Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 39)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

,احمد نے سیب اٹھا کر کھانا شروع کر دیا۔۔منال ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔احمد کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔۔منال نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کندھے اچکا دئیے۔۔منال دوبارہ ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔!!!!!!!!

اسے احمد بلکل پسند نہی آیا تھا۔۔کل رات کی بات کا ہی منال کو اس پر بہت غصہ تھا۔۔۔اور اب اس کا ایسے منال کو گھورنا منال کو مزید غصہ دلا رہا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!

منال کو غصہ تو بہت آ رہا تھا مگر وہ شمائلہ آپا کی وجہ سے برداشت کر رہی تھی اسے۔۔کیونکہ انہوں نے اسے اپنے گھر میں رہنے کی جگہ دی تھی۔۔ورنہ اب تک تو شاید وہ کہیں سڑکوں پر پھر رہی ہوتی۔۔۔!!!!!!!!!

ان کا بہت بڑا احسان تھا منال پر۔۔۔بس اسی وجہ سے منال برداشت کر رہی تھی احمد کی حرکتوں کو۔۔۔منال ناشتہ کرنے کے بعد برتن سمیٹتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔!!!!!!!!!

وہ برتن دھو رہی تھی کہ اچانک اسے احمد کی آواز آئی۔۔مس عینی آپ کا رئیل نیم۔۔۔۔؟؟؟

منال کے ہاتھ سے گلاس گر گیا۔۔۔احمد کے سوال پر اسے ایسا لگا جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔۔۔!!!!!!!

پہلے تو منال کو سمجھ نہی آیا کیا جواب دے۔۔پھر جلدی سے اپنی گھبراہٹ دور کرتے ہوئے ٹوٹے ہوئے گلاس کے ٹکرے اٹھاتے ہوئے بولی۔۔۔کیا مطلب آپ کا۔۔؟؟؟؟؟

میرا نام عینی ہے۔۔یہی میرا رئیل نیم ہے۔۔۔منال خود کو ریلیکس ظاہر کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!

ہمممم لیکن اس میں اتنا ڈرنے والی کون سی بات ہے۔۔آپ تو میرے سوال پر ایسے گھبرا گئیں جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔۔۔احمد ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔۔۔۔!!!!!!!!!

ایسی کوئی بات نہی ہے۔۔وہ آپ کے اچانک بولنے پر میں ڈر گئی تھی۔۔اسی لیے گلاس گر گیا ہاتھ سے۔میں کیوں ڈروں گی بھلا۔۔۔منال کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔!!!!!!!!!

اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ احمد نے دیکھ لی تھی۔۔ہمممم چلیں آپ کریں اپنا کام میں تو یونہی پوچھ رہا تھا۔۔احمد مسکراتے ہوئے سیب کی بائٹ لیتے ہوئے کچن سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!!!!

اس کے جانے پر منال نے سکھ کا سانس لیا۔۔اور برتن صاف کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔بیٹا تم رہنے دو۔۔میں کر لوں گی یہ کام۔۔تم بھی نا بیٹھتی نہی ہو۔شمائلہ آپا کچن میں آتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!!!

نہی آپا بس تھوڑا سا کام تھا بس ہو گیا۔۔میرا بھی تو کچھ فرض بنتا ہے۔۔۔آپ نے مجھے اپنے گھر میں رہنے کی جگہ دی۔۔پتہ نہی آپ کا احسان کیسے چکاوں گی میں۔۔۔۔۔!!!!!!!

ارے نہی نہی عینی ایسے مت بولو تم۔۔۔بیٹا یہ تو میری خوش قسمتی ہے کہ اللہ نے مجھے اس راہ پر چلنے کی توفیق دی ہے۔۔۔اپنے بندوں کے کام آنے کا موقع دیا ہے اللہ نے مجھے۔۔۔تم ایسا مت سوچنا دوبارہ۔۔۔!!!!!!!!

چلو آو میرے ساتھ کچھ پیکنگ کروا دو ہمیں کراچی کے لیے نکلنا ہے بہت لمبا سفر ہے۔۔جلدی نکلیں گے۔۔تو صبح تک پہنچیں گے۔۔۔وہ منال کو لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔۔!!!!!!!!

وہ دونوں پیکنگ کرنے میں مصروف تھیں۔۔تب ہی احمد کمرے میں داخل ہوا۔۔مام آپ کو نہی لگتا کہ ہمیں ان کے کزن اور چچا کے خلاف ایف آئی آر کٹوانی چاہیے۔۔۔!!!!!!!!

مس عینی آپ مجھے اپنے گھر کا ایڈریس لکھوائیں۔۔میں ان دونوں کے خلاف ایپلیکیشن لکھواوں گا تھانے میں۔۔۔احمد نے منال کے سر پر دھماکہ کیا جیسے۔۔۔۔!!!!!!!!

ایڈریس کا نام سنتے ہی منال سوچ میں پڑ گئی۔۔وہ کبھی شمائلہ آپا کی طرف دیکھتی تو کبھی احمد کی طرف۔۔۔اس کو سمجھ نہی آ رہا تھا اب کیا بولے۔۔وہ بری پھنسی تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

ہاں بیٹا احمد کو ایڈریس لکھواو۔۔ایسے لوگوں کو معاشرے میں رہنے کا کوئی حق نہی جو اپنی ہی عزت پر ڈاکہ ڈالیں۔۔۔کچھ دن تھانے میں گزاریں گے نا۔۔۔تو عقل ٹھکانے آ جائے گی۔۔باپ بیٹے کی۔۔۔!!!!!!!!!!!!

منال کے ہاتھ پاوں کانپ رہے تھے۔۔احمد بہت تجسس سے دیکھ رہا تھا منال کی طرف۔۔جیسا وہ سمجھ رہا تھا۔۔کہ یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔منال کے کانپے ہاتھ پیر دیکھ کر اسے اندازہ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔!!!!!!!

نننہی۔۔۔شمائلہ آپا مجھے کوئی ایف آئی آر نہی کٹوانی ان کے خلاف۔۔اگر ان کے خلاف ایف آئی درج کروائی میں نے تو میرے پاپا تک خبر پہنچ جائے گی۔۔وہ پہلے ہی مریض ہے وہ یہ صدمہ برداشت نہی کر پائیں گے۔۔۔۔۔!!!!!!!!

منال روتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔اگر آپ لوگوں مجھے نہی ساتھ رکھ سکتے تو بتا دیں۔۔میں کہی اور رہنے کا انتظام کر لوں گی اپنا۔۔میں نہی چاہتی میں آپ پر بوجھ بن کر رہوں۔۔۔!!!!!!!!!!

شمائلہ آپا نے احمد کو گھورا۔۔اور منال کو گلے سے لگا لیا۔۔۔نہی بیٹا ایسا مت بولو تم۔۔۔تم جیسا چاہو گی ہم ویسا ہی کریں گے۔۔۔تم اب میرے ساتھ ہی رہو گی۔۔۔جب تک تم خود واپس نا جانا چاہو۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

ہممممم تو میرا اندازہ بلکل درست تھا۔۔۔یہ محترمہ جھوٹ بول رہی ہیں۔۔۔ویل۔۔آج تو بچ گئیں۔۔لیکن آخر کب تک۔۔۔میں اس بات کی تہہ تک پہنچ کر رہوں گا۔محترمہ خود اپنے منہ سے بتائیں گی سب سچ۔۔۔بہت جلدی۔۔۔!!!!!!!!!!!!

احمد مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔اور منال نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ شمائلہ آپا کو اس کی باتوں پر یقین آ گیا ہے۔۔وہ دل ہی دل میں شرمندہ بھی تھی۔۔۔۔!!!!!!!!

اسے بلکل اچھا نہی لگ رہا تھا اتنی اچھی اور عظیم عورت کے ساتھ جھوٹ بولتے ہوئے۔۔۔مگر اس کی مجبوری تھی۔۔اور کوئی چارہ جو نہی تھا اس کے پاس جھوٹ بولنے کے سوا۔۔۔!!!!!!!

احمد منال کے کمرے میں گیا۔۔اس کے بیگ کی تلاشی لی۔۔کہ شاید کچھ ہاتھ لگ سکے۔۔۔مگر سوائے چند نوٹوں کے اسے کچھ نہی ملا بیگ سے۔۔۔وہ ابھی بیگ رکھ کر پلٹا ہی تھا کہ پیچھے منال کھڑی تھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!

احمد اسے دیکھ کر گھبرا گیا۔۔۔لیکن جلدی ہی خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولا۔۔۔وہ غلطی سے آپ کا بیگ نیچے گر گیا تھا مجھ سے۔۔وہی اٹھا کر واپس رکھ رہا تھا میں۔۔۔!!!!!!!

کوئِی بات نہی۔۔منال نے مختصر جواب دیا۔۔۔احمد کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔منال جلدی اپنے بیگ کی طرف بڑھی۔۔۔اس میں حنان کی تصویر ڈھونڈنے۔لیکن اسے تصویر نہی ملی۔۔۔!!!!!!!!

پھر یاد آنے پر منال جلدی سے بیڈ کی طرف بڑھی۔۔صبح نماز پڑھنے کے بعد منال نے حنان کی تصویر تکیے کے نیچے چھپا دی تھی۔۔تصویر دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔۔۔!!!!!!!!

شکر ہے کہ یہ تصویر میں نے صبح یہاں رکھ دی تھی۔۔۔ورنہ اگر یہ احمد کے ہاتھ لگ جاتی تو۔۔پتہ نہی کیا ہوتا۔۔۔مجھے اس احمد سے بچ کر رہنا پڑے گا۔۔بہت چالاق انسان ہے۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

یہ تو ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔۔اگر ایسے ہی چلتا رہا تو بہت جلد یہ میرے بیک گراونڈ کے بارے میں جان جائے گا۔۔۔مجھے اب اس کے سامنے گھبرانا نہی ہے۔۔خود کو مظبوط بنانا پڑے گا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

دوپہر میں وہ تینوں گاڑی میں بیٹھ کر کراچی کے لیے روانہ ہو گئے۔۔منال نے اپنا بیگ مظبوطی سے تھام کر سینے سے لگا رکھا تھا۔کیونکہ اس میں حنان کی تصویر تھی۔۔اب یہ تصویر ہی اس کا کل سرمایا تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!

اسی کے سہارے اب پوری زندگی گزارنی تھی اسے۔۔۔گاڑی اسلام آباد کی حدود سے باہر نکلی تو منال نے ایک نظر مڑ کر اپنے شہر کو دیکھا۔۔اور اپنی گال ہر آتے آنسو صاف کر دئیے۔۔۔!!!!!!!

یہ منظر کسی اور نے بھی دیکھا تھا اور آنکھوں میں محفوظ کر لیا تھا۔۔۔لسن مس عینی بہت جلد آپ یہاں واپس آنے والی ہیں۔۔میں لاوں گا آپ کو واپس آپ کے اپنوں کے پاس۔۔۔میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔مسکراتے ہوئے احمد ڈرائیونگ میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

حنان نے دیکھا کہ منال اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے اس سے دور جا رہی ہے۔۔وہ دور جاتی گئی۔۔۔یہاں تک کی غائب ہو گئی۔۔۔منال۔۔۔حنان اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔۔۔۔!!!!!!!!

آنکھ کھلی تو وہ اپنے کمرے میں تھا اپنے بیڈ پر۔۔منال کہی نظر نہی آئی اسے۔۔سر جھٹکتے ہوئے۔۔آفس کے لیے تیار ہونے لگ پڑا۔۔نیچے جا کر ناشتہ کیا۔۔دوپہر کے دو بج رہے تھے۔۔۔۔!!!!!!!!!!

حنان کہاں جا رہے ہو اب بیٹا۔۔۔مسز ملک اسے باہر کی طرف جاتے دیکھ بول پڑیں۔۔۔!!!!!!

آفس میں ضروری میٹنگ ہے مام۔۔۔جانا ضروری ہے کہتے ہوئے حنان گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔!!!!!!!

حیدر شام کو گھر آیا تو دادو کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ان کو سلام کرتے ہوئے ان کے پاس جا بیٹھا۔۔۔۔!!!!!!!!

اے نوٹنکی باز کیا ہوا ہے تجھے۔۔ایسے منہ کیوں لٹکا رکھا ہے۔۔آج کیسے راستہ بھول گئے دادی کے کمرے کا۔۔۔۔وہ ہمیشہ کی طرح غصے سے بول پڑیں۔۔۔۔۔!!!!!!!!

اب کیا بتاوں آپ کو دادو۔۔کیا گزری ہے آپ کے پوتے پر۔۔۔حیدر ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے بولا۔۔وہ پریشان ہو گئیں۔۔۔کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو۔۔!!!!!!!!!!!!!!

آج سے پہلے کبھی اتنا اداس نہی دیکھا تھا انہوں نے حیدر کو۔۔۔وہ تو ہر وقت ہنستے ہنساتے زندگی گزارنے والوں میں سے تھا۔۔۔!!!!!!!

عشق ہو گیا ہے آپ کے پوتے کو حیدر بہکا بہکا سا بول رہا تھا۔۔۔!!!!!!!

کس سے ہو گیا تجھے عشق۔۔۔کس کی قسمت پھوٹی ہے۔۔زرا مجھے بھی تو بتاو۔۔۔وہ ہنستے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!!!!!

تھِی اِک پری۔۔جو اب کسی اور کی ہو چکی ہے۔۔حیدر درد بھرے لہجے میں بولا۔۔۔!!!!!!

اے اٹھ یہاں سے۔۔بس کر یہ ڈرامے۔۔۔چل کوئی فلم دیکھ کے آیا ہے۔۔۔اور دادی پے ڈائلاگز جھاڑ رہا ہے۔۔وہ حیدر کے کندھے پر ہلکا سا تھپڑ لگاتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!!!!!

نہی دادو یہ سچ ہے۔۔۔دعا کرنا آپ میرے لیے۔۔۔کہتے ہوئے حیدر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!!!!

بتا دے کوئی ان کو۔۔۔۔

ہو گیا ہے ہمیں عشق ان سے۔۔

پڑھنے کو آ جائے یاد سے میری میت پے وہ۔۔۔

انا للہ ہی وا انا الیہ راجعون۔۔۔

بس یہی ہے عشق کی منزل۔۔۔

یہی پر ہوتا ہے عاشق کو سکون نصیب۔۔

پتہ نہی کیا ہو گیا ہے اس لڑکے کو۔۔پہلے تو کبھی ایسی کوئی بات نہی کی تھی اس نے۔۔۔اس کے چہرے سے دیکھ کر لگ تو نہی رہا تھا کہ مزاق کر رہا ہے۔۔۔وہ سوچ میں پڑ چکی تھیں۔۔۔۔!!!!!

آنے دو منال کو اس سے کہتی ہوں اس کی خبر لے۔۔وہی پوچھے گی اس سے کیا ماجرہ ہے یہ۔۔۔یہ منال بھی نا مائیکے جا کر بیٹھ گئی ہے۔۔زرا خیال نہی ہے اسے دادی کا۔۔۔مجال ہے کہ جو ایک بار فون کر لے دادی کو۔۔۔۔!!!!!!!!

آنے دو زرا اس کو اس لڑکی کے بھی کان کھینچتی ہوں میں۔۔۔یہ لڑکی بدل ہی گئی ہے مائیکے میں جا کر۔۔۔مسز ملک نے ہی بتایا تھا ان کو کہ منال اپنے مائیکے گئی ہے کچھ دنوں کے لیے۔۔۔۔!!!!!!

چھ ماہ بعد۔۔۔۔

حنان آفس سے گھر آیا تو اسے ڈرائینگ روم سے لوگوں کی آواز سنائی دی۔۔اچھا خاصہ شور مچا ہوا تھا حنان نظر انداز کرتے ہوئے اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!!!!!!

منال کو گھر سے گئے ہوئے چھ ماہ ہو چکے تھے۔۔حنان روز منال کو ڈھونڈنے جاتا۔۔کوئی ہاسپٹل، کوئی سکول،کوئی ادارہ نہی تھا جہاں حنان نے اسے ڈھونڈا نا ہو۔۔۔فہیم بھی اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا تھا۔۔۔!!!!!

لیکن منال کا کچھ پتہ نہی چل سکا۔۔وہ یہاں ہوتی تو ملتی نا۔۔وہ تو کراچی میں تھی۔۔ایسا تو کسی نے سوچا تک نہی تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!

حیدر نے آفس جوائن کر لیا تھا حنان کے ساتھ۔پری اس دن کے بعد دوبارہ یہاں نہی آئی۔۔ماہم کبھی کبھار اس سے ملنے چلی جاتی تھی۔۔یا پھر فون پر بات کر لیتی تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

حنان کمرے میں گیا تو کچھ دیر بعد مسز ملک کمرے میں آئیں۔۔۔حنان آو نیچے تمہیں کسی سے ملوانا ہے۔۔گھر میں مہمان آئے ہیں۔۔۔!!!!!!!

مام بہت تھکا ہوا ہوں میں۔۔مجھے کسی سے نہی ملنا۔۔ویسے کون سے مہمان آئے ہوئے ہیں۔۔بہت خوش لگ رہی ہیں مام آپ۔۔۔!!!

ہاں خوش تو میں ہوں۔۔پری کے کزن نے ماہم کو پسند کر لیا ہے۔۔وہ لوگ آئے ہوئے ماہم کی بات پکی کرنے کے لیے۔۔۔!!!!!!!!!!

پری کے کزن نے کیسے۔۔۔میں کچھ سمجھا نہی مام۔۔؟؟؟؟

ہاں وہ ماہم ان کے گھر آتی جاتی رہتی ہے تو تب ہی دیکھا اس نے ماہم کو اور اپنے پیرنٹس کو بھیج دیا۔بات کرنے کے لیے۔۔مجھے تو بہت پسند آیا ہے لڑکا۔۔آو تم بھی مل لو نیچے آ کر۔۔۔۔!!!!!!!

ہممم آپ چلیں میں آ رہا ہوں مام۔۔مسز ملک کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔۔!!!!!!!

حیدر بھی ابھی ابھی گھر آیا تھا۔۔۔کمرے میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ دروازہ ناک ہوا۔۔سامنے پری کھڑی تھی۔۔۔اسلام و علیکم۔۔۔!!!!!!!!!

حیدر اس کے سلام کا جواب دئیے بغیر کمرے سے باہر نکلنے لگا تھا کہ پری کی آواز پر رک گیا۔۔۔!!!!!!!!!!!

ابھی تک ناراض ہو کیا۔۔آخر کب تک چلے گا ایسا۔۔پری بولی تو حیدر پلٹ کر اس کی طرف آیا۔۔۔!!!!!!!!!!

ناراض ان سے ہوا جاتا ہے جن سے کوئی رشتہ ہو۔۔اور میرا تم سے کوئی رشتہ نہی۔۔نا دوستی کا نہ ہی دشمنی کا۔۔۔جاو یہاں سے۔۔منع کیا تھا میں نے کہ دوبارہ میرے سامنے مت آنا۔۔۔تم پھر سے آ گئی۔۔۔۔۔!!!!!!!!

حیدر پلیز ایک بار بات سن لو۔۔۔۔پری نے کچھ بولنا چاہا۔۔۔مگر حیدر نے اس کی بات سنے بغیر اسے بازو سے کھینچ کر کمرے سے باہر لا کر چھوڑ دیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!

جاووووو۔۔۔حیدر چلایا۔۔دوبارہ میرے سامنے مت آنا۔۔۔ورنہ میں خود کو ختم کر لوں گا۔۔۔اور دروازہ بند کر دیا۔۔پری آنسو پونچھتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!!!!!!!

حنان سب کو سلام کرتے ہوئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔۔۔بہت خوشی ہوئی آپ سب سے مل کر۔۔بہت شکریہ آپ سب کے یہاں آنے کا۔۔۔مگر سوری۔۔یہ رشتہ نہی ہو سکتا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

ماہم کی شادی مجھ سے ہونے والی ہے۔۔۔آپ لوگوں سے بہت معزرت کہ آپ لوگوں کا وقت ضائع ہوا۔۔۔شادی میں آنا مت بھولیئے گا آپ لوگ۔بہت جلد انویٹیشن مل جائے گا آپ کو۔۔۔۔!!!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *