Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 03)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 03)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
وہ گھر پہنچے تو منال کی امی جلدی سے ان کی طرف منال کہاں ہے۔۔۔؟؟ آپ اس کو لینے نہی گئے۔وہ سوال پر سوال کرتی چلی گئی۔۔کیا ہوا آپ کچھ بول کیوں نہی رہے۔۔میں پوچھ رہی ہوں منال کہاں ہے۔۔!!
منال نہی آئی میرے ساتھ۔۔۔انہوں ایک جملے میں بات مکمل کر ڈالی۔۔۔اور سر تھام کر بیٹھ گئے۔۔اب کیا کر سکتے تھے وہ۔۔۔کیسے بچائیں اپنی بیٹی کو۔۔ان کی سمجھ میں کچھ نہی آ رہا تھا۔۔!!
منال کیوں نہی آئی چھٹی تو دو بجے ہونی تھی نہ۔۔۔اب تو تین بج چکے ہیں۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔اتنی لیٹ تو چھٹی نہی ہوتی۔۔۔آپ دوبارہ جائیں کالج۔۔اور اسے ساتھ لے کر آئیں۔۔اتنا ٹائم ہو گیا ہے۔۔وہ اکیلی پریشان ہو رہی ہو گی۔۔۔!!
نہی ہمیرا تم چپ ہو جاو کچھ دیر کے لیے۔۔۔۔منال اب کبھی واپس نہی آنے والی۔۔۔وہ چلاتے ہوئے بولے۔۔۔۔۔!!
یہ کیا کہ رہے ہیں آپ۔۔؟؟ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ اللہ نہ کرے کہ ایسا کچھ ہو کہ میری بیٹی کبھی گھر واپس نہ آئے۔۔۔!!
آخر ہوا کیا ہے آپ کچھ بول کیوں نہی رہے۔۔۔میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔۔کہاں ہے منال۔۔۔؟؟
جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔۔۔پتہ نہی کیا سلوک کریں گے وہ لوگ میری بیٹی کے ساتھ۔۔۔ناکردہ گناہوں کی سزا ملے گی اسے۔۔میں بہت بے بس ہو چکا ہوں۔۔کسی سے کچھ کہ بھی نہی سکتا۔۔۔!!
کیا مطلب کون لوگ۔۔؟؟ کن کی بات کر رہے ہیں آپ۔۔؟؟
سانیہ کے گھر والوں کی بات کر رہا ہوں میں۔۔۔اس کا بھائی واپس آ گیا ہے۔۔۔اور جو کچھ تمہارے صاحبزادے نے ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ہے۔۔وہی وہ اب ہماری بیٹی منال کے ساتھ کرے گا۔۔!!
یہ کیا کہ رہے ہیں آپ۔۔۔میری بچی کا کیا قصور بھلا اس میں آپ بات کریں ان سے۔۔۔!! جو کچھ ہوا اس میں سانیہ برابر کی شریک ہے فہیم کے ساتھ۔۔۔اس میں منال کا کیا قصور ہے۔۔۔؟؟
آپ بات کریں ان سے پتہ نہی میری بیٹی کس حال میں ہو گی۔۔۔!!۔۔مجھے لے چلیں ان کے گھر۔۔میں ان سے معافی مانگ لوں گی۔۔۔!! فہیم کی طرف سے آپ مجھے لے کر چلیں۔۔۔مجھے ملنا ہے منال سے۔۔۔
نہی ہم نہی جا سکتے وہاں۔۔!! اور پولیس کی مدد بھی نہی لے سکتے۔۔۔ہماری بیٹی ان کے قبضے میں ہے۔کچھ بھی کر سکتے ہیں وہ لوگ۔اسی لیے ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا پڑے گا۔۔
فہیم کا نمبر ملاو۔۔۔اب تو سانیہ ہی ہے جو ہماری مدد کر سکتی ہے منال کو واپس لانے میں۔۔۔یہ سب تمہارے صاحبزادے کے کرتوت ہیں جو میری بیٹی آج اس حال میں ہے۔۔!!
اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا تو چھوڑوں گا نہی میں فہیم کو اور سانیہ کو۔۔۔!! یہ سب کچھ ان دونوں کے گناہ کا نتیجہ ہے۔۔۔اگر میری بیٹی کو نقصان پہنچا تو ان دونوں کو بھی خوش نہی رہنے دوں گا میں۔۔!!
آپ غصہ نہ ہو آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔جو کچھ ہوا اس میں سانیہ بھی برابر کی شریک ہے۔خالی فہیم کا قصور نہی ہے۔۔میں ابھی فہیم کو فون کرتی ہوں۔۔۔!!
جلدی سے وہ فون کی طرف بڑھیں۔۔۔۔ہاں ہیلو فہیم جلدی گھر آ جاو بیٹا ہم لوگ بہت پریشان ہیں۔۔۔ایک مسلہ ہو گیا ہے۔۔۔!!
کیا ہوا امی سب خیریت تو ہے نہ۔۔۔؟؟ فہیم بھی پریشان ہو چکا تھا۔۔!!
کچھ خیریت نہی ہے فہیم تم جلدی گھر آ جاو گھر آو تو بتاتی ہوں تمہیں۔۔۔۔جلدی آو اور سانیہ کو ساتھ لیتے آنا۔۔۔!!
لیکن امی آپ تو جانتی ہیں نہ ابو سانیہ کو پسند نہی کرتے تو پھر میں کیسے گھر لا سکتا ہوں سانیہ کو۔۔۔کیا ابو گھر میں نہی ہیں۔۔۔۔!!
نہی تم سانیہ کو ساتھ ہی لے کر آو۔۔۔جو بات ہو گی اس کے سامنے ہی ہو گی۔۔۔تمہارے ابو گھر میں ہی وہ کچھ نہی کہتے تم سانیہ کو ساتھ ہی لے کر آو۔۔۔!!
گاڑی ایک خوبصورت بنگلے کے باہر جا رکی۔۔۔۔چوکیدار نے گیٹ کھولا تو گاڑی گھر کے اندر چلی گئی۔۔اندر پہنچ کر وہ شخص گاڑی سے باہر نکلا اور منال کی سائیڈ سے دروازہ کھول کر اسے بازو سے کھینچتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!
منال نے آج تک اتنا خوبصورت گھر پہلے کبھی نہی دیکھا تھا۔۔۔اگر کوئی اور وقت ہوتا تو بہت فرصت سے دیکھتی اس گھر کو لیکن اب اس پر جو بیت رہی تھی ایسے میں اس کے پاس گھر کو دیکھنے کا وقت نہی تھا۔۔۔!!
وہ اس پتھر دل انسان کے ساتھ کھینچتی چلی جا رہی تھی۔۔۔اس نے گھر کے سب سے آخری کمرے کا دروازہ کھولا اور منال کو کمرے میں لے جا کر اس کا بازو چھوڑ دیا۔اور کمرے سے باہر آ کر دروازہ لاک کر دیا۔۔۔!!
منال وہی زمین پر بیٹھ گئی کیونکہ اس کمرے میں بیٹھنے کی کوئی جگہ ہی نہی تھی۔۔منال سر گھٹنوں پر رکھ کر رو دی۔اس کے دل میں بار بار بابا اور ماما کا خیال آ رہا تھا۔۔۔۔!!
پتہ نہی کیا ہوا ہو گا جب بابا کالج پہنچے ہو گے۔۔۔ماما کو کیا بتائیں گے بابا۔۔۔سوچ کر منال کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔۔۔تب ہی منال کو باہر سے کسی کی باتوں کی آواز آئی۔۔۔!!
ابھی وہ آواز کے تعاقب میں کھڑکی کے پاس پہنچی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک عورت اندر آئی۔۔چلو میرے ساتھ ایک نظر منال پر ڈالتے ہوئے بولی۔۔۔!!
منال کو اس کا لہجہ تھوڑا عجیب لگا۔۔میں نہی جاوں گی آپ کے ساتھ کہاں لے کر جانا چاہتی ہیں آپ مجھے۔۔۔؟؟
چپ چاپ میرے ساتھ چلو زیادہ باتیں نہ کرو۔۔۔چھوٹے صاحب کا حکم ہے کہ تمہیں ڈرائنگ روم میں لے کر آوں میں۔۔۔تمہارا نکاح ہے ابھی چھوٹے صاحب سے۔۔۔!!
اس نے جیسے منال کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔اس کے الفاظ مناہل کے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برسے۔۔۔میرا نکاح کس سے۔۔۔؟؟
میں نہی کروں گی یہ نکاح مجھے گھر واپس جانا ہے ابھی۔۔۔منال نے باہر کی طرف بھاگنے کی کوشش کی تب ہی کسی سے ٹکرا گئی۔۔۔وہ منال کے سامنے تھا۔۔۔۔!!
پلیز مجھے گھر جانے دیں۔۔میں نے کیا بگاڑا ہے آپ لوگوں کا۔۔۔؟؟ مجھے نہی کرنا کوئی نکاح۔۔۔پلیز مجھے میرے گھر چھوڑ دیں۔۔میرے گھر والے پریشان ہو رہے ہو گے۔۔۔!!
صاحب جی میں تو ان سے کہ رہی ہوں کب سے کہ میرے ساتھ چلیں۔۔۔لیکن یہ جانے کو تیار ہی نہی ہو رہی تھیں۔۔۔وہ عورت جلدی سے اپنی صفائی میں بول پڑی۔۔۔!!
اس نے اس عورت کو آنکھوں سے اشارہ کیا کہ کمرے سے باہر نکل جائے۔۔۔وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔!!
وہ منال کی طرف مڑا۔۔۔اس کی آنکھوں پر اب گلاسز نہی تھے۔۔۔منال اس کی آنکھوں میں کھو سی گئی۔۔۔آج سے پہلے اس نے اتنی خوبصورت آنکھیں اس نے کسی کی نہی دیکھی تھیں۔۔۔!!
اگر تمہیں اپنے بابا اور بھائی کی جان پیاری ہے تو ابھی کے ابھی نکاح نامے پر سائن کرو۔۔۔اگر نہی تو پھر تیار ہو جاو۔۔۔اپنے باپ اور بھائی کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا ہوا دیکھنے کے لیے۔۔۔۔!!
وہ اب پہلی بار بولا تھا منال کے سامنے۔۔۔لیکن میرا قصور کیا ہے آخر۔۔۔؟؟ منال ہار مانتے ہوئے بولی۔۔۔!!
قصور۔۔۔۔؟؟ تمہارا کوئی قصور نہی ہے۔۔۔اب جلدی بتاو کیا فیصلہ ہے تمہارا میرے پاس زیادہ وقت نہی ہے۔۔۔چل رہی ہو۔۔۔یا پھر تمہارے باپ اور بھائی کو بلاوں میں یہاں مرنے کے لیے۔۔۔۔!!
اپنی بات کہ کر وہ رکا نہی تھا تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔اور منال بھی نہ چاہتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔۔۔!!
ایک کمرے میں پہنچ کر وہ صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔۔نکاح خواں نے نکاح کے پیپر اس کے سامنے رکھے۔۔اور نکاح پڑھانا شروع کر دیا۔۔۔!!
منال ولد حیدر علی۔۔۔آپ کو ملک حنان ولد ملک شہباز سے نکاح قبول ہے۔۔۔منال ہوش و حواس سے بیگانہ بیٹھی تھی۔۔۔نکاح خواں نے پھر سے یہ الفاظ دہرائے۔۔۔!!
منال نے التجائی نظروں سے اپنے سامنے بیٹھے اس پتھر دل انسان کی طرف دیکھا کہ شاید اس کے دل میں رحم پیدا ہو۔۔۔لیکن نہی وہ نظریں پھیر گیا۔۔۔اور اپنی جیب میں سے پسٹل نکال کر میز پر رکھی۔۔!!
منال اس کا اشارہ سمجھ گئی۔۔۔اس نے آنکھیں بند کر کے دل پر پتھر رکھ کر کہا۔۔۔قبول ہے۔۔۔اسی طرح اس نے تین بار قبول کر لیا۔۔۔اور نکاح نامے پر سائن کر دئیے۔۔۔!!
اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ منال حیدر سے منال حنان بن گئی۔۔۔اس نے سوچا بھی نہی تھی کہ آج اس کی زندگی یوں بدل جائے گی۔۔۔اسے پتہ ہی نہی چلا کب نکاح خواں گیا۔۔اور کب اسے ڈرائنگ روم سے اس کمرے میں بند کر دیا گیا۔۔۔!!
اس کے ذہن میں تو بس یہی الفاظ گونج رہے تھے۔۔۔ملک حنان۔۔۔ملک حنان۔۔۔اسے نفرت ہو چکی تھی اس نام سے۔۔۔لیکن اب اس نام کے ساتھ اس کا نام جڑ چکا تھا۔۔اس کی زندگی جڑ چکی تھی۔اس سچ کو وہ جھٹلا نہی سکتی تھی۔۔۔!!
فہیم سانیہ کو لے کر گھر پہنچا تو منال کے اغوا کی خبر سن کر اس کے حوش اڑ گئے۔۔۔لیکن سانیہ اس بات کو سننے کے لیے بلکل تیار نہی تھی۔۔۔۔!!
ایسا نہی ہو سکتا حنان ایسا نہی کر سکتا۔۔۔مجھے یقین ہے اپنے بھائی پر اتنی گری ہوئی حرکت وہ نہی کر سکتا۔۔۔!!
اگر تمہیں واقعی ایسا لگتا ہے تو ابھی کہ ابھی فون لگاو اپنے بھائی کو۔۔۔سب سچ سامنے آ جائے گا تمہارے۔۔۔منال کے بابا بول پڑے۔۔۔!!
میرے پاس ان کا نمبر نہی ہے۔۔۔لیکن میں کسی کو بھجوا کر پتہ کروا سکتی ہوں۔۔لیکن اگر یہ بات غلط ثابت ہوئی تو اچھا نہی ہو گا۔۔۔کیا پتہ کوئی اور بات ہو۔۔کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو۔۔۔۔!!
چٹاخ۔۔۔!! ایک زور دار تھپڑ سانیہ کے منہ پر پڑا۔۔۔اور وہ گرتے گرتے بچی۔۔۔خبردار جو آئیندہ میری بہن کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے تم نے تو تمہاری زبان کھینچ لوں گا میں۔۔۔۔فہیم غصے سے بولا۔۔۔!!
سانیہ اپنی اتنی بے عزتی پر بوکھلاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔۔اسے ابھی تک یقین نہی آ رہا تھا کہ فہیم نے اسے تھپڑ مارا ہے۔۔۔وہ گال پر ہاتھ رکھے ہوئے وہاں سے نکل گئی۔۔۔!!
بابا میں کسی طرح وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔ابو آپ لوگ پریشان مت ہو۔۔۔!!
کیوں نا ہو۔۔۔ہم لوگ پریشان جوان بیٹی کا معاملہ ہے۔اور جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہو وہی ہمیں کہ رہا ہے کہ ہم ٹینشن نہ لیں۔۔۔!!
چلے جاو یہاں سے جا کر اپنی بیوی کو سنبھالو۔۔۔آئندہ ہمارے معاملات سے دور ہی رہوں تم دونوں میاں بیوی۔۔۔!!
فہیم سر جھکاتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔۔۔اس کی بہن کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا زمہ دار وہ خود ہی تو تھا۔۔گھر جانے کی بجائے وہ باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اسے سمجھ نہی آ رہا تھا کہ کیسے پتہ کروائے کہ مناہل کو حنان نے اغوا کیا ہے یا کسی اور نے۔۔۔۔!!
