرے میں۔۔۔اور بھاگنے کی کوشش بھی مت کرنا کیوں کہ تمہاری کوشش بے کار ہے۔۔۔!!
اب تم یہاں سے کہی نہی جا سکتی۔۔۔کہتے ساتھ ہی اس نے منال کو چھوڑ دیا۔۔۔!!
آپ نے یہ ٹھیک نہی کیا۔۔۔منال اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی۔۔۔اپنے پیرنٹس سے کوئی ایسے بات کرتا ہے۔۔۔جیسے آپ کر رہے تھے۔۔۔!!
حنان غصے سے منال کی طرف بڑھا۔۔۔خبردار جو آئیندہ میرے کسی معاملے میں دخل اندازی کی تو جان نکال دوں گا میں تمہاری۔۔۔جاو یہاں سے۔۔۔حنان چلایا تو منال بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔۔۔!!
منال کمرے میں گئی تو شبانہ وہاں پہلے سے موجود تھی کھانے کی ٹرے اٹھائے۔۔۔!!
مجھے ایک کام ہے آپ سے کھانا میں بعد میں کھا لوں گی۔۔۔مجھے اس کمرے کی صفائی کرنی ہے۔۔اور جائے نماز بھی چاہیے۔۔۔اور ایک جوڑا بھی منال تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔۔!!
جی۔۔۔شبانہ کو لگا اس نے غلط سنا ہے تو تصدیق کے لیے بول پڑی۔۔جوڑا کس لیے۔۔!!
وہ میں نے نماز پڑھنی ہے نہ اسی لیے۔۔۔میرے کپڑے گندے ہو چکے ہیں میں اپنے کپڑے دھو کر جب خشک ہو جائیں گے تو واپس کر دوں گی آپ کو جوڑا۔۔۔!!
شبانہ کو بہت ترس آیا منال پر اس گھر کی بہو ہوتے ہوئے وہ ملازمہ سے جوڑا مانگ رہی تھی۔۔۔نہی نہی اگر کسی نے دیکھ لیا آپ کو میرے جوڑے میں تو میری شامت آ جائے گی منال بیٹا۔۔۔میں صاحب جی سے کہ دیتی ہوں کہ آپ کو کپڑے دلا دیں۔۔۔!!
نہی نہی مجھے ان کی کوئی چیز نہی چاہیے۔۔۔میں نے آپ سے کہا ہے اگر لا سکتی ہیں تو ٹھیک ہے نہی تو کوئی بات نہی۔۔منال نے جواب دیا۔۔۔!!
نہی نہی میں لا دیتی ہوں۔۔۔میں زرا یہ کھانا واپس رکھ آوں پھر لاتی ہوں۔۔۔کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔!!
کچھ دیر بعد واپس آئی ہاتھ میں ایک نیا جوڑا جو کہ ہینگ کیا ہوا تھا اٹھاتے ہوئے۔۔۔یہ میری بیٹی کا ہے ۔۔اب اس کی شادی ہو گئی ہے۔۔یہ جوڑا میڈم جی نے دیا تھا اسے لیکن اسے لے کر جانا یاد نہی رہا۔۔۔!!
یہ بلکل نیا ہے اسی لیے میں یہ لے آئی۔۔۔نہی آپا میں یہ جوڑا نہی لے سکتی یہ تو آپ کی بیٹی کا ہے۔۔۔منال نے جوڑا لینے سے انکار کر دیا۔۔۔آپ مجھے اپنا کوئی پرانا سا جوڑا لا دیں۔۔۔!!
نہی یہی پہننا پڑے گا آپ کو نہی تو میں اور نہی لا کر دوں گی۔۔۔شبانہ بھی ضد پر اٹک گئی تھی۔۔۔مجبوراً منال کو وہ جوڑا تھامنا پڑا۔۔۔ٹھیک ہے اب آپ جائیں اور مجھے صفائی کا سامان لا دیں۔۔۔!!
کچھ دیر بعد شبانہ صفائی کا سامان لے آئی۔۔۔اور دونوں نے مل کر کمرے کی صفائی کی۔۔۔اس کے بعد منال نہانے چلی گئی۔۔۔۔واپس آئی تو شبانہ نے اسے جائے نماز لا کر دی اور منال نماز ادا کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔!!
نماز پڑھ کر ابھی دعا ہی مانگ رہی تھی کہ شبانہ دوبارہ کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں آئی۔۔۔منال دعا مانگ کر اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔اور جائے نماز اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دی۔۔۔!!
بہت پیاری لگ رہی ہو ماشااللہ۔۔شبانہ اس کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکی۔۔۔ان کی بات پر منال مخض ہلکا سا مسکرا دی۔۔۔!!
آئیں آپ بھی میرے ساتھ کھانا کھائیں۔۔۔منال نے شبانہ سے کہا تو وہ بولی نہ نہ میں نے تو شام کو ہی کھا لیا تھا کھانا۔۔۔تم کھاو بیٹا۔۔۔اور ڈوپٹے کے نیچے سے کریم نکالتے ہوئے منال کے پاوں پر لگانی شروع کر دی۔۔۔!!
منال نے جلدی سے پاوں پیچھے کیے۔۔۔آپا یہ کیا کر رہی ہیں آپ مجھ سے بڑی ہیں میرے پاوں کو کیسے ہاتھ لگا سکتی ہیں۔۔۔!!
نہی بیٹا کچھ نہی ہوتا تمہارے پاوں پر چھالے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔کوئی بات نہی۔۔۔وہ زبردستی منال کے پاوں پر کریم لگاتی گئی۔۔۔!!
منال کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگ پڑے۔۔۔اسے اپنی ماما یاد آ گئیں۔۔۔!!
نہی بیٹا رونا مت بس صبر کرو۔۔۔اللہ صبر کرنے والوں کو صبر کا پھل عطا کرتا ہے۔۔۔تم پریشان مت ہوا کرو اب جو ہونا تھا ہو گیا۔۔۔اللہ کی مرضی سمجھ کر اس فیصلے کو قبول کر لو اب۔۔۔!!
حنان بیٹا دل کا برا نہی ہے۔۔۔بس غصے کا زرا تیز ہے وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔دیکھنا تم۔۔۔!!
ہممم منال آہستہ سے سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔اچھا تم کھانا کھاو میں آتی ہوں۔۔۔شبانہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔کچھ دیر بعد واپس آ گئی۔۔اور برتن اٹھاتے ہوئے واپس چلی گئی۔۔۔!!
منال وہی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی۔۔۔نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔یونہی سوچوں میں گم وہ وہی بیٹھی رہی۔۔۔!!
حنان کمرے میں سو رہا تھا۔۔۔مسز ملک کمرے میں داخل ہوئیں تو حنان کی آنکھ کھل گئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔اب کیا ہوا مام آپ اس وقت یہاں۔۔۔؟؟
کیوں میں تمہارے کمرے میں نہی آ سکتی۔۔۔وہ تھوڑا سا ناراض ہوتے ہوئے بولیں۔۔۔!!
کم آن مام میرا وہ مطلب نہی تھا۔۔۔حنان ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے بولا۔۔۔آپ کو میری وجہ سے شادی چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔۔۔سوری مام۔۔۔!!
اور یہ سب کچھ اس اسد کی وجہ سے ہوا ہے۔۔ہر وقت میری جاسوسی میں لگا رہتا ہے اور میرے بارے میں سب کچھ بتاتا رہتا ہے۔۔۔اب زرا میرے سامنے آ جائے۔۔۔شوٹ کر دینا ہے میں نے اسے۔۔۔!!
اس نے کچھ غلط بھی تو نہی بتایا نہ۔۔۔تم شکایت کا موقع نہ دیا کرو اسے۔۔۔پتہ بھی ہے کہ وہ سب کچھ بتاتا ہے تمہارے ڈیڈ کو پھر بھی تم باز نہی آتے اپنی حرکتوں سے۔۔۔!!
اور بڑی جلدی سوری یاد آ گئی جناب کو۔۔۔یہ سوری اگر تم ڈیڈ سے بھی کر لو تو اچھا لگے گا مجھے۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے حنان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔!!
نو۔۔۔ان کو تو میرا ہر کام ہی برا لگتا ہے۔۔۔مجھے کوئی ضرورت نہی ان سے سوری بولنے کی آپ سمجھائیں ان کو۔۔۔!!
حنان۔۔۔۔میں سمجھاوں ان کو۔۔۔؟؟ حد ہے ویسے سہی کہتے ہیں وہ میرے لاڈ پیار نے ہی بگاڑ رکھا ہے تمہیں۔۔۔۔بس کرو اب یہ سب کچھ اور کل جا کر سوری کہو اپنے ڈیڈ سے۔۔۔وہ بہت ہرٹ ہیں تمہاری باتوں سے۔۔۔!!
منال کہاں ہے۔۔۔نظر نہی آ رہی کچھ دیر بعد یاد آنے پر وہ بولیں۔۔۔!!
وہ یہاں کیوں ہو گی مام۔۔۔سٹور روم میں بند ہے وہ حنان لا پرواہی سے بولا۔۔۔!!
واٹ۔۔۔۔؟؟؟ وہ چلائی۔۔۔وہ وہاں کیوں بند ہے اسے تو یہاں ہونا چاہیے تمہارے کمرے میں۔۔۔!!
وائے مام۔۔۔؟؟ اس کا میرے کمرے میں کیا کام۔۔۔؟؟ وہی ٹھیک ہے وہ۔۔۔،حنان لا پرواہی سے بولا۔۔۔!!
کیا مطلب ہے تمہارا حنان۔۔۔کبھی تم سب کے سامنے دعوٰی کرتے ہو کہ وہ بیوی ہے تمہاری اور کبھی کہتے ہو کہ اس کا کیا کام تمہارے کمرے میں۔۔۔سمجھ سے باہر ہو تم میری۔۔۔!!
وہ تمہاری بیوی ہے۔۔۔اس کمرے میں رہنا اس کا حق ہے۔۔۔تم اسے محروم کر رہے ہو اسے اس کے حق سے۔۔لا وارثوں کی طرح اسے اس کمرے میں پھینکا ہوا ہے۔۔۔!!
اب تمہاری زمہ داری ہے وہ تمہارا فرض ہے کہ اس کی ضرورتوں کا خیال رکھو۔۔۔یہ نہی کہ بس نکاح کر لیا تو بیوی بن گئی۔۔۔اور گھر لے آئے بس۔۔۔مجھے تم سے اس حرکت کی امید نہی تھی۔۔۔!!
مام تو کیا کروں۔۔۔اسے اپنے سر پر بٹھا کر رکھوں۔۔۔میں نے یہ نکاح اپنی خوشی سے نہی کیا۔۔صرف فہیم سے بدلہ لینے کے لیے کیا۔۔۔جیسے اس نے ہمارے گھر کی عزت خراب کی۔۔۔ویسا ہی میں نے اس کے ساتھ کیا۔۔۔!!
وہ جو کچھ بھی ہوا تھا۔۔۔سانیہ برابر کی شریک تھی۔۔تالی ایک ہاتھ سے نہی بجتی حنان۔۔۔سانیہ اپنی مرضی سے گئی تھی فہیم کے ساتھ۔۔۔اس میں اس بیچاری کی کیا غلطی تھی۔۔۔!!
اس کا بس یہی قصور ہے کہ وہ فہیم کی بہن ہے۔۔۔یہ تو کوئی جواز نہی ہوا بدلہ لینے کا تم جاو ابھی کہ ابھی اور منال کو لے کر آو یہاں۔۔۔!!
نہی مام میں نہی جانے والا۔۔۔میں جب بھی اس کو دیکھتا ہوں مجھے فہیم کا چہرہ نظر آتا ہے اس کے چہرے میں۔۔۔اور مجھے غصہ آ جاتا ہے۔۔۔!!
تو ٹھیک ہے مت جاو۔۔۔میں لے آتی ہوں اسے یہاں اگر تم نہی جا سکتے اسے لینے۔۔۔۔وہ اب یہی رہے گی۔۔۔ضروری نہی کہ ہر بات مانی جائے تمہاری۔۔۔کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔!!
سانیہ اور فہیم ادھر شفٹ ہو گئے اگلے ہی دن۔۔۔فہیم خوش تھا اپنے گھر واپس آنے پر لیکن اسے رہ رہ کر منال کی یاد آتی تھی تو اسے اپنے گھر آنے کی خوشی بھول جاتی تھی۔۔۔!!
محلے والے طرح طرح کی باتیں کرنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔کوئی کہتا منال بھاگ گئی۔۔۔کوئی کہتا ایک لڑکے کے ساتھ آئی تھی گاڑی میں کالج گئی تھی۔۔۔پہلے ہی دن وہاں سے بھاگ نکلی۔۔۔!!
لگتا ہے پہلے سے ہی چکر تھا اس کا کسی کے ساتھ تب ہی تو موقع دیکھتے ہی بھاگ نکلی اور رات کو ایک لڑکے کے ساتھ آئی تھی واپس لگتا ہے شادی کر لی اس نے۔۔۔!!
آج جب منال کے ابو دکان سے واپس آئے تو دو تین عورتیں سر جوڑے ان کو دیکھتے ہوئے باتیں کرنے لگ پڑیں۔۔وہ کچھ نہی بولے سر جھکاتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔۔۔!!
لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے ان کی بیٹی کے بارے میں۔۔۔ان کو بہت تکلیف ہوئی یہ باتیں سن کر ان کی بیٹی گناہگار نہ ہوتے ہوئے بھی مجرم بن چکی تھی۔۔۔!!
منال دروازے کھلنے کی آواز کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اسے لگا حنان آ گیا پھر سے۔۔۔!!
لیکن سامنے حنان نہی اس کی ماما کو دیکھ کر منال نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔وہ منال کی طرف بڑھیں۔۔۔چلو بیٹا میرے ساتھ۔۔۔وہ بولیں تو منال سر ہلاتے ہوئے ان کے ساتھ چل پڑی۔۔۔!!
وہ منال کو ساتھ لیے۔۔۔حنان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔تب ہی ان کی نظر منال کے کپڑوں پر پڑی۔۔یہ تو میں نے شبانہ کی بیٹی کو دیا تھا سوٹ۔۔۔دل ہی دل میں سوچا لیکن بولی کچھ نہی۔۔۔ان کو ساری بات سمجھ جو آ چکی تھی۔۔۔!!
منال کو اندر جانے کا اشارہ کیا انہوں نے تو منال نے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔!!
انہوں نے منال کا گال تھپتپایا۔۔۔منال جاو اندر اب تم یہی رہو گی۔۔۔حنان کو سمجھا دیا ہے میں نے کچھ نہی کہے گا وہ تمہیں۔۔۔جاو اندر۔۔۔!!
نہی آنٹی۔۔۔وہ ناراض ہو جائیں گے۔۔۔غصہ ہو گے مجھ پر انہوں نے مجھے منع کیا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر میں کمرے سے باہر نہ آوں۔۔۔!!
لیکن میں آپ کے ساتھ آ گئی اگر ان کو پتہ چل گیا تو بہت ڈانٹیں گے وہ مجھے منال ڈرتے ڈرتے بولی۔۔۔!!
آو میرے ساتھ۔۔۔وہ منال کو ساتھ لے کر کمرے میں آ گئی۔۔۔حنان کی نظر منال پر پڑی تو پلٹنا بھول گئی۔۔منال مہرون جوڑے میں نکھری نکھری سی اسے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی۔۔۔!!
حنان یہ رہی منال اب یہ یہی رہے گی۔۔۔دوبارہ ایسی حرکت نہ ہو۔۔۔کہتے ہوئے وہ دروازہ بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔منال بت بنی وہی کھڑی رہی سر جھکائے۔۔۔!!
اس میں ہمت ہی نہی تھی آگے بڑھنے کی وہ ڈر رہی تھی کہ پتہ نہی اب کیا سلوک کرے گا اب اس کے ساتھ۔۔۔!!
حنان بیڈ سے اتر کر اس کے پاس آیا۔۔۔اور بازو سے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔منال کھینچتی ہوئی حنان کے سینے سے جا ٹکرائی۔۔۔!!
مام تمہیں یہاں لے آئیں ہیں اس کا یہ مطلب نہی کہ تم میرے سر پر سوار ہو جاو۔۔۔اپنی اوقات مت بھولنا تم صرف میری بیوی ہو۔۔۔بیوی کا مقام نہی ملے گا تمہیں کبھی۔۔۔!!
یہ اتنا سجھ سنور کے کیوں پھر رہی ہو۔۔۔ اور یہ کپڑے کہاں سے آئے تمہارے پاس۔۔۔حنان کی بات پر منال نے سر اٹھا کر حنان کی طرف دیکھا۔۔۔وہ وہ۔۔۔میں نے یہ شبانہ سے لیے ہیں۔۔۔!!
ممجھے نماز پڑھنی تھی تو اسی لیے۔۔۔منال کی بات پر حنان کی آنکھیں غصے سے لال ہو گئی۔۔۔منال اس کی آنکھوں کو دیکھ کر ڈر گئی۔۔۔ممجھ سے غلطی ہو گئی۔۔۔میں صبح واپس کر دوں گی۔۔۔!!
منال تمہیں کپڑے چاہیے۔۔۔تم مجھے بھی تو کہ سکتی تھی۔۔۔حنان غصے سے بولا۔۔۔اور منال کو چھوڑ دیا۔۔۔!!
اب کیا کہتی منال اس سے یہ خیال تو حنان کا خود رکھنا چاہیے تھا۔۔۔الٹا اسی پر چلا رہا تھا۔۔۔!!
آئندہ جو چیز چاہیے ہو مجھ سے کہنا۔۔۔کہتے ہوئے حنان بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔۔۔!!
منال وہی کھڑی رہی۔۔۔!!
حنان کو اور غصہ آ گیا۔۔۔اب وہاں کیوں کھڑی ہو۔۔لائٹ بند کر کے لیٹو آ کر صبح مجھے آفس جانا ہے۔۔۔!!
میں صوفے پر سو جاتی ہوں۔۔۔منال ڈرتے ڈرتے بولی۔۔۔!!
جہاں بھی سونا ہے سو جاو۔۔۔لیکن یہ لائٹ بند کر دو پلیز۔۔۔۔حنان غصے سے بولا تو منال تیزی سے لائٹ بند کر کے صوفے پر لیٹ گئی۔۔۔!!
