Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 22)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
حیدر بھی ماہم کے پیچھے اس کے کمرے میں چلا گیا۔۔ماہم پلیز چپ ہو جاو۔۔۔سنبھالو خود کو۔۔۔اگر ہم سب ہار مان گئے تو بھابی کو کون سنبھالے گا۔۔۔اور چچی جان ان کی حالت تو دیکھی ہے نا تم نے۔۔۔!!!!!!!
اور دادو۔۔۔پتہ نہی ان پر کیا بیتے گی جب ان کو پتہ چلے گا اس بارے میں۔۔۔حنان کو وہ ہم تینوں سے زیادہ پیار کرتی تھیں۔۔۔تم ایسا کرو دادو کے پاس چلی جاو۔۔۔۔!!!
اور دھیان رکھنا ان کو اس بارے میں کچھ نا پتہ چلے۔۔۔اچھا اب میں چلتا ہوں۔۔۔احسن بھائی وہاں اکیلے ہیں ہاسپٹل میں۔۔۔!!!!
ٹھیک ہے تم جاو دھیان سے اور مجھے منال کے بارے میں بتاتے رہنا۔۔۔جیسے ہی اس کو ہوش آئے مجھے بتا دینا۔۔۔میں دادو پاس جا رہی ہوں۔۔۔۔!!!!!!
حیدر ہاسپٹل کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔اور ماہم دادو کے پاس چلی گئی۔۔۔۔وہ دوائیوں کے زیرِاثر سو رہی تھیں۔۔۔ماہم وہی ان پاس لیٹ گئی۔۔۔۔!!!!
ہانی بھی اپنے کمرے میں روتے روتے سو چکی تھی۔۔۔اس نے تو اپنے مستقبل کے خواب سجا رکھے تھے حنان کے ساتھ۔۔۔لیکن یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔۔۔ایسا تو اس نے کبھی سوچا بھی نہی تھا۔۔۔۔!!!!
حیدر ہاسپٹل پہنچا تو منال کی حالت ابھی بھی ویسی ہی تھی۔۔۔ابھی تک اسے ہوش نہی آیا تھا۔۔۔!!!!!!!
ملک صاحب کمرے میں ٹہلتے رہے ساری رات۔۔۔مسز ملک کو ماہم نے نیند کی گولی کھلا دی تھی حیدر کے کہنے پر۔۔۔تا کہ وہ سو جائیں۔۔اگر جاگتی رہتی تو سوچ سوچ کر طبیعت خراب ہی رہتی ان کی۔۔۔۔!!!!!!!!!
ملک صاحب پر سوچوں کا سمندر ٹوٹ چکا تھا۔۔۔کاش میں نے حنان کو بھیجا ہی نا ہوتا۔۔اس کی جگہ میں چلا جاتا تو آج میرا لختِ جگر میرا حنان زندہ ہوتا۔۔ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
ایک ہی تو بیٹا تھا ان کا۔۔۔ملک حنان جو ان کا غرور تھا۔۔۔تھوڑا لا پرواہ ضرور تھا لیکن کام کے معاملے میں اس نے اپنے باپ کا سر کبھی نہی جھکنے دیا۔۔۔۔!!!!!
وہ اس کے سامنے تو کبھی اس کی تعریف نہی کرتے تھے لیکن دوسروں کے سامنے فخر سے اپنے بیٹے کی تعریفیں کرتے۔۔۔ان کا ہر وقت کا ڈانٹنا ڈپٹنا تو بس اسے زمہ دار بنانے کے لیے تھا۔۔۔۔!!!!
ورنہ اندر سے تو آج بھی وہ حنان کو ایسے ہی پیار کرتے تھے جب وہ چھوٹا تھا۔۔۔سانیہ کے بعد 7 سال بعد اللہ نے ان کو پیارے سے بیٹے سے نوازا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!
اور چھوٹا اور لاڈلہ ہونے کی وجہ سے ہی تو اس کی ہر ضد پوری کی جاتی تھی۔۔۔وقت گزرتا گیا دیکھتے دیکھتے حنان جوان ہو گیا۔۔۔سکول سے کالج اور پھر کالج سے یونیورسٹی۔۔۔حنان من موجی بنتا گیا۔!!!!!!!!!
اور یہی بات ملک صاحب کو پریشان کرنے لگ پڑی۔۔۔اسی لیے انہوں نے حنان کے ساتھ سختی والا رویہ اپنا لیا۔۔۔اور آہستہ آہستہ حنان ان سے دور ہوتا چلا گیا۔۔۔۔وہ تو جو کچھ کہتے تھے اس کی بھلائی کے لیے ہی کہتے تھے۔۔۔۔!!!!!
مگر ان سب کے باوجود بھی حنان نے خود کو بدلہ۔۔پچھلے پانچ ماہ سے اس نے ملک صاحب کے ساتھ آفس جوائن کیا ہوا تھا۔۔۔وہ اپنا ہر کام زمہ داری سے کرتا تھا۔۔۔!!!!!
ملک صاحب چاہتے تھے کہ اب وہ سارا بزنس حنان کے حوالے کر کے خود گھر بیٹھ جائیں۔۔۔ وہ تھک چکے تھے اب زمہ داریاں نبھاتے نبھاتے۔۔۔کچھ سانیہ نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔!!!!
اسی لیے وہ اب سب کچھ حنان کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔آج ان کو حنان کے ساتھ کیے اپنے سارے روئیے یاد آ رہے تھے باری باری۔۔۔!!!!!
وہ اندر سے تو جیسے مر ہی گئے تھے جوان بیٹے کی موت کی خبر سن کر بس یہ خالی جسم کا بوجھ تھا جو وہ اٹھائے پھر رہے تھے۔۔۔!!!!!!
شاید میں نے وقت سے پہلے کچھ زیادہ ہی بوجھ ڈال دیا تھا اپنے بیٹے کے کندھوں پر۔۔۔جو وہ اٹھا نہی پایا اور مجھ سے دور چلا گیا۔۔۔۔!!!!!
یہ کیسی لکھی تھی جدائی قسمت میں۔۔۔
یوں بچھڑ جائیں گے سوچا بھی نہی تھا۔۔۔
یوں سفر میں تنہا کر جاو گے سوچا نہ تھا۔۔۔
کیسے جئیے گے بن تیرے۔۔۔۔
کاش اے صنم جانے سے پہلے دیکھ لیتا تو مڑ کے
منال ابھی تک یونہی پڑی تھی۔۔۔دنیا سے بے خبر۔۔۔حنان نے اسے خود اپنی زندگی میں شامل کیا تھا۔۔۔لیکن اب حنان اس کی زندگی بن چکا تھا۔۔۔پلین کریش ہونے کی خبر اس کے حواسوں پر قیامت بن کر ٹوٹی۔۔۔۔!!!!!
صدمہ ہی اتنا بڑا تھا کہ وہ برداشت نہی کر پائی۔۔۔اور اب زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!
حیدر بھی ساری رات بے چین سا کبھی ادھر تو کبھی ادھر چکر لگاتا رہا کہ شاید کوئی خبر آئے۔۔۔لیکن کچھ خبر نہی آ سکی۔۔۔۔!!!!
رات اسی طرح بیت گئی۔۔۔صبح ہو گئی لیکن منال کو ابھی تک ہوش نہی آیا تھا۔۔۔!!!!
احسن کو تو عادت تھی ہاسپٹل میں جاگنے کی۔۔۔منال کی وجہ سے اس نے اپنی نائٹ ڈیوٹی لگوا لی تا کہ آئی سی یو میں رک سکے۔۔۔!!!
لیکن حیدر کو عادت نہی تھی ایسے ماحول کی۔۔ساری رات جاگنے کی وجہ سے اس کی طبیعت بہت بوجھل لگ رہی تھی۔۔۔!!!!!
احسن اس کے پاس جا بیٹھا۔۔۔حیدر جاو ناشتہ کر لو باہر سے کچھ منگوا دوں یا پھر گھر سے جا کر کر آو ناشتہ۔۔!!!!
اور کچھ دیر آرام کر لو۔۔۔پوری رات نہی سوئے تم۔۔۔کہا تھا میں نے تمہیں کمرے میں جا کر سو جاو لیکن تم نے سنا ہی نہی۔۔۔!!!!!
بلکہ تم ایسا کرو گھر ہی جاو۔۔۔تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔۔اب میں تمہاری ایک نہی سنوں گا جاو شاباش۔۔۔!!!
حیدر کو نا چاہتے ہوئے بھی احسن کی بات ماننی پڑی۔۔گھر جا کر وہ ناشتہ کر کے کچھ دیر آرام کرنے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔!!!
ابھی کمرے میں گیا ہی تھا کہ ہانی دروازہ ناک کرتے ہوئےکمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔!!!!!
کیسی طبیعت ہے اب منال کی اسے ہوش آیا ہے یا نہی۔۔۔ہانی کمرے میں داخل ہوتے ہی بولی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
نہی ابھی ہوش نہی آیا بھابی کو۔۔۔۔ویسے کی ویسی ہی ہیں۔۔۔۔۔!!!!!
مجھے بھی جانا ہے ہاسپٹل۔۔۔کیا تم مجھے لے جاو گے جاتے ہوئے۔۔۔۔!!!!
نہی میں نہی لے کہ جا سکتا تم خود چلی جانا جاو اب یہاں سے میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں مجھے تنگ مت کرو۔۔۔۔!!!!
ہانی ایک غصیلی نظر حیدر پر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔!!!!
حیدر دوبارہ ہاسپٹل چلا گیا دوپہر کو مسز ملک اور ملک صاحب پہلے ہی ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔۔۔پورا دن یونہی ان کا ہاسپٹل میں گزر گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!
حیدر بار بار اپنا فون چیک کرتا کہ شاید کوئی کال آ جائے ہاسپٹل سے۔۔۔لیکن ابھی تک ان کی کوئی کال نہی آئی۔۔۔!!!!
آخر کار شام کو منال کو حوش آ ہی گیا۔۔نرس ان کے پاس آئی۔۔۔آپ کی پیشنٹ کو ہوش آ گیا ہے۔حنان کون ہے۔۔؟؟؟
پیشنٹ بار بار حنان کا نام لے رہی ہیں۔۔۔آپ ان کو اندر بھیج دیں۔۔۔!!!!
وہ تو یہاں نہی ہیں۔۔۔حیدر نے جواب دیا۔۔۔!!!!!
تو آپ لوگ ان کو بلا لیں یہاں کہی ایسا نا ہو کہ ان کی طبیعت پھر سے خراب ہو جائے۔۔۔۔ابھی ہم ان کو روم میں شفٹ کرنے لگے ہیں پھر آپ لوگ مل سکتے ہیں ان سے۔۔۔!!!!!
اب وہ کیا بتاتا نرس کو۔۔۔۔کہاں سے لاتا حنان کو۔۔۔وہ تو اب اس دنیا میں ہی نہی ہے۔۔۔حیدر سوچوں کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔۔۔۔!!!!
منال کو کمرے میں شفٹ کیا تو مسز ملک سب سے پہلے اس کے پاس گئی۔۔۔!!!!
منال بس چپ چاپ لیٹی دیواروں کو گھور رہی تھی۔۔۔مسز ملک کمرے میں گئیں تو منال نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہی سکی۔۔۔!!!!!!!!!!!!
کل اس نےدوپہر کا کھانا ہی تو کھایا تھا اس کے بعد سے وہ بے ہوش تھی۔۔۔مسز ملک نے اسے بیٹھنے میں مدد کی اور خود منال کے پاس جا کر بیٹھ گئیں۔۔۔!!!!!!!
کیسی طبیعت ہے اب میری بیٹی کی منال کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔۔!!!!!!!!!!!!
ممی حنان کہاں ہیں۔۔۔۔وہ نہی آئے۔۔۔منال ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔مسز ملک کی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔۔۔منال جس پلین میں حنان تھا۔۔وہ پلین کریش ہو گیا۔۔۔۔!!!!
کوئی نہی بچا۔۔۔وہ روتے ہوئے بولیں۔۔۔۔اس کے آگے وہ کچھ نہی بول سکیں۔۔۔!!!!!
نہی ممی ایسا نہی ہو سکتا حنان دو دن کے لیے گئے ہیں دبئی۔۔۔وہ کل تک آ جائیں گے۔۔۔مجھ سے وعدہ کیا تھا حنان نے وہ کل آ جائیں گے۔۔۔منال کے چہرے پر غم کا کوئی تاثر نہی تھا اور نا ہی خوشی کا۔۔۔۔!!!!!!
ممی آپ کیوں رو رہی ہیں۔۔۔یہ سب جھوٹ ہے حنان کو کچھ نہی ہوا۔۔۔وہ کل تک واپس آ جائیں گے۔۔۔۔منال مسز ملک کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!
مسز ملک کو منال کی دماغی حالت پر شک ہوا۔۔۔وہ اس سچ کو قبول نہی کر پا رہی تھی۔۔۔ان کی منال کی حالت پر بہت دکھ ہوا۔۔۔۔!!!!!
منال یہی سچ ہے۔۔تم سمجھ کیوں نہی رہی تم وہ منال کو جھنجوڑتے ہوئے بولیں۔۔۔۔حنان نہی رہا یہی سچ ہے۔۔۔تمہیں اس سچائی کو ماننا ہی پڑے گا۔۔۔۔!!!!!!!
ائِیرپورٹ والوں نے اس بات کی تصدیق کر دی گئی ہے۔۔۔کہ حنان اسی پلین میں تھا جو کریش ہوا تھا۔۔۔!!!!!
انہوں نے منال کو گلے سے لگا لیا اور منال میرا بیٹا نہی رہا۔۔۔منال کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔وہ مسز ملک کے گلے لگ کر بہت دیر تک روتی رہی۔۔۔!!!!
مگر اس کا دل اس سچائی کو ماننے کو تیار نہی تھا۔کچھ دیر رونے کے بعد مسز ملک نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اس کے آنسو صاف کیے۔۔۔چپ ہو جاو منال صبر کرو۔۔۔!!!
اللہ کی یہی مرضی تھی۔۔۔یہ جان تو اللہ کی امانت ہے کوئی جلدی چلا جاتا ہے کوئی دیر سے۔۔۔میں اپنے بیٹے کو توکھو چکی ہوں۔۔اب تمہیں نہی کھونا چاہتی سنبھالو خود کو۔۔۔۔!!!!
اگر تم ایسا کرو گی تو ہمیں کون سنبھالے گا۔۔۔جتنا نقصان تمہارا ہوا ہے۔۔اتنا ہی ہمارا بھی ہوا ہے۔۔ہم سب کو ایک دوسرے کا سہارا بننا ہو گا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!
احسن کمرے میں داخل ہوا۔۔۔چچی جان اب ہم منال کو گھر لے جا سکتے ہیں۔۔۔۔منال سنبھالو خود کو بہت ہمت سے کام لینا پڑے گا تمہیں۔۔۔جو ہوا اسے تو ہم بدل نہی سکتے۔۔لیکن تمہارے دکھ میں ہم برابر کے شریک ہیں۔۔۔۔!!!!!
اب چلو گھر جانا ہے ہمیں حیدر اور چاچو جی گاڑی میں انتظار کر رہے ہیں۔۔۔چلیں۔۔۔۔منال چپ چاپ ان کے ساتھ چل پڑی۔۔مسز ملک اس کو سہارا دیتے ہوئے گاڑی تک لے گئیں۔۔۔۔۔!!!!!
گھر پہنچی تو منال کو مسز ملک اس کے کمرے میں لےگئیں۔۔۔ماہم منال کے لیے کھانا لے کر آئی تو مسز ملک نے زبردستی اسے کھانا کھلا کر دوائی کھلا کر سلا کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔!!!!!
احسن کے کہنے پر منال کو نیند کی گولی کھلا دی مسز ملک نے تا کہ وہ ریلیکس ہو کر سو سکے ورنہ وہ ساری رات جاگتے ہوئے گزار دیتی۔۔۔۔!!!!!
رات کے نو بجے حیدر کو کال آئی کہ ہاسپٹل آ کر اپنی لاش کی شناخت کر لیں۔۔۔۔کال سنتے ہی حیدر کے ہاتھ پاوں پھول گئے۔۔اس کو اپنے حواس گم ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔۔!!!!
خود کو سنبھالتے ہوئے احسن کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔بھائی ہمیں ہاسپٹل جانا پڑے گا۔۔۔لاش کی شناخت کے لیے۔۔۔۔بہت مشکل سے حیدر یہ بول سکا۔۔۔۔!!!!
ہاں چلتے ہیں۔۔۔چاچو کو بھی ساتھ لے چلتے ہیں۔۔۔ان کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔۔۔تم گاڑی میں بیٹھو میں ان کو ساتھ لے کر آتا ہوں۔۔۔!!!!
تینوں ہاسپٹل کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ہاسپٹل پہنچ کر ان کو مردہ خانے لے جایا گیا۔۔۔۔تین لاشیں تھیں۔۔جو پوری طرح جل چکی تھیں۔۔۔!!!!
انہوں نے باری باری تینوں لاشوں پر سے کپڑا ہٹا کر دیکھا۔۔۔ان میں سے کوئی بھی حنان نہی تھا۔۔اور نہ ہی لاشوں کے پاس سے ملا سامان میں سے کوئی بھی چیز حنان کی تھی۔۔۔۔!!!!
وہ لوگ وہاں سے باہر آ گئے۔۔۔اگر ہمیں کوئی انفارمیشن ملی تو ہم آپ کو بتا دیں گے۔۔ابھی لاشوں کی تلاش جاری ہے۔۔۔!!!!!
بہت سی لاشیں ابھی تک نہی ملیں۔۔۔۔ڈاکٹر نے ان کو کہا تو وہ لوگ واپس گھر آ گئے۔۔۔اور اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔۔۔!!!!!!
منال کی رات کے آخری پہر آنکھ کھلی تو اسے اپنے ساتھ کسی کے ہونے کا احساس ہوا۔۔۔منال نے اٹھنے کی کوشش کی تو اسے کھینچ کر واپس لٹا دیا گیا اور منال کے سر کے نیچے اپنا بازو رکھتے ہوئے اسے خود کے قریب کر لیا۔۔۔۔!!!!
حنان۔۔۔۔بے ساختہ منال کے لبوں سے حنان کا نام نکلا۔۔۔۔!!!!
جِی مسز حنان۔۔۔۔۔حنان کی آواز منال کے کانوں میں پڑی۔۔۔۔!!!
