Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 20)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
حنان نیچے آیا تو سب نے مل کر کھانا کھایا۔۔اور پھر سب خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے۔۔۔ہانی اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔۔اسے بوریت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔!!!!
حنان احسن کا سامنا نہی کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔اور نا ہی اسے احسن کے سامنے منال کا بیٹھنا برداشت ہو رہا تھا۔۔۔!!!
حنان نے منال سے کہا۔۔۔جاو منال اوپر جا کر میڈیسن کھاو اور آرام کرو تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔!!!!!
حنان نے کہا تو منال سر ہلاتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔منال ابھی کمرے میں گئی ہی تھی کہ ہانی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ہائے منال کیسی ہو۔۔۔؟؟؟
منال کو حیرت ہوئی آج اس کی سب سے بڑی دشمن کو کیسے اس کا خیال آ گیا۔۔۔۔!!!!
ٹھیک ہوں جیسی ہوں تمہارے سامنے ہوں۔۔۔حنان میری جتنی زیادہ کیئر کرتے ہیں۔۔۔بہت جلدی ٹھیک ہو جاوں گی۔۔ویسے حیرانگی والی بات ہے تمہیں میرا خیال کیسے آ گیا۔۔۔۔!!!!!
اوہ۔۔۔کم آن منال میں تمہاری دشمن تھوڑی ہوں۔۔۔اب میں حنان کو تمہارے ساتھ خوش دیکھتی ہوں تو میرے دل کو سکون ہے کہ وہ تمہارے ساتھ خوش ہے۔۔۔اسی لیے میں نے سوچ لیا ہے کہ اب تم دونوں کے درمیان نہی آوں گی میں۔۔۔!!!!
بہت جلد میں واپس چلی جاوں گی۔۔۔اپنی غلطیوں پر میں شرمندہ ہوں۔۔میری وجہ سے حنان نے تمہیں سب کے سامنے تھپڑ مارا۔۔۔اس کے لیے مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔!!!!
میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔میں چاہتی ہوں جانے سے پہلے تم میری طرف سے اپنا دل صاف کر لو۔۔۔!!!!!
بہن سمجھ کر معاف کر دو مجھے۔۔۔ہانی روتے ہوئے منال کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!
منال کو ہانی کی دماغی حالت پر شک ہوا۔۔۔پہلے تو منال سوچ میں پڑ گئی۔۔۔پھر آگے بڑھ کر ہانی کے ہاتھ تھام لیے۔۔۔نہی ہانی تم معافی مت مانگو۔۔میں نے تمہیں معاف کیا۔۔۔۔!!!!!
تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا یہی بہت ہے میرے لیے۔۔۔میری طرف سے بے فکر ہو جاو۔۔۔اور اب جاو یہاں سے حنان آتے ہی ہو گے۔۔۔میں نہی چاہتی وہ اپنی دوست کو ایسے روتا ہوا دیکھیں۔۔۔تم ہنستی ہی اچھی لگتی ہو۔۔۔!!!!!
ہممممم تھینکس مجھ پر بھروسہ کرنے کے لیے۔۔۔۔تم بہت اچھی ہو منال۔۔۔حنان بہت خوش قسمت ہے جو اسے تمہارے جیسی بیوی ملی۔۔کہتے ہوئے ہانی مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔!!!!!
ہانی کے کمرے سے جاتے ہی منال سوچ میں پڑ گئی۔۔کیا واقعی یہ بدل گئی ہے۔۔۔یا پھر کوئی نیا کھیل کھیلنے لگی ہے میرے ساتھ۔۔۔اتنی آسانی سے ہار ماننے والوں میں سے نہی ہے یہ۔۔مجھے اتنی جلدی اس پر یقین نہی کرنا چاہیے۔۔۔۔!!!!
کیا ہوا منال کن سوچوں میں گم ہو۔۔۔حنان نے منال کے سامنے چٹکی بجائی تو منال ان سوچوں سے باہر نکلی۔۔۔!!!!
پہلے منال نے سوچا کہ حنان کو بتا دوں۔۔پھر خود ہی نا میں سر ہلا گئی۔۔کہ پتہ نہی کیا ری ایکشن ہو حنان کا اسی لیے اس نے چپ رہنے میں ہی بھلائی سمجھی۔۔۔!!!!
یہ دیکھو میڈیسن ویسے ہی پڑی ہیں۔۔۔منال دھیان کہا ہے تمہارا۔۔۔حنان میڈیسن منال کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!
وہ۔۔۔سر میں تھوڑا درد ہے۔۔۔طبیعت ٹھیک نہی لگ رہی مجھے۔۔۔بس اور کوئی بات نہی۔۔منال نے میڈیسن کھا کر گلاس حنان کی طرف بڑھا دیا۔۔۔۔!!!!!!!
کیا ہوا طبیعت کو منال کھانا بھی ٹھیک سے نہی کھایا تم نے چلو آو لیٹ جاو۔۔۔صبح جلدی اٹھنا ہے مجھے۔۔۔ویسے ہی ملک صاحب بہت غصے میں رہتے ہیں آج کل کہی نوکری سے ہی نا نکال دیں مجھے۔۔۔۔۔!!!!
منال مسکرا دی حنان کی بات پر۔۔۔اور بیڈ پر جا کر لیٹ گئی۔۔۔حنان بھی مسکراتے ہوئے لائٹ آف کر کے سائیڈ لیمپ آن کرتے ہوئے لیٹ گیا۔۔۔۔!!!!!
اور منال کے قریب ہو کر اس کا سر اپنے بازو پر رکھ دیا۔۔۔منال گھبرا گئی۔۔۔کککیا ہوا۔۔۔ہکلاتے ہوئے بولی۔۔۔!!!
حنان مسکرا دیا۔۔اسے منال کا گھبرانا شرمانا بہت اچھا لگتا تھا۔۔۔اسی لیے وہ جان بوجھ کر منال کو تنگ کرتا تھا۔۔۔!!!!
کچھ نہی ہوا پریشان مت ہو یار کچھ نہی کہتا تمہیں کھا نہی جاوں گا۔۔۔حنان ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولا۔۔۔ویسے اگر کچھ کہ بھی دوں تو کیا ہے۔۔۔میرا حق بنتا ہے۔۔۔!!!!
شوہر ہوں تمہارا۔۔۔حنان سیریس ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔منال گھبرا گئی حنان کی بات پر۔۔۔۔۔مطلب۔۔۔میں کچھ سمجھی نہی۔۔۔منال نے معصومیت سے جواب دیا۔۔۔۔!!!!!
اس کا مطلب میں بہت جلد سمجھاوں گا میں تمہیں۔۔۔ڈونٹ وری۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔ابھی تو میں بس تمہارا سر دبانے لگا ہوں۔۔۔باقی باتیں پھر کبھی سمجھاوں گا۔۔۔۔!!!
حنان کی آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی۔۔۔منال نظریں جھکا گئی۔۔۔حنان کو اس کا شرمانا بہت بھایا۔۔۔۔حنان نے سر دبانا شروع کیا تو منال آنکھیں بند کر کے اس کے لمس کو محسوس کرنے لگی۔۔۔!!!!!!!
اسے سکون سا محسوس ہونے لگا اور کچھ دیر بعد وہ سو گئی۔۔۔۔منال سو گئی تو حنان نے اسے تکیے پر لٹا دیا۔۔۔اور اس کے ماتھے پر آئے بال پیچھے کرتے ہوئے اپنے جزبات پر قابو پاتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔۔۔!!!!!
حنان اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو محسوس کر رہا تھا۔۔لیکن وہ منال کی طرف اپنے بڑھتے قدم روک رہا تھا۔۔۔وہ اسے کسی غلط فہمی میں نہی رکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔!!!!
اسے اپنے کیے پر پچھتاوا ہو چکا تھا۔۔۔لیکن سمجھ نہی پا رہا تھا کس طرح اپنی غلطیوں کو سنوارے۔۔۔۔زندگی دن بدن مشکل ہوتی جا رہی تھی اس کے لیے۔۔۔اسے ابھی بہت کچھ کرنا تھا۔۔۔!!!
بہت سے راز دفن ہیں اس کے سینے میں جو اس نے کسی سے شئیر نہی کیے۔۔۔۔اسے اکیلے ہی یہ جنگ لڑنی تھی۔۔۔اسی لیے وہ چاہتا ہے کہ پہلے اپنا کام مکمل کر لے پھر اپنی نئی زندگی شروع کرے گا۔۔۔۔۔!!!!!
صبح حنان واک سے واپس آیا تو منال اٹھی ہوئی تھی۔۔۔منال کو سلام کرنے کے بعد حنان بھی فریش ہونے چلا گیا۔۔۔تیار ہو کر آیا تو دونوں نیچے کی طرف بڑھ گئے ناشتہ کرنے کے لیے۔۔۔۔!!!!!
سب کے ساتھ مل کر ناشتہ کیا اور پھر حنان آفس کے لیے نکل گیا ملک صاحب کے ساتھ۔۔۔۔منال وہیں بیٹھی رہی سب کے ساتھ۔۔۔اسے آج حنان کچھ پریشان سا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔!!!!
منال کو اکیلے بیٹھے دیکھ ہانی اس کے پاس آ گئی۔۔۔کیا ہوا منال کچھ پریشان لگ رہی ہو۔۔حنان سے جھگڑا ہو گیا کیا۔۔۔ہانی پریشان ہوتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!
نہی نہی ایسا کچھ نہی ہے ہانی سب ٹھیک ہے تمہیں ایسے ہی غلط فہمی ہو رہی ہے۔۔۔۔منال جلدی سے سے بولی۔۔۔۔!!!!
حیدر نے منال کے ساتھ ہانی کو بیٹھے دیکھا تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔وہ جلدی سے وہاں آ گیا۔۔۔ہرہرہرہرہرہرہر۔۔۔۔ہاتھ سے کسی چیز کو اڑانے کی کوشش کرنے لگ پڑا۔۔ایسے جیسے کبوتر اڑا رہا ہو۔۔۔!!!!!
اور ایسے ہی کرتے کرتے اس کا ہاتھ ہانی کے ناک پر لگ گیا۔۔۔۔وہ چلاتے ہوئے اپنی ناک پکڑ کر رہ گئی۔۔۔جب سنبھلی تو تیزی سے حیدر کی طرف بڑھی۔۔۔اس کے بال پکڑ لیے زور سے۔۔۔۔!!!!
تمہارا مسلہ کیا ہے حیدر آج میں تمہیں نہی چھوڑوں گی۔۔۔حیدر بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا اس نے بھی ایک ہاتھ سے ہانی کے بال اپنی مٹھی میں بھینچ کر کھینچے۔۔۔!!!!
جنگلی کہی کی۔۔۔آج تمہاری ٹنڈ کر دوں گا میں۔۔۔حیدر ہانی کے بال کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔۔ہانی چیخنے لگ پڑی۔۔۔چھوڑو میرے بال حیدر۔۔۔وہ چیختے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!
لِیکن حیدر نے چھوڑنے کی بجائے اور زور سے اس کے بال کھینچے۔۔۔۔منال آگے بڑھی دونوں کے بال چھڑوانے کے لیے۔۔۔لیکن نا تو ہانی اس کے بال چھوڑ رہی تھی۔۔۔اور نا ہی حیدر چھوڑنے کو تیار تھا۔۔۔۔!!!!!!!
مسز ملک کچن سے باہر آئیں تو سامنے کا منظر دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔۔۔وہ جلدی سے آگے بڑھیں۔۔۔کیا کر رہے ہو تم دونوں چھوڑو ایک دوسرے کو۔۔۔!!!!!!!!
چچی جان پہلے اس سے کہیں کہ میرے بال چھوڑے پھر میں چھوڑو گا۔۔حیدر ضد پر اٹک چکا تھا۔۔ اور ہانی کی بھی یہی ڈیمانڈ تھی۔۔آخر کار ہانی نے ہار مانتے ہوئے اپنی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے حیدر کے بال چھوڑ دئیے۔۔۔۔!!!!
حیدر کی گرفت بھی ڈھیلی پڑی۔۔۔لیکن اس نے چھوڑنے سے پہلے زور سے ایک بار پھر سے بال کھینچتے ہوئے چھوڑ دئیے۔۔۔جنگلی۔۔۔حیدر اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!
تم کیا ہو۔۔۔۔تمہیں اتنی بھی تمیز نہی ہے کہ لڑکیوں سے کیسا سلوک کرتے ہیں۔۔۔ہانی اپنا سر تھامے چلاتی ہوئی بولی۔۔۔۔!!!!!!
تم لڑکی نہی ہو۔۔۔پاگل ہو تمہیں تو مینٹل ہوسپٹل ایڈمٹ ہونا چاہیے۔۔۔تم کسی کی بھی ٹنڈ کر سکتی ہو۔۔۔حیدر بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔۔۔۔!!!!!
ہانی بیٹا تم اوپر جاو۔۔۔مسز ملک نے ہانی کو اپر جانے کو کہا کہ کہیں پھر سے یہ دونوں گتھم گتھا نا ہو جائیں۔۔۔۔منال دور کھڑی اس سچوایشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔!!!!!
ہانی اوپر بھاگ گئی حیدر کو گھورتے ہوئے۔۔حیدر جیسے ہی پیچھے مڑا۔۔۔ایک لڑکی اس کی طرف دیکھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔۔۔حیدر کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا۔۔۔!!!
مسز ملک جلدی سے اس کی طرف بڑھیں۔۔ارے پری تم کب آئی۔۔۔۔!!!!
اسلام و علیکم آنٹی۔۔۔وہ اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولی۔۔۔آنٹی آج رات سنڈے کو میری برتھ ڈے پارٹی ہے۔۔اسی کا انویٹیشن دینے آئی تھی آپ کو۔۔۔میں نے سوچا سب سے پہلے آپ کو انوائٹ کروں۔۔!!!
ہممم تھینک یو سو مچ بیٹا۔۔۔آو بیٹھو نا۔۔آو سب سے ملواتی ہوں تمہیں۔۔۔یہ حیدر ہے بڑے بھائی صاحب کا بیٹا۔۔۔مسز ملک کو سامنے حیدر ہی نظر آیا سب سے پہلے تو اسی کا تعارف کروا دیا۔۔۔۔!!!!!
سو فنی۔۔پری ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔وہ حیدر کو دیکھ کر اپنی ہنسی کنٹرول نہی کر پا رہی تھی۔۔۔!!!!!!!!!!!!!
کیوں میرے چہرے پر کوئی جاک لکھا ہو جو فنی نظر آ رہا ہوں میں حیدر ساری تمیز بھول کر بولا اسے اب غصہ آ رہا تھا۔۔۔!!!!
یہ تو تم شیشے میں جا کر دیکھوں خود ہی پتہ چل جائے گا مسز ملک کہ کر ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئیں۔۔۔پری بھی ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئی۔۔!!!!
پرِی کو منال سے ملوانے لگ پڑیں۔۔۔۔پری یہ تمہاری بھابی ہیں۔۔اس گھر کی اکلوتی بہو۔۔حنان کی وائف۔۔۔۔!!!!
اور منال یہ پری ہے۔۔۔ہمارے ساتھ والے گھر میں رہتی ہے اپنی فیملی کے ساتھ۔۔۔ایک سال ہوا ہے ان کو یہاں شفٹ ہوئے۔۔۔تم دونوں بیٹھو میں آتی ہوں۔۔۔۔!!!!
منال اور پری دونوں باتیں کرنے میں مصروف ہو گئیں۔۔۔حیدر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔شیشے میں دیکھا تو پہلے تو غصے سے برا حال ہوا اس کا پھر خود ہی حالت پر ہنس پڑا اور اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!
اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔پری کے لیے مسز ملک ناشتہ لے کر آئیں لیکن پری نے بس جوس پیا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔تھینکس آنٹی میں ناشتہ کر کے آئی تھی۔۔۔اب چلتی ہوں۔۔۔ماما ویٹ کر رہی ہو گی۔۔۔!!!!
ٹھیک ہے بیٹا جاو دھیان سے۔۔۔پری خدا حافظ کہتے ہوئے مسکراتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔باہر حیدر کو دیکھا تو اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔۔!!!!
لیکن جانے سے پہلے مڑ کر حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے انگوٹھے سے اشارہ کیا کہ اچھے لگ رہے ہو۔۔اور گیٹ کھول کر باہر نکل گئی۔۔حیدر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود بھی مسکرا دیا۔۔۔!!!!
ہانی اس کے بعد کمرے سے باہر نہی نکلی تھی۔۔۔احسن بہت جلدی نکل گیا تھا ہاسپٹل کے لیے۔۔۔سب باہر آ کر بیٹھ گئے دھوپ میں۔۔۔۔!!!!
حنان آج لنچ ٹائم پر گھر بھی نہی آیا تھا اور نا ہی اس کی کال آئی تھی صبح سے منال کو۔۔دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد منال میڈیسن کھانے کے لیے اوپر کمرے میں گئی۔۔۔فون چیک کیا۔۔لیکن حنان کی کوئی کال نہی آئی تھی۔۔۔!!!!!
منال نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔حنان پانچ بجے گھر آ گیا۔۔۔آتے ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا سب کو سلام کرتے ہوئے۔۔۔۔منال بھی اس کے پیچھے کمرے میں چلی گئی۔۔۔!!!
اسے دیکھ کر حنان مسکرا دیا اور اپنا بیگ میں کپڑے رکھنے لگ پڑا۔۔۔۔۔آپ کہیں جا رہے ہیں کیا۔۔۔؟؟؟
منال حنان کو بیگ پیک کرتے دیکھ کر بول پڑی۔۔۔۔!!!!
ہاں منال میں دو دن کے لیے دبئی جا رہا ہوں۔۔۔ابھی اچانک ہی ضروری کام آ گیا ہے۔۔۔ابھی نکلنا ہو گا مجھے۔۔۔۔حنان بیگ بند کرتے ہوئے منال کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔!!!!!
منال کو تو جیسے شاک لگا۔۔۔۔لیکن اتنی جلدی۔۔۔میں کیسے رہوں گی اکیلی۔۔منال رونے کو تھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!
حنان نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔منال بس دو دن کے لیے جا رہا ہوں میری جان دو دن بعد واپس آ جاوں گا۔۔۔اپنا خیال رکھنا۔۔۔اور کھانا میڈیسن ٹائم پر کھاتی رہنا۔۔۔!!!!
اور آج چیک اپ کے لیے جانا تھا۔۔۔لیکن اب میں جا نہی سکوں گا۔۔۔حیدر سے کہ دیا ہے میں نے تم اس کے ساتھ چلی جانا۔۔۔!!!!
اب مجھے جانا ہو گا اجازت دو مجھے۔۔۔حنان نے منال کو خود سے الگ کرنا چاہا لیکن منال اس کی شرٹ کو جکڑے کھڑی تھی۔۔حنان نے اسے خود سے دور کیا اپنا بیگ اٹھایا۔۔۔!!!!!
منال رو رہی تھی۔۔۔حنان نے آگے بڑھ کر اس کے آنسو صاف کیے۔۔۔منال اگر ایسے کرو گی تو کیسے جا سکوں گا میں۔۔۔حنان نے اسے پھر سے ساتھ لگا لیا۔۔۔ٹھیک ہے اگر تم کہتی ہو تو میں میں نہی جاتا۔۔۔۔!!!!!
نہی میں نے ایسا تو نہی کہا بس اچانک آپ نے بتایا تو میں اداس ہو گئ۔۔۔جانا ضروری ہے آپ جائیں خیریت سے اور خیریت سے واپس آئیں میری دعا ہے۔۔۔!!!!
حنان نے مسکراتے ہوئے منال کو خود سے الگ گیا۔۔۔اور اس کی پیشانی پر پیار کی مہر ثبت کرتے ہوئے اپنا بیگ اٹھائے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!!
اور سب کو الوداع کہتے ہوئے ائیرپورٹ کے لیے نکل گیا۔۔۔۔۔!!!
کچھ دیر بعد حیدر دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں آیا۔۔۔بھابی چلیں پھر ہاسپٹل۔۔۔حنان نے مجھ سے کہا تھا آپ کو لے کر جانے کے لیے۔۔۔میں نیچے انتظار کر رہا ہوں آپ کا۔۔کہتے ہوئے حیدر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔!!!!
کچھ دیر بعد منال نیچے آئی تو مسز ملک سے اجازت لیتے ہوئے حیدر کے ساتھ چلی گئی۔۔۔حیدر نوٹ کر رہا تھا کہ منال کا موڈ کچھ آف ہے حنان کے جانے سے۔۔۔۔۔۔!!!!
واپس آئی تو منال اپنے کمرے کی طرف جانے ہی لگی تھی کہ اس کی نظر ٹی وی پر پڑی۔۔۔کوئی دیکھ نہی رہا تھا تو اس نے سوچا ٹی وی بند کر دیتی ہوں۔۔۔۔!!!!
لیکن جیسے ہی منال ٹی وی بند کرنے لگی۔۔۔سامنے چل رہی خبر کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے ریمورٹ گر گیا۔۔۔اور وہ خود بھی زمین بوس ہو گئی۔۔۔حیدر ابھی گاڑی پارک کر کے اندر آیا ہی تھا منال کو گرتے دیکھ جلدی سے آگے بڑھا۔۔۔۔!!!!
ماما۔۔۔۔چچی جان۔۔۔۔ماہم۔۔۔اس نے سب کو آوازیں دینا شروع کر دیں۔۔۔سب بھاگتے ہوئے اپنے اپنے کمروں سے باہر نکل آئے۔۔۔حیدر کے اس طرح چلانے پر۔۔۔۔!!!!
پہلے تو سب کی نظر منال پر پڑی۔۔۔اور پھر ٹی وی پر چلتی خبر پر۔۔۔سب کے ہوش اڑ گئے۔۔۔حیدر نے ماہم کی مدد سے منال کو صوفے پر لٹایا۔۔۔منال بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔!!!!!!
